Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 10

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 10

–**–**–

دل تو چاہ رہا تھا یہ قینچی اٹھا کر۔۔۔ اس کی آنکھوں میں گھسا دے۔۔۔ دانین نے۔۔۔ اس کی اپنے اوپر گڑی ہوٸی نظروں۔۔ سے جھنجلا کر سوچا۔۔۔
وہ جان بوجھ کر زور زور سے پٹی کو گھما رہی تھی۔۔۔ تاکہ اس کی توجہ اس پر سے ہٹ جاۓ اور اپنے درد کی طرف ہو جاۓ۔۔۔ پر وہ تو ایسے مسکرا رہا تھا جیسے کوٸی تکلیف ہی نا ہو اسے۔۔۔ پتا نہیں کس مٹی سے بنا ہے۔۔۔
دل تو چاہ رہا ہوگا یہ قینچی میری آنکھوں میں گھسا دو۔۔۔ زرداد نے دھیرے سے پھر سر گوشی کی جبکہ اس کے ہونٹ ہنسی کو دبانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔۔۔
دانین نے اضافی پٹی کاٹ کے قینچی ایک طرف رکھ دی۔۔
میرے دل نے کچھ بھی چاہنا چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔ دانین نے سر گوشی میں پر سخت لہجے سے کہا۔۔۔ اور چیزیں سمیٹتی وہاں سے اٹھ گٸ۔۔۔
زرداد کے ہونٹوں سے مسکراہٹ ایک دم غاٸب ہوٸی تھی۔۔۔
💋💋💋💋💋💋💋
ہوں۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔ سگریٹ کو منہ سے لگایا۔۔۔ اور دوسر ے ہاتھ سے فون کو کان سے لگا کر وہ بولا تھا۔۔۔
نہ کوٸی سلام نہ کوٸی دعا عجیب کوٸی بدتمیز انسان ہو تم۔۔۔ منال کی خفا سی آواز فون سے ابھری۔۔۔
ایسا ہی ہوں میں۔۔۔مجھے دانین کا نمبر سنڈ کرنا ذرا۔۔۔ سگریٹ کے دھویں کو ہوا میں ۔۔ خارج کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
ہا۔۔۔ہاۓ۔۔۔ تمھارے پاس اسکا نمبر ہی نہیں ہے۔۔۔ منال کو حیرانی ہو رہی تھی۔۔۔
ہاں۔۔۔ نہیں تھا۔۔ کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوٸی۔۔۔ کان کے پیچھے خارش کی۔۔۔
اس نے اپنے دل کو بہت سمجھایا تھا۔۔۔ لیکن اسے کسی پل چین نہیں تھا۔۔۔ اسے کراچی آۓ تین دن ہو چکے تھے۔۔۔ اور وہ ایسے ذہن پہ سوار ہوٸی تھی کہ بس۔۔۔
اچھا میں بھیجتی ہوں تمہیں۔۔۔ اور میری طرف کیوں نہیں آۓ تم۔۔۔ اب وہ خفگی دکھا رہی تھی۔۔۔۔
اب تو حیدر آباد چکر لگتے رہیں گے۔۔۔ اٶں گا اگلی دفعہ ۔۔۔ سگریٹ پھینک کے وہ ٹیرس سے واپس اپنے کمرے میں آ گیا۔۔۔
کیوں۔۔۔ کیا ابا۔۔۔ بات کرنا شروع ہوگۓ تم سے۔۔۔ منال کی تشویش والی آواز ابھری۔۔۔
نہیں جی۔۔۔ ہم دونوں کے مزاج ایک جیسے ہیں۔۔ یہ شکر ہے اب گھر گھسنے دیتے ہیں مجھے۔۔۔ تکیہ سر کے نیچے رکھ کے وہ بیڈ پہ لیٹ گیا تھا۔۔۔
اچھا تم فکر نا کرو۔۔ مان جاٸیں گے آہستہ۔۔۔ آہستہ۔۔منال نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔۔۔
اچھا چلو اب کیا سر کھا رہی ہو ۔۔۔ دانین کا نمبر سنڈ کرو کام ہے اس سے مجھے۔۔۔
جاہل ہی رہنا۔۔ بنے پھرتے ہو۔۔۔ سپر سٹار۔۔۔ اچھا وہ کچھ اور فرینڈز ہیں۔۔۔ ان کو بھی ملنا تم سے۔۔۔ التجا والے انداز میں منال نے کہا۔۔۔
اوہ یار۔۔۔ بہت سر کھاتی ہیں۔۔۔ اچھا چلو باۓ اب۔۔ اب وہ واقعی چڑ گیا تھا۔۔
اچھا دفعہ ہو۔۔۔ باۓ۔۔۔ منال نے خفگی سے کال کاٹ دی تھی۔۔۔
منال کا مسیج سکرین پہ چمک رہا تھا۔۔۔
زرداد نے دھڑکتے دل کے ساتھ مسیج کو کھولا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
وہ نماز کے بعد دعا مانگ رہی تھی۔۔۔ جب فون کی رِنگ سناٸی دی۔۔۔ ایک دفعہ تو فون بج بج کر بند ہو گیا تھا۔۔۔ اب دوسری دفعہ بج رہا تھا۔۔۔ جب وہ جاۓ نماز سمیٹ رہی تھی۔۔۔
آگے بڑھ کر اس نے فون اٹھا کر کان کو لگایا تھا۔۔۔
ہیلو۔۔۔ دانین کی ۔ مدھر سی آواز ابھری۔۔۔
زرداد کے دل کو جیسے تسکین ملی۔تھی۔۔۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔
ہیلو۔۔۔ جی کون۔۔۔ پھر سے بڑے پریم سے بولی تھی۔۔۔
نمبر اگر اس کے پاس دانین کا نہیں تھا۔۔۔ تو نمبر دانین کے پاس بھی اس کا نہیں تھا۔۔۔
دانین۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھاری چاہت کے خمار سے رندھی ہوٸی آواز میں زرداد نے اس کا نام لیا تھا۔۔۔
وہ اس کی آواز کو کڑوڑوں میں پہچان سکتی تھی۔۔۔ دانین نے فوراََ کال کاٹ دی تھی۔۔۔ آخر کو یہ اب چاہتا کیا ہے۔۔۔ دانین کو اس کی محبت پر ایک پل کو بھی یقین نہیں آیا تھا۔۔۔
بلکہ زرداد کی ایسی حرکتوں کی وجہ سے اس کے سارے پرانے زخم تازہ ہو رہے تھے۔۔۔
یہ وہ شخص تھا ۔۔ جس کے لیے راتوں کو اٹھ اٹھ کے اس نے بد دعاٸیں مانگی تھیں۔۔۔ جس نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔ وہ اپنی ہی نظروں میں خود گر گٸ تھی۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ پل پل ازیت کو سہتی رہی۔۔۔ آج وہ کتنی آسانی سے کہہ رہا تھا کہ وہ اس کی جھوٹی روز روز بدلتی۔۔۔ محبت پر یقین کر لے۔۔ ۔
دانین سکندر اب کوٸی کچی عمر کی وہ بیوقوف دانین نہیں تھی۔۔ جو اس کی اوچھی باتوں میں آ کر پھر سے اس کا شکار ہو جاتی۔۔۔
اور جو شخص۔۔۔ ہر خوبصورت چیز کا دیوانہ ہو۔۔۔ اسے بھلا میری جیسی ۔۔ معمولی شکل وصورت کی لڑکی سے محبت ہو بھی کیسے سکتی۔۔۔ وہ ساکت بیڈ پہ بیٹھی سوچے جا رہی تھی۔۔ ۔۔
فون کتنی بار پھر سے بج چکا تھا اس نے فون اٹھایا کال کاٹی اور اس نمبر کو بلیک لسٹ میں ڈال کے فون کو ایک طرف بیڈ پر اچھال دیا۔۔۔
❤❤❤❤❤
بار بار۔۔۔ فون لگا لگا کر پاگل ہو گیا تھا۔۔۔ وہ فون اٹھا ہی نہیں رہی تھی۔۔۔
پھر کچھ ذہن میں آتے ہی۔۔ دوسرے نمبر سے کال ملاٸی تھی۔۔۔
دوسری ہی بِل پر اس کی آواز ابھری تھی۔۔۔
دانین پلیز کال مت کاٹنا۔۔۔ تمہیں چاچو کی قسم۔۔۔ بڑی تیزی سے اس نے الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ پھر سے کال کاٹ دیتی۔۔۔
اس نے کال نہیں کاٹی تھی۔۔۔ پر دوسری طرف بلکل خاموشی تھی۔۔۔
دانین ۔۔۔ میری بات سنو۔۔۔ وہ اب بول رہا تھا۔۔۔
مجھے خود نہیں پتا یہ کیسے ہو گیا۔۔۔ پر میں ۔۔۔ مجھے۔۔۔ یار۔۔۔ ۔وہ جھنجلا کے بولا۔۔
دانین مجھے تم سے شادی کرنی ہے۔۔۔ بڑی ہی۔۔۔ ہمت ہاری ہوٸی آواز تھی۔۔۔
دیکھو۔۔ مجھے پتہ ہے ۔۔ تم مجھ سے بہت محبت کرتی تھی۔۔۔ اب بھی کرتی ہو۔۔۔ بس ۔۔۔۔ تمھارا دل صاف نہیں ہو پا رہا میری طرف سے۔۔۔ وہ ٹیرس پر ٹہل رہا تھا۔۔۔
دیکھو۔۔۔ میں سب سنبھال لوں گا۔۔۔ میں ۔۔ سب کو راضی کروں گا۔۔۔
تین انگلیوں کو جوڑ کر اپنے ہونٹوں پہ رکھتے ہوۓ اس نے کہا۔۔میں تمہیں کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا۔۔۔ دانین میری محبت پر اعتبار کرو۔۔۔ مجھے بس ایک چانس اور دے کر دیکھو۔۔۔ اس نے آسمان کی طرف ایسے دیکھا جیسے التجا۔۔۔ خدا سے بھی ہو۔۔
کچھ تو بولو۔۔۔ دانین۔۔۔ دانین۔۔۔۔ ہیلو۔۔۔ ہیلو۔۔۔ کال تو نہیں کٹی تھی۔۔۔ وہ کبھی فون کو کان سے ہٹا کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔ تو کبھی کان سےلگا کر ہیلو ہیلو کہہ رہا تھا۔۔۔
فون بیڈ پر پڑا تھا۔۔۔ اور دانین بیڈ پر کروٹ لیے سوٸی پڑی تھی۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤
جی ۔۔تو یاد آ ہی گٸ میری۔۔ نرمل نے ہینڈ بیگ ۔۔ سامنے پڑے میز پر رکھا۔۔۔
وہ تھوڑا سا مسکراٸی تھی۔۔۔ لیکن چہر ے پر پریشانی کے آثار واضح تھے۔۔۔ زرداد کی فون کالز نے اس کا جینا حرام کر رکھا تھا۔۔۔ ایک ہفتے سے اوپر ہو گیا تھا وہ نمبر بدل بدل کر اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔ کبھی پیغامات۔۔۔
پہلے کچھ آرڈر کر لیں بہت بھوک لگی ہے۔۔۔ یار میری جاب اپنے والے ہاسپٹل میں کرواٶ پلیز۔۔۔ میں تو تنگ آ گٸ ہوں قسم سے۔۔۔
وہ ویٹر کو اشارہ کرتے ہوۓ ۔۔۔ اپنے مخصوص انداز میں بولے جا رہی تھی۔۔۔ پھر اچانک دانین کے پریشان چہرے کو نوٹس کیا اس نے۔۔۔
تمہیں کیا ہوا خیریت ہے ۔۔ اس نے میز پر رکھے دانین کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔ خیریت ہے۔۔۔ بس ایک کام کر دو گی میرا۔۔۔ دانین نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر ۔۔۔ پرسوچ انداز میں نرمل کی طرف دیکھا۔۔۔
بولو۔۔۔ وہ بغور ۔۔۔ دانین کا جاٸزہ لے رہی تھی۔۔۔
تم۔۔۔ زین سے کہو۔۔۔ میرے گھر رشتہ بھیجے۔۔۔وہ اپنے ھاتھوں سے کھیلتے ہوۓ دھیرے سے بولی۔۔۔
نرمل کی باچھیں کھل گٸ تھیں ۔۔۔ آنکھوں میں شرارت تھی۔۔۔
تو ۔۔۔ یہ بات ہے۔۔۔ جناب۔۔۔ زین کی تو لاٹری نکل آٸی۔۔۔ تم فکر نا کرو۔۔۔ میری شہزادی۔۔۔ سب۔۔۔ مجھ پہ چھوڑ دو۔۔۔
وہ اپنے مخصوص شوخ پن میں کہہ رہی تھی۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤
زرداد۔۔۔ ایک تو تمھاری کبھی سمجھ نا آٸی ہمیں۔۔۔ تم کیا چیز ہو۔۔۔ اشعال نے غصے سے جھنجلاتے ہوۓ زرداد کی طرف دیکھا۔۔۔
کیا ۔۔۔ایسا کیا کہہ دیا میں نے۔۔۔ وہ خود اس سے بھی زیادہ پریشان حال لگ رہا تھا۔۔۔
زری ۔۔۔ دانین کی منگنی ہے آج شام کو۔۔۔ اور تم یہاں کھڑے ہو کر مجھ کہہ رہے ہو چلو۔۔ اس سے میرے رشتے کی بات کرو۔۔۔
تمہارے نزدیک یہ کوٸی بات ہی نہیں ہے۔۔اشعال ماتھے میں سو بل ڈالے اس پر چیخ رہی تھی۔۔۔۔
اور وہ جو۔۔۔ جس سے تمھاری بات پکی ہوٸی ہے۔۔۔ منسا۔۔ اس کاکیا۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔ بولو۔۔۔ اشعال اس کا نیچے کو جھکا چہرہ اوپر کو اٹھا کر بولی۔۔۔
بھاڑ میں ۔۔جاۓ وہ۔۔۔ میری طرف سے۔۔۔ وہ دھاڑنے کے سے انداز میں بولا تھا۔۔۔ آنکھوں میں لالی تھی۔۔۔ جو بہت سی شب کی بیداری کا واضح ثبوت تھی۔۔۔
تم یوں ۔۔۔ ہی فضول میں بحث کرتی رہو گی۔۔۔ اور ادھر اس کی منگنی ہو جاۓ گی۔۔۔ زرداد کو اب غصہ آ رہا تھا۔۔۔
آج سکندر کے فون پر اسے اس بات کا پتہ لگا تھا۔۔۔ کہ دانین کا رشتہ آیا تھا۔۔۔ اور دانین کی کی ہی مرضی شامل تھی۔۔۔ آج ان کی منگنی ہو رہی تھی۔۔۔
وہ یونیورسٹی میں اس کے ساتھ تھا وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔۔۔ تم پاگل مت بنو۔۔۔ اشعال نےآواز کو دھیما رکھ کے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔
نہیں کرتی وہ اسے پسند مجھے پتا ہے۔۔۔ تم مجھے بتاو تم نے میرا ساتھ دینا ہے یا نہیں۔۔۔ وہ دو ٹوک الفاظ میں کہہ کر کھڑا ہوا تھا۔۔۔
زری ۔۔۔کیا ۔۔۔ چیز ہو۔۔۔ تم۔۔۔ جینے دو سب کو ان کے حال میں۔۔۔ جب بھی میں تمھاری طرف سے بے فکر ہوتی ہوں ۔۔۔ ایک نیا تماشا شروع کر دیتے ہو تم۔۔۔ پہلے منسا کے لیے ان سب کو اتنی مشکل سے راضی کیا اور اب جب اس کے ساتھ سب بات ہو چکی ہےتوتم کہہ رہے ہو تمہیں اس سے محبت نہیں تھی۔۔۔ دانی سے ہے محبت۔۔۔اشعال نے نا سمجھ آنے والے انداز میں سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔
کل کو تمہیں دانی سے بھی محبت نہیں ہو گی۔۔۔ اشعال کا لہجہ اب سخت تھا۔۔۔
میں جا رہا ہوں ۔۔۔ میں خود ہی بات کر لوں گا۔۔۔ تم میں سے کسی نے کبھی میرا ساتھ دیا بھی ہے۔۔۔ وہ دھاڑتا ہوا آگے بڑھا تھا۔۔۔
رکو ۔۔۔ میں چلتی ہوں۔۔۔ اچانک آنے والے خیال سے وہ اٹھی اور کمرے کی طرف چل پڑی۔۔۔
زرداد نے منسا کی دفعہ ایسے بلکل ری ایکٹ نہیں کیا تھا جیسے اب کر رہا تھا۔۔۔ اشعال کو اس کے دل کی سچاٸی پہ یقین آ رہا تھا۔۔۔ وہ رانیہ کی چند چیزیں بیگ میں ڈالتی ہوٸی اس کے ساتھ حیدرآباد کے لیے نکل پڑی تھی۔۔۔
راستے میں زرداد اسے پوری طرح قاٸل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
اس سے کہو۔۔۔ اپنی محبت سنبھال کر رکھے۔۔۔ ہارون کا غصے سے برا حال تھا۔۔۔
میں تو پہلے ہی کہہ چکا تھا۔۔۔ میں اس لڑکے کی بلکل ضمانت نہیں دیتا۔۔۔ خبیث ہے یہ پورا۔۔۔ وہ سکندر کی طرف منہ کر کے بول رہے تھے۔۔۔ ان کو غصے سے سانس چڑھا ہوا تھا۔۔۔
اشعال کو آگے کر کے وہ خود اوپر چلا گیا تھا۔۔۔
سکندر خاموشی سے پرسوچ انداز میں بیٹھے تھے۔۔۔
اب کیا ہم اپنے خاندان کا تماشہ بنا لیں اس خبیث کے لے۔۔۔ سب ہکا بکا کھڑے تھے زرداد کی اس فرماٸش پر۔۔۔
ہارون کا بول بول کر برا حال تھا ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سر توڑ دیں ۔۔۔ زرداد کا۔۔۔
دانین پارلر گٸ ہوٸی تھی۔۔۔
بھاٸی صاحب۔ ۔۔۔ ایک منٹ ۔۔ آپ بیٹھیں۔۔۔ سکندر نے ہارون کو صوفے پر کندھا پکڑ کر بیٹھایا تھا۔۔۔۔
زرداد نے جو بھی کہا ہے۔۔۔ اس پر سوچا جا سکتا ہے۔۔۔ اتنی بھی کوٸی غلط بات نہیں کی ہے اس نے ۔۔۔ سکندر نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔ ہر دفعہ کی طرح اس دفعہ بھی انھیں رتی بھر بھی زرداد پر غصہ نہیں آیا تھا۔۔۔
زین باہر کا لڑکا۔۔ہے۔۔۔ جو بھی ہے۔۔۔ دل میں ایک ڈر ہے اسے بیٹی دیتے ہوۓ۔۔۔ اگر زرداد سے دانین کی شادی ہو جاتی ہے تو میرے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی کی بات ہو سکتی ہے۔۔۔
ہارون اب سکندر کی بات تھوڑا تحمل سے سن رہے تھے۔۔۔
اور وہ نیلم کا کزن جو اتنے مان سے رشتہ لے کر گیا وہ۔۔۔ ثمرہ ہر گز اس بات سے خوش نہیں تھی۔۔۔ ماتھے پر سو بل ڈال کر بولی۔۔۔
اماں وہ کہہ رہا اتنا عرصہ ہو گیا ہے اس کی منسا سے بات نہیں ہوٸی ۔۔۔ انتہاٸی بدتمیز لڑکی ہے۔۔اور اس کا تو اس سے تب ہی من کھٹا ہو گیا تھا جب وہ اسے برے حال میں چھوڑ کر چل دی تھی۔۔۔ اشعال سب کو قاٸل کر رہی تھی۔۔۔
شازر ۔۔ تم دانین کو پارلر سے لے کر آو۔۔۔ میں اس سے بات کروں گا۔۔۔ تب ہی کوٸی فیصلہ ہو گا۔۔ ہارون نے دو ٹوک بات کر کے سب کو خاموش کروا دیا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
تو پھر بات ہی نہیں بنتی۔۔۔ بچی خود کہہ رہی کہ وہ نہیں کر سکتی کسی بھی صورت میں زرداد سےشادی۔۔
دانین ہلکے سے پیچ پنک رنگ کے سوٹ میں سلیقے سے کیے ہوۓ میک اپ اور جولیری زیب تن کیے۔۔۔ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔ سر جھکا کر وہ سامنے صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔ اورچہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔ ضبط سے۔۔۔ دل کر رہا تھا جاۓ اور منہ نوچ لے زرداد کا۔۔۔ خود کو سمجھتا کیا ہے۔۔۔
بیٹا۔ ۔۔۔ مجھے تم سے بات کرنی ہے اکیلے میں سکندر دانین کے سر پر کھڑے کہہ رہے تھے۔۔۔
وہ دھیرے سے اٹھی تھی اور سکندر کے ساتھ چلتی ہوٸی اپنے کمرے میں آ گٸ تھی۔۔۔
دانین ۔۔۔ سکندر نے دانین کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
دیکھو بیٹا۔۔۔ میں جو بھی کہوں اسے سمجھنا۔۔۔
انھوں دھیمے لہجے میں ٹھہر کر بات شروع کی۔۔۔
زرداد مجھے بہت عزیز ہے۔۔۔ بہت ہی پیارا بچہ ہے۔۔۔ دل کا بہت اچھا ہے۔۔۔ ہاں کچھ غلطیاں پہلے جوانی میں کرتا رہا۔۔ پر ۔ اب ایک سلجھا ہوا پڑھا لکھا اور ہر لحاظ سے تمھارے مستقبل کی روشن ہونے کی ضمانت دے سکتا ہے۔۔۔ میں چاہتا ہوں دل سے کہہ تمہاری شادی اس سے۔۔ہو۔۔ سکندر کا ہاتھ ابھی بھی دانین کے سر پر تھا۔۔۔
زین اچھا ہو گا ۔۔۔ میں یہ نہیں کہتا وہ اچھا نہیں ہے۔۔۔ پر مجھے عجیب سا ڈر ہے بیٹا ۔۔۔ وہ کانپتے ہوۓ لہجے میں ۔۔ بولے۔۔۔۔ بیٹی کی محبت ایسی ہی ہوتی ہے۔۔۔
اب تم بولو۔۔۔ تم کیا کہتی ہو ۔۔۔ میری خواہش جاننے کے بعد۔۔۔
وہ سوالیہ نظروں سے دانین کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔
بابا میں زین سے ہی شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ مجھے زرداد سے شادی نہیں کرنی ہے۔۔۔ گھٹی سی دھیمی سی آواز میں دانین نےکہا تھا۔۔۔ بابا پلیز۔۔۔ مجھے زرداد کے لیے قاٸل مت کریں ۔۔۔ میں اس کے ساتھ ہر گز خوش نہیں رہ سکوں گی۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔م۔ سکندر نے دانین کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔۔ خوش رہو میری گڑیا ۔۔۔ تمھاری خوشی میں ہی میری خوشی ہے۔۔
وہ سر جھکا کر کمرے سے باہر نکل گۓ تھے۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤
وہ چھت پر انگاروں میں لوٹ رہا تھا۔۔۔ نیچے صحن میں زین دانین کو انگوٹھی پہنا رہا تھا۔۔۔
یہ اس کی کوٸی پانچویں سگریٹ تھی۔۔۔ آنکھوں میں درد۔۔۔ تھا ۔۔ کرب تھا۔۔۔ تکلیف تھی۔۔۔ اشعال نے بتایا تھا۔۔ کہ سب مان گۓ تھے۔۔۔ لیکن دانین نہیں مانی تھی۔۔۔
دانین ہنس رہی تھی۔۔۔ زین اور اس کے گھر والے ایک دوسرے کے گلے مل رہے تھے۔۔۔
زین ایک کوٸی بہت ہی شریف و النفس قسم کا سادہ سا لڑکا تھا۔۔ آنکھوں پہ چشمہ تھا۔۔۔۔۔ دانین سے زیادہ وہ شرما رہا تھا۔۔۔
زرداد کا بس نہیں چل رہا تھا جا کر گلا دبا دے زین کا جس کے پہلو میں اس کی محبت بیٹھی تھی۔۔۔
اس نے دیوار میں زور سے ہاتھ مارا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤
دروازہ بند ہونے کی آواز پر دانین نے چونک کر دیکھا تھا۔۔۔
زرداد آنکھوں میں خون بھر کر اجڑی ہوٸی حالت میں کھڑا تھا۔۔۔ وہ ڈریسنگ میز کے سامنے بیٹھی اپنی چوڑیاں اتار رہی تھی جب وہ کمرے میں آیا۔۔۔
وہ تیزی سے اٹھ کر کھڑی ہوٸی تھی۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی۔۔۔ زرداد تیزی سے دانین کی طرف بڑھا تھا۔۔۔ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کے اسے پیچھے دھکیلتا ہوا جا رہا تھا۔۔
پھر زور سے اس کا وجود دیوار کے ساتھ لگا دیا تھا۔۔۔
جبکہ اس کا ہاتھ ہنوز دانین کے ہونٹوں پر تھا۔۔۔
زرداد نے اسے دیوار کے ساتھ لگا کر خود کو اس کے ساتھ یوں لگایا تھا کہ وہ ہل بھی نہیں پا رہی تھی۔۔۔
زرادد کی سانسوں کی آواز تک اسے سناٸی دے رہی تھی۔۔۔
جو غصے سے تیز تیز چل رہی تھیں۔۔۔
وہ تڑپنے کے سے انداز میں اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ لیکن اس کے فولادی جسم کے آگے سب کوشش ناکام تھی۔۔۔
دانین سکندر۔۔ شادی تو۔۔۔ تمھاری مجھ سے ہی ہوگی۔۔۔
اس کے کان کے قریب وہ غرایا تھا۔۔۔
پھر دوسر ے ہاتھ سے اسکے ہاتھ میں سے انگوٹھی کو اتار رہا تھا۔۔۔ دانین مسلسل اپنے ہاتھ کو جھٹکے دے رہی تھی۔۔۔ تکلیف سے آنکھوں میں پانی تھا۔۔۔
زرداد نے بری طرح اس کی انگلی سے انگوٹھی کو نوچا تھا۔۔۔ اور اسے ایک جھٹکے سے چھوڑتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: