Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 21

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 21

–**–**–

ارے یار۔۔۔ یہ چبھ رہا مجھے۔۔۔ شیروانی کے گلے کو پکڑ کر واسم نے بچوں جیسی شکل بنا کر کہا۔۔۔ ہونٹوں کا زاویہ اپنے مخصوص انداز میں تبدیل کیا۔
وہ بار بار شیروانی کے بین کو درست کر رہا تھا۔۔۔
سیاہ شیروانی میں وہ کوہ قاف کے شہزادوں کو مات دے رہا تھا۔۔۔ سلیقے سے بال سیٹ کیے۔۔ ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ سجاۓ۔۔۔ وہ آج بہت خوش تھا۔۔۔پر سکون۔۔۔ سوہا بلکل ویسی ہی تھی جیسی لڑکی اسے خود کے لیے چاہیے تھی۔۔۔لیکن شیروانی نے اس کا موڈ خراب کر رکھا تھا وہ بار بار منہ کےزاویے بدل رہا تھا۔۔
یار۔۔۔ بہت نخرے آپکے واسم بھاٸ۔۔۔ محب نے اس کی شیروانی کے بٹن بند کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
او ۔۔ چل اب بس کر واسم تھوڑی دیر ہے۔۔ پہن لے تم نے کونسا ساری عمر پہنے رکھنی یہ۔۔۔ کومیل کو اب اس کے نخروں پر غصہ آنے لگا تھا۔ ۔۔۔ وہ بار بار فون کان کو لگاۓ سن رہا تھا۔۔۔ کبھی کسی کی کال تو کبھی کسی کی۔۔۔
اتنا لمبا فنگشن ہوتا ۔۔۔ واسم نے خفا سی شکل بناٸ شیروانی بلکل اس کی پسند کی نہیں تھی۔۔۔
نکھرا نکھرا سا چہرہ۔۔۔ لمبی لمبی بادامی آنکھیں۔۔ ان کے اوپر موڑی ہوٸ پلکیں۔۔ ان کے نیچے انجان خواب سجاتی چمکتی آنکھیں۔۔۔ اور خفا سا چہرہ۔
کلا نہیں یار۔۔۔ واسم نے پھر سے نخرا کیا۔۔
محب اب اس کے سر پر کلا رکھ رہا تھا۔۔۔
واسم تنگ مت کر یار پہن جلدی پہنچنا سب نے۔۔۔ مجھے ابھی گھر سے شزا اور بچوں کو بھی لینا ہے۔۔۔
سرخ بنارسی کلا سر پر رکھتے ہی جیسے اس کے خوبرو چہرے کی شان اور بڑھ گٸ تھی۔۔
کیا لگ رہے آپ۔۔۔ قسم سے ۔۔۔ محب نے اپنے انداز میں کہا۔۔
ہاں یار اچھا ہی لگ رہا ہے۔۔ واسم نے اپنے آپکو سامنے شیشے میں دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔ لبوں پر مسکراہٹ در آٸ تھی۔۔۔
اچھا چلیں اب ۔۔۔ محب کو فنگشن میں پہنچنے کی جلدی تھی۔۔۔۔
**************
ماشا اللہ کیا غضب ڈھا رہی ہو۔۔۔ نشا نے دھیرے سے سوہا کا چہرہ اوپر کیا تھا۔۔۔
سرخ بھرے ہوۓ کام کے لمبی ٹیل والا لہنگا زیب تن کیے۔۔ ماتھے پر کندن کا ٹیکا سجاۓ ۔۔ ناک میں بڑی چوڑی والی نتھ پہنے۔۔۔ جو بھرے ہوۓ سرخ لبوں کو چھو رہی تھی۔۔۔ وہ ایک مکمل خوبصورت مشرقی دلہن کے روپ میں بیٹھی تھی۔۔۔ اس کا نازک سراپا۔۔۔ اس بھاری کام والے لہنگے میں جچ رہا تھا۔۔۔
آپ بھی۔۔۔ سوہا اپنی تعریف پہ کھل کر مسکراٸ تھی۔۔۔ اور نشا کو ستاٸشی نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
سوہا۔۔۔ واسم بہت اچھا ہے۔۔۔ تم بہت خوش رہو گی۔۔ نشا اب پاس پڑی کرسی پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔
وہ براٸیڈل روم میں موجود تھیں ۔۔۔ پارلر میں بھی نشا اس کے ساتھ تھی۔۔۔۔
مجھے پتہ ہے۔۔۔ سوہا نے دھیرے سے لب بھینچ کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا۔۔۔
دل آج بے حد خوش تھا۔۔۔ وہ آج اس کو پا رہی تھی جس کے خواب بچپن سے دیکھے۔۔۔
آ ہاں ۔۔۔ خوش ہو۔۔ نشا شرارت سے مسکراٸ۔۔۔
بہت ۔۔ آپ ۔۔۔سوہا نے بھر پور مسکراہٹ سے کہا۔۔اور پھر نشا کہ طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔
بہت زیادہ ۔۔۔ نشا کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں۔ ویسے بھی نشا کا انگ انگ اس کے خوش ہونے کا واضح ثبوت تھا۔۔۔
میں جانتی ہوں۔۔۔ جسے چاہو وہ مل جاۓ ۔۔ اس سے بڑھ کر اور خوشی کیا ہو گی۔۔ سوہا نے شرارت سے لب کا ایک کونا دانتوں میں دبا کر کہا۔۔۔
نشا نے چونک کر حیران ہو کر دیکھا۔۔۔
حیران مت ہوں میں بہت پہلے سے جانتی تھی نسبت ٹوٹنے سے بھی پہلے کہ آپ ارسل کو پسند کرتی ۔۔ سوہا نے شرارت سے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
ارے۔۔۔ کیسے پتہ تھا تمہیں۔۔۔ نشا کو تھوڑی خوشگوار سی حیرت ہوٸ۔۔۔ تھوڑی سر گوشی میں پوچھا۔۔۔
آپکی باتیں سنی تھی ۔۔ ٹیرس پر۔۔۔ سوہا نے بچوں کی طرح خوش ہو کر نشا کو راز بتانے والے انداز میں کہا۔۔۔
پھر آپ کے لیے بہت دعا کی ۔۔ بڑے لاڈ سے نشا کی طرف دیکھا اور اپنی مدد والی بات کو دعا میں تبدیل کر لیا۔۔۔
اور دیکھو اس کے بدلے میں تمھیں واسم مل گیا۔۔ نشا نے اسے پیارسے دیکھتے کے ہوۓ کہا۔۔۔
جی میں واسم سے بے پناہ محبت کرتی ہوں۔۔۔ سوہا نے چمکتی آنکھوں اور مسکراتے لبوں سے کہا۔۔۔
وہ بھی کرے گا۔۔۔ تم ہو ہی اتنی پیاری۔۔۔ نشا نے پیار سے اس کے گال تھپتھپاۓ۔۔۔
**************
اس کے بعد میری باری اب۔۔۔ محب نے سٹیج پر نظریں جماۓ۔۔اپنے ساتھ کھڑی میرب کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
توبہ کتنا شوق تمہیں شادی کا۔۔ میرب نے منہ پہ ہاتھ رکھ کر ہنسی کودبایا۔۔۔
صرف شادی کا نہیں ۔۔۔ تم سے شادی کا۔۔۔ بڑا معنی خیز لہجہ تھا محب کا۔۔۔
میرب بلش ہوگٸ تھی۔۔۔
اللہ۔۔ شرم کرو۔۔ اس نے مسکرہٹ دبا کر اور پلکیں گرا کر کہا۔۔۔
شرما تم جو لیتی میرے حصے کا بھی۔۔ محب کواس کی حالت دیکھ کر مزا آ رہا تھا۔۔۔ قہقہ لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔
دیکھو کتنے اچھے لگ رہے دونوں۔۔ محب نے میرب کو کندھا مار کر توجہ سٹیج کی طرچ دلاٸ۔۔
وہ واقعی اکٹھے بیٹھے بہت دلکش لگ رہے تھے۔۔۔ بس واسم تھوڑی تھوڑی دیر بعد شیروانی کے بین کو چھیڑ رہا تھا۔۔۔
ہاں سچ میں۔۔۔ ہم کیسے لگیں گے۔۔۔ محب نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا۔۔۔
حور کی بغل میں لنگور۔۔۔ میرب شرارت سے کہہ کر ہنسی۔۔۔
سوچ لو۔۔۔ کیا کہہ رہی ہو۔۔۔محب نے مصنوعی خفگی دکھاٸ۔۔۔ ویسے ہٹلر مجھے گھور رہی ہیں ۔۔ اب یہاں سے کھسک لینا چاہیے مجھے۔۔۔ صاٸمہ غصے سے محب کی طرف دیکھ رہی تھیں جو میرب کے گرد ہی منڈلاۓ جا رہا تھا۔۔۔
**************
کہاں جا رہے اب۔۔۔ واسم کو پورچ کی طرف جاتے دیکھ کر کومیل نے کہا۔۔۔
آغا جان کے کہنے پر وہ واسم کو اب اس کے دوستوں میں سے اٹھا کر لایا تھا کہ اب وہ کمرے میں جاۓ ۔۔۔
کمرے میں جاتے ہوۓ ہی اس کے ذہن میں آیا کہ اس دن منہ دکھاٸ کے لیے جو وہ رنگ لایا تھا وہ گاڑی میں ہہ رہ گٸ تھی۔۔۔ اس دن بس عجلت میں اسے وہ نکالنی یاد ہی نہ رہی رات کو مہندی تھی اور آج اب جاکر اسے یاد آیا۔۔۔
کومیل بھاٸ وہ رنگ اس دن کار میں رکھی تھی۔۔ وہ یاد نہیں رہی وہ لینے جا رہا ہوں۔۔۔ اس نے کومیل کو تسلی دی۔۔۔
آپ جاٸیں میں بس جا رہا ہوں کمرے میں۔۔۔ واسم نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔۔۔ اور تیزی سے گاڑکی کا لاک کھولا۔۔۔
کیبنٹ کو جھٹکے سے کھولا تھا جیسے ہی ڈاٸمنڈ رنگ کا لفافہ اٹھایا۔۔۔ سوہا کے ڈوکیومنٹس کا لفافہ کھلے والی ساٸڈ کو نیچے گرا ایک ایک کر کے سارے ڈوکیومنٹس واسم کے قدموں میں ڈھیر ہو گۓ تھے۔۔۔
واسم نے گاڑی کی لاٸٹ آن کی اور عجلت میں پیپر اٹھاۓ ۔۔۔ اور پہلے ہی پیپر پر جیسے اس کے ہاتھ تھم گۓ۔۔ اس کے چہرے پر موجود مسکراہٹ غاٸب ہو کر اب ماتھے پر ہلکے ہلکے بل بناتی جا رہی تھی۔۔۔ آنکھیں سکڑنا شروع ہو گٸ تھیں ۔۔۔ بھنویں اچکانا شروع ہو گٸ تھیں۔۔۔
اس پیپر کے اوپر ہوسٹل کا نام بڑے بڑے حروف میں لکھا ہوا تھا۔۔۔
ہیری بن گرلز ھاسٹل۔۔۔ آٹھویں منزل کا کمرہ نمر چار۔۔۔ سوہا کا ہاسٹل ایڈمیشن فارم تھا۔ ۔۔واسم کے رونگٹے کھڑے کو رہے تھے۔۔۔
واسم نے حیران ہو کر باقی کاغز اٹھاۓ۔۔۔ اور ہر کاغز اس کو الجھن کا شکار کر گیا۔۔ وہ فوٹو گرافر تھی۔۔۔ وہ لندن سے فوٹو گرافی پڑھ رہی تھی۔۔۔ اس کے ذہن میں فورا پارک میں بھاگتی لڑکی کا سراپا آیا۔۔۔
وہ سوہا کا سراپا تھا ہو با ہو۔۔۔ اوہ۔۔۔ اس کے ماتھے پر پسینہ آگیا تھا۔۔۔
جبڑے ایک دوسرے میں پیوست ہو گۓ تھے۔۔۔ آنکھیں چیتے جیسی شکل اختیار کر گٸ تھیں۔۔۔
واسم نے بے چینی سے لب کچلے۔۔۔ کاغز اور رنگ کا لفافہ اٹھایا۔۔۔
اور گاڑی کا دروازہ بند کر دیا۔۔۔ لان میں پڑے میز پر ساری چیزیں رکھی اور اوپر سوہا کے کمرے کی طرف گیا۔۔۔
سوہا کے کمرے میں آج کوٸ نہیں تھا۔۔۔ اس نے جلدی سے ارد گرد نظر دوڑاٸ بیڈ کی ایک طرفہ میز پر اس کا لیپ ٹاپ پڑا تھا۔۔
*;**************
سوہا ۔۔ آپی ۔۔ واسم بھاٸ سے بات کریں ذرا۔۔ میرب اپنا فون سوہا کو پکڑاتے ہوۓ بولی۔۔۔
وہ جو دروازہ کھلنے پر مسکرا کر تھوڑا سا سیدھا ہوٸ تھی ایک دم میرب کے آنے پر حیران ہو کر اسے دیکھا۔۔ اور فون پکڑتے ہوۓ پریشان سی بھی ہو گٸ تھی۔۔۔
کہاں ہیں وہ۔۔۔ سوہا نے پریشان سی شکل بناکر پوچھا۔۔۔
باہر لان میں ہیں۔۔ میں ان کو بلانے ہی گٸ تھی کہ آ جاٸیں۔۔۔ کہتے جا کر پہلے سوہا سے بات کرواٶ میری۔۔۔ میرب بھی تھوڑی الجھی ہوٸ سی تھی۔۔۔
جی۔۔۔ سوہا نے فون کان کو لگا کر مدھر سی آواز میں کہا۔۔۔
اپنے لیپ ٹاپ کا پاسورڈ بتانا ذرا۔۔۔ بارعب کھردرا سا لہجہ تھا واسم کا ۔۔
کیوں کیا ۔۔۔۔ سوہا نے نا سمجھی کی حالت میں ابھی دو لفظ ہی منہ سے نکالے تھے۔۔۔
جتنا پوچھا اتنا کرو ۔۔۔ پاسورڈ بتاٶ۔۔۔ دانت پیس کر غرانے کے انداز میں کہا۔۔۔
جی۔۔۔ آپکا نام ہی ہے۔۔ سوہا نے عجیب نا سمجھی کے لہجے میں کہا۔۔۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اب کیاہونے والا ہے۔۔۔
فون ایک دم سے بند ہوا تھا۔۔۔
آپ پریشان نہ ہوں آتے ہیں وہ ۔۔۔ میر ب نے مسکرا کر کہا اور کمرے سے چلی گٸ۔۔۔۔
جبکہ وہ الجھی سی بیٹھی تھی۔۔۔ کیا کوٸ کام ہی ہوگا ان کو۔۔۔اپنے دل کو سمجھا رہی تھی وہ۔۔۔
***************
واسم کی انگلیاں ٹچ پیڈ پر تیزی سے گھوم رہی تھیں۔۔۔ سارے فولڈر سب کچھ چھان مارا۔۔۔
پھر اچانک ۔۔۔ کچھ ذہن میں آتے ہی اس نے سیٹنگ اوپشن میں جا کر فولڈر کو این ہاٸیڈ اوپشن پر کیا۔۔۔
جیسے ہی یہ کیا ایک واسم کے نام کا فولڈر منظرے عام پر تھا۔۔۔
واسم نے جلدی سے فولڈر کھولا تھا۔۔۔
اور پھر ایک دم سے اس نے خود کو زور سے کرسی کی پشت سے ٹکرایا تھا۔۔۔
اس کی آنکھوں سے خون ٹپکنے لگا تھا۔۔۔ اس کی فلیٹ کی مختلف تصاویر تھیں کسی میں وہ سگریٹ پی رہا تھا۔۔۔ کسی میں ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔۔ کولڈرنک پی رہا تھا۔۔ اسی فولڈر میں ایک ریکارڈنگ بھی پڑی تھی۔۔۔ اس نے ریکارڈنگ آن کی۔۔۔
وہ اس کی اور کیرن کی گفتگو تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: