Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 28

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 28

–**–**–

سوہا۔۔۔ پاگل مت بنو اٹھو اپنے کمرے میں جاٶ۔۔۔واسم نے کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
نہیں ۔۔۔ سوہا نے بچوں جیسی شکل بناٸ۔۔۔
پلیز آپ کے ساتھ ہی سونا ہے ۔۔ مجھے اکیلے میں خوف آ رہا ہے۔۔۔۔وہ واقعی ہی ڈری ہوٸ تھی۔۔۔ کمفرٹ کو سیدھا کر کے خود پر لینا شروع کر دیا۔۔۔
واسم نے حیرانی سی بھنویں اچکا کر دیکھا۔۔۔
بال ڈھلک کر سارے کندھوں سے آگے آۓ ہوۓ تھے۔۔۔ گال گلابی ہو رہے تھے۔۔۔ لب بھینچے گالوں کے گڑھے واضح کیے۔۔ بڑے مصروف انداز میں کمفرٹ کو کھول رہی تھی۔۔۔۔ واسم تھوڑی دیر دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔ پھر ایک دم سے خود کو سرزنش کیا۔۔۔
کیا ڈرامے کر رہی ہو ۔۔ واسم چڑ کر آگے ہوا تھا۔۔۔اور کمفرٹ اس کے اوپر سے زور لگا کر کھینچا ۔۔۔
اٹھو ابھی فورا اسی وقت پتا ہے نہ میرا۔۔۔ واسم نے غصیلی آواز میں کہا۔۔۔اور گھور کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
لیکن وہ تو جیسے بت بنی بیٹھی تھی ڈھیٹ ہو کر گود میں دونوں ہاتھ رکھے کمفرٹ ٹانگوں تک تان کے۔۔۔ بال بکھراۓ۔۔۔معصوم اور التجاٸ سی صورت بناۓ اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
نہیں۔۔۔ روہانسی سی آواز نکلی تھی سوہا کی۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔ پھر میں ہی باہر چلا جاتا ہوں۔۔ واسم نے بھنویں اچکا کر اس کے ڈھیٹ پن کو دیکھا ۔۔اور کندھے اچکا کر کہا۔۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں۔۔ وہ بھاگتی ہٸ ننگے پاٶں بیڈ سے اتری تھی اور ایک ہی جست میں واسم سے لپٹ گٸ تھی۔۔۔
وہ اتنی زور سے اسے لپٹی کہ واسم ایک پل کے لیے ہل گیا تھا اپنے دونوں بازوٶں سے واسم کو زور سے ایسے جکڑا کہ وہ کہیں چلا نہ جاۓ۔۔۔ ایک دم سے جیسے خوف سے لرزتے وجود اور دل کو تسکین مل گٸ ہو۔۔۔ سوہا نے پرسکون انداز میں آنکھیں بند کر لیں تھیں۔۔۔آنسو جو پلکوں میں ہی کہیں اٹکے ہوۓ تھے تیزی سے گالوں پر بہہ گۓ تھے۔۔۔واسم کی خوشبو ناک سے روح میں اترنے لگی تھی۔۔۔
پلیز واسم۔۔۔ مجھے ادھر اپنے پاس رہنے دیں مجھے سچ میں ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ گھٹی سی آنسوٶں سے بھاری ہوٸ آواز میں سوہا نے کہا۔۔۔ ڈر تو جیسے کہیں بہت دور رہ گیا تھا اب تو دل دھڑکنے لگا تھا۔۔ وہ اتنا قریب تھا۔۔۔ جس کی ایک نظر خود پر پڑنے پر بھی دل تشکر کے کلمات پڑھنے لگتا تھا۔۔۔
ایک ہی جست میں وہ بھاگتی ہوٸ اس سے لپٹی تھی کہ بڑی مشکل سے واسم نے خود کو اور اسے گرنے سے بچایا تھا۔۔۔ کچھ تھا جو وجود میں سراٸیت کرنے لگا تھا۔۔۔ ہلکا ہلکا سا ارتھ ہو جیسے ۔۔۔ جو اس سے نکل کر واسم میں جزب ہو رہا تھا۔۔
سوہا۔۔۔ بہت مدھم سی آواز نکل پاٸ تھی ۔۔
پیچھے ہٹو۔۔۔ سوہا۔۔۔ اسے کندھوں سے پکڑ کر پیچھے کرنے کی کوشش کی وہ اپنی حالت سی پریشان ہو بیٹھا تھا۔۔
سوہا۔۔۔ تھوڑی سختی سے کہا اور اس کے بازو خود سے الگ کیے۔۔۔۔
جیسے ہی اسے الگ کیا اس کا چہرہ آنسوٶں سے تر تھا۔۔ وہ بہت بری طرح رو رہی تھی۔۔۔
اوکے۔۔۔ لیٹو جا کر بیڈ پر۔۔۔۔مدھم سی آواز میں کہا۔۔۔ اس کی حالت واقعی قابل رحم لگ رہی تھی۔۔۔
آپ باہر نہیں جاٸیں گے۔۔۔ سوہا نے خوف زدہ سی شکل بنا کر بچوں کی طرح کہا۔۔۔
اوکے بابا۔۔ نہیں جا رہا ۔۔۔ لیٹو جا کر۔۔۔ واسم نے پریشان سی شکل بنا کر کہا۔۔۔
اسے ہوا کیا ہے۔۔۔ اچھی بھلی تو سو رہی اتنے دن سے۔۔۔ وہ کمر پر دونوں ہاتھ رکھے لب دانتوں میں دبا کر سوچ رہا تھا۔۔۔
پھر سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔
وہ بچوں کی طرح بیڈ پر دبک کر لیٹ گٸ۔۔۔ اور بار بار اس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
کتنا تحافظ کا احساس تھا واسم کے پاس ۔۔۔ اس کی آنکھیں سکون سے بند ہو رہی تھیں۔۔۔۔
وہ سو چکی تھی۔۔۔ وہ صوفے پر سے اٹھ کر بیڈ تک آیا تھا۔۔
اور پھر کچھ لمحے کے لیے اس کے سحر سے خود کو آزاد نا کرسکا وہ اپنی من موہ لینے والی صورت پر بالوں کی چند لٹیں بکھیرے آرام سے سو رہی تھی۔۔۔
بنک کی تھکاوٹ ۔۔ اور پھر رات کے اس پہر بڑھتی خنکی سے مجبور ہو کر وہ ایک طرف ہو کر لیٹ چکا تھا۔۔
**************
میری آنکھ دیکھی ہی۔۔۔۔ جاوید نے اس کے اوپر جھکتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔اس کے بازو اس نے اپنے ہاتھوں میں زور سے ایسے جکڑ رکھے تھے کہ سوہا ہل نہیں پا رہی تھی۔۔۔
پلیز ۔۔۔ مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔ سوہا روتے ہوۓ اس کی منتیں کر رہی تھی۔۔۔
اور وہ تھا کہ زور زور سے سوہا کی بے بسی پر ہنس رہا تھا۔۔۔
ہنستے ہنستے ۔۔۔۔ اس کی شکل بگڑنے لگی تھی۔۔۔۔ اس کے دانت باہر آنے لگے تھے۔۔۔ اور چہرہ اپنے ساٸزہ سے بڑا ہونے لگا تھا وہ ایک بھیانک شکل اختیار کر چکا تھا۔۔۔
سوہا کی زور کی چیخ نکلی تھی۔۔۔ اور ساتھ ہی اس کی اور واسم کی آنکھ کھلی تھی۔۔۔
چیخ اتنی ہولناک تھی واسم بھی ہل گیا ایک دم وہ خوف سے کانپ رہی تھی۔۔۔ کمرے میں موجود ہلکی سی روشنی میں وہ اس کا خوف سے پریشان چہرہ با خوبی دیکھ پا رہا تھا۔۔۔
سوہا کیا ہوا کوٸ خواب دیکھا ہے۔۔۔ واسم نے پریشان ہو کر کہا۔۔۔ نیند سے کھولی بوجھل آنکھوں کے ساتھ واسم آنکھیں پوری کھول کر کبھی ارد گرد دیکھ رہا تھا کبھی سوہا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
واسم کا بولنا ہی تھا۔۔۔ کہ وہ تیزی سے آگے ہو کر پھر سے اس سے لپٹ چکی تھی۔۔۔وہ کانپ رہی تھی۔۔۔
واسم پریشان ہو گیا تھا۔۔۔ کیا مسٸلہ ہے اس کے ساتھ۔۔۔
سوہا نے اپنے چہرے کو اس کے سینے کے اندر چھپا لیا تھا اور آنکھیں زور سے بند کر لیں تھیں۔۔۔
سوہا واسم نے بہت مدھم سرگوشی کی تھی اس کے کان کے قریب۔۔۔
کوٸ مسٸلہ ہے۔۔۔ ہوا کیا ہے۔۔۔ بہت ہی نرم لہجا تھا۔۔۔
ڈر لگ رہا ہے ۔۔ دور سے آتی ہوٸ آواز تھی۔۔۔ اس نےسینے میں منہ چپھا رکھا تھا۔۔۔
واسم پریشان سا ہو ا تھا۔۔۔ اس کو ضرور کچھ ہو اہے۔۔۔ یہ بتا کیوں نہیں رہی۔۔۔انھی سوچوں میں گم چند لمحے گزرے تھے۔۔۔
ہم۔۔۔م۔م۔ سوہا ۔۔۔ کچھ لمحے گزرنے کے بعد پھر سے اسے پکارا تھا۔
سوہا نے کوٸ جواب نہیں دیا تھا۔۔۔
سوہا۔۔۔ دھیرے سے پھر سے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی وہ تو سو چکی تھی۔۔۔
واسم نے بڑی مشکل سے بیڈ کے ایک طرف لگے ہوۓ میز پر پڑا ہوا موباٸل اٹھایا تھا۔۔۔ ۔۔ سوہا بلکل ساتھ لگی ہوٸ تھی مڑنا مشکل تھا بلکل۔۔۔۔
صبح کے چار بج رہے تھے۔۔ واسم نے موباٸل سے وقت دیکھاتھا۔۔
اسے دھیرے سے خود سے الگ کیا تھا۔۔۔ وہ پھر سے سو چکی تھی۔۔۔ سوہا کے سر کے نیچے تکیہ رکھ کر وہ بیڈ سے نیچے اتد گیا تھا۔۔۔ وہ پریشانی سے ماتھے پر ہاتھ پھیرتا ہوا پھر سے صوفے پر جا بیٹھا تھا۔۔۔
سلگتی سگریٹ۔۔۔ اور دماغ کی بڑھتی الجھن دونوں ساتھ ساتھ سفر کر رہی تھیں۔۔۔
************
بی بی جی۔۔۔ ایک بات پوچھوں غصہ نہ کرنا۔۔۔عزرا نے جھجکتے ہوۓ ۔۔۔ کچن میں کھڑی املیٹ بناتی سوہا کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔
آج پہلا اتوار تھا اس کا یہاں۔۔۔ وہ بڑی محبت سے واسم کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی۔۔۔ کچھ واسم کے نرم رویے کا اور کچھ رات کی قربت کا خمار تھا ۔۔۔ اس کے لب بار بار مسکرا رہے تھے۔۔
ہم۔۔م۔م۔ بولو۔۔۔ بڑے خوشگور موڈ میں اس نے کہا تھا۔۔۔ اور ایک نظر کچن کی کھڑکی سے باہر دیکھا۔۔۔ جہاں سامنے لاونج میں واسم پر سوچ انداز میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ تھکے تھکے سے انداز میں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
وہ۔۔۔ عزرا اب لب کچلتے ہوۓ اور ہاتھوں کو مسلتے ہوۓ چپ ہوٸ تھی۔۔۔
کیا ہے پوچھو بھی۔۔۔ سوہا نے اس کے چپ ہونے پر اسے حیران ہو کر دیکھا تھا۔۔۔
آپ اور صاب الگ الگ کمروں میں ۔۔۔ عزرا نے لب کچلتے ہوۓ بات شروع کی۔۔۔پھر سوہا کے ماتھے پر پڑتے بل دیکھ کر فورا چپ ہو گٸ تھی۔۔۔
وہ۔۔۔ جی۔۔۔ جیدی اور میں سوچ رہے تھے۔۔۔ کوٸ ناراضگی تو نہیں جی۔۔۔ عزرا نے گھبرا کر جلدی جلدی وضاحت بھی دے دی۔۔۔
سوہا کا دل ایک دم سے دھک رہ گیا تھا ۔۔۔ اس کا مطلب ہے۔۔۔ وہ یہ بات نوٹ کر چکا ہے۔۔۔۔مجھے واسم سے بات کرنی چاہیے۔۔۔وہ پریشان سی ہو گٸ تھی ۔۔۔
نہ۔۔۔نہیں کوٸ ناراضگی نہیں ہے ۔۔۔ سوہا نے لبوں پر زبان پھیر کر کہا اور خود کو نارمل ظاہر کیا۔۔۔
مجھے پڑھنا تھا کچھ دن تو الگ کمرے میں تھی ۔۔۔ سوہا نے خجل ہو کر بالوں کو کانوں کے پیچھے کیا۔۔
رات میں ان کے کمرے میں ہی تھی۔۔۔سوہا نے تھوڑی سختی اور ناگواری سے کہا۔۔۔
اور اپنے کام سے کام رکھو تم دونوں۔۔۔ سوہا نے ڈانٹنے کے انداز میں کہا۔۔۔
افف کیسے بتاٶں واسم کو۔۔۔ کیا وہ میری بات کو سمجھیں گے۔۔۔ آغا جان۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔ آغا جان سے بات کرتی ہوں کہ واسم سے کہیں کہ ان ملازموں کو گھر سے نکال دیں۔۔۔وہ پر سوچ انداز میں ناشتہ بنا رہی تھی۔۔
***************
میں پاکستان آ رہا ہوں۔۔۔ اکبر کی پریشان سی آواز فون پر ابھری تھی۔۔
جی بابا آپ کو آ جانا چاہیے ویسے بھی اب وہاں ہے بھی کیا۔۔۔ سوہا نے افسردہ سے لہجے میں کہا۔۔۔۔
جوبھی رشتہ تھا اس کا سوزی کے ساتھ پر آج اسے دکھ ہو رہا تھا۔۔۔ پیٹر نے سوزی کو قتل کر دیا تھا۔۔۔اکبر کو بھی کچھ عرصہ تحقیقات میں رہنا پڑا ۔۔۔ اب جا کر ان کو رہاٸ ملی تو انھوں نے سوہا کو اتنے دن بعد کال کر کے یہ خبر دی اب وہ پاکستان واپس آنا چاہتے تھے۔۔۔
سوہا نے اداس شکل کے ساتھ فون بند کیا تھا ۔ ۔۔۔ اب فون اور ہاتھ دونوں اس کی گود میں تھے۔۔۔ اور وہ اپنے اور سوزی کے ساتھ گزرے سارے لمحات کواپنے ذہن میں دہرا رہی تھی۔۔۔جس بیٹے کی خاطر وہ اسے دھتکارتی رہی اسی بیٹے نےاسے پیسوں کی خاطر جان سے مار دیا تھا۔۔۔
وہ واسم کےکمرے میں اس کے بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔۔ واسم نے اس کے ہاتھ کا بنا ناشتہ آرام سے کر لیا تھا ۔۔۔ لیکن وہ بہت چپ چپ اور پر سوچ تھا۔۔۔ اسکے بعد وہ باہر نکلا تھا اور ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا۔۔۔ سورج کے ڈوبنے کے ساتھ ساتھ سوہا کا ڈر بڑھتا جا رہا تھا اس نے عزرا کو اپنے پاس بیٹھا رکھا تھا کہ جب تک واسم نہیں آ جاتے وہ یہاں سے ہلے گی نہیں۔۔۔
***************
ڈوبتے سورج اور سلگتی سگریٹ کے ساتھ ملگجے سے حلیے میں وہ گاڑی کے ساتھ
23
ٹیک لگاۓ پر سوچ انداز میں کھڑا تھا۔۔۔
نہ رات ٹھیک سے سو سکا تھااور نہ اب چین تھا۔۔۔ دل عجیب الجھن کا شکار تھا۔۔۔ اسے خود کی زندگی برباد کرنے والی تسکین کی وجہ محسوس ہونے لگی تھی۔۔
چاہیے تھا کہ اسے تھپڑ لگاتا ایک۔۔۔ دماغ نے کہا۔۔۔
وہ کسی پریشانی میں ہے۔۔۔ دل نے دماغ کو سزنش کیا۔۔۔
اسے کبھی معاف نہیں کرنا مجھے۔۔ وہ یہ سب ڈرامہ کر رہی ہے دماغ نے دھاڑتے ہوۓ دل سے کہا۔۔۔
نہیں ۔۔۔ اس کی حالت اس کا کانپنا ۔۔۔ یہ سب جھوٹ نہیں ہو سکتا۔۔۔ دل نے التجا کی۔۔۔
تو پھر کھا لے ایک دفعہ اور دھوکا۔۔۔ دماغ نے طنز کیا۔۔۔
وہ مجھ سے محبت کرتی ہے جو بھی کیا لیکن ۔۔ مجھ سے محبت میں کیا۔۔۔ دل نے مغموم ہو کر کہا۔۔۔
ہنہ۔۔۔ محبت کہ کھیل۔۔۔ وہ بہت شاطر ہے۔۔۔ دماغ نے قہقہ لگایا۔۔۔
نہیں وہ بہت معصوم ہے۔۔۔ دل نے ہلکے سے دھڑکتے ہوۓ کہا۔۔۔
واسم نے سگریٹ کو پھینک کر پاٶں سے رگڑ ڈالا تھا۔۔۔۔
*******************
یہ کیا کر رہی یہاں ۔۔۔ واسم نے اپنے کمرے میں زمین پر بیٹھی عزرا کو دیکھ کر کہا۔۔۔ بھنویں تھوڑی سی اچکاٸیں اپنے مخصوص انداز میں۔۔۔
باہر چلتی تیز ہوا نے بال اور بکھرا دیے تھے واسم کے۔۔ آنکھیں تھکی سی تھیں۔۔۔ لہجہ بھی تھکا سا تھا۔۔۔ دل اور دماغ کی جنگ نے اسے اندر سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔
وہ۔۔۔ یہ۔۔۔ اس کو میں نے روکا ہوا تھا مجھے ڈر لگ رہا تھا۔۔۔آپ گھر نہیں تھے ۔۔۔ سوہا جو بیڈ پر لیٹی ہوٸ تھی فورا سیدھی ہو کر بیٹھی تھی۔۔ اور لب کو کچلتے ہوۓ واسم کو کہا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ عزرا جاٶ تم۔۔۔ واسم نے گہری نگاہ سوہا پر ڈالی تھی۔۔۔ کل کی طرح پریشان سی گالوں پر پلکیں لرزاتی وہ اس کے دل کے تار چھیڑ گٸ تھی۔۔۔ دماغ دل کے بازو پکڑ کر اسے پیچھے کھینچ رہا تھا۔۔۔ اور دل تھا کہ دماغ کی ساری کوشیشں ناکام بنا رہا تھا۔۔۔
صاب کھانا۔۔۔ عزرا نے دروازے کے پاس رک کر تیکھی سی آواز میں پوچھا۔۔۔
واسم جو سوہا کو غور سے دیکھنے میں مصروف تھا۔۔۔ ایک دم سے چونکا تھا۔۔
نہ۔۔نہیں کچھ نہیں جاٶ ۔۔۔ بہت مدھم سی آواز تھی۔۔۔
سامنے صوفے پر بیٹھ کر وہ ہونٹوں پر ہاتھ رکھے اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
کیا ہوا ہے واسم کو۔۔۔ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں وہ جز بز سی ہوٸ ۔۔۔ سوہا کو واسم کا عجیب سا انداز سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔
بات سنو۔۔ گھمبیر سی آواز میں آہستہ سےکہا۔۔۔ پھر خود ہی اٹھ کر بیڈ کے پاس آ گیا تھا۔۔۔
جی۔۔۔ سوہا نے مدھر سی آواز میں کہا ۔۔۔اور آنکھ اٹھا کر واسم کی طرف دیکھا وہ عجیب ہی بے چین سا لگ رہا تھا۔۔۔ اس کے اندر ہونے والی جنگ سے سوہا یکسر انجان تھی۔۔۔
کیا پریشانی ہے۔۔۔ واسم نے بلکل اس کے سامنے بیٹھ کر کہا۔۔
آپ میری ایک بات مانیں گے۔۔۔ سوہا نے نچلا لب کچلا۔۔۔۔
بولو۔۔۔ واسم نے اس کے لبوں کو دیکھا جو سرخ ہو رہے تھے۔۔۔ وہ یقینا کسی مسٸلے کا شکار تھی۔۔۔
آپ یہ۔۔۔ ملازم بدل دیں ۔۔۔ سوہا نے ایک ہی سانس میں تیزی سے ہمت کر کے کہا تھا۔۔
کون۔۔۔ یہ عزرا اور۔۔۔ کیوں۔۔۔ واسم نے اس کی عجیب سی فرماٸش پر اپنے مخصوص انداز میں بھنویں اچکاٸ تھیں۔۔۔
یہ لوگ اچھے نہیں۔۔۔ سوہا نے ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
سوہا ۔۔۔ ایک سال ہو گیا یہ لوگ میرے ساتھ ہیں۔۔۔ عزرا بہت اچھا کھانا بناتی ہے اور باقی سب کام گھر کے جیدی بہت اچھے سے سنبھالتا ہے۔۔۔ واسم نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔۔۔میں نے تو ایک سال میں ان میں کوٸ براٸ نہیں دیکھی۔۔۔ اور تم ہو کہ تمہیں چار دن میں شک ہو گیا۔۔۔ واسم کو واقعی اس کی اس بات پر غصہ آ گیا تھا۔۔
واسم میری بات کا یقین کریں۔۔۔ سوہا نے روہانسی سی شکل میں التجا کا لہجہ میں کہا۔۔۔
سوہا ۔۔۔تمہیں کوٸ وہم ہے ۔۔۔ یا تمھاری عادت ہے یوں سب میں بس براٸ ڈھونڈنا۔ ۔۔۔ واسم نے ناگواری سے کہا۔ ۔۔
دماغ نے دل کو ایک طرف کونے میں دھکا دیا اور تن کے کھڑا ہوا۔۔۔
تم سب کو ایک ہی نظر سے کیوں دیکھتی ہو۔۔۔ واسم نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
واسم میرا یقین کریں۔۔۔ وہ جیدی کی نظریں عجیب سی ہیں۔۔۔ سوہا نے لب کچلے اور ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میِں پھنسایا۔۔۔
بس کرو سوہا۔۔۔ یہ صرف تمھارے دماغ کا فطور ہے اور کچھ بھی نہیں۔۔۔ واسم نے اونچی آواز میں ڈانٹنے کے انداز میں کہا۔۔۔
پیچھے ہٹ کر لیٹو۔۔۔ سونا ہے مجھے۔۔۔ واسم نے غصے سے کہا۔۔۔
وہ اپنا سا منہ لے کر پیچھے ہوٸ تھی۔۔۔
واسم نے کمفرٹ ایک جھٹکے سے کھینچا تھا اور دوسری طرف رخ کر کے لیٹ گیا تھا۔۔۔
ان کے کمرے کے داروازے کے باہر کان لگاۓ کھڑا نفوس دبے قدموں پیچھے ہوا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 27

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: