Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 25

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 25

–**–**–

مما کیسی طبیعت ہے اب۔۔۔ کمرے میں داخل ہو کر سوہا نے بیڈ پر لیٹی عشرت کو دیکھ کر کہا۔۔۔
آغا جان نے اسے واسم کے کمرے میں جانے کے لیے کہا تھالیکن اسے اس دن کے بعد سے واسم کے غصے سے خوف آنے لگا تھا ۔۔ وہ عشرت کے کمرے میں آ گٸ تھی۔۔۔
ہم ۔۔ بہت بہتر ادھر آٶ۔۔۔ میرے پاس۔۔۔ عشرت نے خود کو بازوٶں کے سہارد ے کر بیٹھایا۔۔
واسم آیا ہے۔۔۔ نقاہت بھری آواز میں کہا۔۔۔ اور سوہا کے ہاتھ کو تھام لیا۔۔۔ سوہا سے زیادہ غم تو ان کو لگا ہوا تھا سوہا کا۔۔۔
جی۔۔ گھٹی سی آواز میں سوہا نے مختصر سا جواب دیا۔۔۔
مان گیا۔۔۔ پھیکی سی مسکراہٹ لبوں پر سجا کر عشرت نے پوچھا۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔ سوہا نے درد سے آہ بھری اور ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ عشرت کو دیکھا۔۔۔
مان جاۓ گا۔۔ انھوں نے پیار سے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں لیا۔۔۔
سوہا۔۔۔ ہم جو ہیں نہ عورتیں۔۔۔ عشرت نے پیار سے سوہا کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔ اور اپنی بات شروع کی۔۔
ہم سوچتی ہیں کہ ہم مکمل ہیں اکیلے بھی۔۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔۔۔ انھوں نے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔۔
ہمیں ہر روپ میں مرد چاہیے۔۔۔ باپ۔۔۔ بھاٸ۔۔ خاوند۔۔۔ بیٹا۔۔۔ ان کے بنا ہم جی تو لیتے ہیں لیکن وہ زندگی بہت کٹھن ہوتی ہے۔۔۔ وہ بہت پیار سے اسے سمجھا رہی تھیں۔۔۔
اور وہ غور سے چھوٹی سی بچی کی طرح ان کی بات سن رہی تھی۔۔۔
مجھے دیکھ لو۔۔ تمھارے بابا کے ساتھ جب ناچاقی ہوٸ ہماری شادی کو ابھی تین سال گزرے تھے۔۔۔ میں اس وقت سمجھتی تھی۔۔۔ مجھے اس جیسے مرد کا ساتھ بلکل نہیں چاہیے۔۔۔ میں اس کی لاپرواہی سے تنگ آ گٸ تھی۔۔۔ میں نے اپنی ضد اور انا میں تمھارے بارے میں بھی نہ سوچا۔۔۔ چھوڑ کے چلی آٸ۔۔۔ باپ اور بھاٸ تھے انھوں نے گلے لگا لیا۔۔۔ لیکن آہستہ آہستہ احساس ہوا۔۔ عشرت کی آنکھوں میں پانی آ گیا تھا۔۔
میں اب یہاں وہ حثیت نہیں رکھتی۔۔۔ بھاٸ بھی اچھے تھے سب اچھے لیکن بہت سی باتیں ایسی ہو جاتی تھیں بھابھیوں کے حوالے سے کہ میں چھپ چھپ کر روتی تھی۔۔۔عشرت کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔
سوہا کے آنسو بھی بند توڑ گۓ تھے ۔۔۔ اس نے اتنے عرصے میں پہلی دفعہ اپنی ماں کو روتے دیکھا تھا۔۔
پھر میں سوچتی تھی اس سب ذلت سے تو اچھا تھا میں اکبر کی لاپرواہی کہ ساتھ جی لیتی۔۔۔ پر بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔ انھوں نے اپنے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کیے۔۔۔
یہ مرد ایسے ہی ہوتے ہیں ۔۔۔ ان کی محبت پانے کے لیے عورت کو شادی کے بعد سو جتن بھی کرنے پڑیں تو کم ہیں۔۔۔ شوہر کو بیوی سے سکون چاہیے ہوتا۔۔ ذہنی ۔۔ جسمانی۔۔۔ ہر طرح کا۔۔ عشرت اب سوہا کے گالوں پر سے آنسو صاف کر رہی تھی۔۔۔
جو بیوی اس سے گلے شکوے کرتی رہے۔۔ خود ہی محبت کی طلبگار رہے۔۔ اسے محبت نہ دے۔۔۔ اس کا شوہر اس سے دور ہو جاتا۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ اسے وہ سب بتا رہی تھیں جو اسے خود بہت دیر سے پتا چلا تھا۔۔۔
یہ بہت پیارا رشتہ ہے۔۔ یہاں عورت کا جھکاٶ زیادہ ہو تبھی گھر بنتے۔۔۔ میں جب اکبر سے الگ ہو کر یہاں آٸ تو میں نے نورین اور صاٸمہ کو دیکھا ۔۔۔ زوجیج اور عون ان پر جتنا بھی غصہ کرتے وہ کچھ دیر لڑتیں پھر ان کے آگے پیچھے ہوتی تھیں۔۔۔ میری ماں بہت پہلے مجھے چھوڑ کر چلی گٸ تھیں۔۔۔ مجھے یہ ساری باتیں کسی نے سکھاٸ ہی نہیں تھی کہ شوہر کا درجہ کیا ہوتا ہے۔۔۔ وہ پھر سے رو دی تھیں۔۔۔
لیکن میں تمھارے لیے زندہ ہوں۔۔۔ اپنا گھر ٹوٹنے سے بچا لو سوہا۔۔۔ تمھارا نہ تو باپ یہاں ہے اور نہ کوٸ بھاٸ ہے ۔۔ تم دنیا کی تپتے تھپیڑوں کو اکیلی نہیں سہہ پاٶ گی۔۔۔ وہ اب با قاعدہ سوہا ک گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ ایک دوسرے الگ ہوٸ تھیں۔۔۔ عشرت نے آنسو صاف کیے۔۔
واسم بہت اچھا ہے۔۔۔ وقتی غصہ ہے۔۔۔وہ بلکل آغا جان جیسا ہے۔۔۔ اوپر سے سخت ۔۔ جلد فیصلے کرنے والا۔۔۔ غصہ کرنے والا لیکن اندر سے بلکل آغا جان جیسا ہے۔۔۔ نرم ۔۔۔ خیال کرنے والا رشتے نبھانے والا۔۔۔ وہ اب مسکرا کر کہہ رہی تھیں۔۔۔
سوہا حیران ہو کر انھیں دیکھ رہی تھی۔۔جس شخص نے ان کی بیٹی کو اتنا درد دیا تھا عشرت اب بھی اسی کی تعریف کر رہی تھیں۔۔۔ مشرقی بیٹیوں کا گھر بسانے والی ماٸیں ایسی ہی ہوتی ہیں ۔۔۔ وہ دھیرے سے پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر سوچ رہی تھی۔۔۔
تمہیں اس کے دل میں جگہ بنانی ہو گی اپنی محبت سے صبر سے۔۔۔ وہ پلٹے گا ۔۔۔ مجھے یقین ہے۔۔۔ وہ سوہا کے ماتھے پر لبوں کا بوسہ دے کر بولی تھیں۔۔۔
***************
عشرت کی باتوں کو سوچتے سوچتے رات کا ایک بج گیا تھا۔۔۔ وہ دھیرے سے ننگے پاٶں ٹیرس پر آٸ تھی۔۔۔
لان میں محترم اپنے مخصوص انداز میں سگریٹ نوشی کر رہے تھے۔۔۔ تھکی سی شکل تھی ۔۔ شام کو ہی تو خود ڈراٸیو کر کے آیا تھا۔۔۔ ہاتھوں میں سگریٹ سلگ رہی تھی اور خود پتا نہیں کن سوچوں میں گم تھا۔۔۔
یقینا مجھ پر ظلم کے ہی کوٸ منصوبے سوچ رہیں ہوں گے۔۔ ایک طنزیہ سی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے ایک نظر اپنی ہیتھیلی پر ڈالی تھی۔۔۔ جہاں سگریٹ کے جلنے کا نشان ابھی بھی تھا۔۔۔
ان کو لگتا ہو گا شاٸد میں ان کے کمرے میں ہوں اسی لیے یہاں مچھروں میں بے زار سے بیٹھے ہیں۔۔۔واسم کو بار بار مچھر اڑاتا دیکھ کر سوہا نے سوچا۔۔۔
عشرت کی باتوں نے اسے بہت حوصلہ دیا تھا۔۔۔ وہ جو سمجھی تھی بس سب کچھ ختم ہے اب ایک نیا حوصلہ سا آ گیا تھا۔۔۔
اوپر دیکھیں۔۔۔ واسم کے موباٸل پر اس نے آج دو ہفتے دو دن بعد مسیج کیا تھا۔۔
واسم نے موباٸل جیب سے نکالا تھا اور مسیج پڑھتے ہی فورا اوپر دیکھا۔۔۔
چاندنی رات میں سوہا کو واسم کے چہرے پر ایک دم سے در آنے والی نا گواری صاف نظر آٸ تھی۔۔۔
وہ اپنے مخصوص ڈھیلے ڈھالے سے ٹریوزر میں ملبوس تھی۔۔۔
اپنے کمرے میں جا کر سو جاٸیں۔۔۔ میں وہاں نہیں گٸ تھی۔۔۔ جب دل میں ہی نہیں رہی تو کمرے میں آ کر کیا کروں گی۔۔۔ سوہا نے دھڑکتے دل سے اگلا مسیج کیا تھا۔۔۔
مسیج سنڈ کرنے کے بعد اب وہ ہونٹ کے کونے کو دانتوں میں دباۓ واسم کا ردعمل دیکھنے کی چاہ میں تھی
واسم نے سگریٹ ایش ٹرے میں رگڑا اور فورا اٹھ کراندر کی طرف قدم بڑھا دۓ۔۔۔
سوہا کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گٸ تھی۔۔۔
چلو۔۔۔ اتنا ہی بہت پیا۔۔۔ کہ آپ ہماری بات مانتے ہیں۔۔ اب وہ شرارت سے اگلا مسیج سنڈ کر رہی تھی۔۔۔
واسم اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا جب مسیج ٹون پھر سے سناٸ دی۔۔۔
موباٸل اپنی آنکھوں کے آگے کیا تو ۔۔ حیرانی سے بھنویں اپنی جگہ سے اوپر چلی گٸ تھیں۔۔۔
عجیب بے شرم لڑکی ہے۔۔۔ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی ۔۔۔واسم نے حیرانی سے گردن کھجاٸ۔۔۔
سب اس کے ساتھ ہیں اسی لیے وہ پر سکون ہے اسے کوٸ ڈر ہی نہیں۔۔۔
اب ایسے ہی حیران کھڑے رہیں گے کیا۔۔۔ لیٹ بھی جاٸیں۔۔۔ سوہا نے شرارت سے لبوں کو دانتوں میں لے کر مسیج کیا۔۔ گال کے گڑھے گہرے ہو گۓ تھے۔۔۔اور دل عجیب طرح سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔
واسم اس کے ایک بھی مسیج کا جواب نہیں دے رہا تھا لیکن اس کا ہر مسیج وہ ریڈ کر رہا تھا ریڈنگ ساٸن کا رنگ اسے بتا رہا تھا۔۔۔
واسم نے مسیج کھولا تو ایک دم سے ارد گرد ایسے دیکھا جیسے واقعی سوہا یہیں ہو۔۔۔
جناب یہاں نہیں ہوں۔۔ دل کی آنکھ سے دیکھ رہی ہوں آپکو۔۔ اگلا مسیج پڑھ کر واسم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا تھا۔۔۔
فورا سے فون کیا تھا اس کے نمبر پر۔۔۔
ہیلو ۔۔۔ مدھر سی آواز ابھری تھی سوہا کی۔۔۔
اب اگر ایک بھی مسیج تمھارا آیا ۔۔۔ تو جو کام میں اس دن ادھورا چھوڑ گیا تھا۔۔۔ وہ آ کر اسی وقت بول دوں گا۔۔۔۔ سمجھی تم۔۔واسم نے غرانے کے انداز میں اتنی اونچی کہا کی سوہا نے زور سے ڈر سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔
***************
میں پیچھے بیٹھوں یا آگے۔۔۔ سوہا نے لب کچلتے ہوۓ ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔۔ دل بے چینی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔
کوٸ جواب نہیں آیا۔۔ سیاہ چشمہ آنکھوں پر چڑھاۓ۔۔۔ ماتھے ہر بل ڈالے ۔۔۔ اپنے مخصوص انداز میں گیلے بالوں اور نکھرا سا چہرہ لیے ۔۔ شرٹ کے بازو فولڈ کیے۔۔۔سپاٹ چہرہ لیے وہ سوہا کا سامان صفدر سے گاڑی کے پیچھے رکھوا رہا تھا۔۔
سوہا کا سامان زیادہ تھا گاڑی کی پچلی سیٹ پر بھی رکھنا پڑا ۔۔۔
ہم۔م۔م۔تو مطلب میں آگے بیٹھوں۔۔۔ سوہا نے دل میں سوچا اور گاڑی کی فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھ گٸ۔۔۔
ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھے واسم پر ڈالی جو اس سے ایسے لاپرواہ تھا جیسے کہ وہ ہو ہی نہ۔۔۔ جبکہ وہ آج ایسے تیار ہوٸ تھی جیسے نی نویلی دلہنیں ہوتی ہیں۔۔۔ رشیمی سرخ رنگ کا نازک سا جوڑا جس پر سیاہ موتی اور کٹ ورک کا کام تھا زیب تن کیے۔۔۔ سرخ لپ سٹک سے بھرے بھرے لبوں کو رنگ کر۔۔۔ بال کندھوں پر بکھرا کر وہ پوری طرح واسم پر بجلیاں گرانے کا سامان کر کے آٸ تھی۔۔ لیکن وہ اس پر نظر ڈالے تو تب نہ۔۔
گاڑی میں مکمل خاموشی سوہا کو ہولناک سی لگ رہی تھی۔لیکن واسم کے چہرے پر غصے کے آثار نے جان خشک کر رکھی تھی۔۔۔ ایسا نہ ہو میری کوٸ بھی بات ان کو غصہ دلا دے اور یہ۔۔۔ افف ۔ نہیں۔۔۔ اللہ نہ کرے واسم کبھی مجھے چھوڑیں۔۔
اسے عشرت کی ساری باتیں یاد آنے لگی تھیں۔۔۔
وہ اسلا م آباد کے لیے نکل رہے تھے۔۔واسم عشرت سے ملنے نہیں گیا تھا۔۔۔ وہ ان کا سامنا کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔۔ اپنے غصے کی وجہ سے جو جانگلیوں جیسا سلوک اس نے ان کی لاڈلی بیٹی کے ساتھ کیا تھا۔۔۔ وہ کیسے ان کا سامناکر لیتا۔۔۔ اس دن اسے صرف سوہا ایک ہی روپ میں نظر آٸ تھی۔۔۔ ڈاٸن۔۔۔ جو اس کی ہر خوشی کھا گٸ تھی۔۔۔ لیکن بعد میں احساس ہوا اس نے کتنا وحشیانہ سلوک کیا تھا اس کے ساتھ۔۔۔
21
ایک تو واسم گاڑی اتنی آرام سے چلا رہا تھا دوسرا ٹنیشن میں سوہا کو ہمیشہ نیند آتی تھی۔۔۔ اسے کوٸ خبر نہ ہوٸ کب وہ سر جھکاۓ جھکاۓ سو گٸ تھی۔۔۔
گاڑی چلاتے چلاتے ایک دم محسوس ہوا سوہا اس کی طرف زیادہ ڈھلک رہی ہے۔۔۔
رخ موڑ کر دیکھا تو وہ بلا کی معصومیت چہرٕے پر سجاۓ بے خبر سو رہی تھی۔۔۔ ایک لمحے کے لیے تو اس کے ہوش ربا حسن نے ساکت سا کیا تھا۔۔۔
کیا بنایا ہے اللہ نے اس لڑکی کو ۔۔ کوٸ اس کی شکل دیکھ کر پہچان ہی نہیں سکتا کہ یہ اتنی شاطر ہے۔۔۔ واسم کے چہر ے پر پھر سے ناگواری در آٸ تھی۔۔۔
اس نے پھر سے نظریں سامنے سڑک پر گاڑ دی تھیں۔۔۔
********************
واسم مت کریں ایسا ۔۔۔ پلیز۔۔۔۔واسم۔۔۔
واسم اس کے منہ پر تکیہ رکھے ہوۓ تھا۔۔۔
سوہا کا سانس بند ہونے کو تھا۔۔۔ سارا جسم پسینے سے شرابور تھا۔۔۔ لیکن واسم اس کے تڑپنے سے بلکل لا پرواہ اس کے منہ پر تکیہ رکھے اس کا سانس بند کر رہا تھا۔۔۔
سوہا زور زور سے ٹانگیں مار رہی تھی۔۔۔
تمہیں مار دوں گا میں ۔۔۔ تم نے میری زندگی برباد کردی آکسیجن ختم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ سوہا کا دم گھٹ رہا تھا۔۔ اب تو آواز بھی نہیں نکل رہی تھی۔۔۔
اس نے اپنی پوری قوت لگانی چاہی لیکن واسم کا وزن بہت زیادہ تھا۔۔۔
سوہا نے زور کی چیخ ماری تھی۔۔۔ ایک دم سے اس کی آنکھ کھلی تھی۔۔۔ وہ بند گاڑی میں پسینے سے شرابور تھی۔۔۔ گاڑی کسی گھر کے پورچ میں کھڑی تھی۔۔۔ شیشے بند تھے۔۔۔
سوہا نے اپنی بند ہوتی سانسوں کو بحال کرتے ہوۓ فورا گاڑی کا شیشہ کھولا تھا۔۔۔
ایک دم سے جیسے آکسیجن ملنے سے اس کی سانس بحال ہوٸ تھی۔۔۔ وہ بری طرح سانس لے رہی تھی۔۔۔ اور خواب اتنا بھیانک تھا کہ اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔۔۔ واسم نے اسے اٹھانا تک گوارا نہیں کیا تھا۔۔۔ اور گاڑی کے شیشے بھی بند تھے۔۔۔
سوہا نے پسینے سے شرابور جسم کو دیکھا۔۔۔ پتہ نہیں وہ کتنی دیر سے ایسے سوٸ ہوٸ تھی۔۔۔
آہستہ سے وہ گاڑی سے باہر نکلی تھی۔۔۔ اور قدم اٹھاتی وہ اندرداخل ہوٸ تھی۔۔۔ داخل ہوتے ہی بڑا سا کاریڈور تھا جس کی دیواریں مختلف تصویروں سے مزین تھیں۔۔
وہ کاریڈور سے جیسے جیسے گز کر آگے آ رہی تھی ٹی وہ چلنے کی آواز اور روشنی تیز ہو رہی تھی۔۔۔
جیسے ہی کاریڈور ختم ہوا تھا ایک بڑا سا لیونگ روم تھا جہاں واسم بیٹھا تھا۔۔۔
واسم بہت مزے سے ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔وہ ایسے بیٹھا تھا جیسے وہ یہاں موجود ہی نہ ہو۔۔۔ اب بھی جب وہ اندر داخل ہوٸ اس نے ایک نظر بھی ڈالنا گوارا نہیں کیا تھا۔۔۔
سوہا لاونج کے مین دروازے میں کھڑی زور زور سے سانس لے رہی تھی۔۔۔
کیا اتنی نفرت ہے اسے مجھ سے ۔۔۔ اسے کوٸ احساس نہیں تھا اگر میں مر جاتی۔۔۔ سوہا کی آنکھوں میں پانی آ گیا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: