Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 26

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 26

–**–**–

آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں۔۔سوہا تیز تیز قدم اٹھاتی واسم کے قریب آٸ تھی۔۔۔ اور اب اس کے سر پر کھڑے ہو کر آنسو میں بھاری ہوٸ آواز میں چیخ کر کہا۔۔۔
لیکن وہ ہنوز بے نیاز ٹس سے مس نہ ہوا۔۔۔ بلکہ ریموٹ اٹھا کےٹی وی کی آواز اونچی کردی۔۔۔
آپ ۔۔۔ آپ۔۔۔ اٹھا بھی تو سکتے تھے مجھے۔۔۔ وہ روہانسی آواز میں کہتی ہوٸ بلکل پاس صوفے پر بیٹھ گٸ۔۔۔ چہرہ بچوں کی طرح غصےوالا تھا۔۔۔
واسم نے لبوں پر زبان پھیری اور بے نیازی سے ٹی وی کا سٹیشن ہی بدل ڈالا۔۔۔
آپ سے بات کر رہی میں۔۔۔ سوہا نے اب دانت پیس کر کہا۔۔۔
لیکن میں تم سے بات نہیں کر رہا تمہیں سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔ بڑے آرام سے جواب ملا۔۔۔ لیکن سوہا کی طرف دیکھا تب بھی نہیں۔۔۔ معصوم شکل کے سحر سے خود کو بچانا چاہتا تھا وہ۔۔۔
بات نہ کرتے پراٹھا تو دیتے۔۔۔ سوہا نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔۔۔ غصہ ہی اتنا تھا۔۔۔
تم جب کار میں تھی میں نے بات کی تم سے۔۔ واسم نے آرام سے کہا۔۔۔
نہیں۔۔۔ گھٹی سی آواز میں سوہا نے کہا۔۔۔
میں نے تمہیں کہا تھا سو جاٶ ۔۔۔ اگلا سوال بھی اسی انداز میں کیا۔۔۔
نہیں ۔۔۔ پر۔۔۔ سوہا نے چڑ کر کہا۔۔۔اسے واسم کے انداز سے عجیب سا ہو رہا تھا۔۔۔ ہاں ان کو غصہ ہے وہ مانتی تھی۔۔۔ لیکن یہ نہیں کہ وہ ایسی لا پرواہی کریں گے۔۔۔۔۔
تو میں کیوں اٹھاتا۔۔۔ تم صرف آغا جان کے کہنے پر یہاں ہو ۔۔۔ پڑھنے آٸ ہو۔۔۔ میرے ساتھ کاغز کے رشتے سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔۔۔ تم میرے کام میں دخل نہیں دو گی میں تمھارے کام میں۔۔۔ بڑے ٹھہرے ٹھہرے مگر سخت لہجے میں کہا۔۔۔
اور اب اٹھو یہاں سے ۔۔۔ ملازم ہے گھر میں۔۔۔ تھوڑی آہستہ آواز میں کہا۔۔۔
سوہا نے ایک دم سے جاٸزہ لیا وہ واقعی بلکل پاس بیٹھی تھی۔۔۔
نہیں اٹھتی۔۔ خفا سی شکل بنا کر کہا۔۔۔ واسم کا غصہ نہ کرنا تھوڑا حوصلہ بڑھا گیا تھا۔۔۔
سوہا۔۔۔ واسم نے غرانے کے انداز میں آواز آہستہ رکھ کر کہا۔۔۔
آپ کے لیے تو میں یہاں موجود ہی نہیں۔۔۔ تو آپ یہی سمجھیں نہ کہ میں ہوں ہی نہیں۔۔۔ بڑے آرام میں ہنوز اس کے انداز میں اسے کہا ۔۔اور ایک بھر پور نظر واسم پر ڈالی۔۔
کیا تھا وہ۔۔۔جادوگر۔۔۔ ساحر۔۔۔یا پھر طلسم پھونک دینے والا۔۔۔ سارا غصہ ہوا ہو گیا تھا۔۔۔ وہ اب ضبط کرنے کے چکر میں دانت پیسے ہوۓ تھا۔۔۔ ہلکی سی نیلے رنگ کی ٹی شرٹ پہنے ۔۔ بال مخصوص انداز میں سوکھ کر بکھر سے گۓ تھے۔۔۔ آنکھیں ویسی ہی تھی تھکی سی۔۔۔شکل پر بے زاری تھی اور لبوں پر تو وہ جان لیوا مسکراہٹ اس نے شادی کے دن کے بعد سے دیکھی ہی نہ تھی۔۔۔
اچھا۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔ واسم نے بڑے آرام سے کہتے ہوۓ سامنے پڑی سگریٹ کی ڈبیہ اٹھاٸ اس میں سے سگریٹ نکالی۔۔۔
سوہا ایک دم سے ڈر کر اٹھی تھی۔۔۔ اس دن کی تکلیف فورا یادآ گٸ تھی۔۔۔
وہ سامنے کمرہ تمھارا۔۔۔ لاونج میں کمروں کے کھلنے والے دروازوں میں سے ایک دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ واسم نے کہا۔۔۔
میرے بیگ کچھ یاد آنے پر وہ مڑی تھی۔۔۔
اور میرے بیگ سارے اتنے بھاری ہیں میں کیسے ۔۔۔ سوہا نے روہانسی آواز میں کہنا شروع کیا تھا۔۔۔
وہ سارے رکھ دیۓ میں نے۔۔۔چڑ کر کہا۔۔۔ وہ جتنا جان چھڑا رہا تھا وہ اتنی ہی بات کر رہی تھی۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا اسے غصہ آۓ ۔۔۔
سوہا ارد گردکا جاٸزہ لیتی اب کمرے کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔ کچن میں کوٸ تھا جو کام کر کر رہا تھا برتنوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔
بہت خوبصورت گھر تھا۔۔وہ ارد گرد دیکھتی اب کمرے میں جا چکی تھی۔۔۔۔
جیدی بھاٸ کھانا لگا دیں۔۔۔ عقب سے واسم کی آواز سناٸ دی شاٸد وہ ملازم سے کہہ رہا تھا۔۔۔
*************
دیکھو۔۔۔ اب اس حالت میں اتنے چکر لگاتی ہے میکے کے۔۔۔صدف نے ساڑھی کا پلو کندھے پر سیٹ کرتے ہوۓ کہا۔۔
ڈاکٹر نے بھی منع کیا ہے۔۔۔ صدف نے ہاتھ کے اشارے سے ارسل کو بیٹھنے کا کہا۔۔
مما تو آپ منع کر دیا کریں ۔۔۔ ارسل نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کان کھجاتے ہوۓ کہا۔۔
ارے ۔۔ مجھ سے کہاں پوچھتی ہے ۔ صدف نے ناگواری سے ہاتھ ہوا میں چلایا۔۔۔۔
عادل کو بلاتی ہےاور چلی جاتی ہے۔۔ ناک چڑھا کر کہا۔۔۔
ارسل آفس سے واپس آ کر پہلے صدف کے کمرے میں گیا تھا۔۔۔ وہ ہمیشہ سے ایسے ہی کرتا تھا۔۔۔ پہلے آتے ہی وہ صدف کے کمرے میں جاتایا پھر کہیں بھی وہ ہوتی پہلے وہ وہاں جاتا تھا۔۔
کیا مطلب۔۔۔ ارسل نے بھنویں اچکا کر حیران ہو کر پوچھا۔۔۔
ہاں ۔۔۔ خود پوچھ لو اس سے۔۔۔ وہ بڑی خفا سی شکل بنا کر گویا ہوٸ۔۔۔
مما عادل کے ساتھ چلی جاتی ہے اس میں تو کوٸ مسٸلہ نہیں کم از کم آپ سے تو پوچھ لیا کرے۔ ارسل تھوڑا دھیمے لہجے میں سر جھکا کر بولا۔۔
میں بات کرتا ہوں نشا سے۔۔۔۔ارسل نے کوٹ بازو میں ڈال کر کہا۔۔۔
ارے بیٹا۔۔۔۔چھوڑو ۔۔۔ بس سمجھا دینا تھوڑا سختی سے میری تو کوٸ بات نہیں سنتی شروع کے دن ہیں احتیاط کرے ۔۔۔ صدف نے شاطر سی شکل بنا کر کہا۔۔۔
جی مما جان۔۔۔ آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔ ارسل نے دروازے سے نکلتے نکلتے تھوڑا سا رخ موڑ کر کہا اور باہر نکل گیا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ شاباش۔۔۔ صرف کے چہرے پر کمینی سی مسکراہٹ در آٸ تھی۔۔۔
نشا۔۔ ادھر آو۔۔ واسم نے الماری میں اس کا کوٹ رکھتی نشا کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ مسکراتی ہوٸ پلٹی تھی۔۔۔ وہ آج کل ویسے بھی بہت خوش رہتی تھی۔۔ صدف کا رویہ بھی اس کے ساتھ بہت اچھا تھا۔۔۔بچے کی بھی خوشی تھی اور اب تو عادل سے بھی کافی اچھی بات چیت ہو جاتی تھی ۔۔ وہ بھی بھابھی بھابھی کرتا آگے پیچھے پھرتا تھا۔۔۔ اور ارسل تو ویسے بھی بے پناہ محبت کرتا تھا اس سے۔۔۔
جی۔۔۔ وہ بیڈ پر پاس بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔۔
طبیعت کیسی ہے۔۔۔ ارسل نے مسکرا کر کہا۔۔۔
ٹھیک نہیں ہوں۔۔۔ تھکاوٹ کا بہت احساس ہوتا ہے۔۔۔ نشا نے لاڈ سے کہا ۔۔۔
تو ریسٹ کیا کرو نہ کیوں پھرتی رہتی ہو۔۔۔ ارسل نے محبت سے ہاتھ پکڑ کر اپنا ہاتھ اوپر رکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
میں کب پھرتی ہوں۔۔۔ حیران سی شکل بنا کر ارسل کی طرف دیکھا۔۔۔
اپنی مما کی طرف گٸ تھی آج بھی۔۔۔ ارسل نے تھوڑی سنجیدہ سی شکل بنا کر لب بھینچتے ہوۓ کہا۔۔
ہاں مگر وہ تو۔۔۔ نشا نے کچھ بتانا چاہا۔۔۔
کیونکہ اسے تو خودصدف نے کہا تھا جاٶ اداس لگ رہی ہو عادل کے ساتھ جا کر اپنے میکے کا چکر لگا آٶ۔۔۔
مت جاٶ نہ ابھی کچھ دن۔۔۔ اپنا اور اس کا خیال رکھو۔۔۔ ارسل نے اس کی بات کاٹتے ہوۓ محبت سے کہا۔۔۔
مجھے تم دونوں بہت پیارے ہو۔۔۔ ارسل نے نشا کی گال پر ہاتھ رکھ کر محبت پاش نظروں سے دیکھا۔۔۔
وہ ایسا ہی تھا۔۔۔ ہر وقت اس پر پیار نچھاور کرنے والا ہر بات محبت سے سمجھانے والا۔۔۔ نشا نے تشکر بھری نظروں سے ارسل کو دیکھا۔۔۔
اور مجھے آپ۔۔۔ ارسل کی ناک کو پیار سے پکڑتے ہوۓ ۔۔ شرارت سے کہا۔۔۔
ہاۓ ۔۔۔ یہ ادا۔۔۔ارسل نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔ کمرے میں پھر سے قہقے گونج رہے تھے۔۔۔
اور باہر کھڑی صدف کے تن بدن میں آگ لگ گٸ تھی۔۔۔ وہ آگ جو اندر لگانا چاہتی تھی وہ اس کے اندر تھی۔۔۔
**************
بی بی جی۔۔۔ باہر آ کر کھانا کھا لیں ۔۔۔ کمرے کے بند دروازے کے پیچھے سے آنے والی آواز پر اس نے چونک کر سر اٹھایا تھا۔۔۔
وہ ابھی کپڑے تبدیل کرنے کے بعد کمرے کی مختلف چیزوں کا جاٸزہ لے رہی تھی جب اسے آواز آٸ۔۔۔
یہ یقنا جیدی ہی ہوگا۔۔۔ جس کو واسم کھانا لگانے کا کہہ رہا تھا۔۔۔
دوپٹے کو اٹھا کر کندھے پر لٹکاتے ہوۓ وہ باہر نکلی تھی۔۔۔ بڑے سے لاونج کے ایک طرف کھانے کا میز تھا جس پر واسم بیٹھا تھا آگے کھانا لگا تھا۔۔۔
اور ایک داڑھی والا کالے سے رنگ کا آدمی برتن میز پر لگا رہا تھا۔۔۔
ساتھ ایک عورت بھی تھی جو اس کی مدد کر رہی تھی۔۔۔
سوہا خراماں خراماں چلتی میز تک آٸ تھی۔۔۔ اور ایک کرسی نکال کر بیٹھی تھی۔۔۔
سلام بی بی۔۔۔ وہ عورت اپنی پوری بتیسی نکال کر اسے پرشوق نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
واسم نے اس کے آتے ہی خاموشی سے کھانا شروع کر دیا تھا۔۔۔
لیکن وہ تو کچھ اور ہی دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔ وہ جیدی نامی آدمی۔۔۔اسے کیوں بہت جانا پہچانا لگ رہا تھا۔۔۔
وہ پلیٹ میں چاول نکالتے ہوۓ بار بار اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
کون ہے یہ۔۔۔ اپنے ذہن پر مسلسل زور دیتے ہوۓ ۔۔۔ اس کے چہرہ اوپر اٹھانے پر جب اس نے آنکھیں اوپر کیں۔۔۔ وہ کانپ گٸ تھی۔۔۔
وہ جاوید تھا۔۔۔ اس کی چچی کا بھاٸ۔۔۔ دو سال پہلے بابا نے سرسری سا ذکر کیا تھا کہ چچا نے کسی بات کی بنا پر اسے دھکے مار کر گھر سے نکال دیا تھا۔۔۔ چچی کے ماں باپ نہیں تھے۔۔۔ وہ اپنے چھوٹے بھاٸ کو ساتھ لے آٸ تھیں۔۔۔ لیکن وہ اوباش خصلت رکھنے والا لڑکا تھا۔۔۔ بچپن میں اسے بھی تنگ کرتا تھا۔۔۔ وہ کیونکہ چچی کے رحم و کرم پر ہوتی تھی۔۔۔ اس لیے وہ شکاٸت لگاتی بھی تو کس کو۔۔۔ اور پھر ایک دن اس کی زیادہ جسارت پر سوہا نے اس کی آنکھ گلدان سے پھوڑ ڈالی تھی۔۔۔اس کی وہ آنکھ آج بھی خراب تھی۔۔ اس کے بعد وہ تو بابا کے آنے پر ان کے ساتھ آ گٸ تھی۔۔۔ لیکن گھر میں بہت شور ہوا تھا۔۔ جاوید نے سارا الزام اس پر دھر دیا تھا اور اس کی بات پر کسی نہ بھی یقین نہیں کیا تھا۔۔ ہاں اکبر کو تھوڑا ڈر لگا تھا اسی لیے وہ پاکستان آ کر اسے اپنے ساتھ لے گۓ تھے۔۔۔
سوہا سے کھانا نگلنا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔ جاوید اور عورت ایک طرف ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔۔۔ جاوید اس پر ایک دو بار گندی سی نظر ڈال چکا تھا۔۔۔ لیکن شاٸد وہ ابھی پہچان نہیں سکا تھا اسے۔۔۔
یہ کہیں پہچان نہ لے۔۔۔ سوہا کا دل کانپ گیا تھا۔۔۔
کیونکہ جب اس نے اسکی آنکھ پھوڑی تھی تو کچھ دن وہ ڈر کر کمرے میں بندرہی تھی۔۔۔ وہ چیختا تھا اور کہتا تھا میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔۔۔
سوہا نے ماتھے پر آۓ پسینے کے قطرے صاف کیے۔۔۔ اور چمچ پلیٹ میں واپس رکھ دیا۔۔۔
21
واسم اپنے مخصوص انداز میں سلیقے سے کھانا کھانے میں مصروف تھا۔۔۔
وہ عورت بس بتیسی نکالے اس کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔ اور اس کے ساتھ کھڑا جاوید خوف دلا رہا تھا اسے وہ دھیرے سے کرسی پیچھے کر کے اٹھی تھی اور پھر تیزی سے کمرے میں چلی گٸ تھی۔۔۔
یہ لوگ رات کو ادھر تھے مطلب یہ اس گھر میں ہی رہتے تھے۔۔۔ وہ بے چینی سے کمرے کے ایک کونے سے دوسرے کونے کا چکر لگا رہی تھی۔۔۔
واسم کو بتاٶں۔۔ نہیں ۔۔۔ ان کو کیا یقین اور وہ مجھ سے بات ہی کب کرتے۔۔۔
اسے خوف سا آنے لگا تھا۔۔ انھیں سوچوں میں گم تھی جب دروازے پردستک ہوٸ ۔۔۔
وہ ایک دم چونکی تھی۔۔۔
کون۔۔۔ آواز میں عجیب سا ڈر در آیا تھا۔۔۔
بی بی جی میں ہوں عزرا۔۔۔بند دروازے کے پیچھے سے آواز آٸ۔۔۔
سوہا نے دوپٹے سے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔۔۔
جی۔۔۔ اس نے دروازہ کھولا۔۔۔
وہ عورت پھر اسی انداز میں سارے دانتوں کی نماٸش کرتی ہوٸ کھڑی تھی۔۔
بی بی جی کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیں ۔۔۔ ابھی ہم سرونٹ کواٹر جا رہے۔۔۔ وہ پر شوق نظروں سے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھ رہی تھی۔۔۔
نہ۔۔۔نہیں ۔۔۔ کچھ نہیں چاہیے۔۔۔ سوہا نے لب منہ کے اندر لے جاتے ہوۓ کہا۔۔۔
سنو کیا لگتا تمھارا۔۔۔ وہ جو آدمی ہے باہر۔۔۔ لب کچلتے ہوۓ کہا۔۔۔
بی بی۔۔۔ میرا خاوند ہے جی۔۔۔ میں کھانا پکاتی ہوں اور وہ صفاٸ ستھراٸ کرتا ہے۔۔۔
پر اب صاحب جی اسے اور بھی کام دے رہے شاٸد آپکو چھوڑ کر آنا اور لے کر آنا۔۔۔ عورت بڑی خوشی سے بتا رہی تھی۔۔۔
سوہا کہ دل اچھل کر حلق میں آ گیا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: