Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 29

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 29

–**–**–

تم کہاں۔۔۔ واسم نے بھنویں اچکاٸ۔۔۔
وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے ہی لگا تھا جب سوہا گاڑی کے پاس آکر ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گٸ۔۔۔
یونیورسٹی۔۔۔ بڑے آرام سے جواب دیا۔۔۔ اور واسم کے گھورنے کو یکسر نظر انداز کیا۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ واسم سیٹ پر بیٹھ کر ایک دم سارا رخ اس کی طرف موڑ کر بولا۔۔۔
مجھے آپکے ساتھ ہی جانا یونیورسٹی۔۔۔ سوہا نے گردن تھوڑی سی اوپر اٹھا کر پر عزم انداز میں کہا۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ ۔۔۔ واسم نے دانت پیسے۔۔۔ اور اسے غور سے دیکھا۔۔۔
اپنے مخصوص انداز میں اونچی سی پونی بناۓ شفاف ملاٸم چمکتا چہرہ لیے۔۔۔ وہ معصوم انداز میں بیٹھی ہوٸ تھی۔۔۔
واسم کے فون کی رنگ پر اس نے سوہا کو گھورنا بند کیا تھا۔۔۔
آغا جان۔۔۔ سوہا نے اسے فون اٹھانے سے پہلے ہی بتا دیا۔۔۔ اور لب بھینچتے ہوۓ اشاراہ اس کے فون کی طرف کیا۔۔۔
جی آغا جان۔۔۔ واسم نے کھا جانے والی ایک نظر سوہا پر ڈالی اور فون اٹھاتے ہی معدب انداز میں کہا۔۔۔
سوہا تمھارے ساتھ ہی جاۓ گی۔۔۔اور اس ملازم کو فارغ کرو آج ہی۔۔۔ آغا جان نے سلام کرتے ساتھ ہی حکم صادر کیا تھا۔۔
آغا جان۔۔۔ آپ بھی اس پاگل لڑکی کی باتوں میں آ رہے۔۔۔ واسم نے نظر اپنے ساتھ بیٹھی اس حسین سراپے پر ڈالی اور ان سے کہا۔۔۔
عقل والے تو ایک آپ ہی اس دنیا میں ٹھہرے جناب۔۔۔ سوہا نے پاگل کہنے والی بات پر منہ بنایا۔۔۔۔
مجھے ان کے ساتھ ایک سال ہو گیا ہے انھوں نے اتنے اچھے طریقے سے سب مینج کیا تھا اور میں اب منہ پھاڑ کر ان کو کہہ دوں کہ فارغ ہیں آپ۔۔۔واسم اب سنجیدہ ہو گیا تھا۔۔۔ ماتھے پر بل بھی پڑ گۓ تھے۔۔۔
سوری۔۔۔ آغا جان میں اس کے شک کی وجہ سے ان کو نہیں نکال سکتا۔۔واسم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔۔۔
سوہا نے چڑ کر اپنے ساتھ بیٹھے واسم کو دیکھا تھا۔۔۔ پینٹ کوٹ پہنے۔۔۔ نکھرا نکھرا سا چہرہ لیے وہ اپنی باتوں سے اس کے دل کا خون کر رہا تھا۔۔۔
جو بھی ہے ۔۔۔ لیکن سوہا تمھارے ساتھ ہی جاۓ گی۔۔۔ آغا جان نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کہا۔۔۔
میرا اتنا ٹف سکجیول ہے۔۔ مجھ سے بنک سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔ واسم نے التجا والے انداز میں کہا۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا۔۔ تم روم(رجنل مینجر) ہو کوٸ عام ملازم نہیں جو اتنا سا وقت نا نکال سکے اپنی بیوی کے لیے۔۔۔ آغا جان نے اب کی بار رعب آواز سے کہا۔۔۔ اور فون بند کر دیا۔۔
تھوڑی دیر خاموشی رہی ۔۔۔ واسم نے غصے سے گاڑی بیک کی۔۔ اب وہ لب بھینچے گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔۔
اگر آپکو مسٸلہ ہے واپسی کا تو میں آ جاٶں گی ڈونٹ وری۔۔۔ سوہا نے مدھم سی آواز میں واسم کے ناگوار چہرے کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔
کیسے۔۔۔ غصے سے بھری آواز میں واسم نے پوچھا تھا۔۔۔
وہ میرے کلاس فیلو کے ساتھ۔۔۔۔ سوہا کو ایک دم سے اس دن والی جلن یاد آٸ تھی واسم کی۔۔ اس نے آنکھوں میں شرارت بھر کر کہا۔۔۔
نہیں کوٸ مسٸلہ نہیں میں آ جاٶں گا۔۔۔واسم نے فورا اسکی بات کاٹی تھی۔۔۔ جبڑے ایک دم سے ایک دوسرے میں پیوست ہو گۓ تھے۔۔۔
پاگل سی ہے۔۔۔ پتہ نہیں کون لڑکا جس کے ساتھ اتنی دوستی کر لی ہے۔۔۔واسم کے ذہن میں اس مسکراتے لڑکے کا چہرہ در آیا تھا۔۔۔
ہم۔م۔م ٹھیک ہے۔۔۔ سوہا نے مسکراہٹ دباٸ تھی۔۔۔ کار یونیورسٹی کے سامنے رکی تھی۔۔۔۔
******************
بھابھی ۔۔۔ آپ سے ایک بات کرنی ہے۔۔عادل کی اپنے عقب سے آتی آواز پر نشا نے چونک کر دیکھا تھا۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں کھڑی اپنے کپڑوں کی الماری درست کر رہی تھی جب عادل اس کے کمرے میں آیا۔۔۔ وہ بے چینی سےلب کچل رہا تھا۔۔۔
ہاں بولو۔۔۔ سوہا نے تھوڑی ناگواری ظاہر کی کیونکہ بے شک اب اس کے ساتھ نشا کا رویہ بہت بہتر تھا لیکن یوں اپنے بیڈ روم میں چلے آنا عادل کا اسے برا لگا تھا۔۔۔
وہ۔۔۔ میں بہت پریشان ہوں۔۔۔ وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوۓ گویا ہوا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔ مجھے بتاٶ۔۔۔ وہ واقعی کافی حد تک پریشان لگ رہا تھا۔۔۔نشا نے ہمدردی سے کہا۔۔۔
کیا آپ میرے ساتھ محبت کا ناٹک کریں گی۔۔۔ عادل نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھا کر ۔۔۔ سنجیدہ سے لہجے میں کہا۔۔۔
کہ۔۔کہ۔۔۔کیا مطلب میں سمجھی نہیں۔۔۔ کیا کہنا چاہتے ہو۔۔۔ نشا نے اپنی آنکھیں سکیڑی۔۔۔ اور ناسمجھی کے انداز میں کہا۔۔۔
بھابھی دیکھیں ۔۔۔ بس آپ آنٹی کے سامنے یہ شو کریں کہ میں نے آپ کو سیٹ کر لیا ہے اپنے ساتھ۔۔۔ وہ تھوڑا سا آگے بڑھ کر پاگلوں کی طرح سر کھجاتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ۔۔۔ کیا کہہ رہے ہو یہ سب ۔۔۔۔ اس کی بات سن کر نشا کے ماتھے پر بل پڑ گۓ تھے۔۔ عجیب بے یقینی کے انداز میں اس نے کہا تھا۔۔
میری بات سن لیں ۔۔۔ بیٹھ کر ایک دفعہ۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ عادل نے آگے بڑھ کر اسے کندھوں سے تھام لیا تھا۔۔۔
وہ کوٸ ذہنی مریض کی طرح لگ رہا تھا۔۔۔
مجھے ہاتھ مت لگاٶ۔۔۔ پیچھے ہو کر بات کرو۔۔۔ نشا ایک دم دبک کر پیچھے ہوٸ تھی اور اس کے دونوں ہاتھوں کو ایک جھٹکے سے اپنے کندھوں سے ہٹایا تھا۔۔۔
ارے بھابھی۔۔۔ میں خود نہیں یہ چاہتا۔۔۔ عادل نے غصے سے اپنے سر پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔
بس میں مجبور ہوں آنٹی یہ سب کرنے کو کہہ رہی مجھے۔۔۔ عادل نے آگے بڑھ کر نشا کا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔۔ اور مظبوطی سے اس کی کلاٸ کو دبوچ ڈالا تھا۔۔۔۔
عادل پلیز چھوڑو مجھے۔۔۔ نشا نے دوسرے ہاتھ سے اپنی کلاٸ چھڑوانی چاہی۔۔۔
اور آنٹی کیوں کہیں گی سب ۔۔۔ پیچھے ہٹو۔۔۔اس نے عادل کو زور کا دھکا دیا تھا۔۔۔
بھابھی۔۔۔ پلیز مجھے غلط مت سمجھیۓ گا۔۔۔عادل دنوں بازو پھلاۓ اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔
شرم نہیں آتی ویسے بھابھی کہتے ہو۔۔۔ پیچھے ہٹو۔۔۔۔نشا نے اپنی پوری قوت سے اسے دھکا دیا تھا۔۔۔ وہ بھاگتی ہوٸ کمرے سے نکلی تھی اور اپنے کمرے کو فورا باہر سے لاک کر دیا تھا۔۔۔
عادل اندر دروازہ پیٹ رہا تھا۔۔۔
صدف آج گھر نہیں تھی۔۔۔ شاٸد وہ آج جان بوجھ کر گھر سے غاٸب ہوٸ تھیں۔۔۔ ملازم بھی سارے آج اچانک ہی چھٹی پر بھیج دۓ گۓ تھے۔۔۔۔
وہ بھاگتی ہوٸ داخلی دروازے کی طرف آ رہی تھی جب سامنے آتے ارسل سے بری طرح ٹکراٸ تھی۔۔۔۔
*************
اچھا۔۔۔ تو کون لینے آۓ گا آپکو۔۔۔ سوہا نے خوشی سے چہکتے ہوۓ اکبر سے پوچھا تھا۔۔۔
اکبر پاکستان پہنچ گۓ تھے اب وہ فون کر کے اسے یہی اطلاع دے رہے تھے۔۔۔
اظہر اور ارحم دنوں ہیں۔۔۔ تم صبح واسم کے ساتھ آنا ہاں۔۔۔ وہ بھی خوشی سے بولے تھے۔۔۔ آج اتنے عرصے بعد وہ خوش ہو کر بول رہے تھے۔۔۔۔
چلو اب وہ آ گیا ہے اظہر میں فون رکھتا ہوں ۔۔۔ تم صبح آ جانا اچھا۔۔۔ اکبر نے عجلت میں کہتے ہوۓ فون بند کیا تھا۔۔۔۔
وہ مسکراتی ہوٸ پلٹی تھی اور ایک دم سے فون ہاتھ سے نیچے گرا تھا۔۔۔
ت۔۔ت۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔ خوف سے سوہا کی آواز گلے میں گھٹ گٸ تھی۔۔۔
سامنے جاوید کھڑا گلاس سے پانی نیچے فرش پر گرا تھا اس کے چہرے پر کمینگی تھی۔۔۔
بدلہ لینے آیا ہوں۔۔۔ گندے سے دانت نکال کر کہا۔۔۔
سوہا کا دل کانپ گیا۔۔۔
و۔۔و۔۔۔ و۔۔واسم گھر پر ہیں ۔۔۔ سمجھے تم۔۔۔ پیچھے رہو۔۔۔ سوہا نے گھٹی سی آواز سے کہا وہ آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔
ہاں مجھے پتہ وہ گھر پر ہے۔۔۔ تم چیخ کر بلاٶ گی نہیں واسم کو۔۔۔ جاوید نے ایک ہی جست میں اس کی کلاٸ پکڑ کر جھٹکا دیا تھا۔۔۔سوہا لڑ کھڑاتی ہوٸ اس سے ٹکراٸ تھی۔۔۔
واسم ۔۔۔۔ واسم۔۔۔۔۔ سوہا نے ہولناک انداز میں چیختے ہوۓ واسم کو پکارا تھا
چھوڑو مجھے۔۔۔ واسم۔۔۔۔۔ وہ زور زور سے واسم کو پکار رہی تھی۔۔۔
واسم کے تیز قدموں کی چاپ سناٸ دیتے ہی جاوید نے اسے ایک دم سے چھوڑا تھا اور دور ہو کر رونے جیسی شکل بنا ڈالی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا ہے۔۔۔۔ واسم نے پریشان ہو کر دیکھا۔۔۔
واسم جب کمرے میں دا خل ہوا سوہا اس کی آواز سن کر لپک کر اس کے ساتھ جا لگی
واسم دیکھیں یہ مجھے۔۔۔ سوہا نے آنسو بھری آواز میں بات شروع کی۔۔۔
کیا ہوا بی بی جی۔۔۔ آپ نے خود ہی تو بلایا تھا۔۔۔ کہ کمرے کی صفاٸ کرنی ہے۔۔۔ جاوید نے روتے ہوۓ کہا۔۔۔
نہ۔۔نہیں جھوٹ بول رہا یہ ۔۔ واسم یہ جاوید ہے۔۔۔ میری چچی کا بھاٸ۔۔۔ سوہا اس کے انداز پر ایک دم سے گڑ بڑا سی گٸ تھی۔۔۔
بی بی جی کیا بولے جا رہی صاحب۔۔۔ میری بیوی سے پوچھ لیں انھوں نے خود اس کے ہاتھ پیغام بھیج کر مجھے بلایا۔۔۔ جاوید مسکین شکل بنا کر ہاتھ جوڑ کر واسم کی طرف بڑھا۔۔۔
واسم پریشان حال کھڑا تھا۔۔۔
کیا ہے۔۔۔۔ یہ۔۔۔ واسم نے دھاڑنے کے انداز میں کہا۔۔۔ سوہا بھی رو رہی تھی اور جاوید اس سے زیادہ رو رہا تھا۔۔۔
جی صاب ابھی بی بی نے مجھے کہا۔۔۔ یہ پانی گرا ہے جیدی کو کہو آ کر پوچا لگا دے۔۔۔ عزرا نے جلدی سے آگے ہو کر واسم کو کہا۔۔۔
واسم جھوٹ بول رہے یہ دونوں۔۔۔آپ میری بات تو سنیں۔۔۔۔ سوہا بوکھلا گٸ تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔
صاب بی بی مجھے کہہ رہی تھی تمہیں تو نکلوا کر ہی دم لوں گی۔۔۔ پلیز صاب ہم غریبوں کونہ نکالیے گا۔۔۔ جاوید ہاتھ جوڑ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔۔۔
تم چلو میرے ساتھ۔۔۔ چلو میرے ساتھ۔۔۔۔ واسم نے سوہا کا ہاتھ غصے میں پکڑا تھا اور گھسیٹتا ہوا اسے دوسرے کمرے میں لے آیا تھا۔۔۔
کیا چاہتی ہو تم۔۔۔ ایک جھٹکے سے سوہا کو بیڈ پر مارتے ہوۓ واسم نے دھاڑنے کے انداز میں کہا۔۔۔
واسم ۔۔۔ آپ میرا یقین کریں۔۔۔ یہ جو آدمی ہے نہ۔۔۔اسے میں بچپن سے جانتی ہوں۔۔۔ یہ اس کی آنکھ میں نے ہی پھوڑی تھی۔۔۔ سوہا نے روتے ہوۓ بچوں کی طرح دہاٸ دی۔۔
سوہا۔۔۔ تم کیا پاگل ہو۔۔۔۔ تم کیا خود سے ہی کہانیاں بناتی رہتی ہو۔۔۔ واسم نے کمر پر ہاتھ رکھ کر بے یقینی سے سوہا کی طرف دیکھا۔۔۔
نہ۔۔۔نہیں واسم میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔ پلیز میرا یقین کریں ۔۔۔وہ یہ سب پلین کر رہا۔۔۔ سوہا التجاٸ انداز میں بولی۔۔۔
سوہا وہ دو بندے جھوٹ بول رہے ہیں کیا۔۔۔ اور ان کو کیا پڑی یہ سب کرنے کی۔۔ واسم نے چڑ کر اونچی آواز میں کہا۔۔۔
٢٣
واسم پلیز۔۔۔۔ سوہا آگے آٸ اور ابھی بولی نہیں تھی کہ واسم زور سے دھاڑا۔۔
اوہ جسٹ شٹ اپ۔۔۔ سوہا۔۔۔ واسم نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔۔
نہیں ۔۔۔نہیں ہوں گی میں چپ۔۔۔ سوہا نے زور سےپوری قوت سے چیخ کر کہا۔۔۔ پورا کمرہ اس کی آواز پر گونجا تھا۔۔۔
آپ کو میری ہر بات سننا ہو گی۔۔۔ میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔ اور تب بھی نہیں تھی۔۔۔ میں نے آپ پر الزام صرف نشا کو بچانے کے لیے لگایا تھا۔۔۔
۔وہ غصے میں ایسے چیخی کہ واسم ایک دم تھم سا گیا تھا اس نے سوہا کا ایسا انداز آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔
نشا ارسل سے محبت کرتی تھی۔۔ اور آپ سے زبردستی شادی کر رہی تھی۔۔۔ صرف اس کے لیے یہ سب کیا تھا میں نے۔۔۔ سوہا نے زور سے کہا۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ الزام پر الزام ہر کسی پر الزام۔۔۔واسم نے آگے ہو کر ایک زور دار تھپڑ لگایا تھا سوہا کہ۔۔۔
ایک پل کے لیے وہ ہل گٸ تھی۔۔۔
نہیں میں الزام نہیں لگا رہی ہوں۔۔۔۔ یہ سچ ہے۔۔۔ وہ گال پر ہاتھ رکھ کر پھر چیخی تھی۔۔۔
آپ کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ محبت ہوتی کیا ہے۔۔۔۔ اگر پتہ ہوتا تو آپکو محسوس ہو جاتا کہ نشا آپ سے محبت نہیں کرتی ہے۔۔۔ سوہا نے طنزیہ انداز میں دھاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔۔ واسم نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
نہیں کروں گی۔۔۔ اپکو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ آپ نشاسے محبت نہیں کرتے تھے۔۔۔ بس ایک خود ساختہ چاہت تھی۔۔۔ جس میں انسان صرف خود غرض ہوتا۔۔۔۔ وہ آنکھیں پھاڑے سارا غبار نکال رہی تھی۔۔۔
آپکو اسکی بے رخی اس کی نظروں میں چھپی اپنے لیے نفرت کبھی نظر ہی نہیں آٸ۔۔۔ طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔
محبت میں نے کی ہے آپ سے صرف ۔۔۔ نشا نے کبھی بھی نہیں۔۔۔۔وہ پھر سے چیخی تھی اور واسم کا گریبان پکڑ کر جھنجوڑا۔۔۔
چپ کر جاٶ ۔۔۔۔ جو منہ میں آ رہا ہے بولے چلی جا رہی ہو۔۔۔ تم دراصل ہو ہی ایک دماغی بیماری میں مبتلہ۔۔۔ واسم نے اپنا گریبان چھڑوا کر ایک طرچ دھکیلا
ہاں ہوں۔۔۔ میں اس گھر میں نہیں رہوں گی اب۔۔۔۔ آپکو مجھ پر نہیں ۔۔۔ ان ملازموں پر یقین ہے۔۔۔ یہ تزلیل ہے میری۔۔۔۔ سوہا نے گال رگڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
بکواس بند کرو اور جا کر بیٹھو وہاں۔۔۔۔ واسم نے اسے بیڈ پر دھکا دیا اور باہر نکل گیا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Chand Mera Humsafar Novel By Hina Khan – Episode 2

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: