Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 8

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 8

–**–**–

بلکل ۔۔۔ پھپھو جیسی ہو تم۔۔۔ وہ جہاز کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔۔۔ جب واسم اپنی ہوش اڑا دینے والی مہک سمیت اس کے ساتھ آ کر بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔۔ سوہا نے ایک دم نظریں جھکا دی تھیں۔۔۔
وہ دونوں لندن کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔۔۔ واسم اب اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔۔۔ براٶن کوٹ۔۔میں ۔۔۔ وہ ہوش اڑا دینے کی حد تک خوبرو لگ رہا تھا۔۔۔
ہہ۔۔۔ ہم۔م۔م۔۔۔ جی۔۔۔ وہ ایک دم سے گڑ بڑا گٸ تھی۔۔۔ ابھی تک حواس کہاں بحال ہو پاۓ تھے۔۔۔ وہ جس کو ہمیشہ دور دور سے دیکھتی تھی وہ۔۔ وہ آج اس کے اتنے قریب بیٹھا تھا۔۔۔
اور اتنے قریب کے رشتے سے بیٹھا تھا۔۔۔ سوہا نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ
خاص طور پر۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ۔۔ ڈمپل ۔۔ واسم نے بڑے پیار سے اس کے گالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔ بلکل پھپھو جیسے ہیں۔۔۔ جب کے چہرے پر جازب نظر مسکراہٹ تھی۔۔۔ واسم نے رخ تقریبا اس کی طرف ہی مڑا ہوا تھا۔۔۔
واسم کو وہ بہت چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی۔۔۔ اس نے پھپھو کو اکثر سوہا کو یاد کر کے روتے دیکھا تھا۔۔ وہ بہت خوش تھا۔۔ کہ پھپھو کی سوہا ان کے پاس جا رہی ہے۔۔۔
”اللہ ۔۔اللہ۔۔۔ یہ تو مجھ پر بھی لاٸن مارنے لگے“۔۔۔ سوہا کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔۔ کاش یہ ویسے ہی ہوتے جیسی ان کی شخصیت نظر آتی ہے۔۔۔ سوہا کو عجیب سا خوف آرہا تھا واسم سے۔۔۔ اس نے واسم سے نظریں چراٸ۔۔۔ اور خجل سی ہو کر بالوں کو کانوں کے پیچھے کیا ۔۔۔
نظروں کے سامنے بار بار وہ لڑکی اور اس کے ساتھ زبردستی کرتا ہوا واسم نظر آ رہا تھا۔۔۔ دل عجیب سی گھٹن محسوس کرنے لگا۔۔۔ اسے اپنے ساتھ بیٹھے اس شخص سے ایک دم سے خوف سا محسوس ہوا ۔۔۔ وہی جو۔۔۔ جاوید سے لگا ۔۔ تھا۔۔۔ وہی جو سر البرٹ سے۔۔۔ جان سے اور پیٹر سے۔۔۔
تم کچھ پریشان ہو سوہا۔۔۔ بہت اپناٸت بھر ا لہجہ تھا۔۔۔ وہ تھوڑا سا اور اس کی طرف مڑا تھا۔۔۔
نہ۔۔۔نہیں۔۔۔ تو۔۔۔ ایسی تو کوٸ بات نہیں۔۔۔” افف اتنا قریب کیوں آ رہا ہے۔۔۔“ دل میں سوچتے ہوۓ سوہا نے ہونٹ بھینچ لیے۔۔۔
گھر میں نشا اور میرب ہیں۔۔۔ تمھارا بہت دل لگے گا۔۔۔ واسم نے پیچھے ہو کر سر سیٹ کی پشت کے ساتھ ٹکا دیا۔۔۔” اتنے عرصے بعد ہم سے مل رہی ہے سوچتی ہو گی پتہ نہیں کیسے لوگ ہوں گے۔۔۔ واسم نے دل میں سوچا اور اس معصوم سی لڑکی کی طرف دیکھا۔۔۔ جو واقعی میں بہت گھبراٸ ہوٸ لگ رہی تھی۔۔۔
ہم۔۔ اور۔۔۔ اور کون ۔۔ کون ۔۔ ہے۔۔ گلے کو صاف کرتے ہوۓ سوہا نے خود کو نارمل ظاہر کیا۔۔۔ ” مجھے پتا ہے کہ میں اسے جانتی ہوں۔۔۔ اسے تھوڑی نہ پتہ ہے۔۔۔ یہ تو وہاں سے بھاگ گیا تھا۔۔۔ “
ہم۔۔۔م۔۔۔م۔۔ تو آپ جاننا چاہتی ہیں کیا۔۔۔ وہ بڑی خوش اخلاقی سے ہلکا سا قہقہ لگا کر گویا ہوا۔۔۔ ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔۔ اور گھمبیر آواز میں اسے سب گھر والوں کا بتانے لگا۔۔۔
آغا جان ۔۔۔ میرے دادا ۔۔ اور تمھارے نانا۔۔۔ اس نے سوہا کی طرف اشارہ کیا۔۔ مسکراہٹ دباٸ۔۔۔
ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔۔۔ وہ بڑے دلچسپ انداز میں بچوں کی طرح سب کو سوہا کے ساتھ غاٸبانا متعارف کروا رہا تھا۔۔۔
زوجیج ۔۔ میرے بابا سب سے بڑے۔۔۔ ان کے تین بچے ہیں۔۔۔ وہ ساتھ ہاتھوں سے اشارے بھی کر رہا تھا۔۔ ایسے جیسے وہ کوٸ بہت ہی چھوٹی سی بچی ہوتی۔۔۔
کومیل بھاٸ۔۔ مجھ سے بڑے۔۔ پھر میں واسم۔۔ اور ہماری ایک بہن چھوٹی۔۔ میرب۔۔۔ میرب کے نام پر اس کی آنکھوں میں پیار امڈ آیا تھا۔۔۔
”اچھا تو جناب کی ایک بہن بھی ہے۔۔۔ پھر بھی اس لڑکی پر اتنا تشدد کیا۔۔ ڈیسنٹ ایسے بن رہا۔۔ جیسے۔۔ “ سوہا نے دانت پیستے ہوۓ دل میں سوچا۔۔۔
عون ۔۔ منجھلے چچا۔۔۔ ان کے دو بچے۔۔۔ بڑی بیٹی نشا۔۔۔ واسم کی مسکراہٹ تھوڑی شریر سی ہوٸ لبوں پر۔۔۔اور آنکھوں کی چمک لمحہ بھر کے لیے زیادہ ہوٸ تھی۔۔۔
اور بیٹا محب۔۔۔ وہ ہنستا ہوا۔۔۔ اور بھی خبرو لگ رہا تھا۔۔۔
”افف اس کے دانت کتنے خوبصورت ہیں۔۔۔ جب یہ بولتا ہے تو۔۔۔ اپنی خوبصورتی کا ہی جاھنسا دے کر لڑکیاں پھنساتا ہو گا۔۔۔ ہاں ایسا ہی کرتا ہو گا۔۔۔ اور جب وہ ہنستے ہوۓ اس کے ساتھ اس کے گھر آ جاتی ہوں گی۔۔۔“ اس سے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چا رہی تھی۔۔۔
پھر پھپھو تمھاری مما۔۔۔ جن کی کل کا ٸنات صرف تم۔۔۔واسم نے محبت سے سوہا کی طرف دیکھا۔۔۔
پھر رضا چچا۔۔۔ ان کا ایک بیٹا ہے۔۔۔ ناٸل۔۔۔۔ اتنا لمبا تعارف دے کر وہ جیسے تھک سا گیا تھا۔۔۔ لمبی سانس خارج کی۔۔۔
بہت بڑی۔۔ فیملی ہے۔۔۔ سوہا نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ۔۔۔
ارے ۔۔۔ رضا چچا کی فیملی ساتھ نہیں رہتی۔۔۔ وہ الگ رہتے ہیں۔۔۔ واسم نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔
سوہا اپنی بات پر تھوڑی سی شرمندہ سی ہوٸ ۔۔۔ اور کانوں کے پیچھے بال کیے۔۔۔
اور گھر میں ۔۔۔ بہت سے نوکر ہیں۔۔۔ واسم نے اپنے گھٹنوں پر ہاتھ مارے۔۔۔ اور اب وہ اسے سارے ملازمین کے بارے میں بتا رہاتھا۔۔۔
افف کتنا بولتا ہے۔۔۔ سوہا زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر سر ہلا رہی تھی۔۔۔
***************
فون کرنے کا فاٸدہ نہیں ہے۔۔۔ اسے پتہ ہے میں نے کبھی آج تک اس سے بات نہیں کی۔۔۔ نشا نے ہاتھوں کو مسلتے اور لب کو کچلتے ہوۓ سامنے بیٹھے ارسل سے کہا۔۔۔
وہ ویسے بھی تین دن بعد آ ہی رہا ہے پاکستان۔۔۔۔ نشا نے بڑھتی پریشانی کو چھپاتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ جانتی تھی۔۔ واسم کی بارعب شخصیت کے آگے ۔۔اس کی گھگی بندھ جاۓ گی۔۔۔ وہ ان سے کچھ بھی نہیں کہہ پاۓ گی۔۔۔ بچپن سےواسم کے غصے سے واقف تھی وہ۔۔۔ بس ارسل پیچھے پڑا تھا کہ وہ واسم سے بات کرے۔۔۔
ہم۔م۔م۔ یہ تو اچھی بات ہے کہ وہ آ رہا ہے۔۔۔ دیکھو تم ہمت کرنا اس سے بات کرنا ۔۔۔ مجھے امید ہے وہ تمھاری بات سمجھے گا۔۔۔ ارسل اسے حوصلہ دے رہا تھا۔۔۔
جی۔۔۔ نشا نے گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔ وہ بے دلی سے بیٹھی تھی۔۔۔ دل کو ارسل کا حصول نا ممکن سا لگتا تھا۔۔۔ پر وہ دل کے ہاتھوں بری طرح مجبور تھی۔۔۔
اچھا اب اپنا موڈ ٹھیک کرو نہ۔۔۔ چلو بتاٶ کیا کھانا ہے آرڈر کروں میں۔۔۔ ارسل نے پاس پڑے مینیو کو کھولتے ہوۓ اسے محبت سے دیکھا۔۔۔
************
بس ہمیں تین دن یہاں رہنا ہے۔۔۔ میرا کچھ یونیورسٹی کا کام ہے پھر ہمیں پاکستان کے لیے نکلنا ہے۔۔۔ واسم نے فلیٹ کا داخلی دروازہ کھولتے ہوۓ کہا۔۔۔ وہ اب اس کے بیگ اندر کر رہا تھا۔۔
آہ۔۔۔ یہ وہ فلیٹ تھا جس کی ہرچیز کو وہ بس دیکھتی ہی تھی۔۔۔ چھونے کی خواہش کو دل میں ہی دبا دیتی تھی۔۔۔ اور آج قسمت اسے چھونے کا موقع دے رہی تھی۔۔۔ وہ ارد گرد کا غور سے جاٸزہ لینے لگی۔۔۔ لبوں کا ایک کونا دانتوں میں دباۓ وہ ندیدے بچوں کی طرح ارد گرد دیکھ رہی تھی۔۔۔
نظر گھوم کر اسی جگہ پر ٹک گی تھی۔۔ جہاں اس لڑکی کے ساتھ زیاتی ہوٸ تھی۔۔۔ اتنے برے کردار کا ہے۔۔۔ اور وہ تین دن اس کے ساتھ ہو گی اس فلیٹ میں۔۔۔ تھوک نگلتےہوۓاس نے سوچا ۔۔۔ ہاتھ پسینے سے بھگینے لگے تھے۔۔۔ اس سوچ پر۔۔۔
تم فریش ہو جاٶ ۔۔ پھر پھپھو سے بات کرواتا ہوں تمھاری پاکستان۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا اس کے قریب آ کر کھڑا ہوا تھا۔۔۔
کتنی گھبراٸ سی معصوم سی ہے یہ۔۔۔واسم نے گہری نظر سوچوں میں گم سوہا پر ڈالی۔۔۔
ہم۔م۔م۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ وہ ہلکی سی آواز میں مختصر جواب دینے کے بعد ارد گرد دیکھنے لگی۔۔۔
فریش ہونا کہاں پر ہے۔۔۔ محترم یہ تو بتا دیں ذرا۔۔۔ وہ پریشان سی وہیں کی وہیں ہی کھڑی سوچ رہی تھی۔۔۔
اوہ۔۔۔ اپنے کمرے میں جاتے جاتے کچھ یاد آنے پر پلٹا تھا۔۔۔ ماتھے پر ہاتھ ایسے رکھا جیسے اپنی غلطی کا احساس ہوا ہو۔۔۔
سوہایہ ہی سامنے روم ۔۔۔واسم نے بازو سیدھا کر کے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
وہ مسکراتی ہوٸ اپنے بیگز کی طرف بڑھ گٸ۔۔۔ اب اتنے بھاری بیگ میں کمرے میں لے کر جاوں۔۔۔ منہ بسورتے ہوۓ۔۔۔ وہ سوچ رہی تھی۔۔۔
ابھی بیگز پر جھکی ہی تھی کہ واسم کے مظبوط ہاتھ نے بیگ کے ہینڈل کو تھام لیا تھا۔۔وہ ایک دم سے سیدھی ہوٸ تھی۔۔۔
میں رکھتا ہوں کمرے میں۔۔۔ تم چلو۔۔۔ وہ ایک ساتھ تینوں بیگز رول کرتا ہوا کمرے کی طرف جا رہا تھا۔۔
واہ ۔۔ واہ۔۔۔ سوہا پیچھے سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ لمبا قد مظبوط جسم۔۔ ایک مکمل وجاہت رکھنے والا مرد تھا۔۔۔پر تھا تو مرد ہی۔۔ ایک دم سے وہ پھر سے بد دل ہو گٸ تھی۔۔
**********************
دھیرے سے آنکھیں کھلی تھیں۔۔۔ پلکوں کی جھالر ابھی بھی بار بار آنکھوں پر ہی گر رہی تھی۔۔ سوہا نے آنکھیں ملتے ہوۓ ارد گرد دیکھا۔۔۔ اسی خوبصورت کمرے کے گداز بیڈ پر وہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔۔ جہاں واسم اس کے بیگ رکھ کر گیا تھا۔۔۔
وہ اب بیٹھی بازو اوپر کیے ۔۔ انگڑاٸ لے رہی تھی۔۔۔ گردن موڑ کر گھڑی کی طرف دیکھا۔۔۔ اوہ۔۔۔ اتنی دیر سوتی رہی کیا میں۔۔۔ ایک دم سے شرمندگی کا احساس ہوا۔۔۔
صبح دس بجے وہ پہنچے تھے۔۔۔ گیارہ بجے کے قریب اس کی عشرت سے پاکستان بات ہوٸ تھی۔۔۔ تقریبا بارہ بجے وہ آرام کرنے کے لیے کمرے میں آٸ تھی اور اب سات بج رہے تھے۔۔۔
افف وہ جلدی سے بیڈ سے نیچے اتری تھی۔۔۔ لونگ کھلے پاٸنچے کا ٹریوزر اور ڈھیلی ڈھالی سی شرٹ پہنے وہ اب کمرے کے دروازے سے کان لگاۓ کھڑی تھی۔۔۔
باہر سے واسم کے قہقے کی آواز آٸ تھی۔۔۔
پاگل ہے تو۔۔۔ نوید ۔۔ یار وہ بہت چھوٹی سی ہے۔۔ واسم قہقہ لگا رہا تھا اور ہنس رہا تھا۔۔
مجھے لگا۔۔ یہی ہے وہ جس کی خاطر تو کیرن جیسی کو بھی منہ نہیں لگاتا تھا۔۔ نوید نے ہنستے ہوۓ کہا۔۔۔
یار۔۔۔ وہ یہ نہیں ہے۔۔۔اور ویسے بھی مجھے اس ٹاٸپ کی لڑکیاں پسند نہیں۔۔۔ بہت چھوٹی ہے ۔۔ وہ بچی سی ۔۔۔ وہ ٹی وی کا چینل بدلتے ہوۓ بولا۔۔
بچی سی۔۔۔ سوہا ایک دم سے سیدھی ہوٸ۔۔۔ پھر بے اختیار ہی وہ چلتی ہوٸ سنگہار میز کے آگے کھڑی تھی۔۔۔
7
وہ کہاں سے بچی سی تھی۔۔۔ اپنے آپ کو غور سے دیکھنے لگی۔۔۔ انیس کی تو ہونے جا رہی تھی۔۔۔ اچھی ہاٸٹ تھی۔۔۔ لمبے بال تھے۔۔ہاں شکل واقعی معصوم سی تھی۔۔۔ گالوں پر پڑتے گڑھے اور بھی معصومیت میں اضافہ کرتے تھے۔۔۔
نازک سا سراپا تھا۔۔۔ جس ک وجہ سے وہ زیادہ چھوٹی لگتی تھی۔۔۔ پھر کچھ انداز ایسا تھا۔۔۔ بالوں کی اونچی پونی بناۓ۔۔ بنا کیسی مصنوعی میک اپ سے گلابی گال۔۔۔ بڑی بڑی پلکوں والی آنکھیں۔۔۔ اور گلابی گلاب کی پنکھڑی جیسے بھرے بھرے ہونٹ۔۔۔ وہ یوں اپنے آپ کا جاٸزہ لے رہی تھی۔۔۔ جیسے کے واسم لے رہا ہو۔۔۔
ہم۔م۔م۔ ان کو اس لڑکی جیسی بولڈ اور لبرل لڑکیاں پسند ہوں گی نہ جو اس دن ان کے ساتھ تھی۔۔۔میں تو ان جیسی لڑکیوں کے پیروں جیسی بھی کہاں ہو۔۔۔ لبوں کو گول گول گھوماتے ہوۓ وہ سوچ رہی تھی۔۔۔
اچانک بھوک کا احساس بڑھنے لگا تھا۔۔ افف۔ ۔۔ بچوں کی طرح پیٹ پر ہاتھ رکھ کر منہ بنایا۔۔۔
ہاۓ ۔۔۔ کیسا ظالم ہے۔۔ بندہ پوچھ ہی لے کہ زندہ بھی ہو یا۔۔۔ اس نے رونے کے سے انداز میں ہونٹ باہر نکالے۔۔۔
خوف باہر جانے کو دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔ کتنی ہی دیر یوں بھوک کو برداشت کر کے بیٹھی رہی ۔۔۔پھر ایک دم ے ہمت باندھ کر اٹھی تھی۔۔
خود ہی جانا پڑے گا باہر۔۔۔ بیڈ سے اتر کر اپنے سراپے ہر ایک نظر ڈالی۔۔۔
سکارف کو گردن کے گرد گھوما کر لیتے ہوۓ وہ باہر جانے کو تیار کھڑی تھی۔۔۔
جیسے ہی دروازہ کھولا۔۔ واسم بلکل سامنے کھڑا تھا۔۔۔
افف ۔۔۔ایک ہولناک چیخ نکلی تھی اس کی۔۔۔
وہ بھی ایک دم سے گھبرا گیا تھا۔۔
ہر وقت واسم کے بارے میں اوٹ پٹانگ سوچتی رہتی تھی۔۔۔ اور اب یوں اس کو بلکل سامنے چوروں کی طرح کھڑا دیکھ کر اس کی جان ہی تو نکل گٸ تھی۔۔۔ وہ سینے پر ہاتھ رکھے ۔۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے واسم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
سوہا کیا ہوا۔۔۔ وہ ایک دم سے حیران سا ہو گیا تھا۔۔۔
تمہیں اٹھانے آ رہا تھا۔۔ آٹھ بج گۓ ہیں۔۔۔ کچھ کھانا نہیں تم نے۔۔۔ سوہا کی ایسی حالت نے اسے پریشان کر دیا تھا۔۔۔
مہ۔۔۔میں۔۔۔ میں ڈر گٸ تھی۔۔۔ وہ شرمندہ سی ہوٸ۔۔ بچوں کی طرح نچلے لب کے کونے کو دانتوں میں دبا کر آنکھیں سکیڑ کر التجاٸ انداز میں واسم کی طرف دیکھا۔۔ لیکن دل ابھی بھی نارمل حالت میں واپس نہیں آیا تھا۔۔۔
اٹس اوکے۔۔۔ تو پھر۔۔۔ بتاٶ ۔۔۔ کیا کھانا ۔۔۔ یہں پر آرڈر کروں یا باہر جانا ہے۔۔ واسم نے اسے ریلکس رکھنے کے لیے۔۔۔ گہری مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر کہا۔۔
جیسا آ پ کو ٹھیک لگے۔۔۔ گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔ اور لبوں کے اوپر آیا پسینہ صاف کیا۔۔
ارے ۔۔۔ یہ کیا بات ہوٸ۔۔۔ تم مہمان ہو میری۔۔۔ بولو تم۔۔۔ واسم نے شرارتی انداز میں کہا۔۔۔
گھر ہی آرڈر کر لیں۔۔۔ پھر۔۔۔ خوف کو بالاۓ تاک رکھتے ہوۓ زبردستی کی مسکراہٹ لبوں پہ سجا کر کہا۔۔۔
گڈ۔۔۔ پیزا۔۔۔ پاستہ۔۔۔ جو بھی کھانا ہے فرینکلی بتا دو۔۔۔ اگلا سوال۔۔۔
افف ۔۔۔ جان نہیں چھوڑ رہا۔۔۔ ایک تو ویسے اس کے سامنے آواز نہیں نکلتی اوپر سے۔۔۔
میں سب کھا لیتی ہوں ۔۔۔ کچھ بھی۔۔۔ چلے گا۔۔۔ پھر سے مدھم سی آواز میں کہا۔۔ اتنا آہستہ تو وہ زندگی میں کبھی کسی سے بھی نہ بولی تھی جیسے آج واسم سے بول رہی تھی۔۔۔
یہ تو بڑی اچھی بات ہوٸ۔۔ بس کچھ دیر۔۔۔ دے دو وہ فون کان کو لگاتا ہوا ایک طرف کو گیا۔۔۔
سوہا نت فورا اٹکی ہوٸ سانس کو سینے پر ہاتھ رکھ کر بحال کیا۔۔۔
**************-***
اپنا یہ منہ نا تم سیدھا رکھو۔۔ نورین نے نشا کے منہ کو ہاتھ میں دوبچ کر غصے سے اوپر کیا۔۔
وہ منہ بسورے پھر سے نورین کے کمرے میں بیٹھی تھی۔۔۔
سیدھا ہی ہے مما۔۔۔ نشا نے چڑ کرکہا۔۔۔ رو رو کر آنکھ اور چہرہ سوجے پڑے تھے۔۔۔
مجھے پتہ ہے جتنا سیدھا ہے۔۔۔ صاٸمہ نے اگر محسوس کر لیا نہ۔۔۔ اور واسم۔۔۔ اسکو اگر محسوس ہو گیا تو۔۔ نورین نے اسے واسم اور اس کی ماں کا ڈراوا دیا۔۔۔ نشا سے زیادہ تو وہ خود ڈری ہوٸ تھیں۔۔۔ انھیں۔۔۔ نشا کے اس باغی پن سے اب زیادہ بغاوت کی بو آنے لگی تھی۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا مما ۔۔ ان کو پہلے سے پتہ ہے میں ان کو کوٸ خاص پسند نہیں کرتی۔۔۔ عجیب بے زاری کے سے انداز میں نشا نے کہا۔۔
پہلے بھی صرف ان کی ہی مرضی تھی اب بھی وہی ہوگا۔۔ وہ نورین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بیٹھی تھی۔۔۔ ارسل کی محبت نے بہت حد تک اسے ہمت دے دی تھی۔۔۔
کل پہنچ رہے ہیں دونوں سب لوگ اتنے خوش ہیں ۔۔۔ اور جس کو سب سے زیادہ خوش ہونا چاہیے وہ ماتم منا رہی ہے۔۔۔ کیا یہ سب کچھ دوسروں کو نظر نہیں آۓ گا۔۔ نورین دانت پیستے ہوۓ اسے سمجھا رہی تھیں ۔۔
جس کے سر پر سے ساری باتیں ۔۔۔ بس گزر ہی رہی تھیں ۔۔ اندر نہیں جا رہی تھیں۔۔ اندر تو بس اب محبت کے قفل لگے پڑے تھے۔۔ عقل کو۔۔
آتا رہے نظر۔۔ میں کیا کروں۔۔۔ وہ بے زاری سے لب کچل رہی تھی۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ بات سنو میری کل پہننے کے لیے میں نے تمھارا جوڑا بنایا ہے۔۔اچھے سے تیار ہونا۔۔ نورین نے سختی سے کہا اور اس کے سامنے ایک جوڑا رکھا۔۔۔
اور اب نیچے آٶ۔۔۔سب انتظار کر رہے ہیں ۔۔ اس کے بازو کو جھنجوڑتے ہوۓ وہ باہر نکل گٸ تھیں۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: