Dhal Gai Phir Hijar Ki Raat by Sumaira Sharif – Episode 7

0

خدانخواستہ… یہ حادثہ تھا، اور ایسے ناخوشگوار حادثے بار بار ہونا کوئی پسند نہیں کرتا۔ آپ بتائیں ٹھیک
ہیں۔ اب طبیعت کیسی ہے؟ کیا فیل کر رہی ہیں؟‘‘ عمر نے بھی ہاتھ کی گرفت مضبوط کرتے حقیقت کا
احساس دلاتے کہا تو وہ چونکی۔یوں لگا وہ ایک دم خواب سے بیدار ہوئی ہے۔ عمر کے ہاتھ کے لمس نے گویا اس کے وجود میں ہی نہ صرف
برقی رو دوڑا دی تھی بلکہ اس کے سوئے حواسوں کو بھی جگا دیا تھا اس نے دم اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا۔
ازکئی اس سارے وقت محض خاموش تماشائی تھی مگر ایک پل میں بہت کچھ محسوس کر گئی تھی۔
خصوصاً عمر ہاشم کی آنکھوں کا تاثر۔
’’عمر صاحب تشریف رکھیے۔ میں کچھ دیر میں آتی ہوں۔‘‘ وہ اب مزید ُرکے بغیر تیزی سے کہہ کر وہاں سے
چلی گئی تھی۔ حمدہ کا خفت و شرمندگی سے بُرا حال تھا۔
’’آپ نے بتایا نہیں کیسا فیل کر رہی ہیں آپ؟‘‘ عمر بڑے ریلیکس موڈ میں کرسی کی پشت سے کمر ٹکائے
پوچھ رہا تھا۔
’’جی بہتر ہوں۔‘‘
’’ہو سکتا ہے میں آج گائوں چلا جائوں۔ صبح صبح ماریہ باجی کی کال آ گئی تھی دو دن پہلے ماں جی کی
طبیعت خراب ہے، انہیں سخت بخار ہے۔ ماریہ باجی رات سے گائوں آئی ہوئی ہیں۔ ماں جی کی طرف سے
مجھے خاصی تشویش ہو رہی ہے۔ اگر آپ چاچی کے نام کوئی پیغام دینا چاہیں تو؟‘‘ حمدہ نے عمر کو دیکھا
وہ متوجہ تھا وہ نگاہیں جھکا گئی۔
’’میں آپ کے ساتھ واپس جانا چاہتی ہوں۔ کل والے واقعے کے بعد مجھے اماں بہت یاد آ رہی ہیں۔ میں اب
مزید یہاں نہیں ُرک سکتی۔ یہ اجنبی لوگ، آپ بھی چلے گئے تو میں کیسے رہوں گی اندھر…‘‘ وہ اس کے
چلے جانے کا سن کر ایک دم خوفزدہ ہو گئی تھی۔
’’میرا جانا تو مجبوری ہے۔‘‘ عمر نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
’’یہ لوگ اچھے اور ملنسار ہیں۔ میں ان کو اچھی طرح پرکھ چکا ہوں۔ یہاں چند دن رہنے میں کوئی حرج
نہیں۔ میں واپس جا کر چاچی کو یہاں کے حالات کا تفصیل سے بتائوں گا تو وہ مطمئن ہو کر خود بھی آ
جائیں گی۔‘‘ عمر کے تسلی دینے پر وہ خاموش ہو گئی تھی یوں جیسے وہ عمر سے بحث کرنے سے احتراز
برت رہی ہو۔
’’حمدہ! ایک سوال کا جواب دیں گی؟ دونوں کے درمیان چند پل بالکل خاموشی رہی تھی۔ عمر کے الفاظ پر
اس نے چونک کر عمر کو دیکھا۔
’’جی…؟‘‘
’’باقر علی کے علاوہ کسی اور کا نام آپ کے سامنے رکھا جائے تو کیا قبول کر لیں گی؟‘‘ بہت نپے تلے اور
سنجیدہ الفاظ میں پوچھ رہا تھا۔ حمدہ نے اُلجھ کر اسے دیکھا پھر جب سمجھی تو لہجے میں تلخی اُتر
آئی۔
’’جس لڑکی کی بارات آ کر بغیر شادی کے واپس لوٹ جائے اس لڑکی کی پھر اپنی کوئی مرضی نہیں
رہتی۔ میں یہاں کیوں ہوں، آپ بے خبر تو نہیں؟‘‘ وہ بولی تو لہجہ خاصا تلخ تھا۔
’’ہر بار تو ایسا نہیں ہوتا بلکہ…‘‘ عمر نے مزید کچھ کہنا چاہا تو حمدہ نے تیزی سے بات کاٹ دی۔
’’جب تک باقر علی زندہ ہے تب تک تو ایسا ہی ہوا ہے اور ہوتا رہے گا، عثمان جیسا شخص تو صرف مجھسے شادی کرنے کے جرم میں یرغمال بنایا گیا تھا مگر ایسے بہت سے لوگ خاندان میں اور باہر کے لوگ
ہیں جنہیں ہمارے گھر پہنچنے سے پہلے ہی ہراساں کر دیا جاتا رہا ہے آپ باقر علی کو نہیں جانتے، وہ کس
قماش کا شخص ہے، آپ نہیں جانتے اور مجھ جیسی لڑکی سے شادی شاید کوئی پاگل شخص ہی کرنے
کی ہامی بھرے تو بھرے…‘‘ وہ تلخی سے کہتی اپنا ہی مذاق اُڑا رہی تھی۔ اس کی آواز میں خود اذیتی اور
نمی کا احساس بس گیا تو عمر کو ُدکھ ہوا۔
’’اگر وہ پاگل شخص عمر ہاشم ہو تو؟‘‘ بہت سنجیدگی سے کہتے عمر نے حمدہ کا چہرہ بھی دیکھا، پہلے
تو وہ بات سمجھی ہی نہیں اور پھر جب بات سمجھی تو ایک دم بستر پر اُٹھ بیٹھی تھی۔ اس کے چہرے
کا رنگ ایک دم بدلا تھا۔
’’جی… ای؟‘‘ وہ عمر کی نگاہوں کے تاثر سے ضرور اُلجھی تھی مگر عمر اس حد تک سنجیدہ ہو سکتا ہے
اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ عمر ہاشم اسے پروپوز کرے گا۔
’’یہ کیسا مذاق ہے؟‘‘ وہ خاصی ناگواری سے بولی تھی۔
’’یہ مذاق نہیں میری زندگی کا سب سے بڑا سچ ہے۔ پتا نہیں آپ اس بات پر یقین کریں گی یا نہیں مگر یہ
سچ ہے آپ سے میں Love in first sightوالے معاملے کا شکار ہوں۔ میں نے ایک خاصی پریکٹیکل زندگی
گزاری ہے مگر آپ کے معاملات میں اپنے جذبات کو میں نے اپنے اختیارات سے باہر محسوس کیا ہے۔ میں
محض لفاظی نہیں کر رہا، حمدہ رئیلی میں آپ کو اپنانا چاہتا ہوں۔ آئی وانٹ ٹو میری یو…‘‘ وہ سنجیدہ
تھا۔
حمدہ بے یقین نگاہوں سے عمر ہاشم کو دیکھ رہی تھی۔
’’آپ کو کل والی حالت میں دیکھ کر میں نے رات ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ مجھے آج واپس جانا ہے۔ میں
چاچی، ماں جی اور ماریہ باجی وغیرہ کو لے آ کر آئوں گا۔ مجھے آپ سے شادی کرنی ہے۔‘‘ اب کے بڑا اٹل اور
فیصلہ کن انداز تھا۔
حمدہ حیرت سے منہ کھولے عمر ہاشم کے اٹل فیصلہ کن انداز کو دیکھ رہی تھی۔
’’میں محض لفاظی نہیں کر رہا، یہ وعدہ سمجھ لیں یا کچھ بھی… باقر علی جیسے لوگوں سے نبٹنا میرے
لیے قطعی مشکل نہیں… میں محض اس لیے خاموش ہوں کہ میں نہیں چاہتا کہ آپ کے کردار پر کوئی
اُنگلی اُٹھائے۔ میں آپ کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘ حمدہ نے لب بھینچ لیے۔
’’یہ ناممکن ہے۔ میرے اور آپ کے درمیان؟‘‘ اس نے کچھ اور بھی کہنا چاہا تھا کہ عمر نے ہاتھ اُٹھا کر اسے
ٹوک دیا۔
’’فیصلہ کرنے کی قطعی جلدی مت کریں۔ جب تک چاچی نہیں آ جاتیں اس بارے میں سوچنے میں کوئی
حرج نہیں اور ایک بات طے ہے اگر چاچی مختار نے ہاں کہہ دی تو آپ کے انکار کو میں نہیں مانوں گا۔ آپ
یہاں اسی لیے بھیجی گئی ہیں کہ یہ لوگ کوئی اچھا رشتہ دیکھ کر بات طے کر دیں اور چاچی آ کرو اس
کو اوکے کر کے شادی کر دیں گی اور آپ کو کیا فرق پڑتا ہے وہ کوئی بھی شخص ہو۔‘‘’’آپ میں اور کسی بھی ایکس وائے زیڈ میں بہت فرق ہے۔‘‘ حمدہ نے خاصا غصے سے کہا تو عمر مسکرا
دیا۔ اسے حمدہ کے اس طرح کے ری ایکشن کی توقع تھی۔
’’مثلاً…‘‘
’’آپ اور میرے درمیان…‘‘ ابھی اس نے کہنا شروع کیا تھا کہ ازکئی دروازے پر دستک دیتی اندر چلی آئی
تھی۔
’’اُمید ہے میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا۔‘‘ وہ پوچھ رہی تھی حمدہ بس لب بھینچ کر بیٹھی رہی۔
’’میں چلتا ہوں حمدہ! میں ناشتہ کرتے ہی گائوں کے لیے روانہ ہو رہا ہوں۔ اپنا موبائل آن رکھیے گا، رابطہ
کرتا رہوں گا۔‘‘ ازکئی کے آنے کی وجہ سے جو بات ادھوری رہ گئی تھی اس کو اسی طرح چھوڑ کے وہ اُٹھ
کھڑا ہوا تھا۔
’’آپ اپنے گائوں واپس جا رہے ہیں؟‘‘ ازکئی نے فوراً اندازہ لگایا تو عمر نے سر ہلا دیا۔
’’جی…‘‘
’’چند دن اور ُرکتے۔‘‘ اس نے مہمان نوازی نبھائی۔
’’نہیں… ادھر حویلی میں ماں جی بیمار ہیں۔ ماریہ باجی کی کالز آ رہی ہیں۔ میرا وہاں پہنچنا ضروری ہے۔
اس کے علاوہ اور بھی ایک بہت ضروری کام ہے۔‘‘ جواب دیتے اس نے حمدہ کو بھی دیکھا وہ سر جھکا
گئی۔
’’اوکے جی… چلتا ہوں اب… حمدہ! اب اپنا بہت خیال رکھیے گا۔ میں جلد ہی آنے کی کوشش کروں گا۔ اوکے
اللہ حافظ۔‘‘
وہ خصوصاً حمدہ سے کہہ کر وہاں سے نکل گیا تھا اور حمدہ ایک دم بڑے نڈھال سے انداز میں دوبارہ
بستر پر گر گئی تھی۔
عمر کو رستے میں ہی ماریہ باجی نے کال کر کے اطلاع کر دی تھی کہ ماں جی کی طبیعت خراب ہونے پر وہ
اور ذوالفقار بھائی ان کو شہر کلینک میں لے آئے تھے۔ ماں جی ہائی بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں اکثر ان کا
بلڈ پریشر شوٹ کر جاتا تھا، عموماً اکثر ایسا پریشانی کی حالت میں ہوتا تھا، عمر سیدھا کلینک ہی پہنچا
تھا۔ شام تک اماں کی طبیعت سنبھلی تو ماریہ باجی ان کو اپنی طرف لے آئی تھیں۔ رات انہوں نے ادھر
ہی گزاری تھی۔ صبح ناشتے کی میز پر ماریہ باجی ذوالفقار اور عمر تینوں ہی تھے۔ ماں جی اپنے کمرے
میں تھیں۔
’’ماں جی کا بی پی اچانک کیسے شوٹ کر گیا۔ خیریت تھی نا؟‘‘ ناشتہ کرتے ماریہ باجی کو دیکھا۔
’’بس گائوں میں دونوں ماموئوں نے حویلی آ کر بہت باتیں کی تھیں۔ وہی زویا والے رشتے کا مسئلہ؟ ماں
جی نے مجھے زیادہ تو کچھ نہیں بتایا پرسوں صبح مختار چاچی نے کال کی اور ذکر کیا پھر شام تک ماں
جی کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی، میں ذوالفقار کو لے کر فوراً پہنچی، اگلی صبح تمہیں فون کرنے کے
بعد ان کو لے کر شہر آ گئی تھی۔ کل سارا دن وہ کلینک میں ذوالفقار کی نگہداشت میں رہی ہیں تو کچھطبیعت سنبھلی ہے۔‘‘ عمر کے لیے اپنے ماموئوں کے رویے خاصے تکلیف دہ تھے۔ بہت تعجب سے وہ ماریہ
باجی کی باتیں سن رہا تھا۔
’’مگر کیوں… رشتہ کرنا یا نہ کرنا ہماری اپنی صوابدید پر ہے۔ رشتے سے انکار بڑے ماموں کی بیٹی کے لیے
ہوا ہے، باقی دونوں کو کیا ہوا ہے؟‘‘
’’یہی تو مسئلے ہیں کہ منجھلے ماموں نہ تین میں نہ تیرہ میں، بس خاموش ہیں چونکہ بڑے ماموں کی
بیٹی ہے اور چھوٹے ماموں کی بیگم کی بھانجی اور ہماری دونوں ممانیوں میں بڑا ایکا ہے اور ان کے زعم کا
سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ لوگ باقر علی کی غنڈہ گردیوں کو بہادری اور مردانگی کے زمرے میں
شمار کرتی ہیں اور ہمارے ماموں صاحبان بیویوں کی عقل سے فیصلے کرنے والے انسان ہیں انہیں یہ تھا
کہ تم باہر سے پڑھ کر آئے ہو، نانا مرحوم اور پھر اپنے ہمارے والد کی طرف سے جو تھوڑی بہت زمین ہمیں
ملی ہوئی ہے اس کو بنیاد کر تمہیں وہ بہلا پھسلا کر کاروبار کرنے کی آفر کریں گے اور جب زمین داری کا
معاملہ ختم ہو جائے گا گا تو بیٹی کا رشتہ دے کر تمہیں اپنے ماتحت کرنے کی کوشش کریں گے۔ جبکہ
ایسا نہیں ہو رہا تو انہوں نے ماں جی کو بہت کچھ سنایا ہے۔‘‘ ماریہ باجی تو بھری بیٹھی تھیں۔ عمر منظر
سے غائب رہنے کی وجہ سے یہاں کے حالات سے یکسر بے خبر رہا تھا اس کے لیے اپنے ماموئوں کی یہ
اندرونی چپقلش خاصی حیران کن تھی۔
ماں جی نے اسی بات کی سخت ٹینشن لی ہے کہ انہوں نے ساری عمر اپنے بھائیوں کے آسرے پر گائوں
میں زندگی گزار دی۔ تمہاری جدائی میں ورنہ جس طرح شروع سے ہی ماموں سرفراز ماں جی کو اپنے
ساتھ امریکہ لے جانے کی کوششوں میں سرگرداں رہے تھے اب ہم وہاں ہوتے تو اچھے خاصے سیٹل ہو چکے
ہوتے۔ تم ماموں کے ساتھ مل کر اپنا کاروبار کر رہے ہوتے۔ مگر ماں جی کو یہ تھا کہ یہ اپنا وطن ہے، باپ دادا
کی جگہ ہے، مرحوم نانا کو ماں جی تنہا نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں۔ نانا جی نے اپنی زندگی میں ہی اپنی
بیٹی اور چاروں بیٹوں کو حصے دے کر فارغ کر دیا تھا۔ ماموں سرفراز باہر چلے گئے باقی تینوں نے مل کر
کاروبار شروع کر لیا۔ بڑے ماموں کچھ زیادہ لمبے ہاتھ مارنے کے چکر میں رہے ہیں ہمیشہ سے، انہوں نے
حمدہ کے والد چاچا طفیل کو یوں ہاتھوں میں لیا کہ ان سے نہر کے اس طرف اور پولٹری فارم والی ساری
زمین اونے پونے داموں میں خرید لی۔ آج وہاں ان کا فش فارم اور پولٹری فارم کروڑوں کا بزنس کر رہا ہے اور
جو اصل حقدار ہیں وہ ُرل رہے ہیں ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔‘‘ عمر اس سلسلے میں خاموش رہا،
ذوالفقار بھائی بھی خاموش تھے۔
’’اب کیا ہو گا، ماں جی گائوں جائیں گی یا پھر ادھر ہی رہنا ہے؟‘‘ عمر نے پوچھا۔
’’نہیں گائوں ہی جائیں گی۔ ہم نے جائز الفاظ میں رشتہ لینے سے انکار کیا ہے۔ کسی کے گھر میں ڈاکہ
نہیں ڈالا کہ چھپ کر بیٹھیں۔ ماں جی کی طبیعت سنبھل گئی ہے۔ جیسا تم میناسب سمجھو کر لو، وہ تو
وہاں تنہا تھیں تو مختار چاچی نے فون کر کے مجھے بلوا لیا۔ دو تین دن سے تم سے بات ہو رہی تھی تم نے
بھی ذکر نہیں کیا کہ تم مری گئے ہوئے ہو۔ وہ تو گائوں پہنچ کر علم ہوا کہ تم تین چار دن سے مری گئے
ہوئے ہو۔‘‘ عمر نے چونک کر ماری باجی اور ذوالفقار بھائی کو دیکھا، وہ اس کی غیر موجودگی کی وجہ سےبے خبر تھے اس کا مطلب تھا کہ ماں جی اور چاچی نے ماریہ باجی کو بھی نہیں بتایا تھا کہ وہ مری نہیں
سرگودھا میں تھا۔
’’مختار چاچی کیسی ہیں؟‘‘
’’بظاہر تو ٹھیک ہیں۔ مجھے ماں جی کی پریشانی لگی رہی مگر وہاں کے حالات کچھ ٹھیک نہیں لگے۔ اماں
زلیخا نے ہی ذکر کیا تھا کہ حمدہ کہیں غائب ہے۔ چاچی مختار کہتی ہیں کہ وہ نگہت کے پاس گئی ہوئی
ہے دو تین دن سے مگر باقر علی نے سارے گائوں میں کچھ اور ہی مشورہ کروا دیا ہے۔ پھر ماں جی کی
طبیعت پریشانی لگ گئی تو مجھے خود سے چاچی یا پھر ماں جی سے خصوصی طور پر پوچھنے کا وقت
ہی نہیں ملا۔‘‘
’’اوہ…‘‘ عمر کے لیے یہ نئی صورتحال تھی، ماں جی نے فون پر ان حالات کا ذکر نہیں کیا تھا۔
’’اور چاچی مختار اس وقت کہاں ہیں؟‘‘
’’ہماری حویلی ہی میں ہیں۔ اماں زلیخا نے ہی ذکر کیا تھا کہ دو دن پہلے رات اندھیرے باقر علی چند
مردوں اور ایک دو عورتوں کو لے کر چاچی مختار کے گھر میں زبردستی گھس گیا تھا، نجانے اسے کیسے
شک ہو گیا تھا کہ حمدہ گائوں میں نہیں ہے اور پھر اس نے سارے گھر کی تلاشی لی، تلاشی سے پہلے
چاچی باقر علی کے سامنے ہی کہتی رہیں کہ حمدہ گھر پر ہی ہے، مگر بعد میں کہنے لگیں وہ نگہت کے
ہاں چلی گئی ہے۔ باقر علی کو شک ہو گیا ہے کہ اس بار چاچی نے حمدہ کو کہیں روپوش کر دیا ہے تاکہ
اگلے ماہ شادی نہ ہو سکے۔ اس نے گھر کا سامان توڑ ڈالا، اچھا خاصا شور شرابہ کیا گائوں کے لوگ اُٹھ کر
فوراً موقع پر پہنچے تو سب کے سامنے اس نے واضح الفاظ میں چاچی کو دھمکی دی کہ اگر چند دن میں
حمدہ گھر نہ پہنچی تو وہ نگہت کے سسرال میں دھاوا بول دے گا۔ ماں جی چاچی کو حویلی میں لے آئی
ہیں۔ اماں زلیخا تو یہ بھی کہہ رہی تھیں کہ ہماری دونوں ممانیاں اپنے تئیں چند رشتہ دار عورتوں کے
ذریعے پتہ کروا چکی ہیں کہ وہ نگہت کے پاس نہیں ہے۔ اب وہ کہاں ہے؟ یہ تو چاچی مختار بتا سکتی
ہیں۔‘‘ عمر نے ایک گہرا سانس لیا۔ ذوالفقار بھائی ناشتہ ختم کر کے چلے گئے تھے۔
’’حمدہ، نگہت کے پاس واقعی نہیں وہ سرگودھا میں ہے۔‘‘ عمر نے بڑے ُپرسکون انداز میں بتایا تو ماریہ
کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔
’’کیا کہہ رہے ہو۔ واقعی… مگر تمہیں کس نے بتایا ہے؟‘‘
’’میں مری نہیں سرگودھا گیا ہوا تھا۔ میں ہی ماں جی اور چاچی مختار کے کہنے پر حمدہ کو وہاں چھوڑ کر
آیا ہوں۔‘‘ عمر نے مزید انکشاف کیا۔
’’یہ کیا قصہ ہے۔ سرگودھا میں چاچی مختار کا کون ہے کس کے پاس حمدہ کو چھوڑ کر آئے ہو؟‘‘ ماریہ باجی
کا تشویش سے بُرا حال ہوا۔
عمر نے تمام صورتحال سے آگاہ کر کے تمام تفصیلات بتا ڈالیں۔
’’تمہیں یقین ہے کہ چاچی کے اتنے عرصے بعد ملنے والی اس خالہ کی فیملی بھروسے لائق ہے۔ اسے وہاں
کوئی نقصان تو نہیں ہو گا نا۔‘‘ تمام صورتحال جاننے کے بعد اک نئی فکر لاحق ہوئی۔’’مجھے انسانوں کی بے شک بہت پہچان نہیں مگر جتنی بھی زندگی گزاری ہے اس کی روشنی میں میں
کہہ سکتا ہوں کہ یہ لوگ حمدہ کے معاملے میں قابل بھروسہ ہیں۔‘‘
’’دیکھو ماں جی نے بھی مجھے کچھ نہ بتایا میں اب تک یہی سمجھتی رہی ہوں کہ تم مری سیر کے لیے
گئے ہوئے ہو۔‘‘ عمر آہستگی سے مسکرا دیا۔
’’مجھے حمدہ والے سلسلے میں ہی آپ سے ایک اور بہت ہی اہم بات کرنی ہے۔ ماں جی سے تفصیلی ٓذکر
کرنے سے پہلے آپ سے ذکر کر لوں تو بہتر ہے۔‘‘
’’کوئی خاص بات ہے؟‘‘ وہ فوراً متفکر ہوئیں۔
’’جی…‘‘
’’حمدہ کو وہاں کس لیے بھیجا گیا ہے آپ کو تفصیل بتا تو دی ہے میں نے۔‘‘ ماریہ نے سر ہلا دیا۔
’’وہ لوگ میری توقع کے برعکس کافی اچھے رہے ہیں۔ اسی لیے میں مطمئن ہو کر واپس آیا ہوں۔ ہو سکتا
ہے ادھر کے بگڑے حالات کو دیکھتے چاچی مختار حمدہ کی شادی کرنے کا ارادہ کر لیں، ویسے بھی انکل
افتخار نے مجھے یقین دلایا تھا کہ حمدہ اب ان کی ذمہ داری ہے، ہم لوگ بے فکر رہیں، وہ چند ایک جاننے
والوں سے رشتے کا ذکر کرتے ہیں شاید کہیں اچھی جگہ بات بن جائے۔‘‘
’’ارے یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔‘‘ ماریہ باجی خوش ہوئیں تو عمر نے سنجیدگی سے انہیں دیکھا۔
’’میں اسی سلسلے میں آیا ہوں۔ میں حمدہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’عمر…‘‘ عمر کے انکشاف پر ماریہ باجی کافی حد تک مہر بہ لب رہی تھیں۔
’’کیا میں نے بہت ناجائز بات کہہ دی ہے۔‘‘ ماریہ کی خاموشی پر عمر نے کریدا۔
’’نہیں… مجھے یقین نہیں آ رہا۔ تم نے ہمیشہ سے ایک مختلف زندگی گزاری ہے، میں سوچ رہی ہوں کہ تم
نے یہ فیصلہ کیونکر کیا؟ میں مانتی ہوں حمدہ بہت زیادہ خوبصورت ہے مگر شادی کرنے کے لیے
خوبصورتی مین وجہ تو نہیں بن سکتی۔ پھر جس طرح حمدہ کے حالات رہے ہیں اور باقر علی والی
صورتحال ہی دیکھ لو، ایسے میں تمہارا یہ فیصلہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کس طرح کا ری ایکٹ
کروں۔ کیا تم واقعی سیریس ہو یا محض مذاق کر رہے ہو یا حمدہ کے ساتھ وقتی ہمدردی کے جذبات
رکھتے ہوئے اتنا بڑا فیصلہ کیا ہے؟‘‘ عمر نے ایک گہری سانس لیا۔
’’میں نے بیشک ہمیشہ سے ایک بہت مختلف زندگی گزاری ہے مگر اپنا اصل کبھی نہیں بھولا۔ ماموں کے
زیر سایہ پرورش پاتے ہوئے بھی میں نے نہ یہاں کے حالات کبھی فراموش کیے اور نہ ہی یہاں کے طور
طریقے۔ حمدہ بیشک بہت خوبصورت ہے اور اس کے حالات کو دیکھتے ہوئے میں اس کے ساتھ کوئی
ہمدردی نہیں کر رہا، میں واقعی سیریس ہوں یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں کہ میں مذاق کروں۔ آئی تھنک
آئی فال ان لو ود ہر۔‘‘
’’کیا؟‘‘ ماریہ باجی حیرت سے اپنے خوبرو بھائی کو دیکھ رہی تھیں۔
’’ماریہ باجی کیا اپ لو ان فرسٹ سائٹ (پہلی نگاہ کی محبت) پر یقین کرتی ہیں؟‘‘ ماریہ خاموش رہی تو
عمر نے مسکرا کر ان کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔’’آپ کو شاید یاد ہو میں نے حمدہ کو دیکھتے ہی کہا تھا کہ یہ خاصی خوبصورت لڑکی ہے وہ میری پہلی
نگاہ تھی اس نگاہ میں، میں نے محض حمدہ کی خوبصورتی نہیں دیکھی تھی اس کے کردار کا وہ پہلو
دیکھا تھا جو اس کی ذات کے رکھ رکھائو اور وقار پر مشتمل تھا، برائون چادر اپنے اطراف میں لپیٹے وہ
سب میں ایک دم نمایاں اور باوقار تھی۔ اس کی خوبصورتی، اس کے اطوار اس کا ماں جی کے پاس دھیمے
اور سلجھے ہوئے انداز میں بیٹھ جانا، ماریہ باجی یہی وہ پہلی نگاہ تھی جس نے مجھے چونکا دیا تھا اور
اس کے بعد جب بھی حمدہ کا چہرہ نگاہوں کے سامنے آیا یوں لگا کوئی اَن دیکھی کشش مجھے اس کی
طرف کھینچ رہی ہے۔‘‘ ماریہ حیران و ششدر اپنے بھائی کا دیوانہ پن دیکھ رہی تھی۔
’’باجی! وہ ایک اشارہ کرے تو میں اس کے لیے آگ میں کودنے کو تیار ہوں ہے تو یہ غیر عقلمندی والی بات
مگر باقر علی سے دشمنی مول لینا ایسا ہی ہے اور میں حمدہ کی خاطر سب جھیلنے کو تیار ہوں۔ میں
حمدہ کو مکمل عزت مان اور محبت بھری رفاقت دینا چاہتا ہوں، بولیں باجی! کیا میں غلط ہوں؟‘‘ ماریہ نے
ایک گہرا طویل سانس لیا۔

Read More:  In Lamhon K Daman Main Novel By Mubashra Ansari – Episode 8

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: