Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 4

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 4

–**–**–

جاگنگ کرتے اس کےقدم اپنی رفتار سے تھوڑے کم ہوتے ہوتے رک سے گۓ تھے۔۔ وجہ سامنے سے آتا وہ لڑکا تھا۔۔۔
جب سے وہ لندن آٸ تھی تب سے اپنی جاگنگ کرنے کی عادت کو بحال نہیں کر پاٸ تھی وہ آج بڑی ہمت سے جلدی اٹھنے میں کامیاب ہوٸ تھی۔۔۔
سوچا پاس کسی پارک میں چلتی ہوں۔۔ اور ادھر جب آٸ تو وہی سامنے فلیٹ والا لڑکا اسے نظر آیا تھا۔۔۔
اس کو دیکھ کر ایک عجیب سا احساس ہوا تھا۔۔ ایک کشش سی جو اس کو دیکھنے پر مجبور کرتی تھی۔۔۔
وہ ورزش کر رہا تھا۔۔۔ کبھی نیچے جھک کر ایک طرف کے پاٶں کو ہاتھ لگاتا۔۔ اور کبھی دوسری طرف کے پاٶں کو ہاتھ لگا رہا تھا۔۔۔ نیلے رنگ کے ٹریک سوٹ میں۔۔ وہ اس سبز گھاس کے اوپر کھڑا اس منظر کا دلکش حصہ لگ رہا تھا۔۔۔
وہ ساکت کھڑی بس مبہوت سے اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔اس کی دید اس کے قلب کو تسکین بخش رہی تھی۔۔ ایسا کیوں تھا وہ خود نہیں جانتی تھی۔۔۔
دور ایک بینچ پر بیٹھ کر وہ پر شوق نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ اب ورزش ختم کرنے کے بعد ٹریک پر دوڑنا شروع ہو گیا تھا۔۔۔
سوہا بھی اس کے پیچھے پیچھے اس کے قدموں کے نشانوں پر بھاگ رہی تھی۔۔۔
اس کی مظبوط پیٹھ۔۔۔ پسینے سے تھوڑی سی گیلی ہوٸ شرٹ۔۔ اور بالوں سے ہلکا ہلکا نمی کے پن کا احساس۔۔۔
کیا تھا یہ۔۔ وہ کیوں اس لڑکے کواتنی اہمیت دے رہی تھی۔۔۔
کیا اس کا خوبرو ہونا ہی اس کے لیے کشش کا باعث تھا۔۔۔ نہیں ۔۔اس میں کچھ اور الگ سا تھا۔۔۔ کچھ ایسا۔۔جو اسے سب مردوں سے الگ کرتا تھا۔۔ وہ اس کی پشت پر نظریں جماۓ اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔ یہ سب کرنا اس کے دل کو بھلا سا لگ رہا تھا۔۔۔
اس کے ذہن میں تو آج تک مرد کچھ اور ہی صورتوں میں بسے ہوۓ تھے۔۔۔ لاپرواہ۔۔ اس کے باپ کی طرح۔۔ جو صرف کہتے ہی ہیں کہ محبت ہے۔۔ نہ تو وہ محبت اپنی بیوی سے نباہ سکے۔۔ نہ ہی اپنی بیٹی سے۔۔۔ وہ دوڑتے ہوۓ پسینے سے شرابور ہو گٸ تھی۔۔ پاوں جوگرز میں گرم ہو رہے تھے۔۔
اسکے چچا۔۔۔ جو پوری طرح اپنی بیوی کے غلام تھے۔۔۔
پھر وہ خبیث ۔۔ جاوید اس کی چچی کا بھاٸ جس نے اس کو اتنی چھوٹی سی عمر میں اپنی حوس کا نشانہ بنانا چاہا تھا۔۔ اس نے ماتھے کے پسینے کو صاف کیا تھا۔۔
یا پھر ۔۔ سر البرٹ جو بہانے بہانے سے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے تھے۔۔۔
یا پھر وہ جان جو اپنی بیوی کو راتوں کو مارتا تھا۔۔
اور وہ روز کا سوتیلا باپ جو اپنی سوتیلی بیٹی کو اپنی تسکین کے لیے استعمال کرتا تھا۔۔۔
اس نے آج سے پہلے کبھی کسی کے بھی بارے میں یوں نہیں سوچا تھا۔۔۔ جیسا وہ اس لڑکے کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔۔ ایسے ہی کسی بھی وجہ کے بنا۔۔ وہ اس کو دیکھتی رہتی تھی۔۔۔ اور آج پارک میں بھی اس کو دیکھ کر اس کا کچھ ایسا ہی حال تھا۔۔۔
اس کا سانس پھول گیا تھا وہ رکنے پر مجبور ہو گٸ تھی۔۔ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر وہ سانس بحال کرتی اس لڑکے کو دور جاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔
***********************
واہ یہ تو کمال ہو گیا جی۔۔۔ نوید گھوم کر سب کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے تالی بجاٸ
سب لوگ جو اس وقت ان کے گروپ کے بیٹھے ہوۓ تھے ایک دم سے متوجہ ہوۓ تھے۔۔۔ اور سوالیہ نظروں سے اب سب نوید کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔
سنو۔۔ بھٸ سب سنو۔۔۔ اس سنڈے۔۔۔ واسم زوجیج ۔۔ اپنے گھر سب کو ٹریٹ دے رہا ہے۔۔ اس نے پر جوش انداز میں علان کیا تھا۔۔۔
واٶ۔۔۔ یہ سچ ہے کیا۔۔۔ میں تو بہت اکساٸیٹڈ ہوں ۔۔۔ کیرن خوشی سے کتاب بند کرنے کے بعد کھڑی ہوٸ تھی۔۔۔
سب لوگ ہنس رہے تھے۔۔۔اور خوش ہو کر واسم کی دعوت قبول کرنے کی حامی بھر رہے تھے۔۔۔
جی جی بلکل سچ ہے۔۔۔ آپ سب کے جان کھانے پر واسم نے یہ سوچا کیوں نہ اپنے فلیٹ پر سب کو دعوت دی جاۓ۔۔۔ نوید پھر شوخ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
وہ فاٸنل اٸر میں ایم بی اے کی ڈگری میں ٹاپ کر چکا تھا۔۔ جس پر اب سب کو وہ اپنے فلیٹ پر دعوت دینا چاہتا تھا۔۔۔
کیرن سب سے زیادہ پر جوش تھی۔۔۔
وہ دور کھڑی منہ میں قلم دباۓ سوچوں میں گم تھی۔ ۔۔ نظریں یک ٹک واسم پرجماۓ۔۔ ستون سے ٹیک لگاۓ وہ اس شخص کو دیکھے جا رہی تھی۔۔ جس نے اسے ہوش سے بیگانا کر رکھا تھا۔۔۔
وہ باتیں کرتا ہوا بار بار کیرن کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔ جو عجیب ہی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
****************
اس نے تصویر کو زوم کیاتھا۔۔۔ ہلکے بے بی پنک سوٹ میں ملبوس وہ اس کے دل کی ملکہ اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔۔ اور واسم اس کا ہاتھ تھامے اسکی انگلی میں اپنی نسبت کی نشانی پہنا رہا تھا۔۔۔
واسم نے سکرین کو اپنی دو انگلیوں کی مدد سے زوم کیا تھا۔۔۔ اب پورے موباٸل سکرین پر بس اسکا چہرہ تھا۔۔۔۔ پھر اور زوم کیا تھا۔۔ اب پوری سکرین پر اس کے پنکھڑی جیسے ہونٹ تھے۔۔۔ اس نے دل کی بے تابی سے ڈر کر فورا تصویر کو پھر سے چھوٹا کر دیا تھا۔۔۔
وہ روٸی روٸ سی منہ پھلاۓ کتنی حسین لگ رہی تھی۔۔۔
واسم آج پھر اس کی تصویر دیکھ کر قہقہ لگا رہا تھا۔۔۔
بس اب اسکا فاٸنل رزلٹ آ چکا تھا۔۔۔ اب کچھ ماہ کی انٹرنشپ کے بعد اسے پاکستان واپس جانا تھا اس لیے وہ بھی آجکل شدت سے یاد آ رہی تھی۔۔۔
اپنی نسبت کے طے پانے کے دن کی تصاویر دیکھتے اسے وہ رات بھی یاد آ گٸ تھی۔۔
اتنا کیوں روٸ تھی تم۔۔۔ واسم سینے پر ہاتھ باندھے پر شوق نگاھیں لیے اس کے بلکل سامنے کھڑا تھا۔۔۔ اس کے وجود سے بھینی بھینی خوشبو اٹھ رہی تھی۔۔۔ اس کی نظریں جھکی تھیں۔۔۔ لیکن چہرہ بے تاثر تھا۔۔۔
مہ۔۔۔میں نے آپکو ہمیشہ واسم بھاٸ سمجھا۔۔۔ کبھی اس نظر سے دیکھا ہی نہیں۔۔۔ وہ دھیرے سے لب کچلتے ہوۓ بولی تھی۔۔ مجھے یہ رشتہ ایکسپٹ کرنے میں دقت ہو رہی ہے۔۔۔ اس نے ایک پل کے لیے بس نظر اٹھا کر واسم کو دیکھا تھا۔۔۔
ارے۔۔۔ تو کیا ہوا۔۔۔ میں جا رہا ہوں نہ لندن چار سال کے لیے ۔۔۔ کتنی اپناٸت سے وہ بولا تھا اسے۔۔۔ دل تو مچل رہا تھا کہ یہ سب اس کے گداز ہاتھوں کو تھام کر کہے۔۔ پر وہ ابھی اس رشتے کو قبول نہیں کر پاٸ تھی۔۔۔
تمھارے پاس بہت وقت ہے۔۔ ہمارے نۓ رشتے کے بارے میں سوچنے کے لیے۔۔۔ واسم نے تھوڑا سا جھک کر اس کا چہرہ دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
وہ خاموش ہو کر نظریں جھکا گٸ تھی۔۔۔ لیکن اس کے لب ابھی بھی دانتوں کے ظلم کا شکار تھے۔۔۔ وہ ان کو بار بار بے چینی سے کچل رہی تھی۔۔۔
وہ اس وقت سولہ کی تھی۔۔ اور واسم بیس کا تھا۔۔۔ یہ رشتہ واسم کی پسند سے طے پایا تھا۔۔۔ آغا جان دل سے اس رشتے پر خوش تھے۔۔۔ ان کے لیے اس سے بڑھ کر اور خوشی کیا ہو سکتی تھی کہ ان کے دونوں بیٹوں کا رشتہ اس رشتے کے بعد اور مظبوط ہو گیا تھا۔۔۔۔
واسم دھیرے سے مسکرا رہا تھا۔۔۔ اور اس کی تصویریں پلٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔۔۔
اب تک تو تم نے ہمارے رشتے کو قبول کر ہی لیا ہو گا۔۔۔
اب پاکستان جاٶں گا تو جا کر شادی کا شور ڈال دوں گا ۔۔ وہ زیر لب اپنی ہی سوچ پر مسکرا دیا تھا۔۔۔
*********************
یار ۔۔۔ اچھے کھاتے پیتے گھر سے ہے۔۔ اچھا خوش شکل ہے۔۔ ردا ماتھے میں بل ڈالے بول رہی تھی۔۔۔ جبکہ سامنے نشا سر جھکاۓ لب کچل رہی تھی۔۔
تمھارا دیوانہ ہے۔۔ فیوچر بھی براٸٹ ہے۔۔ تمہیں اور کیا چاہیے بولو۔۔ ردا نے تھوڑا سا اس کا جھکا ہوا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوۓ کہا۔۔
اگر وہ رشتہ بھیجنا چاہتا ہے تو کیا براٸ ہے۔۔۔ پاگل۔۔۔ ردا نے اس کی آنکھوں کی نمی کو دیکھ کر اپنے لہجے کو تھوڑا نرم کیا۔۔۔۔
تمھاری جگہ میں ہوتی تو کبھی ایسے بار بار اسے نہ دھتکارتی۔۔۔ تم نے آج اس کے ساتھ بہت برا کیا۔۔۔ کتنے مان سے آیا تھا وہ تمھارے پاس تمھارے گھر کا پتہ لینے وہ اپنی فیملی کو بھی تمھارے لیے راضی کر چکا ہے۔۔۔ ردا اسے قاٸل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
اور مجھے پتہ ہے۔۔۔ تمھاری یہ بے قراری کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔۔۔ تم بھی اسے دل ہی دل میں چاہنے لگی ہو۔۔۔ ردا نے مسکراتے ہوۓ اس کے سپاٹ چہرے کو دیکھا۔۔۔
جب اسے پسند کرنے لگی ہو تو پھر مسٸلہ کیا ہے بولو نہ۔۔۔ردا اب اس کا بازو ہلا رہی تھی۔۔۔
ہے مسٸلہ ۔۔۔ بہت بڑا مسٸلہ ہے۔۔۔ میں اس سے کبھی بھی شادی نہیں کر سکتی ۔۔۔ اور تمہیں کس نے کہہ دیا میں پسند کرنے لگی ہوں اسے ایسا ویسا کچھ بھی تو نہیں ہے۔۔۔ نشا اپنی چوری پکڑے جانے پر خجل سی ہو گٸ تھی۔۔۔
بکواس نہ کرو تم ۔۔۔ میں کچھ دن سے نوٹ کر رہی ہوں ۔۔۔ ردا کے ماتھے پر پھر سے بل آ گۓ تھے اور آواز میں سختی آ گٸ تھی۔۔۔
جیسے چوری چوری تم اسے دیکھتی ہو۔۔۔ اور اب تو جب وہ آتا تھا تو تم جگہ بھی نہیں بدلتی تھی۔۔ وہ ہنوز اس بات پر قاٸم تھی کہ نشا اب ارسل کو چاہنے لگی ہی۔۔۔
جھوٹ ہے یہ سب ۔۔ میں ایسا کچھ بھی نہیں کرتی رہی ہوں۔۔۔ اور میں ایسا کر ہی نہیں سکتی ہوں۔۔۔ وہ روہانسی ہو کر ردا کو جھٹلا رہی تھی۔۔۔
کیوں ۔۔۔ تم کیوں نہیں کر سکتی۔۔۔ تم بھی عام لڑکیوں ہی جیسی ہو۔۔۔ جو سچی محبت میں بھی لگن اور تڑپ کو تلاش کرتی پھرتی ہیں اور جہاں سے بھی وہ مل جاۓ تو سب وار دیتی ہیں اس پر۔۔۔ ردا دو ٹوک لہجے میں بولی۔۔۔
نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ۔۔ نشا نے نظریں چرا لی تھیں۔۔۔
تو پھر کیسا ہے۔۔۔ میں تمھارے گھر کا ایڈریس دینے جا رہی ہوں ارسل کو ۔۔ ردا اب غصے سے اٹھی تھی۔۔۔
رکو پاگل مت بنو۔۔۔ نشا نے ایک ہی جست میں اس کا بازو پکڑ کراسے پھر سے بینچ پر بیٹھا دیا تھا۔۔۔۔
میں کبھی بھی ارسل سے شادی نہیں کر سکتی۔۔۔ وہ سر نیچے کۓ۔۔ اب یونورسٹی کے لان کی گھاس کو دیکھ رہی تھی۔۔
میں انگیجڈ ہوں۔۔۔ اس نے ایک دم سے۔۔ ردا کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔۔
آج سے چار سال پہلے میری نسبت میرے تایا کے بیٹے سے طے ہو گٸ تھی۔۔۔ واسم زوجیج۔۔۔ سے۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: