Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 1

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 1

–**–**–

تیز تیز۔۔۔ ساٸیکل کے پیڈل پر پڑتے اس کے پاوں۔۔۔ اس کا سانس بھی پھولا رہے تھے۔۔۔ ماتھے۔۔۔ پہ ہلکے سے پیسنے کے قطرے نمودار تھے۔۔۔آنکھوں۔۔ میں کچھ پریشانی تھی۔۔۔ بار بار اپنی کلاٸی پر باندھی گھڑی پر نظر ڈال رہی تھی۔۔۔ اور کبھی انگلینڈ کے شہر براٸٹن کی اس شفاف سڑک پر جس پر اس کہ ساٸیکل کےپہیے۔۔ برق رفتاری سے چل رہے تھے۔۔۔
*********************************
گیلے بالوں میں۔۔۔ جیسے ہی ڈراٸر کی ہوا پڑی تھی۔۔۔ وہ اوپر کو اٹھے تھے۔۔ برش سے ان کو بڑے سلیقے سے اس نے اوپر کیا تھا۔۔۔
اپنی تھوڑی پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ۔۔ اس نے خود کو سامنے لگے آٸنے میں مسکرا کر دیکھا۔۔۔
مڑی ہوٸی پلکیں۔۔ خوبصورت آنکھوں کو اور نکھار رہی تھیں۔۔
وہ ایک خوبرو چہرے کا مالک تھا۔۔۔
******************************
پورچ کے اندر ساٸیکل اس نے ہوا میں چھوڑ دی تھی۔۔۔ ساٸیکل چلتی ہوٸ سیدھی دیوار میں لگی تھی۔۔ لیکن اس کو کوٸی پرواہ نہیں تھی۔۔۔اس کے قدم اب لفٹ کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔ لفٹ میں دخل ہوتے ہی اس نے دس کے ہندسے پر انگلی رکھی تھی۔۔۔ لفٹ تیزی سے اوپر جا رہی تھی۔۔۔
لفٹ سے باہر نکل کر اب وہ لمبی گیلری میں تیز تیز چلتے ہوۓ ایک فلیٹ کے سامنے رکی تھی۔۔۔
بیگ سنبھالتی وہ داخلی دروازہ زور سے مارتی ہوٸ اندر داخل ہوٸی تھی۔۔۔
سانس پھولی ہوٸی تھی۔۔۔ سفید رنگت۔۔ سرخ ہو گٸی تھی۔۔ ہونٹوں پر آۓ پسینے کو ہاتھ سے صاف کیا۔۔۔ جسم سے تپش سی نکل رہی تھی۔۔۔
سوزی کی گھور کے ڈالی گٸ نگاہ کو یکسر نظر انداز کرتی۔۔ وہ لکڑی کے بنے زینوں پر۔۔۔ ٹپ ۔۔ٹپ۔۔ کی آواز سے چڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔
سوزی نے ناک پھلا کر۔۔ گردن کو بڑی حقارت سے جھٹکا دیا تھا۔۔ اور منہ میں کچھ بڑ بڑا رہی تھی۔۔۔
جیسے جیسے وہ اوپر چڑھ رہی تھی اس کے سنہری بالوں کی اونچی سی پونی ہوا میں لہرا رہی تھی۔۔۔
***************************
گاڑی کی چابی۔۔ اور موباٸل ایک ساتھ اٹھایا تھا اس نے۔۔۔ اور پھر گھڑی پر ایک نظر ڈال کر ۔۔۔ مظبوط کلاٸی پر لگی گھڑی۔۔۔ شام کے تین بجا رہی تھی۔۔۔۔
دروازے کو دھکیلتا ہوا باہر نکلا تھا۔۔۔ باہر نکل کر داخلی دروازے کو لاک کیا چابی جیب میں رکھی۔۔ اور لفٹ کی جانب قدم بڑھاۓ۔۔
**************************
اپنے کندھے پر گھوما کے ڈالے گۓ کالج بیگ کو اس نے نکالا تھا۔۔ اور اچھال کر بیڈ پر پھینکا۔۔۔۔
تیزی سے ٹیرس میں کھلتے شیشے کے رول دروازے کو داٸیں طرف کو دھکیلا تھا۔۔ دروازہ ۔۔۔ نرماہٹ سے باٸیں طرف سے ہوتا ہوا داٸیں طرف غاٸب ہو گیا تھا۔۔۔
سامنے براٸٹن کے بڑی بڑی عمارتیں تھیں۔۔۔ نیچے سڑک پر چلتی گاڑیوں اور دوسری ٹریفک کا ایک سمندر تھا۔۔ رولنگ دروزہ کھلتے ہی ہوا اس کے پسینے کی وجہ سے اسے اور ٹھنڈی لگی تھی۔۔
وہ تیزی سے سٹینڈ میں لگے کیمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
اس نے اپنے دونوں لب بھینچے تو گال کے ڈمپل واضح ہو گۓ تھے۔۔۔ وہ کیمرے کو سامنے کی عمارت کی کھڑکی کی سیدھ میں سیٹ کر رہی تھی۔۔۔
اس کی انگلیاں۔۔ آہستہ آہستہ۔۔۔ فوکس کو بڑھا رہی تھی۔۔۔
ھاتھوں کی ہلکی سی لرزش اس کے اندر کی گھبراہٹ کو واضح کر رہی تھی۔۔۔
دل کے دھڑکنے کی آواز اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی۔۔۔ ماتھے پر آیا پسینہ اب کانوں کی لو تک آ چکا تھا۔۔۔ ۔ اور کانوں سے ہوتا ہوا گردن پر ایسے رینگا جیسے کوٸ کیڑا اس کی گردن پر دھیرے سے چل رہا ہو۔۔۔
لیکن وہ ان سارے احساسات سے بلکل بے نیاز تھی اس وقت۔۔۔
****************************
گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہی اس نے سیٹ بیلٹ لگاٸی تھی۔۔۔ چہرے پر چمکتی آنکھوں کو تھوڑا سا سکیڑ کر سامنے دیکھا تھا۔۔۔
سن گلاسز اس کے وجہیہ چہرے کی خوبصورتی کواور بڑھا رہے تھے۔۔۔ ہونٹوں کو گول کر کے وہ سیٹی بجا رہا تھا۔۔۔ ہر زمہ داری سے لاپرواہ۔۔۔ اور زندگی سے بھر پور اندز تھا اسکا۔۔۔
پھر شیشے پرنظر جماۓ اب گاڑی کو بیک کر رہا تھا۔۔۔
*************************
کیمرے کو سامنے فلیٹ کی کھلی کھڑکی کی سیدھ پر سیٹ کرنے کے بعد وہ لینز کے فوکس کو بڑھا چکی تھی۔۔۔اپنی آنکھ کو بند کیے دوسری آنکھ سے وہ کھڑکی کے پار کا منظر صاف دیکھ رہی تھی۔۔۔
بڑی عمر کا پچاس سال کے لگ بھگ وہ شخص۔۔۔ خباثت سے اس چودہ سالہ بچی کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔
اس نے اپنی مٹھی۔۔ زور سے بند کی۔۔۔ جیسے ضبط کے آ خری مقام پر ہو۔۔۔
بچی آج پھر ویسے ہی رو رہی تھی۔۔۔ لیکن اس کے رونے سے وہ اور زیادہ ہنس رہا تھا۔۔۔
اس کی انگلیاں فوکس کو دھیرے دھیرے اور بڑھا رہی تھیں۔۔۔ بار بار وہ اپنے ہونٹوں کو اپنے دانتوں سے جکڑ جکڑ کے چھوڑ رہی تھی۔ جو اسکے اندر ہونے والی بے چینی کا واضح ثبوت تھی۔۔۔ہر دفعہ جب وہ ہونٹ دانتوں سے باہر نکالتی ان پر ایک لالی ظاہر ہو کر غاٸب ہو جاتی۔۔۔
سامنے موجود اس بچی کی تکلیف اسے اپنے اندر محسوس ہو رہی تھی۔۔
اس کے ھاتھ کیمرے کی مددد سے ان مناظر کو قید کر رہے تھے۔۔۔
وہ بچی کو بری طرح نوچ رہا تھا۔۔۔ اس نے آنکھیں۔۔ زور سے بند کرلیں۔۔۔ کہ یہ منظر اب دیکھا نہیں جا رہا تھا۔۔۔
وہ اس عمارت سے سے اتنی دور موجود تھی۔۔۔ کہ اس کھلی کھڑکی کے فلیٹ میں موجود اس ظالم شخص کو شک بھی نہیں گزر سکتا تھا۔۔۔ کہ اس وقت کوٸی اس کی ساری حرکات کو تصویروں میں قید کر چکا ہے۔۔۔
وہ دیوار کے ساتھ لگی۔۔ کانپ رہی تھی۔۔۔۔وہ یہ منظر آج تیسری بار دیکھ رہی تھی۔۔۔ آج اس نے ہمت کر کے ان روح فشاں مناظر کو تصویروں میں قید کیا تھا۔۔۔
اب اگلا قدم ان کو ۔۔ ایسے ہاتھوں تک پہنچا نا تھا۔۔۔ جو اس بچی کو اس ظالم کے چنگل سے بچا لیں۔۔۔
وہ جلدی سے سٹینڈ پر سے کیمرے کو اتار رہی تھی۔۔۔
********************************
یونیورسٹی آف کیمبرج۔۔۔ وسیع عریض عمارت کے آگے۔۔ چرچراتی ہوۓ پہیوں کے ساتھ کار نے بریک لگاٸی تھی۔۔۔ واسم زوجیج۔۔۔ ایک ہاتھ سےسن گلاسز اتارتا ہوا ۔۔۔ گاڑی سے باہر نکلا ۔۔
ہے۔۔۔ کیرن۔ لک ۔ یہ ہے واسم۔۔ ۔۔۔۔۔نوید نے پاس کھڑی کیرن کے کندھے کو اپنے کندھے سے ہلکا سا دھکا لگایا۔۔۔ اور اس کی توجہ وجاہت سے قدم اٹھاتے واسم کی طرف دلاٸی
کیرن نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا۔۔اور چہرہ کچھ دیر کے لیےساکت ہوا۔۔۔ آنکھیں۔۔ اپنے حجم سے تھوڑی سی بڑی ہوٸیں۔۔۔چمکتی سفید رنگت اور گہرے زرد رنگ کے بالوں والی کیرن کے ہونٹ مسکراہٹ سے پھیل گۓ تھے۔۔۔
واہ۔۔۔ یہ ہے واسم۔۔۔ اس نے زیر لب پھر سے نام دھرایا۔۔ واسم زوجیج۔۔۔ اور پھر بالوں کو ایک ادا سے جھٹکا دیا۔۔۔
وہ اپنے مخصوص انداز میں مسکراتا ۔۔ ہوا ان کی طرف ہی آ رہا تھا۔۔۔
*****************************
کیمرے کو بیگ میں ڈالتے ہوۓ اس نے ایک نظر سامنے گھڑال پر ڈالی تھی۔۔۔ شام کے چار بج رہے تھے۔۔۔
بیگ کے زیپ کی آواز پورے کمرے میں گونجی تھی۔۔۔ اس نے بیگ اپنے کندھے سےلٹکایا اور پھر سے وہ لکڑی کے بنے ہوۓ زینے اترتی ہوۓ نیچے آٸی تھی۔۔۔
ہے۔۔۔ سوہا۔ سوزی کی کرخت آواز پر اس نے منہ بنایا پر اس کی طرف مڑنا گوارا نہیں کیا تھا۔۔۔
وہ اس کے عقب میں لاونج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔۔ ٹانگیں سامنے میز پر جماۓ۔۔
کہا جاتا ہے تم ۔۔ رات ہونے والا ہے۔۔۔ اس نے ٹوٹی پھوٹی سی اردو میں کہا۔۔۔
تم سے مطلب۔۔۔ کہیں بھی جاٶں میں۔۔۔ اس نے کندھے پر پھرسے بیگ کو درست کیا۔۔۔ اور یہ کہتے ہوۓ باہر نکلی۔۔۔
ساٸیکل اسی طرح زمیں پر پڑا تھا جیسے وہ ایک گھنٹے پہلےچھوڑ کر گٸ تھی۔ ۔۔۔
اور تھوڑی دیر بعد وہ پھر سے سڑک پر ساٸکل دوڑا رہی تھی۔۔
* * * * * ** * ** * * * * * *
کہاں تھے تم کل۔۔۔ نوید کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ واسم نے پوچھا تھا۔۔ جب کہ نظریں کیرن کو دیکھ کر حیرانی کا تاثر پیش کررہی تھیں۔۔۔
کہیں نہیں۔۔ کیرن سے مل۔۔ نوید نے پاس کھڑی لڑکی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ جو اب ہلکے سے ہلتے ہوۓ ۔۔۔ واسم کو سر سے پاٶں تک دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔
ھاۓ۔۔۔ واسم کے بڑھے ہوۓ ہاتھ کو وہ بغور دیکھتے ہوۓ مسکراٸ۔۔ اور پھر بڑے اندازِدلرباٸی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے مظبوط ہاتھ میں دے دیا۔۔۔
* * * * * * *
مس روز۔۔۔ مس روز۔۔۔ اس نے تیزی سے اپنے گھر کی طرف جاتی ۔۔ ایک انگریز عورت کو روکا تھا۔۔۔مڑنے کے بعد وہ اب حیرانی سے سوہا کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔
مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔ سوہا کا سانس پھولا ہوا تھا۔۔
اس نے اپنے ہاتھوں سے ساٸیکل کے ہینڈل کو مظبوطی سے پکڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
جب وہ انگلینڈ آٸی تھی وہ تیرہ سال کی تھی۔۔۔ اب چھ سال بعد وہ بہت اچھی انگلش بول رہی تھی۔۔۔۔
میں ۔۔ آپ کو نہیں جانتی۔۔۔ وہ اب بھی حیرانی سے سوہا کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسکے بازو سے بیگ لٹک رہا تھا۔۔ ہاتھوں میں پکڑے تھیلے سے سبزی نظر آ رہی تھی اس کا مطلب تھا۔۔ وہ آفس سے واپسی پر اب گھر لوٹ رہی تھی۔۔۔
میں بھی نہیں جانتی۔۔ آپ کو۔۔۔اب سوہا کا سانس تھوڑا بحال ہو گیا تھا۔۔۔ سوہا بار بار اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی۔۔ اور اس عورت کے حیران ہوتے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔۔
تو تمہیں مجھ سے کیا بات کرنی ہے۔۔۔ وہ حیرانی سے کندھے اچکاتی ہوٸی بولی۔۔۔
سوہا نے اپنے دو ہونٹوں کو منہ کے اندر ایسے دبایا کہ اس کے گالوں پر پڑنے والے گڑھے واضح ہو گۓ۔۔۔
ڈی ۔۔ ٹی۔۔ سیون۔۔۔
سوہا ۔۔ نے تھوڑا جھجکتے ہوۓ اسے اس کے فلیٹ کا نمبر بتایا تھا۔۔۔
یس۔۔۔روز نے تھوڑا متوجہ ہوتے ہوۓ کہا۔۔ میرا ہی گھر ہے۔۔۔
آپ میرے ساتھ یہاں بیٹھ سکتی ہیں کیا۔۔۔ سوہا نے پاس ہی سڑک پر لگے بینچ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ روز کو کہا۔۔۔
وہ کوٸی بھی جواب دینے کے بجاۓ۔۔ پرتجسس سی شکل بنا کر۔۔ بینچ کی طرف چل دی۔۔
1
یہ کون ہے۔۔۔ سوہا نے اپنے کیمرے کی سکرین روز کی آنکھوں کے آگے کی۔۔۔ سکرین پر وہی آدمی تھا۔۔۔
میرے سٹپ فادر ہیں یہ۔۔۔۔ وہ اب اور حیران ہو کر اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔ جبکہ سوہا اب کیمرے پر ہاتھ چلاتی ہوٸی اگلی تصویر نکال رہی تھی۔۔۔
اور یہ کون ہے۔۔۔ اس نے سکرین پھر سے روز کی آنکھوں کے سامنے کی۔۔۔ یہ میری سسٹر ہے۔۔۔ مجھ سے چھوٹی۔۔۔ وہ گھر ہوتی ہے۔۔۔ پر ۔۔ تم کہنا کیا چاہتی ہو۔۔۔ کہاں سے لی ہیں یہ تصاویر تم نے۔۔۔وہ ایک ہی سانس میں بول رہی تھی۔۔۔ اور غصے سے بینچ سے اٹھ کر اب اس کے سر پر کھڑی تھی۔۔۔
سوہا نے اب پھر سے لب بھینچتے ہوۓ۔۔ اس کے سامنے کیمرہ کر دیا تھا۔۔۔ ۔وہ ایک دم ساکت ہو گٸ تھی۔۔۔
اور پھر اس کے ہاتھ کیمرے کی سکرین پر انگوٹھے کی مدد سے داٸیں سے باٸیں چل رہے تھے۔۔۔ اور ساتھ ہی ساتھ وہ بینچ پر بیٹھتی ہی چلی گٸ تھی۔۔۔ اس کے ہاتھوں کی لرزش اس بات کی گواہ تھی کہ وہ پہلے اس بارے میں بلکل نہیں جانتی تھی۔۔۔
سوہا تین دن پہلے اپنے نٸے کیمرے کا زوم چیک کر رہی تھی ٹیرس پر رکھ کر
جب اس کی نظر سامنے فلیٹ کی کھلی کھڑکی پر رک گٸ تھی۔۔۔ اور اس کے ہاتھ کانپ گۓ تھے۔۔۔ دل بند سا ہونے لگا تھا آج چھ سال بعد اسے وہی لمحات پھر سے یاد آ گۓ تھے۔۔۔ جن کو وہ بار بار اپنے ذہن سے جھٹکتی رہتی تھے۔۔۔
میں نے ہمیشہ اس ذلیل انسان کو اپنا سگا باپ سمجھا۔۔۔ میری بہن بچپن سے بیمار رہتی ہے۔۔۔ میں اکیلی کمانے والی ہوں۔۔۔۔روز۔۔۔ زور زور سے رونے لگی تھی۔۔۔ اور ساتھ ساتھ بول رہی تھی۔۔۔ اس کا چہرہ کرب سے سرخ ہو چکا تھا۔۔۔
سوہا نے جب پہلے دن یہ منظر دیکھا تھا ۔۔ کہ روز کا سوتیلا باپ اس کی بہن کو جسمانی طور پر ہراساں کر رہا ہے۔۔۔ وہ اسی دن سے ان کے فلیٹ کو دیکھ رہی تھی۔۔ کہ کون کون ہے گھر میں۔۔۔ کس وقت جاتا ہے۔۔۔ ان کے گھر میں صرف وہ دو بہنیں تھی اور ان کہ یہ سوتیلا باپ ان کی ماں گزر چکی تھی۔۔۔ روز کانام اسے ساتھ والی آنٹی سے پوچھنے پر پتہ چلا تھا۔۔۔
روز نے ایک دم رگڑ کر اپنے گال سے آنسو صاف کیے تھے۔۔۔ اور سرخ چہرے ۔۔ خونخوار آنکھوں کے ساتھ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی وہ وہاں سے چلی گٸ تھی۔۔۔
****** * * * *
واسم۔۔۔ کم آن۔۔ لٹس ڈانس۔۔ کیرن نے بڑے ناز سے واسم کے بازو پر اپنا نیل پالش لگے بڑے بڑے ناخنوں والا ہاتھ رکھا تھا۔۔
وہ کلب میں بجنے والے انگلش موسیقی پر آہستہ آہستہ اپنے وجود کو حرکت دے رہی تھی۔۔۔ پیچھے سے کمر ساری۔ بنا کسی لباس کے عیاں تھی۔۔تنگ جینز میں وہ اپنی ٹانگیں داٸیں باٸیں گھما رہی تھی۔۔۔۔
نو۔ ۔۔۔ واسم نے مسکراتے ہوۓ مختصر جواب دیا اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اس کا بازو نرمی سے الگ کیا۔۔۔اور اپنی مدد کے لیے نوید کی طرف دیکھا۔۔۔
ارے کیرن۔۔۔ ارے۔۔۔ یہ محترم۔۔۔ ڈانس نہیں کرتے۔۔۔ وہ اونچے چلتے میوزک۔۔ اور شور کی وجہ سے ۔۔ زور دے کر بولا۔۔۔
کیرن نے خفا سی شکل بنا کر واسم کی طرف دیکھا۔۔۔اس کے وجود نے موسیقی پر تھرکنا بند کر دیا تھا۔۔
ارے یہ ڈرنک بھی نہیں لیتا۔۔۔ اور لڑکی۔۔۔ نوید نے کیرن کو آنکھ ماری۔۔۔
لڑکی سے تو کوسوں دور بھاگتا ہے۔۔۔ وہ قہقہ لگا رہا تھا۔۔۔
کیرن منہ کھولے کھڑے ۔۔ اس خوبصورت نوجوان کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔جس کے آگے پیچھے یونورسٹی کی لڑکیاں منڈلاتی تھیں۔۔اپنے نام کے مطلب کی طرح وہ خوبرو نوجوان تھا۔۔۔۔
اور وہ خود بھی تو ایک ہی دن میں اس پر فدا ہو گٸ تھی۔۔۔
وہ بڑے آرام سے سافٹ ڈرنک کے سپ لے رہا تھا۔۔ چہرے پر ۔۔ دلکش مسکراہٹ سجاۓ۔۔ اس نے کیرن کی سوالیہ نظروں کے جواب میں ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔
باقی دو چیزوں کا تو پتہ نہیں لیکن مجھ سے دور نہیں رہ پاٶ گے۔۔۔ وہ بڑے انداز سے اپنی لٹ کی گول گول گھما رہی تھی۔۔۔
* *******************
کیا ضرورت تھی۔۔ تم کو اسے پاکستان سے یہاں بلانے کی۔۔۔ سوزی اکبر پر برس رہی تھی۔۔۔۔
سوہا ایک طرف بے نیازی سے کھڑی تھی۔۔۔ اور اس کامنہ چونگم چبانے میں مصروف تھا۔۔۔
بیٹی ہے میری۔۔۔ یہاں نہیں رہے گی تو پھر کہاں رہے گی۔۔۔ اکبر بھی جھنجلا کر بولا تھا۔۔۔ اس نے سامنے رکھی چاولوں کی پلیٹ میں چمچ زور سے مارا تھا۔۔۔ کچھ چاول اچھل کر پلیٹ کے ارد گرد میز پر گرے تھے۔۔۔
تو پھر۔۔۔ پیٹر بھی یہیں رہے گا۔۔۔ اگر تم اپنی پہلی واٸف کا بچی ادھر رکھے گا تو میں بھی اپنے ایکس ہیزبنڈ کا بیٹا یہاں رکھے گا۔۔۔
اکبر غصے سے کرسی دھکیل کر اٹھا تھا۔۔۔ اور تیز تیز قدم چلتا ہوا وہ سوہا کے پاس روکا تھا۔۔۔
تم۔۔۔ تمہیں کتنی بار کہا ہے ۔۔۔ ارد گرد کے معاملات میں مت ٹانگیں پھنسایا کرو۔۔۔ تمہیں عقل کیوں نہیں آتی۔۔۔میں تمھارا کیمرہ توڑ دوں گا ۔۔۔ اگر تم باز نا آٸی تو۔۔
پاکستان تھی۔۔ تو وہ جاوید کی آنکھ پھوڑ ڈالی تھی تم نے۔۔ تمھاری چچی اب تمہیں وہاں رکھنے کو راضی نہیں اس کا بھاٸی تھا وہ جس کی آنکھ پھوڑ ڈالی تھی تم نے۔۔ ۔ وہ دانت پیستے ہوۓ۔۔۔سوہا پر غرا رہا تھا۔۔۔
اب یہاں سکون سے رہ لے۔۔۔ اکبر جھنجلا گیا تھا۔۔
اور پھر زور زور سے پاٶں مارتا ہوا اندر جا چکا تھا۔۔۔
سوہا نے مسکراتے ہوۓ۔۔ سوزی کے غبارے کی طرح پھولے منہ کو دیکھا۔۔۔ اور اسے زبان نکال کر دکھاتی ہوٸی اوپر آ گٸ۔ تھی۔۔
پولیس۔۔۔ روز کے سٹپ فادر کو پکڑ کر لے گٸ تھی۔۔۔ اس کے کیمرے میں تصاویر تھیں۔۔۔ اس لیے روز ان کو لے کر پہلے یہاں ان کے گھر آٸی تھی۔۔۔ اس واقع سے پہلے وہ ایک دفعہ ایک ایسے آدمی کو بھی پکڑوا چکی تھی۔۔۔ جو اپنی بیوی کو مارتا تھا۔۔
وہ بیڈ پر ڈھے سی گٸ تھی۔۔۔ کیمرے سے تصاویر لینا اس کا مشغلہ تھا۔۔۔
اس نے اپنے کیمرے کو اٹھایا اور تصاویر پھر سے دیکھنا شروع کر دیں۔۔۔
اس کی آنکھوں کی پتلیاں۔۔۔ ان تصاویر کا عکس دکھا رہی تھیں۔۔۔ اور زہن میں اس کی خود کی چیخیں تھیں۔۔۔
چھوڑیں ۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ چھوڑیں۔۔۔۔ وہ بری طرح اسے جھونجوڑ رہا تھا۔۔۔
کچھ نہیں کہتا۔۔۔ بس تھوڑا سا کھیلوں گا۔۔ تمھارے ساتھ۔۔۔ اچھا دیکھو۔۔۔ وہ خباثت سے اس کے بازو کو پکڑ کر۔۔۔ اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔۔۔
دیکھو۔۔۔ ارحم کا انکل ہوں تو تمھارا بھی ہوا نا۔۔۔ ادھر۔۔۔ آ کر ۔۔ میرے پاس بیٹھو۔۔۔ وہ اسے پچکار رہا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ آپ گندے انکل ہیں۔۔۔ وہ تیرہ سال کی تھی۔۔۔ لیکن اسے اس کے چھونے سے گھن آتی تھی۔۔۔ اس کی چھٹی حس اسے برا محسوس کرواتی تھی۔۔۔
ارے میری بات مانتی ہے کہ نہیں۔۔۔ وہ ایک دم اٹھ کر اس پر جھپٹا تھا۔۔۔
اس سٹور نما کمرے میں بہت سی چیزیں بکھری پڑی تھیں۔۔۔ وہ بری طرح اچھل رہی تھی۔۔۔ لیکن وہ اس سے اتنا بڑا تھا کہ اس سے لڑنا ممکن نہیں تھا۔۔۔
سوہا بنا دیکھے ارد گرد ھاتھ زمین پر مار رہی تھی۔۔۔ پھر اچانک کوٸی لوہے کی چیز اس کے ہاتھ میں آٸی تھی۔۔۔
اس نے اپنی پوری قوت لگا کر وہ لوہے کی بنی صراحی ۔۔ اپنے اوپر جھکے ہوۓ اس شیطان کے سر پر دے ماری تھی۔۔۔
ایک دم سے وہ تکلیف سے کرہاتا ہوا ایک طرف ہو تھا۔۔
سوہا اس کو بنا دیکھے وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔
********************
وہ پھر سے ادھر ہی آرہا ہے۔۔۔ نشا نے گھبرا کر ردا کے کان میں سرگوشی کی۔ اور بےچینی سے اپنی لٹ کو اپنے کان کے پیچھے کیا۔۔۔
ردا نے نظر اٹھا کر اوپر دیکھاتھا۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا ایک ہاتھ میں کتابیں تھامے ان کی طرف آ رہا تھا۔۔۔
یار۔۔۔ یہ کیوں نہیں پیچھا چھوڑتا میرا۔۔۔
نشا جھنجلا کر ارد گرد دیکھ رہی تھی۔۔ ہونٹوں کو بے چینی سے ارد گرد گھما رہی تھی۔۔
ہیلو۔۔ لیڈیز۔۔۔ ارسل نے خوشگوار لہجے میں کہا اور بنا ان سے پوچھے نشا کے بلکل سامنے والی کرسی پر براجمان ہو گیا تھا۔
ہاہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ وہ منہ سے آواز نکالتا ہوا کرسی پر ڈھے سا گیا اور سامنے پڑی میز پر اپنی کتابیں رکھی۔۔۔
نشا نے بے زاری سے ایک طرف دیکھا۔۔۔ جبکہ اس کے ہونٹ ویسے ہی عجیب وغریب زاویے بنا رہے تھے۔۔۔
جب کہ ارسل مسکراتا ہوا اسے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
نشا کو اسکی نظروں سے الجھن ہونے لگی تھی۔۔۔ اس کے ہاتھ جلدی جلدی اپنے کتابیں سمیٹنے لگے تھے۔۔۔
ارے ارے۔۔۔آپ کہاں چل دی۔۔ میں یہاں آپ کے لیے آیا ہوں۔۔۔ اور آپ ہیں کے۔۔۔ وہ اس کے جانے پر گڑ بڑا کر بولا۔۔۔
نشا اپنی کرسی چھوڑ کر اٹھ چکی تھی۔۔۔
ردا تمہیں چلنا ہے میرے ساتھ کہ نہیں۔۔ اس نے ردا کو گھورتے ہوۓکہا جو بڑے آرام سے ارسل کی ساتھ والی کرسی پر ابھی تک بیٹھی ہوٸی تھی۔۔۔
ہہ۔۔۔ہاں ۔۔۔ چلنا ہے۔۔۔ چلنا کیوں نہیں۔۔۔ ردا بھی جلدی سے اپنی کتابیں سمیٹ کر اٹھی تھی۔۔۔
پلیز۔۔ تھوڑی دیر تو بیٹھ جاٸیں۔۔۔ ارسل کان کھجاتا ہوا معصوم سی شکل بنا کر نشا کے بلکل سامنے آ گیا تھا۔۔۔
میرا راستہ چھوڑیں۔۔۔ دیکھیں۔۔۔ نشا نے نظریں جھکا لی تھیں۔۔۔
اسے یونیورسٹی میں دوسرا سال تھا۔ ۔۔ اور چند ماہ سے اس کا یہ ہم جماعت ارسل۔۔ ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ گیا تھا۔۔۔
وہ کچھ دیر خاموشی سے اس کے بلکل سامنے کھڑا رہا ۔۔۔ پھر دکھ بھری شکل بنا کر ایک طرف ہو گیا تھا۔۔۔
****************
سنو پیٹر آ رہا ہے۔۔۔ سارا کھانا مت کھا جانا ۔۔۔ وہ سیڑھیاں چڑھتی ہوٸی ایک دم سے سوزی کی حقارت بھری آواز پر رکی تھی۔۔۔
پیچھے مڑ کر دیکھے بنا وہ سیڑھیاں اوپر چڑھ چکی تھی۔۔۔
فریش ہونے کے بعد وہ نیچے کچن میں آٸی تھی۔۔۔
کچن کھانے سے بھرا پڑا تھا۔۔۔ سوزی شاٸید اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔۔۔
سنو پیٹر آ رہا ہے سارا کھانا مت کھا جانا۔۔۔ سوزی کی آواز اس کہ کانوں میں پڑی۔۔۔
اس کو کیا لگتا ہے۔۔ میں اتنا کھاتی ہوں کہ یہ سارا کھانا میں کھا جاٶں گی۔۔۔سوہا۔۔۔کہ تن بدن میں آگ لگ گٸ تھی۔۔۔
اس نے سارا کھانا ایک ٹفن میں پیک کیا اور باہر نکل گٸ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: