Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 31

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 31

–**–**–

جی۔۔۔واسم نےگھبراٸ سی آواز میں کہا۔۔۔
میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں۔۔۔ واسم کو اپنی آواز کہیں دور سے آ تی ہوٸ محسوس ہوٸ تھی۔۔۔
****************
واسم بھاٸ۔۔۔ واسم کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
واسم حیرانی سے مڑا تھا۔
ارحم۔۔۔ ارحم نے نام بتاتے ہوۓ مصاحفہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھا تھا۔۔۔
اسی کو تلاش کر رہاتھا وہ کب سے۔۔۔ دوپہر کو پھر سے میرب کو بھی کال کی تھی ۔۔ باتوں سے اندازہ لگایا کہ وہ مری نہیں پہنچی دل کی بے چینی اور بڑھ گٸ تھی۔۔۔ ہاتھ پاٶں پھولنے لگے تھے۔۔پھر ذہن میں اس کا یہ کلاس فیلو آیا تھا۔۔۔سوچا تھا اس کے نمبر سے کال کرواۓ گا یا پھر شاٸد اسی کے پاس نہ گٸ ہو۔۔۔بہت دیر اسے تلاش کرتے رہنے کے بعد اب وہ تھک کر کھڑا تھا۔۔۔ جب اچانک اس نے آ کر کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
کیسے ہیں آپ۔۔۔۔ اور آپ نہیں آۓ سوہا کے ساتھ۔۔۔تایا اکبر آۓ ہیں نہ رات ۔۔۔ وہ خوش دلی سے مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
وہ ۔۔۔ وہ ۔۔۔ بس کچھ مصروفیت تھی۔۔۔۔ ابھی چلتا ہوں تمھارے ساتھ۔۔۔ واسم نے تھوڑی نا سمجھی میں گڑ بڑا کر کہا۔۔ اچھا تو سوہا ان کے گھر ہے۔۔۔ واسم نے شکر کا سانس لیا تھا۔۔۔ دل میں ایک پھانس تھی رات کی۔۔۔ ہر لمحہ ایک نیا وسوسہ اسے گھیر رہا تھا۔۔۔ کٸ بار جا کر اکبر سے بھی پوچھ تاچھ کروا چکا تھا۔۔۔بال بکھراۓ وہ پینٹ کوٹ میں ملبوس پریشان حال ٹرین کے گزر جانے کے بعد کا وہ مسافر لگ رہا تھا جس کی ٹرین چھوٹ جاتی ہے۔۔۔
ارے واہ۔۔۔ یہ تو گڈ ہو گیا۔۔۔ ارحم نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔
میری گاڑی میں آ جاٶ۔۔۔۔ ارحم اپنی باٸک کی طرف بڑھا تو واسم نے پیچھے سے آواز دی ۔۔۔ وہ مسکرا کر پلٹا تھااور باٸک کی چابی جیب میں رکھ چھوڑی تھی۔۔۔
تو تم سوہا کے۔۔۔ واسم نے کار ڈراٸیو کرتے ہوۓ ۔۔ سوالیہ اانداز میں پوچھا۔۔۔
اس کے چچا کا بیٹا۔۔۔۔ ارحم۔۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
ایک دو دفعہ بس ناٸل سے ذکر سنا ہوا تمھارا۔۔۔ مسکرا کر ارحم کی طرف غور سے دیکھا۔
اچھا۔۔۔پر میں آپ کےبارے میں بہت کچھ جانتا ہوں۔۔۔ ارحم نے خوشی اور جوش کے ملے جلے تاثر میں کہا۔۔۔۔
مطلب۔۔۔ واسم نے اپنے مخصوص انداز میں بھنویں اچکاٸ تھیں۔۔۔
مطلب یہ کہ سوہا کے پاس آپ کی باتوں کے علاوہ کچھ ہوتا ہی نہیں۔۔۔ ارحم نے ہنستے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اچھا۔۔۔ واسم نے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔ اور آنکھیں تھوڑی سکیڑ لی تھیں۔۔۔لبوں پر زبردستی کی مسکراہٹ سجاٸ۔۔۔
یہاں سے آگے کہاں جانا۔۔۔۔ واسم نے ہاتھ کے اشارے سے ارحم سے گلی کا پوچھا تھا۔۔۔
*************
انکل ۔۔ آپ سے کچھ باتیں میں ۔۔ میرا مطلب میں کچھ باتیں سوہا کے مطلق جاننا چاہتا ہوں۔۔۔ واسم نے ہونٹوں پر زبان پھیر کر کہا۔۔۔ جبکہ اس کے ہاتھ گلے میں لگی ٹاٸ کو ڈھیلا کر رہے تھے۔۔۔ اور چہرے پر تھکاوٹ کے ساتھ پریشانی تھی۔۔۔
وہ اس ایک رات اور ایک دن میں لگاتار سوہا کے بارے میں سوچتا رہا تھا۔۔۔
کچھ ایسا ہے سوہا میں۔۔۔ جو ہمارے رشتے میں حاٸل ہو رہا ہے۔۔۔واسم نے نظریں جھکا کر ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں کہا۔۔۔
آنکھیں تھکاوٹ سے بوجھل تھیں۔۔لہجہ ٹوٹا سا تھا۔۔۔ ٹاٸ کی ناٹ ڈھیلی کی تو وہ گلے میں جھول رہی تھی۔۔۔
وہ ڈراٸنگ روم میں اکبر کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ سوہا روکھے سے انداز میں سلام کرنے کے بعد جا چکی تھی۔۔۔ اس نے نظر اٹھا کر واسم کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا۔۔۔
اکبر کو بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ ان میں کو ٸ ناراضگی چل رہی ہے۔۔۔ اسی کے بارے میں پوچھا تو واسم نے ان سے سوہا کے بارے میں سوال کر لیا۔۔۔
اس کی شخصیت نارمل انسانوں جیسی ہر گز نہیں ہے۔۔۔ میں جاننا چاہتا ہوں وہ ایسی کیوں ہے۔۔۔ واسم نے نظر اٹھا کر اکبر کی طرف دیکھا۔۔۔
اکبر کا چہرہ ایک دم سے افسردگی کا شکار ہوا تھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ درست کہہ رہے ہو بیٹا۔۔اکبر نے کچھ دیر گہری خاموشی کے بعد گھٹی سی آواز میں کہا تھا۔۔۔
۔اس کی یہی عادتیں مجھے بھی ہمیشہ سے پریشان رکھتی تھیں۔۔ لیکن میں جانتا ہوں وہ ایسی کیوں تھی۔۔۔۔ اکبر نے افسردہ سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا۔۔۔
پھر خاموشی تھی دونوں نفوس میں۔۔۔ واسم ہم تن گوش تھا چہرے پر کچھ جاننے کی چاہ تھی۔۔۔
بچپن میں بہت چھوٹی کو پاکستان یہاں اظہر کے پاس چھوڑ گیا تھا۔۔۔ تیرہ سال کی تھی تو اس کے ساتھ یہاں اس کی چچی کے بھاٸ نے اسےجنسی حراساں کیا اس نے اس کی آنکھ زخمی کر دی تھی خود کو بچانے کے لیے۔۔۔ اکبر نے گردن نیچے گرا کر شرمندگی سے کہا۔۔۔
کیا اس کا نام جاوید تھا۔۔۔ واسم چونک گیا تھا۔۔ انکھیں اپنے حجم سے بڑی ہوٸ تھیں۔۔۔ اور رونگٹے کھڑے ہوۓ تھے۔۔۔
واسم میں اس کو جانتی ہوں یہ میری چچی کا بھاٸ ہے۔۔۔ پلیز میری بات کا یقین کرو۔۔۔ سوہا کی آواز ذہن میں باز گشت کر رہی تھی۔۔اور واسم کی گردن جھک گٸ تھی۔۔۔
یہاں کسی نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا۔۔۔ میں تو باپ تھا ڈر گیا اور اسے ساتھ لے گیا ۔۔۔ اکبر واسم کی حالت سے بے خبر اپنی بات جاری رکھے ہوۓ تھا۔۔۔
وہاں اس کے سکول کے ٹیچر البرٹ نامی شخص نے اسے بہت بری طرح حراساں کیا۔۔۔میں نے اسے بورڈنگ بھیج رکھا تھا ۔۔۔ اور اس سے بات بھی بہت کم کرتا تھا۔۔۔ اکبر کی آواز میں پچھتاوا تھا شرمندگی تھی گزرے وقت کی کوتاہی کا غم تھا۔۔
اس نے اس کلاس ٹیچر کا بھی سر زخمی کر دیا تھا۔۔ جس پر انھوں نے سکول سے نکال دیا تھا اسے۔۔۔وہ سوہا کے ساتھ ہوۓ وہ سارے واقعات واسم کو بتا رہے تھے جس کی وجہ سے وہ اس حال تک پہنچی تھی۔۔۔
پھر ۔۔۔ میرے گھر میں میری بیوی کا ایک بیٹا تھا پیٹر۔۔ وہ اس سے خاٸف رہنے لگی۔۔۔ اس کی حالت سے پریشان ہو کر میں نے اسے پاکستان بھیج دیا تھا۔۔۔۔ اب پھر اکبر کی گردن اٹھ کر جھک گٸ تھی۔۔۔
پھر سے گہری خاموشی تھی۔۔۔ واسم ہونٹوں پر دو انگلیاں پسٹل کی شکل میں جوڑ کے رکھے ہوۓ پر سوچ انداز میں بیٹھا تھا۔۔۔ ہر گزرا لمحہ دماغ میں کڑی سے کڑی ملا رہا تھا۔۔۔لندن میں اس کی اور کیرن کی باتیں سننے کے بعد سوہا کا بدل جانا۔۔۔ جیدی سے خوف کھانا۔۔۔ ان سب میں بس ایک بات نے اس کے دل کو تسلی دی تھی کہ سوہا اس سے خاٸف نہیں تھی اب وہ اس کو اپنی پناہ گاہ سمجھتی تھی۔۔۔ لیکن کل جو اس کے ساتھ اس نے سلوک کیا تھا اس سے وہ بری طرح ٹوٹی تھی ۔۔۔
انکل یہ خلا اس میں محبت اور تحفظ کی کمی کی وجہ سے آیا ہے۔۔۔۔۔ کچھ دیر کی خاموشی کو واسم کی گھمبیر آواز نے توڑا تھا۔۔۔
دراصل جب ماں باپ الگ ہونےلگتے ہیں وہ ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچتے کہ وہ وجود کیا کرے گا جو ان دونوں سے مکمل ہوا ہے۔۔۔ واسم کی آواز میں سوہا کے لیے درد تھا۔۔۔ وہ دونوں نفوس کا طلبگار ہوتا ہے۔۔۔ دونوں کی توجہ اور چاہت کا۔۔۔۔ اور یہاں تو اسے کسی کی بھی نہ ملی۔۔۔ اچانک دل سوہا کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنے لگا تھا۔۔ واسم کی آواز میں غم اور غصہ تھا۔۔۔
اور ان سب باتوں کی وجہ سے پتہ ہے کیا۔۔۔ اس نے اکبر کی طرف خفا سی شکل بنا کر دیکھا۔۔
وہ میری محبت سے بھی محروم رہی۔۔۔ اسے تحفظ کا احساس چاہیے تھا جو میں بھی نہ دے سکا اسے۔۔۔ واسم کی آواز میں شرمندگی تھی۔۔۔
آپکو چاہیے تھا ۔۔۔ آپ یہ ساری باتیں مجھے بتاتے جب آپکو ہمارے رشتے کا علم ہوا تھا۔۔۔ واسم نے روہانسی آواز میں کہا۔۔۔
اپنے سارے ظلم یاد آ گۓ جو اس نے اس کی نادانی کی سزا میں اسے دے ڈالے تھے۔۔۔ وہ معصوم تھی ہمیشہ سے۔۔۔
میں اس کے چہرے پر تمھارے لیے محبت دیکھ کر خوش ہو گیا تھا۔۔۔ میں سکون میں تھا کہ وہ جو چاہتی تھی اسے مل گیا ہے۔۔۔اکبر نے التجا والے انداز میں اپنی صفاٸ دی تھی۔۔۔
واسم پھر بھی پریشان حال منہ پر ہاتھ رکھے بیٹھا تھا۔۔
مجھے معاف کر دو بیٹا۔۔۔۔ اکبر نے جز بز سا ہو کر کہا تھا۔۔۔۔
سوہا کو بلاٸیں میں اسے لینے آیا ہوں۔۔۔۔ واسم نے اپنے آنکھوں کے نم کونوں کو صاف کیا اور تھوڑا نارمل ہونے کے انداز میں کہا۔۔۔
ہم۔۔۔ میں ابھی بلا کر لاتا ہوں۔۔۔ اکبر بھی آنکھوں کو صاف کرتے ہوۓ ۔۔۔ پر جوش انداز میں مسکراتے ہوۓ اٹھے تھے۔۔۔
اور واسم اپنے سامنے سجے لوازمات پر بے دھیانی میں نظریں جماۓ بیٹھا تھا۔۔۔
کہا تو ہے ۔۔۔ مجھے نہیں جانا ابھی ۔۔۔ ان سے آپ خود ہی کہہ دیں۔۔ دروازے کی اوٹ سے واسم کو سوہا کی سختی سے کہے ہوۓ الفاظ سناٸ دے رہے تھے۔۔
نہیں تم کہو گی۔۔۔ چلو اندر۔۔ اکبر شاٸد زبردستی اسے لا رہے تھے۔۔۔
آپ ۔۔۔ چلے جاٸیں۔۔۔ میں ابھی بابا پاس رہنا چاہتی ہوں ۔۔۔ سختی سے سپاٹ چہرے کے ساتھ کہا۔۔۔
واسم نے گہری نظر سے دیکھاتھا۔۔۔ سیاہ رنگ کے جوڑے میں ملبوس ۔۔دمکتی رنگت کے ساتھ ماتھے پر بل ڈالے وہ اس کے دل میں اتر رہی تھی۔۔۔دل تو کر رہا تھا کھینچ کر اسے اپنے ساتھ لگاۓ اور اس کے سارے غم اپنی محبت سے دھو ڈالے اپنے کیے گۓ تمام مظالم کے کفارے میں کتنی ہی مہریں ثبت کر ڈالے۔۔
وہ۔۔۔ آغا جان اور پھپھو ملنےآ رہے تھے تو۔۔۔ واسم نے دھیمے سے لہجے میں کہا۔۔۔
ان سے میں بات کر لوں گی۔۔۔ سوہا نے واسم کو دیکھے بنا سختی سے کہا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ اوکے۔۔۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا۔۔۔
بابا کھانا لگا دیا ہے۔۔۔ان سے کہیں آ جاٸیں۔۔۔ سوہا سختی اور خفگی سے کہتی ہوٸ واسم پر ایک بھی نظر ڈالے بنا باہر چلی گٸ تھی۔۔۔
ناراضگی میں بلکل اپنی ماں پر ہے۔۔۔بہت سخت ناراض ہوتی ہے۔۔۔ اکبر نے شرارت سے واسم کو کہا۔۔۔
جی۔۔۔واسم نے زبردستی چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کہا۔۔۔
کھانے کی میز پر سوہا اور ارحم موباٸل میں کچھ دیکھ رہے تھےاور آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے۔۔۔
سامنے بیٹھے واسم کے بار بار پہلو بدلنے سے یکسر بے نیاز۔۔۔سوہا جان بوجھ کر دیکھ ہی نہیں رہی تھی۔۔۔
واسم زبردستی چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ۔۔۔ کبھی اظہر کو دیکھ رہا تھا کبھی اکبر کو۔۔۔ اور پھر کن اکھیوں سے سامنے بیٹھی سوہا کو

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: