Dhal Gai Phir Hijar Ki Raat by Sumaira Sharif – Episode 3

0

’’بس یونہی موڈ نہیں ہو رہا تھا۔‘‘ ماریہ نے کافی غور سے اپنے اس نخریلے سے بھائی کو دیکھا۔
’’حمدہ کیسی ہے… ہوش آیا اسے؟‘‘
’’ہاں ہوش آیا تھا… لگتا ہے بیچاری کو اندرونی چوٹیں کافی آئی ہیں مسلسل رو رہی تھی۔ ابھی ماں جی
نے اسے کھانا کھلا کر دوا دے کر سلایا ہے۔‘‘
’’میں یہ سوچ سوچ کر حیران ہو رہی ہوں کہ وہ اوپر لینے کیا آئی تھی؟ جب ہم بڑی حویلی کے لیے نکلے
تھے تب وہ اپنے گھر گئی تھی، اماں زلیخاں کے ساتھ… اسے کپڑے بدلنے تھے۔‘‘ عمر ماریہ کی بات کے
جواب میں بھلا کیا کہتا؟ وہ تو خود بے خبر تھا۔
’’جس طرح تم اس کے گرنے کا ذکر کر رہے ہو۔ میں اُلجھ گئی ہوں، ایک بات پوچھوں عمر! سچ سچ بتانا؟‘‘
عمر نے سوالیہ نظروں سے اپنے سے چند سال بڑی بہن کو دیکھا۔
’’تمہارے اور حمدہ کے درمیان کوئی بات ہے… میرا طلب ہے کہ…؟‘‘ وہ جھجکتے ہوئے اپنے جملے کی
وضاحت نہ کر پائی تھیں، عمر نے خاصا چونک کر بہن کو دیکھا۔
’’کیا مطلب… میری تو اس سے برا ِہ راست ابھی تک بات چیت ہی نہیں ہوئی۔ رات کھانے کی ٹیبل پر اسے
دیکھا تھا اور پھر جب وہ گری تھی تب دیکھا تھا۔‘‘’’میرا مطلب ہے کہ جس طرح وہ سیڑھیوں سے گری ہے… حویلی میں کوئی بھی نہیں تھا… وہ اوپر کیا
لینے گئی تھی… اور پھر ایک دم کیسے گر گئی؟‘‘ جھجکتے ہوئے ماریہ نے اپنے دل کی بات کہہ دی تھی۔
عمر کو ایک دو پل لگے تھے ماریہ کی بات کی گہرائی میں جانے میں اور جب بات اس کی سمجھ میں آئی
تو غصے سے ایک دم صوفے سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’آپا آپ نے ایسی گھٹیا بات میرے متعلق سوچی بھی کیسے؟‘‘ وہ غصے سے ایک دم بولا تھا۔
ماریہ بھی ایک دم کھڑی ہو گئی، عمر کے تیوروں سے وہ ایک دم خائف ہوئی تھی۔
’’نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ تم نے رات جب اسے دیکھا تھا، تو کہہ رہے تھے کہ یہ بہت خوبصورت ہے تو
میرے ذہن میں یہ آیا کہ شاید کوئی ایسی بات ہوئی ہو؟‘‘
’’وہ خوبصورت ہے تو میں نے جو احساسات تھے فوراً کہہ ڈالے۔ میں بھلے ایک آزاد روشن خیال ملک میں
رہ کر آیا ہوں مگر اپنی قدروں اور اپنی ماں جی کی تربیت کو کبھی ایک لمحہ بھی فراموش نہیں کیا۔
میرے کردار میں نہ پہلے کبھی جھول آیا تھا اور نہ ہی آج آیا ہے۔ مجھے حیرت ہی نہیں ُدکھ بھی ہو رہا ہے
کہ آپ نے میرے بارے میں ایسی بات کیسے سوچ لی؟ بھلے حادثے کے وقت حویلی میں کوئی موجود نہ
تھا اور میرا اس وقت یہاں موجود ہونا بھی محض اتفاق ہی تھا، مجھے نہیں علم کہ وہ اوپر کیوں آئی تھی
مگر آپ کو اتنا یقین دلا سکتا ہوں کہ میرا اس سارے معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں میں اپنے دل میں
اس کے لیے ویسی ہی عزت محسوس کر رہا ہوں جیسی کہ آپ اور ماں جی کی محسوس کرتا ہوں۔‘‘ وہ
ُدکھ، کرب، اذیت سے کہہ رہا تھا۔ ماریہ نے گہرا سانس لیتے اس کا بازو تھام لیا۔
’’ایم سوری… یہ محض خیال تھا جو مجھے تنگ کر رہا تھا۔ سوچا تم سے کلیئر کر لوں۔ پلیز بُرا نہ ماننا۔‘‘
عمر لب بھینچتے سنجیدہ تاثرات لیے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔
’’دراصل چاچی مختار کا گھرانہ پہلے ہی کافی کرائسس سے گزر چکا ہے۔ چاچا طفیل تمہیں یاد ہو شاید
جب تم حویلی میں رہتے تھے تو ان کے بارے میں نجانے کیسی کیسی باتیں مشہور تھیں۔ وہ شرابی اور
جواری ہی نہیں بلکہ طوائفوں کے چکر میں بھی رہتے تھے۔‘‘ ماریہ باجی نے بتانا شروع کیا تو عمر نے چہرہ
موڑ کر بڑی بہن کو دیکھا۔ اسے یہ سب بہت اچھی طرح یاد تھا۔
’’اسی چکر بازی میں آہستہ آہستہ انہوں نے نہ صرف ہمارے دونوں ماموئوں کے ہاتھوں اپنی زمینیں بیچیں
پھر جو تھوڑی بہت دولت تھی، وہ بھی طوائفوں کے چکر میں اُڑا دی۔ چاچی مختار بڑی باہمت خاتون ہیں،
ایسے حالات میں انہوں نے بڑی استقامت اور ہمت سے سب برداشت کیا۔‘‘ عمر ماریہ کی بات بغور سنتے
کچھ اُلجھ گیا۔ حمدہ کے گرنے سے پہلے اس نے کچھ اور دیکھا تھا، باقر علی نے جس طرح اس کی کلائی
تھامی اور حمدہ کا رونا۔
’’چاچی مختار نے نگہت کی شادی اپنے بھتیجے کے ساتھ کم عمری میں ہی کر دی اور پھر ساجدہ کو بھی
اپنی کسی خالہ زاد بہن کے بیٹے سے بیاہ دیا۔ رہ گیا قمر وہ لڑکا تھا، دن بدن خراب ہوتے حالات کے باوجود
مختار چاچی نے اسے شہر ہوسٹل میں پڑھنے کے لیے بھیجا تھا۔ اب ان کی تمام امیدوں کا مرکز قمر ہی
تھا۔ چاچا طفیل اپنی غلط صحبت کی وجہ سے گائوں آتے تھے چاچی کے لیے وجہ پریشانی بن جاتے تھے۔زمینیں بچیں پھر جمع شدہ رقم ختم ہوئی تو نوبت چاچی کے زیورات تک پہنچ گئی۔ چاچی حالات کو دیکھ
رہی تھیں، انہوں نے نگہت اور ساجدہ کی شادی میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی مگر ابھی ان کے دو بچے
بیاہنے والے رہتے تھے۔ قمر اور حمدہ بھی ابھی زیر تعلیم تھے۔ انہوں نے وہ سارا زیور ’’ماں جی‘‘ کے پاس
امانتاً رکھوا دیا۔‘‘ ماریہ باجی چند پل کو خاموش ہوئیں عمر کی دلچسپی ایک دم اس معاملے میں خاصی
بڑھ گئی۔
’’پھر کیا ہوا؟‘‘
’’تم نے چاچی مختار کی سفید حویلی دیکھی ہے نہ بچپن میں؟‘‘ عمر نے ماریہ کے پوچھنے پر سر ہلا دیا۔
’’جب چاچا طفیل چاچی مختار کو ہر طرح سے بے بس کر چکے تو چاچی، حمدہ کو لے کر اپنے میکے چلی
گئیں پیچھے چاچا نے باقر علی کے ہاتھ وہ حویلی بیچ دی۔‘‘
’’کیا واقعی؟‘‘
’’ہوں اب وہ حویلی باقر علی کے قبضے میں ہے۔ چاچی چند سال اپنے میکے میں رہیں پیچھے چاچا طفیل
کے وہی مشغلے رہے۔ ایک دفعہ باقر علی کا کسی کام سے چاچی کے میکے جانا ہوا، وہاں اس نے حمدہ کو
دیکھا، حمدہ کی خوبصورتی نے اسے اتنا متاثر کیا کہ اس نے چاچا طفیل کو اپنی انگلیوں پر نچانا شروع کر
دیا۔ چاچا طفیل باقر علی کے کہنے بار بار چاچی کے میکے گیا ان کو لینے اور پھر مجبوراً چاچی کو آنا پڑا۔
اس دوران قمر کا شہر میں تعلیم کے دوران کسی امیر ماں باپ کی اکلوتی بیٹی کے ساتھ افیئر چلا اور
اس نے چپ چاپ شادی کر لی۔ چاچی کو پتا چلا تو وہ بہت بیمار ہو گئیں۔ قمر ان کی تمام اُمیدوں کا مرکز
تھا۔ چاچا کو پتا تھا کہ بیمار چاچی ان کی راہ میں اتنی مزاحمت نہیں کر پائیں گی انہوں نے حمدہ کا
رشتہ باقر علی کے ساتھ طے کر دیا۔‘‘
’’کیا؟‘‘ عمر تو حقیقتاً چونکا تھا۔
’’پہلے باقر علی نے دھوکے سے اونے پونے داموں چاچا طفیل سے حویلی خریدی پھر حمدہ کا رشتہ مانگ
لیا۔ باقر علی ہماری ممانیوں کا بھائی ہے، بالکل فراڈ، لوفر اور بدمعاش فطرت کا حامل۔ کئی جرائم پیشہ
لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔‘‘ ماریہ باجی بڑے ُدکھ سے یہ سب بتا رہی تھیں۔
’’اور چاچا طفیل اپنی غلط صحبت کی وجہ سے پہلے ہی آدھے ہو چکے تھے، زمین اپنے ہاتھوں سے گنوا دی
تھی، دولت رہی نہ تھی، باقر علی کے ہاتھوں وہ بلیک میل ہو رہے تھے، ان حالات میں چاچی مختار نے ایک
دفعہ پھر حوصلہ کیا۔ بڑی مشکلوں سے حمدہ کو پڑھایا، خود اس کے ساتھ کالج جاتی تھیں، ہر جگہ اس کا
سایہ بنی رہیں۔ انہوں نے صاف اور واضح الفاظ میں حمدہ اور باقر علی کے رشتے سے انکار کر دیا تھا، وہ
کون سا غیر شادی شدہ تھا، ایک بیوی تھی دو بچے تھے، مگر حمدہ کا پیچھا نہیں چھوڑتا تھا۔ تمہیں پتا
ہے سفید حویلی کے سامنے کچھ زمین بھی چاچا طفیل کے نام تھی۔‘‘
’’ہاں…‘‘ عمر کو اچانک یاد آیا کہ حویلی کے سامنے ایک ڈیرہ تھا جہاں کبھی کبھار چاچا طفیل کے مہمان آ
کر رہا کرتے تھے۔
’’جب چاچا طفیل نے حویلی باقر علی کے ہاتھ بیچی تو یہ لوگ اس ڈیرے پر آ گئے ایک دم حویلی سے ڈیرےتک کا سفر چاچی نے بڑی ہمت اور حوصلے سے طے کیا اور جب باقر علی سے حمدہ کے رشتے سے چاچی
نے انکار کر دیا تو چاچا طفیل ان کے ہم خیال ہو گئے، تب ماں جی، حمدہ اور چاچی کو حویلی لے آئیں۔ قمر
کبھی کبھار چکر لگاتا تھا مگر اس کا ہونا نہ ہونے کے برابر تھا اور پھر وہ اپنی بیوی کے ساتھ دبئی شفٹ ہو
گیا تو چاچی کے لیے ہر آس ختم ہو گئی۔ ادھر باقر علی کا حمدہ سے شادی کا تقاضا بڑھنے لگا، مگر چاچی
ڈٹی رہیں، ایک دن چاچا طفیل کا کسی جواری کے ساتھ نشے کی حالت میں جھگڑا ہوا تو گولی لگ گئی
چند دن وہ ہسپتال میں رہے اور پھر چاچا فوت ہو گئے۔ باقر علی اب بھی حمدہ کو اپنی منگیتر سمجھتا ہے،
اس کے بعد چاچی نے اپنے میکے میں ہی حمدہ کا رشتہ دیکھا، وہ لوگ حالات سے باخبر تھے، چاچی نے
خاموشی سے نکاح کر دینا چاہا، جس دن وہ لوگ گائوں بارات لے کر آئے باقر علی کو علم ہو گیا، اس نے
ُدلہا کو یرغمال بنا لیا۔ بہت گولیاں چلائیں مرنے مارنے پر تل گیا۔ پھر گائوں کے بڑوں کے درمیان میں آنے
سے اس نے اس لڑکے کو چھوڑ دیا مگر اب حمدہ کی ذات ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے، چاچی نے بڑے
دونوں لڑکیاں کم عمری میں ہی بیاہ دی تھیں، اس ایک دفعہ کے بعد کہیں بھی حمدہ کے رشتے کی بات
نہیں چل پائی، یہ کچھ عرصہ حویلی میں رہی تھیں مگر پھر ہماری بڑی اور چھوٹی ممانیوں کی طنزیہ
باتوں کو دیکھتے چاچی واپس اسی ڈیرے میں چلی گئی ہیں۔ یہ دونوں ادھر ہی رہتی ہیں۔ باقر علی
مستقل سفید حویلی میں تو نہیں ہوتا مگر اکثر وہ ادھر آتا رہتا ہے اور جب بھی آتا ہے حمدہ کے لیے زندگی
مشکل بنا دیتا ہے۔ اسے دھمکاتا رہتا ہے، اس کی بیوی اس کی انہی حرکتوں کی وجہ سے اسے چھوڑ کر
چلی گئی ہے۔‘‘
عمر کے ذہن میں ایک دم سارا معاملہ کلیئر ہوا، یقینا اس نے چند گھنٹے پہلے جو بھی دیکھا تھا وہ بھی
شاید اسی سلسلے کی کوئی کڑی تھی۔
’’میں تمہیں یہ ساری باتیں اس لیے بتا رہی ہوں کہ رات جس طرح تم حمدہ کو دیکھ کر برملا اس کی
خوبصورتی کا اظہار کر رہے تھے اس سے مجھے خدشہ ہوا کہ تم اسے کہیں کوئی عام لڑکی نہ سمجھ
بیٹھو۔ وہ کافی کم گو سنجیدہ مزاج اور بہت زیادہ سلجھی ہوئی لڑکی ہے، جس طرح اس کی شادی ہوتے
ہوتے رہ گئی اور پھر اب باقر علی کا کردار یہ سب حوالے اسے بہت تکلیف دیتے ہیں۔ چاچی مختار کو ہم پر
بہت اعتماد ہے، وہ جب بھی کہیں جاتی ہیں حمدہ کو حویلی میں چھوڑ جاتی ہیں۔ آج کل بھی وہ اپنی
بھاوج کے بھائی کی وفات کی وجہ سے میکے گئی ہوئی ہیں۔ اسی لیے آج کل حمدہ حویلی میں نظر آ رہی
ہے۔ شام کو چاچی نے آ جانا ہے تو حمدہ چلی جائے گی۔‘‘ عمر نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’وہ یقینا ایک اچھی اور سلجھی ہوئی لڑکی ہے۔ اس پر پہلی نگاہ ڈالنے سے ہی اس کے کردار کی حقیقت
اور سچائی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ میں نے رات کو محض اپنے محسوسات کا اظہار کیا تھا، مگر یہ حادثہ جب
ہوا تو وہ اوپر ہی آ رہی تھی وہ کیوں آ رہی تھی یہ مجھے نہیں علم۔‘‘ عمر نے بات پوری کی تو ماریہ مسکرا
دی۔
’’مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہوا ہو گا۔‘‘
’’میں بھلے مغربی معاشرے میں ایک لمبا عرصہ گزار کر آیا ہوں، مگر یہ بھی سچ ہے کہ ماموں اور ان کیفیملی کے ساتھ رہتے ہوئے مجھے نہیں لگا کہ میں نے اتنا لمبا عرصہ اپنے گائوں یا یا حویلی سے دور گزارا
ہے۔ آپ ماموں اشفاق کی سخت گیر طبیعت سے اچھی طرح واقف ہی ہیں، ان کی یہ سخت گیری ہی
تھی کہ آج میں اس ماڈرن معاشرے کی تمام تر بُرائیوں سے دور بالکل صاف ستھری شخصیت کا حامل
بن پایا ہوں۔ آپ کے ذہن میں شاید یہ تھا کہ جس طرح میں نے حمدہ کی خوبصورتی کی برملا تعریف کی
ہے کہیں میں ماڈرن اور بے باک معاشرے کی سی شخصیت کا مالک تو نہیں بن گیا مگر ایسی بات نہیں،
میرے نزدیک میری قدریں اور ماں جی کی تربیت کا اولین تاثر بہت اہم تھا اور میں نے زندگی کے ہر
معاملے میں ہر قدم پر اپنی قدروں کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ خصوصاً ماں جی کی تربیت کو۔‘‘ ماریہ
مسکرا دی۔ وہ ایسا ہی بھائی چاہتی تھی ہر خامی ہر بُرائی سے پاک عورت کی دل سے عزت کرنے والا۔
’’تم نے لنچ بھی نہیں کیا۔ آئو نیچے چلتے ہیں، ماں جی تمہارے لنچ نہ کرنے پر پریشان ہو رہی ہیں۔ اسی
لیے میں اوپر آئی تھی۔‘‘
ذہن میں موجود خدشات ختم ہو گئے تھے تو عمر کا ہاتھ تھام کر ماریہ باجی نے قدم باہر کی طرف بڑھا
دئیے۔
اماں شام کے قریب آ گئی تھیں، کچھ دیر بعد حمدہ کے پاس آئیں تو اس کی شدید چوٹوں کو دیکھ کر
خاصی پریشان ہو گئی تھیں۔ چوٹوں کے علاوہ بخار نے بھی آ لیا تھا۔ اماں، حمدہ کی حالت دیکھ کر
متوحش ہو چکی تھیں مگر ماں جی، ماریہ وغیرہ کے بار بار دلاسہ دینے پر وہ آج رات حمدہ کی وجہ سے
ادھر ہی ُرکنے پر آمادہ ہو گئی تھیں دوسرا گائوں میں داخل ہوتے ہی انہوں نے باقر علی کو دیکھ لیا تھا۔ اب
حمدہ کی اس خراب حالت کی وجہ سے وہ دو کمروں والے ڈیرہ نما گھر میں جانے کا رسک نہیں لے سکتی
تھیں۔
کھانے کی میز پر انہوں نے عمر کو دیکھا، اس سے پہلے عمر کہیں باہر نکلا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے
ملاقات نہیں ہو پائی تھی۔ انہیں سلجھا ہوا عمر خاصا پسند آیا تھا۔ آج کھانے کی میز پر ماریہ اس کا شوہر
بچے، بی بی کے علاوہ مختار چاچی اور عمر بھی تھے، جبکہ حمدہ بخار کی وجہ سے ’’بی بی‘‘ کے کمرے
میں ہی تھی، کچھ دیر پہلے مختار چاچی نے خود کھانا کھلا کر دوا کھلائی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد سبھی
ہال کمرے میں چلے آئے تھے۔ عمر کچھ دیر ان سب کے پاس بیٹھا پھر ایکسکیوز کرتا وہاں سے اُٹھ کر اوپر
اپنے کمرے میں جانے کے بجائے بی بی کے کمرے کی طرف چلا آیا تھا جہاں حمدہ ُرکی ہوئی تھی۔ حمدہ
کی بینڈیج ہونے کے بعد وہ دوبارہ اس کمرے میں نہیں آیا تھا۔ کچھ وہ مسلسل غنودگی میں رہی تھی،
اب یقینا وہ جاگ رہی ہو گی۔ عمر نے اندر داخل ہونے سے پہلے دروازے پر دستک دی تھی۔
’’آ جائیں۔‘‘ حمدہ جاگ رہی تھی۔
عمر نے کمرے میں قدم رکھا تو وہ بی بی کے بستر پر دراز دروازے کی ہی طرف دیکھ رہی تھی، اس کے سر
پر پٹی بندھی ہوئی تھی، عمر کو دیکھ کر وہ چونکی تھی۔
’’السلام علیکم۔‘‘’’و علیکم السلام… آپ…‘‘ عمر سے ابھی تک برا ِہ راست کوئی تعارف نہیں ہوا تھا۔ کل رات کھانے کی میز پر
جس طرح دونوں بہن بھائی سرگوشیوں میں گفتگو کر رہے تھے اس سے وہ یہی سمجھی تھی کہ وہ
دونوں اسی کے لیے متعلق باتیں کر رہے ہیں اور پھر جس طرح عمر اُسے گاہے بگاہے دیکھتا رہا تھا اس سے
بھی وہ خاصی اُلجھ چکی تھی۔ حادثے کے وقت وہ اسی عمر سے ٹکرائو کے سبب گری تھی، اس کا سر
سیڑھی کے کنارے سے لگنے سے پھٹا تھا۔ اس کے بعد جب وہ گری تھی تو فوراً حواس کھو بیٹھی تھی۔
عمر کو کمرے میں دیکھ کر اس نے اُٹھنے کی کوشش کی تھی۔
’’آپ لیٹی رہیں میں بس آپ کی طبیعت دریافت کرنے آیا تھا۔‘‘ عمر کے کہنے پر وہ اسی طرح لیٹی رہی۔
’’کیسی طبیعت ہے اب آپ کی؟ ماریہ باجی بتا رہی تھیں کہ اب بخار بھی ہو گیا ہے آپ کو۔‘‘ وہ ایک طرف
رکھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا تھا۔
’’جی ٹھیک ہوں۔‘‘ بظاہر دھیمے لہجے میں اس نے کہا تھا مگر اس سے بھی اس کے اندر کی نقاہت کا
بخوبی ادراک کیا جا سکتا تھا۔ بخار کی حدت کی وجہ سے چہرہ سرخ انگارہ ہو رہا تھا۔
ایک بار پھر اس کو اپنا دل ایک مقناطیسیت کی کشش کی وجہ سے حمدہ کی طرف کھنچتا محسوس ہوا۔
وہ خوبصورتی تھی۔ مگر اس کی خوبصورت میں مقناطیسیت جیسی کشش تھی، جو مقابل کو پورے زور
سے اپنی طرف کھینچ سکتی تھی۔ مگر اس خوبصورتی کے باوجود اس وجود میں ایک اور بات بھی تھی
جو اس وجود پر کل رات پہلی نگاہ ڈالنے کے فوراً بعد ہی وہ محسوس کر گیا تھا۔
یہ خاص بات اس لڑکی کا ڈھکا چھپا انداز اور سراپا تھا۔ اس کے کردار کی حیا تھی۔ اس کی تربیت جس
ماحول میں ہوئی تھی وہاں عورت بڑی ارزاں چیز تھی مگر یہاں آنے کے بعد بی بی، ماریہ، ممانیوں اور ان
کے بچوں کے علاوہ جو تیسرا وجود اس نے دیکھا تھا وہ یہی ذات تھی اور جس طرح اس کی ذات میں وقار
اور رکھ رکھائو جھلکتا تھا، شاید ایسی خاص کیفیت اور بات اس نے کسی اور عورت میں محسوس نہ کی
تھی۔
’’سر کا زخم کیسا ہے؟‘‘ دونوں کے درمیان بے معنی سی خاموشی در آئی تو عمر نے خود ہی گھبرا کر پوچھ
لیا۔
’’درد ہو رہا ہے۔‘‘ درد کی اذیت اس کے چہرے سے بھی چھلک رہی تھی۔
’’ذوالفقار بھائی کو کہتا ہوں وہ کوئی پین کلر دے دیں۔ آپ کا بازو اور دایاں پائوں بھی زخمی تھا نا۔‘‘
’’جی… مگر سر میں زیادہ درد ہو رہا ہے۔‘‘ اپنی بینڈیج ہوئی کلائی اس نے اُٹھا کر اپنے سر کی پٹی کو چھوا۔
’’اس کے علاوہ کہیں اور چوٹ تو نہیں لگی؟‘‘ عمر پھر رہا تھا، حمدہ بس نفی میں سر ہلا کر رہ گئی۔ جبکہ
کمر پر قلابازی کھا کر گرنے سے جو چوٹیں لگی تھیں وہ ہر کروٹ پر تکلیف دے رہی تھیں۔ شاید اس لیے
بخار نے بھی آ لیا تھا، یوں لگ رہا تھا کہ جیسے جسم پھوڑے کی مانند ُدکھ رہا ہے۔ عمر کے سوال پر بس
ایک لحظہ کو اس کی نگاہوں میں دیکھ کر سر جھکا لیا تھا۔
’’میں ذوالفقار بھائی اور ماریہ باجی کو بھیجتا ہوں، اگر کہیں اور بھی تکلیف محسوس کر رہی ہوں تو
باجی ماریہ کو بتانے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ بھائی جان سے کہہ کر بہتر ٹریٹمنٹ کروا سکتی ہیں۔‘‘ اسکے چہرے سے عمر نے فوراً اندازہ لگا لیا تھا کہ اسے کہیں اور بھی تکلیف ہو رہی ہے مگر کہہ نہیں پا رہی۔
حمدہ نے خاموشی سے نگاہیں پھیر لیں نجانے کیوں جب بھی اس نے اس شخص کی طرف نگاہ ڈالی تھی
اسے بڑی توجہ سے اپنی طرف دیکھتا ہی پایا تھا۔
’’جی بہتر۔‘‘ نجانے ان کی آنکھوں میں کیسا تاثر تھا کہ وہ سر اُٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہ کر پائی تھی۔
’’اپنا بہت خیال رکھیے گا۔ شب بخیر اینڈ اللہ حافظ۔‘‘ ایک بھرپور نظر اس کے وجود پر ڈال کر وہ باہر گیا تھا
اور حمدہ اس شخص کی آنکھوں کے تاثر کو ہی لے کر خاصی اُلجھ چکی تھی اوپر سے اس کے یہ الفاظ۔
’’اپنا بہت خیال رکھیے گا۔‘‘ ان الفاظ نے اسے مزید ہراساں کر ڈالا تھا۔
’’تو کیا باقر علی کے بعد اس جیسی ایک اور آزمائش میری منتظر ہے۔‘‘ اس سوچ نے اس کی رنگت ہلدی
کی مانند زرد کر ڈالی تھی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: