Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Last Episode 34

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – آخری قسط نمبر 34

–**–**–

یار سفدر۔۔۔۔تمہیں تو ڈھنگ سے کبھی کوٸ کام نہ آیا۔۔۔آغا جان نکھرے نکھرے سے خوش باش کھڑے لان کی سجاوٹ پر سفدر کو ہر بار کی طرح ڈانٹ رہے تھے۔۔۔
اور وہ جی جی کرتا ہوا پھدک پھدک کر کام سارےدرست کر رہا تھا۔۔۔۔
آغاجان کی خوشی آج دیدنی تھی۔۔عشرت کی دوسری شادی کے بعد جب وہ طلاق لے گھر آٸ تھی تو وہ اندر سے بکھر کر رہ گۓ تھے۔۔۔نہ تو وہ اکبر کو بھلا پاٸ تھی اور نہ سوہا کو اس لیے چند ہی ماہ میں دوسرے شوہر کو بھی چھوڑ کر پھر سے ان کے در پر تھی۔۔۔ لیکن آج سوہا نے پھر سے اپنے ماں باپ کو ملا دیا تھا ۔۔۔۔سب لوگ بھاگ دوڑ میں لگے تھے شام کا نکاح کی تقریب کی تھی۔۔۔۔
ارے ارے۔۔۔۔ سوہا۔۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ واسم نے عشرت کے کمرے سے تیزی سی نکلتی سوہا کا ہاتھ تھام کے روکا تھا۔۔۔۔
واسم ۔۔۔ اب کوٸ کام بھی تو کرنے دیں ۔۔۔ دیکھیں فنگشن شروع ہونےوالا ہے خفگی سے واسم پر نظر ڈالی تو پھر بس دیکھتی ہی رہ گٸ۔۔۔ وہ سیاہ رنگ کے پینٹ کوٹ میں ملبوس اپنی دلکش آنکھوں میں اس کے لیے دنیا جہان کی محبت بھرے کھڑا اس کی روح میں سما رہا تھا۔۔۔
اسکی روح میں اتر کر اسے مکمل کر دینے والا۔۔۔ اس کے دل کا مالک تھا وہ ۔ ۔۔۔
سوہا کے لب مسکراۓ تو گالوں کے خوبصورت گڑھے واسم کی لبوں کی مسکراہٹ کا موجب بن گۓ تھے۔۔
۔رات کی قربت سے خمار آلودہ اگر واسم کی آنکھیں تھیں۔۔۔
تو سوہا کی لجاتی آنکھیں اور گلابی گال بھی مکمل ہونے کی واضح تحریر تھے۔۔۔۔
ایک چیز رہ گٸ بس میرے کمرے میں آنا ذرا۔۔۔ واسم نے تھوڑا سے جھک کر سوہا کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
واسم ڈھیروں کام ہیں۔۔۔ سوہا نے خفگی بھری نظر ڈالی ۔۔۔
ابھی وہ عشرت کو تیار کر کے باہر نکلی تھی۔۔۔اور جناب کی پھر سے فرماٸش آ گٸ تھی۔۔۔
چلیں میں آتی ہوں۔۔۔ سوہا نے واسم کے گھور کے دیکھنے پر بازو ڈھیلے چھوڑ کر کہا ۔۔۔
یہ رہتی تھی۔۔ سوہا کی مخروطی انگلیوں میں ڈاٸمنڈ کی رنگ چڑھاتے ہوۓ واسم نے محبت سے کہا تھا۔۔۔ اور پھر ایک بھر پور نظر سوہا ہر ڈالی تھی۔۔۔
میرون رنگ کی لمبی سی فراک پہنے ۔۔۔ بال اس کی فرماٸش پر سلیقے سے کندھوں پر گراۓ۔۔۔ کانوں میں جھمکے پہنے۔۔۔ وہ شرماتی لجاتی اس کی روح میں اتر رہی تھی۔۔۔
ویسے میری بھی تو منہ دکھاٸ ہونی چاہیے کیا خیال ہے۔۔۔ شرارتی لہجے میں کہا جب کے نچلا لب دانتوں نے جکڑ رکھا تھا۔۔۔۔اور بھنویں بھی شرارت سے اچکاۓ وہ شرارت سےآگے بڑھا۔۔
واسم آرام سے بہت محنت سے تیار ہوٸ ہوں۔۔۔ سوہا نے اسے آگے بڑھتا دیکھ کر کھلکھلا کر کہا۔۔۔۔
اور پھر اس کی آنکھوں کی خماری دیکھ کر دروازے کی طرف دوڑ لگاٸ۔۔۔
وہ ایک ہی جست میں لپک کر دروازے پر تھی۔۔۔ پھر پیچھے مڑ کر اپنے مخصوص انداز میں زبان نکالی۔۔۔
واسم کا قہقہ فضا میں گونجا تھا۔۔
میرا ٹاٸم بھی آنے والا۔۔ سارے بدلے لوں گا۔۔۔ واسم نے شرارت سے کہا۔۔۔
جب کہ وہ دھڑکتے دل اور لرزتی پلکوں کے ساتھ باہر بھاگی تھی۔۔۔
نکاح کے بعد عشرت اور اکبر نے باری باری سوہا کا ماتھا چوما تھا۔۔۔ وہ دونوں کے بیچ ایسے کھڑی تھی جیسے کوٸ فاتح کھڑا ہوتا۔۔۔
اتنی مشکل سے وہ دونوں کو راضی کر پاٸ تھی۔۔۔ اور آج وہ دونوں اتنے خوش تھے جیسے برسوں کے ترسے بچھڑے آج ملے ہوں۔۔۔
سب لوگوں کے چہرے خوشیوں سے دمک رہے تھے۔۔۔۔اور اسفند میر ولاز آج مکمل روشنیوں میں اور قہقوں میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔۔
****************
مجھے معاف کر دو۔۔ صدف کے جڑے ہاتھ کپکپاتے ہونٹ اور آنکھوں کے نیچے پڑے حلقے اس کی بیماری کی سنگینی کا واضح ثبوت تھے۔۔۔
نشا نے دھیرے سے چھوٹے سے اہل کو ارسل کی باہوں میں ڈالا تھا۔۔۔
اور آگے بڑھ کر صدف کے دونوں ہاتھوں کو تھام لیا تھا۔۔۔ مما جان میں نے آپکو دل سے معاف کیا۔۔۔
صدف نے روتے ہوۓ نشا کے ہاتھوں کو اپنے ہونٹوں سے لگایا تھا۔۔۔
ارسل نے اہل لا کر صدف کی باہوں میں دیا تھا ۔ ۔۔۔ جسے دیکھتے ہی ان کی آنکھوں میں زندگی دوڑ گٸ تھی۔۔۔
****************
تم لیٹ کراتی ہو روز۔۔۔ واسم نے جلدی سے گاڑی کی چابی لگاٸ اور ٹاٸ ایک طرف گاڑی کے ڈیش بورڈ پر رکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
عجلت میں بال بھی کنگھی نہ کۓ تھے۔ ۔۔۔ وہ تیزی سے گاڑی موڑ رہا تھا ۔۔۔
اوہو۔۔۔ جی ۔۔۔ میں کراتی ہوں ۔۔۔ وہ جو خود رات دیر دیر تک ٹی وی دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ اٹھتے بھی لیٹ ہیں۔۔۔ سوہا نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔۔۔
تو ۔۔۔ میری مرضی۔۔۔اپنے مخصوص انداز میں بھنویں اچکا کر سوہا کی طرف دیکھا۔۔۔
تم سیکھتی کیوں نہیں گاڑی چلانا میں بنک کے لیے لیٹ ہو جاتا ہوں۔۔۔ غصے میں چڑ کر کہا۔۔۔
آپ نہیں میں یونیورسٹی سے لیٹ ہوتی۔۔۔ سوہا نے آنکھیں سکیڑ کر منہ پھلا کر کہا۔۔۔
بس اب کل سے میں نہیں لے کر جاٶں گا۔۔۔ واسم نے بھی منہ پھلا کر کہا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ میں بھی کوٸ کام نہیں کروں گا آپکا۔۔۔ سوہا ایک دم سے سیدھی ہوٸ تھی۔۔۔
او ہیلو۔۔۔ کام کیا کرتی ہو۔۔۔ اور جو بھی کرتی ہو فرض ہے تمھارا۔۔۔ واسم نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔اور ایک نظر اس پر ڈال کر پھر سے نظر سڑک پر جماٸ۔۔۔
اچھا سارے فرض میرے۔۔۔آپکے حصے میں کچھ نہیں آتا کیا۔۔ سوہا نے ناک پھلا کر سارا رخ واسم کی طرف موڑا۔۔۔
۔جتنا بھی کر لوں آپکو تھوڑی نہ نظر آنا۔۔۔ ایک دم سے سیدھی ہوٸ چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا۔۔۔
کوٸ ضرورت نہیں مجھے لینے آنے کی ۔۔۔ خود ہی ارحم چھوڑ دے گا ۔۔ غصے سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔ گاڑی یونیورسٹی کے گیٹ کے آگے تھی۔۔۔
خبردار۔۔۔ آٶں گا لینے۔۔ واسم نے ایک ہی جست میں بازو پکڑ کر ڈانٹنے والے انداز میں کہا۔۔۔۔
گڈ بواۓ۔۔۔ سوہا نے مسکرا کر واسم کے گال کو تھپتھپایا۔۔۔
آٸ ۔۔۔ لو۔۔۔ یو۔۔۔ واسم نے محبت بھری نظروں سے دیکھا۔۔۔
***********
کھاٶ۔۔۔۔کھاٶ۔۔۔ نہیں تو تھپڑ لگے گا ایک۔۔ واسم نے غصے سے گھور کر دیکھا اور باٶل آگے کیا۔۔۔
ہاں تھپڑ لگانے کا شوق چڑھا رہتا بس۔۔۔ سوہا نے بچوں کی طرح خفا سی شکل بنا رکھی تھی۔۔۔
نہیں کھانا نہ۔۔۔ پھر سے وٶمٹ ہو جاۓ گی۔۔۔ سوہا نے برا سا منہ بنا کر چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔۔۔۔ اور ابکاٸ جیسی شکل بنا ڈالی۔۔۔
میں نے پوچھا ہے ڈاکٹر سے وہ کہتی ہیں کوٸ بات نہیں۔۔ واسم نے چمچ بھرتے ہوۓ محبت سے اپنے سامنے بیٹھے اس نازک سے سراپے کو دیکھا۔
اچھی ہوتی ہے۔۔ وٶمٹ بھی۔۔۔واسم نے لاڈ سے سمجھایا۔ واسم بلکل اسکے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔
سوہا نے پھر سے ہونٹ باہر نکالے۔۔۔۔ اور واسم کی طرف دیکھا۔۔۔ جو مصنوعی غصہ دیکھاتے ہوۓ محبت سے اسے زبردستی کھلا رہا تھا۔۔۔
سوہا نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔۔ وہ ایک محبت کرنے والا اور تحفظ کا احساس دینے والا شوہر تھا۔۔۔ بچوں کی طرح اس کے لاڈ اٹھانا۔۔۔ اسے ڈانٹنا۔۔۔ اس کا ہر طرح سے خیال کرنا۔۔۔سوہا کی آنکھوں کے کونے بھیگ گۓ تھے۔۔۔
بس کھاتی رہو۔۔۔ چپ سے کھاٶ نہیں تو آغا جان کے پاس بھیج دوں گا۔۔۔ واسم نے مصنوعی غصے سے ڈانٹا۔۔۔۔۔
پکڑایں۔۔۔ میں خود کھاتی ہوں۔۔۔ سوہا نے ہاتھ آگے بڑھاۓ۔۔۔
نہیں۔۔۔ کوٸ اعتبار نہیں تمھارا۔۔ واسم نے مسکراہٹ دباٸ۔۔۔۔
او۔۔۔ ہوں۔۔۔۔ سوہا نے ناک سکیڑی۔۔۔
کوٸ او ہوں نہیں۔۔۔ منہ کھولو۔۔۔ واسم نے شرارت سے کہا۔۔۔
بلکل نہیں اچھا۔۔۔سوہا نے سینے پر ہاتھ رکھ کر برا سا منہ بنایا تھا۔۔۔۔
واسم نے قہقہ لگایا۔۔۔۔
ہاں مجھے پتہ ہے۔۔۔ پر کھانا پڑے گا۔۔۔ پھر بچوں کی طرح لاڈ سے کہا۔۔
خود کو تو دیکھو۔۔ کتنے آرام سے ہیں ساری مشکلیں مجھ پر۔۔۔سوہا نے کھا جانے والی نظر سے دانت نکالتے واسم کو دیکھا۔۔۔اور روہانسی آواز میں کہا۔۔۔
جنت بھی تمھارے ہی پیروں کے نیچے ہو گی ایسے نہیں کہتے۔۔۔ واسم نے محبت سے کہہ کر چمچ پھر سے آگے کیا۔۔۔۔۔
***************
دانیہ ۔۔۔۔ ایسے اگر کوٸ چھوۓ تو وہ غلط ہے۔۔۔۔ ایسا اگر ہو تو آپ کو کیا کرنا ہے۔۔۔۔ سوہا نے محبت سے اپنی سات سال کی بیٹی کو اپنے ساتھ لگایا۔۔۔
زور زور سے چیخنا ہے۔۔۔ کسی کو آواز دینی ہے۔۔۔وہاں سے بھاگنا ہے۔۔۔ اسے کاٹنا ہے۔۔۔ اور خود کو چھڑوانا ہے ۔۔۔ دانیہ نے سبق کی طرح رٹے کلمات دہراۓ۔۔۔
اور کسی سے بھی کوٸ چیز بھی نہیں لیتے۔۔۔۔سوہا نے اس کے سر پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
مما مجھے معلوم ہے یہ سب آپ اتنی دفعہ تو بتا چکی ہیں۔۔۔۔ دانیہ نے محبت سے منہ بسورتے ہوۓ کہا۔۔۔
اب مجھے باہر جانا ہے۔۔۔۔ دانیہ نے معصوم سی شکل بنا کر التجا کی۔۔۔
نو۔۔۔ مما خود اپنے ساتھ پارک لے کر جاٸیں گی۔۔۔۔ سوہا نے سخت آواز میں ڈانٹا۔۔۔
مجھے ساٸیکلنگ کرنی ہے۔۔۔ پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔ دانیہ ضد کرنے کے انداز میں بولی۔۔۔۔
دانیہ۔۔۔ رکو ۔۔۔ عزرا۔۔۔۔ عزارا۔۔۔۔ سوہا نے کچن میں کام کرتی عزرا کو پکارا۔۔۔۔
عزرا میں دانیہ کو لے کر باہر جا رہی ہوں۔۔۔ سوہا نے دانیہ کے گرد بازو حاٸل کرتے ہوۓ محبت سے کہا۔۔۔
تھنکیو ۔۔۔ مما۔۔۔۔ دانیہ نے پیارا سا چہرہ اوپر کیا۔
مما کی جان۔۔۔ سوہا نے فرط محبت سے اپنی معصوم بیٹی کو دیکھا۔۔۔
اور پھر سب بیٹیوں کی حفاظت کے لیے دعاٸیں مانگتی وہ اس کا ہاتھ تھا مے جا رہی تھی۔۔۔۔
*****************
خدارا اپنی چھوٹی معصوم کلیوں کو غلط اور صیح کی تعلیم دیں۔۔۔ انہیں مظبوط بناٸیں۔۔۔
اللہ سب معصوم شہزادیوں کو اس دنیا میں موجود درندوں سے محفوظ رکھے۔۔۔ دل سے دعا گو۔ ۔۔۔۔
ہما وقاص۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 14

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: