Dhal Gai Phir Hijar Ki Raat by Sumaira Sharif – Episode 6

0

’’کیوں نہیں۔‘‘ وہ ان کے ساتھ ہی ان کی جیپ میں آ بیٹھا تھا۔ ان لوگوں کا علاقہ خاصا خوبصورت تھا،
جابجا مالٹوں کے باغات تھے، اس علاقے کی خوبصورتی شاید یہ باغات ہی تھے۔ افتخار صاحب کی اپنی
زمینیں تھیں۔
’’اس طرف نہر (ایک چھوٹا نالہ) کی طرف سے باغات دیکھنے والے ہیں۔ تم گھومو پھرو… مجھے ڈیرے پر
کچھ کام ہے۔ ادھر چلتا ہوں، واپسی پر ملتے ہیں۔‘‘ افتخار صاحب کو ایک فون آ گیا تو وہ عمر کہ کہہ کر
خود چلے گئے تھے۔ باغ کے ملازم اپنے کام میں مصروف تھے ایک ملازم اس کے ساتھ تھا یہ حویلی کا کوئی
ملازم تھا۔
’’میں دیکھ لوں گا ڈونٹ وری یار…‘‘ ملازم ساٹھ ستر سال کی عمر کا ضعیف انسان تھا۔ کب سے ساتھتھا۔ اب وہ تھکن محسوس کر رہا تھا۔ عمر کو اس کی تھکن کا احساس ہوا تو اسے منع کرتے خود ہی آگے
بڑھ آیا۔ اس طرف چھوٹی سی نہر تھی (حرف عام میں ایسی نہروں کو نالے بھی کہا جاتا ہے) وہاں نہر کے
پل کے پاس دو تین خواتین دکھائی دیں تو عمر چونکا۔ ان خواتین میں ایک حمدہ بھی تھی، ایک لڑکی
ملازمہ تھی اور ایک شاید حویلی کی خواتین میں سے کوئی تھیں۔ (کیونکہ حویلی کی خواتین کو اس نے
ابھی تک نہیں دیکھا تھا) یہ لوگ شاید سیر کو نکلی تھیں عمر وہیں کچھ فاصلے پر ُرک گیا تھا۔
’’حمدہ یار! اس طرف کا پانی بہت ٹھنڈا ہے، آئو تم بھی پائوں لٹکا کر بیٹھو بڑا مزہ آئے گا۔‘‘ کھنکتی آواز پر
حمدہ نے مسکرا کر کانوں کو ہاتھ لگایا تھا۔
’’نہیں بابا مجھے معاف کریں۔ اتنی سردی ہے آپ کے علاقے میں… میرا مرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘ اس
نے فوراً انکار کر دیا تھا بلکہ کچھ فاصلے پر ہو کر کھڑی ہو گئی تھی۔
’’اچھا… ابھی تم نے سردی دیکھی کہاں ہے؟ کیوں زینبے حمدہ کو سردی کا نظارہ نہ کروا دیں۔‘‘ اس خاتون
کی عمر کی طرف پشت تھی، عمر خاموشی سے تینوں کو دیکھ رہا تھا۔ دونوں لڑکیوں نے ایک دوسرے کو
نجانے کیا اشارے کیے تھے کہ انہوں نے فوراً دونوں ہاتھوں میں پانی بھر بھر کر حمدہ کی طرف اُچھالنا
شروع کر دیا تھا۔ وہ اس افتاد پر ایک دم گھبرائی تھی۔ پانی کے چھینٹوں سے بچنے کے لیے وہ منہ پر ہاتھ
رکھ کر کئی قدم پیچھے ہٹی تھی۔ عمر دیکھ رہا تھا جس طرح وہ پیچھے ہٹ رہی تھی بالکل نہر کے کنارے
پر پہنچ گئی تھی۔
’’حمدہ…‘‘ عمر نے فوراً ڈر کر خاصا فاصلہ ہونے کے باوجود اسے آواز دی تھی مگر تب تک دیر ہو چکی تھی۔
حمدہ بے توازن سی ہو کر پیچھے کو گری تھی اور اگلے ہی پل وہ اس چھوٹی سی نہر کے پانی میں تھی۔
’’حمدہ…‘‘ عمر فوراً نہر کی طرف بھاگا تھا، بغیر کچھ سوچے سمجھے اس نے نہر میں چھلانگ لگا دی تھی۔
دونوں لڑکیاں چیخ چیخ کر کسی کو مدد کے لیے پکار رہی تھیں۔ عمر اچھا تیراک تھا اس نے لمحوں میں
حمدہ کو جا لیا تھا۔ حمدہ پیچھے کی طرف گرتے ہوئے کسی سخت چیز سے ٹکرائی تھی، شاید کنارے پر
لگے کسی پتھر سے اس نے ایک دو پل اپنے حواس پر قابو پانے کی کوشش کی تھی مگر سب بے سود تھا
بس اسے ایک دم ایسا لگا جیسے کسی نے اسے دونوں بازوئوں میں سمیٹ لیا ہے اس کے بعد اس کا ذہن
بالکل تاریک ہو چکا تھا، عمر ایک اچھا تیراک ضرور تھا مگر حمدہ کے بے حواس وجود کو سنبھالنا مشکل
ہو رہا تھا۔ یہ نہر اس جگہ سے خاصی دور تھی جہاں باغ میں ملازم کام کر رہے تھے ورنہ دونوں لڑکیوں کی
چیخ و پکار سن کر کوئی نہ کوئی پہنچ ہی جاتا۔
عمر، حمدہ کو ایک بازو کے حصار میں لیے دوسرے بازو اور پائوں کے ساتھ ہاتھ پائوں مارتے قدرے کم
گہرے حصے کی طرف آ گیا تھا۔ دونوں لڑکیاں بھی بھاگ کر اسی طرف آ گئی تھیں۔
’’ہائے اللہ… چھوٹی بی بی، ان کے سر سے تو خون بھی بہہ رہا ہے۔‘‘ زینب خاصی خوفزدہ ہو گئی تھی۔ عمر
دونوں لڑکیوں کا خوف دیکھ کر سمجھ گیا کہ یہ اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتیں۔
’’اس نے خود ہی حمدہ کی نبض دیکھی، خاصی سلو چل رہی تھی۔ اس کے سر سے بالکل اسی جگہ سے
خون بہہ رہا تھا جہاں چند دن پہلے چوٹ لگی تھی، زخم تازہ تھا اس کے ٹانکے پھر کھل گئے تھے۔’’اسے کچھ ہوا تو نہیں؟‘‘ ازکئی مسلسل رو رہی تھی۔
’’فی الحال تو کچھ نیں کہہ سکتے؟‘‘ مگر تشویش تو بہرحال ہے۔ آپ لوگ اگر رونے دھونے کے بجائے میری
مدد کریں، حمدہ کا پیٹ دبا کر پانی نکالیں تو شاید ہوش آ سکتا ہے۔‘‘ عمر نے جھنجلا کر کہا تو ازکئی نے
فوراً آنسو صاف کرتے اس کی ہدایت پر عمل کیا تھا۔ زینب اس کے پائوں ملنے لگ گئی تھی۔ عمر اس کے
چہرے کو دیکھتے مسلسل اس کی نبض تھامے بیٹھا تھا۔
’’حمدہ…‘‘ وہ ساتھ ساتھ اس کو آوازیں دے رہا تھا۔ اس کا چہرہ تھپتھپا رہا تھا۔
’’آپ وہی ہیں نا جو حمدہ کے ساتھ آئے تھے؟‘‘ ازکئی اپنے حواس پر کچھ حد تک قابو پا چکی تھی۔ اس کے
سوال پر عمر نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا۔ موسم خاصا سرد تھا۔ حمدہ اور عمر دونوں بھیگے ہوئے تھے۔
حمدہ کے ہونٹ گہرے نیلے ہو چکے تھے۔ اس کا سارا جسم سرد پانی کی وجہ سے برف ہو رہا تھا۔ ان تینوں
کی کوششوں سے کچھ منٹ بعد حمدہ نے کراہ کر آنکھ کھول لی تھی۔
’’آپ ٹھیک ہیں نا… کیسا فیل کر رہی ہیں آپ؟‘‘ عمر پوچھ رہا تھا وہ چند پل تو اسے دیکھے گئی اور پھر جب
اسے صورتحال کا احساس ہوا تو کچھ پل قبل پیش آنے والا حادثہ پوری جزئیات کے ساتھ ذہن کی اسکرین
میں تازہ ہوا تو خوفزدہ ہو کر عمر کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا اور پھر بُری طرح رو دی۔
’’ٹیک اٹ ایزی… خطرے کی کوئی بات نہیں۔‘‘ عمر نے اسے دلاسہ دینا چاہا وہ مکمل طور پر کانپ رہی
تھی۔ حمدہ نے اُٹھ کر بیٹھنا چاہا تو ازکئی اور عمر نے فوراً دائیں بائیں سے سہارا دے کر بٹھایا۔ بلکہ عمر
نے اس کی کمر کے گرد بازو پھیلا کر بیٹھنے کو ٹیک فراہم کی تھی۔
’’میں ڈرائیور کو فون کرتی ہوں وہ زمینوں کی طرف ہے۔ ہم اسی کے ساتھ آئی تھیں اور پھر پیدل یہاں سے
آئی تھیں۔‘‘ ازکئی نے ڈرائیور کو کال کی تھی اور اسے فوراً نہر کے پاس پہنچنے کو کہا تھا۔
حمدہ اس قدر خوفزدہ تھی کہ مسلسل عمر کا ہاتھ تھامے اس کے سہارے بیٹھی ہوئی تھی۔ ڈرائیور فوراً
پہنچا تھا۔ ازکئی اور عمر کے سہارے سردی سے کانپتی بدحواسی کی کیفیت میں وہ گاڑی میں سوار
ہوئی تو گاڑی حویلی کی طرف تیزی سے روانہ ہوئی تھی۔
حمدہ نے اس حادثے کا اچھا خاصا اثر لیا تھا۔ وہ مسلسل بیہوش تھی۔ حویلی پہنچنے تک وہ پتا نہیں
کیسے حواس میں رہی تھی، رخشندہ خالہ تو اس کی کنڈیشن دیکھ کر اور حادثے کی خبر پا کر اپنی بہو
اور ملازمہ پر جو برہم ہوئیں وہ ایک طرف فوراً افتخار صاحب کو فون کیا تھا اور ساتھ ہی ڈاکٹر کو بھی کال
کی تھی۔ ڈاکٹر نے آ کر چیک کرنے کے بعد دوائی لکھ دی تھی۔ حمدہ حادثے کے زیر اثر خوف کا شکار تھی۔
ڈاکٹر نے اس کی اسٹیچنگ کر کے سر کی مرہم پٹی کر دی تھی۔
عمر مسلسل اس کے کمرے میں تھا۔ کئی بار افتخار صاحب نے اُسے دلاسہ دیا تھا اور جا کر آرام کرنے کو
کہا تھا کہ بہرحال اس قدر شدید سردی میں وہ بھی گیلا ہوا تھا مگر عمر لباس بدل کر واپس حمدہ والے
کمرے میں آ گیا تھا اور جب تک اسے مکمل طور پر ہوش نہیں آ جاتا وہ اب اس کے پاس سے ہلنے والا نہ
تھا۔افتخار صاحب ان کی بیگم اور بچے تک حمدہ کی وجہ سے پریشان تھے۔ ازکئی اور زینب اپنی جگہ شرمندہ
تھیں۔ ان لوگوں نے لوگوں کو یہ قطعی نہیں بتایا تھا کہ ان کی شرارت کی وجہ سے حمدہ نہر میں گری
تھی۔ عمر نے بھی اس سلسلے میں خاموشی اختیار کی تھی بس یہی کہا تھا کہ وہ پائوں پھسلنے سے
نہر میں گر گئی تھی اور ان کے شور پر عمر نے فوراً موقع پر پہنچ کر اسے نکالنے کی کوشش کی تھی۔
ڈاکٹر کی کوششوں سے اس کی حالت قدرے بہتر ہوئی تو سبھی نے شکر کا کلمہ پڑھا۔ عمر ابھی تک گم
صم تھا۔ ڈاکٹر کے انجکشنز کی وجہ سے وہ سو گئی تھی تو سبھی اس کے پاس سے ہٹ گئے تھے تاہم
ازکئی اور رخشندہ خالہ وہیں تھیں۔
’’بیٹا جائو تم بھی کھانا کھا لو اور آرام کر لو۔ یہ اب بہتر ہے۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔‘‘ رخشندہ خالہ عمر
کی فکرمندی پر خاصی متاثر ہوئی تھیں۔ انہوں نے محبت سے کہا تو ناچار عمر کو اُٹھنا پڑا۔
کمرے سے نکلنے سے پہلے اس نے ایک بار پلٹ کر حمدہ کے چہرے کو ضرور دیکھا تھا۔ اس کے سر پر
بندھی پٹی نے اسے لب بھینچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہ خاموشی سے وہاں سے واپس اپنے رہائشی کمرے
میں آ گیا تھا۔
’’اسے رہ رہ کر حادثے کی تمام جزئیات یاد آ رہی تھیں۔ اگر وہ وہاں نہ ہوتا اور خدانخواستہ حمدہ کو کچھ ہو
جاتا تو…‘‘ اس تصور سے ہی عمر کو اپنے دل کی دھڑکن بند ہوتی محسوس ہوتی تھی۔
وہ اس قدر شدید محبت کرنے لگ گیا تھا کہ اب لگتا تھا کہ اگر کسی دن اس کا چہرہ دیکھنے کو نہ ملا تو
وہ سانس بھی نہ لے پائے گا۔ عمر اپنے جذبات و احساسات پر خود بھی حیران و ششدر تھا۔ اس نے تمام تر
زندگی اس قدر محتاط انداز میں گزاری تھی کہ زندگی میں ’’محبت‘‘ جیسی حماقت کا تصور بھی کہیں نہ
تھا۔
اس کی ماں جی اپنے چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں۔ ماں باپ نے بے انتہا ناز و نعم میں پالا تھا۔ اس
کے نانا ایک درمیانے درجے کے کاشت کار تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے سے کئی گنا امیر دولت
مند دوست کے بیٹے سے بڑی دھوم دھام سے کی تھی۔ مگر بیٹی کی قسمت کہ شوہر عیاش نکلا تھا۔ وہ
کسی ایک عورت تک صبر کر کے بیٹھے رہنے والا انسان نہ تھا۔ کچھ عرصے بعد ہی ماریہ پیدا ہوئی تو بھی
شوہر کی فطرت نہ بدلی اور پھر ایک دن حد ہو گئی ان کے شوہر ایک اور بیوی بیاہ لائے، نجانے وہ عورت
کون تھی، کہاں کی تھی، ماں جی کے لیے یہ بہت بڑا دھچکا تھا۔ شوہر کی عیاش فطرت اب تک میکے
والوں سے چھپا رکھی تھی مگر اب بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوٹا تھا۔ ان کے بھائی اور باپ کے لیے بیٹی کی
سوتن برداشت کرنا ناممکن تھا اور نتیجتاً چند سال بعد ہی میکے آ گئی تھیں۔ عمر کی ولادت میکے میں
ہی ہوئی تھی اور پھر ایک دن شوہر نے طلاق بھجوا دی تو ماں جی کی گویا دنیا ہی اُجڑ گئی تھی۔ ایسے
عالم میں بابا جان نے ان کا بہت ساتھ دیا تھا۔ ماں جی کے حق مہر میں ہی ان کے نام اچھی خاصی زمین
لکھوائی گئی تھی اور طلاق کی صورت میں ان کی ملکیت میں آ گئی تھی۔ بڑے دونوں بھائیوں نے عدالت
میں دعو ٰی کر کے اس زمین پر قبضہ لے لیا تو دونوں خاندانوں میں ایک دشمنی سی چل نکلی۔ عمر کے
یا
والد ہاشم صاحب کے لیے زمین پر قبضہ لے لینا ایک چیلنج تھا انہوں نے بھی عدالت میں دعو ٰی دائر کر دکہ ان کے بچے ان کے حوالے کر دئیے جائیں۔ تاہم عدالت کی طرف سے اتنے چھوٹے بچوں کو باپ کے حوالے
نہ کرنے کا جب فیصلہ ہوا تو بڑے سرفراز ماموں نے ایک اور فیصلہ بھی کیا، انہوں نے اپنے سب سے بڑے
بیٹے ذوالفقار بھائی کا نکاح ماریہ باجی سے کر دیا اور عمر کو عدالت کی طرف سے ملنے والی مدت ختم
ہونے سے پہلے ہی لے کر وہ پوری فیملی سمیت امریکہ میں سیٹل ہو گئے۔ ماں جی نے اپنی ساری زندگی
بڑی اذیت اور مشقت میں گزاری تھی۔ بڑے سرفراز بھائی کے علاوہ باقی تینوں بھائیوں کی طرف سے ان
کی ذات کو کبھی کوئی سکھ حاصل نہ ہوا تھا۔ جب تک نانا جان زندہ رہے ماں جی اور وہ چھوٹی حویلی
میں مقیم رہے جبکہ باقی تینوں بھائی اپنی بیویوں کے ساتھ بڑی حویلی میں شفٹ ہو گئے جو گائوں سے
قدرے ہٹ کر تھی۔ دوسرے نمبر والی ممانی اور سب سے چھوٹی ممانی دونوں بہنیں تھیں اور یہ دونوں
بہنیں باقر علی کی بہنیں تھیں۔ باقر علی اکلوتا بھائی تھا۔ شروع سے ہی روپے پیسے کی ریل پیل نے اچھا
خاصا بگاڑ ڈالا تھا۔ جس کی انتہائی حد اب حمدہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی صورت تھی۔
ذوالفقار بھائی نے جیسے ہی ایم بی بی ایس مکمل کیا تھا ان کی ماریہ باجی کے ساتھ فوراً شادی کر دی
گئی تھی۔ ماریہ باجی آج کل لاہور میں مقیم تھیں کہ وہاں ذوالفقار بھائی کا ذاتی کلینک تھا۔ امریکہ میں
عمر نے سرفراز ماموں کے زیر سایہ تربیت پائی تھی۔ سرفراز ماموں ایک بہت اصول پرست خاندانی وقار
کو اہمیت دینے والے مذہبی انسان تھے۔ انہوں نے اپنی اولاد کے ساتھ ساتھ عمر کی تربیت پر بھی
خصوصی توجہ دی تھی۔ امریکہ جیسے آزاد معاشرے میں زندگی کے مدارج طے کرتے ہوئے کئی مواقع ملے
بھٹکنے کے لیے مگر ماموں کی تربیت اتنی مضبوط تھی کہ قدم کبھی لڑکھڑائے ہی نہ تھے۔ اس نے عورت
کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ امریکہ میں عورت کو جس طرح استعمال کیا جاتا تھا اس کے
باوجود اس نے ہمیشہ عورت ذات کو عزت دی تھی اس کے نزدیک عورت ایک بہت سنبھال سنبھال کر
رکھنے والی شے ہے۔ بہت قابل عزت اور قابل احترام ہستی۔
عمر کے نزدیک اپنی ماں ایک ماڈل ہستی تھیں اور ماریہ باجی اس کے لیے بہت خاص ہستی تھیں، ان
دونوں کے علاوہ اس نے جس عورت کی سب سے زیادہ عزت کی تھی وہ اس کی ممانی تھیں، جنہوں نے
اس کو اپنے بیٹوں کی طرح پالا تھا۔ پھر ان کی بیٹیاں تھیں، جنہیں اس نے ہمیشہ ماریہ باجی جیسا مقام
دیا تھا، مگر پاکستان آتے ہی جس طرح حمدہ نے پہلی نگاہ میں اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا اس کے دل
میں جو مقام حاصل کر لیا تھا وہ آج تک کوئی اور عورت حاصل نہ کر پائی تھی۔ وہ صرف اس کے لیے
بیقرار بے چین ہی نہ تھا بلکہ وہ اس کے تمام مسائل کو بھی حل کرتنا چاہتا تھا اور اس طرح حل کرنا چاہتا
تھا کہ عمر کی محبت کی وجہ سے اس شفاف بے داغ وجود پر کوئی الزام نہ آئے اس کی شخصیت اسی
طرح روشن رہے۔ کہنے کو وہ ماں جی کے سامنے اپنے دل کی خواہش بیان کر سکتا تھا مگر خاموش تھا تو
صرف اس لیے کہ وہ حمدہ کی طرف سے اطمینان کر لینا چاہتا تھا کہ اگر وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھائے تو
وہ رد تو نہیں کرے گی۔ اگر وہ مان گئی تو اس کے لیے باقر علی سے لڑنا کوئی مشکل کام نہ تھا۔
صرف حمدہ کے وجود کی کشش نے ہی اسے اسیر نہیں کیا تھا بلکہ اس کے کردار باوقار انداز اور رکھ
رکھائو نے بھی اسے متاثر کیا تھا۔ وہ پہلی نگاہ کی محبت کا شکار ہوا تھا۔ آج حمدہ کو اس حالت میںدیکھ کر اس کا دل بے انتہا بیقرار تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ حمدہ کے وجود کی ساری تکلیف
اپنے جسم پر لے لے۔ اس کے سارے مسائل بانٹ لے۔ مگر وہ بے بس تھا۔ نجانے وہ کیا سوچتی ہو گی؟ اس
کے متعلق اس کی کیا رائے ہو گی؟ وہ اچھی طرح سمجھتا تھا کہ باقر علی کی حرکتوں کی وجہ سے وہ
شادی جیسے بندھن سے ہی خوفزدہ ہو چکی ہے۔ جس طرح ماریہ باجی کے بتانے پر کہ اس کی شادی
ہوتے ہوتے رہ گئی تھی ایسے عالم میں ایسی لڑکی پر کیا بیتی ہو گی جس کے نکاح سے کچھ پل پہلے اس
کے ہونے والے شوہر کو اغوا کر لیا جائے اور پھر قید میں ڈال کر دھمکیاں دی جائیں۔ اس کی نہ صرف
شادی رکوا دی جائے بلکہ آئندہ کے لیے اس کی ازدواجی زندگی کے تمام خوشگوار خواب بھی نوچ دئیے
جائیں۔
وہ سمجھ سکتا تھا کہ حمدہ کی خاموشی کے پیچھے کیا اسباب کار فرما ہیں؟ وہ اتنی سنجیدہ اور ریزرو
کیوں رہتی ہے؟ وہ کون سے عوامل ہیں، جنہوں نے اسے چپ سادھنے پر مجبور کر دیا ہے؟ وہ اتنی خاموش
کیوں رہتی ہے؟ ورنہ اس نے کئی بار اپنی نگاہ کے تاثر پر اسے چونکتے اور اُلجھتے دیکھا تھا۔
رات آہستہ آہستہ گزرتی جا رہی تھی۔ مگر عمر ہاشم کے اندر سوچوں کے سائے گہرے ہوتے چلے گئے تھے۔
وہ صبح سویرے مہمان خانے سے نکل کر اندرونی حصے کی طرف چلا آیا تھا، صبح صبح کا وقت تھا،
حمدہ کی فکر میں وہ ساری رات نہیں سو پایا تھا۔ اب بھی اندر اطلاع بھجوائے بغیر اس طرف چلا آیا تھا۔
لان میں اسے ازکئی مل گئی تھیں اسے دیکھ کر مسکرا دیں۔
’’السلام علیکم!‘‘ عمر نے پہل کی۔
’’و علیکم السلام۔‘‘
’’حمدہ کیسی ہے؟‘‘ عمر نے فوراً اصل بات پوچھی۔
’’کل سے خاصی بہتر ہے۔‘‘ ازکئی نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
’’کیا میں اسے دیکھ سکتا ہوں؟‘‘ وہ جس طرح کل سارا وقت پریشان رہا تھا ازکئی تب ہی اُلجھ گئی تھی
مگر اب صبح سویرے اسے دوبارہ دیکھ کر اور اب اس کی پریشانی ملاحظہ کر کے ضرور چونکی تھی۔
’’وائے ناٹ… شیور… آئیں…‘‘ اپنی چادر سنبھالتی وہ آگے بڑھ گئی تھی۔ وہ اسے لے کر حمدہ والے کمرے
میں آ گئی تھی۔
حمدہ اکیلی تھی۔ بستر پر کندھوں تک لحاف ڈالے سو رہی تھی۔
’’آپ پلیز بیٹھیں۔‘‘ عمر نے بستر کے نزدیک رکھی کرسی سنبھال لی تھی۔
’’یہ اب بہتر ہے۔ سرد پانی اور پھر گرنے کے خوف کی وجہ سے نیم غنودگی میں رہی تھی۔ اب تو خاصی
بہتر حالت میں ہے۔ اگر آپ بات کرنا چاہیں تو میں جگا دیتی ہوں۔‘‘ ازکئی نے بستر کے کنارے بیٹھتے ہوئے
کہا تو عمر نے منع کر دیا۔
’’نہیں رہنے دیں میں بس دیکھنے آیا تھا۔‘‘
’’آپ ریلیٹوز ہیں آپس میں؟‘‘ ازکئی نے پوچھا۔’’جی… ماں جی کے کزن کی بیٹی ہیں یہ… حمدہ کی والدہ بھی ماں جی کے ننھیالی رشتہ داروں میں سے
ہیں۔‘‘
’’اوہ…‘‘ ازکئی نے ہونٹ سکیڑے جبکہ عمر ازکئی کی موجودگی کی وجہ سے محتاط تھا، اس نے حمدہ کی
طرف دیکھنے سے خصوصی طور پر احتراز برتا کہ کہیں ازکئی اس کی نگاہ کا تاثر نہ پڑھ لیں۔
اس دوران حمدہ نے کروٹ بدلی اور پھر آنکھیں کھول کر دیکھا۔ وہ شاید دونوں کی آوازوں سے ڈسٹرب ہو
گئی تھی۔ اس نے پہلے ازکئی اور پھر عمر کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں گزرے کئی پل ایک رنگین فلم کی
طرح گزرنے لگے۔
وہ گری تھی، گہرے یخ پانی میں، اس کے سر پر چوٹ لگی تھی جس کی وجہ سے حواس بے قابو ہو گئے
تھے، لمحوں میں اس کے ہاتھ پائوں بے جان ہونے لگے تھے، وہ تیرنا نہیں جانتی تھی مگر اس کے باوجود وہ
ڈوبنے سے خود کو بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہی تھی اور پھر اس نے کسی کو پانی میں چھلانگ لگاتے
دیکھا تھا، وہ پانی کے بہائو میں ڈوب رہی تھی۔ جب عمر ہاشم نے اس کے قریب آ کر اسے ڈوبنے سے بچانے
کے لیے اس کو تھاما تھا۔ عمر ہاشم کے حصار میں آتے ہی اسے لگا تھا کہ وہ اب ڈوبے گئی نہیں مگر سرد
پانی اور سر کی چوٹ نے اس کے حواس چھین لیے تھے۔
اس کے بعد اسے جب ہوش آیا تھا عمر اور ازکئی نے اسے سہارا دیا ہوا تھا۔ وہ لوگ اسے لے کر گاڑی میں
سوار ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ ساری رات نیم غنودگی اور کچھ نیند کی کیفیت میں بس ہر بار گرنے اور
اس کے بعد کے واقعات کو ہی خواب و خیال میں دیکھتی رہی تھی اور ہر بار جو احساس اسے شدت سے
اپنے حصار میں لے لیتا تھا وہ یہی تھا کہ عمر کے حصار میں آ کر وہ بالکل ُپرسکون ہو جاتی تھی وہ اب
ڈوبے گی نہیں۔ یہ شخص اسے ڈوبنے نہیں دے گا۔ یہ ایسا تو قوی احساس تھا کہ ہر بار وہ صرف اسی
چہرے کو اپنے اطراف میں دیکھتی رہی تھی مختلف روپ میں، مختلف انداز میں، غنودگی اور نیم
غنودگی دونوں حالتوں میں بس اسے صرف یہی چہرہ نظر آ رہا تھا اور اب آنکھ کھلتے ہی اسے یہی چہرہ
دکھائی دے رہا تھا۔ اسے لگا وہ جیسے خواب دیکھ رہی ہے۔
’’عمر…‘‘ اس کے لب ہلے اور اس نے لاشعوری طور پر اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ جیسے وہ اس کے موجود
ہونے کا یقین چاہتی ہو۔
ازکئی کی موجودگی میں عمر ہاشم، حمدہ کی اس حرکت پر خجل سا ہو گیا تھا تاہم ازکئی سے نظر چراتے
اس نے حمدہ کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام ضرور لیا تھا۔
’’میں جب بھی ڈوبنے لگوں گی آپ مجھے ہر بار بچا لیں گے نا؟‘‘ عمر کو لگا وہ ابھی تک نیم غنودگی کی
کیفیت میں ہے۔ اوپر سے اس کے الفاظ… عمر کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کرتے وہ حواس میں قطعی نہیں
لگ رہی تھی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: