Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 6

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 6

–**–**–

اس لڑکی کے ماتھے سے خون نکل رہا تھا منہ پر انگلیوں کے نشان تھے۔۔۔ وہ اپنے بیگ کو سنبھالتی آنسو کو پونچھتی لفٹ کی طرف جا رہی تھی۔۔۔
سوہا جو لفٹ کے پاس ساکت کھڑی تھی فورا اس لڑکی کے ساتھ ہی لفٹ میں چلی گٸ تھی۔۔۔ اب وہ اس کی حالت پر غور کر رہی تھی۔۔ اس ظالم نے بری طرح اس پر تشدد کیا تھا۔۔۔ سوہا کا دل ہر دفعہ کی طرح اس کے لیے پگہل رہا تھا۔۔
سنیں۔۔۔ سوہا نے قریب جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔ جب کہ سوہا کا چہرہ اس کے دکھ کو اندر سے محسوس کرنے کی عکاسی کر رہا تھا۔۔۔ سارے مرد ایک جیسے ہی ہوتے۔۔۔ حوس کے پجاری۔۔۔جہاں تھوڑی سی لڑکی نے لفٹ کرواٸ بس ایک ہی چیز کی چاہ میں پاگل ہو جاتے ہیں۔۔۔وہ دل میں پتہ نہیں کیا کیا سوچے جا رہی تھی۔۔۔
میں سب جانتی ہوں آپ کے ساتھ کیا ہوا ۔۔ میں آپکی مدد کروں گی۔۔۔سوہا نے اپنے نچلے لب کو دانتوں میں دبا کر اس کے کرب کو دل سے محسوس کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ لڑکی حیرانگی اور غصے کے ملے جلے تاثر میں سوہا کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
اوہ جسٹ شٹ اپ۔۔۔ اس لڑکی نے چیخنے کے سے انداز میں سوہا کے ہاتھ کو اپنے کندھے سے جھٹکا تھا۔۔
اسی وقت لفٹ کھلی اور وہ وہاں سے جا چکی تھی۔۔۔
سوہا ویسے ہی لفٹ میں کھڑی تھی ساکت ۔۔
*****************
ہے۔۔۔ واسم۔۔ کیرن نے واسم کے کندھے پر پریم سے ہاتھ رکھ کر اسے متوجہ کیا تھا ۔۔
وہ جو نوید کے ساتھ باتوں میں مگن تھا گردن موڑ کر حیرانگی سے کیرن کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ اس کے سرپر کھڑی تھی۔۔ چہرے پر وہی مسکراہٹ سجاۓ وہ پیار بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اس کے دماغ کا خلل درست نہیں ہو گا واسم نے دل میں سوچا۔۔۔
گلابی رنگ کی چھوٹی سی گھٹنوں سے اوپر فراک پہنے ۔۔ جس کا گلا ایسا تھا کہ اس کے سارے کندھے برہنا تھے زیب تن کیے وہ اب گھوم کر واسم کے بلکل سامنے آ گٸ تھی۔۔۔
میرا فون کل سے نہیں مل رہا۔۔۔ کیرن نے بڑی ادا سے اپنے بال کان کے پیچھے آڑستے ہوۓ کہا۔۔۔
مجھے لگتا کل رات تمھاری طرف رہ گیا شاٸد۔۔۔ کیرن نے لب کچلتے پریشانی سے کہا۔۔۔ وہ بڑی نک سک سے تیار ہوٸ تھی۔۔۔
اوہ اچھا۔۔۔ تو میں لے آوں گا کل ۔۔ ڈونٹ وری۔۔ واسم نے قاتل مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کیرن کو کہا۔۔۔ وہ اس سے جلد سے جلد بات ختم کر کے جان چھڑوانا چاہتا تھا۔۔۔
اوہ۔۔ نہ۔۔نہیں واسم مجھے آج ہی چاہیے۔۔ وہ ایک دم سے نفی میں سر ہلا رہا تھی۔۔۔
ایسا کرتے ہیں نہ میں جاتے ہوۓ تمھارے ساتھ چلتی ہوں۔۔۔ وہاں سے اپنا فون لے کر میں چلی جاٶں گی۔۔۔ وہ لاڈ سے کہتی ہوٸ دھیرے دھیرے سے ہل رہی تھی۔۔۔
ہم۔۔۔مم۔۔۔اوکے۔۔۔ میں اپنا کام ختم کر لوں ذرا ۔۔ واسم نے لب بھینچے۔۔
چلو کل سے ویسے بھی یونیورسٹی ختم ہو ہی رہی ہے۔۔۔ تو آج کا دن اسکو برداشت کر ہی لیتا ہوں۔۔ واسم نے دل میں سوچا۔۔۔
میں نے انٹرنشپ کے پیپرز کولیکٹ کرنےہیں میں آتا ہوں تم ویٹ کرو۔۔ وہ مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔
کیرن نے ہونٹوں کو گول گھما کر مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ اور واسم کو اوپر سے نیچے تک دیکھا ۔۔ وہ سفید رنگ کی ہلکی سی ٹی شرٹ میں ملبوس تھا۔۔ ہلکے نیلے رنگ کی جینز کی پینٹ اور سن گلاسز چہرے پر سجاۓ وہ اس کو بے چین کر رہا تھا۔۔۔ وہ اسے دور تک جاتا دیکھتی رہی ۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ مسکراتے ہوۓ ہاتھوں میں خاکی رنگ کا لفافہ پکڑے اس کے پاس آیا تھا۔۔۔ وہ جیسے ہی اس کے پاس آیا اس کے جسم کی خوشگوار مہک ارد گرد کے سارے ماحول کو اپنے حصار میں لینے لگی تھی۔۔۔اور کیرن اسی ماحول کا حصہ تھی۔۔ جو اس خوبصورت شخص کی دیوانی تھی۔۔۔
چلیں۔۔۔ بڑی خوش دلی سے اس نے کیرن کو کہا تھا۔۔۔ اور ہاتھ سے احترام کے طور پر اسے آگے جانے کے لیے کہا۔۔۔
وہ بڑی شان سے قدم سے قدم ملاتی اس کی کار تک آٸ تھی۔۔۔
واسم نے اس کے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تھا وہ مسکراتی ہوٸ اس میں بیٹھی تھی۔۔۔
سارے رستے وہ مسکراتی ہوٸ کن اکھیوں سے واسم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
ہم۔م۔م۔ دیکھو کہاں رکھ کر بھول گٸ تھی تم اپنا فون ۔۔ میں بھی دیکھتا ہوں۔۔۔ واسم نےفلیٹ کا داخلی دروازہ کھول کر کہا اور آگے آگے چلتا ہوا لاونج میں داخل ہوا۔۔۔ اب وہ اپنی کمر پر اپنے دونوں ہاتھوں کو رکھے کھڑا تھا۔۔۔
کیرن اب اس کی پشت پر کھڑی تھی۔۔۔ اور آنکھوں میں اس کی قربت کے حصول کا خمار بھر کر اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
واسم ارد گرد اس کے فون کو متلاشی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
جب کیرن آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوٸ اس کے پیچھے سے اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔ چہرے پر گہری مسکراہٹ سجاۓ۔ اس کا انگ انگ واسم کی محبت کا اسیر لگ رہا تھا۔۔۔
اس نے اپنے کندھے پر اٹکے اپنے فراک کے سٹرپ کو تھوڑا سا اور ڈھلکا لیاتھا۔۔
آٸ لو ۔۔۔ یو۔۔۔ واسم۔۔۔۔۔وہ واسم کے پیچھے سے جا کر اس کے ساتھ لگی تھی۔۔ اور مدھوش سی آواز میں سرگوشی کی۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔۔واسم ایک دم سے پلٹا تھا اور اس کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر ناگواری کے بل پڑ گۓ تھے کیونکہ اس کی حالت ہی ایسی تھی۔۔۔
کل سے یونیورسٹی ختم ہو رہی واسم … تم چلے جاٶ گے۔۔۔۔۔کیرن تو جیسےپگل ہو گٸ تھی۔۔ زبردستی اس کے سینے سے لگنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ اس کی آواز خمار آلودہ تھی۔۔۔واسم کو اس کے اچانک اس طرح کرنے پر کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہاتھا۔۔ واسم اسے اپنے ہاتھوں سے پیچھے کر رہا تھا۔۔۔
پر وہ تھی کہ بار بار آگے ہورہی تھی۔۔۔
دماغ خراب ہو گیا ہے کیا تمھارا اس نے کیرن کے بازو سے پکڑ کر اسے جھنجوڑ ڈالا تھا۔۔۔ وہ ایک دم ہل کر رہی گٸ تھی۔۔۔
واسم پلیز۔۔۔۔ واسم ۔۔پلیز۔۔۔ پر وہ تو جیسے ہوش میں نہیں تھی زبردستی اس کے بازو میں سمانے کی کوشش میں وہ تڑپ تڑپ رہی تھی اور اچھل اچھل کر اسکا گریبان پکڑ رہی تھی تو کبھی زبردستی اپنا آپ اس کے ساتھ لگا رہی تھی۔۔۔
کیرن ہوش کے ناخن لو کیا کر رہی ہو تم ۔۔۔۔۔واسم کچھ دیر تو اس کےہاتھوں کو جھٹکتا رہا اور اسے آرم سے سمجھاتا رہا لیکن وہ تھی کہ سب ہوش و حواس کھوۓ بیٹھی تھی۔۔ واسم نے اب کی بار زور سے اسے جھٹکا تھا۔۔
آہ۔۔۔۔۔ تکلیف سے کیرن کے منہ سے آواز نکلی تھی۔۔۔وہ ایک دم لڑھکتی ہوٸ سامنے پڑے میز سے ٹکراٸ تھی۔۔
اس کا سر میز کے کونے پر لگا تھا۔۔۔
کیا پربلم ہے تمھاری۔۔۔۔ میں خود اپنا آپ تمھارے حوالے کر رہی ہوں۔۔۔تم پاگل مرد ہوکیا۔۔۔ وہ بپھری شیرنی کی طرح اس پر پھر سے جھپٹی تھی۔۔۔
بس ایک بار بس ایک بار۔۔۔ وہ اپنے چہرے کو پھر سے واسم کے پاس لا رہی تھی۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔پر اب کی بار واسم نے ایک تھپڑ جڑ دیا تھا۔۔۔ وہ اس کے مظبوط ہاتھ کے تھپڑ سے ہل کر رہ گٸ تھی۔۔۔
ہونق بنی وہ گال پر ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ آنکھیں تزلیل اور تھپڑ کی تلکیف سے نم ہو گٸ تھیں۔۔۔ ماتھے سے خون نکل رہا تھا۔۔
اس کا چہرہ لال ہو گیا تھا جھٹکے سے اپنا بیگ اٹھا کر جاتے ہوۓ پھلوں کی ٹوکری سے اپنا فون اٹھاتے ہوۓ وہ باہر نکلی تھی۔۔۔
******************
آپ۔۔ آپ۔۔۔ یہاں کیا کر رہے۔۔۔ نشا ایک دم سے گڑ بڑا گٸ تھی۔۔۔ پریشان ہو کر ارد گرد دیکھا۔۔۔۔ کوچ بس چلنے والی تھی ۔۔ دروازہ بند ہو چکا تھا۔۔۔ جب اس کے ساتھ والی سیٹ سے ایک لڑکا اٹھ کر اس کےساتھ آ کر بیٹھ گیا تھا اس نے کیپ نیچے چہرے پر جھکا رکھی تھی۔۔۔ لیکن جیسے ہی اس نے چہرہ اوپر کیا تھا۔۔۔ وہ ارسل تھا۔۔۔ نشا کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔۔۔
وہ آج مری جا رہی تھی۔ اپنے گھر ۔ ویکنڈ پر۔۔۔ جیسے ہی وہ کوچ میں آ کر بیٹھی تھی اس کے ساتھ پڑی خالی سیٹ پر ارسل آ کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
تمھارے ساتھ جا رہا ہوں تمھارے گھر۔۔۔ وہ شرارت سے اسے دیکھتے ہوۓ بولا تھا جب کے ہونٹوں پر جازب نظر مسکراہٹ تھی۔۔۔
کہ۔۔۔کیا مطلب۔۔ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے کیا۔۔۔ نشا کا رنگ ایک دم سے زرد پڑ گیا تھا۔۔۔
بلکل بلکہ اب تو آیا ہوں اپنے ھوش میں اور جان گیا ہوں ۔۔ تم بن نہیں جی سکتا۔۔ ارسل بڑی ادا سے سینے پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا۔۔۔
دیکھیں ۔۔آپ مجھے پریشان کر رہے ہیں ۔۔۔ یہاں سے جاٸیں۔۔۔ نشا نے چہرے پر ناگواری کا تاثر لاتے ہوۓ کہا۔۔۔
خاموشی سے بیٹھی رہو۔۔ نہیں تو سچ میں تمھارے گھر پہنچ جاوں گا۔۔ اب کی بار ارسل نے رعب سے کہا تھا۔۔۔
پلیز ۔۔۔ آپ میرے آغا جان کو نہیں جانتے ہیں۔۔۔ وہ روہانسی ہو گٸ تھی بےچارگی سے ارسل کی طرف دیکھا۔۔۔
اور ۔۔ آغا جان مجھے نہیں جانتے۔۔۔ ہم دونوں ملیں گے بیٹھیں گے باتیں کریں گے تو ہی جان پاٸیں گے ایک دوسرے کو۔۔ارسل بڑے شوخ انداز میں مسکراتے ہوۓ اس کی خوف زدہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔۔۔
آپ پاگل ہیں کیا ارسل۔۔ اب سچ میں اس کی آوازآنسوٶں سے رندھ گٸ تھی۔۔۔
ہاں ہوں تمھارے لیے۔۔۔ محبت بھرا لہجہ۔۔۔ محبت پاش نظریں۔۔۔
افف۔۔۔ آپ کا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔ آخر آپ چاہتے کیا ہیں مجھ سے۔۔۔ وہ اب باقاعدہ رونے لگی تھی۔۔۔
تمھارا اقرار اور کیا چاہوں گا میں۔۔۔ وہ تو آج ظالم ہی بن گیا تھا۔۔۔ نشا کے آنسو بھی اثر نہیں کر رہے تھے۔۔۔
بس ایک دفعہ بول دو جو تمھارے دل میں ہے۔۔ جو مجھے تمھاری آنکھوں سے نظر آتا ہے بس تمھاری زبان سے سننا چاہتا ہوں میں۔۔۔ آہستہ سی آواز میں ارسل نے اس کے قریب ہو کر سرگوشی کی تھی۔۔۔
ارسل ۔۔۔ پلیز۔۔۔ اس نے نم آنکھیں۔۔ اٹھاکر ارسل کی آنکھوں میں دیکھاتھا۔۔۔
تم بھی۔۔۔ پلیز۔۔۔ وہ بھی اسی انداز میں کہہ رہا تھااور آنکھیں نشا کی آنکھوں میں گاڑ دی تھیں۔۔۔
کتنے ہی لمحے یوں ہی گزر گۓ تھے۔۔۔
5
میں بتا چکی ہوں۔۔۔ اگر آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔۔ آپ کو میری پریشانی بھی سمجھنی چاہیے۔۔۔ ایک دم نشا کو اپنی غلطی کا احساس ہو ا تھا۔۔۔ وہ نظریں چرا گٸ تھی۔۔۔
جان بھی حاضر ہے تمھارے لیے۔۔۔ بس ایک دفعہ یہ بتا دو۔۔ کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو نہ۔۔۔ باقی سب میں سنبھال لوں گا۔۔ اتنی محبت بھری آواز تھی اور اتنی اپناٸت تھی کہ۔۔۔ نشا زارو قطار رونا شروع ہو گٸ تھی۔۔۔
مجھے پتہ ہے تم کرتی ہو۔۔۔ ارسل نے دکھ بھری آواز میں کہتے ہوۓ سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا تھا۔۔۔
دھیرے سے نشا کے ہاتھ کو تھاما تھا۔۔۔ جو سیٹ کے بازو پر پڑا تھا۔۔
نشا نے ہاتھ نہیں چھڑوایا تھا۔۔۔
بس دھیرے سے اپنی آنکھیں موند کر سیٹ کی پشت سے ٹکا دی تھیں۔۔۔
ارسل کے لبوں پر کچھ جیت جانے والی مسکراہٹ تھی۔۔۔
****************
یہ بھی تو ہو سکتا وہ لڑکی کوٸ کال گرل ہو پاگل۔۔رچا نے سوہا کو گھور کردیکھا اور اپنی راۓ کا اظہار کیا تھا۔۔
تم خود کہہ رہی وہ لڑکے کے ساتھ کار میں بیٹھی مسکرا رہی تھی۔۔۔ وہ اس کے اور قریب ہوٸ تھی اب اسے پیار سے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
کیونکہ سوہا نے رچا کو ساری بات بتاٸ تھی اب وہ اپنی عادت سے مجبور بضد تھی اس بات پر کہ وہ اس لڑکے کے خلاف رپورٹ درج کرواۓ گی۔۔۔
مجھے نہیں لگتا تمہیں کچھ کرنا چاہیے۔۔۔ رچا نے اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر پیار سے کہا۔ وہ سوہا کے بہت قریب ہو گٸ تھی اور اسے اب اپنی بہنوں کی طرح ٹریٹ کرتی تھی۔۔
سوہا بس خاموشی سے اسے سن رہی تھی۔۔۔ صدمے میں بھی تھی وہ۔۔۔ وہ لڑکا نا چاہتے ہوۓ بھی اس کے لیے بہت اہم بنتا جا رہا تھا اس کی زندگی میں ۔۔ وہ اس سے کافی چھوٹی تھی۔۔ مطلب وہ پچیس کا تھا تو وہ آٹھارہ سال کی تھی۔۔۔ لیکن وہ بری طرح اس کی شخصیت کے جادو میں جکڑی جا چکی تھی۔۔۔ لیکن اب سب ایک دم سے ڈھے سا گیا تھا۔۔۔ وہ بھی ایک عام سے بھی عام مرد تھا۔۔۔ حوس۔۔۔ حوس۔۔۔ حوس۔۔۔
اس لڑکی کو اگر تمھاری کوٸ مدد چاہیۓ ہوتی تو وہ بول دیتی نہ لیکن اس نے کچھ بھی نہیں کہا تم سے ۔۔رچا مسلسل اسے قاٸل کر رہی تھی کہ وہ بس چپ چاپ سے اس سارے معاملے سے دور رہے۔۔۔
ہاں لیکن لڑکا زبردستی کر رہا تھا اس سے اور مجھے یقین ہے وہ بے چاری اس کے ہاتھ سے نہیں بچی ہو گی وہ مظبوط ہی اتنا ہے۔۔۔ وہ پر سوچ انداز میں دکھ بھری آواز سے بولی تھی۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا اسے اصل میں دکھ کس بات کا ہے۔۔ اس لڑکی کے ساتھ ہوٸ زیاتی کا یا پھر اپنا یقین ٹوٹنے کا جو وہ انجانے میں اس لڑکے پرکر بیٹھی تھی۔۔۔
جو بھی ہے بس تم اس معاملے سے دور رہو۔۔۔ تمھارے بابا نے سختی سے منع کیا تھا۔۔ اور تم نے ان سے پرامس کیا ہے۔۔ کہ تم یہاں کچھ بھی ایسا نہیں کرو گی۔۔۔ رچا اسے ڈانٹنے کے انداز میں کہہ رہی تھی۔۔۔
ہمم۔م۔م۔م۔ ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔ اس نے بھی لب بھینچ لیے تھے۔۔۔اور اپنے کیمرے کو دھیرے سے ایک طرف رکھ دیا۔۔۔
********************
اوہ ۔۔۔ مجھے ۔۔ مجھے پتہ نہیں چلا۔۔ کب ۔۔ نشا شرمندہ سی ہو رہی تھی۔۔۔ وہ ارسل کے کندھے پر پتا نہیں کب سے سر رکھے سو رہی تھی۔۔۔
کوچ تقریبا پہنچنے والی تھی۔۔۔ وہ دھیرے سے اپنے بال سمیٹتی سیدھی ہوٸ تھی۔۔۔ رات بہت دیر جاگتے رہنے اور رونے کی وجہ سے آنکھیں سرخ سی ہو رہی تھی۔۔ لیکن نظریں جھکی ہوٸ تھیں۔۔۔
وہ دھیرے سے مسکرایا تھا۔۔۔ جناب ۔۔یہ کندھا ساری زندگی کے لیے آپکا تکیہ بننے کے لیے تیار ہے۔۔ اس نے شریر آنکھوں سے تھوڑا سا شرماتی ہوٸ نشا کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔ رات کے اظہار نے ارسل کو ہمت دے دی تھی۔۔
آپ ابھی گھر مت آۓ گا۔۔ پلیز۔۔۔ میں اس دفعہ مما سے بات کرتی ہوں۔۔۔ اس نے بچوں جیسی شکل بنا کر ارسل کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ مسکرا رہا تھا۔۔ اور نشا کو پوری دنیا کا پیار ا شخص لگ رہا تھا۔۔
جی جناب جیسے آپ کہیں۔۔۔ میں آج ہی تھوڑا سا گھوم کر واپس چلا جاوں گا۔۔۔ ارسل نے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
تھنکیو۔۔۔ وہ اپنی خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولی تھی۔۔۔
یہ تو مجھے تم سے کہنا چاہیے۔۔۔ ارسل نے دھیرے سے اس کے ہاتھ کو پھر سے تھاما تھا۔۔
لیکن ارسل بہت مشکل ہے میرے آغا جان اس رشتے سے بے انتہا خوش ہیں۔۔ اور واسم۔۔۔ واسم ان کی جان ہے۔۔۔ وہ اپنے اور ارسل کے ہاتھ پر نظریں جما کر بولی تھی۔۔
اور واسم اتنا پرفیکٹ ہے۔۔۔ کہ کوٸ بھی میری بات کو اہمیت نہیں دے گا جیسے چار سال پہلے کسی نے بھی نہیں دی تھی۔۔۔ وہ لب کچل رہی تھی۔۔۔ چہرہ پریشان تھا۔۔۔ آنکھیں پھر سے ڈبڈبا گٸ تھیں۔۔۔
وہ مجھ سے اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔ اور مجھ سے تو کسی نے پوچھا تک نہیں تھا۔۔۔ آنسو گال تک بہہ گۓ تھے۔۔
دنیا میں کچھ بھی نا ممکن نہیں ہوتا۔۔۔ نشا۔۔۔ میری چاہت تمھارے لیے بہت سچی ہے۔۔۔ ارسل نے اس کے گال سے آنسو صاف کیا تھا۔۔۔
مجھے یقین ہے ۔۔ تم اپنی مما سے بات کرو۔۔ اپنے بابا سے بات کرو۔۔ ان کی کل کاٸنات تم اور محب ہو ۔۔۔ وہ مان جاٸیں گے۔۔ وہ محبت سے مسکراتا ہوا اس کا حوصلہ بڑھا رہا تھا۔۔۔
میں تمھاری خوشی ہوں۔۔ وہ تمھاری خوشی تمہیں دیں گے۔۔۔ لازمی۔۔ اس نے مسکرا کر نشا کی طرف دیکھا۔۔۔
جو روتی آنکھوں سمیت مسکرا دی تھی۔۔۔
*****************
دل سے تو وہ بری طرح اتر گیا تھا لیکن روز نظریں اسی کو تلاش کرتی تھی پارک میں۔۔۔ لیکن وہ اس دن کے بعد سے نظر نہیں آیا تھا۔۔۔
شاٸد وہ بھاگ گیا ہو گا یہاں سے۔۔ کیا پتہ لڑکی نے اس کے خلاف رپورٹ کر دی ہو گی۔۔۔ کیا پتہ پکڑا گیا ہو۔۔۔ پتہ نہیں۔۔ کتنے وہم تھے جو اس کے ذہن میں آتے تھے روز اس کے حوالے سے۔۔۔
اس نے آج واپس آ کر کیمرے سے اس کے فلیٹ کو دیکھا تھا۔۔لیکن وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ ویران پڑا تھا۔۔
سوہا نے ٹھنڈی آہ بھری تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: