Dhal Gai Phir Hijar Ki Raat by Sumaira Sharif – Last Episode 10

0

’’اُف…‘‘ حمدہ کو لگا عمر ہاشم کے اس طعنے پر اس کا سارا وجود زخمی ہو گیا ہے۔ اس نے لب دانتوں تلے
دبا کر بہت شکایتی نظروں سے عمر کو دیکھا۔’’میرا خیال ہے کہ آپ کے پاس میرے کسی بھی سوال کا جواب نہیں۔ جب میرے کسی سوال کا جواب
دیں گی تو میں آپ کو آپ کے تمام سوالوں کا جواب دوں گا۔ آپ نے میرے کمرے میں آنے کی زحمت کی،
ذرہ نوازی ہے آپ کی کہ آپ نے مجھ جیسے حقیر کو یہ عزت افزائی بخشی۔ میرے پاس وقت نہیں ہے،
چلتا ہوں۔‘‘ چند پل کھڑے ہو کر حمدہ کے جواب کا انتظار کیا اور اس کی شکایتی نظروں کو بالکل نظر انداز
کیے وہ پلٹا۔ ایک تو اس کا مسلسل طنزیہ انداز اوپر سے اس کے تیور حمدہ کی جان پر بن آئی۔ بی بی کی
کہی گئی تمام باتیں یاد آئیں تو گھبرا کر اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
’’آپ ایسے نہیں جا سکتے۔ میں آپ کو ایسے نہیں جانے دوں گی۔‘‘ بہت گھبرا کر ایک دم نہایت قریب آ کر
اس نے دونوں ہاتھوں سے عمر کا بایاں بازو تھام لیا۔
’’آپ کو میری بات سننا ہو گی۔‘‘ عمر نے بہت چونک کر نہایت استعجاب سے اس کی اس حرکت کو دیکھا۔
وہ اب خود کو مزید پتھر نہیں بنا سکتا تھا، حمدہ کے مومی ہاتھوں کا نرم لمس اس کے وجود میں سرائیت
کرتا اس کے دل کے تاروں کو چھیڑ رہا تھا۔
’’کیا بات ہے کیوں پریشان ہو رہی ہیں؟‘‘ کچھ تلخی اور برہمی سے کہنا چاہا مگر حمدہ کی آنکھوں میں ایک
دم آنسو سمٹ آئے۔
’’آپ مجھ سے خفا ہیں، آپ مجھے ڈانٹ لیں، ناراض ہو لیں۔ پرسوں رات والی تمام باتوں پر بُرا بھلا کہہ لیں
مگر اس وقت ایسے مت جائیں، میری بات سن کر جائیں۔‘‘ عمر خود کو جتنا بھی پتھر بنا لیتا مگر اس پل
حمدہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ فوراً موم کا پتلا بن گیا تھا۔
’’حمدہ… پلیز روئیں مت… میں خفا نہیں ہوں، بس آپ کی باتوں نے تکلیف دی تھی۔ اب اگر آپ روئیں گی
تو مجھے مزید تکلیف ہو گی۔‘‘ فوراً گھبرا کر بازو سے پکڑ کر اسے چپ کروانا چاہا تو حمدہ تو مزید سسکی
تھی۔
’’حمدہ پلیز…‘‘ عمر کی جان پہ بن آئی تھی۔ اسے دونوں کندھوں سے تھاما تو وہ سسک کر اس کے ساتھ آ
لگی، عمر حمدہ کی اس حرکت پر ساکت رہ گیا۔
’’مجھے معاف کر دیں، میں نے جان بوجھ کر آپ کی کالز کو اگنور نہیں کیا، بس خودبخود ہو گیا سب، میں
نے وہ سب بکواس کی مجھے معاف کر دیں۔ ماریہ باجی اور بی بی سب بہت پریشان ہیں۔ میں آئندہ
ایسی بات نہیں کروں گی آپ جب بھی بلائیں گے میں آپ کے پاس آ جائوں گی بس آپ وعدہ کریں آپ باقر
علی سے نہیں اُلجھیں گے۔‘‘ عمر کو لگا وہ روح تک سیراب ہو گیا ہے۔
’’میں کب اُلجھتا ہوں وہ خود میرے راستے میں آتا ہے، حمدہ! وہ آپ کے متعلق گھٹیا باتیں کرتا ہے، ایسی
باتیں جو کوئی بھی غیرت مند مرد برداشت نہ کر سکے۔ بی بی کی وجہ سے میں نے بہت برداشت کیا ہے
مگر آج صبح جب اس نے اس قدر گھٹیا انداز میں مجھے گالی دی آپ کے حوالے سے طعنے بازی کی تو
مجھ سے برداشت نہیں ہوا تھا، جواباً میرا ہاتھ اُٹھ گیا تھا۔ ورنہ میں نے آخری لمحے تک کوشش کی تھی
کہ اس سے نہ اُلجھوں۔‘‘ حمدہ کے آنسو اپنے ہونٹوں سے چنتے عمر نے اپنی والہانہ مبحت کا احساس
بخشا تو حمدہ سٹپٹا کر خود سے ہی نظریں چرا گئی۔ عمر کی گرفت سے نکلنے کی اس نے کوشش نہ کیتھی اور نہ ہی کرنا چاہتی تھی۔
’’بی بی بہت پریشان ہیں۔‘‘ عمر نے حمدہ کو دیکھا اور مزید گرفت سخت کر کے اسے قریب کر لیا۔
’’بی بی نے بھیجا ہے آپ کو؟‘‘ برا ِہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکتے پوچھا۔
’’مگر میں آئی تو خود ہوں نا؟‘‘ اس نے جھوٹ نہیں بولا تھا عمر مسکرا دیا۔
’’آپ وعدہ کریں آپ باقر علی سے اب نہیں اُلجھیں گے؟‘‘ لمحے تھوڑے تھے کسی بھی لمحے نیچے سے
پنچایت کی طرف جانے کے لیے عمر کو آواز دی جا سکتی تھی اور جانے سے پہلے حمدہ، بی بی کی خواہش
کے مطابق اس سے وعدہ لے لینا چاہتی تھی اس نے اپنے تمام اصول توڑ کر تمام قاعدے فراموش کرتے اس
کی نہ صرف دہلیز پر قدم رکھا تھا بلکہ اس کی پناہ میں اپنے وجود کی خود سپردگی فراہم کرتے ہوئے وہ
صرف ایک بات سوچ رہی تھی کہ ایسا کرنے کا حکم بی بی نے دیا ہے وہ بیوی ہے اور ایک بیوی شوہر کو
نرم کر سکتی ہے یہ بی بی نے کہا تھا اور بی بی نے اسے بھیجا ہی اس لیے تھا کہ وہ اس کے وجود کو چھو
کر ایسا نرم ہو کہ اس کے ساتھ وعدوں کی زنجیر میں جکڑ کر تمام جذباتی پن بھول جائے۔
’’آپ اس وقت جان بھی مانگیں تو حاضر کر دوں۔ باقر علی کیا چیز ہے۔‘‘ عمر مکمل طور پر ان لمحوں کی
گرفت میں تھا حمدہ نے ایک دم عمر کی بات پر اس کے ہونٹوں پر اپنا مخملی نرم ہاتھ رکھ دیا۔ عمر کے لیے
حمدہ کی خود سپردگی ہی قیامت تھی اس ادا نے بالکل ہی گھائل کر دیا تھا۔ ایک دم اس کا چہرہ دونوں
ہاتھوں میں تھام کر محبت و وارفتگی سے جھکا تبھی دروازے پر دستک ہوئی تھی۔
’’اُف…‘‘ عمر ایک دم ہوش میں آیا تھا اور حمدہ ایک دم اس کی گرفت سے نکلتے پیچھے ہٹی تھی۔
’’یہ کون آ گیا اس وقت؟‘‘ وہ سخت جھنجھلا گیا تھا۔ حمدہ کا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔ دل کی دھڑکن حد
سے سوال تھی۔
’’کون؟‘‘ عمر نے دروازہ کھولنے کے بجائے پوچھا۔
’’میں ذوالفقار! پنچایت سے پیغام آیا ہے ہم کب سے نیچے تمہارا ویٹ کر رہے ہیں جلدی کرو۔ دیر ہو رہی ہے،
وہاں سب انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ عمر نے حمدہ کی طرف دیکھا وہ ُرخ بدلتے بستر کے کنارے پر جا بیٹھی تھی۔
’’آپ چلیں میں بس ابھی آیا۔‘‘ عمر نے جواب دیا۔
’’جلدی آئو۔‘‘ ذوالفقار بھائی کہہ کر چلے گئے تھے۔
’’میں چلتا ہوں۔ نیچے سب ویٹ کر رہے ہیں۔‘‘ وہ حمدہ کے سامنے کھڑا ہوا تو وہ اس کے سامنے آ کھڑی
ہوئی۔
’’آپ نے وعدہ کیا ہے نا کہ آپ باقر علی سے نہیں اُلجھیں گے۔‘‘ وہ پوچھ رہی تھی وہ ہنس دیا۔
’’نہیں اُلجھتا… ہاں اگر وہ کچھ کہے گا تو میں چپ نہیں رہوں گا۔‘‘ حمدہ نے لب بھینچ لیے تو عمر نے اس
کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
’’چلیں آپ کہتی ہیں تو تب بھی خاموش رہوں گا۔ اب خوش۔‘‘ حمدہ دھیرے سے مسکرا دی تو عمر نے
گرمجوشی سے اس کے دونوں ہاتھ دبا کر ہونٹوں سے چھو لیے۔
’’مجھے یقین ہے کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہی ہو گا۔ آپ کا ساتھ ہو گا تو میں سب کچھ برداشت کر لوں گا،ہاں اگر آپ نے ذرا سی بھی پہلو تہی کی تو میں اپنے وعدے پر قائم رہنے کی گارنٹی نہیں دوں گا۔‘‘ عمر
کہہ کر پلٹ گیا تھا۔
’’میں اُمید رکھوں نا کہ واپسی پر آپ مجھے اسی کمرے میں منتظر ملیں گی؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا اور حمدہ
گم صم سی ہو گئی تھی وہ تو یہاں صرف بی بی کے کہنے پر آئی تھی۔ مزید کیا کرنا تھا وہ بے خبر تھی۔
’’ہاں… آپ جب بھی بلائیں گے میں آپ کے پاس ہوں گی۔‘‘ ایک پل لگا تھا اسے فیصلہ کرنے میں عمر ہنس
دیا۔
’’آپ بی بی کو جا کر کہہ دیں آپ امتحان جیت گئی ہیں۔ واپسی پر میں آپ کو آزمائش میں نہیں ڈالوں
گا۔ اپنا خیال رکھیے گا اللہ حافظ۔‘‘ مسکرا کر ہاتھ ہلا کر کہتے وہ کمرے سے نکل گیا تھا اور حمدہ حیرت
سے کھڑی عمر کے الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
ماریہ باجی موبائل کے ذریعے مسلسل ذوالفقار بھائی سے رابطہ رکھے ہوئے تھیں۔ پنچایت میں ہونے والی
تمام کارروائی کی خبر انہیں مل رہی تھی، بی بی سارا وقت جائے نماز بچھائے ُدعا مانگنے میں مصروف
تھیں جبکہ اماں عمر لوگوں کے ساتھ ہی گئی ہوئی تھیں جوں جوں وقت گزر رہا تھا حمدہ کے دل کی
دھڑکن تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی اور پھر دس بجے کے قریب ماریہ باجی کا موبائل بجا اور ذوالفقار
بھائی نے انہیں خوشخبری سنائی۔
’’مبارک ہو۔ فیصلہ ہمارے حق میں ہو گیا ہے۔‘‘ کال سننے کے بعد ماریہ باجی کا خوشی سے بُرا حال تھا
انہوں نے حمدہ کو گلے لگایا تھا اور پھر بی بی کو خوشخبری سنانے کمرے میں گھس گئی تھی۔
باقر علی کی وجہ سے حمدہ نے ایک طویل عرصہ سخت اذیت میں گزارا تھا۔ یہ خوشخبری ایسی تھی کہ
اس کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو بہہ نکلے۔ وہ کچھ سوچتے موبائل لیے باہر لان میں چلی آئی، عمر کا
نمبر ملا کر کان سے لگا لیا۔
’’السلام علیکم۔‘‘ دوسری طرف عمر نے فوراً کال پک کر لی تھی۔
’’و علیکم السلام! کیسے ہیں آپ؟‘‘
’’حمدہ فیصلہ ہمارے حق میں ہو گیا ہے۔‘‘ عمر نے بڑے جوش سے بتایا۔
’’کوئی جھگڑا تو نہیں ہوا۔ خیریت رہی نا؟‘‘ اسے جس چیز کا خوف تھا وہی پوچھا عمر ہنس دیا۔
’’آپ سے وعدہ کر کے آیا تھا پھر جھگڑا کیسے ہوتا؟ حمدہ باقر علی نے بہت بکواس کی۔ دھمکیاں دی ہیں۔
گالیاں بکتا رہا، مگر اتنے لوگ تھے جو سب ہمارے حامی تھے۔ پھر چاچی کی گواہی اور افتخار صاحب کی
موجودگی کی وجہ سے معاملہ منٹوں میں حل ہوا ہے۔‘‘
’’اماں کیسی ہیں؟‘‘ حمدہ کو فوراً اماں کا خیال آیا۔
’’ہم لوگ واپسی کے لیے نکل رہے ہیں۔ گھر آ کر بات کرتے ہیں۔‘‘ عمر کے دوسری طرف بہت شور تھا حمدہ
کی بات پر اس نے کہا۔
’’میں انتظار کروں گی۔‘‘ حمدہ نے کہہ کر کال بند کر دی تو فوراً عمر کا میسج آ گیا۔’’انتظار کرنے کی یقین دہانی کا شکریہ، مگر میں اب اتنا بے حس بھی نہیں ہوں آپ میرے سامنے ہیں
میرے پاس، آپ کو میں سن سکتا ہوں، دیکھ سکتا ہوں میرے دل کی تسلی کو یہ بھی بہت ہے۔ حویلی
آتے ہی میں ماں جی سے بس فوراً ُرخصتی کی بات کروں گا کہ اب فیصلہ ہمارے حق میں ہو جانے کے بعد
اس معاملے کو زیادہ لٹکانا نہیں چاہتا۔‘‘ حمدہ نے میسج پڑھا اور پھر مسکرا دی۔ اسے اب اور شدت سے
ان سب لوگوں کی واپسی کا انتظار تھا۔
فیصلہ ہوتے ہی باقر علی اپنے اسلحہ بردار محافظوں کو ہمراہ لیے پنچایت سے چلا گیا تھا۔ عمر سب سے
ہاتھ ملاتا مبارکبادیں وصول کرتا افتخار صاحب کے پاس چلا آیا تھا۔ واپسی کی بات ہو رہی تھی، عمر کی
جیپ بشیر ڈرائیو کر رہا تھا، عمر نے اپنی گاڑی میں چاچی مختار اور ان کے دونوں دامادوں کو سوار کر کے
روانہ کیا اور خود ذوالفقار کے ہمراہ افتخار صاحب کی لینڈ کروزر میں آ بیٹھا تھا۔ ان کے پیچھے ان کے
محافظ تھے۔ یہ سب گاڑیاں آگے پیچھے روانہ ہوئی تھیں۔ یہ لوگ ابھی کچھ دور ہی آئے تھے جب ایک دم
کھیتوں سے نکل کر دو آدمیوں نے عمر والی گاڑی پر فائرنگ کر دی تھی۔ افتخار صاحب کی لینڈ کروزر ایک
دم ُرکی تھی ان کے عقب میں ان کے محافظوں کی بھی۔
افتخار صاحب کے محافظوں نے بھی جوابی کارروائی کی تھی تو ان دونوں آدمیوں نے اندھا دھند افتخار
صاحب کی گاڑی پر بھی گولیاں برسا دی تھیں۔ گاڑی بلٹ پروف تھی مگر شیشے ٹوٹ کر لگنے والی گولیاں
ان آدمیوں کے ماہر نشانہ باز ہونے کا ثبوت تھیں۔ دونوں آدمیوں میں سے ایک آدمی زخمی ہو کر گرا تو
دوسرا بھاگ نکلا تھا، مگر ان دونوں آدمیوں کا ہدف پورا ہو گیا تھا، ایک طرف عمر کے بازو پر گولی لگی تھی
جبکہ افتخار صاحب اور ذوالفقار نے جھک کر خود کو گرنے سے بچایا تھا۔ اگلی عمر والی جیپ سے چیخوں
اور کراہوں کی آوازیں شدید تھیں۔ عمر اپنے زخمی بازو کی پروا کیے بغیر دروازہ کھول کر اگلی گاڑی کی
طرف دوڑا تھا۔
’’عمر ٹھہرو… ُرکو…‘‘ ذوالفقار بھائی پکارتے رہ گئے تھے۔
اگلی گاڑی میں بشیر اسٹیئرنگ پر اوندھا گرا ہوا تھا، پچھلی نشست پر براجمان چاچی مختار کو کئی
گولیاں لگی تھیں، حملہ آوروں کا ہدف ہی عمر کی گاڑی تھی انہوں نے پچھلی سیٹ پر گولیاں برسائی
تھیں مگر افسوس وہاں عمر کے بجائے چاچی مختار براجمان تھیں اس وقت ان کا وجود اپنے ہی خون میں
نہایا ساکت تھا۔ عمر نے فوراً چاچی کو تھاما۔ ان کی نبض پر ہاتھ رکھا۔
’’ذوالفقار بھائی ان کی نبض چل رہی ہے۔ جلدی کریں ہاسپٹل لے کر چلیں۔‘‘ نبض دیکھنے کے بعد عمر
چیخا۔ جبکہ چاچی کے دونوں داماد بالکل ٹھیک تھے وہ درمیانی نشست پر تھے اور نیچے لیٹ جانے پر بچ
گئے تھے۔ بشیر بھی زخمی تھا اس کے کندھے پر بھی گولی لگی تھی۔ عمر کے اپنے بازو سے شدید خون
بہہ رہا تھا اس کی پکار پر افتخار صاحب اور ان کے محافظ فوراً حرکت میں آئے تھے۔
چاچی مختار جانبر نہ ہو سکی تھیں۔ ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے ہی میں دم توڑ گئی تھیں۔ حمدہ کے لیےیہ حادثہ بہت تکلیف دہ تھا وہ جو بہت خوش کن جذبات لیے ان لوگوں کی واپسی کی منتظر تھی مگر
اماں کا بے جان وجود دیکھ کر ساکت رہ گئی تھی۔ عمر کو گولی لگی تھی۔ بشیر بھی زخمی تھا وہ لوگ
گیا
ہسپتال ایڈمٹ تھے۔ افتخار صاحب کا غم و غصے سے بُرا حال تھا۔ حملہ آوروں کا ایک ساتھی زخمی ہو
تھا جسے افتخار صاحب کے محافظوں نے فوراً پکڑ لیا تھا۔ عمر لوگوں کے ساتھ وہ بھی ہسپتال میں داخل
تھا تاہم پولیس کی تحویل میں تھا۔ وہ شخص اپنے بیان میں بتا چکا تھا کہ ان لوگوں نے باقر علی کی ایماء
پر گولیاں چلائی تھیں۔ وہ باقر علی کے ساتھی تھے۔ پولیس فوراً متحرک ہو گئی تھی۔ باقر علی کو گائوں
سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ حمدہ کا صدمے سے بُرا حال تھا، اس کی دونوں بہنیں نگہت اور ساجدہ فوراً آ
گئی تھیں۔ اماں کے تمام رشتے داروں کو اطلاع مل گئی تھی، لندن قمر بھائی کو بھی ان لوگوں نے اطلاع کر
دی تھی اس نے فوراً پاکستان پہنچنے کا کہا تھا، زندگی میں تو وہ ماں کے کسی کام نہ آ سکا تھا مگر
موت کے بعد بیوی بچوں کو لے کر آنے کا کہا تھا۔ قمر نے ایک ڈیڑھ دن میں پاکستان پہنچنا تھا اس دوران
اماں کی ڈیڈ باڈی برف خانے میں رکھوا دی گئی تھی۔ حمدہ بالکل گم صم ہو گئی تھی۔ عمر ایک دن
ہسپتال میں گزار کر اگلے دن ڈاکٹرز کی ہدایات کے باوجود حویلی آ گیا تھا۔ افتخار صاحب ابھی تک گائوں
میں ہی تھے۔ وہ اپنا تمام اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے باقر علی کی واپسی کی تمام راہیں بند کروا رہے
تھے اماں ان کی خالہ زاد تھیں ان کی نگاہوں کے سامنے حادثہ ہوا تھا۔ عمر اور بشیر زخمی تھے۔ کیس عام
لیول کا نہ تھا باقر علی کی گرفتاری پر اس کی دونوں بہنیں خوب رو دھو رہی تھیں۔ اگلے دن قمر پاکستان
پہنچ گیا تو شام کے وقت اماں کی تدفین ہو گئی۔ حمدہ اس سارے عرصے میں بالکل گم صم صدمے سے
نڈھال نہ کچھ کھا رہی تھی نہ پی رہی تھی۔ اماں کی میت حویلی سے ہی اُٹھی تھی۔ تمام رشتہ دار اور
جاننے والے حویلی میں ہی آ رہے تھے۔ نگہت اور سارہ باجی بھی حویلی ہی میں تھیں۔ اس کے علاوہ قمر
اور اس کی بیوی بچے بھی حویلی ہی آئے تھے۔
عمر کئی بار مردانے سے اندر کی طرف آیا تھا حمدہ کے متعلق اطلاع تو مل رہی تھی مگر ہر بار حمدہ کے
پاس کسی نہ کسی کو موجود پا کر وہ بس ایک نگاہ ڈال کر پلٹ جاتا تھا۔ چاچی مختار کے ساتھ ہونے والے
حادثے پر وہ خود بھی سخت تکلیف میں تھا۔ چند دن گزرے تو آنے والے مہمان ُرخصت ہونے لگے جبکہ اب
حویلی میں حمدہ لوگوں کے قریبی رشتہ دار ہی رہ گئے تھے، قمر ادھر حویلی میں ہی تھا جبکہ اس کی
بیوی چند دن رہنے کے بعد اپنے میکے اپنے بچوں کے ہمراہ روانہ ہو گئی تھی۔ حمدہ اس وقت بی بی کے
کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی اس کے پاس نگہت باجی، ساجدہ کے علاوہ قمر، بی بی اور ماریہ باجی تھے۔
موضوع بحث موجودہ حالات تھے۔
’’جب تک ُرخصتی نہیں ہو جاتی میں حمدہ کو اپنے ساتھ لے جاتی ہوں۔ اماں کو گزرے آٹھ دن ہو گئے ہیں۔
صدمے سے اس کا بُرا حال ہے میرے پاس جا کر شاید کچھ سنبھل جائے۔‘‘ نگہت باجی کو حمدہ کی حالت
بہت ُرلا رہی تھی۔ انہوں نے بی بی کو کہا حمدہ اسی طرح گھٹنوں پر سر ٹکائے بیٹھی رہی۔
’’حمدہ کو اگر میں اپنے ساتھ لے جائوں تو؟‘‘ یہ قمر تھا ساجدہ نے خاصی ناراضی سے اسے دیکھا۔
’’اماں کی زندگی میں تو یہ خیال نہ آیا۔ جب سب سے زیادہ حمدہ اور اماں کو تمہاری ضرورت تھی تمشادی رچا کر پردیس جا بیٹھے۔ اب حمدہ کوئی لاوارث لڑکی نہیں رہی نکاح ہو چکا ہے۔ کہیں نہ بھی جگہ
بنے مگر یہ حویلی تو اس کا گھر ہے نا۔‘‘ قمر نے ساجدہ کی تلخ بات پر سر جھکا لیا۔
’’میں نے بہت کوشش کی کہ میں اماں اور حمدہ کو اپنے پاس بلوا لوں مگر اماں ہی اول تو راضی نہ تھیں
اپنا گائوں چھوڑنے پر پھر میں زبردستی تو نہیں لے جا سکتا تھا نا؟ آپ بے شک حمدہ سے پوچھ لیں اس
سلسلے میں حمدہ سے بھی کئی بار بات ہوئی تھی، مگر اماں اور حمدہ میرے شادی کر لینے کے بعد اس
قدر بدظن تھیں کہ میرے پاس جانا تو دور کی بات تھی میں نے آج تک اماں کو جو بھی پیسہ بھجوایا وہ
سارا کا سارا جوں کا توں اکائونٹ میں پڑا ہوا ہے۔ اماں نے کبھی نکلوایا ہی نہیں۔ کئی بار میں نے خود آ کر
اماں سے کہا کہ میرے ساتھ چلیں مگر وہ راضی ہی نہیں ہوئیں۔‘‘ قمر کہہ رہا تھا حمدہ تب بھی اپنی
مخصوص حالت میں بیٹھی رہی یوں جیسے اسے کسی کی بات سے کوئی غرض نہیں رہی تھی اب۔
’’جو بھی ہو چکا وہ ایک طرف، مگر حمدہ کے سلسلے میں کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ حمدہ
ہماری بہو ہے اور یہ اب ادھر ہی رہے گی۔ اور رہ گئی بات ُرخصتی کی تو ایسے حالات میں جو تم لوگ مل
کر فیصلہ کرو۔‘‘ بی بی نے گم صم بیٹھی حمدہ کو ساتھ لگا کر اپنا فیصلہ سنایا تو وہ تینوں بہن بھائی
خاموش ہو گئے تھے۔
وقت سب سے بڑا مرہم ہے، باقر علی گرفتار ہو چکا تھا۔ اس پر قتل عمد کا کیس تھا، اس کے ایماء پر حملہ
کرنے والے دونوں آدمی بھی پولیس کی تحویل میں تھے۔ اس پر کیس چل رہا تھا۔ افتخار صاحب خود اس
کیس کی پیروی کر رہے تھے۔ ایک ماہ کے اندر اندر کیس نے خاصی پیش رفت کی تھی۔ قوی اُمید تھی کہ
باقر اور اس کے دونوں ساتھیوں کو سزائے موت تو ضرور ہو جائے گی۔
کیس کی سماعت کے دوران حمدہ کو بھی ایک دو بار عدالت جانا پڑا تھا۔ وہ حویلی میں ہی ہوتی تھی۔
نگہت اور ساجدہ چند دن رہنے کے بعد اپنے گھروں کو سدھاریں تھیں کہ وہ گھر بار اور بچوں والی تھیں۔
یوں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کب تک یہاں گائوں میں رہ سکتی تھیں۔ قمر بھی کچھ دن گائوں رہا پھر وہ
شہر اپنے سسرال روانہ ہو گیا۔ ماریہ باجی بھی چند دن بعد چلی گئیں تو پیچھے حویلی میں بی بی اور
عمر کے ساتھ حمدہ رہ گئی۔ حمدہ نے اماں کی موت کا اچھا خاصا اثر لیا تھا وہ سارا دن قرآن پاک لیے
بیٹھی رہتی یا پھر جائے نماز پر بی بی کے کمرے میں وقت گزار دیتی۔ عمر نے چند ایک بار اس سے بات
کرنے کی کوشش کی مگر پھر اس کی طرف سے خاموشی پا کر چپ ہو جاتا تھا۔ عدالت میں بھی وہ عمر
کے ساتھ ہی ایک دو بار گئی تھی۔
عمر حویلی آیا تو نسرین سے پتا چلا کہ ماں جی گائوں میں کسی کے ہاں گئی ہوئی ہیں، جبکہ حمدہ بی
بی کے کمرے میں ہی تھی کچھ سوچتے وہ بی بی کے کمرے میں چلا آیا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا، حمدہ آج
خلا ِف معمول نماز یا قرآن پاک پڑھنے کے بجائے کھڑکی میں کھڑی باہر لان میں دیکھ رہی تھی۔ عمر چند پل
کھڑا اسے دیکھتا رہا، حمدہ اس کی موجودگی سے بے خبر رہی تو اس نے آہستگی سے دروازے کو ناک کیا۔
حمدہ نے پلٹ کر اسے دیکھا عمر قدم بڑھاتا اس کی طرف چلا آیا۔’’کیا ہو رہا ہے؟‘‘ عمر نے مسکرا کر پوچھا تو وہ سر جھکا کر کھڑکی سے ہٹ کر بستر کے کنارے آ بیٹھی۔
’’حمدہ آپ ہر وقت کمرے میں مت بند رہا کریں باہر نکلا کریں۔ جانے والے چلے جاتے ہیں مگر پیچھے رہ جانے
والوں کے لیے زندگی ختم نہیں ہو جاتی۔ آپ کو دیکھتا ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ وقت سب سے
بڑا مرہم ہے میں آپ کے ُدکھ کا اندازہ تو نہیں کر سکتا مگر تسلی و دلاسہ تو دے سکتا ہوں۔ یوں ہر وقت
گم صم رہ کر آپ خود کو تنہا کر رہی ہیں۔ بی بی بھی آپ کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔‘‘ اس کے اس
طرح خاموش انداز پر عمر کو خاصی تکلیف ہوئی تو اس کے پاس ہی بستر کے کنارے آ بیٹھا۔
’’کچھ تو کہیں… رونے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ ہمارا تعلق ایسا ہے کہ آپ اپنے دل کی ہر بات بلا
خوف و خطر مجھ سے کہہ سکتی ہیں۔‘‘ حمدہ کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں تھام کر عمر نے مزید کہا تو حمدہ
کی آنکھوں میں ایک دم آنسو سمٹ آئے۔ عمر نے پہلے بھی کئی باقر اس سلسلے میں بات کی تھی مگر
تب وہ صدمے کی شدت سے عمر کی کسی بات پر کچھ نہ کہہ سکی تھی۔
’’میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اماں مجھے یوں اچانک چھوڑ کر چلی جائیں گی۔‘‘ عمر کے جواب میں
ایک دم وہ سسک اُٹھی۔
’’جانا تو سبھی نے ہے ہمیں بھی آپ کو بھی؟ بس ان کا اتنا ہی ساتھ تھا۔‘‘ عمر نے دلاسہ دیا تو وہ روتی
رہی۔ اماں کو یاد کر کے رونے کا تو حمدہ کو بس بہانہ چاہیے تھا۔
’’قمر کا فون آیا تھا آج…‘‘ عمر نے اسے رونے دیا اور پھر کچھ توقف کے بعد بتایا۔ اپنے آنسو چادر کے پلو سے
صاف کرتے اس نے عمر کو دیکھا۔
’’وہ لوگ واپس جا رہے ہیں۔ اسی ہفتے میں کسی دن کی ٹکٹ ہے۔‘‘ عمر نے مزید بتایا۔
’’قمر چاہتا ہے کہ آپ ان کے ساتھ چلیں۔‘‘ عمر کی بات پر اس نے چونک کر عمر کو دیکھا۔ وہ سنجیدہ تھا۔
’’وہ اپنے تمام رویوں کا ازالہ کرنا چاہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اپنی بیوی اور سسرال والوں کی وجہ سے اس
کی طرف سے آپ اور چاچی کو نظر انداز کیا گیا ہے مگر اب چاچی نہیں رہیں تو وہ آپ کو اپنے ساتھ لے جانا
چاہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ آپ گائوں کے ماحول سے نکلیں گی تو آپ پر اچھا اثر پڑے گا، آپ چاچی کی
وفات کے صدمے سے کچھ حد تک نکلنے کی کوشش کریں گی۔‘‘ حمدہ کا چہرہ ایک دم سنجیدہ ہوا تھا۔
’’تو پھر…؟‘‘
’’قمر کی بات کے جواب میں میرے پاس بھی ایک آپشن تھا مگر پھر میں نے سوچا کہ آپ کو واقعی اس
صدمے سے نکلنے کے لیے کچھ عرصہ قمر کی آفر پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘
’’آپ چاہتے ہیں کہ میں یہاں سے چلی جائوں؟‘‘ بجائے اس کے کہ وہ آپشن کے متعلق پوچھتی ایک دم
خاصی تلخی سے عمر ہاشم کو دیکھا عمر ذرا سا مسکرا دیا۔
’’نہیں میں نے تو قمر کی بات کہی ہے آپ سے۔‘‘
’’مجھے کہیں نہیں جانا۔ ٹھیک ہے قمر بھائی نے اماں کی زندگی میں بھی چند ایک بار بات کی تھی، مگر
ان کی بیگم نے ہر بار فون کر کے مجھے اور اماں کو جو جو باتیں سنائی تھیں ایسے میں ہم ان کے پاس
کیسے چلی جاتیں؟ اب اماں نہیں رہیں اور قمر بھائی چاہتے ہیں کہ میں ان کے پاس چلی جائوں جبکہ انکی بیگم نے چند دن یہاں گزار کر دوبارہ آنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ مجھے قمر بھائی سے کوئی شکوہ
نہیں، وہ بھی اپنی جگہ مجبور ہیں، مگر میں ان کے پاس نہیں جائوں گی۔‘‘ عمر کے جواب میں اس نے یہ
سب کہا۔
’’مگر اس طرح ہر وقت کمرے میں بند رہ کر بھی زندگی نہیں گزرنے والی۔ ٹھیک ہے کچھ وقت لگے گا
سنبھلنے میں واپس زندگی کی طرف آنے میں۔ آپ کے لیے بہت سے لوگ پریشان ہیں۔ نگہت باجی اور
ساجدہ دونوں کے دن میں کئی کئی فون آتے ہیں۔ آپ کو اندازہ نہیں وہ آپ کے متعلق کتنی فکرمند رہتی
ہیں۔‘‘ حمدہ خاموشی سے سر جھکا گئی۔
’’باقر علی گرفتار ہے عدالت جلد ہی فیصلہ سنا دے گی۔ ہمارا کیس بہت مضبوط ہے۔ وہ بچ نہیں سکے
گا۔‘‘ عمر نے اسے مزید بتایا۔
’’قمر کی آفر ایک طرف آپ کے لیے میرے پاس بھی ایک آپشن ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اس پر بھی غور کر
لیں۔‘‘ حمدہ نے سوالیہ نظروں سے عمر ہاشم کو دیکھا۔
’’یہ میری ہی نہیں بی بی، ماریہ باجی، نگہت اور ساجدہ کے علاوہ باقی لوگوں کی بھی رائے ہے کہ سادگی
کے ساتھ آپ کی ُرخصتی کا عمل انجام بخیر ہو جائے۔‘‘ بات ایسی تھی کہ حمدہ کا چہرہ عرصے بعد پہلی
بار کچھ گل رنگ ہوا تھا۔ اماں کے بعد تو یوں لگتا تھا کہ جیسے زندگی ختم ہو چکی ہے بس، مگر اب عمر
کی بات نے اس کے دل کو عجیب انداز میں دوبارہ سے چھوا تو اسے گزرے دنوں میں بہت سے انمٹ لمحے
یاد آنے لگے۔ حمدہ کی پلکوں پر بوجھ بڑھ گیا۔
’’ابھی اماں کا صدمہ جھیلے مہینے ہی گزرا ہے۔ اتنی جلدی کیسے… اماں کے بغیر یہ سب مشکل ہے؟‘‘
اماں کی یاد آتے ہی آنسو پھر بہہ نکلے۔ عمر نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں جکڑ
لیے۔
’’آپ جس طرح اس صدمے کو جان سے لگا کر سب فراموش کیے کمرے میں بند ہو کر رہ گئی ہیں ایسے
عالم میں مجھے یہی فیصلہ مناسب لگ رہا ہے۔ چاچی کے حوالے سے مجھے آپ کے جذبات اور احساسات
کا ادراک ہے اسی لیے تو کہہ رہا ہوں کہ یہ سب کچھ سادگی سے انجام بخیر ہو جائے تو بہتر ہے۔‘‘
’’یہ بہت مشکل ہے ابھی۔‘‘
’’نا ممکن تو نہیں؟‘‘ عمر آج اس موضوع پر تفصیلی بات کرنے کے ارادے سے آیا تھا۔ وہ مکمل طور پر ہر
یکھا
پہلو کو سوچ کر آیا تھا حمدہ نے سر اُٹھا کر عمر کو د ۔ وہ ہمیشہ کی طرح اس کے حق میں مہربان اور
محبت بھری نگاہ لیے منتظر تھا۔ حمدہ کی نگاہ سے وہ نجانے کیا سمجھا تھا کہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ
سے حمدہ کو بازو سے تھام کر مضبوط حصار میں لے لیا تھا۔
’’آپ میرے لیے بہت اہم اور بہت خاص ہیں۔ کسی کے چلے جانے سے زندگی ُرک نہیں جاتی۔ آپ تو ماشاء
اللہ بہت سمجھدار ہیں۔ اتنی جلدی ہمت ہار دیں گی تو پھر باقی زندگی کیسے گزاریں گی۔ آپ میری اولین
خواہش ہیں آپ کو دیکھا اور دل نے آپ کو اپنا مان لیا۔ آپ سے شدت سے محبت کی ہے میں نے، آپ اگر
ہزاروں سال انتظار کرنے کو کہیں گی تو میں آپ کی بات کو اہمیت دوں گا، حمدہ اس لیے کہ میں صرفآپ سے محبت نہیں کرتا بلکہ آپ کی عزت بھی کرتا ہوں، آپ کی ذات آپ کی بات میرے لیے بہت اہمیت
رکھتی ہے۔ ایسے غم اور ُدکھ کے عالم میں میں بھلا آپ کو تنہا کیسے چھوڑ دوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ
چاچی کی وفات سے ملنے والے اس گھائو پر جو مرہم میری محبت اور دلجوئی رکھ سکتی ہے وہ شاید
وقت بھی نہ رکھ سکے۔‘‘ عمر دھیمے اور سلجھے لہجے میں کہہ رہا تھا، حمدہ عمر کے سینے پر چہرہ
ٹکائے شدت سے رو دی۔
ایسی محبت، ایسی توجہ کے وہ بھلا کہاں قابل تھی اور عمر نے اسے رونے دیا وہ خود چاہتا تھا کہ وہ جی
بھر کر اس کی پناہوں میں رو لے تاکہ بعد میں مطلع بالکل صاف ہو۔ روز روشن کی طرح صاف شفاف۔
کچھ توقف کے بعد خوب رو دھو کر جی ہلکا ہونے پر اس نے سر اُٹھا کر عمر ہاشم کو دیکھا۔
’’کیا خیال ہے پھر بی بی سے بات کروں؟‘‘ عمر کے سوال پر وہ روتے روتے مسکرا دی اور اپنی ہاں کے اظہار
کے لیے بس سر اثبات میں ہلا کر دوبارہ عمر ہاشم کے مضبوط سینے پر اپنا چہرہ ٹکا دیا تھا۔
’’تھینکس آلاٹ… حمدہ… تھینک یو سو مچ۔‘‘ حمدہ کی ہاں پر ایک دم ُپرجوش ہوتے عمر نے اس کی صبیح
پیشانی چوم لی تھی۔
حمدہ اس وارفتگی پر سٹپٹا گئی۔
’’میں آپ کے اس اعتماد کو کبھی نہیں توڑوں گا۔ اس ہاں کی ہمیشہ پاسداری کروں گا۔‘‘ نہایت والہانہ پن
میں کہتے بہت شدت سے حمدہ کو اپنی مضبوط پناہوں میں سمیٹ لیا تھا۔ حمدہ نے عمر کی شدت
پسندی پر مسکراتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔
زندگی نے اس سے بہت کچھ چھینا تھا مگر عمر ہاشم جیسا محبت کرنے والے جیون ساتھی سے بھی تو
نوازا تھا۔ اپنے فیصلے پر وہ خود ہی مطمئن تھی۔ عمر اس کے کان میں قدرے جھک کر آہستگی سے اور
بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا، حمدہ نے اپنی تمام سوچوں کو پس پشت ڈالتے آنکھیں وا کرتے عمر کی محبت
بھری سرگوشیوں کو سننے کے لیے اس کے چہرے پر اپنی نگاہیں ٹکا دی تھیں۔
وہ عرصے بعد ہر غم، ہر فکر سے آزاد ہو کر زندگی کی خوشیوں کو برتنے پر مطمئن و مسرور تھی۔ اسے
یقین تھا کہ عمر ہاشم اسے زندگی کے کسی بھی میدان میں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا اور یہی یقین دم
بدم حمدہ کے چہرے سے غموں کے تفکرات کے بادل مٹاتا محبت کے رنگ بکھیرتا جا رہا تھا۔

ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: