Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 27

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 27

–**–**–

میں کیسے جاٶں گی آج۔۔۔ سوہا نے نظر ارد گرد دوڑاتے ہوۓ کمرے کا جاٸزہ لیتے ہوۓ کہا۔۔۔ واہ ہر چیز کمال تھی۔۔۔ فرنیچر سے لے کر کمرے کی دیواروں پر میزین تصاویر تک۔۔۔
واسم بنک جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا جب وہ اس کے کمرے میں آٸ تھی۔۔۔ وہ ینورسٹی کے لیے تیار کھڑی تھی۔۔۔
ساری رات ٹھیک سے نیند نہیں آٸ تھی۔۔۔ عجیب سی سوچیں نٸ جگہ۔۔۔ واسم کی ناراضگی۔۔۔ عشرت کی باتیں۔۔۔آغا جان کے وعدے۔۔۔ صاٸمہ کی التجاٸیں۔۔۔ کومیل بھاٸ کی نصحتیں۔۔۔ میرب اور محب کے فضول دل جیتنے کے مشورے ۔۔۔ جاوید کا خوف ۔۔۔ کتنا کچھ دماغ میں گھومتا ہی رہا بس۔۔۔
اب وہ تھکا تھکا سا چہرہ لیے اپنے مخصوص انداز میں بالوں کو اونچی پونی میں جکڑے سادہ سے چہرے کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔
واسم نے کوٸ جواب نہیں دیا تھا۔۔۔ سنگہار میز کے آگے کھڑا وہ ٹاٸ لگا رہا تھا۔۔۔ سینٹ کی بارش شاٸد پہلے ہی کر چکا تھا خود پر اس لیے پورا کمرہ مہک رہا تھا۔۔۔ وہ تو بڑا تازہ دم لگ رہا تھا۔۔۔ پوری رات جیسے سکون سے سویا ہو۔۔۔
پوری رات بھی سر پر سورا ہی رہی تھی۔۔۔ بار بار ذہن میں یہی آتا رہا۔۔۔ وہ صیح کہہ رہی تھی اگر اسے کچھ ہو جاتا تو۔۔۔ پتہ نہیں غصے میں دماغ کیوں گھوم سا جاتا تھا۔۔۔ ساری رات وہ یہی سوچوں میں رہا خود کو سمجھاتا رہا اسے بس اگنور کرنا ہے۔۔۔ غصہ نہیں کرنا ہے۔۔۔لیکن اب صبح ہوتے ہی پھر سر پر سوار تھی۔۔۔ اپنے اوپر پورا ضبط کیا۔۔۔
کچھ دن میرے ساتھ پھر گاڑی آ جاۓ گی تمھاری پھر جیدی پک ان ڈراپ کرے گا۔۔۔ بارعب اور دو ٹوک انداز میں کہا۔۔۔ اور ایک اچٹتی سی نظر آٸنے میں نظر آتے اس کے عکس پر ڈالی تھی۔۔۔
ہلکے سے سرمٸ جوڑے میں۔۔۔ دھلے شفاف چہرے کے ساتھ ۔۔ پریشانی چہرے پر سجاۓ کھڑی تھی۔۔۔ یہی سزا ہے تمھاری اب ساری زندگی یونہی پریشان حال رہو گی تم۔۔۔ تمہیں واقعی اگر چھوڑ دیتا تو یہ کم سزا ہوتی تمھارے لیے ۔۔۔طنزیہ سی مسکراہٹ واسم کے ہونٹوں پر در آٸ تھی۔۔۔
وہ ۔۔ میرا مطلب ہے وہ کیا ڈراٸیور ہے۔۔۔ سوہا پہلے کچھ کہنے لگی پھر لب کچلتے ہوۓ بات بدل دی۔۔۔
نہیں۔۔۔ پہلے جہاں تھا وہاں ڈراٸیور ہی تھا ۔۔ واسم نے بھنویں اچکا کر اس کی بات کو عجیب گردانا۔۔۔
اسکی تو آنکھ۔۔۔ سوہا نے پریشان سی شکل بنا کر اچانک زبان سے پھسل جانے والے الفاظ ادا کیے۔۔۔
آنکھ پر چوٹ ہے اس کے لیکن نظر ٹھیک ہے اس کی ۔۔۔ اندھا نہیں وہ۔۔۔ واسم نے اس کی عجیب سی بحث پر ماتھے پر بل ڈال کر غصے میں کہا۔۔۔
چلو یہاں سے میں آ رہا ہوں۔۔۔ تھوڑا ڈانٹنے کے انداز میں کہا۔۔۔۔
**************************
اسلام علیکم۔۔۔ ارحم نے جاندارمسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا۔۔۔ وہ بہت دنوں سے اسے تلاش کر رہا تھا جب سے ناٸل نے بتایا تھا کہ اس نے بھی اسی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا ہے۔۔۔
اور آج اسے دیکھ کر بہت خوشگوار حیرت ہوٸ تھی۔۔۔ وہ بڑے پرجوش انداز میں سوہا کے پاس آیا تھا۔۔۔
و۔۔علیکم۔۔۔۔سلام۔۔۔۔ سوہا نے خوشگوار حیرت سے ۔۔۔ پاس کھڑے ارحم کو دیکھا ۔
اس کا آج پہلا دن تھا یونیورسٹی میں وہ منہ بسورے اکیلی بیٹھی تھی جب ارحم نے آ کر اسے سلام کیا آج اتنے سالوں بعد اسے دیکھ کر خشگوار حیرت ہوٸ ۔۔۔
تم یہاں۔۔۔ وہ ایک دم سے چہک اٹھی تھی۔۔۔
جی۔۔۔ ناٸل نے بتایا تھا مجھے ۔۔۔ کہ سوہا نے ایڈمیشن لیا ہے یہاں۔۔۔ وہ بھی اسی انداز میں چہک کر بولا۔۔
تمھاری ناٸل سے ہے بات چیت ۔۔۔ سوالیہ سے انداز میں جھجھکتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
وہ حیران ہوٸ تھی۔۔۔ کیونکہ پھپو کا تو رضا ماموں نے آنا جانا بند کیا ہوا تھا ۔۔ اظہر چاچو کی طرف بھی۔۔۔
جی پھپھو نہیں آتی لیکن میں تو جا سکتا ہوں نہ۔۔۔ارحم نے لب بھینچ کر کہا۔۔۔ اور جیسے آپکے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے ہیلو ہاۓ رہتی ویسے اس کے ساتھ ۔۔۔ وہ مسکرا کر گویا ہوا تھا۔۔
شادی کی بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ بڑے جوش میں کہا۔۔۔
آہ۔۔۔ شکریہ۔۔۔ سوہا نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا۔۔
بہت زبردست ہیں ۔۔۔ واسم بھاٸ۔ ۔۔۔ رضا پھو پھا جیسے ہی لگتے۔۔۔ ارحم نے مسکراہٹ دبا کر شرارت سے کہا۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔ سوہا کے دل میں عجیب سی ٹیس اٹھی۔۔۔ بس اس زبردست شخص کی زندگی میں زبردستی ہی گھسی بیٹھی ہوں ۔۔ سوہا کی شکل پر ایک دم سے اداسی در آٸ تھی۔۔۔
تم سناٶ ۔۔چاچو اور چچی کیسے۔۔۔ سوہا نے گہری سانس لے کر بات بدلی۔۔۔
اور تمھارے وہ ماموں۔۔۔ تھوڑا جھجکتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
مما بابا ٹھیک ہیں ۔۔۔آٸیں نہ کبھی آپ گھر۔۔۔ ماموں یہیں ہوتے ہیں کہیں بس یہی پتہ ہے مجھے۔۔۔ اس سے زیادہ نہیں۔۔۔ ان کے ساتھ کوٸ رابطہ نہیں ہمارا۔۔۔ امی کو ہی فون آ جاتا کبھی کبھار۔۔۔ ارحم نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوۓ کہا۔۔
ایک بات پوچھوں۔۔۔ سوہا نے خجل سی ہو کر لب کو دانتوں میں کچلا۔۔۔
جی۔۔۔ پوچھیں ۔۔۔ ارحم اس کے انداز پر حیران سا ہوا تھا۔۔۔
کیا کیا تھا ۔۔۔ تمھارے ماموں نے۔۔۔ چچا نے کیوں نکال دیا۔۔۔ سوہا نے جھجھکتے ہوۓ سوال کیا۔۔۔ جو بھی تھا ہے تو اس کی ماں کا بھاٸ ہی تھا۔۔۔۔
اسے عشرت سے ہی پتہ چلا تھا اسے کہ اکبر اور عشرت کے درمیان ناچاقی کو بڑھانے اور اختلاف پیدا کرنے میں اس کی چچی کا بہت ہاتھ تھا۔۔۔ اور ان کا بھاٸ ان سے بھی دو ہاتھ اوپر تھا۔۔۔
کسی لڑکی کا ہی چکر تھا۔۔۔ محلے کی لڑکی کے ساتھ۔۔ وہ بات کرتے کرتے تھوڑا شرمندہ سا ہو کر رک گیا تھا۔۔۔
اوکے۔۔۔ اوکے۔۔۔ مت بتاٶ۔۔۔ سوہا کے دل میں عجیب سا خوف امڈ آیا تھا۔۔۔
کیا پڑھ رہے ہو ۔۔۔تم اسی سال لیا تھا کیا ایڈمیشن۔۔۔ سوہا نے اس کی شرمندگی ختم کرنے کو بات بدل دی تھی۔۔۔
جی۔۔۔اور آپ بہت لیٹ آٸ ہیں جناب یونیورسٹی میں۔۔۔ وہ پریشان سا ہو کر بولا۔۔۔
معلوم ہے لیکن ۔۔ میں نے بہت کچھ پڑھا ہوا پہلے ۔۔۔ میں کور کر لوں گی۔۔۔۔ اس کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی وہ چل رہی تھی۔۔۔
دونوں باتیں کرتے ہوۓ گیٹ کی طرف جا رہے تھے۔۔۔
***************
تم ڈھنگ سے کوٸ کام نہ کرنا۔۔۔ صدف نے دانت پیستے ہوۓ خونخوار نظروں سے عادل کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔
ارے ۔۔آنٹی آپ کیوں ایسا چاہتی۔۔۔ ہر لحاظ سے تو اچھی ہے۔۔۔ عادل نے بے زار سی شکل بنا کر کہا۔۔۔
اچھے خاندان کی ہے۔۔۔ آپ کی بھی اتنی عزت کرتی۔۔۔ عادل کو اب صدف کی یہ گیم بے کار لگنے لگی تھی کیونکہ نشا ایک باکردار اور صرف اور صرف ارسل سے محبت کرنے والی باوفا بیوی تھی۔۔۔ اور نشا اس کو اتنی عزت دیتی تھی کہ عادل کے دل میں اس کا احترام خود با خود بن گیا تھا۔۔۔
وہ یہ سب صدف کے احسانات کے تلے دب کر کر رہا تھا۔۔ وہ اسے ہر طرح سے سپورٹ کرتی تھیں۔۔۔ وہ ان کی غریب دوست کا بیٹا تھا جسے انھوں نے بچپن سے ہی پڑھا لکھا کر اور پیسہ دے دے کر عیاشی کا عادی بنا رکھا تھا۔۔۔
لیکن میرے بیٹے کے دل کی ملکہ ہے وہ۔۔۔ صدف نے ماتھے پر بل ڈال کر حسد بھری آواز میں کہا۔۔۔
میرا اکلوتا بیٹا پوری طرح اس کے قبضے میں ہے۔۔۔ میرا خون جلتا ہے یہ دیکھ کر۔۔۔ وہ ساڑھی کے پلو کو بے چینی سے انگلیوں میں الجھاتی ہوٸ کوٸ ذہنی مریض لگ رہی تھی۔۔۔
کوٸ ایسی ہو جس کو میں لے کر آٶں ۔۔۔ اپنے بیٹے کی زندگی میں۔۔۔ جو دب کر رہے مجھ سے بھی اور ارسل سے بھی۔۔۔ میں اسے اپنے بیٹے کی نظر میں گرانا چاہتی ہوں۔۔۔ صدف نے گردن اکڑا کر کہا۔۔۔
اسے بد کردار ثابت کر کے۔۔۔۔ اس کی زندگی سے نکالنا چاہتی ہوں ۔۔۔ اور تمہیں اس میں میری مدد کرنی ہو گی۔۔۔انھوں نے غصیلی نظر عادل پر ڈالی۔۔۔
اور یہ جو تمھارے دل میں اس کے لیے ہمدردی امڈ رہی ہے نہ اس کو پیسے سے دھو ڈالو۔۔۔ صدف اب چیک لکھ رہی تھی۔۔۔
یہ پکڑو۔۔۔ انھوں نے غرور سے گردن اکڑا کر بھاری قیمت کا چیک اس کی طرف بڑھایا۔۔۔
عادل نے کچھ سوچتے ہوۓ چیک کو پکڑا ۔۔۔
اور جاٶ اب۔۔۔ اسے کہو۔۔۔ تمھارے ساتھ مووی دیکھنے چلے۔۔۔۔ زہریلی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوۓ صدف نے کہا۔۔۔
****************
وہ ۔۔۔ لڑکا کون ہے۔۔۔ واسم نے اپنے مخصوص انداز میں ماتھے پر بل ڈال کر پوچھا جبکہ ہاتھ تیزی سے سٹیرنگ موڑ رہے تھے۔۔۔
اسے آج تیسرا دن تھا سوہا کو یونیورسٹی سے لینے آنے کے لیے۔۔۔آغا جان نے ابھی تک سوہا کی گاڑی نہیں بھیجی تھی۔۔۔ اسی لیے وہ بنک سے اٹھ کر اسے لینے جاتا تھا۔۔۔ اور آج تیسرا دن تھا وہ کسی لڑکے کے ساتھ قہقے لگاتی گیٹ سے نکلی تھی۔۔۔ دو دن تو واسم نے اپنا وہم سمجھا لیکن آج تیسرے دن بھی یہی ہوا تھا۔۔۔ سوہا تو یہاں کسی کو اتنا جانتی بھی نہیں دو دن میں ہی یہ کون ہے جس سے وہ اتنی گھل مل گٸ ہے۔۔۔ عجیب سی بے چینی ہو رہی تھی۔۔۔ اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا یہ سب کچھ دل کو بار بار وہ استفسار کرنے سے روک رہا تھا کیونکہ وہ سوہا کو کہہ چکا تھا نا وہ اس کے معاملات میں دخل دے گا اور نہ وہ اس کے معاملات میں دخل اندازی کرے گی۔۔۔ لیکن اس کا اپنے آپ پر کوٸ بس نہیں چلا تھا اور آج تین دن بعد وہ سوہا سے کوٸ بات کرنے پر مجبور ہو گیا تھا۔۔۔
کہ۔۔ کون۔۔ سوہا نے حیران ہو کر واسم کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
سیاہ چشمہ چہرے پر سجاۓ سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔ آج دو دن بعد محترم کے ساتھ رہنے کے باوجود اس نے واسم کی آواز سنی تھی۔ اور اس کے سوال پر دل کمینے سے انداز میں خوش ہوا تھا۔
اچھا۔۔ وہ۔۔کلاس فیلو ہے۔۔۔ سوہا نے مسکراہٹ دبا کر سنجیدہ سے لہجے میں کہا ۔۔ کیونکہ واسم اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔۔م۔ بڑے پر سوچ انداز میں کہا۔۔۔
بہت اچھا ہے ۔۔۔ پتہ ہے مجھے بہت پرابلم ہو رہی تھی بہت لیٹ آٸ نہ میں ۔۔ سوہا نے جلتی پر تیل چھڑکا اور ایسے بولنا شروع ہوٸ جیسے کہ وہ اسی انتظار میں تھی۔۔۔
اور بہت کچھ نہیں آتا تھا ایگزیم تو سر پر ہیں۔۔ تو میری بہت مدد کر رہا ہے۔۔۔ سوہا نے بڑے چہکنے کے انداز میں کہا اور واسم کے سخت ہوتے جبڑے
22
اس کے اندر سکون اتار گۓ تھے۔۔۔
دو دن سے وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کر رہا تھا کہ اس کا دل کٹ رہا تھا۔۔۔ رات گۓ گھر آتا تھا۔۔۔ وہ گھر سارا دن کمرے میں جاوید کی نظروں سے بچنے کے لیے بند رہتی ۔۔ جب واسم آتا وہ خوش دلی سے باہر آتی لیکن وہ آرام سے اپنے کمرے میں جا کر بند ہو جاتا تھا اس سے کوٸ بات نہیں ۔۔ آج جا کر کہیں اس نے اپنی زبان کا قفل توڑا تھا۔۔۔ جس سے سوہا کے دل کو سکون ملا تھا۔۔۔
دو دن میں کافی فرینکنس ہو گٸ ہے۔۔ طنز کے انداز میں ہونٹ باہر نکال کر کہا۔۔۔ جبکہ جبڑے ابھی بھی ضبط کو بیان کر رہے تھے۔۔۔
ہاں۔۔۔ اچھا ہی بہت ہے۔۔۔ سوہا نے شرارت سے لب دانتوں میں دبا کر کہا۔۔۔
کسی کے چہرے پر نہیں لکھا ہوتا وہ اچھا ہے۔۔۔ واسم نے سخت لہجے اور سپاٹ چہرے سے کہا۔۔۔
یہ بات مجھ سے زیادہ بہتر کون جان سکتا ہے۔۔۔ایک دم سے سوہا کی آواز میں درد آیا تھا۔۔۔
اور مجھ سے بھی۔۔۔ واسم نے دانت پیستے ہوۓ فورا کہا۔۔۔
تمھاری کار کل آ جاۓ گی ۔۔ کل سے جیدی پک اینڈ ڈراپ کرے گا تمہیں۔۔۔ کار کا سٹیرنگ موڑتے ہوۓ بے رخی سے کہا۔۔۔
مہ۔۔۔ میں سوچ رہی تھی میں ڈراٸیونگ سیکھ لیتی ہوں ۔۔۔ سوہا نے ہنٹوں پر زبان پھیر کر کہا۔۔۔
تھوڑی بہت آتی بھی ہے۔۔۔ وہ ہاتھوں کو الجھن میں چٹخ رہی تھی۔۔۔
یہ پاکستان ہے محترمہ یہاں تھوڑی بہت والے سیدھے اوپر ہی جاتے ہیں۔۔۔ بڑے روکھے اور طنز کے انداز میں کہا۔۔۔
اور آغا جان نے سختی سے منع کیا ہے۔۔۔ پھر لب بھینچ کر کہا اور ایک غصیلی نظر اس پر ڈالی۔۔۔
پھر آپ ڈراٸیور بدل دیں۔۔۔ سوہا نے گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔
کیوں۔۔۔ بڑے عجیب سے انداز میں بھنویں اچکا کر واسم نے ناسمجھی کے انداز میں کہا۔۔۔
بس ویسے ہی۔۔۔ سوہا کو اپنی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ۔۔۔
نہیں مجھے اس کے ساتھ ایک سال ہو گیا ہے۔۔۔ وہ بہت اچھا اور قابل اعتبار ہے۔۔۔ واسم نے سخت لہجے میں ناگواری سے کہا۔۔۔
لیکن ۔۔۔ سوہا نے پھر سے بات شروع کی۔۔۔ وہ گھر کے گیٹ پر پہنچ چکے تھے۔۔۔
بس اب سر کھانا بند کرو۔۔۔ واسم نے غرانے کے انداز میں کہا۔۔۔
غصہ اور جلن تو وہ لڑکے والی بات پر دل کو ہو رہی تھی اور اس جلن کو سمجھ بھی نہیں پا رہا تھا۔۔۔
****************
ارے ماموں آپ۔۔۔ ارحم نے جاوید کو دیکھ کر خشگوار حیرت سے کہا۔۔۔
ارحم روز کے معول سے ہٹ کر آج سوہا کے ساتھ تھوڑا آگے آ گیا تھا اور جاوید کو سوہا کے لیے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولتے دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا۔۔۔
یہ سوہا ہے۔۔۔ اکبر تایا کی بیٹی۔۔۔ واسم نے جوش میں آ کر کہا۔۔۔
اور ساتھ کھڑی سوہا کی تو جیسے جان ہی نکل گٸ تھی۔۔۔ ارحم ان کے اس واقع سے یکسر بے خبر تھا کیونکہ جب سوہا تیرہ سال کی تھی تو وہ دس سال کا تھا اسے ان دونوں کے درمیان ہوۓ واقع کی سنجیدگی کا اندازہ نہیں تھا اس لیے وہ اپنی ہی رو میں کہہ گیا تھا۔۔۔
سوہا کا خون خشک ہوا تھا۔۔۔
جاوید کے چہرے کا رنگ کالے سے اور کالا ہو گیا تھا جبڑے جکڑے گۓ تھے۔۔۔ اسے واقعی اس حقیقت کا نہیں پتہ تھا کہ یہ وہی سوہا ہے جس نے آج سے کچھ سال پہلے اس کے چہرے کو بگاڑ ڈالا تھا وہ اس کو پہچاننے کی کوشش تو کرتا تھا لیکن وہ چار دن سے اسے نظر ہی کم آتی تھی۔۔۔
آپ ڈراٸیور ہیں ان کے گھر۔۔۔ ارسل اب حیران ہو کر پوچھ رہا تھا۔۔۔
سوہا تم نے پہچانا نہیں تھا انھیں۔ ۔۔۔ اب وہ سوہا کو دیکھ کر بولا تھا۔۔
جبکہ دونوں نفوس سکتے کے عالم میں تھے۔۔۔
پہچان لیا تھا۔۔۔ جاوید کے انداز میں بہت کچھ تھا۔۔۔
چلیں بی بی جی۔۔۔ اس نے سوہا کو خنخوار نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
سوہا کی چھٹی حس آلارم دینے لگی تھی۔۔۔
ارحم تم ساتھ چلو نہ۔۔۔ آج اور پھر ماموں سے باتیں بھی ہو جاٸیں گی۔۔۔ سوہا نے فورا خوف سے ارحم کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔
سوہا کے بار بار ضد کرنے پر ارحم گاڑی میں بیٹھ گیا تھا جس پر سوہا نے سکھ کا سانس لیا تھا۔۔
***************-**
آ جاٸیں۔۔ واسم کے کمرے سے اس کی آواز آنے پر اس نے دروازہ کھولا تھا۔۔۔
ڈھیلے سے ٹرایوزر شرٹ میں ملبوس وہ بستر پر لیٹا ہوا تھا۔۔۔ ٹانگوں کو ایک دوسرے پر کراس شکل میں چڑھاۓ۔۔۔بال بکھراۓ۔۔۔بیٹھا تھا۔۔ اور نظریں ہاتھ میں پکڑے موباٸل پر تھیں۔۔۔
بھنویں اچکا کر ناگوار سی شکل بنا کر سوہا کو اپنے کمرے میں کھڑا دیکھا۔۔
مسٸلہ ہے کوٸ۔۔۔ بھنویں اچکا کر پوچھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ ہے تو۔۔۔ سوہا لب کچل رہی تھی۔۔۔
سوہا کو اپنی لان میں کھلنے والی کھڑکی سے ڈر لگ رہا تھا ۔۔۔ اسے لگ رہا تھا جاوید یہ توڑ کر اندر آ جاۓ گا۔۔۔وہ واسم کے کمرے میں آ گٸ تھی۔۔۔
کیا۔۔۔ واسم اب سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
سوہا کا چہرہ زرد ہو رہا تھا اور خوف تھا اس کے چہرے پر۔۔۔
مجھے ادھر ہی سونا ہے۔۔ وہ جلدی سے بیڈ کہ طرف بڑھی۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ واسم نے الجھن کا شکار ہو کر اسے دیکھا۔۔۔
وہ اپنے رات کو سونے والے ٹریوزر شرٹ میں ملبوس بال کندھوں پر بکھراۓ ہوٸ تھی۔۔۔ اور جلدی سے اس کے بیڈ پر آ کر بچوں کی طرح لیٹ گٸ تھی۔۔۔
مجھے اسی کمرے میں سونا ہے ۔۔گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔
دماغ ٹھیک ہے۔۔۔ میں تمہیں اس گھر میں اتنی مشکل سے برداشت کر رہا ہوں۔۔ واسم کچھ دیر نا سمجھی میں اسے دیکھتا رہا پھر ماتھے پر بل ڈال کر بولا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: