Dhal Gai Phir Hijar Ki Raat by Sumaira Sharif – Episode 2

0

’’پتر جلدی لے لو… جو بھی لینا اے، اللہ بیڑا غرق کرے… لے کے تساں دی زندگی اجیرن کر رکھی اے۔‘‘
اماں زلیخا کی بات پر بھی وہ خاموش رہی۔ کپڑے نکال کر وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ یہ درمیانے
سائز کے تین کمروں والا گھر تھا۔ جس کی دیواریں اور چھت پلستر تھیں۔ البتہ بیرونی دروازے سے آگے
کچھ حصہ کچی مٹی کا تھا۔ ایک درمیانے سائز کی چھوٹی سی میز تھی جس پر کپڑا ڈال کر استری رکھی
ہوئی تھی وہ کپڑے استری کرنے لگی تو اماں زلیخا بھی اسی کمرے میں آ گئیں۔ حمدہ نے جب تک کپڑے
استری کیے اماں زلیخا کا موضوع گفتگو باقر علی کی ہی ذات رہی اور حمدہ اس سارے ذکر کے دوران
بالکل خاموش رہی۔ جیسے اس نے اس معاملے میں کبھی نہ بولنے کی قسم کھا رکھی ہو؟
’’میں نہا لوں، بس تھوڑی دیر لگے گی۔‘‘ اپنے گھر میں آ کر وہ پہلی بار کچھ بولی تھی، اماں زلیخا گہری
سانس لے کر رہ گئیں۔نہانے کے بعد اس نے اپنے لمبے گھنے بالوں کو تولیے میں لپیٹا ہوا تھا، گیلے بدن کی وجہ سے لباس بھی
گیلا ہو گیا تھا۔ بالوں کو آگے کر کے اس نے تولیے کے ساتھ ایک دو جھٹکے دئیے پھر وہی گیلا تولیہ کمر کے
گرد لپیٹ کر بالوں کو پیچھے ڈال کر برش کرنے لگی تھی۔ سردیوں کی دھوپ جسم کو عجیب سکون دے
رہی تھی۔ بالوں میں برش کرتے یونہی وہ پلٹی تو دھک سے رہ گئی نگاہ سیدھی سامنے عمارت کی طرف
اُٹھی تھی۔
باقر علی حسب معمول اپنی چھت پر کھڑا اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ حمدہ کو لگا اس کے وجود کو انگاروں نے
چھو لیا ہو۔ عجیب وحشیانہ غلیظ نگاہیں تھیں، نجانے وہ کیسے چوک گئی تھی جو ارد گرد کا جائزہ نہ لے
سکی تھی۔ ان کے گھر کی دیوار سات آٹھ فٹ لمبی تھی مگر سامنے والی عمارت کی بلندی کے سامنے
اس دیوار کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ یہ شخص دن بدن اس کی زندگی کا ناسور بنتا جا رہا تھا اور اس
شخص کی بہنوں کا غرور کم نہیں ہوتا تھا۔ وہ ایک پل بھی ضائع کیے بغیر بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں
روپوش ہو گئی تھی۔ کمرے میں آ کر اپنی وہی برائون چادر لے کر چاروں طرف یوں پھیلا لی کہ جیسے وہ
ان غلیظ نگاہوں کی غلاظت سے بچنا چاہ رہی ہو۔
’’کیا ہوا پتر… خیر ہے نا؟‘‘ اماں زلیخا اسے یوں بھاگ کر کمرے میں گم ہوتے دیکھ کر پریشان ہو گئی تھیں۔
ان کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ حمدہ کا جی چاہا کہ خوب روئے اتنا کہ روتے روتے اس کی سانس ُرک
جائے اور وہ اس شخص کی پہنچ سے کوسوں دور چلی جائے وہ ساری دنیا کے لیے ایک تماشہ بن چکی
تھی۔ اس گائوں کا چھوٹا بڑا ہر کوئی اس کی ’’داستان‘‘ کو مزے لے لے کر سناتا تھا، ایسے میں اس کا جی
چاہتا تھا کہ کہیں بھاگ جائے، کسی ایسی جگہ جہاں اس شخص کی غلیظ نظریں نہ ہوں۔ لوگوں کی چٹ
پٹی باتیں نہ ہوں۔ طعنے اور طنز نہ ہو، مگر وہ مجبور تھی اس ُدنیا میں جینے پر مجبور تھی۔ اماں زلیخا کے
استفسار پر محض سر ہلا کر وہ خاموشی سے چند کتابیں لے کر باہر نکل آئی تھی۔
’’چلیں…‘‘ اس نے کہا تو اماں زلیخا نے سر ہلا دیا۔ کمروں میں تالے لگا کر باہر نکلی تو نظر غیر ارادی طور پر
سامنے عمارت کی طرف اُٹھ گئی اب وہ شخص وہاں نہیں تھا۔
حمدہ کو لگا وہ جیسے ایک دم جی اُٹھی ہے۔ اس نے ایک گہرا سانس خارج کیا۔
’’تساں نوں میں حویلی دے گیٹ کول چھڈ کے اپنے کار دا وی اک چکر لا لیواں گی۔‘‘ رستے میں اماں
زلیخاں نے کہا تو اس نے محض سر ہلا دیا۔
’’اماں آپ اپنے گھر ہو آئو۔ میں اب چلی جائوں گی۔‘‘ جونہی حویلی کا گیٹ دکھائی دیا اس نے کہا۔
’’چل پتر، دھیان نال چلی جا۔‘‘ اس کے اور حویلی کے گیٹ کے درمیان کوئی تیس چالیس قدموں کا فاصلہ
تھا۔ وہ سر جھکائے اپنی برائون چادر چاروں طرف پھیلائے تیزی سے قدم اُٹھاتے آگے بڑھی تھی۔ ابھی وہ
پانچ دس قدموں کے فاصلے پر تھی جب وہی منحوس شخص ایک پگڈنڈی سے بھاگتا ہوا ایک دم اس کے
سامنے آ گیا۔ حمدہ نے گھبرا کر اردگرد دیکھا مگر چاروں طرف کوئی نہیں تھا۔
’’رستہ چھوڑو۔‘‘ ایک دم غصے اور اذیت سے حمدہ کا بُرا حال تھا۔
’’اوئے ہوئے ہمیں تڑیاں…‘‘ وہ ہنسا مگر حمدہ خاموش رہی۔’’چھوٹی حویلی والے تم پر کچھ زیادہ ہی مہربان نہیں ہو رہے۔ آخر چکر کیا ہے؟‘‘ اپنی مونچھوں پر ہاتھ
پھیرتے ہوئے اس نے گلے میں پڑی ہوئی گرم چادر کے دونوں پلو تھام لیے تھے۔ حمدہ اس شخص سے ہم
کلام ہونا تو ایک طرف اس کی شکل تک دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے کترا کر سائیڈ سے نکلنا چاہا مگر
اس شخص نے اگلے ہی پل اس کا بازو اپنی آہنی گرفت میں جکڑ کر ایک دم جھٹکے سے اپنے سامنے کیا
تھا۔ حمدہ اس آہنی گرفت سے لرز کر رہ گئی تھی۔
’’چھوڑو میرا بازو…‘‘ وہ چیخی تھی مگر اس شخص پر مطلق اثر نہیں ہوا تھا۔
’’اکڑ نہیں گئی تمہاری… اور وہ بڑھیا ہے کس خوش فہمی میں؟ میرے سامنے زبان چلائی تو مٹی میں
رول دوں گا تمہیں… تم میری منگ ہو تو رعایت برت رہا ہوں جس دن میری برداشت ختم ہو گئی تم میرے
گھر، میرے کمرے میں پائی جائو گی۔‘‘ حمدہ کے آنسو ایک دم بہہ نکلے۔ ایک ہاتھ میں اس نے کتابیں تھام
رکھی تھیں، دوسرا بازو اس شخص کی وحشی گرفت میں تھا۔
’’میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا؟ کیوں نہیں میری جان چھوڑ دیتے۔‘‘ وہ سسک اُٹھی تھی مگر اس شخص کو
رحم نہیں آیا تھا۔
’’اگر جان ہی چھوڑنا ہوتی تو اتنے سالوں سے اس معاملے کو لٹکا کے نہ رکھتا۔‘‘ جھٹکے سے اس کا بازو
چھوڑتے اس نے خاصے غصے سے کہا۔
’’اگر تم اس بھول میں ہو کہ میرے ہوئے کوئی مائی کا لعل تمہیں بیاہ کر لے جائے گا تو میری جان اس
غلط فہمی سے نکل آئو۔ میں بندہ مارنا بھی جانتا ہوں اور مر جانا بھی۔ کاشف مراد والا قصہ بھولی تو
نہیں۔ وہ بڑھیا تیسرا دن ہے گائوں سے غائب ہے کہیں کوئی چال تو نہیں چل رہی۔ مگر کان کھول کر سن
لو وہ جتنی بھی چالیں چل لے مگر میرے آگے اس کی ہر چال دم توڑ دے گی۔‘‘
وہ اور بھی کچھ کہہ رہا تھا مگر حمدہ اب ایک لمحہ بھی ُرکے بغیر تیزی سے بھاگی تھی، گیٹ بند تھا، مگر
کنڈا نہیں لگا تھا اس کے دھکیلنے سے کھلتا چلا گیا تھا اور حمدہ بغیر پلٹ کر دیکھے اندرونی حصے کی
طرف بڑھتی چلی گئی تھی۔
وہ بڑی حویلی آیا تھا بی بی، ماریہ اور باقی سب لوگ بھی ادھر ہی تھے۔ یہاں آ کر اسے یاد آیا کہ وہ اپنا
موبائل تو اپنے کمرے میں بھول آیا ہے۔ وہ تقریباً وہاں آدھا گھنٹہ بیٹھنے کے بعد واپس اپنی حویلی آیا تھا۔
سلطان بابا نے گیٹ کھولا، انہیں ابھی گیٹ بند نہ کرنے کا کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلا آیا تھا۔ اس کا یہ
کمرہ بی بی نے نیا سجایا تھا، بچپن میں اس کا کمرہ نیچے ہوتا تھا، اب اس کا کمرہ زینہ طے کرتے ہی
راہداری میں پہلے نمبر پر تھا۔ موبائل لے کر وہ پلٹا تو نگاہ یونہی شیشے کے پار والے منظر پر پڑی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ سامنے نظر آتے وجود کو دیکھ کو نظر انداز کر دیتا اگلے منظر نے اسے ُرکنے پر مجبور
کر دیا تھا۔ وہ ایک دم کھڑکی کا شیشہ کھول کر باہر جھانکنے پر مجبور ہو گیا تھا۔
وہ بلاشبہ حمدہ تھی۔ رات ڈائننگ ٹیبل پر دکھائی دئیے جانے والی چاچی مختار کی بیٹی۔ وہ اپنے دھیان
میں چلی آ رہی تھی جب باقر علی نے ایک دم حویلی کے گیٹ سے چند قدموں کے فاصلے پر اس کا راستہروک لیا تھا۔ دونوں میں ایک دو بات ہوئی تھی۔ شاید پھر حمدہ نے سائیڈ سے گزر کر جانا چاہا تھا مگر باقر
علی نے ایک دم اس کا بازو تھام کر اس کو پھر اپنے سامنے کر لیا تھا۔ اس کے بعد وہ کافی تلخی اور غصے
سے اسے کچھ کہہ رہا تھا جس کے سبب حمدہ رونے لگی تھی۔ عمر کے لیے یہ سب حیرت انگیز اور
دلچسپ تھا۔ رات اس لڑکی کا غیر معمولی ُحسن دیکھ کر وہ ٹھٹکا تھا اور اپنی طبیعت اور فطرت کے
برعکس اسے گاہے بگاہے دیکھنے پر مجبور ہو گیا تھا۔ جبکہ اب معاملہ اسے کچھ اور ہی نوعیت کا لگ رہا
تھا۔ پھر باقر علی نے اس کا بازو چھوڑ دیا تھا۔ حمدہ اب بھی آنسو بہا رہی تھی اور پھر وہ ایک دم بھاگتے
ہوئے حویلی کے اندر داخل ہو گئی تھی۔
’’یہ سب کیا معاملہ ہے؟‘‘ کیوں نہ حمدہ سے ہی پوچھا جائے۔ حمدہ کا آنسوئوں سے بھیگا چہرہ، جیسے
نگاہوں کے سامنے جم گیا تھا۔ یہ خیال آتے ہی وہ تیزی سے اپنے کمرے سے نکلا تھا۔
اس کا ارادہ تیزی سے نیچے جانے کا تھا، وہ اپنے دھیان میں راہداری کا موڑ مڑتے ہی تیز رفتاری سے زینہ
طے کرتے وجود کو نہیں دیکھ پایا تھا، نتیجتاً تصادم شدید تھا۔ اپنے دھیان میں تیز رفتاری سے اندر آنے والا
وجود اس کے سخت وجود سے ٹکرا کر پیچھے کو گرا تھا، اس سے پہلے کہ عمر کچھ سمجھتا، معاملے کی
نوعیت کا اندازہ لگاتا گرنے والا وجود سیڑھیوں سے تیزی گر کر قلابازیاں لگاتا نیچے فرش پر جا گرا تھا۔
نسوانی چیخ شدید تھی، عمر ششدر رہ گیا تھا، یہ کوئی اور نہیں چند پل قبل گیٹ پر نظر آتی حمیدہ ہی
تھی جو اَب اس تصادم کے نتیجے میں لڑکھڑا گئی تھی۔ وہ فوراً تین تین چار چار زینے پھلانگتا اس تک
پہنچا تھا۔ گرتے ہی وہ حواس کھو چکی تھی۔ اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا، اس کی برائون چادر زینے
نہا
کی ریلنگ میں اُلجھ کر نہ صرف ایک کونے سے پھٹ چکی تھی بلکہ وہیں سیڑھیوں پر گر گئی تھی۔ وہ
کر آئی تھی، گیلے بال خون کی نمی سے مزید نم ہو چکے تھے۔ وہ منہ کے بل فرش پر گری تھی، عمر نے
فوراً اس کو کندھوں سے تھام کر سیدھا کیا۔
’’کوئی ہے… اماں زلیخا…‘‘ حمدہ کے گالوں کو تھپک کر اس نے اسے حواس میں لانے کی کوشش کی مگر
پھر ناکام ہو کر اس نے آوازیں دیں مگر حویلی میں کوئی ہوتا تو نظر آتا۔ اس کی دائیں کلائی میں پڑی
چوڑیاں ٹوٹ چکی تھیں اور کلائی کہنی تک خون آلود ہو چکی تھی۔ سر پر شاید شدید چوٹ لگی تھی،
ایک دم فرش پر خون کی دھار بن گئی تھی۔
’’سلطان بابا… سلطان بابا…‘‘ اتنی دور تک اس کی آواز بھلا کہاں سنائی دیتی۔ وہ جب تک کسی کے آنے کا
انتظار کرتا، اس لڑکی کا اچھا خاصا خون بہہ جانا تھا۔ اس نے بس ایک پل کو سوچا اور پھر فوراً حمدہ کو
بازوئوں میں اُٹھا کر اماں کی کے کمرے میں لے آیا تھا۔
’’ماریہ باجی آپ بھائی جان کو لے کر فوراً حویلی آئیں۔ پلیز جلدی میں ماں جی کے کمرے میں ہوں۔‘‘ حمدہ
کو ماں جی کے بستر پر لٹا کر اس نے پہلا کام یہی کیا تھا کہ ماریہ باجی کو کال کی تھی۔ موبائل بند کر کے
اس نے دیکھا اس کی سفید شرٹ خون سے رنگین ہو چکی تھی۔ وہ عرصے بعد اس حویلی میں آیا تھا،
اسے نہیں پتا تھا کہ کون سی چیز کہاں ہے، کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ خون کو کیسے روکے، اس نے
کمرے میں نگاہ دوڑائی ایک طرف اسٹینڈ پر ٹاول پڑا ہوا تھا، اس کا ایک حصہ پھاڑ کر حمدہ کے سر کےمتاثرہ حصے پر باندھا، باقی ٹاول سے اس کے بازو کو صاف کیا، اس کے علاوہ اس لڑکی کے بائیں پائوں پر
بھی خاصی چوٹ آئی تھی۔ لگتا تھا کہ کسی سیڑھی کا کنارہ بُری طرح پائوں کو زخمی کر گیا تھا۔ اچھی
خاصی اسکن اُتر چکی تھی۔ اس کے پائوں کو تھام کر زخم کا جائزہ لیتے ہوئے گاہے بگاہے حمدہ کے چہرے
کو بھی دیکھ رہا تھا۔ کل اس کا خوبصورت اور دلکش وجود بے حد نمایاں تھا، اس کے کالے سیاہ گھنے بال
بستر پر بکھرے ہوئے تھے۔
اس کے وجود سے نظریں ہٹا کر وہ باہر نکل آیا تھا۔ اس کی چادر سیڑھیوں پر ہی پڑی ہوئی تھی، وہ چادر
اُٹھا کر واپس کمرے میں چلا آیا تھا۔ اس کے دلکش سراپا پر اس کی چادر کو ڈال دیا تھا۔ اس کا ُحسن کچھ
حد تک چادر کی اوٹ میں ہو گیا تھا۔ عمر نے اس کی نبض دیکھی، پریشانی والی بات تو نہیں تھی، مگر
جس رفتار سے اس لڑکی کا خون بہہ رہا تھا اور ابھی تک بیہوش تھی اس سے عمر کو تشویش لاحق ہو
رہی تھی۔ اس نے ایک دفعہ پھر ماریہ باجی کو کال کر کے ایمرجنسی کا کہہ کر فوراً بی بی جان کے کمرے
میں پہنچنے کی تاکید کی تھی۔
یلیا
ابھی وہ کل آیا تھا، بے شک وہ اسی علاقے کا تھا مگر گزرے سالوں میں ہونے والی تبد ں تھیں کہ وہ
خود کو اس ماحول کے لیے اجنبی محسوس کر رہا تھا۔ اگر وہ خود سے اسے فوراً کہیں لے بھی جائے تو
کہاں؟ اسے نہ یہاں کسی ڈاکٹر عا علم تھا اور نہ ہی کسی ہسپتال کا۔ اس نے پانی کا گلاس لے کر اس کے
منہ پر چھینٹے مارے مگر کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔
’’کہاں رہ گئے ہیں یہ ذوالفقار بھائی اور ماریہ باجی؟‘‘ یہ حادثہ اس سے ٹکرائو کی وجہ سے ہوا تھا، وہ
شعوری طور پر قصور وار نہ تھا مگر اب لگ رہا تھا کہ اس لڑکی کا یوں اتنا خون بہہ جانا اس سب کا ذمہ
دار وہ خود ہے۔
’’کیا ہوا خیریت؟‘‘ وہ مسلسل اس کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا جب عقب سے ماریہ کی
گھبرائی ہوئی آواز سن کر ایک دم گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر سیدھا ہوا۔
’’ہائے اسے کیا ہوا؟‘‘ جونہی نظر حمدہ پر پڑی وہ ایک دم پریشان ہو کر حمدہ کی طرف بڑھی تھی۔
’’کیا ہوا ہے انہیں؟‘‘ ذوالفقار بھائی بھی اندر آ گئے تھے، ان کے لیے بھی صورتحال حیران کن تھی۔
’’سیڑھیوں سے گر گئی ہیں۔‘‘
’’اوہ… مگر کیسے؟‘‘
’’آپ بھائی جان پلیز اس کو ہوش میں لانے کی کوشش کریں۔ لگتا ہے سر پر کافی گہری چوٹ لگی ہے۔ منہ
کے بل پختہ فرش پر گری ہے، اس سے پہلے سیڑھیوں سے سر ٹکرایا ہے۔‘‘ ذوالفقار بھائی خود بھی ڈاکٹر
تھے۔ وہ فوراً اس کے پاس بیٹھ گئے تھے، عمر پریشانی سے قریب کھڑا تھا۔
’’فرسٹ ایڈ باکس ہے حویلی میں؟‘‘ بھائی جان نے ماریہ باجی سے کہا۔
’’ہاں میں لاتی ہوں۔‘‘ وہ فوراً باہر نکل گئیں۔
’’کافی خون بہہ گیا ہے۔ میں کوشش کر چکا ہوں مگر ہوش نہیں آ رہا اسے؟‘‘ عمر کے بتانے پر ذوالفقار
ًرا
بھائی اس کی نبض تھام کر دوسرے ہاتھ سے حمدہ کے سر کا زخم دیکھنے لگ گئے تھے۔ ماریہ باجی فوباکس لے آئی تھیں۔ سر کا زخم گہرا تھا۔ اسٹیچنگ کی ضرورت تھی، ذوالفقار بھائی خاموشی سے اپنے
کام میں جت گئے۔
’’آہ…‘‘ کوئی دس پندرہ منٹ بعد وہ ہلکا سا کراہی۔
تب ہی عمر کی جان میں جان آئی۔ درحقیقت وہ حمدہ کی طویل بیہوشی سے خاصا اپ سیٹ ہو چکا تھا۔
’’حمدہ…‘‘ ماریہ باجی اس کا ہاتھ تھامے بڑی محبت سے پکار رہی تھیں۔
’’باجی…‘‘ آنکھیں کھول کر ماریہ کو خود پر جھکے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں تکلیف سے ایک دم آنسو آ
گئے تھے۔
’’رونا نہیں… کچھ نہیں ہوا؟ بس معمولی سی چوٹ ہے۔ ابھی ٹھیک ہو جائے گی۔‘‘ باجی نے فوراً اس کے
آنسوئوں کو صاف کیا، اس کی بیہوشی کے دوران وہ تولیے سے اس کے منہ، ہاتھوں اور بازوئوں سے خون
صاف کر چکی تھی۔ حمدہ کو لگا اس کا سارا جسم پھوڑے کی مانند ُدکھ رہا ہے۔ اس نے سوچنے کی
کوشش کی کہ اسے کیا ہوا تھا مگر کمزوری نقاہت کی وجہ سے ذہن ایک دم تاریک ہونا شروع ہوا تو اسے
لگا کہ وہ ایک بار پھر حواس کھو رہی ہے۔
’’حمدہ؟‘‘ ماریہ باجی کی پکار پر اُس نے آنکھیں کھولنا چاہیں، مگر پلکیں وا نہیں ہوئی تھیں۔
’’کوئی خطرے والی بات تو نہیں ہے؟‘‘ کوئی بہت تشویش سے پوچھ رہا تھا۔ اس کے بعد اُس کا ذہن مکمل
تاریکی میں ڈوب چکا تھا۔
’’انہیں ہوش آ چکا ہے، جو ایک دو انجکشن لگائے ہیں، لگتا ہے اُن کا اثر ہے۔ سر کی چوٹ گہری ہے، پائوں کا
زخم نارمل ہے۔ بازو پر بھی آئی تھنک چوڑیوں کی وجہ سے زخم آئے ہیں۔ باقی اندرونی زخم یہ ہوش میں
آئیں گی تو پتہ چلے گا۔‘‘ عمر خاموشی سے ذوالفقار بھائی کی بات سنتے حمدہ کو دیکھے گیا۔
نجانے کیا کشش تھی اس وجود میں کہ وہ کئی پل تک اس کے چہرے سے نگاہ نہ ہٹا پایا تھا۔ یوں جیسے
کسی اَن دیکھی طاقت نے اس کی نگاہوں کا حصار اس کے گرد باندھ دیا تھا۔ حمدہ کے چہرے پر کنپٹی
سے نیچے ُرخسار کی ہڈی پر کافی گہرا نیل پڑا ہوا تھا۔ شاید سیڑھی کا کنارہ لگا تھا عمر کا دل ملال سے
بھرنے لگا۔ وہ حمدہ کے پائوں کی طرف بیٹھا ہوا تھا۔ نجانے ایک دم کیا ہوا، دل میں ایسی کون سی لہر
اُٹھی تھی کہ اس کے ہاتھ غیر محسوس انداز میں اس کے پائوں کو تھام چکے تھے۔
نرم و نازک گلابی پائوں کا گداز اس کی مردانہ ہتھیلیوں پر ایک دم اُترا تو وہ دم سادھے چت لیٹے بے خبر
وجود کو دیکھے گیا۔ وہ خود بھی حیران تھا کہ یہ اسے کیا ہو رہا ہے؟ کوئی عجیب سا احساس تھا جو حمدہ
کے چہرے سے اس کے دل میں اُتر رہا تھا۔
’’تمہارے کپڑے بھی خاصے خون آلود ہو چکے ہیں تم چینج کر لو۔‘‘ ماریہ کی نگاہ اس پر پڑی تو ساری
شرٹ خون میں رنگین دیکھ کر کہنے لگی۔ عمر نے آہستگی سے ہاتھ حمدہ کے پائوں سے ہٹا کر اپنی گود
میں رکھ لیے۔ تاہم نگاہیں اسی ملیح چہرے کے گرد رقصاں تھیں۔ کچھ دیر پہلے یہ لڑکی باقر علی کے
ساتھ حویلی سے چند قدم فاصلے پر کھڑی رو رہی تھی، اس نے اپنی آنکھوں سے اسے حویلی میں داخل
ہوتے دیکھا تھا اور اب یہ بیہوش اور زخمی حالت میں پڑی ہوئی تھی۔ عمر کے اندر ملال کے بادل گہرےہوتے چلے گئے۔
’’ہوں…‘‘ وہ بستر سے اُٹھ گیا تھا۔ طبی امداد مکمل ہو چکی تھی، ذوالفقار بھائی بھی پیچھے ہٹ گئے تھے۔
’’جب ان کو دوبارہ ہوش آئے تو مجھ سے پوچھ کر کچھ گولیاں کھلا دیں۔‘‘ ذوالفقار علی، ماریہ باجی کو
ہدایت دے کر باہر نکل گئے تھے۔
ماریہ باجی نے بستر پر پڑا کمبل حمدہ کے وجود پر ڈالا تو عمر بھی ایک گہری سانس لیتا اپنے حلیے پر نگاہ
ڈالتا کمرے سے باہر نکل آیا تھا۔
آج جو کچھ بھی ہوا تھا، اس کے بعد اس کے دل کی جو کیفیت تھی وہ سب عجیب تر تھی۔ عجیب سے
احساس میں گھرتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف چل دیا تھا۔ سیڑھیوں پر ٹوٹی چوڑیوں کے کئی ٹکڑے
بکھرے ہوئے تھے، ان سیاہ ٹکڑوں کو دیکھتے ہوئے عمر کے اندر کی کیفیت میں مزید شدت در آئی تو اس
نے لب بھینچ کر خود کو سنبھالنے کی کوشش کرنا چاہی تھی۔
وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا، اس کے دل کی کیفیت ابھی تک برقرار تھی، وہ اچھا خاصا
اپ سیٹ ہو چکا تھا۔ کپڑے بدلنے کے بعد وہ دوبارہ حمدہ کو دیکھنے نہیں گیا تھا، اسے لگ رہا تھا اس کی
نگاہ دوبارہ اس وجود کی طرف اُٹھے گی تو وہ اپنا آپ بھول جائے گا۔ یہ جو تھوڑے بہت حواس قائم ہیں یہ
بھی نہ رہیں گے۔ اب اسے کمرے میں بند ہوئے بھی تین گھنٹے ہو رہے تھے۔ وہ اسی طرح کھڑکی کے شیشے
کے پار دیکھ رہا تھا، جب دستک دے کر ماریہ باجی اندر داخل ہوئیں۔
’’کیا بات ہے تم کمرے سے باہر نہیں نکلے… لنچ بھی نہیں کیا؟‘‘ ماریہ باجی کے سوال پر وہ کھڑکی سے
ہٹ کر صوفے پر آ بیٹھا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: