Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 32

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 32

–**–**–

بس اتنا سا کچھ تو اور لو واسم ۔۔۔اکبر نے واسم کو ہاتھ پونچھتے دیکھ کر خفا سے انداز میں کہا۔۔۔
نہیں انکل۔۔بس اتنا ہی کھاتا ہوں۔۔۔ گہری مسکراہٹ چہرے پر سجا کر لبوں کو ٹشو سے صاف کیا۔۔۔اور پھر سے ایک اچٹتی سی نظر سامنے منہ پھولاۓ بیٹھی سوہا پر ڈالی۔۔
اتنا سا کھاتا ہوں۔۔۔ اللہ اللہ جھوٹ تو دیکھو۔۔۔ مجھے پتہ ہے کتنا کھاتے ۔۔ سوہا نے واسم کے جھوٹ پر جل کر سوچا۔۔
کب سے اس کی گہری نظروں کی تپش الجھن کا شکار کر رہی تھی۔۔۔ اب جاوید کی حقیقت کھل جانے پر محترم لینے آ گۓ ہیں۔۔ بات تو تب تھی اگر اسی لمحے مجھ پر یقین کیا ہوتا اور اسکے منہ پر میرے سامنے تھپڑ رسید کیے ہوتے۔۔آ گۓ ہیں اب مجھ پر ترس کھانے۔۔۔ واسم نے سوہا کو مسیج پر جاوید کی گرفتاری کی اطلاع دے دی تھی۔۔۔ جس کا کوٸ بھی جوابی مسیج دینا اس نے مناسب نہیں سمجھا تھا۔۔۔
سوہا میٹھا لے کر آٶ۔۔۔ اکبر نے اونچی آواز میں کہا۔۔۔
وہ ایک دم خیالوں سے باہر آٸ تھی۔۔
نہیں انکل اب کہاں گنجاٸش۔۔۔ سوہا کو اٹھتے دیکھ کر فورا واسم نے التجاٸ آواز میں کہا۔۔۔
صیح کہہ رہے بابا یہ ان کو میٹھا پسند نہیں۔۔ طنزیہ لہجے میں سوہا نے کہا تھا جب کے صورت پر زمانے بھرکی سختی در تھی۔۔
واسم نے چونک کر دیکھا تھا۔۔۔۔اور پھر آنکھیں سکیڑ لی تھیں۔۔۔ بھنویں اچکاٸ تھیں۔۔۔ کیونکہ سوہا اچھی طرح جانتی تھی کہ اسے میٹھا بے حد پسند تھا اور وہ کھانے کے بعد میٹھا کھانے کا شوقین تھا۔۔۔ اس نے تو مروت میں ایک دفعہ منع کیا تھا۔۔۔
جانے دیں کافی دور جانا ہے انھیں۔۔۔۔۔۔ پھر سے معنی خیز انداز میں طنز کیا تھا سوہا نے جب کے بازو وہ اپنے سینے پر باندھے کھڑی تھی۔۔۔
تو مت جاٶ بیٹا رک جاٶ یہیں۔۔۔ اکبر نے پیار سے واسم کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
سوہا نے ایک دم سے اکبر کو گھور کر دیکھا۔۔۔ اور اسی لمحے واسم کی نظر بھی پڑی۔۔۔
نہ۔۔۔ نہیں انکل پھر کبھی۔۔۔ واسم نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ۔۔۔ اور ایک نظر خفا سی اس لڑکی پر ڈالی جو اس سے صرف اس سے محبت کرتی تھی۔۔۔ یہی ہی مان اس کے دل کو تسکین دے گیا تھا۔۔۔
اب پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ اکبر کے ساتھ پلٹا تھا۔۔۔
سوہا نے اب جا کر بھر پور نظر ڈالی تھی۔۔۔ اس کے بابا سے لمبا قد تھا اور گردن تھوڑی سی جھکا کر بڑے معدب انداز میں ان کی کوٸ بات سن رہا تھا۔۔۔۔۔
سوہا نے آہستہ سے قدم کمرے کی جانب موڑ دیے تھے۔
***************
ہیلو۔۔۔ تھوڑی پریشان سی آواز ابھری تھی واسم کی۔۔۔ اس نے نشا کے نمبر کو حیرانی سے دیکھتے ہوۓ اٹھایا تھا۔۔۔زندگی میں پہلی دفعہ اس کی کال آٸ تھی۔۔۔
ہیلو واسم ۔۔ میں نشا۔۔۔ نشا نے تھوڑی شرمندہ سی آواز میں دھیما لہجہ اپناتے ہوۓ کہا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ پہچان لیا ہے میں نے۔۔۔ خیریت تو ہے۔۔۔ واسم ابھی بھی حیرت میں ہی مبتلہ تھا۔۔
وہ ابھی بنک سے گھر واپس لوٹا ہی تھا۔۔۔ دروازہ کھولتے ہی سامنے سوہا کے کمرے پر نظر پڑی جہاں سے وہ مسکراتی ہوٸ آتی تھی جب وہ بنک سے لوٹتا تھا۔۔۔
پھر کچن کی کھڑکی میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔۔ اور پھر کمرے میں اس کے بیڈ پر بیٹھی مسکرا رہی تھی وہ اسے ہر جگہ نظر آ رہی تھی۔۔۔ وہ اسے یاد آ رہی تھی۔۔۔ اسکی یادوں میں گم بیٹھا اپنے دل کی حالت کو سمجھنےکی کوشش میں لگا تھا جب نشا کی کال آٸ۔۔۔
ہا۔۔۔ ہاں خیریت ہی ہے۔۔۔تم سے بات کرنی تھی کچھ۔۔ نشا نے رک رک کر کہا
بولو۔۔۔ واسم نے پوری طرح متوجہ ہوتے ہوۓ کہا۔۔۔ جبکہ اپنے بازو کو موڑ کر سر کے پیچھے کیا۔۔۔
واسم۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔۔۔ نشا کی گھٹی سی شرمندگی سے بھری آواز ابھری۔
نشا اس دن کے بعد سے ہی بے چینی کا شکار تھی۔۔۔ اسے بار بار یہ خیال دہلا دیتا تھا کہ اگر اس دن ارسل اس کی بات کا یقین نہ کرتے تو کیا ہوتا۔۔۔ وہ لرز جاتی اور ساتھ ہی واسم سے کیا گیا اس کا سلوک اسے یاد آ جاتا تھا۔۔۔آج اس نے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے آخر کار فون کر ہی لیا تھا۔۔
لیکن کس بات پر۔۔۔ اس کی معافی والی بات پر واسم نے حیران ہو کر کہا۔۔۔
میں ۔۔ مجھے تمہیں ایک بات بتانی تھی۔۔۔ وہ تھوڑا جھجک رہی تھی۔۔
سن رہا ہوں۔۔۔ واسم نے گھمبیر لہجے میں کہا۔۔
واسم میں جب تم سے منسوب تھی۔۔ میں تب سے ہی ارسل سے محبت کرتی تھی۔۔۔ وہ میرے ساتھ یونیورسٹی میں تھے۔۔ نشا نے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔۔۔
وہ آپ سے کبھی محبت کرتی ہی نہیں تھی۔۔۔آپ سے صرف میں نے محبت کی ہے۔۔۔ سوہا کی بازگشت نے ذہن کو جھنجوڑ ڈالا تھا۔۔۔ واسم نے تھوک نگلا تھا۔۔۔
میں نے اس دن تمھاری سچاٸ پر یقین ہوتے ہوۓ بھی تمہیں صرف اپنی خود غرضی میں جھٹلا دیا تھا۔۔۔ اور سوہا کی شادی زبردستی تم سے کروا دی۔۔۔ نشا نے گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔
سوہا کو کچھ بھی معلوم نہیں تھا اس بارے میں ہاں البتہ اتنا ضرور ہے کہ اس نے تمھاری تصاویر صرف مجھے اور ارسل کو ملانے کے لیے سب کو بھیجیں تھیں۔۔۔ یہ اس کی غلطی تھی۔۔۔ نشا مسلسل اس پر حقیقت آشکار کر رہی تھی۔۔۔
پلیز تم اور سوہا مجھے معاف کردو۔۔۔ وہ روہانسی سی ہوٸ۔ اس کی خود غرضی ختم ہو گٸ تھی۔۔۔
میں نے تم سے کبھی کسی لمحے کے لیے بھی محبت نہیں کی تھی۔۔۔ مجھے پہلی اور آخری محبت صرف ارسل سے ہی ہے۔۔۔ نشا نے ٹھہرے لیکن پرعزم لہجے میں کہا۔۔۔
ایک بات کہوں۔۔۔ واسم نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔ واسم کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔۔۔
ہاں۔۔۔ نشا نے ڈری ڈری سی آواز میں کہا۔
تمھارا بہت بہت شکریہ۔۔۔ کیونکہ اگر اس دن تم مجھ سے شادی کر لیتی مجبوری میں تو مجھے سوہا نہ ملتی۔۔ واسم نے مسکراتے ہوے اپنے لبوں پر زبان پھیری اور ایک ٹھنڈی آہ بھری۔۔۔
اور ایک بات۔۔ میں نے بھی شاٸد تم سے کبھی محبت نہیں کی وہ تو شاٸد ایک کشش یا پھر دل لگی تھی۔۔۔واسم نے کندھے اچکا کر ہونٹ باہر نکالتے ہوۓ نارمل سے لہجے میں کہا۔۔۔
محبت تو مجھے اب ہوٸ ہے۔۔۔ اپنی بیوی سے۔۔۔ وہ شرارت سے مسکرا رہا تھا۔۔۔ سوہا کا سراپا نظروں کے سامنے گھوم گیا تھا۔۔ وہ موم کی گڑیا سی لڑکی اس کی روح میں بس چکی تھی۔۔۔
میں بہت خوش ہوں تم دونوں کے لیے۔۔۔ تم نے میرے دل کا بہت بڑا بوجھ ہلکا کر دیا۔۔۔ نشا نے روتے ہوۓ مگر خوشگوار لہجے میں کہا۔۔۔
اور تم نے بھی یہ سمجھنے میں میری مدد کی کہ مجھے محبت ہے کس سے۔۔۔ واسم نے بھی خوشگوار اور ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔۔۔
ارسل کو میرا سلام کہنا۔۔۔ واسم نے جوش میں کہا۔۔۔اور فون بند کر دیا۔۔۔
وہ بہت خوش تھا اس کی سوہا ویسی ہی تھی جیسی لڑکی کا وہ طلبگار تھا۔۔۔صرف اس کی ۔۔واسم کے لب مسکرا دۓ تھے۔۔۔
شرارت سے بھری انکھوں کے ساتھ وہ مسیج ٹاٸپ کر رہا تھا جب کہ ایک ہاتھ کی انگلیاں ہونٹوں پر رکھی ہوٸ تھیں جنھوں نے لبوں پر موجود جاندار مسکراہٹ کو چھپا رکھا تھا۔۔۔
نیند نہیں آ رہی ۔۔۔ ڈر لگ رہا مجھے۔۔۔ واسم نے مسیج سنڈ کیا تھا۔۔۔
مسیج ریڈ ہو چکا تھا لیکن کو جوابی مسیج نہیں آیا۔۔۔
واسم مسکرا دیا تھا۔۔۔
اتنا غصہ تو بنتا ہے۔۔۔ شرارت سے لب دانتوں میں دباۓ۔۔۔
بیڈ پر سیدھا لیٹ کر اس کی ساٸڈ کے تکیے کو اٹھا کر سینے سے لگا کے بھینچ ڈالا تھا۔۔۔
**********
تمہیں کوٸ اور دیکھے تو جلتا ہے دل۔۔۔۔
بڑی مشکلوں سے پھر سنبھلتا ہے دل۔۔۔۔
کیا کیا جتن کرتے ہیں تمہیں کیا پتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دل بے قرار کتنا یہ ہم نہیں جانتے۔۔۔۔۔۔۔
مگر جی نہیں سکتے تمھارے بنا۔۔۔۔۔
ہمیں تم سے پیار کتنا یہ ہم نہیں جانتے۔۔۔۔
گاڑی میں مدھر موسیقی نے واسم کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ بکھیر دی تھی اور پھر گاڑی کا رخ اپنے گھر کے بجاۓ کسی اور طرف تھا۔۔۔۔
ارے واسم۔۔ واہ واہ۔۔۔ آٶ بیٹا۔۔۔ اکبر اسے دیکھ کر بہت خوش ہوۓ تھے۔۔۔
اندر آجاٶ ۔۔۔۔ بلکہ۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے اندر ہی لے آۓ تھے۔۔۔۔
تم چیٹر ہو سمجھے تم ۔۔۔۔ سوہا کے ہاتھ میں کشن تھا اور وہ ارحم کو بری طرح کشن مار رہی تھی اور وہ قہقے لگا رہا تھا پاس پڑی میز پرلڈو بکھری ہوٸ تھی۔۔
واسم کو دیکھ کر ایک دم سوہا کا کشن والا ہاتھ ہوا میں رہ گیا تھا۔۔۔۔اور منہ حیرت سے کھولا ہوا تھا۔۔۔
پھر ایک دم سے منہ بند کیا ۔۔۔ اور خفا سی شکل بنا لی تھی۔۔۔
کیا حال ہے واسم بھاٸ۔۔۔ ارحم پر جوش انداز میں واسم سے بغل گیر ہوا تھا۔۔۔
اور پھر ان دونوں کو کمرے میں چھوڑتا باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔
میں نے آپکو کچھ دن کا کہا تھا اور ابھی ایک دن گزرا ہے۔۔۔ سوہا نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔۔۔
اچھا مجھے لگا ایک صدی گزری ۔۔۔۔ واسم نے مسکراہٹ دباٸ۔۔۔ اور اس کے تھوڑا پاس ہو کر سر گوشی کے انداز میں کہا۔۔۔۔
نہیں مجھے ابھی رہنا کچھ دن یہاں۔۔۔ سوہا ایک دم گڑا بڑا کر بات بدل گٸ۔۔۔
واسم کا انداز ہی ایسا تھا اس کی آنکھیں روح تک گڑی ہی جا رہی تھیں۔۔۔
تو میں نے کب کہا میں لینے آیا ہوں تمہیں۔۔۔ واسم نے شرارت سے کہا اور سینے پر ہاتھ باندھ کر بھر پور نظر ڈالی۔۔۔
اپنے مخصوص انداز میں پونی کیے۔۔۔ہلکے سے گلابی جوڑے میں خود بھی ہم رنگ ہوٸ کھڑی تھی ۔۔ بس چہرہ یوں خفا سا ہونے کی وجہ سے گالوں کے گڑھے گال پر واضح نہیں تھے۔۔۔جو اس کی معصومیت کو بڑھا دیتے تھے۔۔۔
تو پھر کیوں آۓ۔۔۔ خفا اور سخت لہجہ اپناتے ہوۓ کہا۔۔۔
بس ڈر لگ رہا تھا گھر۔۔۔ واسم نے جزبات سے بھاری ہوتی ہوٸ آواز میں سر گوشی کو۔۔۔
کان کے پاس ہو کر واسم نے کہا تھا اور اس کی خوشبو اور سانسوں کی گرم ہوا نے پورے جسم میں سوٸیاں سی چبھو ڈالی تھیں۔۔۔ پر سوہا نے خود کو بری طرح سرزنش کیا۔۔۔
آپکو کیوں لگنے لگا ڈر۔۔ سخت لہجے اور خفا شکل سے کہا۔۔۔
جب سے تم گھر سے گٸ۔۔۔ شرارتی لہجے میں کہا۔۔مڑی ہوٸ پلکوں کے نیچے موجود گہری بڑی آنکھوں میں آج سارے زمانے کی خوشی موجود تھی ۔۔ لیکن سوہا تو دیکھ بھی نہ رہی تھی۔۔
یاد ہے نہ میں نے کیسے تمھارا خیال رکھا تھا جب تمہیں ڈر لگ رہا تھا۔۔۔شرارت سے پاس ہوتے ہوۓ کہا۔۔۔
آج مجھے لگ رہا ہے۔۔۔ بھاری بھیگی آواز تھی۔۔۔
سوہا نے دل کی بے تابی چھپانے کو زور سے آنکھیں بند کر ڈالی۔۔۔پاگل لڑکی تمھاری ساری داستان سننے کے بعد تم پر ترس کھا رہا اور کچھ بھی نہیں۔۔۔ سوہا کے دماغ نے دل کو لاتاڑا۔۔۔
کہ۔۔۔کوٸ خیال ویال نہیں رکھا تھا آپ نے۔۔۔ دھکے دے کر کمرے سے نکال رہے تھے مجھے۔۔۔ سوہا نے ایک دم سے گڑ بڑا کر غصے کے انداز میں کہا ۔۔۔ جب کے دل لرزنے لگا تھا۔۔۔
ارے ارےساری رات تمہیں۔۔۔ سینے سے لگا کر رکھا۔۔۔ واسم نے اور قریب آکر کہا۔۔۔
سوہا تیزی سے پیچھے ہوٸ۔۔۔
بیٹھیں میں بابا کو بھیجتی ہوں۔۔۔ جلدی سے راستہ بنا کر ایک طرف کو نکلنا چاہا تھا۔۔۔
ایک منٹ رکو تو۔۔۔۔ واسم نے ایک ہی جست میں ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
چھوڑیں میرا ہاتھ ترس کھانے کی ضرروت نہیں ہے۔۔۔ مجھے بابا نے بتا دیا ہے کہ انھوں نے میری ساری دماغی بیماری آپ سے ڈسکس کی ہے۔۔ مجھے نہیں چاہیے آپکا ترس۔۔۔۔ سوہا نے ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑوایا تھا اور باہر نکل گٸ تھی۔۔۔
جب کے وہ پر سوچ انداز میں سر پکڑے کھڑا تھا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Zindagi Do Pal Ki Novel By Insia Awan – Episode 2

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: