Dhal Gai Phir Hijar Ki Raat by Sumaira Sharif – Episode 9

0

کے بعد بی بی نے بھائیوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی زمینوں کے معاملات خود سنبھالے تھے۔ وہ براراست نگرانی نہ کرتی تھیں۔ ان کی پورے گائوں میں ایک مخصوص حیثیت تھی تمام چھوٹے بڑے
زمینداران کے فیصلے کو اہمیت دیتے تھے، ایسے میں باقر علی اگر برا ِہ راست حمدہ والے معاملے پر ان سے
اُلجھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا سراسر نقصان اس کی اپنی ذات کو ہونا تھا، بہرحال علاقے کے تمام
سرکردہ افراد ان کے ہمراہ تھے۔ عمر ہاشم چونکہ عرصہ بعد اپنے علاقے میں آیا تھا تو اس کے لیے یہاں کے
بہت سے حالات و واقعات نامانوس تھے چونکہ جوان خون تھا جوشیلا تھا، قوت بازو پر انحصار کرتا تھا۔ وہ
باقر علی کی حمدہ کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی بالادستی کو قبول کرنے پر تیار نہ تھا جبکہ بی
بی کی رائے تھی کہ یہ سارا معاملہ گائوں میں ہی حل ہو جائے تو بہتر ہے کل کلاں کو اگر کوئی اونچ نیچ
ہو گئی یا باقر علی نے کوئی کارروائی کی تو سارے گائوں والے ان کا ساتھ دینے کو تیار ہوں گے۔ اس م ٔوقف
پر عمر نے بی بی کی بات مان لی تھی مگر اندرونی طور پر وہ باقر علی سے خاصا خار کھائے ہوئے تھا۔ اس
کا بس نہیں چل رہا تھا کہ باقر علی اس کے سامنے آ جائے تو وہ اس سے بھڑ بیٹھے۔ مگر بی بی کی وجہ
سے خاموش تھا۔
کچھ دیر پہلے وہ گائوں کی بیٹھک میں سب کے درمیان تھا۔ باقر علی بھی آیا ہوا تھا اس کے اپنے تینوں
ماموں بھی تھے۔ منجھلے ماموں کے علاوہ بڑے اور چھوٹے دونوں ماموئوں نے خاموشی اختیار کر رکھی
تھی۔ عمر کو ماموئوں کے اس طرزِ عمل سے بڑی تکلیف ہوئی تھی۔ بی بی نے اپنی ساری زندگی ان
بھائیوں کے ساتھ گزاری تھی اور یہ بھائی اب اس موقع پر اپنے مفادات کی وجہ سے پہلو تہی کر رہے
تھے۔ باقر علی کا طرزِ عمل خاصا شدت انگیز تھا، وہ بار بار حمدہ کا نام لے کر چاچی مختار پر دھوکہ دہی
اور دغا بازی کے الزام عائد کر رہا تھا، عمر کا جی چاہ رہا تھا کہ ایک دم اس کا گریبان پکڑ کر اس کی ساری
اکڑ نکال کر رکھ دے۔ وہ بلیک بیلٹ رہا تھا امریکہ میں رہتے ہوئے دو ہی تو شوق تھے ایک تعلیم پر توجہ
دینا اور دوسرا بلیک بیلٹ بننا… باقر علی جیسے لوگ اس کے ایک ہاتھ کی مار تھے۔ بڑی مشکل سے اپنا
غصہ ضبط کرتا وہ پنچایت کا فیصلہ سن کر چلا آیا تھا۔
چونکہ چاچی مختار اور حمدہ منظر سے غائب تھیں حتمی فیصلہ یہی طے پایا تھا کہ یہ دونوں واپس
گائوں آئیں بلکہ نکاح میں موجود تمام گواہان بھی پنچایت میں حاضر ہوں تبھی کوئی حتمی فیصلہ ہو گا۔
جبکہ باقر علی معاملے کو غلط رنگ دینے کی کوشش میں تھا، اس کی کوشش تھی کہ حمدہ کے کردار کو
بنیاد بنا کر عمر ہاشم کے ساتھ نکاح کی رسم کو کوئی اور ہی رنگ دے ڈالے۔ عمر پنچایت سے سخت
صا
کبیدہ خاطر ہو کر نکلا تھا۔ حویلی آیا بھی تو خا غصے میں تھا۔
’’ماں جی! صرف آپ کی وجہ سے میں اس معاملے کو اتنا برداشت کر رہا ہوں ورنہ باقر علی جس طرح
حمدہ اور میرے نکاح کو غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔ آپ سب لوگ
اچھی طرح جانتے ہیں کہ حمدہ بیچاری تو سرے سے بے خبر تھی اس سے شادی کی خواہش صرف اور
صرف میری تھی۔ ہم نے صاف اور واضح انداز اپنایا ہے، ڈائریکٹ نکاح کیا تھا۔ چاچی مختار حمدہ کی وارث
ہیں ان کی ایماء پر یہ نکاح ہوا تھا، اب باقر علی کون ہوتا ہے اس معاملے کو اُچھالنے والا۔ آپ نے بھی گائوں
والوں کو شامل کر کے معاملے کو مزید اُلجھا دیا ہے۔ اب ہر کوئی نجانے کس کس رنگ میں اس نکاح کیکارروائی کو لے رہا ہے اوپر سے گائوں والوں نے چاچی مختار اور حمدہ کی موجودگی کو لازمی قرار دے دیا
ہے۔‘‘ بی بی نے جیسے ہی پوچھا کہ کیا فیصلہ ہوا ہے؟ وہ پھٹ پڑا تھا۔
’’تم اتنا عرصہ گائوں سے دور رہے ہو۔ تمہارے لیے یہ سب کچھ نیا اور عجیب ہے، یہاں گائوں میں ایسے
متنازعہ فیصلے اسی طرح ہوتے ہیں۔ گائوں والوں کو اس لیے شامل کیا تھا کہ کل کو باقر علی کچھ غلط
کرے تو ہمارے پاس گائوں کے لوگوں کی حمایت ہو۔‘‘ بی بی نے رسان سے سمجھانا چاہا تو اس نے ناراضی
سے انہیں دیکھا۔
’’اور وہ باقر علی جان بوجھ کر حمدہ کی غیر موجودگی کو غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ سب
کیا ہے؟ گائوں والوں نے اس شخص کو خوا مخواہ سر پر چڑھا لیا ہے، ورنہ ایک ہاتھ کی مار ہیں ایسے
لوگ؟‘‘ بی بی نے بغور عمر ہاشم کا غصہ دیکھا اور پھر اس کا بازو پکڑ کر پاس بٹھا کر محبت سے اس کے
بالوں میں اُنگلیاں پھیریں۔
’’اب کیا طے ہوا ہے؟‘‘ بی بی کے انداز پر عمر نے اپنا غصہ کنٹرول کیا۔
’’گائوں والوں نے نکاح کے تمام گواہان کو پرسوں پنچایت میں حاضر ہونے کو کہا ہے۔ خصوصاً چاچی مختار
کی موجودگی ضرور قرار دی گئی ہے اور ان کے ساتھ ساتھ افتخار صاحب کی موجودگی بھی۔ باقر علی کو
شک ہے کہ حمدہ اور چاچی یہیں گائوں میں ہی ہیں وہ افتخار صاحب کے پاس نہیں بلکہ ہم جھوٹ بول
رہے ہیں۔ اور یہ نکاح والا سارا معاملہ محض ڈرامہ ہے۔ بلکہ وہ حمدہ کے کردار کے حوالے سے بھی مجھے
بنیاد بنا کر اور بھی بکواس کر رہا تھا۔‘‘
’’بکواس کرتا ہے تو کرنے دو۔ باقر علی خود کس کردار اور قماش کا شخص ہے یہ بھی سارا گائوں جانتا ہے۔‘‘
بی بی نے اپنے بیٹے کے بگڑے تیوروں کو بغور دیکھا۔
’’حمدہ کا کردار اخلاق سب سامنے کی باتیں ہیں۔ گائوں والے اندھے نہیں جو معاملے کو پرکھ نہ سکیں۔
میں نے تو صرف اس لیے گائوں کے سربراہوں کو اس معاملے میں شامل کیا تھا کہ باقر علی جیسے لوگوں
کو سنبھالنا آسان رہے، جس طرح ایک عرصے سے باقر علی نے حمدہ کا پیچھا لیا ہوا ہے وہ محض تمہارے
اور حمدہ کے نکاح کا سن کر خاموش بیٹھنے والا نہیں تھا اس لیے بھی مجھے گائوں والوں کی مدد چاہیے
تھی۔‘‘
’’بہرحال جو بھی وجہ تھی مگر باقر علی نے بیچ پنچایت کے اب اگر اگلی بار حمدہ کے سلسلے میں کوئی
فضول بات کی تو میں اسے معاف نہیں کروں گا۔ حمدہ اب میری بیوی ہے۔‘‘ عمر ہاشم خاصا تپا ہوا تھا۔
’’اچھا جو بھی ہے اب معاملہ گائوں کی پنچایت میں میں نے خود پہنچایا ہے، تو تم بھی آرام و سکون سے
اب معاملے کو سلجھنے دو، جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔ پرسوں افتخار، مختار اور حمدہ کے ہمراہ آ تو
رہا ہے پھر دیکھتے ہیں پنچایت کیا فیصلہ کرتی ہے مجھے یقین ہے یہ فیصلہ ہمارے حق میں ہی ہو گا۔ بعد
میں جو ہو گا دیکھیں گے۔‘‘ بی بی نے اب بھی ُپرسکون انداز میں سمجھانے کی کوشش کی تو عمر محض
خاموش ہو گیا۔
بی بی اُٹھ کر نماز پڑھنے چلی گئیں تو عمر کا دھیان حمدہ کی طرف چلا گیا۔ نکاح کے بعد سے اب کتنے دنہو رہے تھے حمدہ کو دیکھے ہوئے۔ عمر کا شدت سے جی چاہا کہ وہ کہیں سے سامنے آ جائے تو وہ اسے جی
بھر کر دیکھ لے۔
وہ جب سے لوٹا تھا اس نے کئی بار حمدہ کے نمبر پر کال کی تھی مگر وہ کال ہی پک نہیں کرتی تھی،
جبکہ افتخار صاحب اور مختار چاچی سے کئی بار بات ہو چکی تھی، نہ وہ کسی میسج کا جواب دیتی تھی
اور نہ ہی کال ریسیو کرتی تھی۔ اس وقت دل و دماغ میں جو کیفیت چل رہی تھی ایسے میں جی چاہ رہا
تھا کہ ہر چیز سے بے نیاز ہو کر حمدہ کے پاس چلا جائے یا اسے اپنے سامنے لے آئے۔ موبائل کے بجائے اس
نے حویلی والے نمبر سے اس کے نمبر پر کال کی تو چار پانچ بیلز کے بعد کال ریسیو کر لی گئی تھی۔
’’السلام علیکم!‘‘ کئی دن بعد حمدہ کی آواز سننے کو مل رہی تھی یوں لگا جیسے اندر سینے میں کہیں
اُٹھنے والی طغیانی کا وجود ایک دم سرد پڑ گیا تھا۔
’’و علیکم السلام… کیسی ہیں؟‘‘ عمر کی آواز پہچان کر دوسری طرف خاموشی چھا گئی تھی۔
’’حمدہ پلیز بات کریں۔ کال بند نہیں کریں۔ میں نے آپ کو کال کی ہے کوئی نازیبا حرکت نہیں کی۔‘‘ وہ پہلے
ہی باقر علی کی حرکتوں سے وجہ پریشان تھا۔ ایسے میں حمدہ کا رویہ اس کا ٹمپر لوز ہوا تھا۔
’’میں اماں کو بلوا دیتی ہوں، کوئی خاص بات ہے تو ان سے کر لیں۔‘‘ عمر کی دھمکی پر دوسری طرف سے
ُپرسکون انداز میں جواب ملا تھا۔
’’میں نے اگر چاچی سے بات کرنی ہو گی تو ان سے ڈائریکٹ بات کروں گا۔ آپ بتائیں آپ کیوں میری کالز
ہا
پک نہیں کر رہیں؟ آپ کو اندازہ نہیں آپ کے اس رویے کی وجہ سے میں کس قدر پریشان اور ہرٹ ہو ر
ہوں۔‘‘ شروع میں تلخی سے مگر آخر میں دھیمے لہجے میں کہا۔
’’مجھے یوں بات کرنا اچھا نہیں لگا اسی لیے میں کال ریسیو نہیں کرتی تھی۔ ہمارا صرف نکاح ہوا ہے
ُرخصتی تو نہیں نا…‘‘ حمدہ کا وہی سنجیدہ انداز تھا۔
حمدہ کے الفاظ نے عمر پر بڑے عجیب انداز میں اثر کیا۔
’’آپ میری بیوی ہیں ُرخصتی تو محض ایک فارمیلٹی ہے۔ نکاح سے بڑھ کر بھی شادی کی کوئی رسم
ہوتی ہے تو وہ بتا دیں میں وہ بھی کروا لیتا ہوں۔‘‘ حمدہ کے الفاظ پر عمر نے کچھ غصے سے کہا تو دوسری
طرف خاموشی چھا گئی اور پھر کچھ توقف کے بعد وہ کہنے لگی۔
’’مگر جس ماحول سے میں تعلق رکھتی ہوں وہاں ان باتوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ مجھے اچھا نہیں
لگتا کہ میں آپ سے بات کروں اور کسی کو کچھ کہنے کا موقع ملے۔ بھلے ہمارے درمیان بہت جائز رشتہ
ہے مگر جب تک باقر علی والا معاملہ حل نہیں ہو جاتا میں سکون سے آپ سے بات نہیں کر سکتی۔‘‘ عمر
نے لب بھینچ لیے۔ وہ تو سمجھا تھا کہ نکاح ہو چکا ہے اب سب کچھ کلیئر ہو چکا ہے مگر لگ رہا تھا کہ
اصل پریشانی تو اب آئی ہے۔ حمدہ کا گریز اسے طیش دلا گیا تھا۔
’’اوکے… اب آپ سے تبھی بات ہو گی جب آپ ُرخصت ہو کر میرے روبرو میرے بیڈ روم میں ہوں گی۔ اللہ
حافظ…‘‘ عمر نے بہت سنجیدگی سے کہتے کال بند کر دی تھی، جبکہ دوسری طرف حمدہ کے رویے اور
الفاظ پر ایک دم پریشان ہو کر اپنی جگہ جامد سی کھڑی رہ گئی تھی۔حمدہ، چاچی مختار اور افتخار صاحب کے ساتھ وہ لوگ دوپہر کو ہی گائوں پہنچ گئے تھے۔ افتخار صاحب
ایک با اثر شخصیت تھے اپنی ذاتی لینڈ کروزر اور محافظوں کے درمیان جب گائوں میں داخل ہوئے تھے
علاقے میں فوراً ان کی آمد کی خبر پھیل گئی تھی۔ ان لوگوں کو پروگرام کے تحت چھوٹی حویلی میں ہی
ٹھہرنا تھا۔ گاڑی سیدھی حویلی ہی آئی تھی۔ عمر ذوالفقار بھائی کے ہمراہ پہلے سے ہی موجود تھا۔ حمدہ
چاچی مختار کے ہمراہ جیسے ہی گاڑی سے نکلی نگاہ سیدھی عمر کی طرف اُٹھی اور وہ افتخار صاحب
سے گلے مل رہا تھا۔ حمدہ کو دیکھ کر عمر کی نگاہوں میں ہمیشہ اُبھرنے والا مخصوص تاثر اس وقت غائب
تھا۔ حمدہ کو دیکھ کر بھی وہ شخص سنجیدہ رہا تھا۔ اس کے دل میں رہ رہ کر عجیب سا ملال اُتر رہا تھا۔
پرسوں رات عمر نے کال کی تھی اس سے بات کرنے کے بعد کل سارا دن کوئی کال نہیں آئی تھی، یہاں کے
حالات سے متعلق مسلسل معلومات مل رہی تھیں آج وہ لوگ صبح سویرے نکل آئے تھے مگر اب عمر کا
بے تاثر انداز دیکھ کر حمدہ کا دل ملال سے بھرتا جا رہا تھا۔
وہ لڑکی ذات تھی اس نے ایک کانٹوں سے بھری زندگی گزاری تھی، قدم قدم پر پتھروں سے سامنا ہوا تھا
وہ بڑی مشکل سے اپنے وجود اور کردار کو سنبھال کر یہاں تک پہنچی تھی ایسے میں وہ عمر ہاشم کے
نام کی بدنامی کیسے سہہ لیتی کہ یہاں سے بی بی کے ذریعے ملنے والی خبروں میں یہ بھی ذکر تھا کہ
باقر علی عمر ہاشم اور اس کے تعلق کو غلط انداز میں اُچھالنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ گائوں والوں کو
نکاح والے معاملے سے متعلق بھڑکا سکے۔ ایسے میں اگر وہ عمر سے بات کرنے سے بچ رہی تھی
سنجیدگی اختیار کر رہی تھی تو کون سا غلط کر رہی تھی، پرسوں رات سنائی دئیے جانے والے عمر ہاشم
کے الفاظ اسے ہر گز نہیں بھول رہے تھے۔
’’اوکے… اب آپ سے تبھی بات ہو گی جب آپ ُرخصت ہو کر میرے روبرو، میرے بیڈ روم میں ہوں گی۔‘‘ بظاہر
یہ الفاظ بے ضرر اور سادہ سے تھے مگر ان الفاظ کو ادا کرتے وقت عمر ہاشم کا جو لہجہ تھا وہ حمدہ کے
دل کو ہولائے دے رہا تھا۔
اوپر سے عمر کو دیکھنے کا وہ مخصوص انداز بھی مفقود تھا۔ اب سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے؟
کیسے اس شخص کو سمجھائے؟ اس نے خاموشی سے وضو سے کر کے نماز ادا کی۔ سفر کی تھکان تھی،
نسرین کھانے کا پیغام لے کر آئی تو وہ منع کرتے بستر پر دراز ہو گئی۔ وہ کچھ دیر سو کر اپنے ذہن کو
ُپرسکون کرنا چاہتی تھی۔
کچھ دیر سو کر وہ باہر آئی تو گائوں کی کئی خواتین اماں اور بی بی کے پاس آئی بیٹھی تھیں۔ موضوع
بحث آج رات ہونے والی پنچایت ہی تھا۔ باقر علی، عمر اور حمدہ کا ذکر خصوصی تھا وہ کچھ دیر ان کے
پاس ٹھہری اور پھر وہاں سے اُٹھ کر واپس بی بی کے کمرے میں چلی آئی۔ کھڑکی کے پاس کھڑی وہ باہر
لان کی طرف دیکھ رہی تھی کہ اچانک گیٹ کی طرف سے ایک دم شور اُٹھ کھڑا ہوا۔ حمدہ نے دیکھا گیٹ پر
عمر تیزی سے باہر جانے کی کوشش کر رہا تھا، پیچھے سے ذوالفقار بھائی نے بھاگ کر اس کا بازو تھام لیا
تھا، اس لیے عمر نے سختی سے کچھ کہا تھا فاصلہ ہونے کی وجہ سے حمدہ سمجھ نہ سکی تھی۔ بسدونوں کے تیز تیز اونچا اونچا بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں، شاید عمر کے ہاتھ میں کوئی چیز بھی تھی،
جسے ذوالفقار بھائی چھیننے کی کوشش کر رہے تھے شور کی آواز سن کر اندر سے خواتین کے علاوہ
سلطان بابا، بشیر اور ایک دو ملازم اور اکٹھے ہو گئے تھے اور وہ سب مل کر عمر کو پکڑ چکے تھے۔ حمدہ نے
دیکھا ذوالفقار بھائی نے عمر کے ہاتھ سے زبردستی پسٹل چھین کر اپنی جیب میں ڈال لیا تھا۔ اب وہ
زبردستی عمر کو بازو کے حصار میں لیے مردانے کی طرف بڑھ رہے تھے۔
یہ کیا ماجرہ تھا حمدہ سمجھ نہ سکی تھی وہ کھڑکی سے ہٹ کر فوراً باہر نکل آئی تھی۔ ماریہ باجی
نڈھال سی بی بی جان کو بازو کے حصار میں لیے اندر آ رہی تھیں۔ ساتھ میں اماں اور دیگر خواتین بھی
تھیں یہ سب شور سن کر ہی باہر گئی تھیں۔
’’کیا ہوا ہے؟‘‘ حمدہ نے آگے بڑھ کر بی بی کا دوسرا بازو تھام لیا تھا۔
’’ہونا کیا ہے وہی مردود باقر علی کا قصہ۔‘‘ اماں نفرت سے بولیں، حمدہ کا دل بیٹھنے لگا عمر سخت غصے
میں تھا یقینا کوئی بات ہو چکی ہوتی۔
’’آج صبح ہماری آمد سے پہلے عمر کسی کام سے باہر اڈے کی طرف نکلا تھا راستے میں باقر علی سے مڈ
بھیڑ ہو گئی۔ بشیر، عمر کے ساتھ تھا، باقر علی نے عمر کو ایسی باتیں کیں جس سے وہ طیش کا شکار ہو
کر کچھ سخت کہے، ان کی نیت لڑائی کرنے کی تھی تاکہ رات ہونے والی پنچایت سے پہلے ہی معاملہ
خراب ہو جائے۔ عمر کو اس کی باتوں پر آ غصہ آ گیا تو اس نے اس کی پٹائی کر ڈالی وہ تو شکر ہے کہ
بشیر ساتھ تھا جو شور مچانے پر اردگرد کے لوگ اکٹھے ہو گئے اور باقر علی کو چھڑوا کر لے گئے۔ بشیر بتا
رہا تھا کہ اس وقت باقر علی کے ساتھ دو آدمی تھے ان کے پاس ہتھیار وغیرہ نہیں تھے سو بچت ہو گئی۔
جاتے جاتے وہ عمر کو وڈے ڈیرے کی طرف شام سے پہلے پہنچنے کا طعنہ دے کر گیا تھا کہ اگر وہ مرد کی
اولاد ہے تو شام سے پہلے وڈے ڈیرے پر آ جائے وہاں وہ اچھی طرح نپٹے گا اور تب سے ہم لوگ عمر کو
حویلی سے باہر نکلنے نہیں دے رہے تھے، اب نجانے کیسے نظر بچا کر وہ نکلنے لگا تھا کہ بشیر اور ذوالفقار
نے دیکھ لیا اور فوراً روک لیا۔‘‘ بی بی کی طبیعت خراب تھی ان کو کمرے میں لا کر لٹانے کے بعد ماریہ
باجی اس کے بار بار استفسار کرنے پر ایک طرف لے جا کر بتا رہی تھیں۔
’’باقر علی نے عمر کو کہا کیا تھا کہ وہ اس قدر طیش میں آ گئے کہ اس کی پٹائی کر ڈالی؟‘‘ حمدہ حیرت و
خوف سے ششدر تھی کچھ توقف کے بعد سنبھل کر پوچھا۔
’’بشیر ہی بتا رہا تھا کہ عمر کو دیکھ کر پہلے تو اس نے عمر کا راستہ روکا پھر اس نے تمہارے حوالے سے
چند باتیں کیں اور جب اس نے عمر سے یہ کہا کہ اگر تم مرد کی اولاد ہوتے تو سب کے سامنے اسی گائوں
میں رہ کر حمدہ سے نکاح کر کے دکھاتے یوں ہیجڑوں کی طرح چھپ چھپا کر منہ کالا نہ کرتے تو اس کے
الفاظ ایسے گھٹیا تھے کہ عمر خود پر کنٹرول نہ رکھ سکا اور تمہیں شاید پتا نہ ہو عمر بلیک بیلٹ ہولڈر
ہے، اس نے اچھا خاصا پیٹ ڈالا تھا۔ تب سے عمر کا غصے سے بُرا حال ہے اب بھی وہیں جانے کا ارادہ تھا۔
اگر باقر علی نے عمر کو ڈیرے پر بلایا تھا تو یقینا ارادے بھی نیک نہیں ہوں گے مگر عمر طیش اور غصے
سے یہ نہیں سوچ رہا۔‘‘ ماریہ خاصی افسردہ تھی۔ حمدہ کے لیے یہ سب واقعات سخت تکلیف دہ تھے۔’’اب عمر کہاں ہیں؟‘‘
’’ذوالفقار مہمان خانے کی طرف لے گئے ہیں۔ بی بی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ عمر، باقر علی کی باتوں
کی وجہ سے سخت جذباتی ہو رہا ہے اور ماں جی اس کی وجہ سے پریشان ہو رہی ہیں۔‘‘ وہ گم صم سی
ماریہ باجی کا چہرہ دیکھ رہی تھی، ماریہ باجی بی بی کی طرف لوٹیں تو وہ بھی ادھر ہی آ گئی۔
بی بی نے اسے دیکھ کر اپنے پاس بیٹھنے کو کہا۔ حمدہ خاموشی سے ان کے پاس بیٹھ گئی۔
’’عمر کہاں ہے؟‘‘ بی بی نے ماریہ سے پوچھا۔
’’ذوالفقار علی کے ساتھ مہمان خانے کی طرف ہی ہے۔‘‘ بی بی نے سر ہلا دیا اور پھر حمدہ کا ہاتھ تھام کر
اُٹھ بیٹھیں۔
’’عمر بہت جذباتی ہو رہا ہے باقر علی نے نجانے اس سے ایسی کیا باتیں کہہ دی ہیں کہ جب بھی دونوں کا
سامنا ہوتا ہے مرنے مارنے کی باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ آج جو بھی ہوا ہے پتا تو لگ گیا ہو گا تمہیں؟‘‘ حمدہ
نے محض سر ہلا دیا۔
’’میری تو کوئی بات اس پر اثر نہیں کر رہی اتنا سمجھا چکی ہوں، اب رات کو پنچایت ہے مگر وہ کچھ سن
ہی نہیں رہا۔‘‘ بی بی خاصی پریشان تھیں۔ حمدہ خاموش رہی وہ بھلا کیا کر سکتی تھی؟
’’تم عمر سے بات کرو اسے سمجھائو کہ یوں جذباتی نہیں ہوتے۔ گائوں والے ہمارے ساتھ ہیں۔ وہ ہمارے
حق میں فیصلہ کریں گے۔ ٹھیک ہے مرد ہے اور مرد ہی جذباتی ہوتے ہیں مگر وقت اور موقعے کی نزاکت
بھی تو دیکھے۔‘‘ بی بی کی بات پر اس نے حیران ہو کر انہیں دیکھا۔
’’میں بھلا کیسے بات کر سکتی ہوں؟‘‘
’’تم بیوی ہو اس کی… تمہاری بات اس پر اور انداز میں اثر کرے گی۔ وہ تمہیں اہمیت دیتا ہے تمہارے
معاملے کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا رکھا ہے، باقر علی کو کسی بھی طرح کی رعایت دینے کو تیار
نہیں۔ وہ تمہیں چاہتا ہے مگر اگر تم اچھے انداز میں بات کرو گی تو تمہاری بات مان لے گا۔‘‘ حمدہ تو سچ
مچ پریشان ہو گئی تھی۔
’’میں بھلا کیا کہوں گی؟‘‘ وہ اُلجھ گئی تھی۔
’’میں جانتی ہوں تم اور مزاج کی بچی ہو۔ نکاح، منگنی ہمارے ہاں محض رسمیں ہیں مگر تم اگر خود ایک
بار عمر کے پاس جا کر اسے سمجھائو گی چھے انداز میں بات کرو گی تو وہ سمجھ جائے گا۔‘‘ حمدہ بس
نگاہ جھکا گئی۔
’’میرا ایک ہی بیٹا ہے، میں نے ساری زندگی انہی دو بچوں کے آسرے پر گزار دی ہے۔ عمر نے تمہارا نام لیا
تو میں نے انا کا مسئلہ نہ بنایا کہ تم ہر لحاظ سے قبول کی جانے والی بچی ہو۔ عمر کے دل کی خوشی کو
اہمیت دی کہ میرا بیٹا خوش رہے گا، تو میں بھی خود رہوں گی۔ اب یہ باقر علی سے جھگڑے والا معاملہ
میری تو سمجھ و عقل زائل ہو رہی ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کروں، لے دے کر تمہارا خیال ہی آ رہا
ہے کہ اگر تم ایک بار عمر سے بات کر لو تو وہ نارمل ہو جائے گا۔‘‘ حمدہ نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’جی بی بی جی! میں کوشش کروں گی۔ آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘’’جیتی رہو۔ سدا سہاگن رہو، خوش رہو۔‘‘ انہوں نے ایک دم اسے ساتھ لگا کر ڈھیروں ُدعائیں دے ڈالی
تھیں۔
مغرب کے بعد حمدہ کے دونوں بہنوئی بھی پہنچ گئے تھے کہ گواہان میں افتخار صاحب کے علاوہ یہ
دونوں بھی شامل تھے۔ حمدہ بی بی سے بات کرنے کے بعد انتظار کرتی رہی کہ عمر اندر آئے تو وہ اس سے
بات کرے، مغرب کے بعد عمر پنچایت میں جانے کے لیے تیار ہونے اپنے کمرے کی طرف آیا تھا۔ عمر کے آنے
کی اطلاع ملی تو حمدہ، بی بی کو دلاسہ دیتے سیڑھیاں چڑھتے اوپر آ گئی تھی۔ عمر کے دروازے کے
سامنے ُرک کر ایک پل کو اپنا تنقیدی جائزہ لیا۔
نکاح کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا تھا جو سادہ تھا مگر خاصا قیمتی اور بوتیک اسٹائل کا تھا۔ اس جوڑے
میں اس کی شخصیت کا وقار اور رکھ رکھائو کچھ اور اُبھر کر سامنے آ رہا تھا۔ اس وقت ہمیشہ کی طرح
چادر کے بجائے سوٹ کے ہم رنگ دوپٹے میں ملبوس تھی۔ دروازے پر دستک دیتے حمدہ کو اپنے ہاتھ میں
ہلکی سی کپکپاہٹ محسوس ہوئی۔
’’یس…‘‘ عمر کی آواز پر اس نے آہستگی سے دروازہ وا کرتے اندر قدم رکھا عمر جو ابھی باتھ روم سے چینج
کر کے نکلا تھا ٹاول سے چہرہ صاف کرتے ٹھٹکا۔
’’آپ؟‘‘ حمدہ کو دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا۔ اپنے کمرے میں حمدہ کی موجودگی کا قطعی تصور نہیں کر
سکتا تھا۔
’’السلام علیکم۔‘‘ عمر نے اگلے ہی پل حیرانگی کو پس پشت ڈالتے ُرخ بدل کر لب بھینچ لیے تھے۔
عمر ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر بال بنانے لگ گیا تھا۔ حمدہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کس طرح
اس سے بات کا آغاز کرے۔
’’آپ مجھ سے ناراض ہیں؟‘‘ عمر نے حمدہ کے سوال پر گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
’’جی فرمائیے کیسے آنے کی زحمت کی آپ نے؟‘‘ چہرہ بلا کا سنجیدہ اور کھردرا لہجہ تھا۔
حمدہ نے لب بھینچ لیے آنکھوں میں بے بسی سے نمی سمٹ آئی۔ کتنا اجنبی لہجہ تھا، اس نے ایک
شاکی نگاہ عمر پر ڈالی۔
’’یہ باقر علی والا کیا معاملہ ہے؟‘‘ اس نے خود پر کنٹرول کرتے عمر کو دیکھا۔
’’بس یہی دریافت کرنے آئی ہیں؟‘‘ حمدہ خاموش رہی۔
’’آئی ایم سوری آپ سے کچھ بھی نہ کہنے کا عہد کیا تھا اور میں اپنے وعدے پر قائم ہوں۔ مجھے سمجھ
نہیں آ رہی کہ آپ نے کیونکر میرے کمرے میں آنے کی رحمت گوارا کر لی ہے جبکہ مجھ سے کوسوں میل
کے فاصلے سے محض موبائل پر بات کرنے سے آپ کے کردار پر خوف آتا ہے۔ ابھی تو آپ کی باقاعدہ
ُرخصتی نہیں ہوئی پھر اس آمد کو کیا سمجھوں؟‘‘

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: