Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 7

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 7

–**–**–

بہت اچھی جا رہی آغا جان انٹرنشپ بس دو ماہ اور ہیں۔۔ اپنی ٹاٸ کی ناٹ کو ڈھیلا کرتے ہوۓ واسم نے کہا۔۔۔ اب وہ انگلیوں سے سامنے پڑے گلوب کو گھوما رہا تھا۔۔۔
آغا جان ادھر ۔۔ برسٹل میں ہوٸ ہے انٹرنشپ۔۔ آہستہ سے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوۓ کہا اور سر کو کرسی سے ٹکا کے کرسی کو داٸیں باٸیں گھومایا۔۔۔
ہیری فلکس۔۔ میں آغا جان۔۔ وہ اب بنک کا نام بتا رہا تھا۔۔۔
جی۔۔جی۔۔۔ لندن والا فلیٹ خالی ہے ابھی۔۔۔ کرسی کو چھوڑ کر تھوڑا سا آگے ہو کر کہا۔۔۔
نہیں سیل کرنے کا کوٸ ارادہ نہیں آغا جان ۔۔۔ چکر لگتا رہے گا میرا۔۔۔ ماتھے پر انگلیوں کو داٸیں باٸیں پھیرتے ہوۓ کہا۔۔۔
نوید بھی ٹھیک ہے۔۔ اس کی کہیں اور ہوٸ ہے انٹرنشپ میرے ساتھ نہیں ہوٸ ہے۔۔۔
اس دن کے بعد اس کی برسٹل میں انٹرنشپ شروع ہو گٸ تھی۔۔ وہ لندن سے چار ماہ کی انٹرنشپ پر برسٹل آ گیا تھا ۔۔ اب وہ زندگی میں کبھی کیرن کا سامنا نہیں چاہتا تھا۔۔ اسے ویسے بھی ایسی لبرل سی بولڈ لڑکیاں بلکل پسند نہیں تھیں۔۔ اور کیرن نے تو خیر سے حد ہی کر دی تھی۔۔۔
آپ بے فکر رہیں ۔۔ آپ سناٸیں گھر میں سب کیسے ہیں۔۔۔ رضا چچا کا چکر لگا پھر۔۔ پھر سے کرسی گھو ماتے ہوۓ اس نے آغا جان سے سوال کیا۔۔
جی بس کام ختم ہوتے ہی آ جاٶں گا۔۔۔ کرسی داٸیں باٸیں گھوم رہی تھی اور وہ آغا جان سے بات کرنے میں مگن تھا۔۔
***********************
دل نہیں کر رہا یار تمہیں اور لندن کو چھوڑ کر جاٶں۔۔۔ کاش چھٹیاں نہ ہوٸ ہوتی۔۔۔ سوہا رچا کے گلے لگی ہوٸ تھی۔۔۔ آنکھوں کے کونے گیلے ہونے کو تھے۔۔۔ لب بھینچے تو گال کے گڑھے اس کی من موہنی صورت کو اور نکھارنے لگے۔۔۔
یار تم بھی مت جاٶ نہ ہم دونوں یہیں رہتے لندن میں۔۔۔ سوہا اب اس سے الگ ہو کر پر جوش انداز میں اسے کہہ رہی تھی۔۔۔ اور ہاتھ کی پشت سے بچوں کی طرح گال صاف کر ڈالے تھے۔۔ لب پر زبردستی مسکراہٹ لا کر وہ بولی تھی۔۔
کاش ایسا ہو سکتا۔۔۔ رچا نے اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر بولا۔۔۔
ہم۔۔۔م۔م۔م۔ صرف تمھاری وجہ سے جا رہی ہوں کہ تم جا رہی ہو۔۔۔بڑے لاڈ سے سوہا نے اس کی گردن کے گرد اپنے بازو حاٸل کر کے بولا۔۔ چہرے پر بچوں جیسی خفگی تھی۔۔
ویسے میرے انتظار میں کوٸ نہیں بیٹھا وہاں۔۔۔ ایک دم سے سوہا کا چہرہ اداس ہو گیا تھا۔۔۔
بلکہ ۔۔۔ سوزی تو میری شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔ اب وہ اپنے ہاتھوں کو ایک دوسے کے ساتھ مسلتے ہوۓ بولی۔۔۔
اور تمھارے بابا رچا نے اس کے دل کو لبھانا چاہا پیار سے اس کے جھکے چہرے کو اوپر کیا۔۔۔
بابا۔۔۔ اس نے زور دے کر کہا اور کچھ دیر کے لیے لب بھینچ کر خاموش کھڑی رہی۔۔۔
وہ بس سوزی سے ڈرتے ہیں۔۔۔ مجھ سے محبت کرتے ہیں ۔۔ لیکن نبھانے سے گھبراتے ہیں۔۔۔ وہ دھیرے سے اداس مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولی تھی۔۔۔
اچھا اب چلتی ہوں فلاٸیٹ کا وقت ہو رہا ہے۔۔ اس نےجلدی سے خود کو سنبھالا ۔۔ اسے آنسو بہانا اچھا نہیں لگتا تھا۔۔
اپنا خیال رکھنا اور جلدی آنا میں بھی جلدی آنے کی کوشش کروں گی۔۔ وہ رچا کے دونوں ہاتھ پکڑے کھڑی تھی۔۔۔
***********
مما آپ سے بات کرنی ہے مجھے۔۔۔ نشا نے ڈرتے ڈرتے نورین سے کہا۔۔۔ وہ اپنے الماری سے کچھ تلاش کر رہی تھیں ۔۔ فورا پلٹی۔۔۔
وہ ان کے بلکل پیچھے لبوں کو کچلتی ۔۔ ہاتھوں کو رگڑتی بے چین سی کھڑی تھی۔۔۔
اس نے ساری چھٹیاں ہمت جمع کرنے میں گزار دی تھیں۔۔۔ کہ وہ ان سے ارسل کے بارے میں بات کرے گی۔۔۔ اب واپس لاہور جانے کا وقت آن پہنچا تھا۔۔۔ آج وہ بھرپور حوصلہ جمع کرنے کے بعد نورین کی پاس آٸ تھی۔۔۔
ہم۔م۔م۔ بولو ۔۔ ۔ اتنا گھبراٸ ہوٸ کیوں ہو۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔ نورین اس کی حالت دیکھ کر پریشان سی ہو کر بولیں۔۔۔ اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ پر بیٹھایا۔۔۔
مما ۔۔ مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔ نشا نے نظریں جھکا لیں ۔۔۔ جبکہ اس کی انگشت انگلی۔۔۔ چادر کے اوپر بنے پھول پر دھیرے دھیرے گھوم رہی تھی۔۔۔
ہاں تو کرو نہ۔۔۔ نورین کو عجیب ڈر سا لگنے لگا تھا نشا کے انداز سے۔۔۔ وہ ان کی اکلوتی بیٹی تھی۔۔۔ ان کے دل میں دھڑکن بن کر بستی تھی۔۔۔ اس کی پریشان شکل دیکھی نہیں جا رہی تھی۔۔۔
مما ۔۔ مجھ۔۔۔مجھے۔۔۔ مجھے۔۔۔ واسم سے شادی نہیں کرنی۔۔۔ نشا کی آواز بہت دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ تھی۔۔۔ اس کہ آواز اور چہرے پر گھٹن کا احساس تھا۔۔۔
کہ۔۔کیا ۔۔ کیا کہ رہی ہو دماغ ٹھیک ہے تمھارا۔۔۔ نورین ایک دم سے گھبرا کر ارد گرد دیکھنے لگی تھیں۔۔۔پھر جلدی سے اٹھ کر کمرے کے داخلی دروازے کو زو سے بند کر ڈالا۔۔۔
مما میں ان کے لیے کچھ بھی ایسا محسوس نہیں کرتی وہ بلکل مجھے محب اور کومیل جیسے لگتے ہیں۔۔۔ نشا روہانسی شکل بنا کر بولی۔۔۔ آنکھوں میں التجا تھی۔۔۔اور انگ انگ ارسل کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔
پاگل ہو کیا۔۔۔ آج منہ سے یہ بات نکلی تمھارے دوبارہ کبھی نہ نکلے سمجھی تم۔۔۔ نورین نے اس کا بازو پکڑ کر سختی سے کہا۔۔۔ جب کے ان کے چہرے پر خوف تھا۔۔۔
اور ۔۔ کیا۔۔ ہو گیا ہے تمھیں۔۔۔ بتاٶ مجھے۔۔۔ اب وہ اسکا بازو زور سے ہلا رہیں تھی۔۔۔ ماتھے پر ناگواری اور بے یقینی کے آثار تھے۔۔۔
کوٸ اور چکر ۔۔ ۔۔ افف۔۔۔ انھوں نے خوف سے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھے تھے۔۔۔ اور دھک کرتے دل اور انجانے خوف سے بھری آنکھوں سے نشا کی طرف دیکھا۔۔۔
اللہ۔۔۔ نشا کہیں۔۔۔ خبردار خبردار اگر ایسی کوٸ بھی بات ہوٸ۔۔۔ وہ اب شرگوشی مگر سختی کے الفاظ استعمال کرتے ہوۓ کہہ رہی تھیں۔۔۔
اپنے باپ کا پتہ ہے نہ اور آغا جان کا۔۔۔ زندہ گاڑ دیں گے تمہیں۔۔ نورین نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔ اورگھور کر نشا کو دیکھا۔۔۔
نشا ۔۔۔ نے پھر کچھ بولنا چاہا تھا لیکن ۔۔ نورین کے چہرے کی سختی دیکھ کر اس کی آواز اندر ہی کہیں گھٹ گٸ تھی۔۔۔ اس کی ماں نے پہلے قدم پر ہی اس کا کسی بھی قسم کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔
اور واسم۔۔۔ اتنا اچھا ہے وہ ۔۔ ہر طرح سے مکمل بچہ دل و جان سے تمہیں چاہتا ہے۔۔۔ نورین اس کا ذہن صاف کر دینا چاہتی تھیں۔۔۔
اور رہی محبت کی بات تو وہ بھی ہو ہی جاتی ہے شادی کے بعد۔۔۔ نورین نے غصے سے ناگوار نظر نشا کے چہرٕے ہر ڈالتے ہوۓ کہا۔۔۔
اور وہ کوٸ بھی ہے۔۔۔ اس کے ساتھ تم جتنا بھی آگے جا چکی ہو۔۔۔ واپس آ جاٶ۔۔۔ نہیں تو بہت دیر ہو جاۓ گی۔۔۔ اور پھر بہت برا ہوگا۔۔۔ اس کو انگلی دیکھاتے ہوۓ کہا ۔۔۔
وہ تیزی سے نشا کو بیٹھا چھوڑ کر۔۔۔ کمرے سے باہر نکل گٸ تھیں۔۔۔
*******************
اس کے ہاتھ ۔۔ ٹاول باتھ روم کی کھونٹی سے لٹکاتے۔۔ لٹکاتے رک گۓ تھے۔۔۔ اس کےکان کھڑے ہو گۓ تھے۔۔۔۔ اس نے احتیاط سے دیکھا۔۔۔
سوہا ۔۔۔ نہانے کے لیے باتھ میں آٸ تھی۔۔۔ جیسے ہی وہ ابھی اندر داخل ہوٸ اسے ہلکی سی وابریٹ کی آواز آٸ تھی۔۔۔
پتہ نہیں کیوں چھٹی حس کے الارم دینے پر وہ ارد گرد کا کن اکھیوں سے جاٸزہ لینے لگی تھی۔۔۔ اور پھر اوپر والے ہوا دان کے پاس لٹکتے پیٹر کے فون کو دیکھ کر اس کے اندر خوف کی سوٸیاں چبھ گٸ تھیں۔۔۔
سوزی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔سوزی۔۔۔۔۔۔۔۔ اکبر کی دھاڑ نے پورا گھر ہلا دیا تھا۔۔۔ وہ سرخ چہرہ لیے ایک ہاتھ میں پیٹر کا موباٸل پکڑے چیخ رہے تھے۔۔۔
پاس سوہا کھڑی غم اور غصے کی حالت میں لب کچل رہی تھی۔۔۔۔
کیا مانگتا ہے تم کو اب۔۔۔۔ سوزی ایک ہاتھ میں چمچ پکڑے کمرے میں داخل ہوٸ تھی اور حیرانی سے ایک نظر اکبر پر اور ایک ناگوار نظر سوہا پر ڈال کر بولی۔۔۔
پیٹر کہاں ہے۔۔۔۔ بلاو پیٹر کی اسی وقت۔۔۔۔ پیٹر۔۔۔ پیٹر۔۔۔۔ اکبر دھاڑنے کے انداز میں پھر سے چیخے تھے۔۔۔ اتنا اونچا بولنے سے اس کے گلے کی رگیں کھنچ گٸ تھیں۔۔۔
کیا ہوا کیا ہے۔۔۔ کوٸ مجھ کو بھی تو بتاٶ۔۔۔ کیا کیا ہے میرے پیٹر نے کیا کر دیا ہے اب جو تم اتنے غصے میں ہو۔۔۔ سوزی نا سمجھی کی حالت میں بول رہی تھی۔۔۔
کیا کر دیا ہے۔۔۔ اسی لیے ۔۔۔ اسی لیے میں اس کو یہاں نہیں رکھنا چاہتا تھا۔۔۔ اکبر نے خونخوار نظروں سے سوزی کی طرف دیکھا۔۔۔
سوہا نہانے کے لیے گٸ ہے تو اسے پیٹر کا فون وہاں ویڈیو پر لگا ملا ہے۔۔۔ اکبر نے شرمندہ حالت میں نظریں جھکا کر دانت پیستے ہوۓ سوزی کے سامنے موباٸل کیا۔۔۔
جس کو دیکھ کر۔۔۔ سوزی کا منہ کھولے کا کھولا رہ گیا تھا۔۔۔
خبیث۔۔۔۔ انسان ۔۔۔ تیری جرأت کیسے ہوٸ۔۔۔ جیسے ہی پیٹر شور سن کر کمرے میں داخل ہوا۔۔ اکبر اس کا گریبان پکڑ کر اس پر جھپٹ پڑے تھے۔۔۔
نکلو میرے گھر سے اسی وقت۔۔۔۔ نکلو۔۔۔۔ وہ پیٹر کو بری طرح دھکے دے رہے تھے۔۔۔
کیوں۔۔۔ یہ گھر میرا ہے۔۔۔ تمھارا نہیں۔۔۔ پیٹر نہیں نکلے گا تمھاری لڑکی نکلے گا۔۔۔ سوزی نے پیٹر کو پکڑ کر ایک طرف کیا اور اکبر کے آگے تن کر کھڑی ہو گٸ تھی۔۔۔
اب میں اس لڑکی کو اور ادھر برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ سوزی بھی برابر چیختے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
اسے یہاں سے بھیجو۔۔۔ میرے گھر اس کے بعد یہ کبھی نظر نہیں آۓ۔۔۔ وہ اب اکبر سے دو ٹوک بات کر رہی تھی۔۔۔ اس کا چہرہ غضبناک ہو رہا تھا۔۔۔
سمجھے تم۔۔۔ وہ اکبر کی انکھوں کے آگے اپنی انگلی کرتی ہوٸ بولی۔۔۔ اور پیٹر کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گٸ۔۔۔
اکبر ایک دم سے پاس پڑی کرسی پر ڈھے سا گۓ تھے۔۔۔
*********************
نشا نشا۔۔۔ کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔ ارسل اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی کوشش میں تھا لیکن وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اسے بنا دیکھے چلے جا رہی تھی۔۔
اسے لاہور آۓ آج تین دن ہو گۓ تھے۔۔۔ وہ ارسل سے چھپتی پھر رہی تھی۔۔۔ ایک دن تو ہاسٹل سے ہی نہیں آٸ تھی۔۔۔ اب بھی جلدی سے وہ لیکچر لینے کے بعد اس سے چھپتی چھپاتی نکل رہی تھی۔۔۔۔
6
کچھ نہیں ہوا ہے۔۔ ارسل پلیز آپ میرے راستے میں مت آیا کریں۔۔۔ وہ روہانسی ہو رہی تھی ۔۔ آنکھوں کی کی نمی چھپانے کی خاطر وہ ارد گرد دیکھنے لگی تھی۔۔۔
نہیں میں آوں گا۔۔۔ وہ بلکل اس کے سامنے آ کر سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔
مجھے بتاٶ ۔۔۔ تم نے بات کی ۔۔ پھر گھر میں۔۔۔۔ ارسل نے بہت مدھم سی آواز میں کہا۔۔۔
نہیں اس کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔ میں آپ سے کسی بھی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہتی پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔نشا نے زبردستی لہجے میں سختی لا کر کہا۔۔۔
ایسے کیسے جب چاہے آس دلا دی ۔۔۔۔ اور جب چاہے دھکا دے دیا۔۔۔ ارسل نے دانت پیستے ہوۓ سرگوشی کے انداز میں کہا۔۔۔
مجھے بتاو کیا بات ہوٸ ہے۔۔۔ نشا کے ٹپکتے آنسو دیکھ کر ارسل کی آواز میں پھر سے نرمی در آٸ تھی۔۔
مما نے مجھے صاف منع کر دیا ہے۔۔۔ وہ اب باقاعدہ رو رہی تھی۔۔۔
وہ کہتی ہیں یہ بات سوچنا بھی مت۔۔۔ اور وہ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔۔ آپ ہمارے گھر کے ماحول کو نہیں جانتے۔۔۔ آغا جان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔ نشا نے ارسل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی تھی۔۔
میری بات سنو نشا۔۔۔ تم ۔۔ واسم سے بات کرو۔۔۔ نشا کے بازو کو دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوۓ ار سل نے کہا۔۔۔
نشا نے خوف سے چونک کر دیکھا تھا۔۔۔
*****************
تم پاکستان جا رہی ہو اپنے چچا کے پاس۔۔۔ اکبر نے سوہا سے نظریں چراتے ہوۓ کہا۔۔۔
بابا میں وہاں نہیں جا سکتی۔۔۔۔ وہ حیران ہوتی ان کے گھٹنوں میں بیٹھ گٸ تھی۔۔۔ اکبر نے چہرے کا رخ دوسری طرف موڑ لیا تھا۔۔۔
ہر دفعہ کی طرح اس دفعہ بھی وہ مجبور ہو گۓ تھے۔۔۔ اس دفعہ بھی وہ اس کی ہی محبت کو قربان کرنے جا رہے تھے۔۔۔
پلیز۔۔۔ دیکھو۔۔۔ سوہا۔۔۔ میں مجبور ہوں۔۔ بہت درد تھا اکبر کی آواز میں۔۔۔ شرمندگی تھی۔۔۔
میں بھی مجبور ہوں۔۔ میں پاکستان نہیں جانا چاہتی۔۔۔ سوہا ایک دم سے اٹھ کر کھڑی ہوٸ تھی۔۔۔ اور ماتھے پر بل ڈالتے ہوۓ کہا۔۔۔
پاگل مت بنو۔۔۔ میں پریشان رہوں گا تم سمجھ کیوں نہیں رہی۔۔ اکبر تھوڑی سختی سے بولے تھے۔۔
آپ کے بھاٸ کے گھر میں پریشان رہوں گی آپ کیوں نہیں سمجھ رہے یہ بات۔۔۔ وہ بھی ترکی با ترکی جواب دے رہی تھی۔۔ چہرے پر ازیت اور تکلیف کے آثار تھے۔۔
اکبر ۔۔نےسر نیچے جھکا دیا تھا وہ پسا پڑا تھا۔۔۔ وہ سوہا کو محفوظ بھی رکھنا چاہتا تھا۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ میں پاکستان جاوں گی۔۔ پر چچا کے گھر نہیں۔۔۔ وہ ایک دم کسی سوچ کے زیر اثر کہہ رہی تھی۔۔
تو پھر کہاں۔۔۔ اکبر نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔
میں ۔۔ مما کے پاس جانا چاہتی ہوں۔۔۔ اب وہ اکبر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی۔۔۔
******************
ہیلو۔۔ عشرت۔۔۔ فون کے سپیکر سے ابھرنے والی آواز نے عشرت کو ساکن کر دیا۔۔۔ یہ آواز کتنے سالوں بعد اس نے سنی تھی۔۔ اور اس آواز کو وہ بھولی ہی کب تھی۔۔
اکبر۔۔۔عشرت کی گھٹی سی آواز کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ابھری تھی۔۔۔
اس کے بعد پھر سے دونوں اطراف میں ہی خاموشی کا راج رہا۔۔۔
اکبر تم کہاں ہو۔۔۔ اور میری بچی۔۔۔ کہاں ہے سوہا ۔۔ کیسی ہے وہ۔۔ ایک دم سے جیسے عشرت کے ذہن میں سب گھوم گیا تھا۔۔ وہ تڑپ کر سوال پر سوال کر رہی تھی۔۔
سوہا ۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ بڑی ہو گٸ ہے۔۔ شرمندہ سی آواز میں۔۔۔ اکبر نے کہا تھا۔۔ اور ہاتھ سے اپنی آنکھوں کے نم کونوں کو صاف کیا تھا۔۔۔
اکبر میری بچی مجھے چاہیے۔۔۔ پلیز میری بچی مجھے دے دو۔۔ عشرت اب باقاعدہ روتے ہوۓ التجا کر رہی تھی۔۔ اس کی برسوں کی ترسی ہوٸ ممتا سسک اٹھی تھی۔۔۔
وہی کرنے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔ اکبر نے مظبوط لہجے میں کہا۔۔ پر اپنے دل کی تکلیف سے لب بھینچ ڈالے تھے۔۔۔
کہ۔۔ کیا۔۔۔۔۔ عشرت کی زبان خوشی سے لڑ کھڑا گٸ تھی۔۔۔
سوہا تمھارے پاس آنا چاہتی ہے پاکستان۔۔۔ اکبر نے بڑے ضبط سے کہا تھا۔۔۔
کیا ۔۔ سچ کہہ رہے ہو اکبر۔۔۔۔ عشرت اب اپنے گال صاف کر رہی تھی۔۔۔ اس کا دل اپنی اکلوتی اولاد کی محبت میں تڑپ گیا تھا۔۔۔
ہاں ۔۔ مجھے معاف کر دو ۔۔ میں سوہا کو تم سے چھین کے تو لے آیا تھا۔۔۔ لیکن سچ پوچھو۔۔ میں۔۔ بہت پچھتاتا رہا ہوں۔۔ اکبر کی آواز بھیگی ہوٸ تھی۔۔
دوسری طرف خاموشی تھی۔۔ وہ اپنے اتنے سالوں کی تکلیف کو ایک پل میں کیسے معاف کر دیتی۔۔۔
اب میں مزید تمھیں اور خود کو تکلیف نہیں دینا چاہتا ۔۔۔ میں سوہا کو تمھارے پاس پاکستان بھیجنا چاہتا ہوں۔۔۔ وہ اس کی طرف سے کچھ دیر جواب کے انتظار کرتا رہا۔۔ پھر خود ہی بات کو آگے بڑھایا۔۔۔
تم ہو کہاں ۔۔عشرت اب تجسس میں پوچھ رہی تھی۔۔۔ اور اکبر اس کو ساری کہانی بتا رہا تھا۔۔ کہ وہ کیسے یہاں پہنچا پھر ایک مغربی عورت سے شادی کی۔۔۔ اور ساری باتیں۔۔
***************
سوہا ۔۔۔ آ جاٶ اب کتنی دیر ہے ۔۔ وہ انتظار کر رہا ہے۔۔۔ اکبر اب تیسری دفعہ اس کے کمرے کا چکر لگا چکے تھے۔۔۔
وہ ابھی بھی اپنی پیکنگ کرنے میں مصروف تھی۔۔۔اسےاتنی جلدی تو اکبر نے جانے کا بتایا تھا۔۔۔ اتنی پیکنگ تھی اتنی جلدی کیسے ہو سکتی تھی۔۔۔
بس بابا۔۔۔صرف دو منٹ۔۔۔ وہ تیزی سے اپنے بیگ کے لاک کو بند کرتے ہوۓ بولی۔۔۔ جیسے ہی وہ لاک لگانے کے لیے جھکی تھی۔۔اس کے سنہری بال آبشار کی طرح گرتے ہوۓ اس کے سرے چہرے کو چھپا گۓ تھے۔۔۔
ٹھیک ہے میں اس کے پاس بیٹھا ہوں جلدی آ جاٶ۔۔۔ اکبر ایک نظر اس کے کمرے کے بکھرے سامان کی طرف دیکھ کر بولے تھے۔۔۔
اوکے آپ یہ تین بیگ لے کر چلیں میں ۔۔ ہینڈ کیری لے کر آتی ہوں۔۔۔ وہ کبھی دوڑتی ہوٸ کو چیز اٹھا رہی تھی۔۔ تو کبھی کوٸ چیز اٹھا رہی تھی۔۔۔
سوہا نے جلدی سے اپنے بالوں کو اونچی سی پونی میں باندھ لیا تھا۔۔۔ ہلکی سی اونچی سی پنک رنگ کی ٹی شرٹ اور جینز کی پینٹ میں وہ اپنی عمر سے اور چھوٹی لگ رہی تھی۔۔۔
جوگرز کو بند کرنے کے بعد وہ ہینڈ کیری کو زمین پر چلاتی ہوٸ ۔۔ لاونج میں آٸ تھی۔۔ کوٸ لڑکا اس کی طرف پشت کیے بیٹھا اکبر سے باتوں میں مصروف تھا۔۔۔
وہ گھوم کر سامنے آٸ تھی۔۔۔
اور سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر اس کا دل اچھل کر حلق میں آ چکا تھا۔۔۔ اس کی حالت ایسی تھی کے کاٹو تو خون نہ ہو۔۔ آنکھیں۔۔۔ اور بڑی ہو گٸ تھیں۔۔۔ کان اور گال تپ گۓ تھے۔۔۔
وہ اس چہرے کو کیسے بھول سکتی تھی۔۔۔
سوہا ۔آو۔۔ نہ بیٹے۔۔۔ اکبر نے بازو کھول کر اسے آگے آنے کے لیے کہا تھا۔۔۔
واسم ۔۔ تمھارے بڑے ماموں کا بیٹا ۔۔۔ اکبر نے مسکراتے ہوۓ اس لڑکے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ حیرت سے پھٹی پھٹی نگاہوں سے کبھی اکبر کو دیکھ رہی تھی۔۔ تو کبھی سامنے بیٹھے واسم کو ۔۔۔ جو بڑے پیار سے مسکراتے ہوۓ دیکھ رہا تھا۔۔۔
کیسی ہو سوہا۔۔۔ واسم نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔ وہ اس کے آتے ہی اٹھ کر کھڑا ہوا تھا۔۔۔
وہ ساکت کھڑی تھی۔۔۔ ساکن ۔۔۔ آنکھیں۔۔۔ ساکن لب۔۔۔ دھڑکتا دل۔۔
سوہا۔۔۔ سوہا۔۔۔۔ بیٹا واسم سلام لے رہا آپ سے۔۔۔ اکبر نے دو تین آوازیں اسے دی تھیں تب جا کر وہ ہوش میں آٸ تھی۔۔۔
ہہ۔۔ہاں۔۔۔ اس نے دھیرے سے اپنا نازک ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔
جسے واسم کے مظبوط ہاتھ نے ایک ہی جست میں اپنے ہاتھ میں چھپا لیا تھا۔۔۔
واسم کچھ دن میں پاکستان کے لیے نکل رہا ہے۔۔۔ تم اس کے ساتھ ہی چلی جانا۔۔۔ ابھی تم اس کے ساتھ لندن جا رہی ہو۔۔
اکبر اسے سب بتا رہے تھے۔۔۔ اور وہ تھی کہ اس کے ذہن میں چار ماہ پہلے والا سارا منظر گھوم رہا تھا۔۔۔
وہ خاموش کھڑی تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: