Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 13

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 13

–**–**–

دانین ماضی کو یاد کر رہی تھی جب اچانک جھٹکے سے گاڑی روکی تھی زرداد نے۔۔۔ وہ آج اس کے ساتھ کراچی جا رہی تھی۔۔۔ نا جانے کے لیے اتنا روٸی تھی۔۔ لیکن کوٸی ایک تو ہوتا جو اس کا ساتھ دیتا۔۔۔
تایا ابا وہ اب اس سے آس لگا بیٹھے تھے ۔۔۔ کہ وہ ان کے اس خبیث سپوت کو سدھارے گی۔۔۔ سکندر ۔۔۔ کا تو وہ ویسے ہی لاڈلا تھا ۔۔۔ جس کو ایک کھولنے کی طرح انھوں نے اپنی بیٹی تھما دی تھی۔۔۔ اور وہ خود وہ تو واقعی اس کو کھلونا ہی سمجھتا تھا۔۔۔ اس سے ضد لگا کر اسے اپنا بنایا تھا۔۔ لیکن دانین کو یہی لگتا تھا۔۔۔ کہ ایک دن وہ پچھتاۓ گا۔۔۔ اور بلکل اسی طرح اسے بھی چھوڑ دے گا جیسے منسا کو چھوڑ دیا۔۔۔ اس انڈسٹری سے جڑے لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے۔۔۔ جس دن ضد کا خمار اترا۔۔۔اس کے لیے وہ کچھ نہیں ہو گی۔۔۔
کچھ کھانا ہے۔۔۔ بڑی محبت سے پوچھا۔۔۔ اور لوگوں سے بچنے کے لیے سن گلاسز لگاۓ اور کیپ کو لے کر آنکھوں کے آگے کیا۔
زہر ہے۔۔۔ تو وہ لا دو۔۔۔ سپاٹ چہرےکے ساتھ کہا۔۔۔ آنکھیں رونے کی وجہ سے اب مشکل سے کھل رہی تھیں۔۔۔
اس کی کیا ضرورت ۔۔۔ وہ تو ویسے ہی بھرا پڑا تم میں۔۔۔۔ بڑے ریلکس انداز میں ترکی با ترکی جواب دیا۔۔۔ شرارت سے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ اپنا کان کھجایا۔۔
پھر ۔۔۔ تم ۔۔ بچ کر ہی رہو۔۔۔ ڈس نا لوں تمہیں۔۔۔ ویسے سانپ جیسی خصلت کے مالک تم ہو میں نہیں۔۔۔ دانین کا پارہ چڑہ گیا تھا۔۔۔
جس دن بابا کو پتا لگے گا۔ تم نے کیا کیا ہے دھوکے سے شادی کی مجھ سے ان کی آستین کا سانپ ہو تم ۔۔۔ سوچو ان کے دل پہ کیا گزرے گی۔۔۔ وہ دانت پیس پیس کر کہہ رہی تھی۔۔۔
وہ ہنس رہا ۔۔۔تھا۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ تو ایسا کرتے ان کو بھی وہ ڈاٸری پڑھوا دیتے۔۔۔ پھر۔۔۔ انگلی کو اپنے ہونٹوں پر کچھ سوچنے کے سے انداز میں رکھا۔۔۔
کیا ۔۔۔ لکھا۔۔۔ ہوا۔۔۔ اس میں ۔۔۔ تم ۔۔ نے۔۔ ہاں ۔۔ ہاں یاد آیا۔۔۔ انگلی کو سر کے پاس ہوا میں اٹھا کر بچوں کی طرح کہا۔۔۔۔
زری میں تو اس دن کا انتظار کرتی رہتی ہوں۔۔۔ کب میں صرف اور صرف تمھاری بن کے ۔۔ وہ بڑے پریم سے اس کے لکھے ہوۓ الفاظ دھرا رہا تھا۔۔۔ ان سات ماہ میں۔۔۔ وہ ڈاٸری کو اتنی دفعہ پڑھ چکا تھا۔۔۔ کہ سب حفظ۔۔ ہو گیا تھا۔۔۔
دانین کے آنکھوں میں آنسو لہرا گۓ تھے۔۔۔ میں نے آج تک تم جیسا انسان نہیں دیکھا۔۔۔ تم دنیا میں صرف ۔۔ مجھے تکلیف دینے آۓ ہو۔۔۔ مجھے یقین ہو گیا ہے۔۔۔ شرمندگی ہو رہی تھی آج اسے خود پر ہی۔۔۔ کہ اس نے اس کی جھوٹی محبت پر یقین کر کے یہ سب لکھا تھا اس کے لیے۔۔۔۔
اوہ۔۔۔ نہیں دانین ۔۔۔ میرا مطلب یہ ہر گز نہیں تھا۔۔۔ اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اسے اچانک اہنے مزاق کی گہراٸی کا احساس ہوا تھا۔۔۔۔
جو بھی تھا۔۔۔ مطلب ۔۔۔ مجھے ۔۔ پتا ہے ۔۔۔۔ تم نے صرف مجھے ازیت میں رکھنے تمھیں ٹھکرانے کی سزا کے طور پر شادی کی ہے۔۔۔ آنسو گال پر ٹپک ہی پڑے تھے۔۔۔ جنھیں وہنبری طرح رگڑ رگڑ کے صاف کر رہی تھی۔۔۔
نہیں ۔۔۔ میں سچ میں محبت کرتا ہوں ۔۔ دانین۔۔۔ ادھر دیکھو۔۔ اس کے آنسو صاف کرنے کے لیے ۔۔۔ اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جسے دانین نے بری طرح جھٹک دیا تھا۔۔۔
کچھ عرصے بعد کسی دوسری لڑکی کو یہ سب کچھ ہی کہہ رہے ہو گے تم۔۔۔ نفرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ دانین نےکہا۔۔۔
سٹیرنگ پر گرفت مضبوط ہو گٸ تھی۔۔۔ زرداد۔۔۔ کے ہاتھوں کی رگیں ۔۔۔ واضح ہو گٸ تھیں۔۔۔
میں ایسا نہیں ہوں۔۔۔ میں یہ ثابت کروں ۔۔گا۔۔۔ جبڑے بھینچ لیے تھے ۔۔ لیکن وہ ضبط کر رہا تھا۔۔۔ خود سے وعدہ لیا تھا وہ دانین پر کبھی غصہ نہیں کرے گا۔۔۔
اور ۔۔۔ میں اس دن کا انتظار کر رہی ہوں جب تم چھوڑ دو گے مجھے۔۔۔ جب تمہیں اپنی یہ ضد بےکار لگنے لگی تھی۔۔۔ دو ٹوک الفاظ میں کہا۔۔۔ اب آنسو خشک ہو گۓ تھے۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔ کرو انتظار اسی طرح بوڑھی ہو جاٶ گی۔۔۔۔ پھر سوچو ۔۔ گی کاش۔۔۔ یقین کر لیتی۔۔۔۔ آج سہارا بننے کو۔۔۔ کوٸی پانچ چھے بچے تو ہوتے۔۔۔۔ وہ پھر سے شرارت کے موڈ میں آ چکا تھا۔۔۔ غصے پر پوری طرح قابو پا چکا تھا۔۔۔
ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔۔ میں جانتی تمہیں۔۔۔ دانین کا اس کی بات سن کر رنگ غصے سے سرخ ہو گیا تھا۔۔۔
اچھا میں خود بھی یہ چاہتا ہوں تم جان لو پہلے مجھے اچھی طرح۔۔۔ پھر ہی کچھ پلین کرتے۔۔۔ اب وہ کمینگی کی حد تک ۔۔۔ شرارت کے موڈ میں تھا۔۔۔
چلو نکلو کھا لو کچھ زندہ رہو گی۔۔۔ تو ہی اتنا لڑ سکو گی میرے ساتھ۔۔۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلتے ہوۓ اسے کہا۔۔۔
مجھے کچھ نہیں کھانا۔۔۔ اورباہر بھی نہیں آنا ہے میں ٹھیک ہوں یہاں۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔ وہ کندھے اچکا کر دروازہ بند کرتا ہوا نکل گیا۔۔۔
پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سر نیچے جھکا کے وہ لوگوں کی نظر سے بچتا ہوا جا رہا تھا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ دو پیکٹ کے ساتھ جو خوشبو اڑا رہے تھے۔۔۔ گاڑی میں آ کر بیٹھا۔۔۔
ایک دانین کے سامنے رکھ دیا ۔۔۔ اس نے منہ دوسری طرف موڑ لیا تھا۔۔۔
زرداد مزے سے برگر کھا رہا تھا۔۔۔ اور ساتھ ساتھ ۔۔ موباٸل کو دیکھ رہا تھا۔۔ لاپرواہ سا نداز تھا۔۔۔۔۔ اس نے ایک دفعہ بھی دوبارہ اسے کھانے کو نہیں کہا۔۔۔
رات بھی کھانا نہیں کھایا تھا ولیمےکا۔۔صبح بھی روتی رہی تھی۔۔۔ ناشتہ بھی نا کیا۔۔۔ اور ویسے ہی کراچی کے لیے نکل پڑے تھے۔۔۔ اور اب کھانے کی خوشبو نے پاگل کر رکھ تھا۔۔۔
موباٸل کو اس کے گاڑی میں لگے کیچر پر اڑا کے۔۔۔
وہ پھر سے گاڑی سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔ پھر سگریٹ لگاتا۔۔۔ ذرا دور چلا گیا تھا۔۔۔
دانین نے غور سے دیکھا۔۔ وہ کہیں نہیں تھا۔۔۔ جلدی سےپیکٹ کھولا اور ۔۔۔ برگر کے کے بڑے بڑے پیس منہ کے اندر ڈالے۔۔۔ دو چار چپس اٹھا کر منہ میں ڈالے۔۔۔ اور جلدی سے منہ صاف کیا ۔۔۔ اور جب تک وہ کار تک پہنچا تھا۔۔۔ وہ اسی حالت میں واپس بیٹھ چکی تھی۔۔۔ جیسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔
وہ پتہ نہیں موباٸل پر کیا دیکھ کر اتنی زور زور سے قہقے لگا رہا تھا۔۔۔ کہ اس کی آنکھوں میں بھی پانی آ گیا تھا۔۔۔
اس کو اس کی اس حالت پہ اب غصہ آنے لگا تھا۔۔ چڑ کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔ جو۔۔۔اب بڑی مشکل سے قہقے کو روکنے میں لگا ہوا تھا۔۔۔
دانین نے گھور کر دیکھا اس کی طرف۔۔۔ ایسے جیسے کہہ رہی ہو کیا تکلیف ہے اب۔۔۔پاگل کیوں ہنس رہا ایسے۔۔۔۔
ویڈیو۔۔ دیکھو سِنڈ کی تمہیں۔۔۔ اب موباٸل رکھ کے گاڑی ریورس کر رہا تھا۔۔۔ جبکہ لب بری طرح مسکراہٹ کو چھپا رہے تھے۔۔۔
دانین نے پر تجسس انداز میں موباٸل کو آن کیا۔۔۔ کیوں کہ اس کے ہنسنے کا انداز ہی ایسا تھا کہ۔۔وہ رہ نہیں سکی دیکھے بنا۔۔۔ ۔
اسکی تھوڑی دیر پہلے کی ویڈیو تھی جب وہ کھا رہی تھی۔۔۔ اور جلدی سے ۔۔۔ جیسے منہ صاف کر کے بیٹھی تھی دوبارہ سے۔۔۔ اففف کتنی عجیب لگ رہی تھی وہ۔۔۔ شرمندگی سے پانی پانی ہو گٸ تھی۔۔ زراد قہقہ لگا رہا تھا۔۔۔۔
اس سے میں نہیں ۔۔۔ جیت سکتی۔۔۔ چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔ دل کیا۔۔۔ کوٸی چیز ملے اور اس کا سر ہی پھوڑ دے۔۔۔
کھا لو اب ۔۔۔ دو باٸٹ لےکر آدھا تو پہلے ہی کھا چکی ہو۔۔۔ بڑے ہی ریلکس انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔ گلاسز اتار کر ایک طرف رکھ دۓ
دانین نے پیکٹ اٹھایا اور پچھلی سیٹ ہر پھینک دیا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤
مجھے الگ کمرہ چاہیے۔۔۔ وہ ادر گر د دیکھتے ہوۓ ۔۔۔ زرداد سے کہہ رہی تھی۔۔۔
اتنا خوبصورت گھر تھا۔۔۔ ہر چیز اس کے ذوق کا واضح ثبوت تھی۔ اتنی خوبصورت۔۔۔ ہر چیز تھی۔۔۔اتنا حسن پسند شخص۔۔۔ مجھے کیسے پسند کر سکتا۔۔۔ نہیں ہو سکتا۔۔۔ اس سوچ پر میں ایک دفعہ بیوقوف بن چکی ہوں۔۔۔ ضرور مجھ سے شادی کے ہیچھے اس کا کوٸی اور ہی مقصد ہو گا۔۔۔ ایسے کیسے ہو سکتا جس نے ہر چیز دنیا کی رکھی ہو جو حسن میں بے مثال ہو۔۔۔ تو وہ اپنی زندگی کے اتنے اہم شخص کو اتنا معامولی کیسے چن سکتا۔۔۔
دل اس بات کو مان ہی نہیں رہا تھا کہہ زرداد نے یہ سب اس کی محبت میں کیا ہے۔۔۔
بات یہ ہے۔۔۔ مسز۔۔۔ زرداد ہارون۔۔۔ کہ میں کوٸی عام بندہ نہیں ہوں۔۔۔ اتنے نوکر۔۔ ہیں گھر میں۔۔۔ مشہود کا آنا جانا لگا رہتا۔۔۔ تمہیں کیا پتہ میڈیا والے کیا کیا بنا دیتے چھوٹی سی چھوٹی بات کا بھی۔۔۔ اس لیے نا منظور ۔۔۔ میرے کمرے میں ہی رہنا پڑے گا۔۔۔ بڑے انداز میں کوٹ اتارتے ہوۓ کہا۔۔۔
اور کچھ۔۔۔۔بازو کے کف بٹن کھولتے ہوۓ کہا۔۔۔
مجھے ۔۔ الگ بیڈ چاہیے۔۔۔ تمھارے ساتھ ایک بستر میں نہیں سو سکتی۔۔۔ سخت لہجہ ۔۔۔ سپاٹ ۔۔ چہرے کے ساتھ دانین نے کہا۔۔۔
ہم۔م۔مم۔ بے اعتباری۔۔۔ ویسے ہونی بھی چاہیے۔۔۔ وہ ہنسا تھا۔۔۔ بازو کو فولڈ کر کے اب اوپر چڑھا رہا تھا ۔۔۔۔
یہ بھی نا منظور۔۔۔ بیڈ اتنا بڑا ہے۔۔۔ دوسرے کنارے پہ لیٹے تمہھیں ایسا ہی لگے گا تم بہت دور ہو مجھ سے۔۔۔ اب سینے پہ ھاتھ باندھے۔۔۔اسے شرارت سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اور کچھ۔۔۔۔ ہنسی کو دباتے ہوۓ کہا۔۔۔
جب میری کوٸی بات منظوری میں آنی ہی نہیں۔ ۔۔۔ تو کیوں پوچھ رہے ۔۔۔ اور کچھ۔۔۔ اور کچھ۔۔۔ دانین نے چڑ کر کہا۔۔۔ ماتھے پہ سو بل تھے۔۔۔ میں تو پاگل ہو جاٶں گی اس کے ساتھ رہتے رہتے۔۔۔۔اس کا سر گھوم گیا تھا۔۔۔
اور کچھ۔۔۔ کمینگی کی انتہا۔۔۔ اور شرارت سے قہقہ لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔
میں اس رشتے کو آگے نہیں بڑھانا چاہتی کیونکہ ۔۔۔ میں جانتی تم نے چھوڑ دینا مجھے۔۔۔ میں نہیں چاھتی تم مجھ سے بیوی والی کوٸی بھی توقع رکھو۔۔۔ وہ پھر سے اپنے ارادوں سے آگاہی دے رہی تھی اسے۔۔۔
نا منظور۔۔۔ یہ تمھاری سوچ ہے۔۔۔ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔۔۔ جبکہ میں جانتا ہوں تم کیا حیثیت رکھتی میرے لیے۔۔ اس لیے میں تو ٹراٸی کرتا رہوں گا۔۔۔ تم بس خود کو مظبوط رکھنا۔۔۔ اپنے مخصوص انداز میں آنکھ دباٸی۔۔۔
دانین پیر پٹختی ہوٸی بیڈ کی دوسری ساٸڈ پر جا کر لیٹ گٸ۔۔۔
اور تم ۔۔۔رات کو۔۔۔ میری ساٸڈ پر آۓ بھی تو یہ پاس پڑے واز سے تمھارا سر پھوڑ دوں گی۔۔۔ وہ چادر کو سر تک لیتے ہوۓ خبردار کرنے والے انداز میں کہا
کوٸی ۔۔۔ آواز نہیں آٸی تھی۔۔۔ نا منظور کی۔۔۔ وہ ابھی حیران ہی ہو رہی تھی ۔۔۔
چادر سر تک لی ہوٸی تھی ۔۔
اچانک اس کے کان کے قریب سرگوشی ہوٸی تھی۔۔۔۔ نا منظور۔۔۔۔ وہ اس کے اوپر ہی تو جھکا ہوا تھا۔۔۔ آواز ایسی خمار آلودہ تھی۔۔۔ کہ۔۔ دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔۔ایک دم سے گھبرا کر وہ اٹھی تھی۔۔۔
اب وہ قہقہ لگا رہا تھا ۔۔۔ سو جاٶ۔۔۔ تمھاری مرضی کے بنا نہیں۔۔۔ ویسے تو جہاں ۔۔۔ اتنا کچھ صرف اپنی مرضی سے کیا ہے تو ۔۔۔۔۔ وہ اس کے قریب ہوا تھا۔۔۔ پر انکھوں ۔۔۔ میں ابھی بھی شرارت بھری تھی۔۔۔
دانین کا رنگ ایک دم سے سرخ ہو گیا تھا۔۔۔۔ سوچنا بھی مت۔۔۔ وہ چڑ گٸ تھی۔۔۔ اسکو ہاتھ کے اشارے سے اپنی ساٸیڈ پر رہنے کا کہا۔۔۔
لو بھلا۔۔۔ اب سوچنے پر کیا پابندی۔۔۔ سوچنے تو دے دو۔۔۔ قاتل مسکراہٹ۔۔۔ اور نظروں میں بے پناہ پیار بھر کر وہ بولا تھا۔۔۔
انتہاٸی کوٸی۔۔۔ وہ کہتے کہتے ۔۔ دانت پیس کر ہی رہ گٸی تھی۔۔اس کامزید اب سر کھپانے کاحوصلہ نہیں تھا۔۔
بیڈ کی ساٸیڈ پر سمٹ کر لیٹ گٸ تھی۔۔۔
اتنا تھک چکی تھی کہ کب سوٸی پتہ ہی نا چلا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤
میں نہیں لے سکتی یہ۔۔۔ اپنی آنکھوں کے سامنے لہراتی گاڑی کی چابی دیکھ کر دانین نے کہا تھا۔۔۔ چہرہ سپاٹ تھا۔۔۔
آج کراچی آۓ اسے تین دن ہو گیے تھے۔۔۔
زرداد اسے کار گفٹ کر رہا تھا۔۔ منہ دکھاٸی میں۔۔۔ جس کی چابی کو لینے سےاس نے صاف انکار کر دیا تھا۔۔۔
کیوں۔۔۔ اتنے پیار سے لے کر آیا ہوں میں۔۔۔ وہ اب کار کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اور کبھی دانین کی طرف۔۔۔
میں کیونکہ۔۔۔اس پیار کو بھی ایکسپٹ نہیں کر رہی تو۔۔۔ اس کار کو کیونکر کروں۔۔۔ آپ اپنا یہ گفٹ اپنے پاس رکھیں ۔۔۔ تھوڑے طنز اور غصے کے ملے جلے عنصر میں کہا۔۔۔
مجھے اس کی کوٸی ضرورت نہیں۔۔۔ لہجہ سخت تھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔۔۔ زرداد نے لب بھینچے۔۔۔ پھر۔۔ ہاسپٹل کیسے جاٶ گی۔۔۔ اگلا جواز پیش کیا۔۔۔
میں اپنی عادتیں نہیں خراب کرنا چاہتی۔۔۔ یہ سب۔ ۔۔۔ پتہ نہیں کتنے عرصے تک میرے پاس ہو۔۔۔ عارضی چیزوں کو میں اپنی ضرورت نہیں بناتی۔۔۔ وہ کندھے اچکا کر بولی۔۔۔۔
لیکن میں تو یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میری بیوی۔۔۔ٹیکسی میں دھکے کھاتی پھیرے۔۔۔ چابی دوبارہ اس کے آگے کی۔۔
تمھیں جتنا میرا خیال ہے۔۔۔ یہ میں دیکھ چکی ہوں بہت دفعہ اپنی زندگی میں۔۔۔
۔ یہ کار تمہیں مبادک ہو۔۔۔ وہ کار پر ایک نظر ڈال کر اندر جا چکی تھی۔۔۔
❤💌💌💌💌❤❤❤❤
مشہود منع کر دو۔۔۔ جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ بے زار سی شکل بنا کر مشہود کو کہہ رہا تھا۔۔
سر ان کی کال آٸی ہے۔۔۔ وہ پیسے بڑھا رہے ہیں۔۔۔ مشہود نے پھر ریکوسٹ کے انداز میں کہا۔۔۔ زراداد نے بال ایک ہاتھ سے پیچھے کیے۔۔۔ وہ واقعی پریشان تھا۔۔۔ کیونکہ ایسا اٹیٹیوڈ اس نے پہلےکبھی کسی چینل کو نہیں دکھایا تھا۔۔۔ جیسا وہ آج کرنے جا رہا تھا۔۔۔
ارے۔۔۔ یار۔۔۔ بھاڑ میں جاٸیں پیسے۔۔۔ تمھاری بھابھی کو کوٸی کام ہے ضروری۔۔۔ اور ہاں آٸیندہ کسی بھی چینل سے یہ کپل انٹرویو۔۔۔ کی فرماٸش آۓ صاف منع کر دینا خود سے ہی۔۔۔ وہ غصے کی برداشت کی آخری حد پر تھا۔۔۔ اور چہرہ بھی سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
سر لیکن۔۔۔ مشہود نے پھر سے بولنے کی کوشش کی لیکن اس کا خراب موڈ اسے چپ کروا گیا۔۔۔
اوہ یار ۔۔۔ بس کرو نا۔۔۔ سر میں درد ہے ۔۔ بے زاری سے خشک ہوتے ہونٹوں پہ زبان پھیری۔۔۔
وہ پورا ایک گھنٹہ دانین کے ساتھ سرکھاپا کر آیا تھا۔۔۔ اس پر غصہ اتار نہیں سکتا تھا۔۔۔ سو خود پر ہی نکال رہا تھا۔۔۔
پاکستان کے ٹاپ چینل میں سے ایک چینل کی طرف سے زرداد اور اس کی واٸف کے انٹرویو۔۔۔ کے لیے شو کی فرماٸش آٸی تھی۔۔۔ لیکن دانین کسی صورت بھی اس کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں تھی۔۔۔
اوکے سر ڈونٹ وری۔۔۔مشہود فون سے نمبر ملاتا ایک طرف چل دیا تھا۔۔۔
اسے ابھی آکر بیٹھے کچھ دیر ہی ہوٸی تھی۔۔۔ جب مشہود نے اسے اسی ٹی وی چینل کے پڈیوسر اور اینکر کا بتایا کہ وہ گھر پہنچ گۓ ہیں۔۔۔
اوہ نازش۔۔۔ وہ ۔۔۔ ٹی وی چینل کی اینکر سے خوش دلی سے ملا تھا۔۔۔ وہ نازش کو جانتا تھا۔۔۔ بہت بار ۔۔ وہ شوز میں ۔۔۔ پارٹیز میں ایک دوسرے سے مل چکے تھے۔۔۔
تم نے تو بیوی کو ایسے چھپا لیا۔۔۔ نازش مسکراتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔۔۔
ہم سب تو تمہاری ریسپشن پارٹی کا ویٹ کرتے رہے۔۔۔ اس نے نازش کو سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ وہ بیٹھتے ہوۓ اس سے گلا کر رہی تھی ریسپشن پارٹی نا دینے کا۔۔۔ اور یہ گلا صرف وہی نہیں کر رہی تھی۔۔۔ سب کر رہے تھے۔۔۔
میں ملنا چاہتی دانین سے۔۔۔ ریکویسٹ کرنی ہے ان سے ایکچولی۔۔۔ ہمارے چینل نے آپ کے آنے کا انفارم کر دیا تھا۔۔۔ ریٹنگ اپ پر ہے ۔۔ پلیز ۔۔ آپ یوں شو۔۔ مت چھوڑیں۔۔
میں میم سے بات کرتی ہوں ۔۔ آپ بلوا دیں ۔۔۔ نازش ہمیشہ کی طرح بہت محبت سے بات کر رہی تھی۔۔۔
میم پلیز۔۔۔ نازش ساری بات دانین سے ڈسکس کرنے کے بعد اب التجا سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
جبکہ دانین خاموش بیٹھی تھی۔۔۔ ہاں اتنا ضرور تھا کہ چہرے پر ایسی کوٸی ناگواری نہیں تھی۔۔۔ جو زرداد سے بات کرتے وقت ہوتی تھی۔۔۔
زری نے ہمیں کبھی اس طرح انکار نہیں کیا تھا پہلے۔۔۔ اس لیے ہمیں بلکل اندازہ نہیں تھا۔۔۔ ہم شو کی پروموشن کا اشتہار ہر گز نا دیتے اگر اس بات کا علم ہوتا۔۔۔ لیکن اب ہم مجبور ہیں۔۔۔آپ اپنا کام چھوڑ سکتی ہیں کیا ہمارے لیے۔۔۔ نازش التجا کے انداز میں اسے کہہ رہی تھی۔۔۔
دانین دھیرے سےمسکراٸی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ میں آ رہی ہوں شام کو۔۔۔ وہ بہت اخلاق سے بولی تھی۔۔۔ زرداد نے بہت مشکور نظروں سے۔۔۔ دانین کی طرف دیکھا تھا۔۔
ہے۔۔۔ زری۔۔۔ یور واٸف از سو انوسینٹ۔۔۔ اٸی لاٸک ہر۔۔۔ لکی مین یو آر۔۔۔ نازش بڑی خوش دلی سے کہہ رہی تھی۔۔۔
اور زرداد محبت پاش نظروں سے دانین کی طرف دیکھ رہا تھا جس نے آج اس کی عزت رکھ لی تھی۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
اسے شو سے پہلے میک اپ آرٹسٹ نے تیار کیا تھا۔۔۔ سیاہ۔۔۔ ستاروں اور کندن سےچمکتی ساڑھی۔۔۔ اس کے لمبے قد پر غضب ڈھا رہی تھی۔۔۔ اور بولڈ میک اپ نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دیے تھے۔۔۔
جب وہ تیار ہونے کے بعد زرداد کے سامنے آٸی تو ۔۔۔ زرداد کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔۔۔ پھر اپنے دل پر ہاتھ رکھ کے پیچھے کو جھکنے کی ایکٹنگ کی۔۔۔ ہوش تو اڑا ہی دیے تھے دانین نے۔۔
زہر لگ رہا تھا اسے وہ۔۔۔ اس طرح کرتے ہوۓ۔۔۔ اوپر سے ساڑھی۔۔۔ ایسی تھٕی۔۔۔ بھر کے میک اپ کر دیا تھا۔۔۔
نازش انھیں اندر داخل ہونےکا طریقہ بتا رہی تھی۔۔۔ کہ۔کس طرح زرداد کو ایک ہاتھ اس کے گرد گھمانا ہے ۔۔۔
میں کمفرٹیبل فیل نہیں کروں گی۔۔۔ اف یو ڈونٹ ماٸینڈ ایسے ہی آجاتے ہم دانین نے بہت دھیرے سے کہا ۔۔ بڑی مشکل سے چہرے پر مسکراہٹ لاٸی تھی وہ ۔۔۔
نو نو۔۔ ماٸی ڈارلنگ۔۔۔ ایسے نہیں پلیز۔۔۔۔ نازش ۔۔۔ نے اسے پیار سے کہا اور التجا کے انداز میں اس کی طرف دیکھا۔۔
زرداد پکڑو دانین کو۔۔۔ وہ آرڈر دیتی ہوٸی شو کے فرنٹ میں چلی گٸ۔۔۔ تھی۔۔۔
زرداد کا سانولی سلونی ولا گانا بیک گراونڈ میں چل رہا تھا۔۔۔
زرداد نے اس کو کمر سے پکڑ کر ساتھ لگایا تھا۔۔ کمر پر ہاتھ کی گرفت بہت مضبوط تھی۔۔۔
پھر اس کے کان کے قریب ہو کر سرگوشی کی۔۔۔ دانی تم دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہو۔۔۔۔وہ اس کے چہرے کو جزبات سے بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ خود ۔۔۔ پینٹ کوٹ میں ۔۔۔ بجلی گرانے کی حد تک خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔۔
دانین نے سٹ پٹا کے اپنا چہرہ پیچھے کیا تھا۔۔۔ کیونکہ سرگوشی کے بعد بھی اس کا منہ اتنا ہی قریب تھا۔۔۔ کہ دانین کی گردن پر اس کی گرم سانسیں۔۔۔ پڑ رہی تھیں۔۔۔
وہ شو میں تالیوں کی گونج اور بیک گراونڈ میں بجتے گانے کی ملی جلی آوازوں میں داخل ہوۓ تھے۔۔۔ زرداد کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ تھی۔۔۔
دانین کے بیٹھنے کے بعد زرداد اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔۔ وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔ وہی سب کو ۔۔۔ زیر کر دینے والی مسکراہٹ۔۔۔
واٶ۔۔۔۔ تو زرداد۔۔۔ آپ تو چھپے رستم نکلے۔۔۔۔ کوٸی ۔۔۔ خبر نہیں۔۔۔ کی شادی کی ۔۔۔ اچانک بس دھماکا کر ڈالا۔۔۔ نازش نے شرارت کے انداز میں زرداد سے پوچھا۔۔۔
زرداد نے جاندار قہقہ لگایا تھا۔ پھر خجل سا ہو کر۔۔۔ کان کھجایا۔۔۔
آج پہلے تو ۔۔۔ ہمیں۔۔۔ ایک بات کنفرم کر دیں۔۔۔ آپ کی ریسنٹ البم آٸی تھنک ان کے ہی نیم پر ہے۔۔۔ نازش کا اگلا سوال۔۔۔
یس۔۔۔ کوٹ کو ایک جھٹکا دیا تھا۔۔۔ اور ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔۔
اوہ۔۔۔ ویری گڈ۔۔۔ مطلب ۔۔۔ لو ۔۔۔ اور اپکا ۔۔۔ سونگ۔۔۔سانولی سلونی اپکی دانین کے لیے ہی تھا۔۔۔ ایم آٸی راٸٹ۔۔۔ نازش بھی پوارا انجواۓ کر رہی تھی۔۔۔
جی۔۔۔ بلکل۔۔۔ انہیں کے لیے تھا۔۔۔ جس نے مجھے اتنا نام دے دیا۔۔۔ اسی گانے کی وجہ سے مجھے اتنی شہرت ملی۔۔۔ بے شک ۔۔۔ دانین میرے لیے بہت لکی ہے۔۔۔ جیسے ہی یہ میری زندگی میں آٸی ۔۔۔ سب کچھ بدل گیا۔۔۔۔ زرداد نے ۔۔۔ چمکتی آنکھوں اور سچے دل سے کہا۔۔۔
دنیا جہان کا جھوٹا انسان۔۔۔۔ دانین نے دل میں جل کے سوچا تھا۔۔۔۔
تو آپکی شادی پیور لو۔۔۔ ۔۔۔نازش شرارت سے مسکراتی ہوٸی پوچھ رہی تھی۔۔
لو۔۔۔ پلس ارینج ہی سمجھیں۔۔۔ زرداد بلش بھی ہو رہا تھا۔۔۔
لو۔۔۔ پلس۔۔۔۔ ارینج کا کچھ لگتا۔۔۔ بتا نہیں سکتا کیا اب کیسے دھوکا دے کر پھانسایا ہے مجھے۔۔۔ وہ دانت پیستی ہوٸی سوچ رہی تھی۔۔۔
واٶ۔۔۔۔ دیٹس گریٹ۔۔۔ ویسے تو ۔۔۔ مس دانین بہت خوبصورت ہیں ۔۔۔ آپکو کیا اچھا لگا۔۔۔ ان میں۔۔۔ نازش اب دانین کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔۔۔
یہ پوچھیں۔۔ کیا اچھا نہیں لگتا مجھے۔۔۔ آٸی لو ہر۔۔۔ مجھے لگتا۔۔۔ہے۔۔۔میں ان کے بنا جی نہیں سکتا۔۔۔ زرداد نے محبت سے دانین پر فدا ہونے کے سے انداز میں کہا۔۔۔۔
سارا شو تالیاں پیٹ رہا تھا۔۔۔ زرداد کی اس بات پر۔۔۔
بس وہ تھی۔۔۔ جو ان الفاظ کو دھوکا سمجھ رہی تھی۔۔۔ جھوٹا۔۔کل یہی سب کسی اور کے لیے۔۔۔ کہہ رہا ہو گا۔۔۔
اوہ ۔۔۔۔۔ ماٸی ۔۔۔۔ گاڈ۔۔۔ دانین ہاو لکی یو آر۔۔۔ نازش نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ کر دانین کی قسمت پر رشک کیا۔۔۔
ویسے ڈاکٹرز ۔۔۔ زیادہ طر ڈاکٹرز سے ہی شادی کرتے۔۔۔ یہ کیسا کمبینیشن ہوا۔۔۔ زرداد۔۔۔ ایک سنگر۔۔۔ ایک ڈاکٹر۔۔۔ کیسا ریلشن آ پ کا۔۔۔ نازش ہاتھوں کو داٸیں باٸیں گھماتی ہوٸی پوچھ رہی تھی۔۔۔
زرداد نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔ ایک جاندار قہقہ۔۔۔
پھر اپنے مخصوص انداز میں کوٹ کو جھٹکتے ہوۓ بولا۔۔۔
میرے خیال سے کبھی کبھی ڈاکٹرز کو مریض سے بھی شادی کرنی پڑتی۔۔۔ ان کے عشق نے بیمار کر رکھا تھا ۔۔ اگر نا ملتی۔۔۔ تو کیسے جیتا۔۔۔ وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔ سب لوگ اس کی اس بات پر چیخ رہے تھے۔۔۔ تالیاں بجا رہے تھے۔۔۔
ہاۓ۔۔۔ نازش نے اس کی اس بات پر بڑی ادا سے سینے پہ ہاتھ رکھا۔۔۔۔اللہ آل ویز بلس۔۔۔ یو۔۔۔ اینڈ یور واٸف۔۔۔ اس نے منہ پہ ہاتھ رکھ کے دونوں کو ہوا میں بوسہ دیا۔۔۔ ۔
اب وہ دانین سے پہلے اس کا تعارف لیتی رہی پھر آنکھوں میں چمک اور شرارت بھر کر پوچھا۔۔۔
دانین آپکو۔۔۔ پرابلم تو ہوتی ہو گی۔۔۔ جب۔۔ لڑکیاں یوں۔۔۔ زرداد کے ارد گرد منڈلاتی ہوں گی۔۔۔
نہیں۔۔۔ دانین نے بڑی مشکل سے مصنوعی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجاٸی۔۔۔۔ وہ بچپن سے ہی ان کے ارد گرد منڈلاتی رہی ہیں۔۔۔ یہ میرے لیے نیا نہیں اس لیے کوٸی پرابلم نہیں ہوتی مجھے۔۔۔
زرداد کے ساتھ ساتھ پورا شو قہقوں سے گونج اٹھا تھا۔۔۔
چلیں دانین آپ ہمیں بتاٸیں ۔۔۔ کیسے پرپوز کیا تھا انھوں نے آپکو۔۔۔۔ نازش پر شوق نظروں سے اب دانین کے جواب کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔
انھوں نے مجھے پرپوز نہیں کیا تھا۔۔۔ میری طرف سے ارینج میرج ہے یہ ۔۔۔ لو صرف ان کی طرف ساتھا۔۔۔ اپنے الفاظ پہ نرماہٹ کا لبادہ چڑھا کر وہ بمشکل بول پاٸی تھی۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ زری کیا یہ سچ کہہ رہی۔۔ ہیں۔۔۔ نازش حیران ہو کر زرداد کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
یہ اپنا پیار ہمیشہ چھپا کر رکھتی ہیں۔۔۔۔ زرداد ہنس کر بول رہا تھا۔۔۔ وہ صرف مجھ پر ہی لٹاتی۔ ہیں۔۔ وہ شرارت سے دانین کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔
شی لوز می۔۔۔ آ لوٹ۔۔۔ زرداد نے دل پہ ہاتھ رکھ کر پر یقین انداز میں کہا۔۔
دانین کا دل کیا منہ نوچ لے اسکا۔۔۔
واو۔۔۔ دانین کے لیے۔۔۔ وہی سونگ ہو جاۓ ۔۔۔ ۔ نازش اب زرداد کو گانا گانے کے لیے کہہ رہی تھی۔۔۔
سانولی سلونی۔۔۔ سی ۔۔۔ محبوبہ۔۔۔ زرداد دانین کو محبت بھری نظروں سے دیکھتا ہوا گا رہا تھا۔۔
سب لوگ جھوم رہے تھے۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: