Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 15

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 15

–**–**–

آخر کو جا کہاں رہا ہے۔۔۔۔۔ دانتوں کو کچلتے ہوۓ۔۔۔ دانین نے سوچا۔۔۔ میگزین کو تھوڑا سا نیچے کر کے دیکھا۔۔۔ وہ بیڈ پر ٹانگوں کو پسارے ۔۔ لیٹی میگزین پڑھ رہی تھی۔۔۔ جب وہ باہر سےآ کر یوں بیڈ پر اپنے کپڑے نکال کر رکھنے لگا۔۔۔
وہ اب چوری چوری اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
زرداد بیگ میں کپڑے رکھ رہا تھا۔۔۔ سنجیدہ شکل۔۔۔ آنکھیں بلکل نیچے کی ہوٸی۔۔۔ جم سوٹ پہنا ہوا تھا۔۔۔ شاٸید ابھی وہیں سے آیا تھا۔۔۔
اتنے کپڑے لے کر کہاں جا رہا ہے۔۔۔ وہ دانت سے ہونٹ کچلتے ہوۓ سوچ رہی تھی۔۔۔
وہ تو اس دن سے ایسے چپ ہو گیا تھا۔۔۔ کوٸی بات نہیں کرتا تھا۔۔۔ کوٸی مزاق نہیں۔۔۔ ایسے جیسے وہ گھر میں نہیں ہے۔۔۔ ویسے تو دانین نے شکر ہی ادا کیا تھا۔۔۔ وہ چپ سادھ گیا تھا۔۔۔ اب اس چپ کے بعد دی اینڈ ہی ہو گا اس کے جنون کا۔۔۔ اس کی ضد کا۔۔۔ وہ یہ سوچ کر دل کو تسلی دیتی تھی۔۔۔
وہ واش روم میں تھا۔۔ شاور کی آواز آ رہی تھی۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ٹاول سے بال رگڑ رہا تھا۔۔۔
دانین ایسے ہی ظاہر کر رہی تھی ۔۔۔ جیسے اسے کوٸی پرواہ نہیں۔۔۔ لیکن تجسس بار بار سر اٹھا رہا تھا۔۔۔ آخر کو کہاں جا رہا ہے۔۔۔
اچھا چلو کچھ بتا کر ہی جاۓ گا ۔۔۔ اس نے اپنے دل کو تسلی دی۔۔۔ اور پھر سے چور نظروں سے اس کو دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔
وہ اب ڈریسنگ روم میں تھا۔۔۔ کھٹ پھٹ کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔ وہ تیار ہمیشہ سے ایسے ہی ہوتا تھا تسلی سے دل لگا کر۔۔۔ پتہ تھا۔۔۔ جناب کو۔۔۔ کہ میں خوبصورت ہوں تو۔۔۔اس خوبصورتی کو چار چاند لگا کر ہی باہر نکلتا تھا۔۔۔
جب ڈریسنگ سے نکلا تو۔۔ ایسا ہی تھا۔۔ ہر دفعہ کی طرح۔۔ سب کو مات دے دینے والا۔۔۔ دوشیزاوں کے دھڑکنوں کو تیز کر دینے والا۔۔۔
اب وہ خود پر سینٹ کی بارش کر رہا تھا۔۔۔ ہمیشہ کی۔۔ طرح سینٹ کی چواٸس بھی بہترین۔۔۔ ایک حصار میں لے لینے والی مہک پورے کمرے میں پھیل گٸ تھی۔۔۔
سنجیدہ شکل بنا کر ۔۔۔ ایک نظر بھی دانین پر ڈالے بنا۔۔۔ کوٹ اور بیگ کو اٹھا کر وہ باہر نکل گیا تھا۔۔۔
اور وہ اپنے تجسس کے ساتھ ہی بیٹھی رہ گٸ تھی۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤
زیبی۔۔۔ بات سنو۔۔۔ دانین نے مِیڈ کو آواز دی۔۔۔
رات ہو گٸ تھی۔۔۔ وہ صبح سے گیا ہوا تھا۔۔۔ وہ واقعی کہیں گیا تھا۔۔۔ لیکن کہاں۔۔۔ کم از کم بتا کر تو جاتا۔۔۔ اکڑ تو دیکھو۔۔۔اسے غصہ بھی آ رہا تھا۔۔۔ فکر بھی ہو رہی تھی۔ اور تجسس تو سب سے بڑھ کر تھا۔۔
جی میم ۔۔۔ زیبی ھاتھ صاف کرتی ہوٸی اس کے سامنے تھی۔۔۔
تمہارے صاحب ۔۔۔کہاں گۓ ہیں۔۔۔ کچھ پتا ہے تمہیں۔۔۔ دانین نے رک رک کر اس سے سوال پوچھا۔۔۔
میم ۔۔۔ وہ تو کبھی بتا کر نہیں جاتے۔۔۔ ان کا تو کام ہی ایسا۔۔۔ کبھی کسی ملک تو کبھی کہیں۔۔۔ ابھی تو آپ کی شادی کی وجہ سے وہ کچھ عرصہ ہمیں گھر پر نظر آۓ تھے۔۔۔ زیبی اپنے مخصوص انداز میں پوچھے جانے والی انفارمشن سے زیادہ انفارمشن دیتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے جاٶ اپنا کام کرو۔۔۔ کمر پر دونوں ہاتھ رکھے۔۔ وہ اپنے تجسس میں گِھر چکی تھی۔۔چکی تھی۔۔۔
کمرے میں آٸی ۔۔۔ تو عجیب سی خاموشی اور اکیلے پن کا احساس تھا۔۔۔ اتنا بڑا کمرہ کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔۔۔۔
آ خر کو بتا کر تو جانا چاہیے تھا نہ۔۔۔ اسے رہ رہ کر ۔۔۔ زرداد پر غصہ آ رہا تھا۔۔۔
پھر اچانک ایک خیال آنے پر جلدی سے۔۔۔ اپنا موباٸل اٹھایا۔۔۔
اس کی انگلیاں ۔۔ نازش کا نمبر ڈاٸل سے نکال رہی تھیں۔۔۔
ایک نازش ہی تھی۔۔۔جس سے اس کی اچھی بات چیت تھی۔۔اس کے علاوہ تو اور کوٸی ایسا نہیں تھا۔۔۔ زرداد کے حوالے سے جس کو وہ جانتی ہو۔۔۔
نازش کے نمبر پر بلِ جا رہی تھی۔۔۔ اور وہ اپنے ذہن میں الفاظ کو ترتیب دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔
نازش نے اپنے مخصوص ۔۔۔پر جوش انداز میں ۔۔۔ ہیلو کہا تھا۔۔
وہ سوچ رہی تھی اب کیسے پوچھے زرداد کے بارے میں۔۔
ہے۔۔۔ دانین ۔۔۔ تمہیں آج یہاں ہونا چاہیے تھا یار۔۔۔ اٹس اے بگ ڈے آف زرداد۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتی اس سے زرداد کے بارے میں۔۔۔ وہ خود ہی بول پڑی۔۔۔
کہ۔۔۔کہاں۔۔۔ ہونا چاہیے تھا۔۔۔ اس نے۔۔ اپنی آنکھ کو انگلی سے مسلتے ہوۓ پوچھا۔۔
ارے۔۔۔ یہاں دبٸ میں۔۔۔ نیشنل ایوارڈ شو ہے۔۔۔ زرداد کو بیسٹ سنگر ایوارڈ ملا ہے۔۔۔۔تم نے مِس کیوں کیا اٹس ٹو بیڈ۔۔۔ نازش خفگی سے بول رہی تھی۔۔۔
وہ۔۔وہ۔۔ مجھے۔۔ کچھ کام تھا۔۔۔ اس نے خجل سی ہو کر جھوٹ بولا۔۔۔
اچھا اب ٹی وی پر دیکھو نا۔۔۔ٹیلی کاسٹ ہو رہا ہو گا۔۔۔
اوکے۔۔۔ وہ دھیرے سے بولی۔۔
اور بات سنو۔۔۔ بڑے راز دینے کے سے انداز میں نازش نے کہا۔۔۔
اگر ادھر تمھارا دل نہیں لگ رہا تو۔۔۔ آپکے ۔۔۔ یہ زرداد جی بھی بہت اداس سے ہیں۔۔۔ آ جاتی تو اچھا تھا۔۔۔ آٸی تھنک ہی مس یو ٹو مچھ۔۔۔ وہ بڑی محبت سے دانین کو بتا رہی تھی۔۔۔
دانین تھوڑی جزبز سی ہوٸی تھی۔۔۔ آخر کو اس نے فون ہی کیوں کیا اسے اب خود پر غصہ آ رہا تھا۔۔۔ جلدی سے فون رکھ دیا۔۔۔
❤💌💌💌💌💌❤❤❤❤❤
تم میرے ساتھ ایسا بی ہیو کیوں کر رہے ہو۔۔۔ دانین بلکل اس کے سامنے کرسی کرتی ہوٸی بیٹھی تھی۔۔۔
زین نے چونک کر دانین کی طرف دیکھا۔۔۔ اور پھر ایک نظر ارد گرد ڈالی ۔۔۔ تھی۔۔۔
کیا مطلب ۔۔ کیا کر رہا ہوں ۔۔۔ میں آپ کے ساتھ۔۔۔ بہت ہی بے رخی سے زین نے کہا۔۔۔
میں جہاں بھی ہوتی ہوں ۔۔ یا آتی ہوں ۔۔۔ تم حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہو۔۔۔اور وہاں سے اٹھ کر چلے جاتے ہو۔۔۔
دانین ماتھے پرسو بل ڈالے زین کو کہہ رہی تھی۔۔۔
زین کو ہاسپٹل میں آۓ ہوۓ۔۔ ایک ہفتہ ہونے کو آیا تھا۔۔۔ وہ دانین کے ساتھ بہت برا برتاٶ کر رہا تھا۔۔۔ کہیں بھی ٹکراٶ ہو جاتا تو اتنے بری حقارت کی نظر ڈالتا۔۔۔ اور اگر کبھی۔۔۔ وہ اس جگہ پر آتی تو۔۔۔ وہ اٹھ کر وہاں سے چلا جاتا۔۔۔ پہلے تو دانین بے نیازی برتتی رہی لیکن اب باقی لوگ بھی اس بات کو محسوس کرنے لگے تھے۔۔۔ آج بھی وہ اس کے ساتھ بلکل ایسا ہی سلوک کرنے کےبعد۔۔ کیفے ٹریا میں آ کر بیٹھا تھا۔۔۔ تو دانین اس کے سر ہو گٸی تھی۔۔۔
زین ۔۔ میں نے تمہیں اسی دن کال کر کے بتا دیا تھا۔۔۔ میرا ۔۔ اس معاملے میں کوٸی ہاتھ نہیں تھا۔۔۔ مجھے کچھ بھی نہیں پتا تھا۔۔۔ وہ دانت پیس پیس کر اس سے بات کر رہی تھی۔۔۔
جو بھی ہوا میرا اس میں کوٸی ہاتھ نہیں تھا۔۔ ۔۔۔ میرا تو موباٸل بھی زرداد اپنے ساتھ لے گیا تھا۔۔۔ تم میرا یقین کیوں نہیں کرتے۔۔۔ دانین روہانسی سی ہو گٸ تھی۔۔۔
زین بلکل خاموش بیٹھا تھا۔۔۔ اس کے سامنے رکھا چاۓ کا کپ۔۔ اب بھاپ اڑانا بند ہو گیا تھا۔۔۔
دانین بھی اب بلکل خاموش بیٹھی تھی۔۔۔ ہاں اس کےناخن سامنے پڑے میز کے کناروں کو بےدردی سےکھرچ رہے تھے۔۔۔
کچھ دیر یوں ہی گزر گٸ تھی۔۔۔ خاموشی۔۔۔ خاموشی۔۔۔۔ صرف خاموشی۔۔
ویسے میں تمہیں صفاٸی دے ہی کیوں رہی ہوں۔۔۔ دانین نے گھٹی سی آواز میں کہا۔۔
اور اس کے چاۓ کے ٹھنڈے کپ پر نظر جماٸی جس پر اب ملاٸی کی تہہ جم چکی تھی۔۔۔
دانین مجھے۔۔۔ معاف کر دو۔۔۔ آواز بہت دور سے آتی ہوٸی محسوس ہوٸی۔۔۔ میں تمہارے خود کو دھوکا دینے میں تمھارا ساتھ نہیں دے سکا۔۔۔ وہ جھکے ہوۓ سر کو اٹھا کر بولا۔۔ آنکھیں کسی تھکے ہوۓ مسافر کے جیسی تھی۔۔۔
کیامطلب۔۔۔ دانین نے ناسمجھی سے زین کی طرف دیکھا۔۔۔ زین کی کی ہوٸی بات اس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔۔
دانین ۔۔ تم نے مجھ سے ۔۔ کبھی۔۔ محبت کیا۔۔ ہمدردی بھی نہیں کی تھی۔۔ اور مجھ سے شادی صرف اور صرف تمھاری زرداد سے فرار تھی۔۔۔ اور کچھ نہیں۔۔۔ وہ بڑے دھیرے دھیرے انداز میں اس پر راز افشاں کر رہا تھا۔۔۔
بدر کو جانتی ہو تم۔۔۔ زین نے چاۓ کا کپ ۔۔ ایک طرف کیا۔۔۔
دانین نے چونک کر زین کی طرف دیکھا۔۔۔ بہ۔۔بہ۔۔بدر۔۔ اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔
ہاں بدر۔۔۔ زرداد کا پرانا دوست۔۔۔ اور اس کھیل کا رازدار ۔۔۔ جو زرداد نے تمھارے ساتھ کھیلا تھا۔۔۔ زین بڑے تحمل سے بول رہا تھا۔۔ حیرت در حیرت تھی ۔۔۔ دانین کی آنکھوں میں۔۔۔
دانین دم سادھے اسے سن رہی تھی۔۔۔
جس دن زرداد کے ساتھ تمھاری شادی ہونی تھی۔۔۔ وہ آیا تھا ۔۔۔ میرے پاس۔۔۔ زین نے اپنا چشمہ درست کیا۔۔۔
اپنی طرف سے تو مجھے یہی کہنے آیا تھا کہہ زرداد ۔۔۔ دانین کے ساتھ زبردستی شادی کر رہا ہے۔۔۔ لیکن جو کچھ وہ مجھے سارا ماضی تم دونوں کا بتا چکا تھا۔۔۔ اس سے میرے دماغ نے اور ہی نتیجہ نکال لیا تھا۔۔۔ وہ مسکرایا تھا۔۔۔ ٹوٹی سی ۔۔۔ پھیکی سی مسکراہٹ۔۔
دانین تھوڑی سی جزبز سی ہوٸی تھی۔۔۔ ایک یہ اس کا ماضی اسے جینے نہیں دے گا۔۔۔
دانین سکندر۔۔۔ تم ۔۔ صرف اور صرف زرداد کی تھی ہمیشہ سے۔۔۔ اور رہو گی ۔۔ بھی۔۔۔ تم نے نفرت کی ایک دیوار جو کھڑی کی تھی ۔۔۔ اس کی بنیاد کی ساری اینٹیں محبت کی ہی تھیں۔۔۔ نفرت کی آڑ میں بھی تم اسی سے محبت کرتی رہی ہمیشہ۔۔۔ وہ بہت ٹھہرے لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔
اور دانین کے پاس سننے کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔۔۔
خود سوچو۔۔ دنیا میں تم جیسی ہزاروں لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں۔۔ جن سے لڑکے جھوٹی محبت کرتے ہیں اور پھر چھوڑ دیتے۔ ہیں۔۔ زین نے سامنے پڑے میز پر اپنے بازو ٹکا کر اسے دیکھا۔۔۔
وہ بھول جاتی ہیں۔۔۔ اور ۔۔ پھر آگے موو کرتی ہیں۔۔۔ کچھ عرصے کے بعد وہ نارمل ہو جاتی ہیں۔۔۔ اور کسی اور پر وہی محبت لٹا رہی ہوتی ہیں۔۔۔ مرد سے محبت عورت کی فطرت میں شامل ہے۔۔۔
کوٸی بار بار کر بیٹھتی ہے۔۔۔۔ تو کوٸی ۔۔۔ صرف ایک سے ہی کرتی ہے۔۔۔ اور ہمیشہ اسی سے ہی کرتی رہتی ہے۔۔۔ اس نے زہریلی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر کہا۔۔۔
اور دانین سکندر تم ان دوسرے نمبر والی عورتوں میں سے ہو۔۔۔
دانین نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ کیا جو کچھ وہ کہہ رہا تھا۔۔۔ واقعی ہی ایسا ہی تھا۔۔۔ کیا وہ سچ میں زرداد جیسے انسان کو ہی ہر رنگ میں خود پر سوار کیے رکھتی تھی۔۔۔ کبھی ڈر۔۔۔کبھی محبت۔۔۔ کبھی نفرت۔۔۔ اور کبھی ضد۔۔۔
15
تم ۔۔نے۔۔۔ کبھی ۔۔۔ ایک ۔۔ پل ۔۔۔ ایک ۔۔لمحے ۔مجھے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ تمھارے دل میں میرے لیے کوٸی چاہت ہے۔۔۔ زین پھر سے بول رہا تھا۔۔۔
جب تم نے نرمل کے ہاتھ مجھے پرپوزل بھیجنے کا کہا۔۔۔۔۔ میں یہی سمجھا کہ ۔۔۔۔ تمھارے دل میں میری محبت نے اثر کر دکھایا ہے۔۔ لیکن ایسا بلکل نہیں تھا۔۔۔ اس کی ہنسی میں اس کا درد بول رہا تھا۔۔۔
تم نے۔۔۔ زرداد کے لیے اپنی بے پناہ محبت کے گرد ایک خول چڑھا رکھا ہے۔۔۔ اور جس دن یہ خول چکنا چور ہوا۔۔۔ محبت کا سارا لاوا تمھارے پورے وجود میں پھر سے زرداد بن کر بہنے لگے گا۔۔۔ وہ اسے اس کے اندر کا حال بتا رہا تھا۔۔۔ شاٸید وہ دانین کو سچی محبت کرتا تھا۔۔۔ اسی لیے اس کو اتنا جانتا تھا۔۔۔
پھر میں ایسی۔۔۔ لڑکی سے کیسے شادی کر لیتا۔۔۔ جو پوری کی پوری کسی اور مرد کی محبت میں گرفتار ہو۔۔۔ اور ایسی محبت۔۔ جو برسوں پر محیط ہو۔۔۔ تمہاری ساری زندگی کا محور وہ ایک ہی شخص رہا ۔۔ ہے۔۔ اور مجھ سے شادی کے بعد بھی ایسا ہی رہنا تھا۔۔۔ پھر نا تو میں کبھی تمھیں خوش رکھ پاتا۔۔ اور نہ خود رہ سکتا تھا۔۔۔ میں حقیقت جاننے کے بعد اس دن آ سکتا تھا۔۔ شادی روک بھی سکتا تھا۔۔ لیکن میں جان بوجھ کر نہیں آیا تھا۔۔۔ اس نے سر نیچے جھکا لیا۔۔۔
اور تمہیں جو لگتا کہ میں تمہیں حقارت سے دیکھتا ہوں ۔۔۔ایسا بلکل نہیں ہے۔۔۔ تم واقعی ۔۔ عام لڑکی نہیں ہو۔۔۔ میں تو ویسے بھی تمہیں ابھی تک بھلا نہیں سکا۔۔۔ دل کو قابو میں لانے کو وہاں سے نکل آتا ہوں۔۔۔ وہ مسکرایا تھا۔۔
اور وہ حیرانی کے سمندر میں غوطے لگاتی اس کے سامنے بیٹھی تھی۔۔۔
اس کے بعد زین کچھ نہیں بولا تھا۔۔۔
دانین بھاری قدموں کو اٹھاتی وہاں سے چل دی تھی۔۔۔
❤❤❤💌💌💌💌💌❤❤❤
اچانک کمرے میں ہونے والی کھٹ پٹ پر دانین کی آنکھ کھلی تھی۔۔۔ زرداد ۔۔۔ اپنی الماری سے کپڑے نکال رہا تھا۔۔۔
اچھا تو آ گیا ہے۔۔۔ اس نے چوری سے تھوڑی سی آنکھیں کھول کے اسے دیکھا۔۔۔ بڑے مصروف سے انداز میں۔۔۔ اپنے کپڑے نکال رہا تھا۔۔
پورے کمرے میں اس کے سینٹ کی خوشبو پھیل گٸ تھی۔۔۔
دانین نے کروٹ لے کر منہ دوسری طرف کر لیا تھا۔۔۔
کپڑے تبدیل کرنے کےبعد جب وہ بیڈ پر آیا تو۔۔۔ وہ دوسری کروٹ میں لیٹی ہوٸی تھی۔۔۔
تھک سا گیا ہوں ۔۔ تمھاری نفرت سے لڑتے لڑتے۔۔۔ بیڈ پر لیٹ کر وہ دانین کی پشت پر بکھرے اس کے لمبے گھنے بال دیکھتے ہوۓ سوچ رہا۔۔۔تھا
جھوٹ ہی سمجھتا رہا کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔ ایک دن میری بے پنا ہ محبت تمھاری نفرت کی اس کھوکھلی دیوار کو گرا دے گی۔۔۔ لیکن میں غلط سوچتا رہا۔۔۔
واقعی تمھاری نفرت میری محبت سے زیادہ مضبوط ہے۔۔۔ وہ اب بلکل سیدھا ہو کر لیٹ گیا تھا۔۔ بے حد تھکا ہوا تھا کب ننیند آٸی پتہ بھی نا چلا۔۔۔
❤💌💌💌💌❤❤❤❤❤
الارم کی آواز پر ۔۔ اس نے آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔ بوجھل آنکھوں سے پاس پڑے موباٸل کو اٹھا کر۔۔ الارم بند کیا۔۔۔
سیدھی ہوٸی تو نظر زرداد پر پڑی تھی۔۔۔
کتنا ظالم تھا یہ شخص۔۔۔ خود غرض۔ ۔۔ اس کے لیے۔۔۔ میں کیسے اپنے دل کو صاف کر لو۔۔۔ زین کہتا ہے۔۔۔ ایک دن میری نفرت کی کھوکھلی دیوار گر جاۓ گی۔۔۔
لیکن مجھے تو یوں لگتا ہے۔۔۔ میں شاٸید ساری عمر ہی اس سے نفرت کرتی رہوں گی۔۔۔ اور یہ نفرت کبھی محبت کا لبادہ پھر سے نہیں اوڑھے گی۔۔۔ دھیرے سے بیڈ سے نیچے اتری تھی۔۔۔
اور بوجھل سے قدم اٹھاتی وہ ہاسپٹل کے لیے تیار ہونے لگی۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤
واو۔۔۔ دانین ۔۔ بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ نازش نے اس کی بلاٸیں لینے کے انداز میں کہا
وہ مسکراتی ہوٸ لان میں داخل ہوٸی تھی۔۔۔ شاکنگ پنک ستاروں سے بھرے فراک میں۔۔ سلیقے سے کۓ گۓ سہنگار کے ساتھ بہت الگ لگ رہی تھی۔۔۔
زرداد نے اپنے ایوارڈ کی خوشی میں گٹ ٹو گیدر رکھی تھی۔۔۔ سلیبرٹیز کا سمندر آج ان کے گھر کے بڑے سے لان میں موجود تھا۔۔۔
زرداد اس سے چاہے جتنا بھی بد دل ہوا تھا۔۔ لیکن اس کا ہوش ربا سراپا اس کے دل کے تار بجا رہا تھا۔۔۔
بار بار وہ دانین کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ جو بے نیازی سے کھڑی ۔۔ نازش سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔
دانین۔۔ دبٸ مس کر دیا تم نے لیکن نیکسٹ مت مس کرنا۔۔ ہم سب بنکاک جا رہے ۔۔۔ نیکسٹ منتھ۔۔۔ اور اس دفعہ تمھیں ہر صورت زرداد کےساتھ جانا ہے۔۔۔ نازش دانین کے بازو پر ہاتھ رکھ کر التجا کے انداز میں کہہ رہی تھی۔۔۔
میں ۔۔ میں کیا کروں گی وہاں جا کر۔۔۔ دانین نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔
ارے۔۔۔ کیا مطلب ۔۔ سب کی واٸف ان کے ساتھ ہوتی ہیں ۔۔۔ بس یہ تمھارا ہنڈسم اداس ہوتا وہاں۔۔ نازش نے دانین کو کندھا مارتے ہوۓ کہا۔۔۔ دانین نے نازش کی نظروں کا تعاقب کیا۔۔ وہ محفل کی جان بنا سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔۔
تمہیں جانا ہوگا ۔۔۔ پرامس کرو۔۔۔ نازش بڑے مان سے اسے کہہ رہی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔ زرداد کہیں گے تو چلوں گی میں ۔۔ اس نے خجل سی ہو کر جان چھڑوانے کے انداز میں کہا۔۔۔ ۔
کیوں نہیں کہے گا۔۔۔ رکو ذرا۔۔۔ ہے۔۔۔ زرداد ۔۔۔ زرداد کم ہیر۔۔۔ ہنڈسم۔۔ نازش ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوۓ زرداد کو بلا رہی تھی۔۔۔
دانین پر بھر پور نظر ڈالتا ہوا وہ ان دونوں کے پاس آ کر کھڑا ہوا۔۔۔
بنکاک ۔۔۔ دانین بھی ہمارے ساتھ چلے گی ۔۔۔ اوکے۔۔۔ نازش نے مسکراتے ہوۓ زرداد کو کہا۔۔
دانین ۔۔ زرداد نے تھوڑا حیران ہو کر دانین کی طرف دیکھا۔۔۔ دانین نے اسے صاف الفاظ میں کہا ہوا تھا وہ کبھی کہیں بھی اس کے ساتھ نہیں جاۓ گی۔۔۔
ہاں نہ ۔۔ اس دفعہ دیکھا نہیں ۔۔ یہ یہاں تمہیں مس کرتی رہی۔۔۔ تم وہاں اداس رہے۔۔۔ پر اگلی دفعہ یہ نہیں ہوگا۔۔ بلکل بھی۔۔ نازش قہقہ لگاتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔۔۔
زرداد نے ناسمجھی کے انداز میں پہلے نازش کی طرف دیکھا۔۔۔ اور پھر۔۔۔ دانین کی طرف۔۔۔
یہ اداس نہیں ہوا کرتی۔۔۔ بہت مظبوط ہے۔۔۔ ڈاکٹر جو ٹھہری۔۔۔زرداد نے طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔
ارے ۔۔۔ ایسی ویسی۔۔۔ جس دانین نے مجھے آج تک کبھی کال نہیں کی ۔۔۔ اس کی کال آٸی جب میں دبٸ میں تھی۔۔۔ اتنی پریشان اداس آواز۔۔ وہ زرداد کو پر شوق لہجے میں بتا رہی تھی۔۔۔
زرداد نے چونک کے دانین کی طرف دیکھا۔۔۔
دانین نے خجل سے انداز میں نظریں پھیر لیں۔۔۔
زرداد کے ہونٹوں کی گہری مسکراہٹ پھر سے لوٹ آٸی تھی۔۔۔
ہممم۔مم۔ تو ۔۔۔ نازش ۔۔ کال تو اس نے تمہیں کی۔۔ پھر اس میں یہ بات کہا سے آ گٸ ہاں کہ یہ مجھے مس کر رہی تھی۔۔۔ زرداد نے شرارت سے سامنے کھڑی دانین کو دیکھا۔۔۔ پر سوال ساتھ کھڑی نازش سے کر رہا تھا وہ۔۔۔
دانین کا اب وہاں کھڑا ہونا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔ وہ بے چینی سے ارد گرد دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ یہ کب چاہتی تھی کہہ وہ زرداد کے سامنے تھوڑی سی بھی کمزور پڑے۔۔۔ لیکن اس معاملے میں۔۔ قسمت نے کبھی اس کا ساتھ نہیں دیا تھا ۔۔۔
زرداد کی شوخی پھر سے لوٹ آٸی تھی۔۔۔ دانین تو آنکھ بھی نہیں اٹھا پا رہی تھی۔۔۔
کولڈ ڈرنک کا گلاس منہ کو لگاتے ہوۓ۔۔۔ وہ محبت پاش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
پر وہ آج تو گھور بھی نہیں پا رہی تھی اسے۔۔۔ زرداد کے قہقے۔۔۔ شوخ نگاہیں۔۔۔ پل میں واپس آ گٸ تھیں۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
سیٹی کی آواز ۔۔۔ دانین کو کوفت میں مبتلا کر رہی تھی۔۔۔ وہ کپڑے تبدیل کرنے کے بعد ابھی بیڈ پر آ کر بیٹھی ہی تھی۔۔۔ کہ۔۔ زرداد سیٹی پر کسی گانے کی دھن بجاتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔
اس نے چادر کو درست کرنا شروع کر دیا۔۔۔
وہ کپڑے بدل کر۔۔۔ اب اس کی ساٸڈ پر اس کے سر پر کھڑا تھا۔۔۔ لوز سا ٹرایوزر اور ٹی شرٹ پہنی ہوٸی تھی۔۔۔
نازش جو کہہ رہی تھی کیا وہ سچ ہے۔۔۔ دانین کا دل عجیب طرح سے دھڑکا۔۔۔
نہ۔۔نہ۔۔نہیں۔۔۔ گھٹی سی آواز میں جواب دیا۔۔۔
زرداد نے اس کاموباٸل اٹھایا۔۔۔اور کال لسٹ میں سے نازش کا نمبر نکال کر اس کے سامنے کر دیا۔۔۔
تو پھر نازش کو کیوں کال کی تم نے۔۔۔ وہ اس پر جھکا ہوا تھا۔۔۔ آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں۔۔
دانین بیٹھنے کا سے انداز میں اٹھی۔۔۔ زرداد کی نظریں اسے پریشان کر رہی تھیں۔۔۔
یہ ۔۔ تو۔۔۔ میں نے ویسےہی کی تھی اسے۔۔۔ دانین نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔۔ اور بالوں کو کان کے پیچھے کیا۔۔۔
اچھا۔۔۔ زرداد نے مسکراہٹ دباٸی۔۔۔
وہ اس کے پیروں کی طرف بیٹھ رہا تھا۔۔۔ دانین نے جلدی سے پیر سمیٹ لیے۔۔۔
اور سمٹ کر بیٹھ گٸ۔۔۔
آج وہ زرداد کو ترکی بہ ترکی جواب نہیں دے رہی تھی۔۔۔
مان کیوں نہیں لیتی کہہ تمہیں محبت ہے ۔۔ اتنی اپناٸت بھرا لہجہ تھا۔۔۔
میں جانتا ہوں ۔ تم نے صرف اور صرف مجھے چاہا ہے۔۔۔ وہ تھوڑا اور قریب ہوا تھا۔۔۔
دانین جب اتنی محبت کرتی ہو تو پھر کیوں مجھے پل پل تڑپا رہی ہو۔۔۔ لہجے میں التجا تھی
کیوں نفرت کا لبادہ اوڑھ کے پھرتی ہو۔۔۔ چہرہ اب بلکل پاس تھا دانین کے چہرٕے کہ اگر دانین آنکھیں کھولتی ۔۔ تو وہ پورے کا پورا اس میں سما جاتا۔۔۔
بولو نہ۔۔۔ بولو بھی۔ دانین کی قربت میں زرداد کی آواز پھر سے بھیگ رہی تھی۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ دانین کی خاموشی کو ہاں سمجھ کر ۔۔ اس کے اور قریب آتا۔۔۔
دانین نے دھکے کے سے انداز میں اسے دور کیا۔
ہاں ۔۔۔کرتی ۔۔۔ ہوں ۔۔ محبت ۔۔۔ بہت کرتی ہوں۔۔۔ وہ روہانسی آواز میں چیخ رہی تھی۔۔۔
پر تم نہیں کرتے مجھ سے محبت۔۔۔ زرداد ہارون۔۔۔ تم نہیں کرتے۔۔۔ اس کی آنکھوں میں خون جیسی لالی تھی۔۔۔
میں کیسے کر لوں یقین کہ تم مجھے نہیں چھوڑو گے۔۔۔ تم مجھے عزت دو گے۔۔۔ میرا ساری عمر ساتھ نبھاٶگے۔۔۔
بولو میں کیسے کروں تم پر یقین۔۔۔ نہیں آتا مجھے تم پر تمھاری اس محبت پر یقین۔۔۔
تم نے خود مجھے ایسا بنایا ہے۔۔۔ خود ۔۔۔ تمھاری وہ باتیں۔۔۔ آج بھی میری روح تک چھلنی کر دیتی ہیں۔۔۔ جب تم نے میری پاک محبت کی توہین کی ایک دفعہ نہیں ۔۔۔ دو دفعہ کی۔۔۔
ہاں میں اعتراف کرتی ہوں آج کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں۔۔۔ اور شاٸید ہمیشہ کرتی رہوں گی۔۔۔لیکن میں تم پر کبھی یقین نہیں کر سکتی۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: