Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 11

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 11

–**–**–

بے آواز قدموں سے۔۔۔ وہ اوپر آٸی تھی۔۔۔ زور کے دھکے سے اس کے کمرے کا دروازہ کھولا۔۔۔
زرداد بیڈ پر دونوں ہاتھوں کا تکیہ بنا کر سیدھا لیٹا ہوا تھا۔۔۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا۔۔۔ اپنے مخصوص انداز میں مسکرایا تھا۔۔۔ چہرہ پہ ایسے سکون تھا۔۔۔ کہ اس کے آنے کی خبر جیسے پہلے سے ہو اسے۔۔
دانین کا خون جل کے رہ گیا تھا۔۔۔
سگریٹ کا دھواں پورے کمرے میں پھیلا ہوا تھا۔۔۔ دانین کو اہنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا۔۔اسے کھانسی آنے لگی تھی۔۔۔ ایک ہاتھ کو وہ ہوا میں مار رہی تھی داٸیں باٸیں ۔۔۔ اور دوسرے ہاتھ کو ناک پر رکھا ہوا تھا۔۔۔
میری رِنگ واپس دو زری۔۔۔ انتہاٸی سخت لہجے میں کہا۔۔۔
دے دوں گا۔۔۔ بے فکر رہو۔۔۔ بڑے انداز سے کہتا ہوا وہ اٹھا تھا۔۔۔ اور اب اسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
زری ۔۔۔ میں اسی وقت جا کر تایا ابا کو بتاٶں گی۔۔۔ میری رنگ واپس دو۔۔ اس کو اپنے پاس آتا دیکھ کر قدم پیچھے جا رہے تھے۔۔۔
جاٶ ابھی جاو۔۔۔ ویسے بھی ۔۔۔ یہاں ۔۔۔ میری شرافت۔۔۔ اور محبت پر کسے اعتبار ہے۔۔۔ سینے پہ ہاتھ باندھے بلکل اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
تو ایسا کرنے سے کیا تم پر اعتبار کر بیٹھوں گی میں بھول ہے تمہاری۔۔۔ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی۔۔۔
پر اس نے تو آج جیسے۔۔۔ شرافت بلاۓ تاک ۔۔ رکھ چھوڑی تھی۔۔۔
دانین نے جیسے ہی نظر اس سے ملاٸی اس نے شرارت سے اپنی داٸیں آنکھ دبا ٸی تھی۔۔ چہرے پر بھی ۔۔ مسکراہٹ تھی۔۔۔ نچلے ہونٹ کا ایک کونا دانتوں کے نیچے دبایا ہوا تھا۔۔۔۔
دانین ایک دم گڑ بڑا گٸ تھی۔۔۔
رِنگ صیح وقت پر صیح جگہ جاۓ گی۔۔۔ تمہیں ابھی بلکل نہیں ملے گی۔۔۔ اس کے چہرے پر گری اس کے بالوں کی لٹ کو دھیرے سے چھوا۔۔ دانین نے زور سے اپنے ہاتھ سے اس کا ہاتھ جھٹکنا چاہا تو زرداد نے اسی ہاتھ کو دبوچ لیا۔۔۔
شرافت تو تمھیں سمجھ نہیں آٸی تھی دانین سکندر۔۔۔ بڑے پیار سے اس کے قریب ہوا تھا۔۔۔۔
اب ایسے تو پھر ایسے ہی صیح۔۔۔۔۔۔ ایک دم اس کا ہاتھ چھوڑا تھا اور پیچھے ہوا ۔۔ جاٶ جا کر آرام سے سو جاٶ۔۔۔ آواز درد دکھ ۔۔۔ اور ضد پہ آنے کی وجہ سے بھاری اور کھردری سی ہو گٸ تھی۔۔۔
میں بھی کراچی جا رہا ہوں ۔۔۔ یہ رنگ تمہاری امانت ہے۔۔ میں خود تمہیں پہناوں گا فکر نا کرو۔۔۔
لیکن ابھی نہیں۔۔۔ جاٶ اب ۔۔۔ شاباش۔۔۔ واپس جا کر اپنے بیڈ پر لیٹ گیا تھا پھر سے۔۔۔
اگر تم یہ سمجھ رہے ہو۔۔۔ تمھارے ایسے کرنے سے میں پھر سے تمھاری گھٹیا محبت پر یقین کر بیٹھوں گی تو زرداد یہ بھول ہے تمھاری۔۔۔ سمجھے تم۔
انگشت انگلی کی اکڑ دانین کے پختہ ارادے اور زرداد کے لیے نفرت کا واضح ثبوت تھی۔۔۔۔ اور ۔۔۔ میری۔۔ اور میرے زین کی سچی محبت پر ایسی ہزاروں۔۔۔ انگوٹھیاں قربان۔۔۔ بڑی حقارت سے ناک اوپر چڑھاٸی۔۔۔ رکھو شوق سے اپنے پاس۔۔۔ سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ وہ جاتے ہوۓ دروازہ زور سے مار کر گٸ تھی۔۔۔
زرداد نے زور کا قہقہ لگایا تھا۔۔۔
میری اور میرے زین۔۔۔۔ اس نے زیرِلب دانین کے الفاظ کو دہرایا تھا۔۔۔ اور پھر سے قہقہ لگایا تھا۔۔۔ قہقہ اتنا جاندار تھا۔۔۔ کہ اس کی آنکھوں کے کونے بھیگ گۓ تھے۔۔۔
پھر بیڈ سے اٹھا تھا۔۔۔ اور ارد گرد تلاش شروع کر دی تھی۔۔۔۔۔
کہاں رکھ چھوڑی تھی۔۔۔ وہ سرخ ڈاٸری۔۔۔۔ وہ کمر پرہاتھ باندھے کھڑا سوچ رہا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤
سانولی۔۔۔ سلونی سی محبوبہ۔۔۔ تیری چوڑیاں۔۔۔ شڑنگ۔۔۔ کر کے۔۔۔۔ جانے ۔۔۔ کیسی ۔۔۔ آس۔۔۔ دلاٸیں۔۔۔ ہاۓ ۔۔ ہاۓ۔۔۔ کریں سب لڑکے۔۔۔
زرداد کی آواز۔۔۔ گونج رہی تھی۔۔۔ وہ سٹیج پہ۔۔۔ لاکھوں لوگوں کی دل کی دھڑکن بنا گا رہا تھا۔۔۔ لڑکیاں ۔۔۔ لڑکے۔۔۔ سب اس کے ساتھ جھوم رہے تھے۔۔۔ گا رہے تھے۔۔۔
زرداد نے اس گانے کا ری میک کیا تھا۔۔۔ اور اس کی آواز میں یہ گانا ۔۔۔ سب لوگوں کی ۔۔۔ دل کی دھڑکن بن کر دھڑکنے لگا۔۔۔
ہر جگہ۔۔۔ یہی گانا سناٸی دینے لگا۔۔۔۔ زرداد اب ہر طرح سے ۔۔ اپنی دھاک بٹھا چکا تھا۔۔۔ آۓ دن انٹرویوز۔۔۔۔ سب سے بڑے اشتہار کا برینڈ ایمبسیڈر وہ تھا۔۔۔ زری کے نام سے اس نے کپڑوں کا ایک برینڈ لانچ کیا تھا۔۔۔
اور اب ان کی حیدر آباد والی کپڑوں کی دوکان ۔۔۔ زری۔۔۔ برینڈ۔۔ کے نام میں تبدیل ہو چکی تھی۔۔۔ سکندر اور شازر نے اس معاملے میں اس کا بھر پور ساتھ دیا تھا۔۔۔ دنوں میں سب حالات بدل کے رکھ دیے تھے۔۔۔ سات ماہ کے اس پورے عرصے میں۔۔۔ اس نے دانین سے کوٸی بات نہیں کی تھی۔۔۔
یہ نہیں تھا کہ اس کی محبت کی شدت میں کوٸی کمی آٸی تھی۔۔۔ محبت کا رنگ تو گہرے سے گہرا ہوتا جا رہا تھا ۔۔دانین کے نام سے اس نے ایک البم بنا ڈالی تھی۔۔۔ دانی۔۔۔۔۔
جس کا مین گانا ۔۔۔ یہ ہی تھا۔۔۔ جس پر پوری دنیا جھوم رہی تھی۔۔۔ آج اس کے ساتھ۔۔۔
منسا ۔۔ کی دوبارہ ۔۔کبھی اس نے کال تک نہیں اٹھاٸی تھی۔۔۔ لیکن وہ ابھی بھی ۔۔ اپنی پوری کوشش میں لگی تھی کہ کسی طرح پھر سے پیچ اپ ہو جاۓ۔۔۔
وہ سٹیج سےنیچے اتر رہا تھا۔۔۔ شورو غل۔۔۔ چیخ وپکار۔۔سکیورٹی۔۔ کے بیچ میں سے گزرتا ہوا۔۔ وہ اپنی کار میں بیٹھا تھا۔۔۔ جس کے بند شیشوں کو ہاتھ لگانے کو بھی لڑکیاں اپنی خوش قسمتی تصور کر رہی تھیں۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤
نہیں۔ ۔۔۔ ٹھیک ہوں ۔۔ آپ کیسے ہیں۔۔۔ دانین نے صوفے کی پشت کے ساتھ سر ٹکایا اور آنکھیں موند لیں۔۔۔ ناٸٹ شفٹ کی وجہ سے بہت تھکاوٹ ہو رہی تھی۔۔۔
زین سے بہت کم بات ہوتی تھی۔۔۔ اس کی۔۔۔ وہ کبھی کبھی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ڈرتے ڈرتے دانین کو کال کرتا تھا۔۔۔۔
آج بھی۔۔۔ زرداد کا گانا سننے پر اس کا دل مچل سا گیا تھا۔۔۔
اچھا سنو۔۔۔ ایک گانا بھیج رہا ہوں۔۔۔ جب بھی سنتا ہوں۔۔۔ تمھارا چہرہ لہرا جاتا آنکھوں کے ۔۔ اگے۔۔۔
زین کی ملتان کے کسی ہاسپٹل میں جاب ہو گٸی تھی۔۔۔ اس کا اپنا اباٸی گھر بھی وہیں تھا۔۔۔ ان دونوں کی شادی کی تاریخ رکھی جا چکی تھی۔۔۔
ہم۔م۔م۔ بھیجیں آپ میں سنتی ہوں۔۔۔ سپاٹ لہجے میں کہا۔۔۔
فون کو ایک طرف رکھ کر آنکھوں کو ہاتھوں کی ہتھلیوں سےدبایا تھا۔۔۔
پیغام کی بیپ کے ساتھ ہی اس نے فون اٹھایا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر پروسیسنگ کے بعد ویڈیو زرداد کی آواز کے ساتھ گونج رہی تھی۔۔۔
سانولی ۔۔۔ سلونی ۔۔ سی محبوبہ۔۔۔۔ تیری چوڑیاں شڑنگ کر کے۔۔۔ جانے کیسی آس دلاٸیں۔۔۔ ہاۓ ۔۔ہاۓ۔۔۔ کریں سب لڑکے۔۔۔
دانین نے فوراََ ویڈیو بند کر دی تھی۔۔۔
چہرہ تپنے لگا تھا۔۔۔ اس گانے سے تو اسے نفرت سی ہو گٸی تھی۔۔۔ ہرجگہ یہ ہی بجتا سناٸی دیتا تھا۔۔۔ آجکل
اس نے کچھ بھی تو ایسا نہیں کیا تھا ۔۔ ہاں بس اسکی منگنی کی رِنگ آج بھی اسی کے پاس تھی۔۔۔ اس کے بعد نا کبھی کال کر کے تنگ کیا نا کبھی حیدر آباد آیا تھا۔۔۔ اگر آیا بھی تو گھر نہیں آیا تھا۔۔۔ ۔
جھوٹی محبت کا خمار بس اتنا سا ہی ہوتا ہے زرداد ہارون۔۔۔ اس نے آنکھیں موند لی تھیں لیکن کانوں میں ابھی بھی۔۔۔ اس کی آواز گونج رہی تھی۔۔۔
سانولی ۔۔سلونی۔۔۔ سی محبوبہ۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤
تمہیں۔۔۔ میں نے تو نہیں کہا تھا۔۔۔ کہ تم پاکستان آٶ۔۔۔ سامنے پڑے جوس کےگلاس کےکناروں پر اپنی انگلی کو آہستہ آہستہ پھیرتے ہوۓ زرداد نےسامنے بیٹھی منسا کی طرف دیکھا۔۔۔
منسا نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔ زرداد چھ سال کا ریلیشن یوں نہیں ختم ہوا کرتا۔۔۔۔ منسا نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
صیح کہہ رہی ہو۔۔۔ رشتہ چاہے چھ سال کا ہو یا دو سال کا یوں ختم نہیں ہوا کرتا۔۔ پر تمہارا اور میرا یوں ہی ختم ہوا کرتا ہے۔۔۔ یہ رسم تم نے ہی شروع کی تھی پہلے۔۔
۔ سپاٹ لہجے میں جواب ملا۔۔۔
وہ اس بات پہ تھوڑی جزبز سی ہوٸی تھی۔۔
منسا زرداد کے چہرے پر اپنے لیے محبت کا کوٸی ایک بھی آثار دیکھنے میں بری طرح ناکام ہو رہی تھی۔۔۔
زرداد تمہیں کیا ہو گیا ہے۔۔۔ وہ روہانسی ہو گٸ تھی۔۔۔
عشق۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ کرب میں لپٹی ہوٸی۔۔۔ بھاری آواز میں جواب ملا۔۔۔
کس سے۔۔۔ منسا کی آواز بہت دور سے آتی ہوٸی محسوس ہوٸی۔۔۔
ہے کوٸی۔۔۔ ظالم۔۔۔ جوس کا گلاس منہ سے ہٹاتے ہوۓ۔۔ چہرے پہ۔۔ قاتل مسکراہٹ لاتے ہوۓ اس نے کہا۔۔۔
تو جو مجھ سے تھا وہ کیا تھا۔۔۔ زرداد۔۔۔منسا نے آنسو میں رندھی ہوٸی آواز سے کہا
خود ساختہ ۔۔۔ محبت ۔۔۔ جس میں میرے دل سے زیادہ ۔۔ کردار میرے دماغ کا تھا۔۔۔ وہ رک رک کر بول رہا تھا۔۔۔
اب میرے اندر کا سارا انتظام اس کمبخت دل نےسنبھال رکھا ہے۔۔۔ وہ قہقہ لگا رہا تھا۔۔۔
منسا حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ منسا کی آنکھوں کی نمی صاف واضح تھی۔۔۔
دیکھو۔۔۔ دماغ ۔۔ ابھی بھی کبھی کبھی ۔۔۔ قید خانے ۔۔ کی چھوٹی سی کھڑکی سے چیخ چیخ کے دل کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ یہ ۔۔ نہیں ۔۔ ٹھیک۔۔۔ وہ تھوڑا سا آگے ہوا تھا۔۔۔
آنکھوں میں نمی اس کے بھی تھی۔۔۔ مرد مضبوط جسم کا مالک ضرور ہوتا ہے۔۔۔ لیکن دل اس کا بھی اسی مٹی سے سینچا گیا تھا۔۔۔ جس سےعورت کا۔۔۔
یہ الگ بات ہے کہ۔۔۔ عورت آنسو گال پر گرا کر سکون پا جاتی ہے۔۔۔ لیکن مرد کو اپنے آنسو بھی پی کر دل پر ہی گرانے پڑتے ہیں۔۔۔ اسی لیے تو دل کا دورہ پڑنے کی شرح میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے۔۔۔
منسا ایک دم ساکت ہو گٸ تھی۔۔۔ اس کے بعد کوٸی بات کرنے کو تھی ہی نہیں۔۔۔
وہ ایسے ہی لاش کی طر ح اٹھی تھی۔۔۔ اور چل دی تھی۔۔۔ جبکہ زرداد اپنے سر کو جھکاۓ۔۔۔ زمین کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
❤💌❤❤❤❤
تم ۔۔میرے ساتھ جاٶ گی یا ۔۔ احمد کے ساتھ نکلو گی۔۔۔ حیدر آباد کے لیے۔۔۔ کار میں بیٹھا وہ اپنے کوٹ کے آگے والے بٹن کو کھول رہا تھا۔۔۔ ڈراٸیور اس کے حکم کے انتظار میں ۔۔ سٹیرنگ پرہاتھ رکھے بیٹھا تھا۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔ تم جا رہے ہو دانین کی شادی۔۔ پہ۔۔۔ حیرت کے سمندر میں غوطے لگاتی ہوٸی اشعال کی کی آواز ابھری تھی۔۔
میں نہیں جاٶں گا تو شادی کیسے ہو گی۔۔۔ قہقہ لگایا تھا۔۔۔
بکواس مت کرو۔۔۔ دیکھو تم مت جاٶ۔۔۔ میں تمہیں ایسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔۔۔
روہانسی آواز میں ۔۔ اشعال نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔
تم اپنے مشورے اپنے پاس رکھو۔۔۔ بولو آوں تمہیں لینے۔۔۔ سن گلاسز لگاتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
شام کو دانین کی مہندی تھی۔۔۔ ابھی چار بج رہے تھے۔۔۔
نہیں تم جاٶ میں آ جاوں گی۔۔۔ احمد ابھی آتے ہوں گے آفس سے۔۔۔ اشعال کی آواز میں بھاٸی کی محبت کی نمی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ پھر آو۔۔۔ میں جا رہا ہوں ۔۔ اس نے ڈراٸیور کو حیدر آباد نکلنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
اور خود سیٹ سے ٹیک لگا کر مسکرا رہا تھا۔۔۔
❤💌💌💌❤❤❤❤❤
وہ ۔۔جناب بھی ۔۔ پہنچ گۓ ہیں۔۔۔ منال نے اس کے سر پر دوپٹہ سیٹ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
کون۔۔۔ زری۔۔۔ بہت گھٹی سی آواز نکلی تھی۔۔۔ دانین کا رنگ ایک دفعہ زرد پڑا تھا۔۔۔
جی جناب۔۔ وہی۔۔ اشعال نے تو بہت روکا۔۔ اسکو۔۔۔ پر تمہیں تو پتہ ہے۔۔۔ ہر وہ کام کرتا جس سے کوٸی روک دے اسے۔۔۔
منال اب پیچھے ہو کر اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
خیر تم پریشان کیوں ہو رہی ۔۔ بہت پیاری لگ رہی ہو قسم سے۔۔۔ منال نے محبت بھری نظروں سے دیکھا۔۔۔
نہیں ۔۔ تو۔۔۔ پریشان کیوں ہوں گی میں۔۔۔ وہ منال کے ساتھ ساتھ خود کو بھی سنا رہی تھی۔۔۔
منال کمرے سے چلی گٸ تھی۔۔۔ وہ اپنے آپ کو سامنے آٸینے میں دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ بہت حد تک مختلف لگ رہی تھی۔۔ نکھرا ہوا گندمی چہرہ ہلکا سا میک اپ۔۔ پھولوں کا زیور۔۔۔
پر آنکھیں ۔۔ چہرہ۔۔۔ ساکت۔۔۔ جزبات۔۔ احسات سے خالی۔۔۔
زرداد نے سب کچھ نوچ ڈالا تھا۔۔۔ کھرچ ڈالا تھا اس کے دماغ سے۔۔ محبت کے جزبے سے ایسے اعتبار اٹھا تھا۔۔ کہ ایک پل کو کبھی اسے زین کی محبت پر بھی یقین نہ آیا تھا۔۔
اس نے دوپٹہ سیٹ کرنے کے لیے بازو اوپر کیے تھے۔۔۔
بہت کچھ زرداد کی وجہ سے بدل گیا تھا سواۓ اس گھر کے۔۔۔ جو ہارون کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔۔۔
اسی گھر کے صحن میں ہر بار کی طرح اس دفعہ اس کی مہندی کے لیے سٹیج سجا تھا۔۔۔
پر اس دفعہ انتظام اتنا شاندار تھا ۔۔ کہ سب حیران تھے۔۔۔ زرداد نے کسی چیز کی کمی نہ رکھی تھی۔۔۔
باہر ساونڈ سسٹم پر پھر اونچی آواز میں وہی گانا بج رہا تھا۔۔۔
دانین نے انگلیاں اپنے کانوں میں گھسا دی تھیں۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤
وہ مہندی لگانے کے لیے سٹیج پر آیا ۔۔۔ تو سب لوگ۔۔۔ بے یقینی کے عالم میں اسکا یہ عمل دیکھ رہے تھے۔۔۔
زرداد نے مہندی اپنی انگلی کی پور سے اٹھا کر اس کی ہتھیلی پہ سجے پتے پر لگا دی تھی۔۔۔ پھرتھوڑا سا اس کے قریب ہوا تھا۔۔
یہ پہلی شادی ہو گی جس میں دلہے نے اپنی دلہن کو۔۔ مہندی لگاٸی ہے۔۔۔ بھاری آواز میں اس نے دانین کے کان کے قریب سرگوشی کی۔۔
دانین نے چونک کے اس کی طرف دیکھا تو اپنے مخصوص انداز میں آنکھ دباٸی۔۔۔ اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔۔۔
دانین نا سمجھی کی حالت میں اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔
کیا ہے اس کے ذہن میں۔۔۔ کیا کرنا چاہتا ہے۔۔۔ وہ اپنی سوچوں میں الجھ کر رہی گٸی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد۔۔۔۔
سب کی فرماٸش پر وہ گٹارتھامے اپنا وہی گانا گا رہا تھا۔۔۔۔
سانولی سلونی سی محبوبہ۔۔۔۔ گانے کے بول دانین کو زہر لگ رہے تھے۔۔۔
آنکھیں ۔۔ محبت سے بھر کے ۔۔ وہ بار بار کن اکھیوں سے دانین کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔
جس کے لیے اب یہاں بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
بہت اچھی لگ رہی ہو۔۔۔ اس کی آواز پر دانین نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔
وہ ابھی اندر آٸی ہی تھی۔۔۔ کچھ دیر پہلے ۔۔۔ اس کے گانے سے گھبرا کر۔۔۔
تم تم ۔۔نکلو ابھی اسی وقت۔۔۔ وہ ہڑ بڑا گٸ تھی۔۔۔ اس کے ایسے کمرے میں آنے پر۔۔۔ اور اس دن کا سارا منظر آنکھوں کے آگے گھوم گیا تھا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ گھبرا کیوں رہی ہو۔۔۔ جاتا ہوں۔۔ ابھی۔۔۔
ویسے بھی کل تم میرے پاس ہی ہوگی ۔۔۔ تو آج بے تابی نہیں دکھانی چاہیے۔۔۔ وہ شرارت سے ہنس رہا تھا۔۔۔
بکواس مت کرو اور نکلو یہاں سے نہیں تو میں تایا ابا کو آواز دے دوں گی۔۔۔
کوٸی نہیں سنےگا۔۔۔ سب ۔۔ باہر صحن میں ہیں۔۔۔
میں بھی جا رہا ہوں ۔۔ تمہیں کہنے آیا تھا رات بہت ہو گٸی ہے۔۔ ۔ تم سو جاٶ۔۔۔ کل نہیں سونے دوں گا۔۔۔ وہ قہقہ لگا رہا تھا۔۔۔ دانین کا ضبط سے رنگ سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔ نکلو ۔۔۔ میرے کمرے سے باہر اسی وقت۔۔۔۔ وہ چیخنے کے سے انداز میں کہہ رہی تھی۔۔۔
جا رہا ہوں۔۔۔ مسکراتا ہوا وہ باہر چلا گیا تھا۔۔۔
اور دانین نوچ نوچ کر اپنا زیور اتار رہی تھی۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤
کیا مزاق ہے یہ۔۔۔ زین اپنے سامنے پڑی ڈاٸیری اور انگوٹھی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
مذاق نہیں یہ حقیقت ہے۔۔۔
بڑے انداز سے مسکرایا تھا زرداد۔۔
تم نے ڈاٸری پڑھ لی ہے ۔۔۔ پتہ تو چل گیا ہو گا کہ کتنی محبت ہے اسے مجھ سے۔۔۔ گھمبیر۔۔ ۔۔ بھاری آواز۔۔۔ میں کہا۔۔۔
رات کے تین بجے وہ زین کے گھر اس کے ڈراٸنگ روم میں اس کے سامنے موجود تھا۔۔۔
زین کی اس سے پہلی دفعہ ملاقات ہو رہی تھی۔۔۔ دانین کیا کبھی کسی گھر والے نے بھی ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔۔۔ ہاں صرف اتنا پتہ تھا اس کو کہ شازر کا ایک چھوٹا بھاٸی بھی ہے۔۔۔ جو کراچی ہوتا ہے۔۔۔
اس کو یہی لگا کہ میں شاٸید اب اسے نا اپناٶں۔۔۔ اسی لیے خاموشی سے تمھارے پرپوزل کی ایکسپٹ کر بیٹھی تھی۔۔۔
کرسی کے دونوں بازوٶں پر اپنے بازو ٹکا کر وہ آگے کو جھک کر کہہ رہا تھا۔۔۔
زین کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا۔۔ ایک رنگ جا رہا تھا۔۔۔
لیکن درحقیقت ۔۔۔ وہ صرف اور صرف مجھ سے اور میں اس سے محبت کرتا ہوں کرتا رہوں گا۔۔۔ اور وہ بھی کرتی رہے گی۔۔۔ چاہے آپ اس حقیقت کے بعد بھی اسے اپنا لیں۔۔ اب زرداد کندھے اچکاتا ہوا پیچھے ہوا تھا۔۔۔
زین کیسے نا یقین کرتا۔۔۔ اس حقیقت کی نا صرف ڈاٸری ہی ثبوت تھی بلکہ۔۔ دانین کا اس کے ساتھ رویہ بھی ثبوت تھا۔۔۔
زین کو کبھی اپنے لیے اپناٸت کا احساس نہیں ہوا تھا اس کی طرف سے۔۔۔
آپ ابھی کال کریں گے۔۔۔ چاچو کو اور منع کر دیں۔ ۔۔۔ میری اور دانین کی یہ ہمبل ریکوسٹ ہے آپ سے۔۔۔بڑے التجا کے انداز میں زرداد نے کہا تھا۔۔ زین نےایک نظر انگوٹھی کیطرف ڈالی۔۔۔
اور اس کی نظروں کےسامنے دانین انگوٹھی اتار کر زرداد کو پکڑاتی ہوٸی نظر آٸی۔۔۔
تو تم دونوں نے میرے ساتھ آج ہی یہ کیوں کیا۔۔۔ پہلے بھی تو بتا سکتے تھے۔۔۔ زین نےسرخ چہرے کےساتھ کہا۔۔۔
یہ تم دانین سے ہی پوچھنا ۔۔ مجھے تو اس نے جیسا کہا میں نےکیا۔۔۔ پہلے وہ چپ چاپ ۔۔ محبت قربان کر رہی تھی۔۔ میں بھی اس کی خوشی میں خوش ہو گیا۔۔لیکن ۔۔۔ اب برداشت نہیں ہوتا۔۔۔ لیکن ابھی بھی اگر آپ صبح بارات لے کر آ جاتے ہیں تو وہ چپ چاپ شادی کر لےگی۔۔ پر۔۔۔خوش نہیں رہے گی۔۔۔ زرداد بڑے دکھ کو ظاہر کرتے ہوۓ بولا
مجھے بات کرنی ہے دانین سے۔۔۔ زین نے لب بھینچے۔۔۔۔
ہاں تو کریں نہ۔زرداد نے انگلی اپنے ہونٹوں پہ رکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
زین نےاپنےفون سے دانین کو کال ملاٸی تھی۔۔۔ بِل جاتی رہی پر اس نے فون نہیں اٹھایا تھا۔۔۔
پھر ملاٸی۔۔۔ پر وہ کال رسیو نہیں کر رہی تھی۔۔
کال نہیں اٹھاۓ گی تمھاری۔۔ زرداد دھیرے سے بولا۔۔۔
اب زرداد کال ملا رہا تھا۔۔ ۔۔ ہاں۔۔۔ دانین نے کال اٹھا لی تھی۔۔۔
زین نے چونک کر دیکھا۔۔۔
ہاں ۔۔۔ مان گیا ہے۔۔۔ تم کیوں رو رہی ہو۔۔۔ نہیں لے کر آۓ گا وہ بارات۔۔۔ زرداد دانین کو چپ کروا رہا تھا۔۔۔ بات کرو گی ۔۔ زین سے۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ زرداد نے کال کاٹی۔۔ زین کی طرف دیکھا۔۔۔
نہیں کرنا چاہتی بات۔۔۔ زرداد نے کندھے اچکاۓ۔۔۔
ڈاٸری میں۔۔۔ زرداد کے لیے۔۔۔ دانین نے اتنا کچھ لکھا ہوا تھا ۔۔ کہ وہ جان لینے کے بعد ۔۔ زین جیسا شریف انسان کبھی بھی اس شادی کے لیے راضی نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔
زین کے موباٸل سے زرداد نے اسے سکندر کا نمبر ملا کر دیا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤
کیا کہہ رہے ہو یہ تم۔۔۔ سکندر کو جیسے دھکا لگا تھا۔۔۔ زین کی بات پر وہ کہہ رہا تھا کہ وہ دانین سے شادی نہیں کرسکتا۔۔۔وہ صبح بارات نہیں لاۓ گا۔۔
لیکن کیوں ایسا کر رہے تم ۔۔۔۔ سکندر کی آواز لڑ کھڑا گٸ تھی۔۔۔
آپ دانین کی شادی زرداد سے کر دیں۔۔زین نے کال کاٹ دی تھی۔۔۔
زین دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
اچھا سنو۔۔۔ یار ۔۔رات بہت ہو گٸ ہے۔۔۔ کیا یہ رنگ میں خرید سکتا ہوں۔۔۔
زین نے بے یقینی سے دیکھا۔۔۔ کمینگی کی انتہا تھی ویسے۔۔۔
وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔ پھر ایک بھاری رقم کا چیک اسے پکڑا کر وہ انگوٹھی کو اپنی جیب میں رکھ رہا تھا۔۔۔
اپنے کوٹ کو اٹھ کر بڑے انداز میں جھٹکا دیا۔۔۔ اور گاڑی کی چابی اٹھاتا باہر نکل گیا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤💌❤💌
موباٸل کی بل بج رہی تھی۔۔۔ زین کا نمبر دانین کے فون پر چمک رہا تھا۔۔۔اور وہ ساتھ والی سیٹ پر پڑے موباٸل کو دیکھ کر مسکرایا۔۔۔
فون اٹھایا اور کال کاٹ دی۔۔۔
وہی مسکراہٹ ۔۔ ہونٹوں پہ تھی۔۔۔
دانین کو مہندی لگانے کے بعد وہ اس کے کمرے میں گیا تھا۔۔۔ اور تکیے کے پاس پڑے اس کو موباٸل کو آف کر کے اپنی جیب میں رکھنے میں
صرف چند سکینڈ ہی لگے تھے۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: