Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 30

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 30

–**–**–

ارسل وہ کہہ رہا تھا ایسا۔۔ نشا نے روتے ہوۓ چیخ کر کہا۔۔۔
جھوٹ بول رہی تمھاری بیوی۔۔۔ الزام لگا رہی مجھ پر۔۔۔ صدف نے دھاڑنے کے انداز میں کہا
ارسل آپ پوچھیں ۔۔۔ نشا نے ہچکیوں میں روتے ہوۓ کہا۔۔۔
آپ پوچھیں عادل سے ۔۔۔ اس نے مجھے خود بتایا کہ آنٹی کر۔۔و۔۔۔ا۔۔ رہی سب۔۔۔ اس کے لفظ بھی زبان سے ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے۔۔۔
مما ۔۔ ارسل نے تڑپ کر اپنی ماں کی طرف دیکھا۔۔۔
عادل بولو بتاٶ۔۔۔ نہ سب ارسل کو۔۔۔ نشا نے چیختے ہوۓ خاموش کھڑے عادل سے کہا۔۔
عادل بتاٶ تم۔ ۔۔۔ صدف نے بھی دھاڑنے کے سے انداز میں کہا۔۔۔
بھابھی نے ہی مجھے بلایا تھا۔۔۔ کمرے میں۔۔۔ عادل نے سر جھکا کر گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔
ارسل جھوٹ بول رہا یہ۔۔۔ میں اسے خود دھکا دے کر آٸ تھی کمرے میں۔۔۔ نشا نے بے یقینی سے عادل کی طرف دیکھا اور چیختے ہوۓ بھاری آواز میں کہا۔۔۔
نکالو اس بدبخت کو طلاق دے کر۔۔۔ تمھاری ماں پر الزام لگا رہی ۔۔۔صدف نے غصے میں دھاڑتے ہوۓ ۔۔۔ ارسل کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
ارسل سر پکڑ کر پاس پڑے صوفے پر ڈھے گیا تھا۔۔۔
نکلو یہاں سے۔۔۔ خود ایسے کردار کی ہو اور جب پکڑی جاتی ہو تو فورا الزام کس اور پر۔۔۔ صدف نے نشا کا بازو دبوچ کر اسے کھینچا تھا۔۔۔
الزام میں نہیں آپ مجھ پر لگا رہی ہیں۔۔۔ نشا نے خونخوار نظروں سے صدف کو دیکھا اور پوری قوت سے بازو جھٹکا۔۔۔ وہ ہل کر رہ گٸ تھی۔۔۔
ارسل آپ کچھ بولتے کیوں نہیں چپ کیوں بیٹھے ہیں۔۔۔ نشا کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لیا ہو۔۔۔
پتہ نہیں ایک لمحے کے لیے۔۔۔ اس کی نظروں کے سامنے واسم کا سب کو یقین دلاتا چہرہ گھوم گیا تھا۔۔۔
تم زانی اور شرابی ہو۔۔۔ میں تم سے شادی نہیں کر سکتی۔۔۔ نشا کانپ گٸ تھی۔۔۔
تڑپ کر ارسل کی طرف دیکھا جو سر جھکاۓ بیٹھا تھا اور اس کی ماں اسے دھکے دے رہی تھی۔۔۔
دنیا مکافات عمل ہے۔۔۔ نشا کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔۔
جو لڑکی تمھیں پھنسا سکتی ہے اس کے لیے کسی اور پر ڈورے ڈالنے مشکل نہیں۔۔۔صدف ارسل کے سر پر کھڑی ہو کر چیخی تھی۔۔
نکلو تم بھی اور یہ عادل بھی۔۔۔ نکلو دونوں۔۔۔ صدف زور سے بولی۔۔۔ اور نشا کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔۔
مما ۔۔۔ ارسل ایک جست میں کھڑا ہوا اور صدف کا ہاتھ پکڑ کرایک طرف کر دیا۔۔۔
نشا کہیں نہیں جاۓ گی۔۔۔ مجھے اپنی بیوی پر بھروسہ ہے۔۔۔ ارسل نے نشا کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔
نشا نے ایک دم سے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
میں جانتا ہوں میری بیوی کیسی ہے۔۔۔ اس کے لیے مجھے عادل جیسے کسی بھی شخص کی گواہی نہیں چاہیے۔۔۔ارسل نے ایک محبت بھری نظر ساتھ کھڑی نشا پر ڈالی تھی۔۔۔
جس لڑکی کے پیچھے میں دو سال خوار ہوا۔۔۔ وہ مجھے کیا کسی کو بھی دیکھتی تک نہیں تھی۔۔۔ جو میرے لیے اپنے پورے خاندان سے لڑ پڑی۔۔۔ارسل نے نشا کا ہاتھ مظبوطی سے پکڑ کر اپنی حیران کھڑی ماں کی طرف دیکھا۔۔۔
میں آج ایک پل میں اس کی ساری وفاٸیں بھلا کر ایک انجان شخص کی بات پر یقین کر لوں گا یہ کیسے سوچا آپ نے۔۔میں نشا سے پیار سے زیادہ اعتبار کرتا ہوں۔۔۔ وہ بول رہا تھا اور نشا بس اس کا چہرہ دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
عادل تم اسی وقت میرے گھر سے نکل جاٶ۔۔۔ اور پھر کبھی میں یہاں تمھاری شکل نہ دیکھوں۔۔۔ ارسل نے دانت پیس کر خونخوار نظروں سے عادل کی طرف دیکھا۔۔
**************
صاب۔۔۔صاب۔۔۔ واسم کو اندھیرے کمرے میں آواز سناٸ دی تھی۔۔۔
تم۔۔ اس وقت۔۔۔ آنکھیں اٹھا کر اوپر دیکھا تو عزرا اپنے دس سال کے لڑکے کا ہاتھ پکڑے کھڑی تھی۔۔۔
وہ سوہا کو اس کے کمرے میں دھکا دے کر اپنے کمرے میں آیا تھا ۔۔۔ اور تب سے وہ اندھیرے کمرے میں بیٹھا سوہا کی دماغی حالت کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔
وہ ایک ذہنی مریضہ ہے۔۔ اس پر الزام لگانا ۔۔۔ سب پر الزام لگانا اسے پتہ نہیں یہ عادت تھی۔۔۔۔۔ وہ ہمیشہ ماں کے بنا رہی پتہ نہیں کیا کچھ اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوا ہو گا۔۔۔ اسے ڈر لگتا ہر کسی سے وہ ہر مرد حتی کہ میرے بارے میں بھی ایسا ہی سوچتی تھی۔۔۔
صاب ۔۔۔ صاب مجھے معاف کر دو صاب۔۔۔ عزرا نے واسم کے آگے ہاتھ جوڑے تھے۔۔۔
کیا ہے۔۔۔ کیا کہہ رہی ہو۔۔۔ واسم نے الجھی سی نظر ڈالی تھی اس پر۔۔۔
صاب بی بی سچ بولی تھی جو بھی بولی۔۔۔ میرا مرد جھوٹ بولا۔۔۔ عزرا روتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔۔۔ وہ بار بار اپنا ناک اور آنکھیں پونچھ رہی تھی۔۔۔
کیا کہہ رہی ہو۔۔۔ واسم ایک دم سے جیسے ہوش میں آیا تیزی سے آگے آیا اور غرانے کے انداز میں پوچھا۔۔۔
صاب وہ کل سے میرے بچے کو کہیں چھوڑ آیا تھا۔۔۔ بولا اگر تم میرا ساتھ نہیں دو گی تمہیں طلاق دے دوں گا اور بچہ بھی نہیں دوں گا کبھی۔۔۔ وہ بلکتے ہوۓ اپنی مجبوری بتا رہی تھی۔۔۔
اور واسم کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔
صاب میں مجبور تھی مجھے معاف کر دو۔۔۔وہ دونوں ہاتھ جوڑے رو رہی تھی۔۔۔
اور واسم ساکن کھڑا تھا۔۔۔
صاب ابھی وہ میرا بچہ لے کر آ گیا ہے۔۔۔ میں اس کو سوتا چھوڑ کر آٸ ہوں۔۔۔ عزرا نے پاس کھڑے بیٹے کو سینے سے لگایا۔۔۔
جب یہ واقع ہوا تھا اس وقت شام کے سات بجے تھے اور اب رات کا ایک بج رہا تھا ۔۔۔ واسم نے گھڑی پر نظر ڈالی۔۔۔
صاب میں اپنے بچے کو لے کر جا رہی مجھے نہیں رہنا ایسے آدمی کےساتھ۔۔۔ وہ غصے اور حقارت سے بولی تھی۔۔۔
آپکی بیوی صیح بولی تھی۔۔ اس کا کوٸ لفڑا تھا پہلے سے۔۔۔ بی بی بہت اچھی صاب۔۔۔ عزرا نے ہاتھ جوڑے تھے۔۔۔
رکو۔۔۔ تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ اپنے بچے کو لے کر سوہا بی بی کے پاس جاٶ۔۔۔ واسم نے جلدی سے جیب سے موباٸل نکال کر کال ملاٸ تھی۔۔۔
**************
صاب صاب بی بی گھر میں نہیں ہے۔۔۔عزرا بھاگتی ہوٸ واسم کے پاس آٸ تھی۔۔۔
وہ جاوید کو پولیس کے حوالے کر کے آیا تھا۔۔۔ وہ بہت آرام سے سرونٹ کوارٹر میں سویا ہوا تھا۔۔۔ واسم نے جا کر گربیان سے اٹھایا تھا۔۔۔ واسم اس پر گھونسے جڑ رہا تھا اور اس کی کمینی شکل پر بد حواسی چھاٸ تھی کہ یہ آخر ہوا کیا ہے۔۔۔
پولیس انسپکٹر نےواسم کو اسے زیادہ مارنے نہیں دیا تھا اور وہ اسے پکڑ کر لے گۓ تھے۔۔۔ وہ یہ سب کام ختم کر کے ابھی اندر داخل ہی ہوا تھا کہ عزرا بھاگتی ہوٸ آٸ تھی۔۔
کیا مطلب ۔۔۔ واسم کے چہرے پر اب تھکاوٹ کے ساتھ پریشانی در آٸ تھی۔۔۔ وہ جو ابھی سوچتے ہوۓ آ رہا تھا کہ سوہا سے جا کر کس طرح بات کروں گا ایک دم بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا تھا۔۔۔ وہ کس وقت گھر سے نکلی۔۔ اسے تو خبر بھی نہیں ہوٸ۔۔۔
صاب آپ نے جب بولا تھا میں تب ہی اندر آ گٸ تھی۔۔۔ لیکن بی بی اپنے کمرے نہیں تھی۔۔۔ عزرا بھی پریشان لگ رہی تھی۔۔
تم اچھی طرح چیک کرو گھر میں ہی ہو گی وہ کہاں جا سکتی وہ تو یہاں کسی کو نہیں جانتی۔۔۔واسم جلدی سے اپنا موباٸل جیب سے نکالتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
کال بھی نہیں اٹھا رہی ۔۔۔ وہ بار بار اسے کال کر رہا تھا۔۔۔ لیکن سوہا کال نہیں اٹھا رہی تھی۔۔
کیا مصیبت ہے۔۔۔ واسم نے غصے سے موباٸل بیڈ پر اچھالا تھا۔۔۔
اب کہاں تلاش کروں۔۔۔ واسم کمر پر ہاتھ رکھے کھڑا لب کچل رہا تھا۔۔۔
مری تو نہیں چلی گٸ اکیلی۔۔۔ اس سوچ نے اسے اور پریشان کر دیا تھا۔۔۔
***************
ارسل مجھے نہیں رہنا یہاں۔۔۔۔ نشا نے روہانسی آواز میں کہا ۔۔۔ اور چہرہ اوپر اٹھا کر ارسل کی طرف دیکھا۔۔۔
بس نشا۔۔۔ بس۔۔۔ میں ہوں نہ تمھارے ساتھ۔۔ ارسل نے اس کے آنسو صاف کیے تھےاور پھر سے اس کے سر کو اپنے سینے پر ٹکا لیا تھا۔۔۔
لیکن مجھے آپکی مما کے ساتھ نہیں رہنا اب پلیز۔۔۔ نشا نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
اوکے ۔۔۔ اوکے ۔۔۔ میں تمہیں۔۔۔ اسفند ولاز چھوڑ آتا ہوں۔۔۔۔کچھ دن کے لیے۔۔۔ ارسل اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو رہا تھا۔۔
اگر مجھے یہاں رکھنا ہے تو تمھاری مما نہیں رہیں گی یہاں۔۔۔ نشا نے غصے سے کہا۔۔۔
نشا پلیز۔۔۔ وہ میری مما ہیں۔۔۔ ارسل نے سر نیچے جھکا کر التجا کے انداز میں کہا۔۔۔
لیکن میں ان کو معاف نہیں کروں گی۔۔۔ نشا نے غصے کی آخری حد کو چھوتے ہوۓ کہا
اچھا۔۔۔۔ مت کرنا۔۔۔پلیز۔۔۔ اب سٹرس مت لو۔۔۔ ارسل نے محبت سے اس کا گال تھپتھایا تھا۔۔
مجھے اسی وقت مما پاس جانا ہے۔۔۔ پلیز مجھے یہاں نہیں رہنا ہے۔۔۔ نشاکی سانس اکھڑنے لگی تھی۔۔۔
اوکے ۔۔۔اوکے۔۔۔ چلو۔۔۔ چلو۔۔ رونا نہیں زیادہ۔۔۔ ارسل اسے بار بار رونے سے منع کر رہا تھا۔۔۔
**************
کیسے ہیں آپ۔۔۔ واسم نے سلام کرنے کے بعد پوچھا۔۔ اس نے اپنی آواز پر کنٹرول کر رکھا تھا لیکن شکل ابھی بھی پریشان تھی۔۔۔ رات سے صبح ہو گٸ تھی لیکن سوہا اسے نہیں ملی تھی ہر جگہ تلاش کیا تھا۔۔۔ سٹیشن ۔۔۔ بس سٹینڈ ۔۔۔کال بھی نہیں اٹھا رہی تھی۔۔۔
خیریت سے بیٹا۔۔۔ آغا جان نےخوش دلی سے جواب دیا تھا۔۔۔
تم کیسے ہو۔۔۔اور سوہا۔۔ کیسی ہے۔۔۔ انھوں نے خوش دلی سے پوچھا تھا۔۔۔
ٹھ۔۔ٹھیک آغا جان ۔۔۔ واسم گڑ بڑا گیا تھا۔۔
اور سب خیریت آغا جان گھر پر۔۔۔اسے اپنی آواز کہیں دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ تھی۔۔۔
جی جی بلکل خیریت بس تمھاری اور سوہا کی بہت یاد آتی۔۔۔ میں نے اور عشرت نے سوچا ہےکہ ایک دو دن تک آ کر ملتے ہیں تم دونوں سے۔۔۔ وہ محبت بھرے لہجے میں گویا ہوۓ تھے۔۔۔
بس آغا جان پچھلا ویکنڈ کچھ بزی گزرا تھا۔۔۔۔ چکر نہیں لگا سکا۔۔۔اوپر والے ہونٹ کو پریشانی میں دانتوں میں جکڑا۔۔۔
آپکو سوہا کی کال نہیں آٸ۔۔۔ کان کھجاتے ہوۓ سوال کیا۔۔۔
نہیں کل سے نہیں آٸ کل صبح بس آٸ تھی۔۔ کافی خوش تھی ما شا اللہ۔۔۔ ایسے ہی خوش رکھنا بیٹا اسے۔۔۔ وہ قہقہ لگا رہے تھے
اس کی نادانیاں اس کی کم عمری سمجھ کر معاف کر دو بیٹا۔۔۔ وہ تم سے بہت محبت کرتی ہے۔۔۔ اور محبت چاہت کرنے والی بیوی خوش نصیب مردوں کو ملتی ہے۔۔۔ آغا جان نے محبت سے کہا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 3

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: