Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 14

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 14

–**–**–

تھنکیو۔۔۔ اس کے بلکل عقب سے آواز ابھری۔۔۔ وہ کچھ سوچنے کے سے انداز میں ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی۔۔ زیور اتار رہی تھی۔۔۔ جب زرداد نے بلکل پیچھے کھڑے ہو کر کان میں سرگوشی کے سے انداز میں کہا۔۔۔۔
وہ کس لیے۔۔ سپاٹ لہجہ۔۔۔ ساکت چہرہ۔۔۔ لیے دانین نے کہا۔۔۔ وہ سیاہ ساڑھی میں ملبوس اپنے سارے جلوے سمیت۔ براجمان تھی۔۔۔ زرداد کی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں سے یکسر انجان۔۔۔
آج کے دن کے لیے۔۔۔ وہ بھر پور طریقے سے مسکرا رہا تھا۔۔۔ دھیرے سے بلکل اس کے سامنے آ کر ٹیک ڈریسنگ میز سے لگا کر ۔۔۔ ایک بھر پور نظر اس پر ڈالتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اور وہاں جوکچھ تم نے کہا اس کے لیے۔۔۔۔ بھاری آواز میں کہا۔۔۔۔ آنکھیں۔۔۔ اس کے آج کے ہوش ربا روپ کے نشے سے بھر پور تھیں۔۔۔
میں نے وہاں جو بھی کہا وہ سب سچ کہا تھا تمھاری طرح جھوٹ نہیں بولےتھے۔۔۔ کانوں سے جھمکا اتار کر زور سے میز پر رکھتے ہوۓ دانین نے طنز کے لہجے میں کہا۔۔۔۔
اچھا۔۔۔۔۔ میں نے کونسا جھوٹ بولا۔۔۔ وہ ہنس رہا تھا۔۔۔سینے پر ہاتھ باندھ کر دلچسپی سے اسے دیکھا۔۔۔ آج تو ہر انداز میں پیاری ہی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
سب جھوٹ تھا۔۔۔۔وہ محبت ۔۔۔ اور وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ جو۔۔۔ لو۔۔۔ پلس اریینج۔۔۔ والی بات۔۔۔ دانین نے چہرے پر دنیا جہان کی نا گواری لاتے ہوۓ کہا۔۔۔اب وہ گلے سے ہار اتار رہی تھی۔۔۔
ہاں تو وہ جھوٹ کب تھی۔۔۔ لو۔۔ تو تھا مجھے۔۔۔ ارینج پھر میں نے اپنے دماغ سے بنا لیا تھا ۔۔۔ شرارت سے۔۔۔ دانتوں کے نیچے نچلے ہونٹ کو دباتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
واہ۔۔۔۔واہ۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔۔۔ دانین نے ۔۔ طنز سے دیکھا۔۔
اور وہ ۔۔۔ میں کب کرتی تم سے پیار۔۔۔ گردن کو ایک جھٹکا دے کر اس کو گھور کر پوچھا۔۔۔۔
میں تو نفرت کے قابل بھی نہیں سمجھتی اب تمھیں۔۔۔۔ ناگواری انگ انگ سے جھلک رہی تھی۔۔۔
کرتی ہو مان لو۔۔۔۔سب سچ بولا تھا میں نے۔۔۔ ہاں۔۔۔ یہ نہیں ٹھیک سے بتایا کہہ کے تم میں سب سے زیادہ اچھا کیا لگا مجھے۔۔۔ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوۓ ۔۔۔ اب دانین کے چہرے کا بغور جاٸزہ لیا۔۔۔ معصوم سی شکل ۔۔۔ بڑی بڑی۔۔۔آنکھیں۔۔۔ لمبی پلکوں سے ڈھکی ہوٸی۔۔
مجھے تمھاری ۔۔۔ نظر اس کی آنکھوں پہ ٹک گٸ تھی۔ وہ اب ساڑھی کے پلو سے سیٹنگ میں لگاٸی گٸ پنز کو ڈھونڈ کراتار رہی تھی۔۔۔
تمہاری آنکھیں مجھے سب سے زیادہ پسند ہیں۔۔ لہجہ۔۔۔ بھیگا سا تھا۔۔ دانین اب جلدی جلدی پنیں اتار رہی تھی۔ اسے الجھن ہونے لگی تھی زرداد کی یوں ۔۔۔ خمار آلودہ نظروں سے اور ۔۔۔ بھیگے لہجے سے۔۔۔
اس کے بعد تمھارے یہ بال۔۔۔۔ دھیرے سے اس کے بال جو پنز اتارنے کی کوشش میں ڈھلک کر آگے آۓ تھے انھیں چھونا چاہا۔۔۔ وہ جھٹکے سے پیچھے ہوٸی تھوڑا سا۔۔۔
وہ فوراََ بالوں کا جوڑا بنانا شروع ہو گٸ تھی۔۔۔۔ دونوں بازو اوپر جو کیے۔۔۔ تو۔۔۔ پتلی سی کمر۔۔۔ زرداد پر بجلیاں گرانے لگی۔۔
اور یہ ۔۔۔ ۔۔ اگے بولا تو کچھ نہیں۔۔۔ لیکن نظریں اب کمر پر ہی ٹکی تھی۔۔۔
دانین نے اچانک اسکی نظروں کی تپش محسوس کی۔۔۔ گھبرا کے فوارََ بازو نیچے کیے۔۔۔۔ چہرہ اس کی اس بےباکی پہ سرخ ہو گیا تھا۔۔۔ ویسے تو بلاوز پورا ہی تھا کمر کو ڈھکتا ہوا ۔۔۔ لیکن بازو اوپر جانے سے۔۔۔ تھوڑا سا اوپر ہو گیا تھا۔۔۔
وہ تیزی سے وہاں سے نکلی۔۔۔ باتھ روم کی طرف چل دی تھی۔۔۔
اس کے جانے سے۔۔۔ زرداد جسے ایک دم ہوش کی دنیا میں لوٹا تھا۔۔
آجا۔۔۔ آجا۔۔۔ واپس۔۔۔ دونوں ہاتھوں کو سر میں جکڑ کر دماغ سے کہا۔۔۔
کہاں چلا جاتا ہے۔۔۔ سب کچھ دل کے حوالے چھوڑ کے۔۔۔ وہ مچلتے دل۔۔۔ کو سنبھالتے ہوۓ۔۔۔ اپنے دماغ کو سرزنش کر رہا تھا۔۔۔
وہ سرخ ۔۔۔ چہرے۔۔۔اور پھولے ہوۓ ناک کے ساتھ ۔۔۔ سادہ سے سوٹ میں باتھ روم سے نکلی اور تیزی سے ۔۔۔ جا کر اپنی طرف بیڈ پر پوری چادر تان کر لیٹ گٸ۔۔۔
وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر کچھ دیر کھڑا اس کو دیکھتا رہا ۔۔۔
باہر چلے جانا ہی بہتر تھا۔۔۔ ۔۔ سامنے پڑے لاٸٹر کو جیب میں رکھ کے۔۔۔ وہ ٹیرس پر آ چکا تھا۔۔۔
صیح کیا تھا یا غلط وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔ لیکن ۔۔۔ دانین کو وہ نہیں چھوڑ سکتا تھا۔۔۔ ۔سگریٹ کو منہ میں رکھ کر آج کے لاٸیو شو کی ویڈیو۔۔۔ دیکھ رہا تھا۔۔۔
❤💌💌💌💌❤❤❤❤❤
وہ کہاں ہے ۔۔۔ تمھارا ۔۔۔ کھڑوس۔۔۔ شوہر۔۔۔ صوفے پر۔۔۔ دانین کے ساتھ بیٹھتے ہوۓ اس نے اشعال سے پوچھا۔۔۔ گھر تو اپنے پاس بھٹکنے بھی نا دیتی تھی۔۔۔ یہاں بہانے سے اس کی قربت میں بیٹھا جا سکتا تھا۔۔۔
شرم کرو بھاٸی کہا کرو۔۔۔ اشعال خفگی سے۔۔۔ زرداد کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
تمہیں کبھی آپی کہا نہیں۔۔ اسے کیسے بھاٸی کہہ دوں۔۔۔ وہ ہنس رہا تھا۔۔۔ اور بار بار اپنے ساتھ بیٹھی اس سخت دل محبوبہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ تین ہفتے ہونے کو آۓ تھے ۔۔ مجال ہےان محترمہ کے دل میں تھوڑی سی بھی جگہ بنی ہو۔۔۔ ویسی ہی سختی۔۔۔ وہی حقارت وہی ناگواری۔۔۔
اشعال نے شادی کے بعد آج دونوں کو کھانے پر بلایا تھا۔۔۔
دانین اٹھ کر بہانے سے سامنے والے صوفے پر چلی گٸ۔۔۔ وہاں رانیہ لیٹی ہوٸی تھی۔۔رانیہ کا بہانا کر کےزرداد کے پہلو سے اٹھ کر آ جانا اسے بہتر لگا۔۔۔ زرداد نے اسے کن اکھیوں سے دیکھا۔۔۔ اور شرارت سے مسکرا دیا۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔ کیا بنایا ہے کھانے میں ۔۔ پوچھتا ہوا وہ دوبارہ اپنے صوفے سے اٹھ کر دانین کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔ دانین چڑ سی گٸ تھی۔۔۔ ماتھے پہ بل ڈال نہیں سکتی تھی اور نہ ہی ناگواری دیکھا سکتی تھی۔۔۔
زرداد اور اشعال باتوں میں مصروف تھے۔۔۔ وہ دوبارہ اٹھنے لگی تو زرداد نے ہاتھ پکڑ لیا۔۔ اور تھوڑا سا جھٹکا دے کر پھر سے اپنے ساتھ بیٹھا دیا۔۔۔
تمہیں کیا مسٸلہ ہے۔۔۔ کبھی ادھر کبھی ادھر۔۔ بیٹھ جاٶ۔۔۔ آرام سے۔۔۔ تھوڑے ڈانٹنے کے سے انداز میں کہا۔۔
دانین نے پوری آنکھیں نکال کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔ لیکن وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔
اشعال بھی مسکرا دی۔۔۔ کتنے پیارے لگ رہے تم دونوں ایک ساتھ بیٹھے۔۔۔ وہ ان دونوں کو پیار سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
بیٹھتے ہی ہیں بس ایک ساتھ۔۔۔ زرداد نے کان کھجاتے ہوۓ۔۔۔ دانین کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔ دانین نے بڑی مشکل سے اپنے چہرے پر آنے والے آثار کو کنٹرول کیا اور اشعال کی طرف مسکرا کر دیکھا۔۔۔
تمھاری کیسی جا رہی جاب اب۔۔۔ اشعال اس سے پوچھ رہی تھی۔۔۔ دانین کو ہاسپٹل جاتے ہوۓ۔۔۔ ایک ہفتہ ہوا تھا۔۔۔
وہ اشعال کو اپنی جاب کا بتا رہی تھی۔۔۔ زرداد اس کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔۔۔
اشعال کھانا لگانےکے لیے اٹھی تو وہ بھی فوراََ اس کے ساتھ اٹھ گٸی تھی۔۔۔ زرداد کی نظروں سے بچنے کا یہ ہی ایک طریقہ تھا۔۔۔
دانین بیٹھ جاٶ نا میں کر لیتی ہوں۔۔۔ اشعال کچن کی طرف جاتے ہوۓ اسے بیٹھنے کا اشارہ کر رہی تھی۔۔۔
نہیں نہیں۔۔ آپی۔۔۔ مجھے اچھا نہیں لگے گا۔۔۔ وہ مسکراتی ہوٸی جلدی سے اٹھ گٸ تھی۔۔۔۔
دانین ۔۔۔ اشعال نےبرتن نکالتے ہوۓ ۔۔۔ دانین کی طرف دیکھا۔۔۔
زرداد بہت اچھا ہے۔۔۔۔ برتن ایک طرف رکھ کے اب وہ اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑی تھی۔۔۔
میں جانتی ہوں ۔۔۔۔ شادی بہت اچانک ہوٸی ہے ۔۔ پر۔۔۔ میں نےزری کو ان سالوں میں بکھیرتے۔۔۔ جڑتے دیکھا ہے۔۔۔ اس کے انگ انگ سے بھاٸی کی محبت جھلک رہی تھی۔۔۔
آپ نے صرف اس کا ٹوٹنا اور بکھرنا دیکھا ہے آپی۔۔۔ میرا بکھرنا اور جڑنا نہیں دیکھا۔۔۔ وہ دل میں سوچ رہی تھی۔۔۔
میں تو جب جڑی۔۔۔ اس شخص نے مجھے پھر سے توڑ نے میں کوٸی کثر نہیں چھوڑی۔۔۔
وہ ۔۔ تھوڑا ۔۔ منہ پھٹ ہے۔۔۔ لیکن دل کا برا بلکل نہیں ہے۔۔۔ اشعال پیار سے اس کا منہ اپنے ہاتھوں میں لےکر بولی۔۔۔ اسے شاٸید محسوس ہو گیا تھا کہ دانین زرداد کے ساتھ کچھی کھچی سی ہے۔۔ اسی لیے اسے سمجھا رہی تھی۔۔۔
دل صرف اسی کے پاس نہیں ہے۔۔۔ دل سب رکھتے ہیں۔۔۔ زین کو جب جھوٹ بول کر آیا۔۔۔ میری کتنی عزت تھی زین کے دل میں۔۔ کیا عزت رہ گٸ ہو گی میری۔۔۔ وہ بس سوچ ہی سکتی تھی۔۔۔
یہ رشتے خدا کے بناے ہوتے ہیں۔۔۔ دیکھو کیسے ۔۔۔ زین سے شادی ہوتے ہوتے ہی تمھاری زرداد کے ساتھ ہو گٸ۔۔۔ اشعال اب برتن صاف کرتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔۔
ہاں جہاں ۔۔۔ آپکے بھاٸی جیسے دماغ والا انسان ہو۔۔ وہاں شادی سے ایک رات پہلے بھی ۔۔ شادی ٹوٹ جایا کرتی ہے۔۔۔ وہ بھی اب اس کے ساتھ برتن صاف کر رہی تھی۔۔۔ لیکن دل تھا کہ زرداد کے لیے صاف ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔
یہ بہت پیارا رشتہ ہوتا ہے۔۔۔ تم ہی ہو جو اس کے اور ابا کے درمیان ناچاقی ختم کروا سکتی ہو۔۔۔ ۔اشعال چاولوں سے بھری ڈش ایک طرف رکھتی ہوٸی بولی۔۔۔
پہلے میں اپنی ناچاقی تو ختم کر لوں۔۔۔ پتہ نہیں کب تک ہوں اس کے ساتھ۔۔۔۔دل ایک دم بجھ سا گیا تھا۔۔۔
ابا کے بہت قریب ہو تم ۔۔۔ ان کا دل صاف کرو زرداد کی طرف سے ۔۔۔اشعال نے دھیرے سے اس کے قریب ہو کر کہا۔۔۔
اور وہ پر سوچ انداز میں بس کھڑی ہی رہ گٸی۔۔۔۔
❤💌💌❤❤❤❤❤❤❤❤❤
کیا حال بنا رکھا ہے۔۔۔ بالوں کا دیکھو تو ذرا۔۔۔ ثمرہ نے زرداد کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔۔۔
پتہ نہیں کیا گند بلا لگاتے رہتے ہو۔۔۔ ثمرہ خفگی سے بول رہی تھیں۔۔۔ زرداد ثمرہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا۔۔۔
آپکی بہو خیال ہی نہیں رکھتی میرا۔۔۔ زرداد نے شرارت سے سامنے صوفے پر بیٹھی ۔۔۔ دانین کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ دونوں ۔۔ منال کے بیٹے کو دیکھنے۔۔۔ حیدر آباد آۓ تھے۔۔۔
سب لوگ دوپہر کے کھانے کے بعد ۔۔۔ لاونچ میں بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔ مسواۓ۔۔۔ ہارون کے۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں ہی تھے۔۔۔
باہر آۓ تھے۔۔۔ دانین کو گلے لگا کر پیار کیا۔۔۔ لیکن زرداد کے بس سلام کا جواب دے کر وہاں سے چلے گۓ تھے۔۔۔
دانین ۔۔۔ تیل لگاٶ ۔۔۔ زرداد کے بالوں میں۔۔۔ سکندر نے تھوڑا ڈانٹنے کے انداز میں دانین سے کہا۔۔۔
وہ ڈھیٹ سی ہو کر بیٹھی رہی۔۔۔
لگا دو نہ پھر دانین ۔۔ سر میں بھی بہت درد ہے۔۔۔ زرداد بات چھوڑنے والوں میں سے نہیں تھا۔۔۔ شرارت بھری آنکھوں سے اس کی طرف
14
دیکھا۔۔
دانین اٹھتی کیوں نہیں۔۔۔ مالش کر دو اس کے سر کی۔۔۔ سکندر اب خفگی کے سے انداز میِں اسے گھور رہے تھے۔۔۔
دانین زرداد کو گھورتی ہوٸی اٹھی تھی۔۔۔ جب کہ زرداد اپنی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔۔۔
وہ سرسوں کے تیل کی بوتل ہاتھ میں لیے زرداد کے سر پر کھڑی تھی۔۔۔
شرارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ اٹھا تھا۔۔۔
دانین نے بالوں میں تیل ڈال کر آہستہ سے زرداد کے بالوں میں۔۔ انگلیاں چلاٸی۔۔۔
زرداد کی آنکھیں بند ہو گٸ تھیں۔واہ۔۔۔ بیگم ۔۔ واہ۔۔ بڑا لہک لہک کر زرداد نے کہا۔۔ ۔۔ اتنا سکون مل رہا ہے۔۔ قسم سے۔۔۔
دانین دانت پیس کر ہی رہ گٸ۔۔ بابا کا لاڈلا تھا ان کے سامنے کچھ کہہ بھی نہیں سکی اسے۔۔۔
وہ بےدلی سے اس کے سر میں ہاتھ پھیر رہی تھی۔۔۔ دل کر رہا تھا ان بالوں میں پیار سے انگلیاں چلانے کے بجاۓ دونوں مٹھیوں میں بھر ک نوچ ڈالے بالوں کو۔۔۔
ڈھیٹ پورا ۔۔۔ مزے سے مسکرا رہا تھا۔۔۔
بس اب۔۔۔۔ دانین نے تیل کی بوتل بند کرتے ہوۓ کہا۔۔۔ ۔۔۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا۔۔۔ سر میں کچھ اٹھا کر مارے اس کے۔۔۔
بیگم۔۔۔ تھوڑی دیر تو اور کرو۔۔۔ ابھی تو سکون ملنے لگا تھا۔۔۔زرداد نے اس کےہاتھ پکڑ کر ۔۔ پھر سے اپنے سر پر رکھ دیے۔۔۔
دانین نے دانت پیسے۔۔۔ تایا ابا بلکل ٹھیک کہتے اسے خبیث۔۔۔
دانی۔۔۔ اچھی طرح جزب کر بیٹا۔۔۔ سارا سر خشک ہوا پڑا۔۔ اسکا۔۔۔ کہتا اتنے بڑے بڑے پارلر جاتا۔ ہوں۔۔ جو کام سرسوں نے دیکھانا وہ تھوڑی یہ انگلش کریمیں کرتی ہیں۔۔۔
ثمرہ نے دانین کی طرف دیکھتے ہوۓ اسے ہداٸت دی۔۔۔
دانین نے اب انگلیاں چلانے کے بجاۓ۔۔۔ زرداد کے سر میں زور زور سے ناخن مارنے شروع کر دیے۔۔۔
ایک دفعہ تو تھوڑا سا اچھلا تھا۔۔۔ دانین کی ہنسی نکل گٸ۔۔۔
اب وہ زور زور سے ناخن مار رہی تھی۔۔۔ اور مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کر ہی تھی۔۔۔
بیگم ۔۔۔ بس کرو۔۔۔ بس کرو۔۔ اب زرداد کی آنکھوں میں پانی آ گیا تھا تکلیف کی وجہ سے۔۔۔
نہیں نہیں ابھی کچھ دیر اور کر دیتی ہوں۔۔۔۔۔ دانین نے بڑے لاڈ سے کہا۔۔۔
اور زور سے ناخن مارے۔۔۔
آہ۔۔۔ بس ۔۔۔ ہو گیا۔۔ اب کیا سر کا اپنا تیل نکالو گی۔۔۔ ایک دم سے پیچھے ہوا تھا۔۔۔ سر کے اوپر بچوں کی طرح ہاتھ مار رہا تھا۔۔
دانین کو مزہ آ گیا۔۔۔ آج اتنے عرصے کے بعد وہ مسکرا رہی تھی۔۔۔
زرداد نے خفگی سے دانین کی طرف دیکھا۔۔
دانین نے بڑے انداز سے کندھے اچکا دیے۔۔۔ جیسے کہ کہہ رہی ہو۔۔ ایسے تو ایسے صیح۔۔۔
زرداد اپنے سر میں ہاتھ پھیر کر سر کو سہلا رہا تھا۔۔۔ ایسے لگ رہا تھا زخم کر دیے ہوں۔۔۔
رک جاٶ ذرا بتاتا ہوں تمہیں میں۔۔۔ دل میں سوچتے ہوۓ زراد لب مسکرا دیے تھے۔۔۔
❤❤❤❤❤
اب تو ۔۔۔ میں۔۔ اپنے میکے آٸی ہوں نہ۔۔۔ تو جاٶ ۔۔ اپنے کمرے میں۔۔ سو۔۔ جا کر۔۔۔ دانین اس کی اچانک آمد پر گڑ بڑا گٸ تھی۔۔۔
گھڑی پر نظر ڈالی تو۔۔۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔۔۔ منال کے ساتھ گپ شپ کرتے اسےوقت کا پتا ہی نا چلا تھا۔۔ اور جب منال کے کمرے سے نکلی تو زرداد لاونچ میں ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
وہ مزے سے آ کر اپنے کمرے میں لیٹی تھی۔۔ ابھی کچھ دیر ہی ہوٸی تھی کہ وہ کمرے میں آ گیا تھا۔۔۔ وہ ایک دم سے اٹھ کر کھڑی ہوٸی تھی۔۔۔
مجھے نیند ہی نہیں آتی اب اکیلے۔۔۔ آنکھیں شرارت سے بھری ہوٸی تھیں۔۔۔
دانین کو اس کے دیکھنے کے انداز سے ایک دم گھبراہٹ سی ہوٸی۔۔۔
کہ۔۔ کیا مطلب ۔۔ چلو۔۔ اوپر جاٶ۔۔۔ میں اکیلا سونا چاہتی آج۔۔۔ اس کو اپنے پاس آتا دیکھ کر تھوڑی سختی سے کہا۔۔۔ جبکہ دل کانپ رہا تھا۔۔۔ وہ آج عجیب نڈر سا لگ رہا تھا۔۔ ساری غلطی اس کےمسکرانے کی تھی۔۔۔ آج اس کو دیکھ کر مسکرا جو دی تھی۔۔۔ وہ تو شیر ہی ہو گیا تھا۔۔۔
زرداد کچھ بولے بنا اب بلکل پاس آ چکا تھا۔۔۔ بازو ایسے دیوار پر رکھا کہ راہ فرار کا کوٸی راستہ ہی نا چھوڑا۔۔۔
زرداد کیا مسٸلہ ہے ۔۔۔ ناگواری سے کہا۔۔۔ جبکہ پلکیں۔۔۔ آنکھوں کے اوپر کپکپا رہی تھیں۔۔۔
ناخن جو مارے اتنے ان کا بدلہ نا لوں کیا۔۔۔ آواز۔۔ ایسے تھی۔۔۔ جیسے بہت مشکل سے بول رہا ہو۔۔۔
دانین کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔۔
تم بھی تو بلاوجہ تنگ کر رہے تھے۔۔ دانین نے تھوک نگلا۔۔۔ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کو دھکیلا۔۔۔ کس چیز کا بنا ہے۔۔۔۔ ایسے جیسے پتھر ہو۔۔۔ فولاد کہیں کا۔۔۔۔
تنگ ہی کر رہا تھا۔۔۔ تم نے تو ناخن مار مار کر سر میں زخم ہی کر ڈالے۔۔ زرداد اپنی ہنسی کو چھپا رہا تھا۔۔۔
کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے۔۔۔ وہ اتنی دلکش لگ رہی تھی اس کےدل کو۔
ہٹو پیچھے۔۔۔ دھکے دے رہی تھی۔۔۔
نہیں بدل لینا ہے۔۔ زرداد نے ۔ چہرہ قریب کیا۔۔۔ اس سے پہلے کے کوٸی گستاخی کرتا۔۔۔ دانین نے گھبرا کر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔ اور زرداد کے گال پر ایک تھپڑ پڑا تھا۔۔۔
وہ ایک دم جیسے ۔۔ شرمندہ سا ہوا۔۔۔ رنگ سرخ ہو گیا تھا۔۔۔
تیزی سے دانین کی طرف ایک نظر بھی ڈالے بنا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤
وہ بار بار اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
بڑی سنجیدہ شکل بنا کر ۔۔۔ گاڑی ڈراٸیو کر رہا تھا۔۔۔ نا کوٸی شوخی نا کوٸی شرارت۔۔۔
حتی کہ اسے کچھ کہا بھی نہیں۔۔۔ اور نہ ہی کوٸی غصہ یا ناراضگی تھی۔۔ بس چہرہ بہت سنجیدہ تھا۔۔۔ اور صبح سے اہک دفعہ بھی دانین کی طرف نہیں دیکھا تھا۔۔۔
اسے کے دل کوعجیب سا کیوں لگ رہا تھا اس کا یہ انداز ۔۔۔ اسے خود سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔
وہ کبھی بالوں کو کانوںل کے پیچھے کرنے کے بہانے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اور کبھی جوتے کو ٹھیک کرنے کے بہانے تھوڑا نیچے جھک کر۔۔۔پر وہ خاموشی سے لب بھینچے گاڑی چلا رہا تھا۔۔
جو بھی تھا۔۔۔ ایسے تھپڑ نہیں مارنا چاہیے تھا۔۔۔ دل کے ایک کونے سے آواز آٸی۔۔۔
وہ کر بھی تو ایسےرہا تھا۔۔ اپنا آپ بچانے کے لیے اور کیا کرتی۔۔۔ دل کےدوسرے کونے سے آواز آٸی۔۔۔
تو کیا کر رہا تھا۔۔۔ کچھ اتنا غلط تو نہیں کر رہا تھا۔۔۔ آخر کو شوہر ہے۔۔۔ دل کے پہلے کونے سے پھر آواز آٸی۔۔۔
میں جب مانتی ہی نہیں شوہر۔۔۔ نا اس رشتے کو مانتی۔۔۔ تو پھر کیوں قریب آنے دوں اتنا۔۔۔
اس کے دماغ نےدوسرے کونے کے حق میں ووٹ دیا۔۔۔ اور دانین نے پرسکون انداز میں سر سیٹ کے ساتھ ٹکا دیا۔۔۔
کب اس کی آنکھ لگی پتہ ہی نا لگا ۔۔۔ کھلی اس وقت ہی جب گاڑی ایک جھٹکے کے ساتھ۔۔ پورچ میں رکی۔۔۔ وہ گھر پہنچ گۓ تھے۔۔۔
وہ گاڑی سے نکل کر جا چکا تھا۔۔۔
وہ بھی اپنا سامان اٹھا کر اندر کی طرف چل دی تھی۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
ڈاکٹر دانین ۔۔ ان سے ملیں۔۔۔ ہمارے نیو سٹاف ممبر۔۔۔ ڈاکٹر علی کی آواز پر دانین نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔۔۔
دانین کو تقریباََ ایک ماہ ہو گیا تھا۔۔۔ ہاسپٹل میں جاب کرتے ہوۓ۔۔۔ اب تو سب اس سے کافی گھل مل گۓ تھے۔۔۔
سامنے زین کھڑا تھا۔۔۔ دانین کا چہرہ ایک دم سے زرد پڑا تھا۔۔۔
زین نے اسے دیکھ کر ایک دم سے اپنی نظروں کا زاویہ بدل ڈالا تھا۔۔۔
وہ دھیرے سے زبردستی مسکراٸی تھی۔۔۔ اور علی کی طرف دیکھا۔۔۔ جو زین کو سب سے متعارف کروا رہا تھا۔۔۔
زین نے سلام کیا تھا۔۔۔
جس کا جواب اس نےیوں دیا تھا۔۔ کہ اسے خود اپنی آواز کسی کنویں سے آتی ہوٸی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
زین کی نظروں میں اس کے لیے حقارت تھی۔۔۔
سب ڈاکٹرز۔۔۔ زین سے مل رہے تھے۔۔۔ اسے عجیب گھٹن سی محسوس ہونے لگی تھی۔۔۔
اپنا بیگ اٹھا کر وہ باہر آ گٸ تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: