Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 22

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 22

–**–**–

دروازے کھلنے کی آوازپر سوہا جو ٹیک لگا کر بیٹھی تھی ایک دم سے سیدھی ہوٸ تھی۔۔۔ گھڑی پر نظر پڑی تو چار بج رہے تھے۔۔۔ وہ کب سے واسم کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔
واسم اندر آیا تھا۔۔۔ شیروانی کا اوپر والا حصہ بازو میں لٹک رہا تھا۔۔۔ ہاتھ میں سوہا کا لیپ ٹاپ اور کچھ کاغز تھے۔۔۔ بال بکھرے ہوۓ تھے۔۔۔ ماتھے پر بل تھے۔۔۔ جبڑے آپس میں پیوست تھے۔۔۔
اس نے ساری چیزیں ایک طرف بیڈ پر رکھی تھیں۔۔۔ اور خود بھی سوہا کے بلکل سامنے بیٹھا تھا۔۔۔
سوہا اس کے حالت سے یکسر انجان تھی۔۔۔ وہ نظریں گراۓ آنے والے طوفان سے بلکل بے خبر تھی۔۔۔
واسم نے سگریٹ جلایا تھا۔۔۔ دماغ میں ہتھوڑے لگ رہے تھے۔۔۔
واسم نے سگریٹ منہ میں دبا کر اب لیپ ٹاپ سے وہ فولڈر کھولا۔۔۔ اور کاغزات کھولے۔۔۔ اور اپنے اور سوہا کے درمیان میں رکھے۔۔۔
سوہا نے چونک کر دیکھا تھا۔۔۔ اور پھر جیسے رگوں سے خون خشک ہوا تھا۔۔۔ رنگ زرد ہو گیا تھا۔۔ دل کانپ گیا تھا۔۔۔ آنکھوں کے آگے ایک دم سے جیسے اندھیرا ہی چھا گیا تھا۔۔۔
یہ۔۔ تمھارے ہیں۔۔۔ بھاری غراہٹ تھی۔۔۔۔
مکمل خاموشی۔۔۔ اس کی تو آواز ہی گلے میں پھنس گٸ تھی۔۔
میں پوچھ رہا ہوں کچھ تم سے۔۔۔ وہ اتنی زور سے دھاڑا تھا ۔۔کہ سوہا کانپ گٸ تھی۔۔۔
جی۔۔۔ گھٹی سی آواز نکلی۔۔۔
اب جو میں پوچھوں گا وہ سچ سچ بتانا ہے۔۔۔ چیزیں ہاتھ مار کر ایک طرف کی۔۔ لیپ ٹاپ لڑھکتا ہوا ایک طرف گیا۔۔۔
میری تصویریں بنانے والی اور مجھے بلیک میل کرنے والی فون پر ۔۔ وہ لڑکی تم تھی۔۔ ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ دانت پیس کر کہا۔۔۔
سوہا ۔ ۔۔ کانپنے لگی تھی۔۔۔ افف خدایا یہ کیا ہوگیا ۔۔۔ دماغ شل ہو گیا تھا۔
بولو۔۔۔ واسم نے آنکھوں سے آگ نکالتے ہوۓ کہا۔۔۔
سوہا پھر بھی چپ بیٹھی تھی۔۔۔ واسم کا طیش سے برا حال ہو گیا تھا۔۔۔ اسے وہ ناٹک کرتی ہوٸ زہر لگ رہی تھی۔۔
جلتی سگریٹ ایک دم سوہا کے ہاتھیلی پر رکھ کر اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔
سوہا کی گھٹی سی چیخ نکلی تھی۔۔۔ آنکھیں ابل کر جیسے باہر کو آ گٸ تھیں۔۔۔ واسم نے منہ پر اتنی زور سے ہاتھ رکھا تھا کہ اس کی نتھ کھل کے ہونٹ میں پیوست ہو گٸ تھی۔۔۔
اب صرف سر ہلا کر بتاٶ۔۔۔ہاں یا ناں۔۔۔
وہ غصے میں پاگل ہو رہا تھا ۔۔۔ سوہا نے اس کے ساتھ وہ سب کیا جس سے اسے نفرت تھی۔۔۔ اور وہ جس لڑکی کی وجہ سے پتہ نہیں کتنے دن انگاروں پر لوٹا تھا وہ بڑے مزے سے اس کے سامنے دندناتی پھرتی تھی۔۔۔ اس پر ہنستی ہو گی۔۔۔ اس کو بیوقوف بناتی ہو گی۔۔۔ جھوٹی محبت کا سوانگ رچا کر وہ اسے پاگل سمجھتی ہو گی۔۔۔
سوہا نے تکلیف کی شدت سے فورا سر ہاں میں ہلایا تھا۔۔۔ واسم نے ایک جھٹکے سے جلتا سگریٹ سامنے دیوار میں دے مارا۔۔۔
سوہا نے ایک دم آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔ آنسو کی لڑیاں ۔۔۔ تیزی سے بہتی ہوٸ واسم کے ہاتھوں پر گری تھیں جو اس نے سوہا کہ منہ پر رکھا ہوا تھا۔۔۔
تمہیں پتا ہے ۔۔۔ تم نے کیا کیا۔۔۔ میرےساتھ۔۔۔ واسم چیتے جیسی آنکھیں نکال کر دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ واسم تو نہیں تھا۔۔۔
اور اب میرے سامنے میری ہی زندگی کا اہم رکن بن کر بیٹھی ہو۔۔۔ جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے منہ پر سے اٹھایا۔۔۔
سوہا بری طرح رو دی تھی۔۔۔ جلنے کی تکلیف ہی اتنی تھی۔۔
رونا بند کرو۔۔۔ بند کرو یہ ناٹک۔۔۔ واسم کو اور غصہ آ گیا تھا۔۔۔
کیوں کیا ایسا تم نے بولو۔۔۔ کیوں کیا۔۔۔ واسم کی رونے جیسی شکل ہو گٸ تھی۔۔اپنے ہی ہاتھ کا مکا بنا کر ساتھ پڑے ٹیبل پر مارا تھا۔۔۔
مجھے۔۔مجھے غلط فہمی۔۔ سوہا کی آواز نہیں نکل رہی تھی
غلط فہمی۔۔۔واسم نے درد سے بھرا قہقہ لگایا تھا۔۔۔
تم نے میری زنگی بر باد کر دی۔۔۔ میں اتنی اذیت میں رہا۔۔۔ جس لڑکی کو میں چاہتا تھا تم نے اسے مجھ سے بدگمان کیا۔۔
میرا ہر ہر اندازہ غلط تمھارے لیے۔۔۔ ہر اندازہ۔۔۔ واسم پھر سے اسکے قریب آیا تھا۔۔۔ لیکن پھر ہاتھ بھینچ لیا۔۔۔
اس خوبصورت چمڑی میں چھپی ڈاٸن ہو تم۔۔واپس پلٹ کر سوہا کا منہ اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔۔۔ اور دانت پیستے ہوۓ ناگواری سے کہا۔۔۔
میں ایک پل کے لیے بھی تمہیں برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ اپنی زندگی میں۔۔۔ ایک دم سے اس کے منہ کو چھوڑ کر پیچھے ہوا تھا۔۔۔
اسی وقت نکلو میرے کمرے سے باہر۔۔ انگلی کے اشارے سے اب سوہا کو اٹھنے کے لیے کہہ رہا تھا۔۔۔ دماغ کی پھرکی گھومی پڑی تھی۔۔۔
واسم۔۔۔ واسم ۔۔ میری بات سنیں ۔۔ سوہا روۓ جا رہی تھی۔۔ وہ اسے بازو سے گھسیٹ رہا تھا۔۔۔
پھراچانک رک گیا۔۔ اور گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ نچلے ہونٹ کو زبان میں دبا کر کچھ سوچا۔۔۔ ماتھے کے بل ہنوز قاٸم تھے۔۔۔
نہ۔نہیں۔۔۔ تم پتہ ہے کیا کرو گی۔۔۔ پاگلوں کی طرح اس کے پاس آیا ۔۔۔ اور غرانے کے انداز میں کہا۔۔۔
تم کل ۔۔۔ ولیمے کے بعد۔۔ جب سب ہوں گے۔۔ نشا بھی۔۔۔ جب سب مہمان چلے جاٸیں گے۔۔۔ تم سب کو بتاٶ گی سب کچھ۔۔۔ سب کچھ۔۔۔ اور یہ جو ریکارڈنگ کی ہے تم نے میری اور کیرن کی یہ بھی تم سناٶ گی سب کو۔۔۔ بھاری آواز میں وہ ٹھہر ٹھہر کر دانت پیستا ہوا کہہ رہا تھا۔۔۔
اور پھر میں سب کے سامنے تمہیں طلاق دوں گا۔۔۔ اگلی بات غرانے کے انداز میں کہی۔۔۔
سوہا کے پیروں کے نیچے سے جیسے زمین نکل گٸ تھی۔۔۔ اس نے تڑپ کر واسم کی طرف دیکھا۔۔۔
واسم ۔۔۔ وہ ایک دم جیسے ساکن ہو گٸ تھی۔۔۔
۔۔۔ پلیز۔۔۔ پلیز۔۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔ یہ سب۔۔یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا میں نے۔۔۔ سوہا ایک دم جیسے اس کی بات کو زیر لب دھراکر ہوش میں آگٸ تھی۔۔۔
شٹ۔۔ اپ۔۔۔۔شٹ اپ۔۔۔ آواز نہ آۓ تمھاری۔ تمہیں تو کل تک میں مرنے بھی نہیں دوں گا۔۔۔ واسم نے غصے سے اسے خود سے الگ کیا۔۔۔
تمہیں پتہ ہے نشا نے ۔۔۔ عون چچا نے مجھے زانی کہا۔۔۔صرف تمھاری وجہ سے۔۔۔ واسم نے روہانسی آواز میں سر کو پکڑا تھا۔۔۔
واسم پلیز۔۔۔ پلیز معاف کر دیں ۔۔سوہا پاگلوں کہ طرح ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولی۔۔۔ اس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا واسم کے سامنے سب کھل جاۓ گا۔۔۔
اور اگر میں اپنے طریقے سے تم تک پہنچ گیا تو میں جو تمھارا حشر کروں گی وہ دنیا دیکھے گی۔۔۔ واسم کے کہے ہوۓ الفاظ اسے یاد آ گۓ تھے۔۔۔
تمہیں ۔۔ تب ۔۔۔ مجھ پر ترس آیا تھا بولو۔۔۔بولو۔۔۔ ۔۔ میں ایک پل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں بھولا تھا تمہیں۔۔۔ اور کتنا پاگل ہوں تم میرے آس پاس جھوٹی محبت لٹاتی پھر رہی تھی۔۔۔ واسم نے حقارت سے دیکھا اس کو۔۔
پلیز واسم میں آپ سے سچی محبت کرتی ہوں ۔۔۔ سوہا چیخنے کے انداز میں بولی۔۔۔
تم نے ایک دفعہ بھی میری ازیت کے بارے میں سوچا تھا کیا۔۔۔
اور میرے سامنے اب یہ ناٹک نہیں چلے گا۔۔۔ میں تمھارا اصل چہرہ دیکھ چکا ہوں۔۔۔ سوہا نے پاس آ کر جو ہاتھ پکڑا تھا ۔۔۔ واسم نے جھٹکے سے الگ کیا تھا۔۔۔
ہٹو یہاں سے اب۔۔۔ واسم سامنے پڑے صوفے پر ڈھے سا گیا تھا۔۔۔ آنکھیں بند کیے وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا۔۔۔آنکھوں کے کونوں سے آنسو نکلے تھے۔۔ نشا اس سے بہت دور جا چکی تھی۔۔۔ اب سچاٸ معلوم ہونے پر بھی وہ اسے کبھی نہیں پا سکتا تھا۔۔۔
سوہا وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گٸ تھی۔۔بار بار ہتھیلی پر پھونکیں مار رہی تھی۔۔ مہندی سے بھری ہتھیلی میں جلے کا نشان سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
صبح کی روشنی پھیلنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔ اور سوہا کے اندر اندھیرا چھا گیا تھا۔۔
*************
یہ کیا ہوا ہے ۔۔۔ عشرت نے اس کے ہونٹ پر نشان دیکھ کر پریشانی سے پوچھا۔۔۔
سوہا نے گھبرا کر سامنے بیٹھے واسم کو دیکھا تھا۔۔۔ جس نے خونخوار نظروں سے ایسے گھورا تھا جیسے ابھی کچا چبا جاۓ گا۔۔۔
مما۔۔ واسم کا انتظار کرتے کرتے ایسے ہی سو گٸ۔ نوز رنگ کا نشان پڑ گیا۔۔۔ اس نے خجل ہوتے ہوۓ جھوٹ بولا۔۔۔
تقریبا دوپہر دو بجے کے قریب واسم سو کر اٹھا تھا ۔۔۔ وہ کمرے میں روتی رہی تھی زمین پر بیٹھی اور وہ صوفے پر بیٹھا بیٹھا سو گیا تھا۔۔۔
پھر اٹھ کر کپڑے بدل کر وہ بیڈ پر بیٹھی اسے دیکھتی رہی تھی۔۔۔
صوفے پر وہ اب باقاعدہ لیٹ گیا تھا۔۔۔ اور گہری نیند میں تھا۔۔۔ اب وہ آغا جان کی کال پر اٹھا تھا۔۔۔ اور عشرت کمرے میں ناشتہ لے کر آٸ تھی۔۔۔
بیٹا احتیاط کرتے ہیں نہ۔۔۔ دیکھو تو کیسے پڑا ہے نشان ۔۔۔ اچھا چار بجے تک پارلر کے لیے نکلنا ہے میں جا کر مہمان دیکھتی ہوں۔۔۔ عشرت اٹھ کر باہر چلی گٸ تھیں۔۔۔
واسم۔۔۔ آپ میری بات تو سن لیں ایک دفعہ۔۔۔ سوہا نے کافی دیر لب کچلنے کے بعد ڈرتے ہوۓ واسم کی طرف دیکھا۔۔۔
جو سپاٹ چہرہ سوجی آنکھیں لے ناشتہ زہر مار کر رہا تھا۔۔
وہ تیزی سے اٹھ کر باہر چلا گیا۔۔۔۔
سوہا کا ہاتھ ہوا میں ہی رہ گیا جو اس نے واسم سے بات کرنے کے لیے اٹھایا۔۔۔ تھا۔۔۔
تو پھر ۔۔۔ سوہا واسم ۔۔۔۔ آج شام ۔۔تمھاری محبت کی آخری شام ہے۔۔۔ کتنی بڑی بیوقوفی کی تھی یہ سزا تو بنتی تھی۔۔۔ میری۔۔۔آنکھ سے آنسو پھر سے رواں تھے۔۔۔
**************
اپنے کہنے کے مطابق واسم سارے خاندان کو ولیمے کے بعد ایک کمرے میں اکٹھا کر چکا تھا۔۔۔ اور سوہا اب ولیمے کے بڑے سے سنہری فارک میں مجرم بنی کٹہرے میں کھڑی تھی ۔۔۔ سب لوگ حیران کم پریشان زیادہ تھے۔۔۔
سوہا آپ سب سے کچھ کہنا چاہتی۔۔۔ اور سنانا چاہتی۔۔۔ اور اس سب کے بعد میں اپنا فیصلہ سناٶں گا۔۔۔
سوہا کیا بات ہے۔۔۔آغا جان نے روتی ہوٸ سوہا کو دیکھ کر پریشان ہو کر کہا۔۔
واسم کیا بات ہے ایسی۔۔آغا جان نے اب واسم کی طرف دیکھا جو غصے میں بھرا کھڑا تھا۔۔۔
19
سوہا بولو۔۔۔ بتاٶ سب کو۔۔ واسم نے پاس آ کر دھاڑنے کٕ انداز میں کہا۔۔۔آواز اتنی اونچی تھی کہ سب دہل گۓ تھے۔۔۔
سوہا کیا ہے ایسا واسم کیوں کر رہا اسطرح۔۔۔ بولو۔۔۔بیٹا۔۔۔ عشرت زرد رنگ لیے اب سوہا کی طرف آٸ تھی۔۔۔
واسم کو بدنام کرنے والی اور اس کی غلط تصویریں بنا کر آپ سب کو بھیجنے والی میں ہوں۔۔۔ سوہا نے جیسے دھماکا ہی کیا تھا سب کے منہ کھولے کے کھولے رہ گۓ تھے۔۔۔
آغا جان ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھے تھے۔۔۔ باقی سب کے عشرت سمیت منہ پر تھے۔۔۔
مجھ سے یہ سب غلط فہمی میں ہوا تھا۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر کچھ بھی نہیں کیا تھا۔۔۔ وہ روہانسی ہو کر چیخنے کے انداز میں بولی تھی۔۔۔ اور نیچے بیٹھ گٸ تھی۔۔۔
سارا فنگشن اس نے سکتے کے عالم میں گزارا تھا۔۔۔ سب لوگ بار بار اس سے پوچھتے رہے کیا ہوا ہے۔۔۔ سب کو طبیعت کا بہانا کر کے ٹالتی رہی تھی۔۔۔ واسم ایک پل کے لیے بھی فنگشن میں اس کے ساتھ آ کر نہیں بیٹھا تھا۔۔۔
بس چپ۔۔۔۔ واسم نے زور سے دھاڑ کر سوہا کو چپ کروایا تھا۔۔۔ سب لوگ سہم گۓ تھے۔۔۔
اب آپ لوگ یہ ریکارڈنگ سنیں۔۔۔ اس نے سپیکر آن کۓ تھے۔۔۔ اور ریکارڈنگ سنتے ہوۓ سب کی گردنیں جھک گٸ تھیں۔۔۔
یہ ریکارڈنگ بھی اس دفعہ ان محترمہ نے ہی کی تھی
یہ سب کیا ہے۔۔۔ آغا جان نا یقینی کے عالم میں واسم کے پاس آ گۓ تھے۔۔۔
یہی سب سچ ہے۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ جو لڑکی آپ لوگوں کے سامنے کھڑی ہے معصوم شکل لےکر یہ میری خوشیوں کی قاتل ہے۔۔۔ واسم نے سوہا کی طرف انگلی کر کے چیخنے کے انداز میں کہا۔۔
یہ سب
سچ جاننے کے بعد میں اسے ایک منٹ کے لیے بھی اپنی زندگی میں برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ واسم نے دانت پیستے ہوۓ خونخوار نظروں سے سوہا کی طرف دیکھا جو ساکت بیٹھی اب اپنی محبت کا جنازہ نکلتے دیکھنے کے لیے تیار بیٹھی تھی۔۔۔ اس نے دھیرے سے آنکھیں بند کر لی تھیں ۔۔۔
میں واسم زوجیج ۔۔ اپنے پورے ہوش و حواس میں۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: