Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 33

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 33

–**–**–

جی آغا جان ۔۔۔ واسم نے ایک ہاتھ سے کان کے ساتھ فون لگایا اور دوسرے ہاتھ میں پن کو گھامتے ہوۓ کہا جبکہ ساتھ ساتھ وہ کرسی کو گھوما رہا تھا۔۔۔
کیا حال ہے چیتے۔۔۔ آغا جان کی خوشگوار آواز ابھری۔۔۔ وہ چہک رہے تھے کسی بات پر۔۔۔
اللہ کا کرم اور آپ کی دعا۔۔۔۔ واسم نے بھی خوشگوار موڈ میں ہی کہا۔۔۔
اچھا کل آنا پڑے گا۔ تمہیں۔۔۔ آغا جان نے قہقہ لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔
کیا ہوا خیریت۔۔۔ واسم نے کرسی کو مخصوص انداز میں گھوماتے ہوۓ ۔۔۔ بھنویں اچکاٸ تھیں۔۔۔
یار وہ سوہا آج اکبر کا رشتہ لے کر آٸ تمھاری پھپو کے لیے۔۔۔آغا جان نے خوشی کے ملے جلے عنصر میں کہا۔۔۔
واسم کی گھومتی کرسی ایک دم سے رکی تھی۔۔۔ اور ہاتھ میں پکڑا پن بھی گھومنا بند ہو گیا تھا۔۔۔
تو کل نکاح ہے ان کا۔۔۔ آغا جان نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔ بہت سکون تھا ان کی آواز میں۔۔۔
کیا۔۔۔چیز کیا ہے یہ لڑکی۔۔۔۔ واسم کو ہنسی آ گٸ تھی۔۔۔ اپنے ابا کا رشتہ لے کر پہنچ گٸ اور جس طرح کی وہ ہے اس نے سب کو راضی بھی بڑے اچھے طریقے سے کیا ہو گا۔۔۔
واسم کو خوشگور سی حیرت ہوٸ تھی۔۔۔
توکل کیوں ۔۔۔ آج ہی آتا ہوں نہ۔۔۔ شرارت بھری آواز میں کہا۔۔۔ آنکھوں میں بھی شرارت تھی۔۔ لبوں پر جاندار مسکراہٹ تھی۔۔۔ واسم نے ہنستے ہوۓ فون بند کیا تھا۔۔۔
پاگل لڑکی۔۔۔۔ زیر لب واسم نے کہا تھا۔۔ اور پھر ہنستے ہوۓ جلدی جلدی اپنا کوٹ اور موباٸل اٹھایا تھا۔۔۔
***************
ارے ارے بس کریں میری امی۔۔۔ واسم نے روتی ہوٸ صاٸمہ کے آنسو صاف کۓ تھے۔۔۔ وہ لاڈ میں صاٸمہ کو امی ہی کہتا تھا اکثر۔۔۔
ادھر دیکھیں۔۔۔ ادھر میری طرف۔۔۔ واسم نے صاٸمہ کے چہرے کو اوپر اٹھایا تھا۔۔۔اور شرارت بھری آواز میں کہا۔
میں بہت خوش ہوں۔۔۔ چہرے پر دنیا جہان کی خوشیاں سجا کر کہا تھا۔۔۔
وہ ابھی ابھی اسفند میر ولاز پہنچا تھا۔۔۔ سب لوگوں سے باری باری مل کر وہ اب صاٸمہ کے کمرے میں آیا تھا۔۔۔ جن کو اسے دیکھتے ہی اس کے سارے دکھ یاد آ گۓ تھے۔۔۔
جھوٹ بولتے ہو تم۔۔۔ خفگی کے انداز میں کہا۔۔۔ اور اس کے اپنے گال پر رکھے ہوۓ ہاتھوں کے اوپر ہاتھ رکھے۔۔۔
ارے نہیں امی ۔۔۔ پیاری امی۔۔۔ بہت خوش ہوں ۔۔۔ واسم نے لاڈ سے گلے لگایا تھا صاٸمہ کو۔۔۔
اور سوہا۔۔۔ انھوں نے ڈرتے ڈرتے سوہا کا نام لیا تھا کہ کہیں بھڑک ہی نہ جاۓ۔۔۔
وہ تو جان ہے میری۔۔۔ واسم نے شریر سے انداز میں ان کے کان میں کہا۔۔۔
ہٹ بے شرم۔ ۔۔۔ صاٸمہ ایک چپت لگاتے ہوۓ اس سے الگ ہوٸیں تھیں۔۔۔
جب کے وہ قہقہ لگا رہا تھا۔۔۔ جاندار ۔۔۔ زندگی سے بھرپور قہقہ۔۔۔
جو صاٸمہ کی تڑپتی ممتا کو سکون دے گیا۔۔۔
لیں پہلے پوچھتیں ہیں پھر شرما جاتی ہیں۔۔۔ واسم نے شرارت سے لب دانتوں میں دبا کر صاٸمہ کو تنگ کیا۔۔۔
بتا سچ کہہ رہا ہے نہ۔۔۔ وہ آنسو صاف کرتے ہوۓ ۔۔۔ بے یقینی اور خوشی کے ملے جلے تاثر میں پوچھ رہی تھیں۔۔۔
بلکل سچ۔۔۔ آپکی کی قسم۔۔۔ واسم نے محبت سے ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔۔۔
صاٸمہ نے بلاٸیں ہی لے ڈالی تھیں۔
ویسے ہے کہاں وہ میری جان۔۔۔ واسم نے پھر سے صاٸمہ کے کان کے قریب ہو کر شریر لہجے میں کہا۔۔۔
چل ہٹ ۔۔۔ بے شرم۔ ۔۔ ماں ہوں تیری۔۔۔ صاٸمہ کو اس کے اس انداز پر لاج آ گٸ تھی۔۔۔
وہ تیزی سے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔
عشرت کے ساتھ بازار گٸ ہے۔۔۔ پلٹ کر پیار سے واسم کو جواب دیا۔۔۔
جو کمر پر دونوں ہاتھ رکھے مسکرا رہا تھا۔۔۔
************
کیسی ہیں پھپھو۔۔۔ واسم نے سلام کرنے کے بعد عشرت کے پیسے پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔
سوہا اس کو دیکھتے ہی منہ پھلاۓ باہر جا چکی تھی۔۔۔ عشرت نے بھی نہ اسے سلام کا جواب دیا تھا اور نہ اب اس کے حال پوچھنے پر کچھ بولی تھیں۔۔۔
لو جی۔۔۔ بیوی تو جو ہے ناراض سو ہے۔۔۔ ساس بھی ناراض ہے۔۔۔ چلیں پہلے ساس کو ہی منانا پڑے گا۔۔۔ واسم نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوۓ سوچا۔۔جب کے لبوں کو دانتوں میں بے چینی سے دبایا۔۔۔
پھپھو۔۔۔ معاف نہیں کریں گی۔۔۔۔ واسم نے تھوڑا سا آگے ہو کر کہا تھا۔۔۔
پہلے تم یہ بتاٶ۔۔۔ میرے ساتھ کیا صرف ایک ہی رشتہ رہ گیا تھا تمھارا۔۔۔ جو یوں ملے بنا ہی چلے گۓ تھے۔۔۔ عشرت نے سختی سے خفا سے لہجے میں کہا تھا۔۔۔
پھپھو۔۔۔ شرمندہ تھا۔۔۔ واسم نے دھیمے سے لہجے میں کہا اور مڑی کوٸ گھنی پلکیں نیچے ہو گٸ تھیں۔۔۔
واسم وہ بہت نادان ہے۔۔۔ چھوٹی ہے ۔۔۔ تم سے۔۔۔ عشرت کی آواز بھاری ہو گٸ تھی آنسو آنکھوں میں تیرنے لگے تھے۔۔۔
بہت کچھ نہیں پتہ تھا اسے۔۔۔ مجھ سے دور رہی۔۔۔ تربیت ہی اسی تھی اس کی۔۔ وہ بری طرح رو دی تھیں۔۔۔
پھپھو۔۔۔ میں بہت شرمندہ۔۔۔ ہوں ۔۔۔ مجھے اور شرمندہ مت کریں۔۔۔ واسم نے جلدی سے عشرت کے آنسو صاف کیے تھے۔۔۔
اب کبھی آپ کو کوٸ شکاٸت نہیں ہو گی ۔۔ میں سوہا کا بہت خیال رکھوں گا۔۔۔ اس نے پیار سے عشرت کے چہرے کو اوپر اٹھایا تھا۔۔۔
اسے محبت کی ضرورت ہے۔۔۔ عشرت نے آنسوٶں سے تر آواز میں کہا۔۔۔
میری محبت میں کمی نہیں آۓ گی۔۔۔ میرا یقین کریں۔۔۔۔واسم نے ان کو گلے لگا لیا تھا۔۔۔۔
وہ تو خفا حفا سی ہے۔۔۔ عشرت کی آواز میں پریشانی سی تھی ۔۔۔ انھوں نے واسم کو الگ کر کے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
مجھ پر چھوڑ دیں ۔۔۔ اس کی خفگی کی ایسی تیسی بس آپ اپنے ڈمپل دکھا دیں۔۔۔ خوش کر دیں۔۔۔ واسم نے شرارت سے انھیں کہا تھا۔۔۔
اور وہ دھیرے سے مسکرا دیں تھیں۔۔۔
تمہیں پتہ ہے۔۔۔ جب سوہا اس دنیا میں آنے والی تھی میں اس وقت تم سے بہت پیار کرتی تھی۔۔۔ انھوں نے محبت بھرٕے لہجے میں کہا۔۔۔
مجھے شروع سے تم سے بہت لگاٶ تھا۔۔۔ اور سوہا بھی تب سے ہی تم سے محبت کرتی ہے۔۔۔۔اس کی محبت میں ذرا برابر بھی کھوٹ نہیں ۔۔۔انھوں نے محبت سے واسم کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لیا۔۔۔۔
مجھے یقین ہے۔۔۔ واسم نے آنکھیں بند کر کے کھولتے ہوۓ پر یقین لہجے میں کہا۔۔۔۔
ایک بات بتاٸیں۔۔۔ سوہا بھی آپ کی طرح اس ایج میں بھی اتنی ہی دلکش ہو گی جتنی آپ۔۔۔ واسم نے شرارت سے کہا۔۔۔
اب عشرت اور واسم کا قہقہ پورے کمرے میں گونج رہا تھا۔۔۔
***************
آٸ۔۔۔ لو ۔۔۔یو۔۔۔ ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ سوہا نے صبح سے کوٸ سو مسیج رسیو کر لیے تھے۔۔۔ اب بھی سامنے بیٹھے واسم نے اسے شریر آنکھوں سے دیکھتے ہوۓ مسیج کیا تھا۔۔۔
اتنی جلدی تو میں بھی معاف نہیں کروں گی ۔۔۔ ذرا اور تڑپیں جناب بہت ستایا ہے آپ نے۔۔۔ سوہا نے موباٸل بند کر کے ایک طرف رکھ دیا
اور چور نظروں سے دیکھا۔۔۔ بالوں کو اپنے مخصوص انداز میں گیلے ہاتھوں سے کنگھی کیے۔۔۔ نکھرا سا چہرہ لیے۔۔۔ لبوں پر جاندار مسکراہٹ سجاۓ۔۔۔وہ اس کی روح میں سما رہا تھا۔۔۔
جیسے ہی واسم کی نظر پڑی وہ نظر چرا چکی تھی۔۔۔
نشا نے اسے اپنی اور واسم کی ساری گفتگو کے بارے میں بتا دیا تھا۔۔۔تب سے دل سے سارے گلے شکوے دھل سے گۓ تھے۔۔۔ لیکن اس کو تڑپتا دیکھ کر سکون مل رہا تھا ۔۔۔ اچھا ہے میں بھی یوں ہی تڑپی ہوں۔۔۔ اس نے چھوٹی سی ناک سکیڑ کر سوچا۔۔۔
سب لوگ گھر میں اکھٹے تھے۔۔۔ رضا کی فیملی۔۔۔ارحم ان کے ساتھ آیا تھا۔۔۔ سوہا اور ارسل بھی تھے اور سارے گھر والے سب ایک جگہ ہی بیٹھے خوش گپوں میں مصروف تھے۔۔۔
واسم ارسل کے ساتھ باتیں کر رہا تھا خوشگوار موڈ تھا سب کا۔۔۔واسم باتیں کرتے کرتے کن اکھیوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اور بار بار ایک ہی مسیج کر رہا تھا۔۔۔
وہ سرخ جوڑے میں بال کھولے کندھوں پر گراۓ۔۔۔ سرخ لالی سےبھرے بھرے لبوں کو سجاۓ اس کی بے تابی کو اور بڑھا رہی تھی۔۔۔
یار سوہا آپی۔۔۔ محب نے سوہا کے کان میں سر گوشی کی۔۔۔
ہاں بولو۔۔۔ سوہا واسم کو چوری چوری دیکھ رہی تھی ایک دم سے چونک گٸ تھی۔۔۔۔۔
اب میرے رشتے کا بھی کچھ کرو نہ۔۔۔ سب کی ہیلپ کرتی ہو۔۔۔ محب نے کان کھجاتے ہوۓ کہا۔۔۔
تمھارا کس سے ۔۔۔ سوہا نے خوشگوار حیرت سے کہا۔۔۔
اپنی نند سے ۔۔۔ محب نے کان میں سر گوشی کی۔۔۔
ہا۔۔۔ا۔ا اا تم دونوں ۔۔۔ کب۔۔۔ سے۔۔۔۔ سوہا نےشرارت سے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا۔۔۔
ہا۔۔۔ا۔ا۔ا۔ ہم تو تب سے جب سے پیدا ہوۓ۔۔۔ محب نے قہقہ لگا کر اسکے ہی انداز میں کہا۔۔۔
بس آپ ہٹلر آنٹی صاٸمہ کو راضی کر لیں۔۔۔ محب نے بچوں کی طرح ہونٹ نکالتے ہوۓ کہا۔۔۔
جی جی ضرور ۔۔۔ فکر ۔۔۔ نا کریں۔۔۔ میری ساس میری ہر بات مانتی ہیں۔۔۔ سوہا نے آنکھ دباٸ اور قہقہ لگایا۔۔۔
قہقہ لگاتے ہوۓ اچانک واسم پر نظر پڑی تھی ۔۔۔ وہ محبت پاش گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
ایک دم دل نے جیسے ڈبکی لگاٸ تھی۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ شرما جاتی سوہا جلدی سے وہاں سے غاٸب ہوٸ تھی۔۔۔
***************
ہم۔۔۔ کیا گندی گندی سے تصویریں لیتی رہتی تھی میری۔۔۔ واسم نے خفا سے انداز میں بیڈ کے پاس کھڑی سوہا کو گھورا تھا۔۔۔
سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں چلے گۓ تھے۔۔۔ واسم سوہا کے کمرے میں آ گیا تھا۔۔۔ اور اب ڈھیٹ بنا اس کے بیڈ پر بیٹھا اس کے لیپ ٹاپ پر اپنا وہی فولڈر کھول کر دیکھ رہا تھا۔۔۔
واسم ۔۔۔ آپ جاٸیں اپنے کمرے میں۔۔۔ سوہا نے سختی سے خفا شکل بنا کر کہا۔۔۔
لیکن واسم کو جیسے کچھ سناٸ ہی نہیں دے رہا تھا۔۔۔
ارے یار کوٸ ایک تو ڈھنگ کی بناتی۔۔۔ تصویر۔۔۔ واسم نے مصنوعی منہ پھلا کر کہا وہ اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔۔۔
جی نہیں ساری اچھی ہیں ۔۔۔ چھوڑیں میرا لیپ ٹاپ اور چلیں یہاں سے ۔۔۔ سوہا نے اپنا لیپ ٹاپ چھیننے کی کوشش کی ۔۔۔
واسم بھی برابر لیپ ٹاپ کھینچ رہا تھا۔۔۔
ارے ارے ۔۔۔ مجھے ایسی بدتمیزی بلکل نہیں پسند ۔۔۔ واسم نے مصنوعی ڈانٹنے کے انداز میں کہا۔۔۔
تم بھی تو بنا اجازت کمرے میں آ کر دھاوا بول دیتی تھی۔۔۔ واسم نے خفا سے انداز میں آنکھیں سکیڑ کے دیکھا۔۔۔۔
اچھا میں ہی چلی جاتی ہوں۔۔ آپ رہیں یہیں۔۔۔ سوہا نے غصے سے لیپ ٹاپ چھوڑا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔۔ واسم تیزی سے بیڈ سے اتر کر آیا تھا اور سوہا سے اسی انداز میں لپٹا تھا جیسے سوہا تب اس کے کمرے میں ڈر کر لپٹی تھی۔۔۔
پلیز سوہا مجھے چھوڑ کہ نہ جاٶ۔ مجھے سچ میں ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ سوہا کے انداز میں واسم نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ ایکٹنگ کی تھی۔۔۔
واسم کا انداز ہی ایسا تھا۔۔ سوہا کی ہنسی نکل گٸ تھی۔۔۔
ہنسو ہنسو اور میری بے بسی پر ہنسو۔۔۔ واسم نے مصنوعی خفگی دکھاٸ۔۔۔
دھیرے سےاس کے ہاتھ کو پکڑا تھا۔۔۔ سوہا نے جھینپ کر دیکھا۔۔۔۔
واسم نے
نے ہتھیلی کی اسی جگہ پر مہر محبت ثبت کی۔ تھی جہاں غصے کی حالت میں سگریٹ لگا بیٹھا تھا۔۔۔
سوہا نے تڑپ کر آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔ ہتھیلی پھر سے جلنے لگی تھی ساتھ ہی گال پر آنسو بھی ٹپک پڑے تھے۔۔۔
کیا اس کی بھی جلن تھی۔۔۔ واسم کی بھیگی سی آواز تھی۔۔۔
مجھے معاف کرو گی۔۔۔ دھیرے سے کہا۔۔۔ جبکہ سوہا کا ہاتھ ابھی بھی تھامے ہوا تھا۔۔۔
سوہا نے نہیں میں سر ہلا دیا تھا۔۔۔ بہت ستایا ہے۔۔۔ کبھی نہیں کروں گی۔۔۔ بچوں جیسی شکل بنا کر بھاری سی آواز میں کہا۔۔۔
واسم نے اپنے انگوٹھے سے دھیرے سے گال صاف کیے تھے۔۔۔
سوچ لو۔۔۔ واسم نے خفگی سے کہا۔۔ اور اس کے گال گڑھوں کو محبت سے دیکھا جو اس کو جزبات کی رو میں بہکنے پر مجبور کر رہے تھے۔۔
سوہا مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ واسم نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا۔۔۔ وہ اس کو اب مزید روتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔
وہ جو پلکیں نیچے کیے کھڑی تھی۔۔۔
ایک دم سے چڑ کر واسم کی طرف دیکھا۔۔۔
کیا مسٸلہ ہے اس دن سے رٹ لگا رکھی ہے ڈر لگ رہا ڈر لگ رہا۔۔۔ آپ نے تو میرا مزاق ہی بنا ڈالا۔۔۔ سوہا نے خفگی سے کہا۔۔۔
ارے یار سچ کہہ رہا ہوں ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ واسم بڑی مشکل سے اپنے قہقے کو روکے ہوۓ تھا۔۔
کس بات کا ڈر۔۔۔ سوہا نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔ اسے اس فقرے سے چڑ ہونے لگی تھی۔۔۔
واسم نے اس کی کمر کے گر بازو حاٸل کر کے ایک دم سے ساتھ لگایا تھا۔۔۔
سوہا کہ اس جسارت پر خوشگوار انداز میں منہ کھولا تھا۔۔۔
ڈر اس بات کا لگ رہا ہے۔۔۔ واسم نے شرارت سے اس کی من موہنی صورت کو دیکھا۔۔
اب جو میں جسارت کرنے جا رہا ہو اس پر تم سر یا آنکھ پھوڑ دیتی ہو۔۔۔ واسم کا جاندار قہقہ فضا میں گونجا تھا۔۔۔
جبکہ سوہا اس کے سینے ہر تھپڑوں کی بارش کر رہی تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: