Dhal Gai Phir Hijar Ki Raat by Sumaira Sharif – Episode 1

0

یہ دل یہ پاگل دل میرا کیوں بجھ گیا آوارگی
اس دشت میں ایک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی!…
وہ گھاس پر ٹہلتے ٹہلتے ایک دم چونک گئی۔ یہ آواز اسے گیٹ کے پاس بنے سلطان بابا کے چھوٹے سے
کوارٹر میں سے آ رہی تھی۔ سلطان بابا ریڈیو کے بڑے شوقین تھے ان کے ریڈیو پر ہر وقت کوئی نہ کوئی
اسٹیشن چل رہا ہوتا تھا۔ یہ آواز بھی شاید اسی سلسلے کی تھی۔ وہ دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتی، سلطان
بابا کے کوارٹر کے قریب چلی آئی۔ سلطان بابا کی پشت اس کی طرف تھی، ریڈیو کان سے لگائے بڑے وہ
مسرور انداز میں سر دھن رہے تھے۔
حمدہ لب بھینچے واپس پلٹی تو اماں زلیخا تیزی سے اندرونی سیڑھیاں اُترتے اسی طرف آتی دکھائی دیں۔
’’تسی حمدہ پتر اتھے او… میں تہانوں اندر ہر پاسے دیکھ آئی۔‘‘ (حمدہ پتر تم ادھر ہو میں آپ کو ہر جگہ
دکھ آئی ہوں)
’’خیریت اماں…‘‘ اس نے مسکرا کر پوچھا۔
’’آہو جی… تساں نوں وڈی بی بی یاد کرنی ہی۔‘‘ (آپ کو بڑی بی بی بلا رہی ہیں) حمدہ نے گہرا سانس لیا۔
’’آپ چلیں میں آتی ہوں۔‘‘ زلیخا اماں کو روانہ کر کے وہ خود بھی اندر کی طرف چلی آئی۔
بی بی جن کو سب وڈی بی بی کہتے ہیں اپنے مخصوص تخت پر بیٹھی ہوئی تھیں ان کے پاس نسرین
بھی تھی، وہ شاید اسے کوئی ہدایت دے رہی تھیں۔ اسے قریب آتے دیکھ کر مسکرائیں۔
’’آئو پتر حمدہ! میں کتنی بار زلیخا کو کہہ چکی تھی کہ تمہیں بلا لائے۔ کل سے آئی ہو، بس اِدھر اُدھر گم
صم پھر رہی ہو۔ ادھر آئو میرے پاس بیٹھو۔‘‘ نسرین کو جانے کا اشارہ کرتے انہوں نے اپنے قریب ہی تخت پر
جگہ بنائی تو حمدہ خاموشی سے ٹک گئی۔
’’یہ کچھ پردے ہیں عمر کے کمرے کے اتنے عرصے بعد وہ آ رہا ہے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کون سے
رنگ والے پردے اس کے کمرے کے لیے رکھوں۔ تم بتائو کون سا رنگ ٹھیک رہے گا؟‘‘ بی بی کے چہرے پر
برسوں بعد اپنے بیٹے سے ملنے کا جوش نظر آ رہا تھا، حمدہ نے اس کے سامنے رکھے پردوں کے ڈھیر کو
دیکھا اور پھر بلیو اینڈ وائٹ کمبینیشن والے پردوں پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’یہ ٹھیک رہیں گے۔ ویسے یہ کام تو آپ کو ان کی پسند کے مطابق ہی کروانا چاہیے تھا۔ میں نے اپنی پسند
بتا دی اب پتا نہیں ان کی پسند کیا ہے؟‘‘
’’تمہاری پسند کوئی عام پسند نہیں ہوتی۔ ویسے مجھے بھی عمر کے کمرے کے لیے یہی پردے پسند آئے
تھے مگر پھر سوچا تم سے پوچھ لوں، تم پڑھی لکھی ہو، آج کل کے فیشن کا تمہیں زیادہ پتا ہے۔‘‘ حمدہ ان
کی بات پر دھیرے سے ہنس دی۔
’’ماریہ باجی سے بات ہوئی کب تک واپسی ہو گی؟‘‘’’ہاں ماریہ نے فون کیا تھا کہہ رہی تھی کہ موسم کی وجہ سے جہاز لیٹ ہو گیا ہے۔‘‘ حمدہ نے آہستگی
سے سر ہلا دیا۔
’’اب یہ نسرین پتا نہیں کہاں رہ گئی ہے۔ میں نے کل سے کہہ رکھا تھا نسرین سے کہ عمر کے آنے سے
پہلے اس کے کمرے کے پردے بدل دے مگر اب تک نہیں بدلے۔‘‘
’’لائیں میں کر دیتی ہوں۔ نسرین کچن میں لگی ہو گی۔‘‘ وہ کل سے اُدھر تھی اب بی بی کو یوں پریشان
دیکھ کر فوراً اپنی خدمات پیش کیں۔
’’نہ پتر نہ… ُتو کل سے ادھر ہے کچھ نہ کچھ کر ہی رہی ہے۔ نسرین فارغ ہو کر بدل دے گی۔‘‘ بی بی نے فوراً
انکار کیا۔
’’کوئی بات نہیں۔‘‘ اس نے دھیمی مسکراہٹ سے کہتے ہوئے پردے اُٹھا لیے۔
اس چھوٹی حویلی میں آج ہر طرف چہل پہل تھی اور کیوں نہ ہوتی سالوں بعد عمر پاکستان آ رہا تھا اور
چند گھنٹے گزرنے کے بعد اس نے حویلی میں ہونا تھا۔ وہ پردے لیے عمر کے کمرے کی طرف چلی آئی۔ ایک
ماہ پہلے بی بی نے نئے سرے سے اس کمرے کا پینٹ کروا کر سارا فرنیچر نیا بنوا کر اس کمرے کو سجا
دیا تھا۔ بس پردے تبدیل کرنے کی ضرورت تھی۔ حمدہ کو کچھ وقت لگا پردے بدلنے میں، اس کے بعد عصر
کا وقت تھا، اس نے بی بی کے کمرے میں آ کر نماز پڑھی ُدعا مانگ کر اُٹھی تو بی بی کمرے میں آتی
دکھائی دیں۔
’’اب تو جہاز آ چکا ہو گا نا؟‘‘ بی کی بیتابی قابل دید تھی۔ حمدہ مسکرا دی۔
’’جی… اُمید تو ہے۔‘‘
’’یہ ماریہ نے فون بھی نہیں کیا۔ میں نے کہا تھا کہ جیسے ہی جہاز آئے فون کر دے۔ میں نے شکرانے کے
نفل پڑھنے ہیں۔ عصر کی نماز کے بعد تو نفل نہیں پڑھے جا سکتے ناں۔‘‘ حمدہ کیا کہہ سکتی تھی
خاموش ہی رہی۔
’’تم ماریہ کو فون کرو، پتا کرو جہاز آ گیا ہے یا نہیں۔‘‘ بی بی نے کہا تو اس نے سر ہلا کر ان کے سرہانے رکھا
کارڈ لیس اُٹھا لیا۔ نمبر ملا کر اس نے دوسری طرف رابطہ کیا۔
’’السلام علیکم۔‘‘
’’و علیکم السلام۔‘‘ دوسری طرف ماریہ باجی ہی تھیں۔
’’میں حمدہ بول رہی ہوں۔ بی بی پوچھ رہی ہیں کہ جہاز لینڈ کر چکا ہے۔‘‘
’’ہاں… ابھی ابھی لینڈ کیا ہے۔ اللہ کا شکر ہے۔ ابھی ہم باہر ہی ہیں۔ ایئر پورٹ سے کلیئرنگ کرواتے کرواتے
بھی خاصا وقت لگ جائے گا۔ ماں جی کو کہنا پریشان نہ ہوں، ہم رات تک پہنچ جائیں گے۔‘‘
’’جی کہتی ہوں… اللہ حافظ۔‘‘ کال بند کر کے اس نے بی بی کو دیکھا وہ اس کی طرف متوجہ تھیں۔
’’جہاز آ گیا ہے، ماریہ باجی کہہ رہی تھیں کہ ایئرپورٹ سے فارغ ہوتے ہوتے بھی دو گھنٹے لگ ہی جائیں
گے۔‘‘
’’یا میرے مالک تیرا شکر…‘‘ بی بی نے فوراً شکر بجا لایا۔’’میں وضو کر کے نماز پڑھ لوں، تم کچن میں نسرین کو دیکھنا کہاں تک کام ہوا ہے، گھر میں داخل ہوتے ہی
سبھی نے کھانا مانگنا ہے۔‘‘ حمدہ سر ہلا کر کچن کی طرف چلی آئی تھی۔ نسرین کے ساتھ ہاتھ بٹاتی وہ
سوچتی رہی کہ ہو سکتا ہے کل تک اماں واپس آ جائیں… کل ممانی کے بھائی کے انتقال کی خبر پہنچی
تھی، خاصا دور دراز علاقہ تھا، اماں کل شام کو ہی چلی گئی تھیں۔ آج انہوں نے فون کر کے حمدہ کو اطلاع
دے دی تھی کہ وہ آج نہیں آ پائیں گی تو آج رات بھی ادھر چھوٹی حویلی میں رہ کر کل پھر وہ صبح
سویرے نکلنے کی کوشش کریں گی۔
شام تک وہ نسرین کے ساتھ ہی کچن میں مصروف رہی پھر اذان ہوئی تو وہ نماز پڑھنے بی بی کے کمرے
میں چلی آئی۔ بی بی اور اس نے اکٹھے ہی مغرب کی نماز پڑھی تھی۔
’’ماریہ کا نمبر تو ملائو ذرا… پتا تو کرو اب یہ لوگ کہاں تک پہنچے ہیں۔‘‘ بی بی کا دھیان بس ایک ہی
طرف تھا، حمدہ مسکرا دی۔ تاہم سر ہلا کر جائے نماز لپیٹ کر ایک طرف رکھتے اس نے سرہانے پر رکھا
کارڈلیس پھر تھام لیا۔ بظاہر ُدعا مانگتے بی بی کا سارا دھیان اسی طرف تھا۔
’’السلام علیکم!‘‘ نمبر ملا کر رابطہ ہونے پر اس نے کہا۔
’’و علیکم السلام! عمر اور ہم واپسی کے لیے نکل چکے ہیں۔ بس ایک دو گھنٹے میں گائوں پہنچ جائیں گے۔‘‘
دوسری طرف ماریہ باجی نے ہنستے ہوئے کہا تبھی اس کے ہاتھ سے کسی نے جیسے موبائل چھین لیا تھا۔
’’اماں جی بس ایک دو گھنٹے کی دوری پر ہوں آپ سے… مجھے پتا ہے آپ کس قدر بیتابی سے میرا انتظار
کر رہی ہیں، کچھ یہی حال میرا بھی ہے۔ برسوں بعد آپ سے ملنا ہے، جی چاہ رہا ہے کہ اُڑ کر پہنچ جائوں
آپ تک۔‘‘ دوسری طرف مسکراتی زندگی سے بھرپور اجنبی مردانہ آواز حمدہ کو اپنے کانوں میں گونجتی
محسوس ہوئی تو اس نے ایک دم گھبرا کر ایک لفظ بھی کہے بغیر کال بند کر دی تھی۔
’’کیا ہوا… کیا کہہ رہی تھی ماریہ؟‘‘ بی بی کا دھیان مکمل طور پر اسی طرف تھا۔
’’کچھ نہیں… وہ لوگ نکل چکے ہیں، ایک گھنٹے میں گائوں میں ہوں گے۔‘‘ اس نے کارڈ لیس واپس سرہانے
رکھتے سنجیدگی سے کہا۔
’’اللہ ساتھ خیریت کے میرے بچے کو اپنے گھر لائے۔ برسوں ہم نے یہ دوری سہی ہے۔‘‘ بی بی آبدیدہ ہوئیں
تو حمدہ چپ چاپ دیکھے گئی۔
بی بی کا حوصلہ قابل دید تھا۔ انہوں نے برسوں اپنے بیٹے کی یاد میں روتے وقت گزارا تھا آج وہ سرخرو
تھیں۔ جن لوگوں کے ڈر سے انہوں نے اپنے جگر گوشے کو خود سے دور کیا آج وہ لوگ خود ہی ان سے
شرمسار تھے اور ان کو برسوں بعد آج اپنے بیٹے سے ملنے کا موقع رہا تھا۔
حمدہ خاموشی سے ان سب کی خیریت سے واپسی کی ُدعا مانگتی بی بی کے کمرے سے نکل گئی تھی۔
ان لوگوں کو ’’چھوٹی حویلی‘‘ پہنچتے پہنچتے رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ حمدہ بی بی کے کمرے میں ان
کے بستر پر لیٹی ہوئی تھی جب گاڑیوں کے اندر داخل ہونے کی آوازیں سنائی دینے لگیں تو وہ ایک دم اُٹھ
کر کھڑکی کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ بی بی کا کمرہ اس لوکیشن میں تھا کہ اس کھڑکی سے باہر گیٹ تک کےتمام مناظر واضح دکھائی دیتے تھے۔ گاڑیوں سے بڑی حویلی کے تمام افراد کے علاوہ ماریہ باجی، ذوالفقار
بھائی ان کے دونوں بچے اور کچھ اضافی مہمانوں کو اُترتے حمدہ نے دیکھا اور پھر ماریہ باجی والی گاڑی
میں سے ہی عمر نکلا تھا۔ حمدہ اسے دیکھ کر حیران رہ گئی۔
جب وہ یہاں سے گیا تھا تو صرف سولہ سترہ سال کا نو عمر لڑکا تھا، بہت ُپرانی بات تھی اور آج وہ ایک
بھرپور قد کاٹھ والا مکمل طاقتور نوجوان تھا، وہ اپنی عمر اور جسامت سے ستائیس اٹھائیس سال کا لڑکا
لگ رہا تھا۔ برآمدے کی سیڑھیوں پر بی بی ملازموں کے ہمراہ کھڑی تھیں۔ عمر نے گاڑی سے نکلتے ہی ایک
دم بھاگ کر ماں جی کی طرف قدم بڑھائے تھے۔
’’میرا بیٹا! میرا عمر…‘‘ ماں جی نے والہانہ انداز میں عمر کو خود سے لپٹا لیا تھا۔
وہ بار بار بڑی شدت، بیقراری اور والہانہ پن سے اس کی پیشانی چوم رہی تھیں۔
’’ماں صدقے… ماں قربان… جب گیا تھا چھوٹا سا تھا، آج اتنا بڑا ہو گیا ہے۔‘‘ وہ ساتھ ساتھ رو رہی تھیں،
اماں زلیخا اور نسرین آنکھوں میں آنسو لیے عمر پر پھول برسا رہی تھیں۔ کھڑکی کے اس طرف کھڑی حمدہ
کی بھی آنکھوں میں نمی سمٹ آئی تو وہ وہاں سے ہٹ کر واپس بستر پر آ بیٹھی۔ مگر کل سے کچھ
پریشان اور بے چین تھی تو آج بہت چاہنے کے باوجود اس حویلی کا حصہ نہیں بن پا رہی تھی اور بی بی کا
یہ بیٹا کتنا بدل گیا تھا، رات کے وقت ٹیوب لائٹ کی روشنی میں وہ جو بھی دیکھ پائی تھی وہ یہی تھا کہ
عمر ہاشم ایک مضبوط قد کاٹھ والا ایک توانا مرد تھا، مضبوط سینہ کشادہ پیشانی، چوڑے کسرتی کندھے،
یقینا غیر ملک میں رہ کر اس کی صحت پر خاصا اچھا اثر پڑا تھا۔ خیر جب وہ یہاں سے گیا تھا۔ عمر تب
بھی خاصا توانا وجود کا مالک تھا۔ سوچتے سوچتے کچھ دیر گزری تو اماں زلیخا اندر داخل ہوئیں۔
’’پتر تسی ادھر بیٹھے رو… ادھر کھانے والی میز تے وڈی بی بی تسی نوں بلا رے نیں…‘‘ حمدہ نے سر اُٹھا
کر زلیخا اماں کو دیکھا، بی بی اُسے بلا رہی تھیں یقینا کھانے کی ٹیبل پر چھوٹی حویلی کے علاوہ بڑی
حویلی کے افراد بھی براجمان ہوں گے۔ وہ شش و پنج میں پڑ گئی کہ کیا کرے وہ جائے کہ نہ جائے۔ بی بی
نے اس کے معاملے میں کبھی حیثیت مرتبے کا خیال نہیں رکھا تھا مگر بڑی حویلی کے فرد اس لحاظ کو
ضرور ملحوظ خاطر رکھتے تھے۔ خصوصاً چھوٹی چوہدرانیاں۔
’’میں فیر جا کے آکھاں کہ تسی آ رہے ہو نا؟‘‘ اسے یوں اُلجھتا دیکھ کر اماں زلیخا نے پوچھا۔ انہیں شاید
کچن میں اور بھی کام تھے، حمدہ ایک گہرا سانس لیتے بستر سے اُتر آئی۔
’’چلیں۔‘‘
اس نے کل شام گھر سے نکلتے وقت یہ لباس پہنا تھا ہلکا ٹی پنک رنگ تھا، پچھلے سال باجی نگہت نے
اسے یہ سوٹ بھجوایا تھا، جدید فیشن کے مطابق سلا ہوا تھا شاید، انہوں نے کسی اچھی دکان سے خریدا
تھا۔ ایک دو بار ہی حمدہ نے پہنا تھا اور جب اماں نے اسے بتایا کہ وہ اسے یہاں چھوڑ کر جائیں گی تو پہلے
تو وہ مانی ہی نہ تھی کہ ادھر ’’چھوٹی حویلی‘‘ میں مہمانوں کی موجودگی اور عمر کی آمد سے وہ بے
خبر نہ تھی مگر اماں اسے اکیلے گھر میں تنہا بھی نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں۔ مجبوراً اسے یہ سوٹ پہننا
پڑا تھا کہ وہ بی بی کے رشتہ داروں کے سامنے کسی بھی قسم کی سبکی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔برائون بڑی سی شال اپنے گرد لپیٹے اپنی چپل اڑس کر وہ زلیخا اماں کے ہمراہ ہی کمرے سے باہر نکل آئی
تھی۔ آج رات کے کھانے کا انتظام دعوت خانے میں کیا گیا تھا، ایک بڑی سی میز اور اس کے گرد کرسیوں پر
بیٹھے لاتعداد لوگ، حمدہ دروازے پر ہی ُرک گئی تھی۔ بی بی کی نظر اس کی طرف اُٹھی تو اسے دروازے
پر ہی ُرکتے دیکھ کر مسکرائیں۔
’’آئو حمدہ! اِدھر آ جائو میرے پاس، میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی۔‘‘ بی بی کے کہنے پر وہ ان کے پاس
چلی آئی تھی۔
’’السلام علیکم۔‘‘ اس نے سب پر ایک اجتماعی نگاہی ڈالتے اجتماعی سلام کیا تھا۔
’’و علیکم السلام۔‘‘
ماریہ باجی اور کئی لوگوں کی نظریں اس کی طرف اُٹھی تھیں۔ خصوصاً بی بی کے دائیں طرف بیٹھے عمر
نے بھی اسے دیکھا۔ ایک بڑی سی برائون چادر میں خود کو چھپائے وہ بی بی کے بائیں طرف آ بیٹھی تھی۔
’’کہاں تھیں تم نظر ہی نہیں آئی۔‘‘ ماریہ باجی نے پوچھا تو وہ صرف ہلا کر رہ گئی۔
’’نسرین کرسی ادھر ہی لا دو… حمدہ میرے پاس ہی بیٹھ جائے گی۔‘‘
بی بی نے اپنی کرسی عمر کی طرف کھسکا کر اس کے لیے ٹیبل کے گرد جگہ بنائی تھی۔
’’آئی نہیں ابھی تک تمہاری ماں؟‘‘ یہ بڑی چوہدرانی کی آواز تھی۔ ہمیشہ کی طرح طنز۔
’’ہو از شی؟‘‘ عمر اس نئے وجود سے یکسر انجان تھا، اس نے ماریہ کی طرف دیکھا۔ دھیمی آواز میں ہی
پوچھا۔
’’چاچی مختار کی بیٹی ہے۔‘‘ ماریہ نے دھیمے سے کہا جبکہ بی بی ڈشیں اُٹھا اُٹھا کر حمدہ کے آگے رکھ
رہی تھیں۔ جنہیں اس نے شکریہ کے ساتھ تھام لیا تھا، یقینا وہ رکھ رکھائو والی لڑکی تھی۔
’’چاچی مختار؟‘‘ عمر سوچنے لگا۔
’’نانا جان کے چچا زاد بھائی قفیل چاچا کی بیوی کا نام مختار ہے۔ یہ انہی کی بیٹی ہے۔‘‘
’’اوہ… آئی سی…‘‘ عمر کو ایک دم یاد آیا تو اس بار اس نے قدرے غور سے ماں جی کے بائیں طرف بیٹھے
وجود کو دیکھا۔
’’ہاں نگہت میری ہم عمر ہے، ساجدہ تمہاری اور یہ تیسرے نمبر والی حمدہ ہے۔‘‘
’’ان کا ایک بیٹا بھی تھا قمر؟‘‘
’’ہاں وہ آج کل ملک سے باہر ہوتا ہے۔ بیوی بچوں والا ہے۔ دوبئی میں رہتا ہے۔‘‘ دونوں بہن بھائی یہ ساری
گفتگو بڑے دھیمے سروں میں کر رہے تھے جبکہ باقی لوگ کھانا کھا رہے تھے۔
’’جب میں گیا تھا تو یہ بچی سی تھی اب تو کافی بڑی ہو گئی ہے اور خاصی خوبصورت بھی ہے۔‘‘ بڑی سی
ٹھا
برائون چادر میں لشکارے مارتا اس کا دودھیا ُحسن ایک نگاہ میں ہی جانچ چکا تھا۔ ماریہ نے ایک نگاہ اُ
کر اپنے خوبرو بھائی کو دیکھا وہ بظاہر کھانا کھا رہا تھا مگر نگاہیں حمدہ کے چہرے پر ہی تھیں۔ وہ ایک
کھلے ماحول میں رہ کر آیا تھا اور یہ بیباکی شادی اسی ماحول کا نتیجہ تھی جو دل کی بات فوراً لبوں پر
لے آیا تھا۔’’چاچی مختار خود بھی تو ماشاء اللہ بہت خوبصورت ہیں۔ ان کے چاروں بچے ان پر ہی گئے ہیں۔‘‘ ماریہ
باجی نے اس کی نگاہوں کے تاثر کو عام لہجے میں سمو کر زائل کرنے کی کوشش کی۔
’’یہ دونوں بہن بھائیوں میں کیا راز و نیاز ہو رہے ہیں۔‘‘ چھوٹی ممانی دونوں کو یوں دھیمے لب و لہجے
میں باہم گفتگو کرتے دیکھ کر پوچھنے لگیں تو ماریہ فوراً مسکرا کر سیدھی ہوئی۔
’’کچھ خاص نہیں بس اردگرد کی باتیں کر رہے تھے۔‘‘ حمدہ نے کھانا کھاتے سر اُٹھا کر دیکھا عمر ابھی بھی
ِہ
گاہے بگاہے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کی نگاہوں میں ایسا تاثر ضرور تھا کہ حمدہ سٹپٹا سی گئی۔ برا
راست کسی نے بھی دونوں کا تعارف نہیں کروایا تھا اگر کچھ پل قبل اس نے عمر کی آمد پر خوش
آمدیدی کارروائی اپنی آنکھوں سے ملاحظہ نہ کی ہوتی تو شاید وہ اسے پہچان بھی نہ پاتی۔
حمدہ نے سوچا شاید یہ شخص بھی اس کے تعارف سے بے خبر ہے شاید اسی لیے بار بار اسے دیکھ رہا ہے۔
کھانا کھاتے ہوئے وہ مسلسل اس شخص کی نظریں اپنے چہرے پر محسوس کرتی رہی اور اندر ہی اندر
گھبراتی رہی جبکہ باقی سبھی خوشگوار موڈ میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ اس نے بہت جلد ہی
کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور پھر باقی لوگوں کے اُٹھنے کا انتظار کیے بغیر اس نے ٹیبل چھوڑ دی تھی۔
کمرے سے نکلتے ہوئے اس نے کسی کی نگاہوں کی تپش اپنی پشت پر مسلسل محسوس کی تھی، مگر
وہ بغیر گھبرائے اپنے مخصوص رکھ رکھائو اور ُپروقار انداز سمیت کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔
اس کا خیال تھا کہ اماں اگلی صبح سویرے نکلیں گی تو گائوں نو بجے تک پہنچ ہی جائیں گی مگر اماں کا
فون آیا کہ ان کا وہاں شہر سے کچھ خریدنے کا پروگرام بن گیا ہے تو شام تک آئیں گی۔ حمدہ ایک گہری
سانس لے کر رہ گئی۔ کل اتوار تھا آج ہفتہ کی چھٹی اسے کرنا پڑ گئی تھی۔ وہ گائوں سے باہر ایک مقامی
کالج میں پڑھا رہی تھی۔ اسے ابھی تین چار ماہ ہی ہوئے تھے یہ جاب شروع کیے۔ وہ ایم اے انگلش تھی یہ
کالج مقامی سطح پر ساتھ والے گائوں کے مالکوں نے اردگرد کے دیہات کی لڑکیوں کی سہولت کے لیے
پرائیویٹ لیول پر بنوایا تھا۔ ابھی ایک آدھ سال ہی ہوا تھا کہ اس کالج میں فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کی
کلاسز شروع کی تھیں۔ یہاں جاب بھی ’’بی بی‘‘ نے ساتھ والے گائوں کے ملکوں سے کہہ کر دلوائی تھی۔
اماں گھر نہیں تھیں وہاں تالا لگا ہوا تھا اور اماں نے اسے بار بار گھر کے چکر لگانے سے بھی منع کر دیا تھا۔
وہ پرسوں شام کو حویلی میں آئی تھی عجلت میں وہ صرف ایک دو چیزیں ہی لے کر آئی تھی۔ اس وقت
کے دس بج رہے تھے ناشتے کے بعد چھوٹی حویلی کے سبھی افراد بی بی سمیت بڑی حویلی جا رہے تھے۔
ماریہ باجی نے اسے بھی ساتھ چلنے کو کہا مگر وہ آصفہ (بڑی چوہدرانی) بیگم اور تیسری چوہدرانی
جمیلہ کی وجہ سے انکار کر گئی۔ وہ پرسوں سے ایک ہی لباس پہنے ہوئے تھی۔ وہ لوگ نکلنے لگے تو اس
نے سوچا کہ کیوں نہ وہ بھی اپنے گھر سے ہو آئے۔ چابیاں اس کے پاس ہی تھیں وہ تھوڑی دیر گھر کا بھی
چکر لگا لے گی اور لباس بھی بدل آئے گی۔
’’میں گھر چلی جائوں بی بی؟‘‘ اس نے بی بی سے اجازت لے لینا مناسب سمجھا۔
’’اس وقت؟‘‘ بی بی نے اس کا چہرہ دیکھا، ان کے چہرے پر تفکر کے سائے لہرائے۔’’مجھے کچھ کتابیں لینی ہیں۔ میں نے سوچا کہ فارغ رہنے سے کوئی کتاب ہی پڑھ لوں۔‘‘ سر جھکائے اس
نے کہا تو بی بی نے ایک دو پل اسے دیکھا۔
’’چلی جائو مگر اکیلے نہیں جانا۔ نسرین تو گھر چلی گئی ہے زلیخا اندر ہی ہے اس کو ساتھ لے کر چلی
جائو۔ زیادہ دیر نہیں ُرکنا۔ کتابیں اور کپڑے لے کر فوراً آ جانا۔‘‘ انہوں نے اجازت دی تو حمدہ گہرا سانس لے
کر مسکرا دی۔
’’جی…‘‘ وہ لوگ بڑی حویلی کے لیے نکلے تو وہ بھی زلیخا اماں کو لے کر اپنے گھر آ گئی۔ وہ اپنے گھر کے
دروازے پر کھڑی ابھی تالا کھول رہی تھی کہ سفید گاڑی اس کے پاس آ کر ُرکی۔ گاڑی کے اندر موجود
شخص جان بوجھ کر متوجہ کرنے کو زور سے ہارن دینے لگا تھا۔ حمدہ نے لب بھینچ کر برائون چادر کے اندر
فوراً منہ چھپا لیا تھا۔
’’حمدہ بی بی! تساں چھیتی بواء کھولو… اے نحوست مارا ایتھے جم ای گیا اے۔‘‘ باقر علی کو دیکھ کر اماں
زلیخا کے بھی تیور بدلے تھے۔
’’کیوں دور دور ریندے او حضور میرے کولوں
سانوں دسدیو ہویا کی قصور میرے کولوں‘‘
وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر کافی بلند آواز میں گنگنانے لگا تو حمدہ بغیر توجہ دئیے تالا کھول کر دروازہ
دھکیلتے فوراً اپنے گھر میں داخل ہو گئی تھی۔ اماں زلیخا اس کے پیچھے بیرونی دروازہ بند کر کے اسی
کمرے میں چلی آئی تھیں۔ وہ دیوار گیر ایک الماری کا پٹ کھول کر اپنے کپڑے نکال رہی تھی۔
’’یہ باقر علی دی جان دا… ترا… دو بچیاں دا پیو بن گیا اے پر حرکتاں نئیں گئیاں… جنانی اودی چھڈ کے ٹر
گئی اے پر انہوں عقل نہیں آئی۔‘‘ اماں زلیخا نے کافی غصے سے کہا۔
حمدہ خاموش رہی۔ جب سے اس نے کالج جانا شروع کیا تھا اماں نے اس کے لیے کئی سوٹ سلوائے تھے۔
مگر ماریہ باجی اور بڑی حویلی کی عورتوں کے کپڑوں کے سامنے یہ چند جوڑے کچھ بھی نہ تھے۔ چند منٹ
اِدھر اُدھر ہاتھ مارتے اس نے قدرے ایک معقول لباس نکال ہی لیا کہ جسے پہن کر وہ باجی ماریہ کے
مقابل کم مائیگی کے احساس کا شکار نہ ہو پاتی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: