Dhal Gai Phir Hijar Ki Raat by Sumaira Sharif – Episode 4

0

حمدہ نے بہت بے دم ہو کر اپنا سر تکیے پر گرا لیا تھا۔
ایک دو دن میں حمدہ کا بخار اُترا تو مزید دو دن اس کو اماں نے زبردستی کالج سے چھٹیاں کروا کر آرام
کروایا تھا۔ اس کے بعد وہ اب کالج جا رہی تھی، حویلی سے وہ اپنے گھر اگلے دن ہی آ گئی تھیں۔ اس دن
کے بعد وہ ابھی تک دوبارہ حویلی نہیں گئی تھی۔ اس گائوں کی چند لڑکیاں بھی اسی کالج میں داخل
تھیں تو وہ صبح سویرے ان کے ساتھ ہی کالج کے لیے نکل جاتی تھی، یہ مقامی سطح پر اپنی مدد آپ کے
تحت چلایا جانے والا کالج تھا۔ دو بجے وہاں سے واپسی ہوتی تھی تو اس کے بعد وہ گھر آ کر گھر کے کاموں
میں لگ جاتی تھی۔ شروع کے دن ایک دو دن ماریہ باجی مسلسل بی بی کے ساتھ آ کر اس کی عیادت کر
جاتی تھیں پھر جب اس نے کالج جانا شروع کیا تو ماریہ باجی نے بھی آنا چھوڑ دیا۔ اماں خود وہاں دن میں
چکر لگاتی رہتی تھیں۔ انہی سے حمدہ کو پتا چلا کہ ماریہ باجی چند دن بھائی کی آمد کی وجہ سے جو
یا
میکے آئی تھیں اب واپس چلی گئی ہیں اور ماریہ باجی کی غیر موجودگی میں بی بی اکیلی ہوتی تھیں
آج کل ان کا بیٹا عمر تھا۔
کالج سے واپسی پر اپنے ساتھ روزانہ آنے والی دونوں لڑکیوں کے ہمراہ قدم اُٹھاتے وہ جیسے ہی شہر کی
حدود سے نکل کر کچے راستے پر ہوتی تھی تو عمر ہاشم کو اس جگہ پر آنکھیں جمائے دیکھتی تھی اور
جیسے ہی وہ اسے دیکھ لیتا تھا دوبارہ اپنے مزارعوں کے ساتھ مصروف گفتگو ہو جاتا تھا مگر حمدہ کئی
قدم تک اس شخص کی پہلی نگاہ کی حدت دور تک محسوس کرتی رہتی تھی اور پھر گھر جا کر وہ
اُلجھتی رہتی۔
’’ہو سکتا ہے مجھے ہی وہم ہوتا ہو؟ اس شخص کی نگاہ میں وہ تاثر ہی نہ ہو جو مجھے محسوس ہو رہا
ہے۔‘‘ اس نے اپنے آپ کو بہلایا مگر کوئی احساس تھا جو اس کے اندر گھر جانے تک کروٹیں لیتا رہا تھا۔
گھر آ کر کپڑے بدل کر کھانا کھا کر ظہر کی نماز پڑھ کر وہ لیٹی تو اماں اس کے پاس آ بیٹھیں۔
’’سونے لگی ہو؟‘‘
’’جی… خیریت کوئی بات ہے؟‘‘ اماں اسے کچھ متفکر اور پریشان دکھائی دیں تو وہ دوبارہ اُٹھ بیٹھی۔’’ہاں… وہ آج باقر علی آیا تھا۔‘‘ اماں نے کہا تو حمدہ سانس روکے اماں کو دیکھنے لگی۔ یہ شخص اس کی
زندگی کا ایک رستا ہوا ناسور تھا۔ کبھی کبھار تو حمدہ کا جی چاہتا تھا کہ وہ کسی ایسی جگہ چلی جائے
جہاں اس شخص کا جان لیوا تصور تک نہ ہو۔
’’پھر؟‘‘
’’اچھی خاصی دھمکیاں دے کر گیا ہے۔ سچ مانو تو عثمان والے واقعے کے بعد میں خود بھی ڈر گئی ہوں
ایک تنہا عورت کب تک ایسے درندوں کا مقابلہ کرے؟ وہ زور آور ہے، میں گئی تھی آج بڑی حویلی بی بی
کو لے کر باقر علی کی دونوں بہنوں سے بات کرنے تو انہوں نے صاف جواب دے دیا کہ اس سلسلے میں وہ
کوئی مدد نہیں کر سکتیں، ان کا بھائی ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ بلکہ چھوٹی تو مشورہ تک دینے لگ
گئی کہ کہیں نہ کہیں تو تمہارا رشتہ کرنا ہی ہے تو پھر باقر علی سے ہی کر دوں۔ میرے دل پر جیسے ہاتھ
پڑا تھا، میں بھی اچھی خاصی سنا کر آئی ہوں۔ پر باقر علی جاتے ہوئے دھمکی دے کر گیا تھا کہ اب انتظار
نہیں کرے گا ایک دو دن میں پھر چکر لگائے گا۔‘‘
حمدہ نے خاموشی سے ماں کو دیکھا، کئی سالوں سے اس کی ماں تن تنہا اس جیسے جنگلی درندے کے
سامنے دیوار بنی کھڑی تھیں اس کے لیے، مسلسل لڑ رہی تھیں آخر کب تک؟ آج اس کی ماں پریشان تھی
یقینا وہ اچھا خاصا دھمکا کر گیا ہو گا۔ حمدہ کو لگتا تھا کہ ہر گزرتا دن باقر علی اس کے گرد شکنجہ کستا
چلا جا رہا ہے۔ عثمان والے واقعے کے بعد اماں کو اُمید تھی کہ وہ اپنے میکے میں ہی اسے کہیں نہ کہیں
کھپا لیں گی مگر اب سبھی کو اپنے عزیز تھے۔ حمدہ کی خاطر وہ بھلا کیونکر باقر علی سے دشمنی مول
لے لیتے۔ بھائی اس کا خود ڈر کر لندن جا بیٹھا تھا۔ بہنوں کی اپنی زندگی تھی، باپ کا کیا وہ بھگت رہی
تھی۔
’’تو پھر اب کیا سوچا آپ نے؟‘‘ بڑی اذیت سے اماں کے چہرے کو دیکھا۔
’’میں سوچ رہی ہوں کہ تم کو سرگودھا اپنی خالہ کے گھر بھیج دوں۔ میں پچھلے دنوں فوتگی پر جب گئی
تھی تو میری سرگودھا والی خالہ بھی ادھر آئی ہوئی تھیں۔ شادی کے بعد چند دن ایک بار ہی سرگودھا آنا
جانا ہوا ہے۔ خالہ کو ساری بات بتائی تو کہنے لگیں کہ تمہیں ان کے پاس بھیج دوں اور کسی سے ذکر بھی
نہ کروں۔ گائوں والے یہی کہتے رہیں گے کہ ہم دونوں کہیں چلی گئی ہیں، بھلے کہتے رہیں اب ایک باقر
علی کی وجہ سے تمہاری زندگی برباد کرنے سے تو رہی؟ بی بی سے میں نے ذکر کیا ہے۔ وہ کہہ رہی تھیں
گیا
کہ اچھا فیصلہ ہے۔ جس طرح باقر علی آج کل کچھ بھی کر دینے پر تلا ہوا ہے، مجھے تو خود ڈر لگنے لگ
ہے۔ آج صاف کہہ گیا ہے کہ اگر میں ایک دو دن میں نکاح کا بندوبست نہیں کر سکی تو وہ خود تمہیں
اُٹھوا لے گا۔ گائوں والوں نے خاصا بیچ بچائو کروایا ہے۔ اب تو برادری والے بھی کہنے لگ گئے ہیں کہ کہیں
نہ کہیں تو تمہارا بیاہ کرنا ہی ہے نا تو باقر علی سے ہی کر دوں۔‘‘ حمدہ نے لب بھینچ کر سر جھکا لیا۔
’’میں خالہ کا نمبر لے آئی تھی آج بی بی کے ہاں ان سے مشورے کے بعد خالہ کو کال کی تھی، وہ کہہ رہی
تھیں کہ ایک دو دن میں تمہیں لے کر سرگودھا آ جائوں اور کسی سے بھی ذکر نہ کروں، اس کے بعد کوئی
مناسب رشتہ دیکھ کر تمہاری شادی کر دیں گے۔‘‘’’اور شادی کر دینا جیسے بڑا آسان کام ہے نا؟‘‘ حمدہ کا جی چاہا کہ کہہ دے مگر متفکر اور پریشان ماں کو
وہ اپنے لفظوں سے مزید چھلنی نہیں کر سکتی تھی۔
’’اور اگر باقر علی کو پتہ چل گیا تو؟‘‘
’’نہیں چلے گا… بی بی کے علاوہ کسی اور کو پتا ہی نہیں ہو گا کہ ہم کہاں ہیں۔‘‘ اماں خاصی ُپرجوش
تھیں لگتا تھا کہ وہ سارے حالات کا اچھی طرح تجزیہ کر کے اس سے بات کر رہی تھیں۔
’’اماں آپ قمر بھائی سے بات کریں۔ ہو سکتا ہے وہ ہمیں اپنے پاس بلوا لیں۔‘‘ حمدہ نے ایک اُمید بھری نگاہ
سے اماں کو دیکھا تو انہوں نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’قمر سے اگر اُمید ہوتی تو یہ حالات یہاں تک پہنچتے ہی کیوں؟ باقر علی جتنا بھی بدبخت سہی مگر
ایک دفعہ قمر اس کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا تو ساری برادری نے ہمارا ساتھ دینا تھا۔ میں نے
کئی بار اس سے فون کر کے بات کی ہے پر ہر بار ٹال جاتا ہے۔‘‘ حمدہ نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔
’’میں چھوٹی حویلی جا رہی ہوں۔ آج باقر علی کو میں نے سامنے والی حویلی میں دیکھا تھا۔ تنہا گھر میں
رہنے کا کوئی فائدہ نہیں، اُٹھو میرے ساتھ ہی چلو۔‘‘ باقر علی کے ذکر پر وہ فوراً بستر سے اُتر گئی تھی۔
اماں ایک منٹ کے لیے اسے گھر میں تنہا نہیں چھوڑتی تھیں۔ خصوصاً ان دنوں تو ہر گز نہیں جب وہ
گائوں یا سامنے والی حویلی میں دکھائی دے جاتا تھا۔
’’کتاب وغیرہ لینی ہے تو لے لو… میرا شام تک ادھر ہی ُرکنے کا ارادہ ہے۔ ہو سکتا ہے تب تک یہ منحوس
باقر علی بھی یہاں سے دفعان ہو چکا ہو۔‘‘ اماں اسے ہدایت دے کر کمرے سے نکل گئیں تو وہ سر ہلاتی
اپنی کتابوں والی الماری کی طرف بڑھی۔ اپنی برائون چادر لے کر وہ جانے کے لیے بالکل تیار تھی۔
حمدہ کو چھوٹی حویلی میں آنا ہمیشہ سے ہی اچھا لگتا تھا، یہاں آنے کی بڑی وجہ یہاں کی خاموشی
ہوتی تھی، بی بی اور ماریہ تنہا ہوتی تھیں۔ ماریہ کی شادی ہو گئی اور وقت نے کروٹ بدلی تو حمدہ
لوگوں کی اپنی سفید حویلی بھی ان کے ہاتھ سے نکل گئی اور پھر کچھ عرصہ اماں کے ہمراہ اسے اس
حویلی میں مستقل رہنا بھی پڑا تھا اماں کے میکے کی نسبت یہاں رہنے کو وہ ترجیح دیتی تھی، کہ یہ
حویلی اسے ہمیشہ سے پسند تھی۔ اس حویلی میں اس کی دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ اوپر والے
پورشن پر بنی لائبریری تھی۔ اس دن بھی باقر علی سے سامنے کے بعد وہ آنسو بہاتی حویلی میں آئی
تھی تو اس کا ارادہ اوپر والے حصے میں بنی اس لائبریری میں جانے کا تھا کہ عمر سے ٹکرا گئی۔ اس دن
کے بعد وہ دوبارہ حویلی نہیں آئی تھی، مگر جس طرح عمر کو کالج سے واپسی پر راستے میں چند دنوں
سے دیکھ رہی تھی وہ سب اسے اُلجھا رہا تھا۔
اماں اسے حویلی چھوڑ کر خود زلیخا اماں کو لے کر نزدیکی بازار چلی گئی تھیں، وہ کچھ دیر بی بی کے
پاس بیٹھی تھی عمر گھر پر نہیں تھا، حمدہ اس کی غیر موجودگی کا سن کر ُپرسکون ہو گئی تھی۔ عصر
کی نماز بی بی اور اس نے اکٹھے ہی پڑھی تھی نماز کے بعد بی بی نے کوئی وظیفہ شروع کر دیا تو حمدہ
زینہ طے کرتے اوپر لائبریری میں چلی آئی تھی۔ماریہ کے پاس کتابوں کا اچھا کلیکشن تھا، وہ مختار مسعود کی آواز دوست نکال کر آرام دہ صوفے پر آ
بیٹھی تھی۔ کالج سے آنے کے بعد وہ سوئی نہیں تھی اب کتاب پڑھتے خودبخود نیند آنے لگی تو وہ اسی
ٹو سیٹر صوفے پر نیم دراز ہو گئی تھی۔
عمر جب حویلی لوٹا تو ماں جی کو مختار چاچی اور زلیخاں اماں کے ہمراہ بیٹھے پایا ارد گرد خریداری کا
سامان تھا۔
’’السلام علیکم…‘‘
’’و علیکم السلام۔‘‘ تینوں نے اکٹھے جواب دیا تھا۔ اماں زلیخا اور مختار چاچی ابھی گائوں لوٹی تھیں اور
اس وقت بیٹھی خریدا ہوا سامان دیکھ رہی تھیں۔
’’کہاں رہے آج سارا دن؟‘‘ ماں جی نے عمر سے پوچھا، وہ آج سارا دن حویلی سے غائب رہا تھا۔
’’بس کہاں رہنا تھا، ماموئوں کی طرف چلا گیا تھا بڑی حویلی۔ ساری دوپہر وہاں گزار کر وہاں سے واپسی
پر باغات کی طرف چلا آیا تھا پھر کچھ جاننے والے مل گئے تو سارا وقت ادھر ہی گزر گیا۔‘‘ عمر ماں جی کے
پاس ہی تخت پر بیٹھ گیا تھا۔
’’آگے کا کیا سوچا ہے بیٹا؟‘‘ چاچی مختار نے پوچھا تو عمر ہنس دیا۔
’’ارادہ تو میرا اپنا بزنس کرنے کا ہے مگر ماں جی چاہتی ہیں کہ میں شہر جا کر علیحدہ سے کچھ کرنے کی
بجائے ماموئوں کے ساتھ مل کر کام کروں یا پھر زمین وغیرہ کے معاملات دیکھوں۔‘‘
’’سوچ تو بی بی کی بھی ٹھیک ہے۔ تجربہ چاہیے ہوتا ہے۔ عرصے بعد لوٹے ہو کچھ وقت لگتا ہے ہر کام
سمجھنے میں۔‘‘ مختار چاچی نے اپنی رائے دی۔
’’چلیں دیکھتے ہیں کہ کیا کرتا ہوں، آپ سنائیں طبیعت ٹھیک ٹھاک ہے؟ گھر میں سب خیریت ہے نا؟‘‘
’’اللہ کا شکر ہے۔‘‘ مختار چاچی نے جواب دیا تو عمر اُٹھ کھڑا ہوں۔
’’میں چینج کر لوں۔‘‘
’’حمدہ کہاں ہے نظر نہیں آ رہی؟‘‘ عمر آگے بڑھا تو مختار چاچی نے بی بی سے پوچھا۔ عمر فوراً ٹھٹکا۔
’’تو کیا حمدہ بھی آئی ہوئی تھی؟‘‘ عمر کو اپنی دھڑکنوں میں ایک عجیب سا ارتعاش پیدا ہوتا محسوس
ہوا۔
’’وہ اوپر کتابوں والے کمرے میں ہے۔ مغرب کی نماز بھی شاید اندر ہی پڑھ لی ہو گی نیچے تو نہیں اُتر
ابھی تک۔‘‘ بی بی نے جواب دیا۔
عمر فوراً پلٹا اور اپنے کمرے کی طرف جانے کے بجائے لائبریری کی طرف چلا آیا۔
دروازہ کھلا ہوا تھا۔ پردے برابر تھے وہ پردہ ہٹا کر اندر بڑھا تو ٹھٹک گیا۔ وہ سامنے ہی صوفے پر نیم دراز
محو خواب دکھائی دی۔ برائون چادر اس کے وجود پر مخصوص انداز میں لپٹی ہوئی تھی کتاب سینے پر
دھری تھی ایک ہاتھ کتاب پر اور دوسرا پہلو میں تھا۔ وہ محو خواب عجیب سا ماورائی کردار لگی تھی یا
پھر خوبصورت مصور کا تراشیدہ پوز۔ عمر کو لگا اس کے دل و دماغ میں ایک کوندا سا لپک گیا ہے۔ وہمجسمہ ُحسن تھی، نازک پیکر بے خبری کے عالم میں بھی کسی کے وجود میں ہزار قیامتیں برپا کرنے کی
صلاحیت رکھتا تھا۔
عمر کا جی چاہا کہ آگے بڑھے اور بے خبری کی نیند میں محو اس نازک سے پیکر کو چھو کر دیکھے مگر عقل
احساسات پر غالب آ گئی تو اس نے وہیں دہلیز پر کھڑے کھڑے ہی دروازے کو ناک کیا تھا۔ ایک بار… دو
بار… عمر نے تیسری بار ناک کیا تو حمدہ نے پلکیں وا کر دیں۔
’’حمدہ…؟‘‘ کسی نے پکارا تھا۔ نیند کی حالت میں اس نے صرف گردن گھما کر دیکھا مگر دروازے پر موجود
شخص کر دیکھ کر ہڑبڑا کر اُٹھی تھی۔
’’آپ؟‘‘ وہ اس جگہ عمر ہاشم کی موجودگی کی توقع نہیں رکھتی تھی۔ ایک دم کھڑی ہو گئی تھی۔ اس
کے سینے پر رکھی کتاب نیچے قالین پر جا گری تھی۔
’’السلام علیکم! کیسی ہیں آپ؟‘‘ وہی مخصوص انداز تھا دیکھنے کا، حمدہ کنفیوز سی ہو گئی تھی۔
’’و علیکم السلام! میں ٹھیک ہوں۔‘‘ کتاب اُٹھا کر وہ عمر کی طرف سے ُرخ موڑ کر ریک کی طرف بڑھ گئی
تھی۔ کتاب واپس اس کی جگہ پر رکھ کر پلٹی تو عمر کو اسی طرح کھڑے پایا۔
عمر کے دیکھنے کا انداز برقرار تھا۔ حمدہ کی پیشانی کی سلوٹیں واضح ہو گئیں۔ یہ شخص ایسے کیوں
دیکھتا ہے؟ وہ اُلجھ گئی تھی۔
’’کیسی طبیعت ہے اب آپ کی؟‘‘ عمر کا اس سے بات کرنے کا موڈ تھا، حمدہ نے محض سر ہلا دیا۔
’’سر کا زخم کیسا ہے اب؟‘‘
’’جی بہتر ہے۔‘‘
’’آپ کو میں نے شاید ڈسٹرب کر دیا ہے۔ آپ کی نیند خراب کر دی؟‘‘ حمدہ نے سر اُٹھا کر سنجیدگی سے
عمر ہاشم کو دیکھا۔ اس کی نگاہوں میں وہی مخصوص تاثر تھا وہ اُلجھ گئی۔
حمدہ کا جی چاہا کہ وہ اس کو اس طرح دیکھنے سے ٹوک دے جھڑک دے، مگر پھر سر جھکا لیا کہ وہ یہ
سب نہیں کر سکتی تھی۔
’’نہیں… میں تو بس کتاب پڑھنے بیٹھی تھی نجانے کیسے نیند آ گئی؟ چلتی ہوں۔‘‘ وہ مزید ایک منٹ بھی
وہاں ُرکے بغیر عمر کے قریب سے گزرتے تیزی سے نکل گئی تھی۔
وہ اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا اس کے ہاتھ میں وہی کتاب تھی جو دو دن قبل اسٹڈی میں حمدہ کے پاس
تھی۔ حمدہ کے جانے کے بعد وہ یہ کتاب لے کر اپنے کمرے میں آ گیا تھا اور جب بھی فارغ ہوتا تھا یہ کتاب
لے کر لیٹ جاتا تھا، اس کتاب میں سے اسے حمدہ کے وجود کی خوشبو محسوس ہوتی تھی۔
عمر اپنے اس پاگل پن پر خود حیرت زدہ تھا مگر وہ اس مسرور کن کیفیت سے نکلنا نہیں چاہتا تھا۔ اس
کیفیت میں ایک حیات بخش سرور تھا۔ اس نے ایک بڑی پریکٹیل لائف گزاری تھی، وہ عشق و محبت کو
تھا
قطعی اہمیت دینے والا انسان نہ تھا اور پاکستان آتے ہی جس وجود سے سامنا ہوا تھا وہ حمدہ کا ہی
اور جس طرح حمدہ کے وجود کا احساس اس کے دل کے نہاں خانوں میں پیدا ہوا تھا وہ خود بھی اپنی اسکیفیت پر حیران تھا۔ حمدہ اپنے گھر جا چکی تھی اس کے گھر جا کر اس کو دیکھنے کی کوشش ناکام
ٹھہری تھی اس کے اگلے روز ہی وہ ان کے ہاں گیا تھا مگر وہ میڈیسن لے کر سوئی ہوئی تھی چاچی مختار
سے مل کر وہ آ گیا تھا اور پھر بار بار جانے کی بھی کوئی خاص وجہ نہ تھی بس چار دن اسی کشمکش
میں گزرے تھے اور اس سے اگلے دن آموں کے باغات کی طرف جاتے ہوئے وہم و گمان بھی نہ تھا کہ جس
چہرے کو دیکھنے کے لیے اس قدر بے قرار ہے وہ سردیوں کی اس دوپہر میں ایک دم اچانک یوں سر راہ
نظر آ جائے گا۔
حمدہ پر پہلی نگاہ ڈالنے کے بعد اس نے نگاہ جھکا لی تھی وہ تنہا نہ تھی مگر اس کے بعد جو سکون جو
قرار دل کو ملا تھا اپنی اس کیفیت پر عمر خود بھی پریشان تھا اور اگلے دن کل والے مخصوص وقت پر
عمر ہاشم کے قدم خودبخود اسی راستے پر ہو لیے تھے اور حمدہ پر نگاہ پڑتے ہی اسے شدت سے احساس
ہوا کہ وہ اس وجود سے انجانے میں پہلی نگاہ والی محبت کر بیٹھا ہے۔
“”Lofe in first sightکیا ہوتا ہے تب اس نے جانا تھا اور پھر اگلا پورا ہفتہ اسی مخصوص روٹین میں گزرا
تھا۔ اب دل ایک نگاہ دیکھ لینے کے بعد مزید مراحل طے کرنے کی سوچ رہا تھا۔ دیکھنے کی لذت سے آشنا
ہونے کے بعد وہ اب بات کرنے، روبرو ملنے کے تقاضے کرنے لگا تھا۔ وہ جانتا تھا یہ خاصا پریشان کن مرحلہ
ہے، مگر وہ اپنے آپ کو بڑی مشکل سے سنبھال رہا تھا کہ وہ اسے اچانک اسٹڈی میں نظر آ گئی تھی۔ وہ
اب دو دن سے کالج نہیں جا رہی تھی تو عمر کو لگ رہا تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں وہ اسے نظر نہ آئی تو
وہ تمام تر احتیاط بالائے طاق رکھتے ان کے گھر پہنچ جائے گا۔ وہ بہانے بہانے سے نسرین اور اماں زلیخا
سے اس کی طبیعت بھی دریافت کر چکا تھا، چند بار چاچی مختار بھی حویلی میں نظر آئی تھیں، بڑے راز
دارانہ انداز میں ماں جی سے گفتگو کرتی دکھائی دی تھیں، ان سے بھی برا ِہ راست اس نے حمدہ کی
طبیعت کا پوچھ لیا تھا مگر کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا تھا کہ وہ اچانک گھر میں کیوں قید ہو
گئی ہے۔ کالج کیوں نہیں جا رہی۔ قوی امکان یہ بھی تھا کہ کہیں وہ پکی سڑک کی طرف سے تو نہیں
جانے لگ گئی مگر صبح وہ فجر کے بعد سے اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر پکی سڑک کی
طرف جانے والے راستے پر نگاہیں جمائے رکھتا تھا اور پھر نو دس بجے نااُمید ہو کر وہاں سے ہٹ جاتا تھا۔
’’کہاں گم ہو گئی ہو اچھی لڑک ٖی! نظر کیوں نہیں آ رہیں؟‘‘ اس وقت اپنے بستر پر لیٹا سینے پر کتاب رکھے
وہ تصور ہی تصور میں حمدہ سے مخاطب تھا، جب اس کے دروازے پر دستک ہوئی تھی۔
’’آ جائو۔‘‘ عمر کو پتہ تھا کہ رات کے وقت اماں زلیخا اسے دودھ دینے آئی ہوں گی مگر ماں جی کو اندر
داخل ہوتے دیکھ کر وہ فوراً اُٹھ بیٹھا تھا، کتاب سینے سے ہٹا کر سائیڈ پر رکھی تھی۔
’’ماں جی آپ؟‘‘ فوراً بستر سے اُتر کر آگے بڑھ کر ماں جی کا ہاتھ تھام کر بستر پر لا بٹھایا تھا۔
’’خیریت… کوئی کام تھا تو مجھے بلوا لیا ہوتا۔ آپ نے اوپر آنے کی زحمت کی۔‘‘ خود بھی ماں جی کے ساتھ
ہی بیٹھ کر پوچھا۔
ماں جی کو گھٹنوں کا درد رہتا تھا وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر نہیں آتی تھیں۔ عمر کی بات پر مسکرا دیں۔
’’ہاں… بڑا ضروری کام تھا، سوچا خود ہی تمہارے پاس جائوں۔‘‘ عمر ہمہ تن گوش ہو گیا۔’’آپ حکم کریں ماں جی۔‘‘
’’جب سے آئے ہو بڑے خاموش رہتے ہو۔ کوئی بات ہے؟ کوئی پریشان ہے کیا؟‘‘ وہ ماں تھیں اس کے اندر کے
حال سے بھلے بے خبر تھیں مگر اس کی ظاہری بیقراری تو دیکھ سکتی تھیں نا۔ عمر ان کی اس درجہ فکر
مندی پر مسکرا دیا۔
’’بھلا آپ کے ہوتے ہوئے مجھے کیا پریشانی ہو گی ماں جی! ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘
’’تم اتنا عرصہ گائوں، حویلی اور رشتوں سے دور رہے ہو، اب عرصے بعد لوٹے ہو یہاں گائوں میں بہت کچھ
بدلا ہے۔ میں نے ساری زندگی تمہاری اور ماریہ کی خاطر تنہا گزار دی، تمہارے باپ اور ددھیال والوں نے
جو بھی کیا میں وہ نہیں دہرائوں گی، تمہاری آس میں، میں نے یہ زندگی کاٹ دی ہے بیٹا۔‘‘ ماں جی کہہ
با
رہی تھیں، عمر اُلجھ گیا، یقینا ماں جی بہت ہی خاص ت کہنا چاہتی تھیں۔ یہ سب تمہید تھی شاید۔
’’ماں جی آپ جو بھی کہنے آئی ہیں بلا توقف کہہ دیں۔‘‘ عمر نے ان کے دونوں ضعیف ہاتھ تھام لیے تو وہ
مسکرا دیں۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: