Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 24

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 24

–**–**–

واسم کی بات سن سکتا ہوں تو تمھاری بھی سن سکتا ہوں۔۔۔ آغا جان نے نقاہت بھری آواز میں کہا تھا۔۔۔
ان کو گھر آۓ اورواسم کو اسلام آباد گۓ آج ہفتہ ہو چکا تھا۔۔۔ آج بہت ہمت کر کے اور بہت سوچنے کے بعد انھوں نے سوہا کو اپنے کمرے میں بلایا تھا۔۔۔
وہ آج ہفتے بعد کمرے سے نکلی تھی۔۔۔ آنکھوں کے نیچے حلقے تھے ۔۔۔ چہرہ زرد تھا۔۔۔ ہونٹ خشک تھے۔۔۔ اداس زندگی سے بے زار شرمندہ سی شکل تھی۔۔۔
مجھے بتاٶ۔۔۔کیا تھا یہ سب ۔۔۔ آغا جان تھوڑی نرمی سے اسے پوچھ رہے تھے۔۔ کیونکہ اس کی حالت زار ان کو نظر آ ہی رہی تھی۔۔ آغا جان کے دل میں یہ بات بھی تھی کہ انھوں نے تو زبردستی اس کی واسم سے شادی کی تھی۔۔۔ تو یہ سب کیا ہے اس نے یہ کیوں کیا تھا۔۔۔
بتاٶ مجھے۔۔۔ وہ اب پھر سے اسے کہہ رہ تھے۔۔۔ اور وہ ویسے ہی چپ بیٹھی تھی۔۔۔ وہ دل میں لفظوں کو ترتیب دے رہی تھی۔۔ دماغ تو ایسے شل تھا کہ کچھ بھی نہیں سمجھ آ رہا تھا۔۔۔کہ کیا بات کرے اپنی صفاٸ میں کیا کہے ۔۔۔
آغا۔۔جان۔۔۔ بہت ہی گھٹی ہوٸ اور دور سے آتی ہوٸ آواز تھی۔۔۔
میں نے جان بوجھ کر کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔ آنسو پھر سے بہہ نکلے تھے۔۔۔
مجھے ان کے بارے میں غلط فہمی ہوٸ تھی۔۔۔ میں بس صرف سب کو ان کی حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتی تھی۔۔
سوہا ۔۔۔ نا ہر کسی کے معاملے میں ٹانگیں پھنسایا کرو یہ دنیا ہے اس میں ہر طرح کے لوگ ہوتے تم نے سب کو سدھارنے کا ٹھیکا نہیں اٹھایا۔۔۔ اکبر کی کہی ہوٸ باتیں اس کے ذہن میں گونج رہی تھیں۔۔۔کتنا صیح کہتے تھے آپ بابا۔۔۔ وہ آج اپنی نادانی پر رو رہی تھی۔۔۔ جس کی وجہ سے اس سے وہ شخص دور ہوا تھا جس کو اس نے پوری دنیا سے زیادہ چاہا تھا۔۔۔
لیکن یہ سب غلط تھا۔۔۔ جو تم نے کیا۔۔۔ تم نے دیکھا تمھاری اس حرکت نے اس کی زندگی کو کیا سے کیا کر دیا تھا۔۔۔ آغا جان مدھم سی آواز اور ٹھہرے ہوۓ لہجے میں سوہا کو سمجھا رہے تھے۔۔
میں اسے اپنا غرور کہتا تھا اور میں بھی اس پر شک کر بیٹھا تھا۔۔۔ وہ شرمندہ سے لہجے میں بولے تھے۔۔۔
آغا جان۔۔۔ مجھے معاف کر دیں ۔۔۔ تب ۔۔۔ مجھے ان سب باتوں کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔وہ اپنے ہاتھوں میں منہ دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔
میں تو تمہیں معاف کر دوں گا میں تمھارا نانا ہوں۔۔۔ میرے خون کی اولاد ہو تم۔۔۔ لیکن کیا وہ معاف کرے گا۔۔۔ آغا جان کے لہجے میں دکھ تھا درد تھا۔۔۔
مجھے ہر سزا منظور ہے۔۔۔ اپنی گالوں سے آنسو صاف کرتے ہوۓ سوہا نے کہا ۔۔۔
وہ تو دے رہے تھا سزا۔۔۔ کیا وہ منظور تھی۔۔۔ گھٹی سی آواز میں آغا جان نے کہا اور اپنے چشمے کی اوٹ سے سوہا کے چہرے کو غور سے دیکھا۔۔۔جو ایک دم سے زرد پڑا تھا۔۔۔
بولو۔۔۔ اگر تم چاہتی ہو تو میں نے اسے زبردستی روک رکھا ہے۔۔۔ تم سے پوچھنا تھا بس اگر تم چاہتی ہو علیحدگی تو۔۔۔ آغا جان نے دو ٹوک انداز میں اس سے بات کی۔۔۔
آپ کیا چاہتے ہیں۔۔۔ گھٹی سی آواز میں تھوک نگل کر سوہا نے کہا۔۔۔ جب کے جسم کے اندر دل لرز رہا تھا۔۔۔
یہ میری نہیں تمھاری زندگی ہے۔۔۔ میں نے اپنے بہت سے فیصلے غلط ہوتے دیکھیں ہیں۔۔۔ وہ دکھ سے دھیرے لہجے میں بولے۔۔۔
بولو۔۔۔ کیا ہونا چاہتی ہو الگ واسم سے۔۔۔۔۔۔ کیا وہ طلاق دے دے تمہیں ۔۔۔ انھوں نے آج اسی بوجھ سے آزاد ہونے کے لیے اسے بلایا تھا۔۔
وہ بلکل خاموش بیٹھی تھی۔۔۔ دل تڑپنے لگا تھا ۔۔۔ دن رات واسم کو سوچا تھا۔۔۔ ہر پل اسے چاہا تھا۔۔۔ وہ اس کی زندگی میں آنے ولا اس کے دل میں آنے والا اس کی روح بن جانے والا پہلا شخص تھا۔۔۔ اس سے الگ ہونا خود اپنی روح کو نوچ کر اپنے جسم سے نکلانے کے مترادف تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ میں نہیں چاہتی۔۔۔ وہ سپاٹ سے لیکن پر زم لہجے میں کہتی ہوٸ وہاں سے اٹھی تھی۔۔۔ اور تیزی سے آغا جان کے کمرے سے نکل گٸ تھی۔۔۔
*************
کومیل بھاٸ میں نہیں آنا چاہتا۔۔۔ چڑ کر فون کی ساٸڈ بدل کر دوسرے کان سے لگایا۔۔۔ بے زار سی شکل بنا کر ٹاٸ کی ناٹ کو گلے سے ڈھیلا کیا تھا۔۔۔
آنکھیں ۔۔۔ تھکی سی چہرہ تھکا سا۔۔۔ مخصوص انداز میں بکھرے سے بال۔۔۔
آغا جان بلا رہے ہیں بس ایک دفعہ آ کر بات سن لے۔۔۔ کومیل نے پھر منت والے لہجے میں کہا۔۔۔
عشرت بہت بیمار ہو گٸ تھی سوہا کو لے کر ۔۔۔ دو ہفتے ہو گۓ سب واسم کی منتیں کر رہے تھے۔۔۔ کہ وہ گھر آۓ۔۔۔ لیکن وہ تھا کہ بس ایک ہی بات کرتا تھا۔۔ وہ نہیں آنا چاہتا ہے۔۔۔
کومیل بھاٸ آپ لوگ مجھے میری مرضی سے جینے دیں گے۔۔۔ جبڑے بھینچ کے ماتھے پر ناگواری کے بل ڈال کر کہا۔۔۔
یار پلیز ۔۔۔ مما کا بھی رو رو کر بہت برا حال ہے۔۔۔ عشرت پھپھو کا بخار نہیں اتر رہا۔۔۔ آغا جان ان کے لیے بہت پریشان ہیں۔۔۔ کومیل اس کا بڑا بھاٸ کم اس کا دوست زیادہ تھا۔۔۔ ہر معاملے میں کا ساتھ دیتا تھا۔۔۔
یار پھپھو کا تو کوٸ قصور نہیں ہے ۔۔۔ آجا یار اب تو تھک گۓ ہیں منتیں کر کر کے۔۔ کومیل نے بے زاری سے کہا ۔۔
قصور تو صرف میرا ہی ہے یار۔۔۔ واسم نے مدھم سی آواز میں بھجے ہوۓ لہجے میں کہا۔۔۔
پلیز۔۔۔ کومیل نے التجا والے انداز میں کہا۔۔۔
اوکے۔۔۔ واسم نے گہری سانس لے کر کہا۔۔۔
**************
آٶ۔۔۔ آٶ۔۔۔ رکو مت۔۔ واسم جیسے ہی آغا جان کے کمرے میں داخل ہوا تو سامنے سوہا کو دیکھ کر رک گیا تھا۔۔۔
وہ سر جھکاۓ بیٹھی تھی دو ہفتوں میں ہی کمزور اور بیمار سی لگ رہی تھی۔۔۔ واسم کے ماتھے پر ناگواری کے بل آ گۓ تھے۔۔۔
وہ صوفے کہ دوسرے کونے میں آ کر بیٹھا تھا۔۔۔ خونخوار نظر سوہا پر ڈالی تھی۔۔۔
جیسے ہی واسم کمرے میں داخل ہوا تو ساتھ ہی اس ظالم کی خوشبو بھی پورے کمرے میں پھیل گٸ تھی۔۔۔سوہا نے ایک دم سے آنکھیں بند کی تھیں۔۔ ہتھیلی کے زخم پر پھر سے جلن ہونے لگی تھی۔۔۔
واسم ۔۔۔ میں جو بھی کہنے جا رہا ہوں ۔۔۔ بنا بولے سنو گے تم آغا جان نے ٹھہرے سے مگر اپنے مخصوص بارعب لہجے میں کہا۔۔۔
دیکھو جو بھی ہوا۔۔۔ وہ سب کی غلط فہمی تھی۔۔۔ سوہا کی بھی۔۔ آغا جان نے بہت پر سوچ انداز میں کہا۔۔۔وہ بار بار چپ سے ہو رہے تھے۔۔۔
آغا جان اس کی غلط فہمی نہیں تھی ۔۔۔اس نے جان بوجھ کر۔ واسم نے طیش میں آ کر سوہا کی طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔۔
واسم نے ایک دم سے اونچی آواز میں کہا سوہا نے کانپ کر پھر سے آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔۔
واسم میری بات پوری نہیں ہوٸ ابھی۔۔۔ آغا جان بھی اسی انداز میں دھاڑے اور غصیلی آنکھوں سے واسم کی طرف دیکھا۔۔
سوہا نے یہ سب کچھ اپنی غلط فہمی میں کیا۔۔۔ اس کو بھی غلط لگا تھا جیسے ہم سب کو لگا تھا۔۔۔ تصویریں دیکھ کر۔۔ لیکن جب اس کو حقیقت کا پتا لگا۔۔۔ آغا جان اب ذرا سختی سے واسم کو سمجھا رہے تھے۔۔۔
تو تب بھی یہ چپ رہی مجھ سے جھوٹ بولتی رہی۔۔۔ واسم نے دانت پیستے ہوۓ کہا لیکن اس دفعہ آواز آغا جان کے ڈر کی وجہ سے تھوڑی مدھم ہی تھی۔۔۔
۔۔ محبت کرتی تمہیں۔۔آغا جان نے غم اور غصے کے ملے جلے تاثر میں کہا اور بے جان سی بیٹھی سوہا پر ایک نظر ڈالی۔۔۔
ہنہ۔۔۔ محبت۔۔آغا جان آپ اس کو نہیں جانتے میں نے اسے سنا ہےجب یہ کال کرتی تھی مجھے۔۔۔ یہ چاہتی تھی میری نشا سے شادی نہ ہو اور پھر نشاکوبھی میرے لیے اتنا متنفر کر دیا کہ اس نے زبردستی میری شادی اس سے کروا دی۔۔۔ واسم پھر غصے میں اونچی بول رہا تھا۔۔۔
نشا کا جو درد اتنے عرصے میں دھندلہ ہوا تھا۔۔۔ سوہا کی محبت سے اب پھر سے وہ نۓ سرے سے گہرا ہوا تھا۔۔۔
واسم ۔۔۔ آغا جان نے گھور کر دیکھتے ہوۓ واسم کو چپ کروایا تھا۔۔۔
کیونکہ سوہا پھر سے رونے لگی تھی۔۔۔ واسم کی بے رخی اور نفرت دل کاٹ رہی تھی۔۔۔
سوہا جاٶ تم کمرے میں۔۔۔ آغا جان نے اسے روتے دیکھ کر نرم آواز میں کہا۔۔۔
رکو۔۔۔ کہاِں بھلا۔۔۔ واسم کے کمرے میں۔۔۔ آ رہا یہ بھی۔۔ سوہا مریل سے قدم اٹھاتی ابھی دروازے تک پہنچی تھی جب پیچھے سے آغا جان نے با رعب آواز میں کہا۔۔
آغاجان ۔۔ واسم نے تڑپ کر آغا جان کی طرف دیکھا۔۔
سوہا آہستہ سے دروازہ کھولتی ہوٸ کمرے سے چلی گٸ۔۔۔
بس اب اور کچھ نہیں۔۔۔ سوہا کے لیے ایک ڈراٸیور کا انتظام کرو ااسلام آباد میں۔۔۔گاڑی میں بھیج دیتا ہوں اس کے ساتھ ۔۔ اب کمرے میں جاٶ وہ انتظار کر رہی ہو گی۔۔۔ آغا جان نے دو ٹوک الفاظ میں غصے سے بات کی۔۔۔
وہ اگر ضدی اور ہٹ دھرم تھا۔۔۔ تو وہ بھی اس کے دادا تھے۔۔۔
******* *********
کیا ہے یہ۔۔۔ ارسل نے گفٹ پیک کو الٹ پلٹ کرتے ہوۓ سوالیہ نظروں سے پوچھا۔۔۔
کھول کر دیکھیں۔۔۔ نشا نے مسکراہٹ دبا کر لجاٸ سی شکل میں کہا۔۔۔
ارے کس لیے برتھ ڈے تو نہیں ہے میری۔۔۔ ارسل نے حیران سی شکل بنا کر کہا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ کچھ سپشیل ہے۔۔۔ نشا نے شرارت سے نچلے ہونٹ کا کونا دانتوں میں دبایا۔۔۔
اچھا۔۔۔ ارسل نے ہونٹ باہر نکال کر پر شوق نظروں سے گفٹ کو دیکھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔۔۔۔ ابھی دیکھتے ہیں جی۔۔۔ کیا ہے جی ۔۔ ارسل نے گفٹ کھولنا شروع کیا تھا۔۔۔
نشا کی آنکھوں کے کونے خوشی کے آنسوٶں سے گیلے ہو رہے تھے۔۔۔
گفٹ میں ایک واٸٹ کلر کا چھوٹا سا بے بی کھلونا تھا جس کی شرٹ پر لکھا تھا ہیلو ڈیڈی۔۔۔۔
یہ۔۔۔ یہ۔۔۔ ارسل کا جاندار قہقہ فضامیں گونجا تھا۔۔۔ سچ ہے کیا۔۔۔ ارسل کا چہرہ بے یقینی اور خوشگوار حیرت کے ملے جلے اثرات میں کھولا ہوا تھا۔۔۔
نشا نے اپنا منہ ہاتھوں میں چھپا کر ۔۔۔ سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
کیسے۔۔۔ اوہ میرا مطلب کس کے ساتھ گٸ تھی ۔۔۔چیک اپ کے لیے۔۔۔
مما کے ساتھ۔۔۔ نشا کا چہرہ خوشی سے کھل رہا تھا۔۔۔
پھر یہ تو سلیبریٹ کرنا چاہیے۔۔۔ ارسل نے شرارت سے اسے قریب کیا تھا۔۔۔
20
چھوڑیں۔۔۔ پہلے ۔۔ مما جان کو تو بتا کر آٸیں۔۔۔ میں آپکا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ نشا نے کمر سے اس کے ہاتھوں کی گرفت کھولتے ہوۓ خفگی سے کہا۔۔۔
بتا دیتے ہیں بتا دیتے ہیں ۔۔۔ جلدی بھی کیا ہے۔۔۔ ارسل نے مسکراتے ہوۓ اپنا سر نشا کے سر سے جوڑا تھا۔۔۔
ناراض ہو جاٸیں گی آپکی مما جان۔۔۔ نشا نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ میری مما جان۔۔ غور کر لو اپنے لفظوں پر۔۔۔ ارسل نے شرارت سے کہا۔۔۔
چلو پھر چلتے ہیں۔۔۔ پہلے ایک کیک لے کر آتے ہیں وہ مما سے کٹوایں گے۔۔۔ ارسل نے پر جوش ہو کر کہا۔۔۔
جبکہ نشا اس کی خوشی دیکھ دیکھ کر ہی خوش تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: