Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 12

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 12

–**–**–

اسی لیے ۔۔۔ اسی۔۔ لیے میرا دل شروع سے اس رشتے پر آمادہ نہیں تھا۔۔۔ سکندر کندھے گرا کر بیٹھے تھے۔۔۔۔
ہارون کا چہرہ اس سے بھی زیادہ پریشان حال تھا۔۔۔
زرداد نے کن اکھیوں سے سب کے چہروں کا جاٸزہ لیا۔۔۔۔۔۔ سدرہ کا رو رو کر برا حال تھا۔۔۔
وہ۔۔۔ خبیث ۔۔۔ کہتا۔۔۔ دانین کی شادی زرداد سے کر دیں۔۔۔ کوٸی وجہ بھی نا بتاٸی۔۔۔ سکندر نے زرداد کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔
زرداد ایک دم سیدھا ہوا اور ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔۔
دانین ابھی سو رہی تھی۔۔۔ اسے کسی نے نہیں بتایا تھا۔۔۔
تو ۔۔۔ چاچو۔۔۔ آپ ۔۔ پھر کیوں ۔۔۔ ہو رہے پریشان۔۔۔ میں حاضر ہوں۔۔۔ زرداد نے دھیمے لہجے میں۔۔۔ مگر رک رک کر کہا۔۔۔
سکندر نے زرداد کی طرف مشکور ہوتے ہوۓ دیکھا۔۔۔
اوہ۔۔۔ تو ۔۔ چپ ۔۔ بیٹھ۔۔ گلوکار ۔۔۔ صاحب ۔۔ یہ ہمارے گھر کا معاملا ہے ہم دیکھ لیں گے سب۔
ہارون کو زرداد کا یوں بولنا۔۔۔ اچھا نہیں لگا تھا
۔۔ چلو۔۔۔ چلتے ہیں ۔۔۔ سورج نکلنے سے پہلے۔۔۔ ان کی طرف۔۔۔ پتہ تو چلے ۔۔۔ آخر کو مسٸلہ کیا ہے۔۔۔ ہارون شازر کی طرف دیکھتے ہوۓ اٹھے تھے۔۔۔
زرداد نے سکندر کی طرف ایسے دیکھا۔۔۔ جیسے وہ بچپن میں کھلونا مانگنے کے لیے دیکھتا تھا۔۔۔ اسے پتہ تھا سکندر دل ٶ جان سے چاہتے کے دانین کی شادی زرداد سے ہو۔۔۔وہ اپنی اکلوتی بیٹی کو اپنے گھر میں ہی رکھنا چاہتے تھے۔۔ اور زرداد ان کا لاڈلا تھا۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔ میں کہیں نہیں جاوں گا۔۔۔ سکندر نے دو ٹوک انداز میں کہا۔۔۔ دانین کا نکاح زرداد سے ہی ہو گا۔۔۔ سکندر نے دو ٹوک بات کی۔۔۔ وہ آج ایسا کر رہا۔۔۔ کل اگر شادی کے بعد میری بیٹی کو چھوڑ دے تو کیا کروں گا میں۔۔۔
بس کل دانین ۔۔زرداد کی ہی دلہن بنے گی۔۔۔ سکندر اب غصے میں تھے۔۔۔
ہارون بھی چپ سے ہو گۓ تھے۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤
وہ چھت پر آ گیا تھا۔۔۔ دانین کے فون پر ابھی بھی۔۔۔ زین کی کال آ رہی تھیں۔۔۔
اس نے ایک دو دفعہ کال کاٹی تھی۔۔۔اب بجتے فون کو بند کر دیا تھا۔۔۔
سگریٹ ۔۔۔ ہاتھوں میں سلگ رہی تھی۔۔۔ آنکھوں میں ۔۔۔ نیند نہیں تھی۔۔۔ ویسے بھی ایسے عالم میں نیند کس کمبخت کو آنی تھی۔۔۔
سویا۔۔۔ اگر تو سب پلٹ نا جاۓ کہیں۔۔۔ اس خوف نے ہی جگا رکھا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
بابا۔۔۔ بابا۔۔۔ زین ایسا نہیں کر سکتا۔۔۔ میں جانتی ہوں اسے ۔۔۔ آپ رکیں ۔۔۔ رکیں ۔۔۔ میں اس سے بات کرتی ہوں۔۔۔ وہ بوکھلاٸی سی لگ رہی تھی۔۔۔ سو کر کیا اٹھی یہاں تو دنیا ہی بدل گٸ تھی۔۔۔
سدرہ ماتھا چوم چوم کے بلاٸیں لے رہی تھی۔۔۔ اور بابا نے آ کر سر پر بم پھوڑ دیا کہ زرداد سے ہوگا نکاح۔۔۔
بابا اپنا موباٸل دیں۔۔۔ جلدی۔۔۔ میرا موباٸل کل رات سے نہیں مل رہا مجھے۔۔۔۔ اس کی معصوم سی شکل پریشان حال لگ رہی تھی۔۔۔
تم نہیں کرو گی اس سے بات سمجھی تم۔۔۔ زرداد سے ہی ہو گی شادی۔۔۔ پہلی دفعہ وہ اتنی سختی سے بات کر رہے تھے۔۔۔
وہ غصے میں باہر نکلے تھے۔۔۔ دانین اب پاس کھڑی سدرہ کی طرف پلٹی تھی۔۔۔
امی مجھے موباٸل دیں ۔۔۔ اپنا وہ کمر پر ہاتھ رکھے پریشان حال کھڑی تھی۔۔۔ ہونٹوں پر بار بار زبان پھیر رہی تھی۔۔۔
سدرہ نے اپنا موباٸل آگے کیا تو اس نے جھپٹ کر موباٸل پکڑا تھا۔۔۔
کانپتے۔۔ ہاتھوں سے زین کا نمبر ڈاٸل کیا۔۔۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔۔ تڑپ کے وہ بولی تھی۔۔۔ زین ۔۔۔ یہ بابا کیا کہہ رہے ہاں۔۔۔۔ سانس اکھڑا ہوا تھا۔۔۔ وہ کہہ رہے ۔۔۔ کہ ۔۔ کہ۔۔۔ تم آج بارات لے کر نہیں آ رہے ہو۔۔۔۔وہ اب پریشانی سے اپنے ہونٹوں کو کچل رہی تھی۔۔۔
تو۔۔۔ یہ ہی تو تم اور زرداد چاہتے تھے۔۔۔ دھماکا ہی تو کر ڈالا تھا۔۔۔
کیا۔۔۔ کیا۔۔ کہا تم نے۔۔۔ میں ۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آٸی۔۔۔ دانین نے پریشانی سے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
تمھاری ساری ڈاٸری پڑھ چکا ہوں میں۔۔۔۔ جو تم نے زرداد کی محبت میں لکھی ہے۔۔۔ تمہارے ساتھ چار سال پڑھا ہوں ۔۔۔ ایک نظر میں۔۔۔ پہچان لی تمھاری راٸٹنگ۔۔۔ وہ دکھ بھری آواز میں بول رہا تھا۔۔۔
ماتھے پہ ٹھنڈا پسینا آ گیا تھا۔۔۔۔ تو زرداد ہارون ۔۔۔ تم وہ کر جاتے ہو ۔۔ جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا۔۔۔
وہ ڈاٸری ۔۔ میں نے ہی لکھی ۔۔ تھی۔۔۔ پر ۔۔۔ وہ میری زندگی کی بہت بڑی ۔۔۔ غلطی تھی۔۔۔ زین۔۔۔ پلیز۔۔۔ میں ایسا کچھ نہیں چاہتی۔۔۔ میں تمہیں سب بتا دوں گی۔۔۔ پہلے تم بارات لے کر آو۔۔۔۔
نہیں دانین ویسے بھی بہت دیر ہو گٸ ہے۔۔۔ اب ۔۔۔ اور غلطی ۔۔۔ تھی۔۔۔ یا محبت۔۔۔ میں تم سے شادی نہیں کر سکتا اب۔۔۔
تو تمہیں مجھ پر اتنا سا بھی اعتبار نہیں رہا۔۔۔ تم میری بات تو سنو ۔۔۔ پہلے۔۔۔ یہ سب سارا کچھ زرداد کا۔۔۔ وہ گھوم گھوم کر اسے بتانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
پر اس کی بات ابھی پوری نہیں ہوٸی تھی کے زین نے فون بند کر دیا تھا۔۔۔
وہ دوبارہ کال ملا رہی تھی۔۔۔ اس دفعہ چہرہ سرخ تھا۔۔۔
اس نے فون بند کر دیا تھا۔۔۔ وہ ایک دم کرب سے مڑی تھی۔۔۔ تب اس کی نظر پاس ساکت کھڑی سدرہ پر پڑی۔۔۔
دانین ۔۔۔ تم ۔۔۔ مان کیوں نہیں لیتی۔۔ کہ تم ۔۔ صرف زرداد سے پیار کرتی ہو۔۔۔سدرہ کا لہجہ اور چہرہ دونوں سپاٹ تھے۔۔۔
امی۔۔۔ یہ۔کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔ اس نے جھنجلا کے سدرہ کی طرف دیکھا ۔۔۔
میں بہت پہلے سے جانتی۔۔۔ جب اس کے جانے پہ تم بیمار ہوٸی تھی۔۔۔ رات رات بھر اسی کا نام پکارتی تھی۔۔۔ سدرہ کے ماتھے پہ بل تھے۔۔۔
اب جب ہو رہی شادی تو کیا مسٸلہ تمہیں۔۔۔ بخش دے ہماری عزت کو۔۔۔ گھر مہمانوں سے بھرا پڑا ہے۔۔۔سدرہ ۔۔ اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولی۔۔۔
اس نے سر پر ہاتھ رکھا اور بیڈ پر بیٹھتی چلی گٸ ۔۔۔ تو آخر۔۔ کار ۔۔ تم نے کر دکھایا ۔۔۔ زرداد۔۔ میری راہ فرار کے سارے راستے بند کر دیے۔۔۔میں تمہیں زندگی بھر معاف نہیں کروں گی۔۔۔
تم سے کی گٸ محبت کا خمازہ مجھے آج تک بھگتنا پڑ رہا ہے۔۔۔ وہ ہاتھوں میں چہرہ دے کر رو دی تھی۔۔
۔ ❤❤❤❤❤❤❤
جس شادی ہال میں ۔۔۔ اس نےآج زین کے ساتھ بیٹھنا تھا۔۔۔ آج زرداد کےپہلو میں بیٹھی تھی۔۔۔۔زرداد سمیت ۔۔۔ سب لوگ ایسے خوش تھے جیسے سب کی دلی مراد پوری ہو گٸ ہو۔۔۔
نرمل پاس بیٹھی اس کا ویسے ہی بنا کچھ معلومات کے دماغ چاٹے جا رہی تھی۔۔۔
میں سمجھی تھی شکل کا ہی اتنا اچھا ہے یار۔۔۔ یہ تو دل کا بھی بہت زبردست نکلا۔۔۔
دانین نے اسے گھور کر دیکھا۔ ۔۔۔ تمہیں کیا ہوا ہے۔۔ تم کون سا زین سے محبت کرتی تھی۔۔۔ اس کو دیکھو تو ۔۔۔ ہاۓ۔۔ اس کو تو سچ میں سانولی سلونی مل گٸ۔۔۔ نرمل اس کے گھر والوں سے بھی زیادہ خوش تھی۔۔۔ ہر شخص خوش تھا۔۔۔
اسے سب اپنے دشمن لگ رہے تھے۔۔۔ وہ تو پاس ایسے سینہ چوڑا کر کے بیٹھا۔۔۔ تھا۔۔۔ ہر میدان فتح کر چکا ہو جیسے۔۔۔
سکندر نے سر پر کھڑے ہو کر اس سے ساٸن لیے تھے۔۔۔
اس نے سب کو قابو کر لیا تھا۔۔۔ کیا چیز تھا وہ۔۔۔ جو چاہتا پا لیتا تھا۔۔۔ ہر چیز جو اسے چاہیے ہوتی تھی اس کی ضد بن جاتی تھی۔۔۔ میں بھی اس کی ضد بن گٸ تھی ۔۔۔ اور کچھ نہیں۔۔۔ دل نا جانے کیا کیا سوچے جا رہا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
اس سے پہلے کہ وہ کمرے میں آتا ۔۔۔ وہ جلدی جلدی سب کچھ بدل چکی تھی۔۔۔ منہ کو رگڑ رگڑ کے دھو ڈالا تھا۔۔ آنسو اب بار بار دھونے کا کام کر رہے تھے۔۔۔ باہر نکل کر۔۔۔ اس کے کمرے کا جاٸزہ لے رہی تھی۔۔۔ کمرہ ایسے پھولوں سے لیس تھا۔۔۔
ہر پھول اس پر ہنس رہا تھا۔۔۔ زور زور سے۔۔
بیڈ پر بیٹھنے کو بھی دل نہیں تھا۔۔۔ سامنے لگے صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔ سکندر کی باتیں ذہن میں گونج رہی تھیں۔۔۔
مجھے اور دکھ مت دے دانین۔۔۔ لوگوں کو جواب دیتے دیتے تھک گیا ہوں۔۔۔
دروازہ پہ دستک ہوٸی تھی۔۔۔ اس نے جلدی سے صوفے پر رکھیں ٹانگیں نیچے کی تھیں۔۔۔
آنکھوں میں شرارت۔۔۔ لبوں پہ مسکراہٹ لیے۔۔۔ وہ فتح کا پرچم لہرا رہا تھا۔۔۔
دانین نے اپنے پیروں کی طرف دیکھنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔ ضبط۔۔۔ کا احساس اس کے چہرے سے صاف واضح تھا۔۔۔
اسکے ساتھ آ کر صوفے پر جیسے ہی بیٹھنے لگا تو دانین تیزی سے اٹھنے لگی۔۔۔
پر بازو زرداد کے ہاتھ میں تھا۔۔۔ بیٹھو ۔۔۔ یہاں۔۔۔ ایک جھٹکا دیا اسکا نازک وجود صوفے پر ڈھے گیا تھا۔۔۔
دانین نے غصے میں بھری نظر ڈالی ۔۔۔ اس پر کوٸی اثر نہیں تھا۔۔ مسکرا رہا تھا۔۔۔
ہاتھ دو اپنا۔۔۔ اپنی ہنسی کو دباتے ہوۓ زرداد نے کہا۔۔۔ وہ ساکت بیٹھی رہی۔۔۔
میں۔۔۔۔ کہہ ۔۔۔ رہا۔۔۔ ہوں۔۔۔ ہاتھ دو۔۔۔ اپنا۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ زبردستی پکڑ رہا تھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ گڈ ۔۔۔ اس کے ہاتھ کو پکڑ کر اب اس کی ہتھیلی کھول دی تھی۔۔۔ اور دوسرے ہاتھ سے جیب میں سےکچھ تلاش کیا۔۔۔
کہاں ہے۔۔۔ ہاں مل گٸ۔۔۔ شرارت سے ہنسا۔۔۔
کہا تھا نا۔۔۔ یہ امانت ہے میرے پاس۔۔۔ صیح وقت پر ۔۔ اپنے ہی ہاتھوں سے پہناٶں گا۔۔۔ آنکھ دباٸی۔۔۔
دانین نے حقارت اور نفرت سے اس کی طرف دیکھا اور ایک جھٹکے سے انگوٹھی اتار کر پھینک دی۔۔۔ تم میری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا ہو۔۔۔ دانین غصے سے اٹھی تھی۔۔۔
اور۔۔۔ کچھ۔۔۔ اپنے سینے پر ہاتھ باندھے ۔۔ ٹانگ پر ٹانگ رکھے۔۔۔بڑی پر شوق نظروں سے دانین کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ ایسے جیسے ایک ایک لمحہ اپنے اندر اتار رہا ہو۔۔۔
خود غرض ہو۔۔۔ ظالم ۔۔۔ ہو ۔۔۔ جھوٹے ۔۔۔ دھوکے باز ہو۔۔۔۔۔ دانین دانت پیس کر سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ کہہ رہی تھی۔۔۔
اور کچھ ۔۔۔ ہنوز وہی انداز تھا۔۔۔
یہ مت سمجھنا۔۔۔ تم جیت گۓ ہو۔۔۔ میں کبھی۔۔۔ تمھارے ساتھ خوش نہیں رہوں گی۔۔۔ اور نا رہنے دوں گی تمہیں۔۔۔ دانین اب چیخنے کے سے انداز میں ۔۔ کہہ رہی تھی۔۔۔
اور کچھ۔۔۔ وہ پھر سے بولا تھا۔۔۔ دانین کو دیکھنے کی دلچسپی ہنوز وہی تھی۔۔۔ وہ اب خاموش ناک اور منہ پھلاۓ کھڑی تھی۔۔۔
بس اور کچھ تو نہیں کہنا تمہیں۔۔۔ دونوں ہتیھیلوں کو۔۔۔ بند کر کے ہونٹوں پہ رکھ کر وہ بس اسے دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔۔
نیلے رنگ کے ڈھیلا سا کرتا پہن رلکھا تھا ۔۔اور ہم رنگ دوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا۔۔۔
آنکھوں میں ابھی بھی کاجل تھا۔۔۔ شفاف بچوں جیسی جلد تھی۔۔۔
وہ زرداد کے دل کو بے تاب کر دینے کی حد تک حسین لگ رہی تھی۔۔۔
دانین کو اس کے ایسے دیکھنے سے الجھن ہونے لگی تھی۔۔۔ کیا ہے اب کچھ بول کیوں نہیں رہا۔۔۔
پھر وہ صوفے سے اٹھا تھا۔۔۔ وہ اپنے آپ کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی۔۔۔ زرداد کو ہنسی آ رہی تھی۔۔۔ کیونکہ جیسے ہی وہ صوفے سے اٹھا تھا۔۔۔ وہ ایک دم سے تھوڑا سا کانپی تھی۔۔۔ پھر اپنے چہرے پر سختی کے آثار اتنی جلدی لے کر آٸی ۔۔ کہ زرداد کو یہ نا لگے وہ ڈر گٸ ہے۔۔۔
دانین تم نے جو بھی کہا۔۔۔ میں نے ناصرف سنا ۔۔۔ بلکہ قبول بھی کیا۔۔۔ اس کے بلکل سامنےاپنے مخصوص انداز میں ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔۔
دانین نے نظریں دوسری طرف پھیر لی تھیں۔۔۔
میں کیا کروں۔۔۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہو گیا۔۔۔ تھا۔۔ کسی اور کا ہوتے کیسے دیکھ لوں۔۔۔ جب کہ یہ جانتا ہوں تم صرف اور صرف مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔۔ تھوڑا سا قریب ہو ا تو
وہ ایک دم سے پیچھے ہوٸی۔۔۔ آنکھوں۔۔۔ میں اپنی دوسری دفعہ کی تزلیل کے بھی آثار تھے۔۔۔
غلط ۔۔ غلط۔۔۔ لگتا ہے تمہیں ۔۔۔ زری۔۔۔ انفیکٹ ۔۔ تمہیں غلط لگتا ہی نہیں۔۔۔ تم ہر کام کرتے بھی غلط ہو۔۔۔ وہ دانت پیس کر کہہ رہی تھی۔۔۔
تم نے پہلے مجھے اپنے جھوٹے پیار میں پھنسایا۔۔۔ وہ غلط۔۔ پھر۔۔۔ مجھے دھتکارا۔۔۔ وہ غلط۔۔۔ غم اور غصے سے ملی جلی آواز تھی۔۔۔
پھر دوبارہ میرے ساتھ جھوٹا پیارا جتلایا وہ بھی غلط۔۔۔ اور اب مجھے جس طرح۔۔۔ اپنایا۔۔۔ وہ بھی غلط۔۔۔ وہ اب چیخ رہی تھی۔۔۔
تو تم میری محبت پر کب اعتبار کرو گی۔۔۔ تھکی سی آواز تھی۔۔۔ اب وہ پاس بیڈ پر ڈھے سا گیا تھا۔۔۔ لیکن چہرے پر سب کچھ پا لینے کے بعد اس کا پیار نا پانے کا کرب تھا۔۔۔
دانین نےکچھ بھی بولنا گوارا نہیں کیا۔۔۔
اچھا ادھر پاس تو بیٹھو۔۔۔ ہاتھ پکڑ کے بیڈ پر بیٹھانا چاہا تو ۔۔۔ دانین نے زور سے ہاتھ جھٹکا تھا۔۔۔
مجھے ہاتھ مت لگانا زری۔۔۔ غصے سے کہا۔۔۔۔
بات سنو میری۔۔۔ پیار سے دانین کے ہاتھ کو پکڑا۔۔۔
چھوڑو۔۔۔ ابھی چھوڑو۔۔۔ وہ بری طرح ۔۔۔ اس سے اپنا ہاتھ چھڑوا رہی تھی۔۔۔
کیا مسٸلہ۔۔ کیا ہے ۔۔۔ تمھارے ساتھ۔۔۔ زرداد کو ایک دم چڑ ہوٸی تھی۔۔۔ ایک جھٹکے سے اٹھ کر کھڑا ہوا تھا۔۔۔
پورے ۔۔۔ چھ سال ہو گۓ ۔۔۔ تمھارے پیچھے خوار ہو رہا ہوں۔۔۔ آواز میں سختی در آٸی تھی۔۔۔
زرداد ہارون تمھاری یہ چھ سال کی خواری ۔۔۔ میرے ایک آنسو۔۔ کی قیمت بھی ادا نہیں کر سکتی ۔۔۔ آواز غصے سے اکنپ رہی
تو پھر تم بتاٶ۔۔۔ خود ہی بتاٶ۔۔۔۔ کہ میں کیا ایسا کروں۔۔۔ میں۔۔۔ تم سے بہت محبت کرنے لگا ہوں۔۔۔ اب آواز میں پھر سے التجا تھی۔۔۔ کیا چیز ہو گٸ تھی وہ اس کے لیے ۔۔۔ کہ وہ ساری دنیا سے لڑ جانے والا اس ایک لڑکی کے آگے بس کیوں ہو جاتی تھی اس کی۔۔۔
تم ۔۔۔ تم۔۔۔ محبت کرو گے۔۔۔ اگر تم مجھ سے محبت کرتے تو میرا میری خواہش کا احترام کرتے۔۔۔ یوں۔۔۔ میری ۔۔۔ نادان محبت کو زریعہ بنا کر سب کو دھوکا نا دیتے۔۔۔
تم نے دوسری دفعہ ۔۔۔ مجھے ۔۔ میری ہی نظروں میں گرا دیا ہےزرداد۔۔۔ میں شاٸید اب کبھی تمھارے لیے میرے دل میں بھری نفرت کو بدل نہیں پاٶں گی۔۔۔
مجھے کیا کرنا ہو گا۔۔۔ تمھارا دل جیتنے کے لیے۔۔ آنکھیں ۔۔۔ بہت دن نہ سونے ۔۔۔ اس کے اتنا قریب ہونے۔۔۔ اور اس کی نفرت کی تپش کے خمار سےبھری پڑی تھیں۔۔۔ اس کے بلکل سامنے اور قریب ہو کر ٹوٹے سے لہجے میں پوچھا۔۔۔
مجھے چھوڑ دو۔۔۔ اور سب کو جا کر بتاٶ۔۔۔ زین ایسا نہیں تھا۔۔۔ یہ سب تم نے کیا۔۔۔ وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ کہہ رہی تھی۔۔۔ اور اس کا چہرہ اتنا قریب ہونے کی وجہ سے تھوڑی سی پیچھے ہوٸی۔۔۔
دونوں شرطیں نا منظور۔۔۔ زرداس کا لہجہ پھر سے سخت ہو گیا تھا۔۔۔ بڑے رعب سے کہا۔۔۔
دراصل بات یہ ہے کہ۔۔ زرداد نے اپنا کان کھجایا۔۔۔
۔۔۔ شروع سے کرتا۔۔۔ اپنے دل کی ہوں میں۔۔۔ ایک دم سے دانین کو کمر سے پکڑ کر ساتھ لگایا تھا۔۔۔ دانین کا اس افتاد پر جو اچانک ہوٸی منہ کھولے کا کھولا رہ گیا۔۔۔۔
کب سے تمھاری بک بک سن رہا ہوں۔۔۔ اب بس چپ۔۔۔ دانین کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھ کر کہا۔۔۔جب کے نظریں۔۔۔ اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔
زری ۔۔۔ چھوڑو مجھے اسی وقت۔۔۔ دانین کا رنگ سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔ ماتھے پہ بل پڑ گیے۔۔۔۔کمر پر سے اس کے ہاتھ کو جھونجوڑتی تو کبھی اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ پیچھے کو دھکیلتے ہوٸی وہ بول رہی تھی۔۔۔
چھوڑنے کے لیے اتنے گیم کھیلے بھلا میں نے۔۔۔ وہ اب واقعی ہوش کھو رہا تھا۔۔۔ اس کی آواز اس کےاندر کا حال بتا رہی تھی۔۔۔ دانین کے اتنے دھکے مکوں کا کوٸی اثر ہی نہیں تھا۔۔۔
لیِو می۔۔۔ وہ چیخنے کے انداز میں زور سے بولی۔۔۔آنکھیں زورسے بند تھٕی۔۔۔زرداد نے غور سے اس کے چہرے کو دیکھا۔۔۔ سواۓ نفرت کے کچھ نہیں تھا۔۔۔ اس نے تو یہ سوچا تھا جب اتنا قریب کرے گا اسے تو اس کی قربت اس کی کھوٸی ہوٸی محبت لٹا دے گی۔۔۔ لیکن وہ تو۔۔۔ بری طرح دھکے دینے لگی تھی اسے۔۔۔ دانین پر تو اس کی قربت کا کیا ہی اثر ہونا تھا ۔۔ ہاں البتہ اس کی اپنی حالت اس کے اتنا قریب ہونے سے غیر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔ اپنی تیز ہوتی سانسوں ۔۔۔ کے ڈر سے۔۔۔ زرداد ایک دم اسے چھوڑ کر باہر نکل گیا تھا۔۔۔ ابھی اگر ایسا نا کرتا۔۔۔۔ تو پھر سے غلطی ہی کرتا۔۔۔ جو ہمیشہ سے کرتا ہی آ رہا تھا۔۔۔
دانین اپنے بازو سہلا رہی تھی۔۔۔ آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تھے۔۔۔۔ زرداد کو شاٸید اندازہ بھی نہیں تھا اپنے خمار میں کتنی بے دردی سے پکڑ رکھا تھا اسے۔۔
تم کیا جانو۔۔۔ دوسروں کو بھی تکلیف ہوتی ہے ۔۔۔ صرف تمھارے پاس ہی دل نہیں دوسرے بھی رکھتے ہیں۔۔۔ دانین نے نفرت سے دروازے کی طرف دیکھ کٕ سوچا جہاں سے۔۔۔ محترم ۔۔ اتنے رعب سے گۓ تھے۔۔۔ اتنا کچھ غلط کردینے کے بعد چاہتا کہ میں اپنا دل صاف کر کوں۔۔۔
تم تو مجھے عزت تک نہیں دیتے تو سچی محبت کیا دو گے۔۔۔
صوفے پر سمٹ کر لیٹ گٸ تھی ۔۔۔ارد گرد۔۔۔ چادر کو لپیٹ کر۔۔۔
سگریٹ کو پھونک کر وہ تقریباََ سورج کی کرنوں کے ساتھ ہی کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔
اس کو سامنے صوفے پرسوۓ دیکھتے کب اس کی آنکھ لگی پتہ ہی نا چلا۔۔۔
❤❤❤❤❤
صبح جب آنکھ کھلی تو ۔۔۔ گیارہ بج رہے تھے۔۔۔ کمرہ بلکل خالی تھا۔۔۔پھولوں کی ڈھیروں پتیاں ۔۔۔۔ اس کا منہ چڑا رہی تھیں۔۔۔ کچھ دیر ۔۔۔ لیٹا کچھ سوچتا رہا۔۔۔ پھر اتر کر نیچے آ گیا۔۔۔۔
سامنے سب کے ساتھ سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔۔۔ اور سب اسے سمجھا رہے تھے۔۔۔ جیسے ہی زرداد آیا۔۔۔ سب نے مسکرا کر اس کا استقبال کیا۔۔۔۔ بڑے مزے سے جا کر دانین کے بلکل ساتھ بیٹھ گیا تھا۔۔۔
دانین نے حیران ہو کر اس کی بے شرمی کی انتہا دیکھی۔۔۔
کیا ہے۔۔۔ حق رکھتا ہوں۔۔۔ اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
سب کو بتاٶ ۔۔۔ کہ تم نے کیا سب۔۔ دانین نے دانت پیستے ہوۓ۔۔۔ اس کے کان کے قریب سرگوشی کی۔۔۔
مجھے آپ سب سے بات کرنی ہے۔۔۔ زرداد نے اونچی آواز میں کہا۔۔۔ سب لوگ متوجہ ہوۓ تھے۔۔۔ دانین نے چونک کر حیران سی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔
دیکھیں ۔۔۔ چاچو۔۔۔ اکیلا رہ رہ کر اب تھکا پڑا ہوں۔۔۔ دانین کو اپنے ساتھ کراچی لے کر جانا چاہتا ہوں۔۔۔ زبان ہونٹوں پہ پھیری۔۔۔
دانین نے گھور کے دیکھا۔۔۔ لیکن اس نے کوٸی پرواہ نہیں کی۔۔۔
تو آپ سےاجازت لینی تھی۔۔۔ اور جاب یہ کرا چی میں شروع کرے گی۔۔۔ ہیار سے دانین کی طرف دیکھا۔۔۔
مہ۔۔۔ مہ۔۔۔ میں نے ۔۔ میں ایسا کچھ نہیں چاہتی۔۔۔سب لوگ دانین کی بات پورے ہونے سے پہلے ہی قہقہ لگا رہے تھے۔۔۔
ظاہر سی بات ہے برخوردار۔۔۔ اب تمھارے ساتھ ہی جاۓ گی۔۔۔ تمہیں ہم سے اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ سکندر خوش دلی سے کہہ رہے تھے۔۔۔۔۔۔ دانین کو زرداد کے ساتھ یوں بیٹھے دیکھ کر وہ بلاٸیں ہی لیتے جا رہے تھے۔۔۔
ٹی وی۔۔۔ تو چلاٶ ذرا ۔۔۔۔ شازر باہر سے کہیں سےآیا تھا۔۔۔ آتے ہی جلدی سے۔۔۔ ٹی وی آن کیا۔۔۔
تو آخر کار۔۔۔ ہمارے۔۔۔ زرداد ۔۔ کو ۔۔ ان کی۔۔۔ محبوبہ۔۔۔ مل ہی گٸیں۔۔۔ اینکر بڑے شوخ انداز میں۔۔۔ اس کی شادی کی خبر دے رہی تھی۔۔۔ اور ساتھ ہی ان کی شادی کی تصاویر تھی۔۔۔
سب لوگ ٹی وی پر متوجہ ہو گۓ تھے۔۔۔
دانین ایک دم وہاں سے اٹھ کر گٸ تھی۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤
بالوں کی پینیں نوچ نوچ کے اتار رہی تھی جب وہ ایک دم سے کمرے میں آ کر اس کے بلکل پیچھے کھڑا تھا ۔۔۔ دانین نے ایک نظر سامنے ڈریسنگ کے آینے میں اسے دیکھا۔۔۔اوپر چلو ۔۔۔ اپنے کمرے میں۔۔۔ نیچے جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
آج ولیمے کا دن تھا۔۔۔ رات کو تقریب کے بعد وہ اوپر جانے کے بجاۓ۔۔۔ اپنے کمرے میں آ گٸ تھی ۔۔۔ مہمان سب چلے گۓ تھے۔۔۔
نہیں۔۔۔ مختصر جواب دے کر اب وہ بے نیازی سے زیور اتار رہی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ پھر آج یہں سو جاتے بڑے مزے سے وہ اچھل کر بیڈ پر لیٹا۔۔۔۔
دانین نے تڑپ کر پیچھے دیکھا۔۔
کیا مطلب۔۔۔ آنکھوں میں ناگواری بھری تھی۔۔۔
مطلب یہ کہ جہاں تم وہاں میں۔۔۔ بڑے مزے سے وہ بیڈ پر لیٹ چکا تھا ۔ ۔
دانین نے حیرانگی ۔۔ اور غصے کے ملے جلے تاثر سے دیکھا۔۔۔کل رات بھی صوفے پر لیٹنے کی وجہ سے ٹھیک سے نا سو سکی تھی۔۔۔ آج اگر سوچا تھا۔۔۔ اپنے کمرے میں آرام سے سوۓ گی تو۔۔۔
زری ۔۔۔ پلیز اپنے کمرے میں جاٶ۔۔۔ اس کے سر پر کھڑی کہہ رہی تھی۔۔۔
وہ تکیے میں منہ دے کر لیٹ گیا تھا۔۔۔ اس نے جھنجوڑا بھی ۔۔
سو جاٶ آرام سے۔۔۔ تکیے میں سے گھٹی سی آواز آٸی تھی۔۔۔ وہ ٹس سے مس نا ہوا۔۔۔ اس کےکمرے میں تو۔۔ کوٸی۔۔۔ صوفہ بھی نا تھا۔۔۔ کرسی پر جا کر بیٹھ گٸ۔۔۔ ایک تو ویسے سارا دن بیٹھ کر تھک چکی تھی۔۔۔ بے زاری سے اسے گھورتی رہی
وہ تو شاٸید سو بھی چکا تھا۔۔۔۔ دھیرے سے جا کر دوسری طرف لیٹ گٸ تھی۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی۔۔۔ وہ ایک دم سے اپنے خیالوں باہر آٸی تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: