Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 3

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 3

–**–**–

یہ کیا کر رہا ہے یہاں ۔۔ نشا نے ردا کے پیچھے ہوتے ہوۓ کہا۔۔۔ردا نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا تھا۔۔ اور ارسل سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔ چہرے پر محبت بھری مسکراہٹ سجاۓ۔ ہلکے سبزی ماٸل کرتے اور سفید شلوار میں وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔
کیا مطلب کیا کر رہا ہے۔۔۔ سدرہ کی شادی ہے۔۔وہ ہمارا کلاس فیلو ہے سدرہ نے اسے بھی انواٸٹ کیا ہو گا۔۔ ردا نے گردن موڑ کر نشا کے کان میں سرگوشی کی۔۔ جس کی شکل ارسل کو دیکھنے کے بعد سے ایک دم بے چینی کا تاثر دینے لگی تھی۔۔ وہ اپنے نچلے ہونٹ کو بار بار دانتوں سے کچلنے لگی تھی۔۔
ردا کے کندھوں پر ہاتھ رکھے اب وہ ارسل کی نظروں سے اوجھل ہونے کی ناکام کوشش میں ردا کے پیچھے ہوتی جا رہی تھی۔۔
ان کی ہم جماعت سدرہ کی شادی ہو رہی تھی۔۔ سب کلاس فیلو اس کی مہندی پر جمع تھے۔۔ زیادہ لڑکیاں ہی بلاٸیں تھی سدرہ نے اپنی جماعت میں سے۔۔ لیکن ارسل کیونکہ ایک نمایاں طالب علم تھا جماعت کا اور اس کے ساتھ دو اور لڑکے تھے جن کو اس نے اپنی شادی پر دعوت دے رکھی تھی۔۔
یار ۔۔ یہ تو میرا جینا حرام کر دے گا دیکھ دیکھ کر۔۔۔ نشا نے ایک نظر اپنے پرنظریں گاڑے کھڑے ارسل پر ڈالی۔۔۔ پھر بے چینی سے ارد گرد نظر دوڑاٸ۔۔۔ اور پھر سے نشا کے کان میں سرگوشی کر ڈالی۔۔۔
تو تمہیں کس نے کہا تھا اتنی زیادہ تیاری کے ساتھ آو۔۔ردا نے اپنے منہ کے آگے ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی کو روکتے ہوۓ شرارت سے نشا سے سرگوشی کی۔
نشا نے ایک دم سے اپنے آپ پر توجہ دی تھی۔۔۔ باٹل گرین رنگ کی فراک میں بڑا سا شنیل کا کامدار دوپٹہ اوڑھے۔۔۔ بالوں کو کھلا چھوڑے۔۔۔ اور کانوں میں ملتانی جھمکے ڈالے۔۔ وہ واقعی میں غضب ڈھا رہی تھی۔۔
نشا نے زور سے اس کے بازو پر چٹکی لی تھی۔۔ تم اس کی بھی اماں ہو۔۔ وہ تو جو ہے سو ہے۔۔ وہ روہانسی ہو رہی تھی۔۔ کیونکہ ارسل کی آنکھیں اسے اب اپنے دل کی دیواروں سے ٹکریں مارتی محسوس ہوتی تھیں۔۔۔
ہاۓ۔۔۔۔ بے چارہ۔۔ نشا مجھے تو ترس آنے لگا ہے اس پر اب ۔۔ یار دیکھ تو کیسی پرسنیلٹی ہے اس بندے کی اور دو سال سے تمھارے پیچھے خوار ہو رہا۔۔۔ردا نے افسوس سے سر داٸیں باٸیں گھومایا۔۔
تمہیں مجھ پر ترس آنا چاہیے یا اس پر۔۔۔ وہ ایک دم سے مصنوعی غصہ کرتے ہوۓ بولی۔۔۔ دیکھو میری حالت۔۔ وہ واقعی میں کنفیوز ہو رہی تھی۔۔۔
ارسل کی محبت سے لبریز آنکھیں اس کے دل کی دیواروں کی بنیادوں کو ہلا رہی تھیں۔۔۔
تم میری دوست ہو دیکھو نہ ۔۔ اب اس نے ایسے ہی دیکھے جانا اور مسکراۓ جانا بس۔۔۔ نشا نے دانت پیستے ہوۓ ارسل کی طرف دیکھ کر کہا جس کو کوٸ ہوش نہیں تھا۔۔۔
یا پھر اگر پاس آ گیا تو سر کھاۓ گا۔۔۔ چڑ کر ردا کے کان میں کہا جو بس منہ پر ہاتھ رکھے ہنسے جا رہی تھی۔۔۔
یار ریلکس ہو جاٶ میں ہوں نہ تمھارے ساتھ۔۔کھا تھوڑی نہ جاۓ گا۔۔۔ دیکھ ہی رہا ہے۔۔ ردا نے تھوڑا ڈانٹنے کے انداز میں کہا اور گھور کر نشا کو دیکھا۔۔۔
اچھا اب جلدی کرونہ بس تم ۔۔ مجھے اب ہاسٹل واپس جانا۔۔ ہے۔
مجھے ڈراپ کرتی ہوٸ جانا ۔
اوکے بابا ۔۔ سدرہ کو مہندی تو لگانے دو۔۔۔ردا اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جاتے ہوۓ بولی۔۔۔
***************
مظبوط بازو کی کلاٸی پر گھڑی تھی۔۔۔ اور ہاتھ میں سگریٹ سلگ رہا تھا ۔۔۔ ایک ہاتھ میں موباٸل پکڑے۔۔ وہ سگریٹ سے بے نیاز۔۔ اپنے موباٸل میں اسے دیکھنے میں مگن تھا۔۔۔ ۔ جو اس کی دل کی دنیا میں بستی تھی۔۔۔
کتنے ہی لمحوں کی تصاویر وہ اپنے موباٸل میں قید کر لایا تھا چار سال پہلے۔۔۔ جب وہ یہاں آیا تھا۔۔۔
ایک تصویر پر اس کا داٸیں سے باٸیں سکرین کو مسلتا انگوٹھا رک سا گیا تھا۔۔۔ کومیل کی شادی کی تصویر تھی شاٸد۔۔ کومیل اس کا بڑا بھاٸی تھا۔۔۔ اور وہ اس کے چچا کی بیٹی تھی۔۔۔
پیلے رنگ کے سوٹ میں وہ دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر دینے کی حد تک دلکش لگ رہی تھی۔۔۔
واسم بھاٸ۔۔۔ واسم بھاٸ۔۔۔ اس نے معصوم سے انداز میں اسے پکارا تھا۔۔۔ واسم کو اپنے عقب سے اس کی آواز سناٸ دی تھی۔۔
واسم تیزی سے وسیع و عریض لاونج میں گرتے زینے اترتا ہوا رکا تھا۔۔۔ پلٹا اور اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں میں بھر بھر کے مہندی لگاۓ کھڑی تھی۔۔ وہ کچھ بول رہی تھی اور واسم مبہوت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
واسم بھاٸ۔۔ میرے ہاتھوں پہ مہندی لگی ہے۔۔۔ یہ پھولوں کی ٹوکری میرے بازو میں ڈال دیں پلیز۔۔۔ وہ بچوں کی طرح کھڑی اس کی منت کرنے کے انداز میں کہہ رہی تھی۔۔۔
آ۔۔ ہاں۔۔ ہاں کیوں نہیں۔۔۔ وہ اس کے دوسری دفعہ بات دھرانے پر ایک دم جیسے ہوش کی دنیا میں لوٹا تھا۔۔۔
واسم نے زینے کے پاس پڑی پھولوں کی ٹوکری اٹھاٸ اور اس کے بازو میں ڈال دی تھی۔۔۔
وہ بچوں کی طرح خوش ہوٸ تھی۔۔۔ تھنکیو۔۔۔۔ اپنے ہونٹوں کو گول کرتے ہوۓ اس نے کہا تھا۔۔۔
یہ وہ پہلا لمحہ تھا جس میں وہ اس کے دل کے تاروں کو چھیڑ گٸ تھی۔۔۔
وہ اس کی تصویر کو دیکھتا ہوا ۔۔ اسی لمحے کو ایک بار پھر سے جی رہا تھا۔۔۔ چہرے پر گہری مسکراہٹ در آٸ تھی۔۔۔
********************
اس کے ہاتھ میں سگریٹ سلگ رہا تھا۔۔ پیشانی پر بال بکھرے تھے۔۔۔ سامنے سفید اور نیلے رنگ کے پتوں کے پرنٹ کے کاوچ پر وہ اپنی ٹانگوں کو کراس شکل میں رکھ کر موباٸل میں کچھ دیکھنے میں مگن تھا۔۔۔
وہ اس کی تصاویر لے رہی تھی۔۔۔ اس کے سفید ہاتھ آہستہ آہستہ کمیرے کے اوپر لگے ہوۓ بٹن کو دبا رہے تھے۔۔۔
وہ اس منظر کا ایک دل موہ لینے والا حصہ لگ رہا تھا۔۔۔ اور سوہا کو ایسے منظر قید کرنے کی عادت تھی۔۔۔ انجان لوگ جن کو نہ پتا ہو کہ وہ اس وقت کسی کی نظر میں ہیں ۔۔۔ ایسا ہی انجان اب وہ لڑکا تھا۔۔۔
آج اسے تیسرا دن تھا جس میں وہ پھر اسی لڑکے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس کا کیمرہ اس لڑکے کے مختلف پوز لے رہا تھا۔۔۔
افف۔۔ وہ کھویا ہوا تھا۔۔ اور اس کے انگلیوں میں سلگتا سگریٹ اب اس کی انگلی کی جلد تک پہنچنے ہی والا تھا۔۔۔
سوہا نے بے چینی سے اپنا ہونٹ کچلا تھا۔۔۔ کہاں کھوۓ ہو سگریٹ پھینک دو ہاتھ سے۔۔۔ وہ خود سے ہی بڑ بڑاٸ تھی۔۔۔
پر وہ تو مبہوت تھا۔۔۔
پھر ایک دم سے تڑپ کر اس نے سگریٹ کو چھوڑا تھا۔۔۔ اور جلدی سے اپنی انگلیاں اپنے منہ میں رکھ لی تھی۔۔۔
سوہا کے لب اس کے اس انداز پر مسکرا اٹھے تھے۔۔۔
کب سے تو کہہ رہی تھی۔۔۔ پاگل پھینک دو سگریٹ۔۔۔ وہ خود سے ہی بڑ بڑا کر مسکراٸ تھی۔۔۔
**************
میں چھوڑ آتا ہوں۔۔۔ ارسل پاس آ کر خوش دلی سے بولا تھا۔۔۔
ایک دم سے نشا نے ردا کو گھورتے ہوۓ آہستہ سے نہیں میں سر ہلایا۔۔۔
ردا کا ڈراٸیور انھیں لینے آ رہا تھا لیکن راستے میں اس کی گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے وہ اب نہیں آ رہا تھا۔۔ وہ دونوں پریشان حال کھڑی تھیں ۔۔ سدرہ کی مہندی ختم ہو چکی تھی اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔۔۔
ہاں تو ٹھیک ہے ارسل۔۔ مجھے گھر اور نشا کو ہاسٹل ڈراپ کرنا ہے ۔۔ ردا نے نشا کے گھورنے کو یکسر نظر انداز کرتے ہوۓ کہا۔۔ اور جلدی سے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر اسے پیچھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ وہ اس سرزنش کے انداز میں گھور رہی تھی۔۔۔
نشا نے برا سا منہ بنایا اور پیچھے سیٹ پر منہ پھولا کر بیٹھ گٸ تھی۔۔ وہ جتنا ارسل سے بچنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ اتنا ہی اس کہ زندگی میں گھستا چلا جا رہا تھا۔۔۔
ارسل نے بیک مرر کو نشا پر سیٹ کیا تھا۔۔ اس کی خوشی دیدنی تھی۔۔۔ آنکھیں چمک رہی تھیں۔۔۔ لب مسکرا رہے تھے۔۔ جن کو وہ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔۔
آپ آگے آ جاٸیں۔۔۔ بڑا محبت سے بھرا لہجہ تھا ارسل کا۔۔۔ وہ بیک مرر سے نشا کو دیکھتے ہوۓ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا۔۔
نشا کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا تھا۔۔ ہاتھ دل کے لرزنے کا ساتھ دینے لگے تھے۔۔۔
ردا کو اس کے گھر چھوڑنے کے بعد اب ارسل اسے کہہ رہا تھا کہ وہ آگۓ آ کر بیٹھ جاۓ۔۔۔ وہ ردا کے گھر کے مین گیٹ کے آگےکھڑے تھے۔۔۔
نہیں آپ۔۔ آپ۔۔ چلیں ہاسٹل مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ نشا نے بے چین ہو کر شانوں پر اپنا بھاری دوپٹہ درست کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
نہیں جب تک آپ آگے آ کر نہیں بیٹھیں گی میں بلکل بھی کار سٹارٹ نہیں کروں گا۔۔۔ وہ سٹیرنگ سے ہاتھ ہٹا کر اب سیٹ سے ٹیک لگا کر بچوں کی طرح ضد پر اتر آیا تھا۔۔۔
یہ کس کس طرح کی ضد ہوٸ بھلا۔۔۔ نشا کی زبان لڑ کھڑا گٸ تھی۔۔۔ ماتھے پر بل لاتے ہوۓ اس نے کہا ۔۔
بس اسی طرح کی ہوٸ۔۔ آپ آ ٸیں گی آگے یا پھر یہیں کھڑے رہنے کا ہروگرام ہے آج۔۔۔۔ اب وہ واقعی ضدی لہجے میں بولا تھا۔۔ جبکہ اس کے ہونٹ نشا کی حالت پر مسکراہٹ دبا رہے تھے۔۔۔
مجھے آپ یہں پر اتار دیں میں چلی جاٶں گی۔۔۔ نشا نے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولتے ہوۓ تھوڑا سختی سے کہا۔۔۔
سوچ لیں رات کا ایک بج رہا ہے۔۔۔ اور یہ سنسان سڑک ہے۔۔۔ ارسل نے شوخ لہجے میں کہا۔۔ آنکھوں میں اب شرارت بھری تھی۔۔۔
آپ ایک انتہاٸ چیپ انسان ہیں۔۔۔ وہ غصے سے بولی اور پچھلی سیٹ سے اتر کر اب وہ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول رہی تھی۔۔۔
جناب ۔۔۔ سو تو ہوں۔ ارسل نے لب بھینچ کر کہا اور گاڑی سٹارٹ کر دی تھی۔۔
اب ذرا جلدی چلاٸیں گے آپ۔۔۔ نشا نے ہاتھ کےاشارے سے ارسل کو منہ سیدھا رکھنے کے لیۓ کہا جو اسی پر نظریں ٹکاۓ بیٹھا تھا بس۔۔۔
جی جی اب تو فراٹے مارے گی۔۔۔ صیح جگہ پر صیح انسان جو بیٹھ گیا ہے۔۔۔ بڑی معنی خیز انداز میں کہا۔۔ اور ایک بھر پور نظر۔۔ اپنے ساتھ بیٹھی اس دلربا سی لڑکی پر ڈالی جو اس کی راتوں کی نیند آڑا چکی تھی۔۔۔
کار رات کے اندھیرے میں ۔۔لاہور کی سڑک پر فراٹے بھرتی ہوٸ چل رہی تھی۔۔ اور پھر ہاسٹل کے آگے ہی رکی تھی۔۔۔
نشا تیزی سے اتری تھی اور زور سے دروازہ مارتی ۔۔ ہاسٹل کے گیٹ میں گم ہو گٸ تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: