Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 9

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 9

–**–**–

ہیلو۔۔۔ کیسے ہو۔۔۔ فون کان کو لگاۓ وہ بہت سکون سے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ ٹانگیں اپنے مخصوص انداز میں سامنے پڑے گول کاٶچ پر کراس کی شکل میں رکھی ہوٸ تھیں۔۔
سامنے بڑی سی سکرین پر کوٸ ایکشن انگلش فلم چل رہی تھی۔۔۔ اسے ایکشن موویز پسند تھی۔۔
اس نے کومیل کو کال ملاٸ تھی۔۔۔ وہ کل پاکستان پہنچ رہا تھا۔۔۔ تو کومیل کو اپنے لیے نٸ گاڑی خریدنے کے لیے کہہ رہا تھا۔۔۔
سوہا کو پیاس لگی تو پانی پینے کی غرض سے وہ ابھی اپنے کمرے کے دروازے تک ہی آٸ تھی۔۔۔ کہ سامنے انگلش فلم کے نازیبا منظر پر وہ ٹھٹک کر وہیں رک گٸ تھی۔۔
واسم نے کوٸ ایکشن فلم لگا رکھی تھی۔۔۔ لیکن اب آنے والے منظر سے وہ بلکل انجان بات کرنے میں مصروف تھا۔۔۔ اس کا سارا ذہن اپنی اور کومیل کی گفتگو پر تھا۔۔۔ اسے بلکل خبر نہیں تھی۔۔ کہ اس کے بلکل پیچھے۔۔۔ سوہا سرخ چہرہ لیے کھڑی ۔۔۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ٹی وی سکرین کے منظر کو نا گواری سے دیکھ رہی ہے۔۔۔
جب واسم گھر ہوتا تو سارا دن وہ کمرے میں بند رہتی۔۔۔ اور اندر سے روم لاک رکھتی۔۔۔ اب بھی اسے بلکل خبر نہیں ہوٸ کہ سوہا پیچھے کھڑی ہے۔۔۔
کل سارا دن واسم باہر اپنے کام ختم کرتا رہا اور وہ چپکے سے نکل کر رچا سے ملنے چلی گٸ تھی۔۔۔ اور پھر اس کے آنے سے پہلے واپس آ گٸ تھی۔۔۔
ابھی وہ پھر دروازے کے ساتھ لگی واسم کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔ وہ ذہن میں واسم کا ایک خود ساختہ امیج بنا چکی تھی۔۔۔ اس لیے وہ اس کی باتوں کو اور ہی رنگ میں ڈھالے جا رہی تھی۔۔
یار ۔۔۔ عادت ہو گٸ ہے۔۔ نہ یہاں پر ایسے رہتے رہتے۔۔۔۔ پتہ ہے آجکل کتنی مشکل سے یہ تین دن گزارے ہیں اس کے بغیر۔۔۔ واسم التجا والے انداز میں کومیل کو گاڑی کے لیے کہہ رہا تھا۔۔۔
افف ۔۔۔ یہ تین دن بھی لڑکی کے بنا نہیں رہ سکتے۔۔۔ اس کے گال تپنے لگے تھے۔۔۔ لبوں کو بار بار دانتوں میں کچل کچل کر چھوڑنے سے وہ گلابی سے سرخ ہو چکے تھے۔۔۔
چھوٹی نہیں چاہیے مجھے۔۔۔ بڑی چاہیے۔۔ یار مجھے چھوٹی پسند ہی نہیں ہے۔۔۔ واسم۔۔۔۔ کومیل کو بڑی گاڑی کا کہہ رہا تھا۔۔۔ اس کو چھوٹی گاڑی چلانے کی عادت نہیں تھی۔۔۔
برسٹل جاتے ہوۓ وہ اپنی کار سیل کر گیا تھا۔۔ اب تین دن وہ کار کے بنا ٹیکسی میں دھکے کھاتا رہا۔۔۔
میں پاکستان آوں ۔۔ تو مجھے مل جانی چاہیے۔۔ ہاں ۔۔ نہیں ۔۔ نہیں ۔۔ ایک رات بھی نہیں رک سکتا۔۔۔ کومیل اس سے ایک رات کا وقت مانگ رہا تھا۔۔۔ کہ تم دن میں پہنچو گے ۔۔ ایک رات گزار لینا اگلی صبح تک گاڑی آ جاۓ گی۔۔۔
بلکل بڑی ہو۔۔۔ اس نے بے چینی سے کہا۔۔۔
افف۔۔ بے چینی تو دیکھو۔۔۔ توبہ۔۔۔ سوہا کو اب غصہ آ رہا تھا۔۔۔ واسم پر۔۔۔ یہ جو امیر ماں باپ کی اولاد ہوتی ہے۔۔ یہ ہونہی عیاش ہوتے ہیں۔۔۔وہ دانت پیستے ہوۓ سوچ رہی تھی۔۔۔
یار۔۔۔ ایک دم نٸ ہو۔۔۔ خوبصورت ہو۔۔۔ وہ کار کے ماڈل کی بات کررہا تھا۔۔
اور سوہا کی کان کی لو تک گرم ہو رہی تھی۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے۔۔۔ پہلے مجھے ۔۔ پک بھیج کر دکھا دینا ۔۔ جو مجھے پسند آۓ گی وہی لوں گا۔۔۔ واسم نے جاندار قہقہ لگایا تھا۔۔۔
فلم میں ۔۔ پھر ایک منظر چل پڑا تھا۔۔۔ اور وہ بلکل بے نیاز بیٹھا تھا۔۔۔ کوٸ خبر نہیں۔۔۔ کہ وہ اکیلا گھر میں نہیں ہے۔۔۔ محترم۔۔۔ شرم نام کی تو کوٸ چیز ہی نہیں۔۔۔ خدا نے بھی شکل کے ساتھ عقل سے نوازنا مناسب نا سمجھا شاٸد۔۔ وہ اوٹ پٹانگ سوچے جا رہی تھی بس۔۔۔ اس دن وہ بھی پھر کال گرل ہی ہو گی ۔۔ رچا ٹھیک کہہ رہی تھی۔۔۔ ۔
نہیں ۔۔۔ نہیں۔۔۔ بدلتا رہا ہوں۔۔ گا۔۔۔ ایک ہی نہیں رکھتا پھر میں۔۔۔ ایک سے بور ہو جاتا ہوں۔۔۔ پتہ ہے یہ تمہیں میرا۔۔ کچھ عرصہ رکھوں گا ۔۔۔ پھر آگے۔۔۔ واسم پھر سے قہقہ لگا رہا تھا۔۔۔
سوہا نے جلدی سے دروازہ اندر سے لاک کیا تھا۔۔۔
چل ۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ صبح پھر پاکستان ملاقات ہوتی۔۔۔ واسم نے فون بند کیا۔۔۔ اور حیران ہو کر پیچھے دیکھا۔۔۔ اسے دروازہ بند ہونے کی آواز آٸ تھی۔۔۔ پھر کندھے اچکا دے۔۔۔
ہمیشہ باہر رہی ہے نہ اس لیے عجیب سا بی ہیو کر رہی ہے۔۔۔اسے سوہا تھوڑی عجیب سی لگتی تھی۔۔۔ لیکن وہ یہ سمجھتا تھا کہ وہ اکیلے رہنے کی عادی ہے شاٸد۔۔
*********************
اوہ ۔۔۔ یارا۔۔۔ یہ سفید والے پھولوں کے ساتھ لگا یہ سرخ والے بھی۔۔ با رعب آواز سفدر کو اپنے عقب سے ہی سناٸ دی تھی۔۔ اور اس آواز پر تو سب تیر کی طرح سیدھے ہو جاتے تھے۔۔۔
ہلکے ۔۔ گرے رنگ کے سفاری سوٹ میں۔۔ملبوس۔۔۔ لمبے قد۔۔۔ بڑی مونچھوں ۔۔۔ وجہیہ پیشانی ۔۔۔ سرخ و سفید رنگت۔۔ گرے بال۔۔لیے آغا جان ۔۔ سیڑھی پر چڑھ کر ۔۔ پھول لگاتے۔۔۔ سفدر کو ہداٸت دے رہے تھے۔۔۔
وہ واسم کے آنے پر تو جو خوش تھے سو تھے۔۔ پر اپنی اکلوتی نواسی کے آنے پر ان کے پاوں زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔۔۔
گھر کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔۔
اسفند میر ولاز۔۔۔ آج دمک رہا تھا۔۔۔ ہر بندہ پر جوش تھا ۔۔۔ سب اکٹھے تھے۔۔۔ مسواۓ۔۔۔ رضا اور اس کے کنبے کے۔ ۔۔۔ عشرت کی اکبر سے علیحدگی کے بعد ۔۔ رضا نے اکبر کی بہن ۔۔۔ فاٸزہ کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔۔ جس پر اسے آغا جان نے گھر سے بےدخل کر دیا تھا۔۔۔
بے شک رضا کے کہنے پر فاٸزہ نے اپنے بھاٸیوں سے بلکل تعلق ختم کر دیا تھا۔۔۔ لیکن آغا جان اس بات سے بھی ناخوش ہی رہے۔۔۔ وہ اپنی بیٹی کے دکھ کا بدلہ۔ ۔۔۔ فاٸزہ کو اس کے بھاٸیوں کے گھر بھیج کر لینا چاہتے تھے۔۔
اب رضا اکیلے کبھی کبھی آتے اور سب کے ساتھ مل کر واپس چلے جاتے۔۔۔
ناٸل اور فاٸزہ بلکل نہیں آتے تھے۔۔۔
سب لوگوں کے مسکراتے چہروں کے بیچ ایک اور چہرہ اداس تھا۔۔۔ اور وہ نشا کا تھا۔۔۔ نیلے رنگ کے بھاری کام والے سوٹ میں وہ بے دلی سی تیار ہوٸ تھی۔۔۔ اب بھی سنگہار شیشے کے سامنے بیٹھی خود کو ساکت آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔۔
عشرت بار بار اپنی آنکھوں کے نم کونوں کو صاف کر رہی تھی۔۔ اور ساتھ ساتھ رانی سے سوہا کے لیے کمرہ سیٹ کروا رہی تھی۔۔
نورین اور صاٸمہ کچن میں پکنے والے پکوان کی نگرانی میں لگی تھیں۔۔۔
میرب۔۔ اور محب۔۔۔ دونوں ۔۔ پھول لگا رہے تھے اور آپس میں چونچے بھی لڑا رہے تھے۔۔ ایک کوٸ ۔۔ پل ان دونوں کی نہ بنتی تھی۔۔۔
اوۓ۔۔۔ مریض ۔۔ کہیں کی۔۔۔ سفید پھول کیوں اتنے لگاٸ جا رہی۔۔۔ مکس کر کے لگا نہ۔۔ محب نے دانت پیس کر میرب کو کہا۔۔۔ جو لاونج کے اندر گھوم کے چڑھنے والے زینے کو سجا رہی تھی۔۔۔
تم سے کم مریض ہوں ۔۔۔ پتہ ہے مجھے سارا ۔۔۔ میں پہلے سارے سفید لگا رہی پھر بیچ کی جگہ کو فل کروں گی سرخ اور پیلے پھولوں سے۔۔ تم اپنا کام کرو۔۔۔ میرب نے اپنا چشمہ اوپر کیا اور ناک چڑھا کر کہا۔۔۔
کوٸ سیدھا کام بھی کیا تم نے زندگی میں۔۔۔ محب نے مسکراہٹ دبا کر پھر سے اسے چڑایا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ سیدھے کاموں کے لیے تم جو ہو اس گھر میں۔۔۔ ہزار بار کہا ہے کہ تم۔۔۔ میرے کام میں دخل اندازی مت کیا کرو۔۔۔ پتہ نہیں تمہیں شوق ہے ۔۔۔ وہ اب غصے سے لال ہو رہی تھی۔۔
نہیں ۔۔۔ مجھے کوٸ شوق نہیں ۔۔۔ تمھارے منہ لگنے کا۔۔۔ بس میں ذرا طبیعت میں آغا جان پر گیا ہوں۔۔۔ نفاست پسند ہوں۔۔۔ اور تم ٹھہری پھوہڑ اول نمبر کی۔۔۔ اس لیے میرے سامنے آتی ہو تو برداشت سے باہر ہو جاتی ہو۔۔ بڑے انداز سے مجب نے کہا۔۔۔
میں نہیں آتی ۔۔۔ تم ہر اس جگہ پر نمبر بنانے آ دھمکتے ہو۔۔۔ جہاں میں آغا جان کی گڈ لسٹ میں آ رہی ہوں سمجھے تم۔۔۔ وہ زبان نکال کر اسے چڑا رہی تھی۔۔۔
مت لڑو۔۔۔ مرو۔۔۔ دونوں۔۔۔ آغا جان نے سن لیا نہ اس دن کی طرح پوری رات کلاس لیتے رہیں گے تم دونوں کی۔۔۔ صاٸمہ کچن سے باہر نکل کر دونوں کے میدان جنگ میں کود پڑی تھیں۔۔۔
شزا۔۔۔ بیٹا ۔۔۔ تم چھوڑو یہ سب ۔۔ تم آرام کرو اس حالت میں لگی ہوٸ ہو۔۔۔ صاٸمہ نے کومیل کی بیوی کو کام سے روکا۔۔ وہ جو محب اور میرب کی نوک جھونک سے محزوز ہو رہی تھی اور ساتھ ساتھ میرب کو پھول اٹھا کر دے رہی تھی۔۔۔ ایک دم سے مسکراتی ہوٸ اپنے کمرے میں چلی گٸ۔
اور وہ دونوں تو باز آنے والے تھےنہیں۔۔۔ محب کو پتہ تھا وہ چڑ جاتی۔۔ تو وہ اسے اور تنگ کرتا رہتا تھا۔۔۔
**********************
ساری رات ۔۔۔ سوہا کمرہ لاک ہونے کے باوجود بھی جاگتی ہی رہی۔۔۔
واسم کی بے تابی دیکھ کر اسے ایک لمحے کے لیے بھی واسم پر یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔
ابھی آنکھ لگی ہی تھی تو دروازہ دھڑ دھڑ سے بجا تھا۔۔
وہ ایک دم اچھل کر اٹھی تھی۔۔ لیکن گھڑی پر نظر جاتے ہی سمجھ گٸ تھی۔۔۔ کہ ان کا پاکستان کہ فلاٸٹ کا وقت ہو رہا تھا۔۔۔
***********************
آغا جان تو واسم بھاٸ کو ایسے چپکے ہیں کہ۔۔۔ بندہ پوچھے ہمیں تو گھورنے کے علاوہ کبھی کسی محبت سے نہیں نوازا۔۔۔ محب نے نظریں آغا جان اور واسم پر جماٸیں جو ایک دوسرے کے ساتھ بغل گیر تھے ۔۔اور ۔ میرب کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
اپنے خون کی ایسی ہی کشش ہوا کرتی ۔۔۔ لے پالک پر بس گھوری ہی ڈالی جاتی۔۔۔ میرب نے دانت پیستے ہوۓ محب سے کہا۔۔۔
سوہا کو کتنی دیر سینے سے لگاۓ رکھنے کے بعد ۔۔ اب وہ واسم کو اپنے ساتھ لگا کر کھڑے تھے۔۔۔ پھر اس کا ماتھا چوما۔۔ اور اس کے ہاتھ۔ ۔۔۔
سوہا باری باری سب سے مل کر اب عشرت کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔۔۔ آغا جان سے ملنے کے بعد واسم سب کو مل رہا تھا۔۔ لیکن۔۔ آنکھیں۔۔ نشا کی کھوج میں لگی تھیں
پھر وہ اسے آہستہ آہستہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آتی دکھاٸ دی۔۔۔
واسم نےاپنی آنکھوں کے ذریعے دل میں سمونے کے سے انداز سے نشا کی طرف دیکھا۔۔۔ لیکن وہ اسے بنا دیکھے۔ ۔۔ سلام کرتے ہوۓ ۔۔ اب سوہا کی طرف بڑھ گٸ تھی۔۔۔
8
سوہا ۔۔۔ یہ ہے نشا۔۔۔ تمھارے عون ماموں کی بیٹی۔۔۔ جب نشا مسکراتی ہوٸ سوہا کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔ عشرت نے سوہا کو بتایا۔۔۔ سوہا مسکراتی ہوٸ اٹھی۔۔۔
افف۔۔ کیا دلکش چہرہ ہے۔۔۔ سوہا تو ایک دم سے نشا پر فرفتہ ہو گٸ تھی۔۔۔
ایک اور رشتہ بھی ہے اس کا۔۔ صاٸمہ مسکراتی ہوٸ شوخ لہجے میں بولی۔۔۔ ایک نظر اپنے خوبرو بیٹے واسم پر ڈالی۔۔ اور پھر نشا پر۔۔۔
سوہا ایک دم سے اس معنی خیز جملے پر نشا سے الگ ہو کر اب سب کی شرارتی مسکراہٹ دیکھ رہی تھی۔۔۔
نشا کا چہرہ ایک دم سے زرد پڑ گیا تھا۔۔۔ جبکہ باقی سب واسم سمیت ۔۔۔ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بیٹھے تھے۔۔۔
نشا ۔۔ بہت جلد واسم بھاٸ کی دلہن بن کر اوپر والے کمرے سے نیچے آنے والی ہیں۔۔۔ میرب نے اپنے مخصوص انداز میں۔۔۔چشمہ ناک پر درست کرتے ہوۓ ۔۔ کہا۔۔۔
سوہا کا دل ایک دم سے جیسے کسی نے مٹھی میں لیا ہو۔۔۔ ایک لمحے کہ لیے تو اس کے چہرے سے مسکراہٹ غاٸب ہوٸ تھی۔۔۔ پھر خجل سی ہو کر زبردستی وہ مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجا پاٸ تھی۔۔۔
لو جی۔۔۔ بول ۔۔۔ پڑی۔۔۔ مس مریضہ صاحبہ۔۔۔ بڑے موجود ہیں۔۔۔ لاسٹ پیس چپ ہی رہا کرے۔۔۔ محب اپنے انداز میں گلاب جامن منہ میں رکھتا ہوا بولا۔۔۔
آغا جان نے گھور کر دیکھا۔۔۔ اور میرب نے غصے سے۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: