Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 5

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 5

–**–**–

جاگنگ کرتے اس کے قدم ٹریک کی زمین کو بری طرح روندتے ہوۓ پیچھے چھوڑ رہے تھے۔۔۔ سفید رنگ کے جوگرز پہنے واسم پارک کے ٹریک پر دوڑ رہا تھا۔۔۔
بالوں اور گالوں پر اب تپش کا احساس بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔ ساتھ ساتھ ایک اور احساس اسے تنگ کر رہا تھا۔۔ کہ کوٸ اس کا پیچھا کر رہا ہے۔۔۔ ۔یہ احساس اسے بہت دن سے ہو رہا تھا۔۔۔وہ جب پارک میں ہوتا ہے تو مسلسل کوٸ اس کے پیچھے ہوتا ہے۔۔۔ پہلے تو اپنا وہم سمجھا کہ اتنے لوگ ہوتے لیکن پھر عجیب سی محسوسات سے دوچار ہوا تھا
اس نے آج تنگ آ کر ایک دم سے اپنے رخ کو موڑا تھا اس کے کچھ فاصلے پر ایک لڑکی فورا سے پلٹی تھی۔۔۔۔ جس کا چہرہ دیکھنے میں وہ ناکام رہا تھا۔۔۔وہ مخالف سمت میں بھاگ گٸ تھی۔۔۔
وہ کچھ دیر کھڑا اس عجیب سی حرکت کے بارے میں سوچتا رہا۔۔۔
پھر سر جھٹک کر وہاں سے چل دیا۔۔۔
*****************
تو اس میں کیا ہے۔۔۔ منگنی ہی ہے۔۔نکاح تھوڑی ہے۔۔۔ ارسل کچھ سوچتے ہوۓ بولا تھا۔۔ لیکن اس کے چہرے کا ایک دم زرد پڑتا رنگ اس کے اندر کے کرب کا واضح ثبوت تھا۔۔۔ وہ بار بار اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا۔۔۔
ان کے ہاں یہ نسبت نکاح کی طرح ہی ہوتی ہے۔۔۔ردا نے اسے تنبیہ کے انداز میں کہا۔۔ وہ غور سے ارسل کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔ وہ سچ میں بری طرح نشا کی محبت میں گرفتار ہو چکا تھا۔۔۔
ان کے ہاں کیا۔۔ یہیں اس دنیا میں ہی رہتے ہیں کہیں اور سے تو نہیں اترے نہ۔۔ طنز سے بھری ہنسی کو اپنے ہونٹوں پر سجاۓ۔۔ آنکھوں کی نمی کوچھپاتے ہوۓ کہا۔۔۔
جو مرضی سمجھو۔۔۔میرا فرض تھا تمہیں آگاہ کرنا سو میں نے کر دیا۔۔۔ ردا سے اب اور اس کو بکھرتے دیکھنا ممکن نہیں تھا۔۔۔وہ اپنا بیگ کاندھے پر ڈالتے ہوۓ اٹھی تھی۔۔
نشا بھی مجھے پسند کرتی ہے۔۔۔ ارسل گردن جھکا کر میز پر پڑے اپنے ہاتھوں پر نظر جما کر بولا تھا۔۔۔ آواز میں پختہ یقین کا تاثر تھا۔۔۔
نہیں وہ نہیں کرتی ہے۔۔۔ ردا نے بنا پلٹے کہا تھا۔۔۔ آواز میں وہ جان بوجھ کر سختی لے آٸ تھی۔۔
جھوٹ۔۔ وہ کرتی ہے میرا دل جانتا ہے۔۔۔ ارسل اب پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔۔۔ آنکھیں یقین کی گواہی دے رہی تھیں
وہ اپنے اسی کزن کو لاٸک کرتی ہے جس سے وہ انگیجڈ ہے۔۔ آپکو کوٸ غلط فہمی ہوٸ ہے۔۔ ردا نے واپس مڑ کر تلخی سے کہا جبکہ وہ خود بھی جانتی تھی وہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔ کچھ دن سے نشا کی بے چینی اور بےتابی اسے بھی سب کچھ باور کروا رہی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے اس سے کہو یہ سب کچھ آ کر خود مجھ سے کہے۔۔۔ وہ اب ردا کے بلکل سامنے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا ۔۔ کہہ رہا تھا۔۔ ہونٹوں پر اب مسکراہٹ درد آٸ تھی۔۔۔
وہ نہ پہلے کبھی آپ سے بات کرتی تھی اور نہ اب کرنا چاہتی ہے۔۔۔ ردا نے نظریں چراتے ہوۓ کہا۔۔۔ اور جانے کے لیے پر تولے۔۔۔
اب کرنی پڑے گٸ۔۔۔ مجھے اس کے گھر کا ایڈریس مل گیا ہے۔۔ جب تک وہ مجھے خود یہ سب نہیں کہے گی میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔۔۔وہ پورے ڈھیٹ پن سے کہتا ہوا مسکرا رہا تھا۔۔
ردا نے اب کوٸ جواب دینا مناسب نہیں سمجھا وہ خاموشی سے وہاں سے چل دی تھی۔۔
******************
افف ۔۔۔ کیا ہو گیا ہے مجھے۔۔۔ سوہا سینے پر ہاتھ رکھے زور زور سے سانس لے رہی تھی اتنا تیز بھاگ کر وہ واسم کی نظروں سے اوجھل ہوٸ تھی کہ اب سانس بحال کرنا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔ آج تو اچانک پلٹ کر اس نے جان ہی نکال دی تھی۔۔۔
مجھے اب ایسے اس کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے۔ وہ ماتھے اور گردن سے پسینہ صاف کر رہی تھی۔۔
اور میں یہ سب کر بھی کس لیے رہی ہوں یہ غلط ہے سب وہ خود کو ہی یہ سب کرنے پر سرزنش کر رہی تھی۔۔ وہ بے اختیاری میں یہ سب کرتی تھی اسے خود نہیں پتہ چلا تھا وہ اس کی شخصیت کے حصار میں جکڑی جا چکی تھی۔۔ اور اسے آٸیڈلاٸز کرنے لگی تھی۔۔
وہ اب پارک سے باہر نکل رہا تھا اور بار بار اردگرد کا جاٸزہ لے رہا تھا جیسے اسی کو تلاش کر رہا ہو۔۔
دوبارہ ایسا بلکل نہیں کرنا۔۔ سوہا نے اپنے سر پر چپت لگاٸی تھی۔۔۔
*************
بہت خوبصورت ہے ہر چیز بلکل تمھاری طرح۔۔۔ واسم کے کان کے قریب سرگوشی ہوٸ تھی۔۔۔ کیرن واسم کے قریب ہوٸ تھی اس کے وجود اے اٹھتی اس کی مہک کو اپنے اندر اتارتی ہوٸ۔۔
واسم نے چونک کر گردن موڑ کر دیکھا تھا۔۔۔ وہ چند لڑکوں کے ساتھ بات کرنے میں مگن تھا جب کیرن نے مدھوش سی آواز میں اس کے کان کے قریب سرگوشی کی ۔۔
سب لوگ اس کے فلیٹ پر جمع تھے۔۔ مدھم سی انگلش موسیقی اور سب لوگوں کی باتوں اور قہقوں کا ملا جلا شور تھا۔۔۔
کیرن بلکل واسم کے پاس کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔۔ سرخ رنگ کے تنگ اور چھوٹے سے لباس کو زیب تن کیے وہ یہ سمجھ رہی تھی کہ اس کے پاس کھڑا یہ بھرپور شخصیت کا مالک اپنے دل کو قابو رکھنے میں ناکام ہو جاۓ گا۔۔۔
تھنکیو۔۔۔۔ واسم نے مصنوعی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاتے ہوۓ کہا۔۔ اور اپنے اندر اٹھنے والے غصے کو ضبط کیا۔۔۔
اسے اب یہ سب کیرن کی عادت لگنے لگی تھی۔۔۔ اور کیرن سے پہلے بھی کتنی اور لڑکیاں تھی جو شروع شروع میں اس کی طرف بڑھی تھیں۔۔۔ کیرن تو ماٸ گریٹ ہو کر اسی سال آٸ تھی۔۔اسے ابھی تھوڑا وقت درکار تھا واسم کی عادات کو سمجھنے کے لیے۔۔۔ اس لیے اب وہ بھی زیادہ سختی نہیں برتتا تھا اس سے۔۔۔
کچھ کھایا تم نے ابھی تک یا نہیں۔۔۔ زبردستی کی مسکراہٹ سجا کر واسم نے کیرن سے پوچھا۔۔۔ وہ آج سیاہ پینٹ کوٹ میں ملبوس کیرن کے دل پر بجلیاں گرا رہا تھا۔۔
آج تک کسی نے اسے یوں اگنور نہیں کیا تھا۔۔ وہ ایک خوبصورت شکل اور سراپا رکھتی تھی۔۔ واسم کی بے رخی اسے بری طرح کھلتی تھی۔۔۔ وہ کسی بھی طرح اسے زیر کرنا چاہتی تھی۔۔۔
ہم ۔۔۔۔مم۔۔ کھایا ہے۔۔۔ ڈونٹ وری۔۔۔ وہ بڑے دلکش انداز میں مسکراٸ تھی۔۔۔ اور کولڈ ڈرنک کے گلاس کو اپنے لپ سٹک کے بھرے لبوں سے لگایا۔۔۔
اوکے انجواۓ کرو میں باقی سب سے پوچھتا ہوں۔۔۔ واسم دھیرے سے اس کا کندھا تھپ تھپا کر وہاں سے آگے بڑھ گیا۔۔وہ اس کے زیادہ قریب رہنے سے عجیب سی کوفت کا شکار ہوتا تھا۔۔۔۔
کیرن اپنے وجود کو داٸیں باٸیں ہلکے سے ہلاتے ہوۓ معنی خیز انداز میں مسکراٸ پھر ۔۔ آہستہ سے چلتی ہوٸ وہ کچن کاونٹر پر آٸ تھی۔۔۔ وہ چور نظروں سے ارد گرد کا جاٸزہ بھی لے رہی تھی۔۔۔
اس نے اپنے کلچ نما چھوٹے سے پرس سے اپنا موباٸل فون نکالا اور اسے سوٸچ آف کر کے پاس پڑی ٹوکری میں پھینک دیا۔۔۔
فون پھلوں کی ٹوکری میں پڑا تھا۔۔۔
*****************
تم ۔۔۔ نے کبھی کسی ایک لمحے کے لیے بھی میرے بارے میں نہیں سوچا۔۔۔ ارسل نے رت جگی آنکھوں سے اپنے سامنے بیٹھی ہاتھوں کو بری طرح مسلتی نشا کو دیکھ کر کہا۔۔
نہیں۔۔ نشا نے نظریں چرا کر ارد گرد دیکھا اور اپنے کندھے پر دوپٹہ درست کیا۔۔
یہ ہو نہیں سکتا۔۔۔ وہ گھمبیر لہجے میں آہستہ سے بولا۔۔۔ بکھرے بال ۔۔ الجھن سے بھری آنکھیں لیے وہ کسی لمبی مسافت کا مسافر لگ رہا تھا۔۔۔
آپ مجھے ۔۔ مجھ سے زیادہ کیسے جان سکتے ہیں ۔۔ نشا نے لڑ کھڑاتی آواز میں کہا۔۔۔۔
دیکھیں میں نے سیدھے طریقے سے صاف صاف الفاظ میں بتا دیا کہ میں انگیجڈ ہوں۔۔۔ اب اس سے آگے کیا۔۔ اس نے پہلی دفعہ ارسل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت کی پر پھر فورا ہی خجل ہو کر چہرے کا رخ دوسری طرف موڑ لیا۔۔۔
تومنگنی توڑی بھی جا سکتی ہے۔۔ وہ پر عزم انداز میں بولا۔۔۔
آپ سمجھتے کیا ہیں خود کو ۔۔۔ دیکھیں ۔۔ پہلے پہل مجھے لگا آپ بس یوں ہی فلرٹ کر رہے میرے ساتھ اس لیے میں نے آپ کو کچھ بھی بتانا مناسب نہیں سمجھا۔۔ وہ غصے سے اپنی کرسی چھوڑ کر اٹھی تھی۔۔۔ چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔۔۔
تو کیا اب آپ کو میری سچی محبت پر یقین ہو گیا ہے۔۔ ارسل کے خشک ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری اور آنکھیں چمک گٸ تھی۔۔
نہ۔۔نہیں۔۔۔ ایسا بلکل نہیں ہے۔۔۔ نشا نے گڑ بڑا کر کہا۔۔اور جلدی سے بیگ کو کاندھے پرلٹکایا۔۔۔
ایسا ہی ہے مس نشاعون۔۔۔آپ کو نا صرف اب میری محبت پر یقین ہے بلکہ آپ بھی مجھےچاہنے لگی ہیں۔۔ ارسل نشا کے بلکل سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔
نشا نے نظریں نیچے کی ہوٸ تھی۔۔۔ بس اس کا سینہ نظر آ رہا تھا۔۔
نہیں۔۔۔ مجھے یقین نہیں ہے۔۔۔ نشا کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ تھی۔۔۔
ہاں۔۔۔وہ اب ڈھیٹ بنا بلکل مقابل آ گیا تھا۔۔۔
نہیں۔۔ میرا راستہ چھوڑیں۔۔۔ نشا کو اپنی دھڑکنوں کا بے ترتیب ہونا سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔ اس نے کبھی کسی کے لیے یوں محسوس نہیں کیا تھا جیسا وہ ارسل کے لیے کر رہی تھی۔۔۔
واسم کے لیے تو کبھی بھی نہیں۔۔۔ بچپن سے لے کر آج تک وہ اسے محب کی طرح اپنا بھاٸ ہی سمجھتی رہی تھی۔۔ وہ ہی تھا جس کو چار سال پہلے پتہ نہیں کیا سوجھی کہ شور ڈال کر اسے اپنے نام کے ساتھ منسوب کر بیٹھا تھا۔۔۔
دیکھیں آپ میرے ساتھ زبردستی کر رہے ہیں۔۔۔ نشا نے اپنے کانوں کی لو اس کے جسم سے نکلنے والی تپش سے گرم ہوتا محسوس کیا تو گھبرا کر بولی۔۔
تم بھی مجھے تڑپا رہی ہو۔۔۔ بول کیوں نہیں دیتی۔۔۔ اس نے جزبات سے لبریز ہو کر نشا کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
میں نہیں کرتی آپ سے محبت بات سمجھ کیوں نہیں آتی آخر آپ کو۔۔۔ نشا مے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑ وایا تھا۔۔۔
اور آج کے بعد اگر آپ نے مجھ سے اس سلسلے میں کوٸ بھی بات کی تو میں یہاں سے ہمیشہ کے لیے چلی جاٶں گی۔۔سمجھے آپ۔۔۔نشا نے اس کی آنکھوں کے سامنے اپنی انگلی لہرا کر کہا۔۔۔
اور تیزی سے وہاں اسے یوں ہی کھڑا چھوڑ کر نکل گٸ تھی۔۔
************
4
سوہا کالج سے واپس لوٹی تھی شام کے چار بج رہے تھے۔۔ جب اس نے اپنے پاس سے کار گزرتے دیکھی تھی۔۔ بے دھیانی میں اس کی نظر کار ے اندر موجود دو لوگوں پر پڑی تھی۔۔
کار میں اسی لڑکے کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر کوٸ بہت خوبصورت اور جدید طرز کے لباس میں ملبوس ایک مغربی لڑکی بیٹھی تھی۔۔۔ وہ ہنس رہی تھی۔۔۔
سوہا ایک دم سے تھم سی گٸ تھی ۔۔۔ پورے ایک ماہ میں آج پہلی دفعہ اس لڑکے کو اس نے کسی لڑکی کے ساتھ دیکھا تھا۔۔۔ عجیب سی جلن سی ہوٸ تھی۔۔ وہ اس لڑکے کا امیج اپنے ذہن میں ایک پرفیکٹ شخصیت کے طور پر بنا چکی تھی۔۔
اس کا دل ایک دم سے بجھ سا گیا تھا۔۔۔ وہ بے دھیانی میں کھڑی کار کی طرف بس دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
کار عمارت کے پارکنگ اٸریا کی طرف جا رہی تھی۔۔۔ وہ ایک دم جیسے ہوش میں آٸ تھی۔۔
تجسس کے زیر اثر جلدی سے ہاسٹل کی طرف بھاگی تھی۔۔۔
بیگ کو سنبھالتی وہ جلدی سے لفٹ کے پاس آٸ تھی۔۔ لفٹ کے بٹن کو دو تین دفعہ دبانے کے بعد بھی اس کا دروازہ جوں کا توں بند رہا۔۔۔
افف ۔۔۔ اس نے کچھ یاد آنے پر سر پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔ لفٹ خراب تھی شاٸد۔۔۔ صبح بھی وہ سیڑھیوں سے ہی اتر کر گی تھی۔۔۔
وہ جلدی سے اب سیڑھیوں کی طرف بھاگی تھی۔۔۔
اتھل پتھل ہوتی سانسوں کے ساتھ وہ سیڑھیاں چڑھتی ہوٸ اوپر آٸ تھی۔۔۔
اپنے بیگ کو تیزی سے پھینکتے ہوۓ وہ اپنے کیمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔ کیمرے کے کور کو جلدی جلدی اتار کر وہ ٹیرس کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔
کیمرے کو لے کر ٹیرس پر آٸ۔۔ آنکھ کو کیمرے پر ٹکا کر اس نے کیمرے کو اس لڑکے کے فلیٹ پر ٹکا دیا تھا۔۔۔
ہمیشہ کی طرح اس کے لاونج میں لگے شیشے کی دیوار سارا منظر دکھا رہی تھی۔۔
لیکن آج کا منظر۔۔ اس کے دل کا خون کر رہا تھا۔۔اس کے ہاتھ ایک دم سے لرز گۓ تھے۔۔
وہ لڑکا اس مغربی لڑکی پر جھپٹا ہوا تھا۔۔ اس کا لباس آدھے سے زیادہ اترا ہوا سا تھا۔۔۔
وہ لڑکی بری طرح تڑپ کے خود کو چھڑوا رہی تھی۔۔۔
سوہا کے ہاتھ ہر دفعہ کی عادت سے مجبور ان لمحوں کو بھی کیمرے میں قید کرنے لگے۔۔
ابھی چار تصویریں بنی تھی۔۔ کے اسے گھٹن ہونے لگی۔۔
فورا اس نے رخ دوسری طرف کیا تھا۔۔۔وہ اس کو ایسے کرتے کیسے دیکھ لیتی۔۔۔ وہ تو اس کے لیے قلب کی تسکین سا بن گیا تھا۔۔۔ایک دم اے اسکا سارا امیج کرچی کرچی ہو گیا تھا۔۔۔
پھر اچانک کچھ ذہن میں آتے ہی وہ۔۔۔ پھر سے نیچے کہ طرف بھاگی تھی۔۔۔۔
مجھے اس لڑکی کی عزت بچانی ہوگی ہر حال میں۔۔۔ وہ دماغ میں کتنے ہی منصوبے بناتی نیچے اتر رہی تھی۔۔
وہ بھاگتی ہوٸ وسیع سڑک کراس کرتی اس عمارت تک پہنچی تھی۔۔۔
تیزی سے وہ لفٹ کےاندر گٸ تھی ۔۔ اور جلدی سے اس کے فلور کا نمبر دبایا تھا۔۔ وہ بہت دفعہ اس کا پیچھا کرتے ہوۓ اس کے فلیٹ تک آٸ تھی۔۔۔
جیسے ہی لفٹ سے وہ باہر نکلی تھی۔۔ وہ لڑکی روتی ہوٸ اس فلیٹ سے نکل رہی تھی۔۔۔
اوہ بہت دیر ہو گٸ وہ لڑکی خبصورت کھال میں چھپے اس بھیڑیے کے حوس کا شکار ہو چکی تھی۔۔ اس کی سوچ نے اس کے دل کو گھٹن کا شکار کردیا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: