Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 1

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 1

–**–**–

وہ زرداد کے پہلو میں بیٹھی تھی ساکت سپاٹ چہرہ لیے
ایک نظر اس نے زرداد پہ ڈالی تھی وہ پرسکون تھا اس کا چہرہ اس کے اندر کا سارا حال واضح کر رہا تھا ۔ بڑے پرسکون انداز میں ڈراٸیو کرتے ہوۓ وہ اس کی طرف دیکھتا اور مسکراہٹ چھپا کر چہرہ سیدھا کر لیتا ۔
اسے وہ شخص زہر لگ رہا تھا گلا کڑوا سا ہو گیا سپر سٹار زرداد ہارون !!! وہ پوری دنیا کے لیے تھا اس کے لیے فقط اس کی خوشیوں کا قاتل تھا ۔ اس وقت دانین کو وہ اپنی پوری وجاہت سمیت دنیا کا سب سے چھوٹا انسان لگ رہا تھا ۔
”پانی چاھیے تمہیں ؟ “
زرداد نے ایک نظر ساتھ بیٹھی دانین پر ڈالی اور بڑے انداز سے اس سے پاس پڑی پانی کی بوتل اٹھا کر دی اب وہ ایک ہاتھ سے ڈراٸیو کر رہا تھا اور ایک ہاتھ سے پانی کی بوتل اس کے سامنے کۓ ہوۓ تھا ۔
” نہیں“
بہت مختصر جواب دے کر دانین نے کھڑکی سے باہر دیکھا ۔ پیشانی پر ناگواری کے شکن نمودار ہوۓ تھے ۔ زرداد اب مسکراہٹ دباۓ پھر سے کار ڈراٸیو کر رہا تھا ۔
کار بڑے آرام سے اپنے راستے پر رواں دواں تھی۔ پر اس کا ذہن الجھا ہوا تھا ۔ دل گھٹن کا شکار ہو رہا تھا
کیا کبھی اس شخص پہ یقین کر پاٶں گی میں شاٸد کبھی نہیں دانین نے سر کار کی سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا تھا۔
ہن۔ن۔ن۔ن۔ن۔ میں کیا یقین کروں گی وہ کونسا مجھے یقین دلانے کا خوٕٕاہش مند ہے۔
اس نے اپنے سانوالے سے ہاتھوں پر نظر ڈالی پھر چور سی نظر سٹیرنگ کو مظبوطی سے جکڑے زرداد کے ھاتھوں پہ ڈالی سفید ہاتھ تھے اس کے ایک دم سے دانین نے اپنے سانولے سے ہاتھ دوپٹے کے پلو کے نیچے چھپا دیے
قسمت بھی عجیب کھیل کھیلتی ہے اکثر ، اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ دانین سکندر اس زرداد ہارون کے ساتھ یوں اس کی شریک حیات بن کر بیٹھی ہو گی۔
ماضی کی ساری تلخ یادیں اس کے ذہن کے کواڑ آہستہ آہستہ کھول رہی تھی۔ ایسی یادیں جس سے وہ اتنے سالوں سے بھاگ رہی تھی ۔
اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر ذہن کو بارہا جھٹکنا چاہا پر ناکام ہی رہی اسے ابھی بھی ہر لمحہ یاد تھا ہر پل ہر بات
شاٸد زین نے ٹھیک ہی کہا تھا محبت تھی یا غلطی جو بھی تھا وہ اب شادی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ لاکھ یقین بھی دِلا دوں پر کیا فاٸدہ دل نے غلطی کی تھی یہ شخص جو ساتھ پورے حق لیے بیٹھا تھا آج اسی غلطی کی سز ا تھا۔
اس نے آنکھیں بند کی تھیں جلن سی ہوٸی شا ٸد بہت رونے کی وجہ سے آنکھوں کے کنارے زخمی سے ہو گۓ تھے آنکھیں بند کیا کیں ذہن میں سارا ماضی گھوم گیا تھا۔
******************
حیدر آباد کی تنگ سی گلی تھی یہ جہاں اس وقت لڑکوں کا جھرمٹ بنا ہوا تھا ۔ وہ پاس کھڑا دیکھ رہا تھا پہلے ایک لڑکے نے بہت زور کا دھکا دیا تھا شازر کو پھر دو لڑکے اور آۓ تھے اور شازر کو مارنا شروع ہو گۓ تھے پندرہ سال کا شازر بری طرح پٹ رہا تھا۔
بارہ سالہ وہ زرداد تھا جو اپنے بھاٸی کو اسی کی ہم عمر کے لڑکوں سے مار کھاتے دیکھ رہا تھا اس کی مٹھیاں آہستہ آہستہ بند ہورہی تھیں اور گردن کی نسیں پھول کر باہر کو نظر آنے لگیں اس کے ناک کے نتھنے بھی پھولنے لگے تھے۔
آنکھیں غصے کی وجہ سے بڑی سے چھوٹی ہو گٸی تھیں
وہ ایک دم سے آگے بڑھا تھا۔
پہلے تو اس لڑکے کو ایک ہی دفعہ میں پکڑکر ایک طرف پٹخ ڈالا ۔ جو اس کے بھاٸی کو پیچھے سے پکڑے ہوۓ تھا
پھر ان دونوں لڑکوں کو باری باری ایسے فولادی پنچ مارے کہ بس دونوں کے سر ہی تو گھوم گٸے تھے۔
شازر اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر ایک طرف ہو گیا ۔ اور اپنے سے تین سال چھوٹے اپنے اس بھاٸی کو حیرانگی سے دیکھنے لگا۔
جس کے چند ہی گھونسے ایسے زور دار نکلے کہ دونوں لڑکے دم دبا کر وہاں سے رفو چکر ہو چکے تھے لڑتے لڑتے بس زرداد کے بال تھوڑے سے بکھرے تھے جن کو وہ اب زور زور سے ہاتھ چلاتے ہوۓ درست کر رہا تھا ۔
”چلو بھاٸی گھر “
اس نے اپنے سے بڑے بھاٸی کی گھبراٸی سی شکل دیکھی اور پرسکون لہجے میں کہتا شرٹ کو درست کرتا آگے بڑھا ۔ شازر اسکے پیچھے سر جھکاۓ چل رہا تھا ۔جب دونوں گھر میں داخل ہوۓ ۔ گھر کے صحن میں ایک طرف سدرہ چچی بیٹھی دانین کے بالوں میں تیل لگا رہی تھیں ۔وہ سانولی سی پرکشش سات سال کی بچی تھی جس نے بڑی بڑی آنکھیں اٹھاۓ دونوں کی طرف دیکھا تھا ۔
شازر کے منہ سے خون نکل رہا تھا اور جگہ جگہ نیل تھے اس کے پیچھے زرداد بھرپور غصے میں داخل ہوا تھا
” کیا ہوا تم دونوں کو ؟ “
ثمرہ نے بوکھلا کر سینے پر ہاتھ دھر کر پوچھا ۔ وہ اپنے دونوں بیٹوں کو ایسی حالت میں دیکھ کر پریشان ہو گٸی تھیں ابھی وہ شازر کے بال پیچھے کۓ اس کے ماتھے پہ لگی چوٹ ہی دیکھ رہی تھیں کہ گھر کے اندر دو عورتیں داخلی دروازے سے آتی نظر آٸیں۔ دروازہ شاٸد زرداد اور شازر کھلا چھوڑ آۓ تھے ۔
”ثمرہ دیکھ میرے بچے کا حال“
اس نے نیل ٶ نیل ہوۓ اپنے بیٹے کو آگے کیا۔ اس کا بیٹا سہمی سی نظروں سے کچھ دور کھڑے زرداد کو دیکھ رہا تھا ۔ زرداد نے سر کو ہوا میں نخوت سے مارا اور آگے بڑھ گیا ۔
” بلا اپنے زری کو “
وہ کمرے کی طرف جاتے ہوۓ زرداد کو دیکھتے ہوۓ تنک کر بولی ۔ زرداد وہیں رکا بنا پیچھے مڑے ہاتھ کو ہوا میں اٹھایا ۔
” میں منہ نہیں لگتا عورتوں کے“
بڑا روکھا سا لہجہ تھا وہ بے رخی سے کہتا ہوا کمرے میں چلا گیا اس عورت کی بگڑتی شکل کو دیکھے بغیر وہ اندر جا چکا تھا۔ اس عورت نے ناک پھلا کر ثمرہ کی طرف رخ موڑا
” دیکھا دیکھا کیسا منہ زور بد تہذ یب ہے تیرا یہ لڑکا“ دونوں عورتیں غصے میں بھری پڑی تھیں ۔ ثمرہ نے اسے کمرے کے دروازے تک جاتے دیکھا تو تنک کر گویا ہوٸیں
” زری واپس مڑ “
وہ سنی ان سنی کرتا اندر جا چکا تھا ثمرہ چیختی رہ گٸی تھی لیکن مجال ہے جو اس لڑکے نے مڑ کے دیکھا ہو۔
” اماں ان تینوں نے پہلے میری پٹاٸی کی تھی“
شازر نے ان لڑکوں کی طرف اشارہ کیا شازر نے الف سے یے تک ساری داستان سنا ڈالی تھی۔ ثمرہ جس کے اعصاب زرداد کی حرکت کی وجہ سے تنے ہوۓ تھے ایک دم سے ٹھیک ہوۓ ۔
”ہاں تو پھر آپ لوگ کیوں آٸی ہیں بات تو برابر کی ہو گٸی نا“
ثمرہ نے ناک چڑھا کر سامنے کھڑی عورت کی طرف دیکھا پر وہ تو پاٶں پر پانی نا پڑنے دے رہی تھیں ۔ثمرہ نے ان عورتوں کو بڑی مشکل سے گھر سے چلتا کیا
” زری کو بلا ذرا زرداد۔۔۔۔۔۔ زرداد ۔۔۔۔ باہر آ۔۔“
پاس کھڑے شازر کو غصے سے کہا اور پھر اس کی سہمی سی شکل کو دیکھ کر خود ہی اسے آوازیں لگانے لگیں
” کیا ہے۔۔۔؟ “
ٹاول کندھے پر لٹکاۓ اور ماتھے پہ بل ڈالے وہ اب بلکل سامنے آ کر کھڑا تھا ۔
”جب شازر مار کھا رہا تھا تو تجھےکیا ضرورت تھی اتنی ھاتھا پاٸی کی ؟ بتا مجھے ذرا بس اس کو چھڑواتا اور بھاگ آتے دونوں بھاٸی“
ثمرہ اب آنکھیں نکال کر اس سے سوال کر رہی تھیں پر وہاں تو سوال سنتے ہی آبرو اوپر چڑھ گۓ تھے اور منہ کا زاویہ بھی بگڑ گیا تھا ۔
” کیوں ؟ “
لہجہ ایسا اٹل تھا کہ نا پوچھو زرداد اور چھوڑ آتا یہ کیسے ہو جاتا وہ ایساہی تھا شروع سے دو بہنوں اور ایک بھاٸی کے بعد وہ سب سے چھوٹا تھا۔ سب کا بڑا لاڈلا تھا پہلے پر بعد میں اپنی حرکتوں کی وجہ سے سب کے دل سے اترتا ہی چلا گیا۔
غصہ برداشت نا کرتا تھا چھوٹی سی بات ہوتی تو مارنے لگتا تھا کسی کو بھی ، بڑا شازر بھی اکثر اس سے پِٹ ہی رہا ہوتا تھا یہی وجہ تھی کہ اس سے ثمرہ اور ہارون اکثر پریشان ہی رہتے تھے۔ آۓ دن محلے سے کسی نا کسی کی شکاٸت کا کیس کھلا ہی رہتا تھا زرداد کے خلاف۔
وہ اس کے چچا کی بیٹی تھی دانین سکندر دبتی سی رنگت اپنی ماں سدرہ کی طرح سدرہ بھی سانولی سی کم گو خاتون تھیں ۔
دانین بچپن سے پڑھاٸی کی شوقین تھی زرداد سے چڑتی بھی تھی اس کی وجہ اس کی حرکتیں تھیں جب دل چاھتا اس کے بال کھینچ دیتا خود تو بہت کم پڑھتا تھا اسے پڑھنے نا دیتا تھا۔
جب کبھی دانین کو پڑھتا دیکھ کے ثمرہ اس کو ڈانٹتی
وہ غصے میں اس کا کوٸی نقصان کر ڈالتا۔ کبھی اسکا ہوم ورک پھاڑ دیتا تو کبھی کتاب ہی کہیں گم کر دیتا۔ اور وہ روتی بسورتی رہ جاتی تھی ۔ انہی سب باتوں کی وجہ سے اس کو زرداد سے سخت چڑ ہوتی تھی اور اس سے ڈر بھی لگتا تھا۔
پھر جیسے جیسے وہ تھوڑا سا بڑا ہوا مارنا تو اس کا کم ہو گیا پر وہ ہر وقت اسے تنگ کرتا تھا۔ وہ اتنی بھی کالی نہیں تھی ہاں تھوڑا دبتا سا رنگ تھا آنکھیں بڑی تھیں پرکشش نقوش تھے پر اس کا شمار لڑکپن میں عام شکل وصورت کی لڑکیوں میں ہی ہوتا تھا۔
جب کے زرداد بچپن سے ہی خوبصورت بچوں میں شمار ہوتا تھا اور جیسے جیسے بڑا ہوتا ہو گیا وہ غضب ہی ڈھانے لگا اسے اپنی صورت کے خوب ہونے پر مان بھی بڑا تھا اسی لیےتو وہ اسے کلو کہہ کر اسکا من جلانے میں کوٸی کثر روا نا رکھتا تھا۔
سکندر اور ہارون دو بھاٸی تھے ایک بہن تھی صالحہ جو شادی کے بعد اپنے خاوند کے ساتھ باہر مقیم تھی۔ ہارون بڑا تھا اسکے چار بچے تھے دو بیٹیاں اور دو بیٹے بڑی اشعال اس سے چھوٹی منال تھی پھر شازر تھا اور سب سے چھوٹا زرداد تھا
سکندر کی ایک ہی بیٹی تھی دانین ان کا کل اثاثہ ذہین ہونے کی وجہ سے گھر بار کی لاڈلی تھی ۔ ایسے ہی لڑتے جھگڑتے کچھ سال گزر گٸے تھے اب وہ کالج جانے لگی تھی۔
اور جناب زرداد ہارون سارا سال تو پڑھتے نا تھے جب پیپر ہوتے تو ساری رات نقل کی چٹیں تیار کرنے میں گزار دیتے اس لیے جناب بی اے میں تھے ۔
*****************************
ہال میں اتنی خاموشی تھی کہ گھڑی کی ٹک ٹک بڑے زور سے سناٸی دے رہی تھی۔ قطار میں لگی کرسیوں میں ایک کرسی پر وہ بیٹھا تھا ۔ چور سی نظر ارد گرد ڈالتا ہوا ۔
زرداد نے قلم منہ میں دبایا نظریں ارد گرد کا جاٸزہ لے رہی تھیں ۔ اس نے آہستگی سے جینز کی پینٹ کی بیلٹ کے نیچے سے چھوٹی سی چٹ نکالی چوری سے اپنی انگلیوں کے پوروں سے اسے کھولا تھا جبکہ قلم ابھی بھی منہ میں ہی دبا ہوا تھا اور نظریں ویسے ہی ارد گرد کا جاٸزہ لے رہی تھی۔
بریانی بنانے کا طریقہ چٹ پر لکھی تحریر پر نظر پڑتے ہی زرداد کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گیں۔
چٹ پہ بریانی بنانے کا پورا طریقہ تحریر تھا اس کے ہاتھوں نے اس چٹ کو بری طرح مسلا پھر پھینک دیا اب اس کے ہاتھ دوسری چٹ نکال رہے تھے۔ جو کالر کے نیچے رکھی تھی رول کی ہوٸی کاغز کی چھوٹی سی پرچی کچھ دیر بعد اس کے ھاتھ میں تھی تیزی سے دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے پرچی کھولی۔
خوبصورت ہنسی کا طریقہ اپنے منہ کے دونوں جبڑوں میں اپنی انگلیاں ڈال کے اتنا زور سے کھینچیں کہ آپ کے گالوں میں درد شروع ہوجاۓ۔
تحریر نے گلا ہی خشک کر دیا تھا بمشکل تھوک نگلا یہ کیا بھنویں اپنی جگہ سے کچھ اور اوپر ہو گٸی تھیں۔ ماتھا ٹھنکا اور دھم سے دانین کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے لہرا گیا تھا۔ جو صبح ڈکشنری لینے کے بہانے آٸی تھی سارا منظر اس کی آنکھ کے آگے گھوم گیا ۔
وہ باتھ روم سے باہر نکلا تھا دانین اس کے سٹڈی ٹیبل کے بلکل پاس کھڑی تھی اس کو دیکھ کر ایک دم سے ٹھٹھکی تھی وہ۔
” تم کیا کر رہی ہو یہاں ؟ “
زرداد نے حیرت سے پوچھا بالوں میں اس کے ھاتھ تیزی سے ٹاول چلا رہے تھے ۔ دانین گڑ بڑا سی گٸ ۔
” مہ۔۔۔مہ۔۔۔میں اپنی ڈکشنری دیکھنے آٸی تھی تم نے لی تھی کیا “
زبردستی کی مسکراہٹ سجا کر کہا اور انگلیوں سے بال کان کے پیچھے کیۓ۔ زرداد نے بغور اس کی حالت کو آنکھیں سکیڑ کر دیکھا تو وہ بھاگتے ہوۓ کمرے سے نکل گٸی تھی۔
اوہ تو کلو کا کام ہے یہ سارا اس کو تو میں چھوڑوں گا نہیں سب کچھ یاد آ جانے کے بعد اب اسکا شک یقین میں بدل چکا تھا زرداد نے دانت پیسے پھر بے چینی سے ارد گرد نظر دوڑاٸی
اب کیا کروں اس نے بازو سر کے پیچھے کیے دونوں ہاتھوں کے پنجوں کو آپس میں جوڑا اور سر کے نیچے رکھ کے کرسی پر تھوڑا سا ڈھے سا گیا۔ جب کچھ آتا ہی نا تھا تو کیا کرتا۔
سوالیہ پیپر کو دو دفعہ تو وہ پہلے ہی پرچے پر اتار چکا تھا۔
اب اور کیا کرتا پھر کبھی ادھر تو کبھی ادھر دیکھنا شروع کردیا۔
کوشش کی کہ اگے پیچھے والے سے مدد لے پر ان کی حالت بھی پتلی ہی لگ رہی تھی پر وہ پھر بھی پیپر کے ساتھ کشتی کرنے میں مصروف تھے اس کی تو اب بس ہو گٸی تھی آرام سے ٹانگیں پھیلا کے بازو کا تکیہ سر کے نیچے رکھ کے وہ ٹانگوں کو آہستہ آہستہ ہلانا شروع ہو گیا تھا۔
نگران نے اس کی طرف حیرت سے دیکھا زرداد نے اسے آنکھ کا کونا دبایا تو نگران گڑ بڑا کے ارد گرد دیکھنے لگا۔
نگران کی حالت دیکھ کے زرداد کو ہنسی دبانا مشکل ہو گٸی
جیسے ہی پیپیر دے کر نکلنےکا وقت پورا ہوا وہ پیپر کو کرسی پر الٹا رکھ کے اٹھا اور اپنے پیچھے بیٹھے اس مسکین سے لڑکے کی طرف ایسے دیکھا جیسے کہ اسے باور کروا رہا ہو میں صرف تمھاری وجہ سے پپیپر الٹا رکھ کر جا رہا ہوں۔
اور بڑی شان سے گردن اکڑاتا ہوا ھال کے دروازے تک آیا ۔ ھال سےباہر نکلتے نکلتے اس نے پھر سےاپنی طرف گھورتے ہوۓ نگران کو آنکھ مار دی تھی۔ نگران بچارا اپنی جگہ سے ہل کر رہ گیا ۔
اور باہر نکل کر اب اسکے ہونٹوں پہ گہری مسکراہٹ کا راج تھا۔ جیب سے موباٸل نکال کر نمبر ملانے کے بعد کان کو لگایا
”چل اب آجا نا کہ میرا رنگ جلاۓ گا اس تیز دھوپ میں“ کالج کے گیٹ کے باہر کھڑا وہ بدر کو فون کر رہا تھا۔ پیشانی پر بل تھے ۔
” ارے تمھارا پیپر کیسےختم ہو گیا اتنی جلدی ؟ “
بدر کی حیران سی آواز فون کے سپیکر سے ابھری
” کلو نے بہت برا بدلہ لیا یار اس دن والی بات کا جلدی آ نا بتاتا ہوں“
زرداد نے بے زار لہجے میں کہا اور فون بند کر کے جیب میں رکھا بدر زرداد کا بچپن کا دوست تھا اس کی ہر شرارت میں شریک اور اس کے ہر کام کا رازدار کچھ دن پہلے زرداد کو سکندر نے دانین کو کالج سے لانے کا کہا تھا جبکہ زرداد اور بدر بھول گۓ تھے اس کو لانا ۔ دانین کو کالج میں بہت انتظار کرنا پڑا اور پھر بڑی مشکل سے وہ گھر پہنچی تھی۔
بجاۓ اپنی غلطی ماننے کے زرداد نے اسے کہنا شروع کر دیا وہ کالج سے بہت دیر سے نکلی وہ انتظار کر نے کے بعد چلا گیا تھا
اور دانین نے بدلے کے طور پر صبح میز پر پڑی اس کی ساری رات لگا کے تیار کی ہوٸی پرچیاں اپنی فضول پرچیوں سے بدل ڈالی تھیں
زرداد کی بی اے پاس کرنے کی دوسری کوشش تھی لیکن آج کے پیپر میں تو اب وہ یقیناً لڑھک کے ہی رہے گا۔ اور یہ صرف اور صرف دانین کی وجہ سے ہو گا۔
اب اسکو تھا کہہ وہ جلدی گھر پہنچے اور دانین کے بخیے ادھیڑ دے۔ دانت پیس پیس کے اس کےاپنے ہی منہ میں درد شروع ہو گیا تھا۔
**************************
وہ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اوپر جا رہا تھا جبڑے سختی سے بند کیے ہوۓ تھے ناک غصے سے پھولی ہوٸی تھی سیڑھیاں پھلانگنے کی وجہ سے بال اڑ اڑ کر واپس چہرے پر آ رہے تھے ۔ اسے پتا تھا وہ پڑھاکو کیڑا قسم کی لڑکی اکیلی بیٹھی چھت پر پڑھ رہی ہو گی۔ دانین نے میڈیکل میں ایڈمیشن لیا تھا۔ وہ سارا دن تقریباََ پڑھتی ہی پاٸی جاتی تھی۔
وہ جب اوپر پہنچا تو سامنے دانین چھت پر پڑی چارپاٸی پہ بیٹھی تھی کتابوں کا ڈھیر اس ک آگے سجا تھا۔ سر جھکاۓ کچھ یاد کر رہی تھی
”کیا تکلیف تھی تمہیں ہاں کلو ؟ “
وہ تیزی سے اس کے پاس آکر اب اس کے سر پر کھڑا چیخ رہا تھا۔ غصے سے آنکھیں لال ہو رہی تھی۔ دانین نے دانتوں میں زبان دباٸ پھر مسکراہٹ دبا کر اوپر مصنوعی غصے سے دیکھا ۔
”مجھے تنگ مت کرو نہیں تو ابھی چیخ چیخ کے تایا ابا کو بلا لوں گی “
بڑے ہی انداز میں کہا وہ پہلے سے ہی ذہنی طور پر خود کو تیار کیے ہوٸی تھی کہ وہ آ کے ایسے ہی چیخے گا اس پر اس لیے ہی فوراََ اسے دھمکا ڈالا۔ وہ ٹس سے مس نا ہوا تو دانین نے بڑی بڑی آنکھیں نکالتے ہوۓ ڈرایا ایک ہارون ہی تو تھے جن سے وہ تھوڑا سا دب بھی جاتا تھا
” تم خود تو پڑھتے ہو نہیں آ جاتے ہو دوسروں کو بھی شیطان بن کے راہ راست سے ہٹانے کو“
دانین نے مصنوعی غصہ دکھایا ۔ پر وہاں تو وہ آج کی تذلیل پر جلا بھنا کھڑا تھا ۔
” سمجھتی کیا ہو خود کو تم ؟“
زرداد نے اب اسکا بازو دبوچ کر رخ اپنی طرف کیا دانین نے تکلیف کے زیر اثر منہ کھولا
” کیوں کیا ایسا تم نے میری ساری محنت پہ پانی پھیر دیا“
زرداد اب اس پر چیخ رہا تھا ۔ دانین نے خوف کو چھپایا ۔ اور گھور کر اس کی طرف دیکھا ۔
” ارے چل ہٹ محنت کا کچھ لگتا تم نے بھی ہزاروں بار میری محنتوں پر پانی پھیرا ہے“
دانین نے ناک سکیڑ کے اس دھکا سا دیا اور بازو چھڑوانے کے لیے زور لگانا شروع کر دیا۔ پر وہ بھی دانت پیسے بازو چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھا ۔
” تمہیں تو میں دیکھ لوں گا کلو کہیں کی“
اب وہ اسے ایک جھٹکے سے چھوڑ کے اپنے منہ پہ بدلے کے انداز میں ہاتھ پھیر رہا تھا۔ دانین نے ہوا میں لا پرواہی سے ہاتھ چلایا جبکہ دل تھوڑی دیر کے لیے اس کی بدلے والی بات پر سہم گیا تھا ۔
” جاو جاو یہاں سے آ ۓ بڑے لیڈی ڈیانا کے کچھ لگتے اور اب تیسری بار بی۔ اے کو پاس کرنے کی تیاری شروع کر دو“
دانین نے اسے اور چڑانے کے لیے زبان باہر نکالی ۔ زرداد نے خنخوار نظر اس پر ڈالی۔ اس وقت دھوپ میں بیٹھی اور کالی لگ رہی تھی ۔
” دیکھ لوں گا تمہیں بھی کلو کہیں کی “
وہ اپنا سرخ چہرہ لے پیر پٹخ کر زینے کی طرف بڑھ گیا جبکہ دانین اب اپنے بازو کو نشان کو دیکھ کر بچوں کی طرح ہونٹ باہر نکالے ہوٸ تھی ۔
*********************************
” پڑھاٸی میں زرا اچھی ہے تو پتا نہیں خود کو سمجھتی کیا ہے“
زرداد نے گلی کی نکڑ پہ بنے چھوٹے سے چبوترے پہ بیٹھے بدر کو غصہ دکھاتے ہوۓ کہا ۔ بدر اس کی بات پر دانت نکال رہا تھا ۔ وہ بدر کو پیپر والی ساری بات بتا چکا تھا ۔
” جو بھی بات ہو ابا کو بتانے پہنچ جاتی ہے ، میٹرک میں بورڈ میں پوزیشن کیا لے لی تھی سب ایسے پوجتے اسے جیسے کہ وہ بہت ماہان ہستی ہو “
زرداد نے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کے پوجنے والا انداز بنایا۔ بدر نے زور کا قہقہ لگایا جس پر زرداد دانت پیس کر رہ گیا ۔
” اکڑ پتہ نہیں کس چیز کی کلو میں نا شکل ہے نا عقل ہے “
زرداد نے دانت پیستے ہوۓ کہا اور برا سا منہ بنا کر ارد گرد دیکھا بدر اب غور سے اسے دیکھ رہا تھا ۔ پھر گہری سانس خارج کرتا ہوا اس کے پاس آیا ۔
” اس کے پاس شکل نہیں پر تیرے پاس تو ہے “
بدر نے اس کےکندھے پہ ہاتھ رکھ کے معنی خیز جملہ اچھالا وہ بھنوں کو اوپر نیچے نچا رہا تھا ۔ زرداد نے اس کی بات پر نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھا ۔
” کیا مطلب۔۔۔ “
آبرو چڑھا کر سوال کیا ۔ پیشانی پر ناسمجھی کی لکیریں تھیں ۔ بدر نے خفیف سا قہقہ لگایا اور پاس ہوا ۔
” مطلب یہ کے توڑ دے اس کی اکڑ اور غرور“
بدر نے کان میں سرگوشی کی۔ زرداد نے چونک کر گردن گھماٸ ۔ وہ ہنس رہا تھا ۔
” دماغ ٹھیک ہے تمھارا کیا کہہ رہا مجھے بات نہیں سمجھ آٸی“
زرداد نے ناگواری سے بدر کے بازو کو کندھا ہلا کے پاس سے ہٹایا۔ بدر یچھے ہو کر فوراً پاس ہوا ۔
” یار غلط مطلب ہر گز نہیں میرا مطلب جہاں اتنی لڑکیاں تیری محبت میں گرفتار ہوٸی پھرتی ہیں تیری ایک جھلک کی چاہ میں چھتوں سے لٹک لٹک جاتی ہیں تو وہ کیوں نا تیری اسیر ہو جاۓ “
” اوہ ۔۔۔ یار ۔۔ وہ نہیں ایسی وہ تو اتنا چڑتی ہے مجھ سے“ زرداد نے نہیں میں زور زور سر ہلاتے ہوۓ کہا ۔ بدر نے کمر پر ہاتھ رکھے افسوس سے گرد ہلاٸ
” اوہ پاگل ایسا اس لیے ہے کہ وہ تجھے اپنی پہنچ سے دور سمجھتی وہ ٹھہری عام سی لڑکی اور تو شہزادہ “
بدر نے تپھکی دی اس کی پیٹھ پے۔ زرداد نے غور سے اسے دیکھا وہ اب مسکرا کر سر کو ہلا رہا تھا ۔
” اپنے آپ کو اس کی پہنچ میں لے آیا دیکھنا خود ہی دیوانی ہوٸی پھیرے گی سارا غرور جاۓ گا گھاس چرنے“
بدر نے ہوا میں ھاتھ لہراتے ہوۓ گردن اکڑا کر اپنا مشورہ دیا ۔
” اوہ نہیں یار اس کا کیا پتہ ابا کو شکاٸت کر دے پھر “
زرداد نے جھنجلا کر پھر سے نہیں میں سر ہلایا اب کی بار بدر نے اس کے سر پر چپت لگاٸ ۔
” مجھے نہیں لگتا ایسا کچھ جب تمھاری دیوانی ہو جاۓ گی پھر دب کے رہے گی خود ہی“
بدر نے داٸیں آنکھ ایسے دباٸی کہ ساتھ ہی اس کے چہرے کا زاویہ بھی بدل گیا۔ اب زرداد اپنے ہاتھ کو اپنی ٹھوڑی پہ آہستہ آہستہ ایسے چلا رہا تھا جیسے کسی گہری سوچ میں ہو۔
******************************************
افف دانین نے اپنے بازو کے اوپر اس نیل کی طرف دیکھا صورت رونے جیسی ہو رہی تھی ۔ کیسا درندہ صفت انسان ہے منہ میں بڑبڑاٸ زرداد نے جہاں سے اس کے بازو کو دبوچا تھا ابھی آج تیسرے دن بھی وہاں نیل موجود تھا۔
چھت پہ موجود تھوڑی سی چھاٶں میں دانین نے اپنی چارپاٸی بچھا رکھی تھی۔ اور آگے کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔
جب زرداد چھت پہ آیا وہ اپنے بازو پہ پڑے نیل کو دکھ بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
تین دن سوچنے کے بعد وہ بدر کے مشورے پر عمل کرنے کو تیار ہو گیا تھا اس لیے آج پھر اس کے سر پر کھڑا تھا پر خاموش کچھ دیر دانین کن اکھیوں سے زرداد کو دیکھتی رہی۔ پھر تنک کر خاموشی کو توڑا
” کیا ہے بھٸی ؟ کیوں میرے سر پر سوار ہو کر کھڑے ہو گیے ہو ؟ “
دانین کو الجھن سی ہوٸی اس کی زبان کے خاموش ہونے پہ
وہ پھر بھی خاموش ہی کھڑا رہا تھا ۔ ذہن میں لفظوں کو ترتیب دے رہا تھا ۔
” اب بول بھی دو۔۔ نا۔۔۔ “
دانین نے چڑ کر گردن اوپر اٹھاٸ اور دانت پیسے اب وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھی
” اٸی ۔۔۔ ایم۔۔۔ سوری“
زرداد کی مدھم سی آواز پر دانین نے حیرت سے اس کی شکل کی طرف دیکھا اور اس کا لہجہ ھیں اس نے بھنویں اچکا کر بغورارد گرد کا جاٸزہ لیا۔
” خیریت ہے زری طبیعت تو ٹھیک ہے تمھاری ؟ “
دانین نے طنزیہ لہجہ اپنایا تھا ۔ اسے دال میں کچھ کالا لگا وہ اور اس سے معافی مانگے ۔ وہ تو ایک نمبر کا ڈھیٹ انسان تھا ۔
آج کہیں فرسٹ اپریل تو نہیں دانین نے ذہن پر زور دیا پھر خود ہی زور زور سے نفی میں سر ہلایا ۔
” میں نے اس دن کچھ زیادہ ہی بدتمیزی کر دی تھی اس کے لیے معافی مانگ رہا ہوں تم سے “
زرداد زمانے بھر کی معصومیت زبردستی چہرے پہ سجا کر کہا تو دانین کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ پھر منہ بند کۓ بھنوٶں کو سکوڑ کر اس کی طرف دیکھا ۔
”ایک منٹ۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ “
دانین نے ھاتھ کے اشارے سے اسے روکا وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔ پر رعب جماۓ رکھنا ضروری تھا
” اس دن نہیں صرف زرداد ہارون آپ اکثر مجھ سے بدتمیزی کرتے ہیں“
دانین نے لبوں کو بھینچ کر اس کی بات کی نفی کی اور اپنی راۓ کا اظہار کیا۔
” ہم۔مم۔م۔م۔م۔م۔“
زرداد نے بڑی مشکل سے جبڑوں کو جکڑ کر مصنوعی ہنسی سجاتے ہوۓ اس کی بات کی تاٸید میں سر ہلایا۔ کلو کہیں کی دل تو کر رہا ہے ایک تھپڑ رسید کر دوں پر ناٹک کے لیے یہ سب ضروری تھا ۔
” غلط کرتا رہا جو بھی کرتا رہا ، میں اب بڑا ہواہوں تواحساس ہو ا مجھے۔“
زرداد نے شاٸستگی سے کہہ کر اپنا کان کھجایا دانین اب حیرت کے سمندر میں غوطے لگاتی چارپاٸی سے اتر کر نیچے اس کے سامنے کھڑی ہو گٸی تھی۔
اسے کیا ہوا ہے دانین نے پرسوچ انداز میں زرداد کی شکل کو دیکھا دنیا بھر کی معصومیت چہرے پر سجاۓ وہ اس کے سامنے کھڑا اس سے معافی مانگ رہا تھا اس بات کے لیے جس میں نناوے فیصد غلطی صرف اور صرف دانین کی تھی
”ٹھ۔ٹھ۔ٹھیک ہے کوٸی بات نہیں“
دانین نے حیران ہوتے ہوۓ زرداد کو جواب دیا وہ کچھ دیر کھڑا رہا پھر مسکراہٹ کا تبادلہ کر کے چھت سے نیچے اتر گیا تھا جبکہ دانین حیران سی کھڑی کی کھڑی رہ گٸ ۔ *******************
برآمدے میں لگے بڑے سے کھانے کے میز پر رات کا کھانا سب بیٹھے کھا رہے تھے ہارون کے حکم کے مطابق جتنی بھی چاہے ہر فرد کی مصروفیت ہو وہ سب کے سب کھانا اکٹھے ہی کھاتے تھے۔
کھانا کھاتے ہوۓ کچھ محسوس ہونے پہ دانین نے نظر اٹھا کے سامنے بیٹھے زرداد کی طرف دیکھا ۔
نوالہ حلق میں اٹک گیا وہ دنیا بھر کا پیار نظروں میں سموۓ اسے تاڑنے میں مصروف تھا لبوں پر بھی دلکش مسکراہٹ سجاٸ ہوٸ تھی ۔
عجیب سا محسوس ہوا اسے کیا ہوا ہے ایسے کیوں دیکھ رہا ہے دانین کو الجھن سی ہو رہی تھی طبیعت تو ٹھیک ہے نا اس کی اب وہ اس کے دیکھنے پر بھر پور طریقے سے مسکرایا تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: