Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 23

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 23

–**–**–

میں واسم زوجیج اپنے پورے ہوش و حواس میں۔۔۔ ایک ناگوار نظر گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھی سوہا پر ڈال کر واسم اونچی آواز میں گویا ہوا تھا۔۔۔
سب لوگوں نےحیران ہو کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے واسم کو دیکھا۔۔
سوہا نے اپنی آنکھوں کو پوری قوت سے بند کیا تھا۔۔۔
اس سے پہلے کے واسم اگلے الفاظ ادا کرتا آغا جان کا ہاتھ اٹھا تھا اور ایک زناٹے دار تھپڑ واسم کے منہ پر تھا۔۔۔
آغا جان ایک دم سے جیسے کسی تکلیف کے زیر اثر نیچے کو جھکے تھے۔۔۔ واسم جو ان کے تھپڑ پر ساکن ہوا تھا ایک دم سے حرکت میں آیا تھا۔۔۔اور آغا جان کو نیچے گرنے سے پہلے باہوں بھر چکا تھا۔۔۔
سب لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کی طرف بھاگے تھے۔۔۔
***********
تم اتنی بڑی بیوقو فی کیسے کر سکتی ہو۔۔۔ عشرت سوہا کے پاس بیٹھی تھی۔۔۔
وہ بلکل خاموش ساکن بیٹھی تھی۔۔۔۔آنکھیں کسی غیر مرٸ نقطے پر مرکوز کیے۔۔۔ بال بکھرے ہوۓ ۔۔۔ گال پر اور ہونٹ پر نشان تھا۔۔۔ آنکھوں میں پانی تھا۔۔۔۔ دھلا ہوا چہرہ پر سفید جیسے کسی مردہ جسم کا ہوتا۔۔۔
ہاں اس کے اور مردہ جسم میں کوٸ فرق تھا بھی تو نہیں۔۔۔واسم اس کے اندر روح کی طرح تھا ۔۔۔ اب وہ نہیں تھا تو اس کا جسم روح کے بنا تھا۔۔۔ یوں سب کچھ مل کر چھن گیا تھا۔۔۔بس اب وہ کبھی ۔۔۔ واپس اس کی روح بن کے اس کے اندر نہیں اترے گا ۔۔۔ اب کبھی نہیں ہو گا ایسا۔۔۔
سوہا ۔۔۔ کچھ تو بولو۔۔۔ عشرت بار بار اسے ہلا رہی تھیں۔۔
باقی سب لوگ آغا جان کو ہاسپٹل لے کر گۓ تھے۔۔۔ان کا نروس بریک ڈاون ہوا تھا اور بی پی بہت لو ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ چکر کھا کر گرے تھے۔۔۔
عشرت روۓ جا رہی تھیں۔۔۔ جیسی میری قسمت تھی۔۔۔ ویسی ہی میری بیٹی کی۔۔۔۔اس نے گال رگڑ کے صاف کیے اور سوہا کو اپنے سینے سے لگا یا تھا۔۔۔
**************
واسم۔۔۔ آغا جان بلا رہے تمہیں۔۔۔ زوجیج نے واسم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔۔۔
وہ ہاسپٹل میں تھے ۔۔۔ آغا جان اب ٹھیک تھے۔۔۔ لیکن انھیں ڈسچارج نہیں کیا گیا تھا۔۔۔ انھوں نے واسم کو اندر بلایا تھا جو باہر پر سوچ اور ٹوٹے ہوۓ انداز میں کھڑا تھا۔۔۔
بکھرے بال ۔۔۔ پریشان چہرہ۔۔۔ خشک ہونٹ۔۔۔ بھاری پلکوں والی ادھ کھلی آنکھیں ۔۔۔ وہ آہستہ سے چلتا ہوا اندر اس کمرے میں گیا تھا جہاں اب آغا جان کو شفٹ کیا گیا تھا۔۔۔
واسم۔۔۔۔ آغا جان نے نقاہت سے اس کا نام پکارا تھا۔۔۔
وہ جو آ کر ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر خاموش کھڑا تھا۔۔۔ ان کے بلانے پر نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا۔۔۔
واسم۔۔۔وہ اسے ہاتھ کے اشارے سے پاس بلا رہے تھے۔۔۔ واسم دھیرے سے چلتا ہوا ان کے پاس آیا تھا۔۔۔ انھوں نے اپنے کانپتے سے بوڑھے ہاتھوں میں واسم کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔
میں نے اپنی ایک خواہش تم پر تھوپی اور وہ بھی تمھارے حق میں غلط نکلی۔۔۔ میں شرمندہ ہوں۔۔۔ وہ بہت دھیرے دھیرے ۔۔ نقاہت بھری آواز میں بول رہے تھے۔۔۔
واسم نے ان کی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر فورا تڑپ کر ان کے آنسو پونچھے۔۔۔
آغا جان ۔۔۔ میری طرح آپ بھی کچھ نہیں جانتے تھے ۔۔۔ معافی مت مانگیں۔۔۔ واسم نے گردن جھکاتے ہوۓ کہا۔۔۔
خاموشی۔۔۔۔ وہ واسم کو دیکھ رہے تھے لیکن واسم سر جھکاۓ بیٹھا تھا۔۔۔
واسم ۔۔۔ پھر کچھ اور مانگوں تو دو گے۔۔۔ بڑی ہمت سے وہ التجا والے انداز میں بولے تھے۔۔۔ آنسو اب پھر آنکھوں کے کونوں میں تھے
یہ ہوتی بیٹی کی محبت۔۔۔ انھوں نے عشرت سے بہت پیار کیا ہمیشہ لیکن وہ اس کے نصیب سے نہیں لڑ سکے تھے۔۔۔ عشرت نے ضد کر کے اکبر سے شادی کی پھر اجڑ کر گھر آٸ۔۔۔ پھر بیٹی کی محبت میں تڑپتی رہی۔۔۔ اور وہ اس کی تڑپ پر اندر سے گھلتے رہے۔۔۔پھر اب وہ بیٹی کی وجہ سے سکون میں آٸ تھی۔۔۔ اور آغا جان اس کے سکون میں آنے سے سکون میں آۓ تھے۔۔۔ لیکن اب یہ سب ۔ ۔۔۔ وہ اب مزید اپنی بیٹی کے دکھ سمیٹنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے ان کے کمزور کندھے اب اس کے غموں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک چکے تھے۔۔۔
آغا جان۔۔ واسم نے آغا جان کو محبت سے گلے لگایا تھا۔۔۔آغا جان سے اس کی محبت ایسی ہی تھی۔۔۔ زوجیج طبیعت کے شروع سے ہی ذرا لاپروہ سے تھے۔۔۔واسم کو ہر طرح کا پیار شروع سے ہی آغا جان سے ملا تھا وہ ان کا لاڈلا تھا۔۔۔
سوہا ۔۔۔ کو طلاق مت دینا۔۔۔ واسم کو اپنے کان کے پاس آغاجان کی نقاہت بھری آواز سناٸ دی تھی۔۔۔۔
************
مما جان ۔۔۔ مجھے مما کی طرف جانا ہے ۔۔۔آغا جان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی وہ اب گھر آۓ ہیں۔۔۔ نشا ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنساۓ ۔۔ صرف کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔
صدف نے بغور جاٸزہ لیا تھا نشا کا اوپر سے لے کر نیچے تک۔۔۔
ہاں۔۔۔ تو۔۔۔ کیسے جاٶ گی۔۔۔ ڈراٸیور تو آج چھٹی پر ہے۔۔۔ بلکل توقع کے برعکس وہ تھوڑے نرم لہجے میں بولی تھیں۔۔۔
نشا نے تھوڑی خوشگوار سی حیرت سے صدف کی طر دیکھا تھا۔۔۔
ارے پریشان نہ ہو بیٹا ۔۔۔ میں عادل کو کہتی ہوں وہ چھوڑ آۓ گا۔۔۔۔ بڑی محبت سے انھوں نے اپنا چشمہ نیچے کر کے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔ اب وہ بڑی نفاست سے اپنے پاس پڑے موباٸل کو اٹھا رہی تھیں جو سامنے ٹیبل پر پڑا تھا۔۔۔
نہیں ۔۔۔مما میں ٹیکسی لے لیتی ہوں۔ ۔۔ نشا نے تھوڑا جھجکتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ ان کے رویے پر حیران و پریشان تھی۔۔۔۔
ارے ایسے کیسے ٹیکسی کیوں۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ انھوں بڑے لاڈ والا منہ بنا کر کہا۔۔۔ اور بڑے انداز سے انگوٹھیوں سے بھرے ہاتھ کے ساتھ اپنے موباٸل سے عادل کو کال ملاٸ تھی شاٸد۔۔۔
ہم۔م۔م۔ عادل ۔۔۔ بیٹے گھر آو کام ہے تم سے۔۔۔ اپنی بھابھی کو ان کے میکے چھوڑ آٶ۔۔۔ بڑے حکمانہ انداز میں انھوں نے عادل کو کہا تھا۔۔۔
کبھی کبھی تو نشا کو لگتا تھا کہ عادل اس کی ساس کا زر خرید غلام ہے کیونکہ وہ ار سل کے بجاۓ اپنا ہر کام عادل سے لیتی تھیں۔۔
وہ آتا ہے ابھی ۔۔۔ صدف نے بڑی محبت سے دیکھا تھا نشا کو۔۔۔
نشا کا دل تو کیا کہ صاف منع کر دے ان کو۔۔۔کیونکہ ان کے گھر میں یوں کسی غیر محرم کے ساتھ ۔۔آغا جا ن کو یہ سب بلکل پسند نہیں تھا۔ لیکن پھر سوچا شادی کے بعد اب جا کر تو وہ کچھ بہتر ہوٸ ہیں ۔۔۔
جی۔۔۔۔۔ نشا نے چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا۔۔۔
*************
واسم ۔۔۔ رکو۔ ۔۔۔ نشا نے گیٹ سے باہر کار نکالتے ہوۓ واسم کو آواز دے کر روکا تھا۔۔۔
واسم نے کار سٹاپ کی تھی لیکن نشا کہ طرف نہیں دیکھا تھا۔۔۔
نشا ابھی گھر پہنچی تھی کچھ دیر پہلے ہی اسے نورین سے پتہ چلا تھا کہ واسم نے سوہا کو طلاق نہں دی ہے لیکن وہ اسلام آباد جا رہا ہے ۔۔ وہ فورا بھاگتی ہوٸ آٸ تھی۔۔۔وہ ابھی نکل ہی رہا تھا جب نشا نے اسے روکا تھا۔۔۔
آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگاۓ۔۔۔ سپاٹ چہرہ لیے وہ سوہا کی طرف دیکھے بنا اب گاڑی روک کر کھڑا تھا۔۔۔
واسم۔۔ مجھے معاف کر دو۔۔۔ نشا نے شرمندہ سے لہجے میں کہا تھا۔۔۔ وہ ہاتھوں کی انگلیوں کو اپنے مخصوص انداز میں پھنساۓ کھڑی تھی۔۔۔
کر دیا۔۔۔۔ واسم نے سپاٹ لہجے میں مختصر جواب دیا تھا۔۔۔اب اس نے لب بھینچے ہوۓ تھے۔۔۔
واسم۔۔۔ سوہا۔۔ ویسی نہیں جیسی تم اسے سمجھ رہے ہو۔۔۔ نشا نے مدھم سی آواز میں التجاٸ لہجے میں سر جھکا کر کہا تھا۔۔
ہاں۔۔۔ وہ بلکل ویسی نہیں جیسا میں نے اسے سمجھا تھا۔۔۔ ہنوز اسی لہجے میں کہا لیکن اب کی دفعہ جبڑے ایک دوسرے میں پیوست ہو گۓ تھے۔۔ اور ماتھے پر ناگواری کے بل تھے۔۔۔
واسم میری بات سنو۔۔۔ میں تمہیں۔۔۔ نشا نے جھجکتے ہوۓ بات شروع کی۔۔۔
واسم کو صبح سےہر بندہ باری باری آ کر یہی باتیں کر رہا تھا۔۔۔ وہ اکتا گیا تھا ان باتوں سے۔۔۔ وہ اب سوہا کو طلاق نہیں دے رہا تھا اب اس سے زیادہ وہ کیا کرتا۔۔ نہیں اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ اسے معاف کر دے سب بھول جاۓ۔۔ وہ اس کے دل سے اتر چکی تھی۔۔۔ اس میں اب کوٸ ایسی بات ہی نہیں تھی جو واسم کے دل کے کسی گوشے کو نرم کر سکتی۔۔۔
اس سب سے اب کیا ہو گا۔۔ کیا تم واپس میری زندگی میں آ جاٶ گی۔۔۔ واسم نے اب نشا کہ طرف رخ کیا تھا۔۔۔
نشا ایک دم سے جزبز اور ساکن ہو گٸ تھی۔۔۔ اب آگے اس کہ زبان گنگ تھی۔۔۔ مطلب واسم اس کو بھولا نہیں تھا۔۔۔ وہ تو پر سکون تھی اپنا گلٹ ختم کر چکی تھی کہ واسم اب سوہا سے محبت کرنے لگا ہے لیکن واسم کی آخری بات نے اس کے اندر کی شرمندگی کو پھر سے اجاگر کر دیا تھا۔۔
اپنا اور میرا وقت برباد مت کرو۔۔۔ واسم نے اسے چپ کھڑا دیکھا ۔۔۔ ااور گاڑی ریورس کرنا شروع کر دی وہ وہیں ۔۔ کھڑی تھی۔۔ لیکن واسم جا چکا تھا۔۔۔
***************
پیسے چاہیے ۔۔۔ عادل نے گاڑی کی چابی اپنی انگلی میں گھوماتے ہوۓ سامنے بیٹھی صدف کی طرف دیکھا۔۔۔
ابھی کچھ دن پہلے تو دیے تھے۔۔۔ صدف نے ماتھے پر بل لاتے ہوۓ دانت پیس کر کہا۔۔۔
اور ضرورت ہے۔۔۔ عادل نے ہنوز لا پرواہ انداز میں کہا۔۔۔
میں نے جو کہا ہے وہ تو کر نہیں رہے تم۔۔۔۔صدف نے ارد گرد نظر دوڑا کر سخت لہجے میں سامنے بیٹھے عادل کو گھورتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔
کر تو رہا ہوں۔۔۔ وہ لفٹ ہی نہیں کراتی ہے۔۔۔ عادل نے کان کھجاتے ہوۓ لاپرواہی انداز میں کہا۔۔۔
تم کچھ ایسا کرو گے ۔۔۔ تو ہی کرواۓ گی لفٹ۔۔۔اس کی تعریف کرو ۔۔۔ اس کے آگے پیچھے پھیرو۔۔ صرف دانت پیستے ہوۓ ارد گرد کا جاٸزہ لیتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔۔۔
وہ عادل کو گھور رہی تھیں ۔۔۔ اور وہ ہنوز لاپرواہ انداز میں بیٹھاتھا۔۔۔ اور ٹانگ ہر ٹانگ رکھے ایک ٹانگ کو زور زور سے ہلا رہا تھا۔۔۔
صدف نے غصے سے سامنے پڑی چیک بک اٹھاٸ تھی۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: