Dhal Gai Phir Hijar Ki Raat by Sumaira Sharif – Episode 5

0

’’تمہارے بڑے ماموں نے اپنی بیٹی کا رشتہ ڈالا ہے۔‘‘
’’اوہ…‘‘ عمر نے ایک گہرا سانس لیا۔ ماموں کی بیٹی زویا پڑھی لکھی بظاہر اچھی لڑکی تھی۔ اگر اماں چند
دن پہلے جب وہ باہر تھا اس سے کہتی تو اسے کوئی اعتراض نہ ہوتا۔
’’پھر آپ نے کیا کہا؟‘‘
’’تمہاری مرضی کے بغیر میں بھلا کیسے ہاں کہہ سکتی تھی۔
’’آپ کی اپنی مرضی کیا ہے؟‘‘ عمر نے سنجیدگی سے ماں جی سے دریافت کیا۔
’’سچ پوچھو تو دونوں ماموئوں کے ہاں رشتہ داری کرنے کا میرا دل ہی نہیں مانتا۔ زویا اچھی بچی ہے، مگر
سالوں سے ہاسٹل میں رہ رہی ہے اس کے بارے میں کئی طرح کی باتیں مشہور ہیں، آزاد خیال ہے، گائوں
کے ماحول میں نہیں رہ سکتی۔ پھر بھی تم ہر روز ماموں کے گھر جاتے ہو، ہو سکتا ہے تمہیں اچھی لگی
ہو۔ مگر میں راضی نہیں ہوں اور سب سے بڑی بات باقر علی کی بھانجی ہے اپنے اس ماموں سے اس کی
بہت بنتی ہے، اکثر باقر علی کے ساتھ اس کے گائوں گئی ہوتی ہے۔‘‘
’’اوہ… تو جب آپ کو پسند نہیں تو آپ انکار کر دیں۔ میں عرصے بعد لوٹا ہوں ماموں روز بلوا لیتے ہیں تو
مروتاً مجھے جانا پڑتا ہے، ان کے ہاں چکر لگانے سے مراد یہ نہیں کہ میں زویا کو پسند کرنے لگ گیا ہوں یا
میرا انٹرسٹ اس کی طرف ہے۔ نیور…‘‘ عمر نے واضح الفاظ میں انکار کر دیا تو ماں نے گہرا سانس فضا
میں چھوڑا۔
’’اس لیے میں نے ابھی جواب نہیں دیا تھا کہ تم سے بھی پوچھ لوں۔‘‘
’’آپ صاف انکار کر دیں۔‘‘
’’ہاں میں بھی سوچ رہی تھی۔ اس بات کے علاوہ بھی مجھے تم سے ایک بہت ضروری کام تھا۔‘‘ ماں جی
اب اصل بات کی طرف آئی تھیں۔
’’کیسا کام؟‘‘’’تمہیں آج رات تین بجے کے قریب ڈرائیور کے ہمراہ کسی کو لے کر سرگودھا جانا ہے۔‘‘ ماں جی کا انداز
سرگوشیانہ ہو گیا تھا۔ عمر نے اُلجھ کر انہیں دیکھا۔
’’خیریت… کس کو لے کر جانا ہے؟‘‘
’’تم مختار اور اس کی بیٹی کے حالات سے متعلق اتنے دنوں میں تھوڑا بہت باخبر ہو ہی گئے ہو گے؟‘‘ ماں
جی نے پوچھا تو حمدہ کے ذکر پر وہ ایک دم فوراً کانشس ہو کر بیٹھ گیا تھا۔
’’جی… ماریہ باجی نے ہی ان لوگوں کے حالات سے متعلق بتایا تھا۔
’’باقر علی کا تقاضا دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ اب ہر دوسرے روز وہ مختار کے گھر پہنچا ہوتا ہے۔ حالات نے
مختار کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ وہ اور اس کی بیٹی دنیا کی نظروں میں تماشہ بن گئی ہیں، کوئی
بھی ان کی مدد کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتا۔ باقر علی کے پاس پیسہ ہے، اچھے بُرے ہر طرح کے لوگوں
سے تعلقات ہیں۔ غنڈہ گردی میں ماہر ہے۔ نہ اُسے اپنی عمر کا خیال ہے اور نہ ہی کسی کی عزت بے عزتی
کا۔‘‘ اماں کے لہجے میں ُدکھ اور تاسف تھا، عمر کو لگا اس کا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو۔
’’کیا ہوا ہے چاچی مختار کی بیٹی ٹھیک تو ہے نا؟‘‘ اپنے آپ کو نارمل رکھنے کے باوجود وہ پوچھے بغیر نہ رہ
پایا تھا، اس کے لہجے میں بے حد تشویش تھی۔
’’ابھی تک وہ بیچاری عزت سے ہی ہے، مگر باقر علی مختار کو کل کہہ گیا تھا کہ اگلے مہینے کی بیس
تاریخ کو شادی کی تیاری رکھے۔ بیچاری بڑی پریشان ہے، پیسہ سارا شوہر اپنی زندگی میں ہی بُرے کاموں
میں اُجاڑ گیا، ایک حویلی تھی وہ بھی اب باقر علی کے پاس ہے۔ لے دے کے یہ گھر جس میں رہ رہے ہیں اور
نہر کے پاس والی زمین رہ گئی ہے، وہ بھی یوں کہ یہ مختار کے نام تھی۔ جب تم آئے تھے، مختار ایک
فوتگی میں گئی تھی، مختار کی ایک خالہ ہے اس نے اپنی مرضی سے ایک خاصے جاگیردار بندے سے
شادی کی تھی، اس فوتگی میں اس کی مختار سے بھی ملاقات ہوئی تھی، اپنی اس خالہ سے یہ لوگ کم
ہی ملتے جلتے ہیں، مختار کے سارے حالات جان کر اس نے مختار کو کہا تھا کہ وہ بیٹی کو لے کر سرگودھا آ
جائے، اس کے بیٹے اعل ٰی اور اونچے عہدوں پر ہیں وہ سب سنبھال لیں گے۔ بس یہاں کسی کو پتہ نہ
چلے۔‘‘ عمر یہ سب سن کر ششدر رہ گیا تھا، اس کے دل و دماغ میں اس ساری گفتگو سننے کے بعد یہی
خیال آیا تھا کہ وہ اب حمدہ کو نہیں دیکھ پائے گا اسی تصور نے اسے اچھا خاصا پریشان کر دیا تھا۔
’’پر اس کا کیا حل ہو گا؟‘‘
’’مختار نے اپنی خالہ اور اس کے بیٹوں سے اچھی طرح صلاح مشورہ کر کے ہی فیصلہ کیا ہے کہ آج رات
حمدہ کو یہاں سے نکال دیا جائے باقر علی گائوں میں ہی ہے اس لیے آدھی رات کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
ہمارا ڈرائیور قابل بھروسہ ہے میں سمجھا دوں گی وہ کسی کے سامنے پھر زبان نہیں کھولے گا، تم کو
ساتھ بھیج رہی ہوں کہ لڑکی ذات ہے، اتنا لمبا سفر ہے پھر اچھی خاصی خوبصورت اور جوان ہے، خدا جانے
راستے میں کیا حالات ہوں، تم ساتھ ہو گے تو ہمیں تسلی رہے گی تم حمدہ کو وہاں سرگودھا میں چھوڑ کر
دو تین دن میں واپس آ جانا، یہاں میں سب کو بتا دوں گی کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ مری سیر کے لیے
نکلے ہوئے ہو۔ مختار نے دو دن سے حمدہ کو گھر سے نہیں نکلنے دیا۔ چند دن اسی طرح گزر جائیں گے۔ اگرکسی کو شک بھی ہوا تو مختار کہہ دے گی کہ حمدہ اپنی بہن نگہت کے پاس ہے۔ جانا تو مختار کو بھی
ساتھ تھا مگر مختار اپنے خالہ زاد بھائیوں کے سمجھانے پر اب ُرک گئی ہے کہ اس طرح دونوں کے غائب
ہونے پر کسی کو شک نہ ہو جائے۔ مختار ادھر ہی رہے گی تاکہ باقر علی اطمینان سے رہے، اگر اس کو ذرا
سا بھی شک ہو گیا تو وہ تو مرنے مارنے پر تل جائے گا۔ حمدہ والے قصے کو اس نے زندگی موت کا معاملہ
بنا رکھا ہے۔‘‘
’’پھر اس کے بعد کیا ہو گا اور جب اگلے ماہ تک حمدہ واپس گائوں نہ پہنچی اور باقر علی شادی کے لیے آ
پہنچا تو پھر؟‘‘
’’مختار کے خالہ زاد بھائیوں نے اسے تسلی دی ہے کہ اس دوران وہ کہیں اچھی جگہ رشتہ دیکھ کر حمدہ
کی شادی کروا دینے کی کوشش کریں گے اور باقر علی نے پتا چلنے پر شور کیا تو وہ اس کا بھی بندوبست
کر لیں گے۔ بس ایک بار حمدہ کی شادی ہو جائے۔‘‘ عمر کو لگا کہ اس کے اعصاب پر گویا بم پھٹا ہے۔
ماں جی کی ساری گفتگو سننے کے بعد اس کے دل کی بیقراری کئی گنا بڑھ گئی تھی۔
’’اور مختار چاچی کی خالہ کی فیملی کیسی ہے؟ آئی مین کریکٹر وائز کیسے لوگ ہیں؟‘‘
’’مختار تو ان کی بڑی تعریفیں کرتی ہیں۔ پہلے ہمار ارادہ یہی تھا کہ تم لوگ حمدہ کو چھوڑ کر واپس آ
جائو گے مگر پھر میں نے ہی مختار کو مشورہ دیا تھا کہ اکیلی جوان لڑکی کو اجنبی لوگوں میں چھوڑ کر آ
جانے کی کوئی ُتک نہیں بنتی۔ عمر تم چند دن وہاں ُرکنا، وہاں کے اندرونی حالات اور گھر والوں کے طور
طریقوں کو اچھی طرح دیکھنا اگر تمہیں لگے کہ حمدہ کے وہاں رہنے میں خطرے والی کوئی بات نہیں تو
ٹھیک ورنہ پھر جس طرح تم لے کر جائو گے واپس لے آنا۔‘‘ عمر نے ایک گہرا سانس لیا۔ یعنی اس کو حمدہ
کے قریب رہنے کی کچھ مہلت مل رہی تھی۔
’’کب نکلنا ہے؟‘‘
’’رات تین بجے… حمدہ کو مختار حویلی میں چھوڑ گئی ہے۔‘‘
’’حمدہ اس وقت حویلی میں ہے۔‘‘ عمر کے لیے یہ بات بڑی خوشگوار تھی۔
’’تم سو جائو اب… میں نے زلیخا اور نسرین دونوں کو چھٹی دے دی ہے سلطان کو پتہ نہیں چلے گا میں تم
لوگوں کے پہنچنے سے پہلے ہی حمدہ کو گاڑی میں سوار کروا دوں گی۔ سلطان کو یہی پتا ہو گا کہ تم اور
ڈرائیور مری کی سیر کے لیے نکلے ہو۔ ہاں اپنی تیاری کر لینا، وہاں تمہیں چند دن ُرکنا ہو گا۔‘‘ بی بی جان
اسے ہدایات دیتے اُٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’آئیں میں آپ کو نیچے کمرے تک چھوڑ آئوں۔‘‘ یقینا حمدہ نیچے ماں جی کے کمرے میں ہی ہو گی۔ اس کو
دیکھنے، صرف ایک نگاہ دیکھ لینے کی خواہش اس قدر شدید تھی کہ ماں جی کے ساتھ فوراً وہ بھی اُٹھ
کھڑا ہوا تھا۔
’’تم سو جائو۔‘‘ ماں جی نے روکنا چاہا۔
’’نہیں… کچھ نہیں ہوتا۔‘‘ وہ ماں جی کو بازوئوں کے حصار میں لیے کمرے سے نکل آیا تھا۔ ماں جی اس
محبت پر مسکرا دی تھیں۔زینہ طے کر کے وہ ماں جی کے کمرے کے سامنے آ ُرکا تھا۔
دروازے کے دوسری طرف وہ تھی مگر ماں جی نے دروازے کے باہر سے ہی اسے جانے کو کہہ دیا تھا، عمر
کو لگا کہ وہ کنویں کے پاس پہنچ کر پیاسا لوٹایا جا رہا ہے۔ اس کے دل کی حالت عجیب سی ہو گئی۔
وہ ساری رات نہیں سو پایا تھا۔ وہ وقت سے بہت پہلے ہی اُٹھ کر تیار ہو چکا تھا۔ تین بجے کے قریب وہ
نیچے آیا تو اماں باہر سے آتی دکھائی دیں۔
’’بشیر (ڈرائیور) آ چکا ہے۔ اس کو ہی پتہ ہے کہ تمہارے ساتھ چند دنوں کے لیے مری جا رہا ہے، اس کو
راستے میں ہی سمجھا لینا۔ حمدہ کو میں گاڑی میں بٹھا آتی ہوں، یہ کچھ رقم ہے رکھ لو، کام آئے گی۔‘‘
ماں جی اسے جلدی جلدی ہدایات دے رہی تھیں۔
’’اس کارڈ پر سرگودھا جہاں پہنچنا ہے، اس جگہ کا سارا پتہ درج ہے، یہ فون نمبرز بھی ہیں۔ یہ مختار کی
خالہ کا نمبر ہے وہ اچھی طرح سمجھا دیں گی۔‘‘ عمر نے اپنا سفری بیگ تھام رکھا تھا، اماں سے مل کر ان
کو اچھی طرح تسلی دے کر وہ گاڑی کی طرف چلا آیا تھا، بشیر اصل صورتحال سے بے خبر تھا۔ اس نے
فرنٹ ڈور کھولا تو وہ ہاتھ کے اشارے سے منع کرتے پچھلا دروازہ کھول کر بیٹھ گیا تھا۔
سلطان بابا نے گیٹ کھول دیا تھا، بشیر نے گاڑی نکالی تو عمر نے اس دوران بھاری جیپ کے پردے برابر کر
دئیے تھے۔ گاڑی کی لائٹ آف ہی تھی عمر نے موبائل کی روشنی میں دیکھا۔ حمدہ اس کے دائیں طرف
اپنی مخصوص چادر اپنے گرد لپیٹتے بیٹھی ہوئی تھی۔ بس اس دفعہ فرق یہ تھا کہ اس بار چادر نے اس
کے وجود کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے کو بھی ڈھانپ رکھا تھا۔ عمر دل کی ہزار خواہشوں کے باوجود اس
کا چہرہ نہ دیکھ پایا تھا۔
’’السلام علیکم!‘‘ عمر نے آہستگی سے اسے پکارا تو وہ محض سر ہلا گئی۔
’’کافی لمبا سفر ہے آپ آرام و سکون سے سو جائیں۔ آپ کو باحفاظت آپ کی منزل تک پہنچانا اب ہمارے
ذمہ ہے۔‘‘ عمر نے اسی دھیمے انداز میں کہا تو حمدہ نے دوبارہ سر ہلا کر سیٹ کی پشت گاہ سے سر ٹکا
لیا۔ گاڑی گائوں کی حدود سے نکلی تو عمر نے گہرا سانس لیا۔
’’بشیر گاڑی کی لائٹس آن کر لو۔‘‘ حفظ ماتقدم کے طور پر انہوں نے لائٹس روشن نہیں کی تھیں۔ بشیر نے
عمر کے حکم پر بیرونی لائٹس کے ساتھ ساتھ اندرونی لائٹس بھی روشن کر دی تھیں۔ عمر نے دیکھا لائٹ
روشن ہونے پر حمدہ نے اپنی آنکھوں پر بازو رکھ لیا تھا، وہ یقینا خاموشی سے آنسو بہا رہی تھی۔
’’آپ رو رہی ہیں؟‘‘ عمر کو اس کے رونے سے خاصی تکلیف ہوئی تھی۔ حمدہ نے چونک کر اسے دیکھا وہ
متوجہ تھا۔ وہی نگاہ کا مخصوص تاثر… حمدہ کا دل لرز کر رہ گیا۔ وہ لب بھینچ کر سر جھکا گئی تھی۔
بشیر بھی لائٹ آن ہونے کی وجہ سے اندرونی منظر دیکھ کر چونک گیا تھا۔ برائون چادر میں لپٹا وجود اسے
حیرت زدہ کرنے کو کافی تھا، مگر وہ اُلجھ گیا تھا بیک ویو مرر سے اس نے عمر کی طرف دیکھا مگر وہ
جرأت کے باوجود پوچھنے کی ہمت نہ کر پایا۔ عمر نے اس کی توجہ محسوس کر لی تھی اور مسکرا دیا۔
’’بشیر ہم مری نہیں بلکہ سرگودھا جا رہے ہیں۔ گاڑی سرگودھا روڈ کی طرف موڑ لو اور ہاں پریشان مت
ہوں میں تمہیں راستے میں سمجھا دوں گا، اور گاڑی کی اندرونی لائٹ آف کر دو۔‘‘ اس کے بعد سفرخاموشی سے کٹنے لگا تھا۔ تین گھنٹوں کے سفر کے بعد وہ گجرات دریائے چناب کا پل کراس کر رہے تھے تو
وہاں ہوٹل کا انتظام دیکھ کر عمر نے گاڑی روکنے کو کہا تھا۔
’’یہاں کیوں روکی ہے؟‘‘ حمدہ نے چونک کر عمر کو دیکھا۔
’’کچھ دیر یہاں ٹھہر کر فریش ہو لیں۔ سردی کی وجہ سے چائے یا کافی کی ضرورت ہو گی تو وہ پی لیتے
ہیں۔‘‘ حمدہ خاموش ہو گئی تھی اور عمر کے کہنے پر گاڑی سے نکل آئی تھی۔
عمر اسے لیے اندرونی حصے کی طرف آ گیا تھا ریسیپشن پر ُرک کر اس نے ایک کمرے کی چابی لی تھی۔
’’آئیں میں آپ کو کمرے تک چھوڑ آتا ہوں، کچھ دیر ُرک کر فریش ہو لیں۔ میں ادھر باہر ہی رہوں گا۔ اگر کچھ
کھانے پینے کی ضرورت ہو تو فون کر کے روم میں منگوا لیجیے گا۔‘‘ حمدہ، عمر کے سلجھے ہوئے انداز پر
شرمندہ ہو گئی تھی۔ عمر اسے روم تک چھوڑ کر واپس چلا گیا تھا۔ حمدہ نے فریش ہو کر منہ ہاتھ دھویا
تھا، باہر ابھی کافی اندھیرا برقرار تھا۔ وضو کر کے اس نے بستر کی چادر بچھا کر پہلے نماز پڑھی تھی، ابھی
وہ ُدعا مانگ رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی تھی اس نے چونک کر دروازے کو دیکھا اور پھر اُٹھ کر
قریب چلی آئی۔
’’جی… کون؟‘‘
’’عمر…‘‘ حمدہ نے دروازہ کھول دیا تو عمر کے ہمراہ ویٹر بھی تھا جس کے ساتھ چائے اور کھانے کے لوازمات
والی ٹرالی بھی تھی۔
عمر کے اشارہ کرنے پر ویٹر ٹرالی اندر لے آیا تھا اور پھر خاموشی سے واپس چلا گیا تھا۔ حمدہ جو چادر کا
پلو ہاتھ میں پکڑے چہرے پر رکھے کھڑی تھی ویٹر کے نکلنے پر اس نے پلو گرا دیا تھا۔
’’آپ نے خوا مخواہ زحمت کی۔ میں کسی بھی چیز کی ضرورت محسوس نہیں کر رہی۔‘‘ اس کے انداز میں
کچھ تلخی در آئی۔
’’مجھے اندازہ تھا اس لیے خود ہی منگوا لیا۔ آئیں کچھ لے لیں پلیز۔‘‘ عمر کا انداز شائستہ تھا وہ چپ ہو
گئی۔ جائے نماز والی چادر اُٹھا کر واپس بستر پر بچھا کر خود بھی بستر کے کنارے ٹک گئی تو عمر نزدیکی
صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔
’’ہم یہاں کب تک ُرکیں گے؟‘‘
’’آپ یہ لے لیں پھر نکلتے ہیں۔‘‘ عمر کے اشارہ کرنے پر اس نے ٹرالی اپنی طرف کھسکا لی تھی۔
چائے کے ساتھ دیگر لوازمات بھی تھے، چائے بنا کر چینی ملاتے ہوئے وہ ُرکی نظر اُٹھا کر عمر کو دیکھا وہ
اسی کی طرف متوجہ تھا، مسکرا دیا۔ وہی نگاہ کا دل موہ لینے والا مخصوص تاثر تھا۔
’’ہاف ٹی اسپون…‘‘ حمدہ کے اندر جھنجلاہٹ بڑی شدید تھی۔ مگر اپنے چہرے کو بمشکل نارمل کرتے
چینی ملا کر کپ بغیر عمر کی طرف دیکھے اس کی طرف بڑھا دیا تھا۔
’’شکریہ…‘‘ عمر نے کپ تھام لیا تھا۔ دونوں نے خاموشی سے چائے پی تھی حمدہ عمر کی طرف نہیں دیکھ
رہی تھی مگر گاہے بگاہے اپنے چہرے پر عمر کی ُپرتپش نظروں کی حدت شدت سے محسوس کر رہی تھی۔
ایسے میں اس کے چہرے کا رنگ بدلتا جا رہا تھا۔’’آپ کے پاس موبائل ہو گا؟‘‘ چائے پی کر عمر نے پوچھا تو حمدہ نے چونک کر اسے دیکھا وہ سنجیدہ تھا۔
’’جی ہے تو…؟‘‘ حمدہ سوال کے پس منظر سے بے خبر تھی۔ موبائل اس کے شولڈر بیگ میں تھا اور بیگ
اس نے کمرے میں آ کر بستر پر رکھ دیا تھا۔
’’ذرا دیں گی۔‘‘ حمدہ نے سر ہلا کر بیگ سے ایک معمولی سا سیٹ نکال کر عمر کی طرف بڑھا دیا۔
عمر نے موبائل لے کر پہلے تو چند منٹ اس کے تمام سسٹم کا جائزہ لیا اور پھر سم نکال کر موبائل واپس
حمدہ کی طرف بڑھا دیا تھا۔ حمدہ نے تھام تو لیا تھا مگر عمر کی اس حرکت سے اُلجھ گئی تھی۔ ساتھ ہی
عمر نے اپنی پاکٹ سے ایک اور موبائل سیٹ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا تھا۔
’’آپ کی احتیاط کے پیش نظر میں نے یہ سم نکالی ہے۔ ہو سکتا ہے گائوں سے ماں جی یا چاچی مختار آپ
کے نمبر پر کال کریں تو نمبر ٹریس کروانا آسان ہو جائے گا۔ اسی لیے یہ سیٹ رکھ لیں اس میں نئی سم ہے
یہ نمبر ماریہ باجی اور ماں جی کے علاوہ صرف میرے علم میں ہے اگر آپ یہ نمبر یوز کریں گی تو آپ کو
پریشانی نہیں ہو گی۔‘‘ حمدہ نے ایک گہری سانس لیا۔ اگر بات نمبر کی تھی تو وہ اپنے موبائل میں بھی
استعمال کر سکتی تھی مگر ایک نیا خاصا مہنگا اور قیمتی سیٹ دینا وہ سمجھ نہ سکی تھی۔
’’یہ نیو اسٹائل کا ایک کمپیوٹرائزڈ موبائل ہے۔ اس کا یہ فائدہ ہے کہ آپ کو لوکیشن ظاہر کیے بغیر تمام کالز
کا ریکارڈ یہ اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے اگر گائوں سے اس سیٹ پر کال کی جائے گی تو بھی ٹریس نہیں
کی جا سکے گی۔‘‘ عمر کی مزید وضاحت نے اسے قدرے ُپرسکون کیا تھا۔
’’ویسے بھی میرا یہ نمبر عام نمبر نہیں ہے۔ کوئی ٹریس کرنے کی کوشش بھی کرے تو پتا نہیں چل پائے
گا۔‘‘
’’مگر آپ کیا کریں گے؟‘‘ وہ سمجھی تھی کہ عمر نے اپنا موبائل اسے دے دیا ہے وہ مسکرایا۔
’’ڈونٹ وری میرے پاس اس جیسا ایک اور سیٹ بھی ہے۔‘‘ وہ قدرے ریلیکس ہو گئی تھی۔
حمدہ نے خاموشی سے موبائل اپنے بیگ میں رکھ لیا تھا حمدہ کے اس عمل سے عمر کے اندر ایک عجیب
سرخوشی سی پیدا ہوئی تھی، عمر کو ایک دم یوں لگا کہ اس نے گویا موبائل نہیں بلکہ اس کے وجود کو
قبول کر لیا ہے۔
’’کافی دیر ہو گئی ہے۔ اب چلیں۔‘‘ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
اماں نے حمدہ کو اپنی خالہ اور ان کے سسرال کے متعلق اچھا خاصا بتا دیا تھا۔ وہ ان لوگوں سے مل کر
نارمل ہی رہی تھی جبکہ عمر خالہ بی کو دیکھ کر حیران ہوا تھا۔ خالہ جن کا اصل نام رخشندہ تھا وہ مختار
چاچی سے سات آٹھ سال بڑی ہوں گی۔ ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں اور سبھی بچے شادی شدہ
تھے۔ سب سے بڑے افتخار صاحب تھے جو کہ اپنے علاقے کے ایم این اے تھے۔ یہ لوگ جدی پشتی جاگیردار
تھے، ان کے والد وفات پا چکے تھے اور باپ کی وفات کے بعد اب افتخار صاحب اپنی علاقائی سیٹ پر تھے۔
ان کے بعد دو بہنیں تھیں جو شادی شدہ اور گھر بار والی تھیں۔ اس کے بعد شہباز صاحب تھے۔ فیڈرل
گورنمنٹ میں خاصے اونچے عہدے پر تھے اور بیوی بچوں کے ہمراہ اسلام آباد میں مقیم تھے۔ سب سےچھوٹے انس تھے جن کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی اور فی الحال کوئی بچہ نہ تھا، یہ بھی صوبائی
گورنمنٹ میں تھے۔ خود لاہور ہوتے تھے، جبکہ بیوی آبائی حویلی میں ہوتی تھیں۔ افتخار صاحب کے بھی
تین بچے تھے اور سکول ایج میں تھے، دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ ان لوگوں نے حمدہ اور عمر کو ہاتھوں ہاتھ لیا
تھا۔ خاصا پروٹوکول دیا گیا تھا۔ عمر کی افتخار انکل سے اس سارے مسئلے پر ایک لمبی بات چیت ہوئی
تھی جس سے عمر نے اندازہ لگایا کہ افتخار انکل کا اپنے علاقے میں اچھا خاصا ہولڈ ہے۔ ان کے اندر
جاگیرداروں والا مخصوص ُرعب و دبدبہ پایا جاتا تھا، انہوں نے حمدہ والے معاملے میں عمر کو بالکل بے فکر
ہو جانے کو کہا تھا بلکہ وہ باقر علی کے خلاف قانونی طور پر کوئی نہ کوئی کارروائی کرنے پر بھی بضد تھے
عمر نے ان کو فی الحال کوئی بھی قدم اُٹھانے سے منع کیا تھا کہ باقر علی سے اگر گفت و شنید سے
معاملہ حل ہو سکتا ہے تو وہ نہیں چاہتا تھا کہ بات زیادہ بگڑے۔
اسے یہاں آئے تیسرا دن تھا حمدہ اندرونی حصے میں رہ رہی تھی جبکہ اس کا اور بشیر کی رہائش کا
انتظام مردان خانے میں تھا۔ تاہم دن میں ایک بار وہ ملازمہ کو پیغام بھیج کر حمدہ کو بلوا کر ضرور مل لیتا
تھا۔ یہاں آ کر حمدہ سے متعلق اس کے جذبات میں مزید شدت آئی تھی۔
اماں اور مختار چاچی سے وہ روزانہ بات کر رہا تھا۔ فی الحال وہاں کی صورتحال نارمل ہی تھی۔ باقر علی
روزانہ مختار چاچی کے ہاں چکر لگا رہا تھا۔ شادی کے سلسلے میں ہر روز آ کر کوئی نہ کوئی شوشا چھوڑ
رہا تھا۔ تاہم وہ ابھی تک حمدہ کی غیر موجودگی سے بے خبر ہی تھا۔ ماں جی یہاں کے حالات اچھے جان کر
مطمئن ہو گئی تھیں۔ ان کا مشورہ دیا تھا کہ عمر آج کل میں اب واپس آ جائے۔ وہ مردان خانے کے کمرے
میں لیٹا نجانے کیا کچھ سوچ رہا تھا جب دستک ہوئی تھی اور اس کی اجازت سے حویلی کا ایک ملازم
اندر آ گیا تھا۔
’’افتخار صاحب نے یاد کیا ہے آپ کو؟‘‘ ملازم نے اطلاع دی تو اس نے آنے کا کہہ کر اسے چلتا کیا۔ افتخار
صاحب باہر گاڑیوں کے پاس کھڑے تھے، شاید کہیں جانے کا ارادہ تھا۔
’’آئو یار تمہیں کہیں گھما پھرا لائیں۔ تیسرا دن ہے تمہیں یاں آئے ابھی تک اپنا علاقہ ہی نہیں دکھایا۔‘‘ عمر
سے افتخار صاحب خاصا گھل مل گئے تھے۔ اس کے کندھے پر بازو رکھ کر بے تکلفی سے کہا تو وہ مسکرا
دیا۔

Read More:  Hijab Novel By Amina Khan – Episode 28

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: