Dhal Gai Phir Hijar Ki Raat by Sumaira Sharif – Episode 8

0

’’حمدہ ایک بہت اچھی سلجھی ہوئی ایجوکیٹڈ لڑکی ہے۔ چاچی نے اس کی تربیت بڑے ناز و نعم میں کی
ہے مگر حالات و واقعات نے بیچاری کو ٹھوکروں پر رکھ لیا ہے۔ مجھے حمدہ اور چاچی سے دلی لگائو ہے
میری دلی خواہش تھی کہ حمدہ کی جہاں بھی شادی ہو وہاں وہ پوری عزت اور مان کے ساتھ سر اُٹھا کر
جیے۔ اسے زندگی کی تمام خوشیاں ملیں، ہمارے ماموئوں اور ان کے سالے صاحب کی طرف سے جو بھی
زیادتیاں ہوئی ہیں ان کا ازالہ ہو جائے، مجھے خوشی ہو رہی ہے مگر اچھی طرح لوچ لو کہ کہیں تمہیں بعد
میں اس فیصلے پر پچھتانا نہ پڑ جائے۔ کیونکہ حمدہ سے شادی کی صورت میں سب سے پہلے ہمارے
ماموں ہی تمہارے خلاف کھڑے ہوں گے۔‘‘
’’میں ہینڈل کر لوں گا۔ آپ بے فکر رہیں۔ بس آپ اتنی فیور کر دیں کہ ماں جی اور چاچی سے ساری بات کر
لیں۔ حمدہ وہاں تنہا ہے میں چاہتا ہوں کہ جتنی جلدی ممکن ہو، یہ معاملہ نبٹ جائے، ایک دفعہ حمدہ کے
ساتھ میرا نام جڑ گیا تو پھر بعد میں باقر علی جیسے لوگوں سے نبٹنا میرے لیے قطعی مشکل نہیں۔‘‘
عمر کا لہجہ ہمیشہ سے زیادہ مضبوط اور اٹل تھا ماریہ باجی نے مسکرا کر سر ہلایا۔
ماریہ باجی نے ماں جی اور چاچی سے بات کی تھی، چاچی مختار کی شادی پر مرگ والی کیفیت تھی۔
اگلے تین چار دن میں اس معاملے کو کیسے نبٹایا جائے بس اسی سلسلے میں گفت و شنید ہوتی رہی
تھی۔ ماں جی نے امریکہ ماموں سرفراز سے بات کر کے باقاعدہ صلاح مشورے کے بعد ہی یہ طے کیا کہ
یہاں سے یہ سب لوگ بالکل خاموشی سے سرگودھا جائیں گے اور وہاں سے نکاح کے بعد واپس آ جائیں
گے بعد میں باقر علی کو علم ہو بھی گیا تو معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی اگر صلح صفائی
سے باقر علی مان گیا تو ٹھیک ورنہ پھر افتخار صاحب خود ہی کوئی لائحہ عمل ترتیب دے لیں گے۔ اس
ساری منصوبہ بندی کے دوران سبھی نے راز داری کا مکمل طور پر خیال رکھا، ماں جی شہر میں ہی تھیں۔
مختار چاچی کو بھی شہر بلوا لیا گیا تھا۔ ماں جی کو حویلی سے کچھ ضروری اشیاء درکار تھیں جو کہانہوں نے عمر کی دلہن کے لیے زیورات اور لباس وغیرہ کی صورت تیار کروا رکھی تھیں وہ بھی ماریہ باجی
ذوالفقار بھائی کے ساتھ جا کر ساتھ میں چاچی مختار کو بھی لے آئی تھیں۔ مختار چاچی نے اپنی دونوں
بیٹیوں اور دامادوں سے اس رشتے کے متعلق ذکر کیا تھا اور پھر سارا لائحہ عمل طے کرنے کے بعد ان
لوگوں نے سرگودھا اطلاع کر دی تھی۔
حمدہ کے لیے ابھی تک عمر کی پسندیدگی والا انکشاف ہی خاصا حیران کن تھا اوپر سے ایک دم یہ نئی
صورتحال عمر نے جانے کے بعد اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا حت ٰی کہ ایک کال تک بھی نہیں کی تھی۔
گائوں میں ہونے والی تمام صورتحال اسے پتا چل گئی تھیں مگر بعد میں ہونے والی منصوبہ بندی سے وہ
بے خبر ہی تھی کہ رات کو ازکئی نے آ کر اسے یہ اطلاع دی تھی کہ گائوں سے یہ سب لوگ آج یہاں
سرگودھا پہنچنے والے ہیں عمر کے لیے اس کا پروپوزل اماں نے قبول کر لیا ہے اور اسی سلسلے میں آج
نکاح کی رسم ادا کی جائے گی۔ وہ ساری رات پریشان رہی تھی۔
وہ بار بار اماں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر ادھر سے کوئی بات ہی نہیں کرتا تھا۔ بس اماں
نے ایک بار ہی کال کر کے کہہ دیا کہ وہ وہاں آ کر اسے ساری صورتحال سمجھا دیں گی۔ یہ لوگ دوپہر کو
یہاں پہنچے تھے۔ ان لوگوں کے ہمراہ حمدہ کی دونوں بہنیں اور ان کے شوہر بھی تھے، اماں، ماریہ باجی
ان کے شوہر بی بی کے علاوہ چند اور جاننے والے بھی تھے جن میں ایک دو گائوں کے معتبر بزرگ تھے۔ یہ
سب بی بی کے حامی تھے۔ یقینا عمر لوگوں کے ساتھ ہی آئے تھے۔ ماں جی خاصی ُپرسکون تھیں جبکہ
ماریہ اور حمدہ کی دونوں بہنیں خاصی خوش لگ رہی تھیں۔ نکاح کی تقریب شام کے وقت تھی اور اس
وقت وہ اماں کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھی اس ساری صورتحال پر اُلجھ رہی تھی۔
’’اماں بھلا یہ کہاں ممکن ہے؟ ہمارا اور ان کا کوئی جوڑ نہیں… کہاں وہ لوگ اور کہاں ہم؟ اماں یہ سب طے
کرنے سے پہلے مجھے کچھ تو بتایا ہوتا؟‘‘
’’ٹھیک کہا تم نے… مگر میں ماں ہوں تمہارے لیے مجھے کسی ایسے ہی خاندان کی تلاش تھی، بی بی
سے میری آج کی رشتہ داری نہیں کہ میں انکار کر دیتی۔ وہ لوگ بہت محبت اور خوشی سے یہ سب کر
رہے ہیں۔ ہم تم اور وہ ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں۔ رشتہ داری ہے ہماری آپس میں، اگر تمہارے باپ کی یہ
حرکتیں نہ ہوتیں تو اللہ نے بہت کچھ دے رکھا تھا، زمین، جائیداد، حویلی، دولت، کوئی کمی نہ تھی اور
عمر لاکھوں میں بہتر ہے تم اپنے دل سے یہ خیال نکال دو یہ لوگ بہت محبت اور خوشی سے تمہیں اپنا
رہے ہیں۔‘‘ اماں نے اس کو سمجھانا چاہا۔
’’وہ سب ٹھیک ہے مگر جب ہمارے پاس سب کچھ تھا تب ہماری حیثیت بھی اور تھی، اماں یہ باقر علی کے
نام کی شہرت مجھے جیتے جی مار ڈالنے کو کافی ہے۔ باقر علی کا حوالہ سن کر لوگ میرا نام لیتے اور یہ
لوگ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے، جب گائوں میں پتہ چلے گا تو بہت ہنگامہ ہو گا۔‘‘ وہ انتہائی پریشان تھی۔
’’تم دل سے سب واہموں کو نکال کر ُپرسکون ہو جائو۔ جب تک تمہاری ماں زندہ ہے وہ کسی کو بھی
تمہاری طرف میلی نگاہ سے بھی نہیں دیکھنے دے گی۔ وہ سب کچھ تمہاری بہتری اور بھلائی کے لیے
ہی کر رہی ہوں۔ پھر افتخار نے بھی تسلی دی ہے کہ اگر ایک دفعہ نکاح ہو گیا تو ہماری قانونی حیثیتمستحکم ہو جائے گی تب باقر علی نے اگر کوئی اوچھی حرکت کی بھی تو ہم اس قابل ہو سکیں گے کہ
اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکیں۔‘‘ اماں بہت ُپرامید تھیں وہ مزید کچھ کہنا چاہتی تھیں مگر
ماریہ باجی اور نگہت وغیرہ کے آ جانے سے بات ٹل گئی تھی۔
’’ہم تمہارے لیے شہر سے آتے ہوئے یہ سب لے کر آئے ہیں۔‘‘ نگہت باجی نے ایک خاصا بھاری خوبصورت
کام والا جوڑا اس کے سامنے پھیلا دیا تھا ۔سوٹ کافی پیارا تھا حمدہ کی نگاہیں ایک پل کو سوٹ پر جم
سی گئی تھیں۔
’’میں نے اور نگہت نے آتے ہوئے عمر کو ساتھ لے کر یہ سوٹ خریدا تھا پیارا ہے نا؟‘‘ ماریہ اس کی توجہ
محسوس کر کے ایک دم خوش ہو کر پوچھ رہی تھی۔ حمدہ محض سر ہلا گئی۔
یہ سب کچھ اس قدر عجلت اور افراتفری میں ہو رہا تھا کہ حمدہ کو اپنے احساسات کی خود بھی کچھ
سمجھ نہیں آ رہی تھی، خصوصاً عمر ہاشم جیسے اعل ٰی اور مکمل شخصیت رکھنے والے انسان کا تصور
ہی مقابل کو شکست تسلیم کر دینے پر مائل کر سکتا تھا۔
شام تک ماریہ باجی نگہت اور ازکئی نے مل کر اسے مکمل طور پر دلہن کے روپ میں سجا دیا تھا۔ ایجاب
و قبول کے مراحل طے کرتے وقت وہ شدت سے رو دی تو سبھی کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔
حمدہ نکاح کے کچھ دیر بعد ہی اندر کمرے میں آ گئی تھی۔ ماریہ نے روایتی نندوں کی طرح حمدہ سے
چھیڑ چھاڑ تو نہیں کی تھی تاہم وہ آتے جاتے جن نظروں سے دیکھ رہی تھیں حمدہ مسلسل پزل ہو رہی
تھی۔
’’تم بیٹھو تمہارے لیے کھانے پینے کو کچھ لاتی ہوں۔‘‘ اسے بٹھا کر ازکئی باہر نکل گئی تو وہ گم صم سی
بیٹھی اس ساری صورتحال پر مسلسل غور کرنے لگی۔ تبھی اس کے سرہانے پڑا موبائل بجنے لگا۔ حمدہ نے
چونک کر موبائل کو دیکھا یہ عمر ہاشم کا دیا ہوا موبائل تھا۔ موبائل کی اسکرین پر جگمگانے والا نمبر دیکھ
کر وہ چونکی تھی۔
’’عمر کالنگ…‘‘ کے حروف واضح تھے۔ اس دن صبح عمر کے واپسی جانے کے بعد وہ لاشعوری طور پر اس
کی کال کی منتظر رہی تھی مگر کوئی کال نہ آئی تھی مگر اب عمر کا نام دیکھ کر وہ اُلجھ گئی۔ کچھ دیر
قبل نکاح کی رسم ہوئی تھی اور اب یہ کال آ گئی تھی اسے سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا کرے؟ حمدہ نے
خاموشی سے موبائل تھام کر کان سے لگا لیا۔
’’السلام علیکم…‘‘ عمر کہہ رہا تھا، حمدہ کو اپنی ہتھیلیاں بھیگتی محسوس ہوئیں۔
نکاح کے بعد اس شخص سے بات کرنا… حمدہ کے اندر ایک دم ڈھیروں شرم نے ڈیرہ جمایا۔
’’حمدہ؟‘‘ وہ پکار رہا تھا، وہ تب بھی خاموش رہی۔ لب شرم و حیا سے ساکت رہ گئے۔
’’مجھے پتا ہے آپ سن رہی ہیں… کیسی ہیں آپ؟ طبیعت ٹھیک ہے؟‘‘ عمر کی وہی مخصوص بھاری سحر
طرز آواز کانوں میں گونجی تو اس نے گھبرا کر دروازے کی طرف دیکھا، وہاں سے ماریہ باجی ازکئی کے
ہمراہ اندر آ رہی تھیں۔ اس نے جلدی سے کال کاٹ کر موبائل گود میں رکھ لیا۔
’’کیا ہوا… کس کی کال تھی؟‘‘ ماریہ باجی نے اس کا شرم سے سرخ چہرہ دیکھا۔ تبھی موبائل پھر بجنے لگاتھا۔ ماریہ کی طرف سے نظریں چراتے اس نے پھر کال کاٹ دی۔
’’کہیں عمر تو کال نہیں کر رہا؟‘‘ اس کے سرخ ُرخصار دیکھتے ماریہ نے تکا مارا تو وہ مزید سرخ پڑ گئی۔
ماریہ باجی کھل کر ہنس دیں۔
’’ابھی عمر نے مجھے بھی کال کی تھی۔ باہر کھانا کھایا جا رہا ہے وہ تمہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ کیا خیال ہے بلا
لوں؟‘‘
’’ماریہ باجی پلیز…‘‘ انہوں نے محبت سے اسے اپنے بازو کے حصار میں لے لیا
’’وہ بہت بے چین ہو رہا ہے۔ صرف ایک جھلک دیکھنا چاہتا ہے۔ میں نے کہہ دیا اپنی بیگم سے پوچھ لو اگر
وہ ملنے پر آمادہ ہو جائیں تو میں ملاقات کا انتظام کر دیتی ہوں۔‘‘
’’مجھے نہیں ملنا…‘‘ ماریہ نے ازکئی کو دیکھا وہ معنی خیز انداز میں ہنس دیں۔
’’مگر ہم تو ملاقات کروانے کا وعدہ کر بیٹھے ہیں۔‘‘ حمدہ کو اپنے ہاتھ پائوں یخ ہوتے محسوس ہوئے۔
’’یار میرا بھائی اتنا ڈرائونا نہیں کہ تم یوں خوفزدہ ہو جائو۔‘‘ ماریہ نے اسے چھیڑا۔
’’میرے لیے یہ سب قبول کرنا بہت مشکل ہے۔ ابھی میں کسی کا بھی سامنا نہیں کر سکتی۔‘‘ حمدہ کی
آنکھوں سے دھیرے سے آنسو بہہ نکلے۔ ماریہ نے آہستگی سے گلے لگا کر دلاسہ دیا۔
تبھی دروازے پر دستک ہوئی تو ازکئی نے اُٹھ کر دیکھا عمر ہاشم کو دیکھ وہ مسکرا دی۔
حمدہ بھی اسے دیکھ کر متوحش ہو گئی۔ ازکئی کے راستہ دینے پر وہ اندر آ گیا تھا۔ حمدہ نے فوراً دوپٹے
کے زرتار پلو میں اپنا منہ چھپا لیا۔ ماریہ کی ہنسی نکل گئی۔ وہ اسے خود سے جدا کرتے کھڑی ہو گئیں۔
حمدہ خاصی پریشان ہو گئی تھی۔
’’ہم باہر ہی ہیں۔ عمر زیادہ پریشان نہیں کرنا۔‘‘ حمدہ اور عمر کو ایک ساتھ کہہ کر وہ ازکئی کو لیے باہر
نکل گئی تھیں۔
عمر نے آگے بڑھ کر دروازہ بند کیا تو حمدہ کو اپنا دل بھی بند ہوتا محسوس ہوا۔ دوپٹے کا کنارہ مضبوطی
سے ہاتھ میں پکڑ کر چہرے کے گرد کر لیا۔ کامداری سرخ دوپٹے کی اوٹ میں وہ سر جھکائے عمر ہاشم کو
مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی۔
ہا
کئی دن ہو گئے تھے اس نے اسے نہیں دیکھا تھا اس کی آواز نہیں سنی تھی وہ پچھلے دنوں اتنا بزی ر
تھا کہ کال کرنے کا وقت بھی نہیں ملا تھا۔ وہ جاتے ہوئے اسے کہہ کر بھی گیا تھا کہ وہ موبائل آن رکھے وہ
کال کرے گا مگر پھر نہ کر پایا اور اب جب سے وہ ادھر تھا نجانے کیسے خود کو روک رکھا تھا، ورنہ دل چاہ
رہا تھا کہ ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اس کو دیکھنے پہنچ جائے اور اب جبکہ اس کے جملہ حقوق عمر
ہاشم کے نام محفوظ ہو چکے تھے وہ اس کے وجود پر مکمل ملکیت کا حق رکھتا تھا تو بھی اس سے ملنے
سے پہلے بات کرنے کی کوشش کی تھی۔
’’السلام علیکم…‘‘ وہ اس کے سامنے آ ُرکا تو حمدہ ساکت سی سر جھکائے اسی طرح سرخ دوپٹے کی اوٹ
میں بیٹھی رہی۔ عمر اس کے سامنے بستر پر ٹکا تو اس نے لب دانتوں تلے دبالیے۔
’’کیسی ہیں آپ؟‘‘ عمر پوچھ رہا تھا حمدہ پر گھبراہٹ طاری ہو چکی تھی۔ اس نے غیر محسوس انداز میںپیچھے سرکنا چاہا تو عمر نے ایک دم اس کا ہاتھ تھام کر اس کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔ حمدہ نے تڑپ
کر دیکھا مگر دوپٹے کی اوٹ سے وہ مقابل کے تیور نہ جانچ پائی۔
’’میں زیادہ دیر نہیں ُرکوں گا بس تھوڑی دیر کے لیے صرف آپ کو دیکھنے آیا ہوں۔‘‘ اس کی گھبراہٹ
محسوس کر کے عمر نے مسکرا کر کہتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے مضبوطی سے دوپٹے کے کنارے کو تھامے
ہاتھ کو پکڑ کر اس کا چہرہ اپنے سامنے کیا تھا حمدہ عمر کی اس جسارت پر بس لحظہ بھر کو دیکھ پائی
تھی۔ وہ آنکھوں میں جذبوں کا ایک جہاں آباد کیے نہایت وارفتہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ حمدہ کا دل بڑے
زور سے دھڑکنے لگا۔
حمدہ نے پلکوں کی جھالر گرا لی تو عمر کے ہاتھوں میں جکڑے اپنے دونوں ہاتھ بھی کھینچ لیے۔ عمر جو
اس قدر شدت سے اسے دیکھ رہا تھا اس کے ہاتھ کھینچنے پر چونک گیا۔ حمدہ حسین تھی مگر اس وقت
دلہناپے کی تمام تر سج دھج لیے وہ اس کی ساری سدھ بدھ کھوئے دے رہی تھی۔
’’حمدہ! آپ بہت پیاری لگ رہیں۔‘‘ حمدہ جو اس کی نظروں سے پہلے ہی خائف ہو رہی تھی اب ایک دم
سٹپٹا گئی۔ اس قدر والہانہ پن اس قدر بے ساختگی؟
’’آپ خوش ہیں نا؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا، وہ بس سر جھکائے بیٹھی رہی۔
وہ ایک دفعہ پہلے بھی دلہن بنی تھی مگر تب نکاح سے پہلے ہی اس کی سج دھج اُجاڑ دی گئی تھی اور
آج اس کی زندگی میں یہ دن دوسری بار آیا تھا۔ دوسری بار کسی مرد کے نام پر وہ پور پور سجائی گئی
تھی مگر اس وقت وہ اپنی حالت پر خود ہی گھبرا رہی تھی۔ اس کے دل کے اندر خوشی کے بجائے خوف، ڈر
اور گھبراہٹ کا عنصر غالب تھا۔ ماضی میں اس کے ساتھ جو کچھ بھی ہو چکا تھا ان لمحوں میں وہ چاہ کر
بھی ماضی کو فراموش نہیں کر پا رہی تھی۔
’’میں آپ کی فیلنگ سمجھ سکتا ہوں۔ مجھے اندازہ ہے کہ آپ کے لیے یہ سب فوراً قبول کرنا مشکل ہے۔
مگر مجھے یقین ہے کہ آپ بہت جلدی اس رشتے پر دل سے خوشی محسوس کریں گی۔ میں نے آپ کو
پہلی نگاہ میں دیکھنے کے بعد آپ سے محبت کا رشتہ باندھا تھا، آج آپ میری زندگی کا حصہ ہیں۔ یقین
کریں میں بہت خوش ہوں۔‘‘ وہ کہہ رہا تھا، حمدہ خاموش رہی۔
’’آپ کچھ نہیں کہیں گی؟‘‘ اس کے ہاتھ کو محبت سے تھام کر وہ کہہ رہا تھا۔
’’کیا کہوں؟‘‘ حمدہ نے سر اُٹھا کر عمر کو دیکھا اور ہنس دیا۔
’’جو بھی آپ کے دل میں ہے۔ اس وقت جو بھی محسوس کر رہی ہیں۔‘‘ محبت سے ہاتھ دبا کر اس کو بولنے
پر اُکسایا۔
’’مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اگر باقر علی کو پتہ لگ گیا تو؟‘‘ عمر ایک دم سنجیدہ ہو گیا۔
’’تو اچھی بات ہے نا میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ بہت جلد یہ معاملہ سلجھ جائے۔ باقر علی نے جو بھی
اسٹیپ لینا ہے جلد از جلد لے۔ آپ اب میری بیوی ہیں اگر وہ کسی زعم میں آ کر کچھ غلط کرے گا تو اس
کا خمیازہ بھی بھگتے گا۔ آپ کی جان کا تحفظ اب میری ذمہ داری ہے اگر مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہیں تو
بس یہی کہوں گا کہ بے فکر ہو کر آنے والی نئی زندگی کے متعلق خوشگوار انداز میں سوچیں۔ ان شاءاللہ میں آپ کو زندگی کے کسی بھی قدم پر تنہا نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ عمر کے الفاظ حمدہ کے اندر ایک یقین
بن کر اُترے تھے۔ ایک دھیمی سی مسکان اس کے لبوں پر آ ٹھہری جسے عمر ہاشم نے بھی فوراً محسوس
کر لیا اس کی حوصلہ افزائی ہوئی تھی گویا۔
’’آپ کے لیے یہ چھوٹا سا تحفہ لایا تھا۔ اگر قبول کر لیں تو گی تو عنایت ہو گی۔‘‘ عمر ہاشم نے پینٹ کی
جیب سے ایک خوبصورت بریسلیٹ نکال کر اس کی طرف بڑھایا، حمدہ نے سٹپٹا کر عمر اور پھر تحفے کو
دیکھا۔
’’اس کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ وہ لینے میں تامل برت رہی تھی۔ عمر نے مسکرا کر خود ہی حمدہ کا ہاتھ تھام
کر نہایت آہستگی سے بریسلیٹ پہنا دیا۔
عمر کے ہاتھ میں اس کا نرم و نازک ہاتھ لرز رہا تھا۔ بریسلیٹ پہنا کر عمر نے ایک دو پل حمدہ کی لرزتی
پلکوں کو دیکھا اور پھر جھک کر بہت نرمی سے اس کے ہاتھ کو پرحدت ہونٹوں سے چھوتے ہوئے اس کے
وجود کو بازو کے حصار میں لے لیا تھا۔ حمدہ اس سب کے لیے قطعی تیار نہ تھی اچھی خاصی حواس
باختہ ہو گئی تھی۔
’’آپ میری زندگی کا سب سے بڑا سچ ہیں حمدہ! آپ کی محبت میری رگوں میں خون کی مانند سرائیت کر
رہی ہے۔ حالات کچھ بھی ہوں میں کبھی بھی کسی بھی موڑ پر آپ کو تنہا نہیں ہونے دوں گا۔ میری محبت
میرے خلوص پر اعتبار کیجیے گا۔‘‘ بہت محبت و اپنائیت سے کہتے نہایت استحقاق بھرے انداز میں اس
کے چہرے پر اپنا ُپرحدت لمس چھوڑ کر سب کہہ کر عمر ہاشم چلا گیا تو بھی حمدہ اپنی جگہ ساکت سی
بیٹھی رہ گئی۔
اگلے دن صبح صبح یہ لوگ ُرخصت ہو رہے تھے، پروگرام کے مطابق یہ طے پایا تھا کہ جب تک معاملہ حل
نہیں ہو گا حمدہ اور چاچی مختار ادھر ہی ُرکیں گی باقی لوگ ُرخصت ہو رہے تھے۔ صبح سے عمر کی کئی
کالز آ رہی تھیں مگر کل نکاح کے بعد عمر سے ہونے والی ملاقات کے بعد حمدہ اس کی کوئی کال ریسیو
نہیں کر رہی تھی جیسے ہی ماریہ باجی اور بی بی حمدہ کی بہنیں سب اس سے مل کر اس کے کمرے
سے نکلیں عمر کے میسجز آنے شروع ہو گئے تھے۔
’’میں آپ کو ایک بار جانے سے پہلے دیکھنا چاہتا ہوں حمدہ پلیز باہر لان میں آئیں یا پھر میری کال پک
کریں۔‘‘ حمدہ میسج پڑھ کر مسکرا دی۔
حمدہ کو لگا گویا ایک دم زندگی میں سارے غموں کی تلافی ہو گئی ہے۔ سارے زخموں پر مرہم رکھ دیا گیا
ہے۔
’’میں نہیں آ سکتی۔‘‘ اس نے میسج کر دیا۔
’’تو پھر ٹھیک ہے میں خود اندر آ جاتا ہوں۔‘‘ فوراً جواب ملا تھا۔ وہ ہنس دی۔
ایک دو پل سوچنے کے بعد وہ کمرے سے نکل آئی تھی۔ اماں اور حویلی والے سب کو ُرخصت کرنے باہر
صحن میں آئے ہوئے تھے۔ بی بی خالہ بی سے مل رہی تھیں۔ وہ خاموشی سے اماں کے پاس آ کھڑی ہوئی۔
ماریہ باجی اسے دیکھ کر مسکرا دیں اور محبت سے اس کا بازو تھام لیا۔’’اپنا خیال رکھنا اور پریشان نہیں ہونا۔ ہم کوشش کریں گے کہ اب جلد از جلد یہ معاملہ ہینڈل ہو جائے پھر
تمہیں بڑی دھوم دھام سے ُرخصت کروا کر اپنی حویلی لے کر جائیں گے۔‘‘ وہ اسے چھیڑ رہی تھیں وہ
جھینپ گئی۔
بی بی نے بھی اسے دوبارہ گلے لگا کر پیشانی پر بوسہ دیا تو اس کے اندر کا اعتماد کئی گنا بڑھا۔ ان لوگوں
کے ساتھ ہی چلتے وہ سیڑھیوں تک چلی آئی تھی آگے لان تھا، جہاں گیٹ کے قریب عمر اور ذوالفقار بھائی
اپنی اپنی گاڑیوں کے پاس کھڑے تھے۔ حمدہ نے چہرہ پھیر لیا تھا۔ عمر کی نگاہوں کا وہی مخصوص تاثر
اس وقت اُلجھانے کے بجائے بڑے خوبصورت انداز میں دل دھڑکانے کا سبب بن گیا تھا
’تبھی موبائل میں میسج ٹون بج اُٹھی اس نے ہاتھ میں پکڑا موبائل دیکھا، عمر کا میسج تھا۔
’’تھینکس…‘‘ وہ سر جھکائے مسکرا دی۔ گاڑیاں گیٹ سے نکلیں تو وہ حویلی والوں کے ہمراہ اندر چلی آئی۔
بظاہر اسے افسردہ ہونا چاہیے تھا مگر وہ مطمئن تھی اسے یقین تھا کہ جس طرح قسمت نے ایک دم پلٹا
کھایا ہے اب وہ دن دور نہیں ہو گا۔ جب وہ باقر علی کے عفریت سے نجات پا لے گی اور ایک ُپرسکون زندگی
گزارنے کے قابل ہو جائے گی۔ اسے اب شدت سے ان لوگوں کے لوٹنے کا انتظار تھا۔
حمدہ اور عمر ہاشم کے نکاح میں شامل گواہان میں سے دو گواہ بی بی کے ساتھ ہی گائوں سے گئے تھے۔
یہ دونوں اشخاص علاقے کے سرکردہ شخصیت کے حامل تھے۔ چاچا رحمت اور ان کے بھائی اشفاق صاحب
کو بی بی نے بطور خاص اسی لیے بلوایا تھا کہ نکاح کے دوران ان لوگوں کی شرکت سے معاملہ ان لوگوں
کے حق میں رہے گا۔ کیونکہ جب سے باقر علی اور حمدہ والا معاشقہ شروع ہوا تھا یہ لوگ ہی ابھی تک
معاملے کو سنبھالے ہوئے تھے ورنہ جس طرح باقر علی کی حرکات تھیں کچھ بعید نہ تھا کہ وہ کب کا زور و
زبردستی سے حمدہ سے شادی رچا چکا ہوتا۔ حمدہ کی وہ شادی جو ہوتے ہوتے رہ گئی تھی اس شادی کا
ُدلہا جسے اغوا کر کے باقر علی نے کئی دن اپنی تحویل میں رکھا تھا ان لوگوں کی کوششوں سے ہی
دوبارہ وہ باقر علی کی قید سے نکل پایا تھا اور باقر علی ابھی تک محض ڈرا دھمکا کر حمدہ اور اس کی
ماں کو ہراساں ہی کرتا رہا تھا یہ سب ان لوگوں کی وجہ سے ہی تھا ورنہ حمدہ کا حصول مشکل نہ تھا۔
اب جس طرح نکاح کی تقریب ہوئی تھی بی بی نے ان لوگوں کو ہی ثالث بنا کر گائوں کے تمام بڑے بڑے
زمینداروں کو اس معاملے کو حل کرنے کی دعوت دی تھی۔ چند دن تو خوب معاملہ اُچھالا گیا تھا، باقر علی
اپنے گائوں سے اس گائوں میں روزانہ چکر لگا رہا تھا، اس کی حیثیت ایک زخم کھائے شیر کی سی تھی،
وہ روز دھمکیاں بھجوا رہا تھا مگر مقابل بھی عمر ہاشم جیسے لوگ تھے وہاں بی بی کے دونوں بھائی زویا
والے رشتے سے انکار پر سخت ناراض تھے مگر چونکہ بی بی ان کی ہمشیرہ تھیں تو وہ باقر علی کے بجائے
ان کا ساتھ دینے پر مجبور تھے ورنہ یہ طے تھا کہ اگر وہ باقر علی کی حمایت کریں گے تو ساری برادری ان
لوگوں کا بائیکاٹ کر دے گی، بی بی جن کا اصل نام بلقیس بیگم تھا، بچپن سے ہی چھوٹے بڑے سبھی نے
ان کو بی بی کہنا شروع کر دیا تو وقت کے ساتھ ساتھ یہ نام ان کی پہچان بن گیا تھا۔ اپنے والد کے انتقال
ِ

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: