Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 16

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 16

–**–**–

میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔ دانین۔۔ تمہیں پانے کے لیے۔۔ کیانہیں کیا میں نے۔۔۔ زرداد نے ٹوٹے ہوۓ لہجے میں کہا۔۔۔ دانین کی روتی صورت اس کے دل کو گھٹن دے رہی تھی۔۔۔
زرداد کا چہرہ۔۔۔ پھر سے مرجھا سا گیا تھا۔۔۔ ایک غلطی کی اسے اب اتنی بڑی سزا ملے گی۔۔۔ کہ جس لڑکی سے وہ بے پناہ محبت کرتا ہے۔۔۔ وہ ہی اس پر کبھی اعتبار نہیں کرے گی۔۔۔
مجھے پانا۔۔۔ تمھاری ضد تھی۔۔۔ میں کیسے مان لوں یہ محبت تھی۔۔۔ دانین کا چہرہ آنسوٶں سے بھیگا ہوا تھا۔۔۔ آواز رونے کی وجہ سے بھاری ہو گٸ تھی۔۔۔ آنکھوں میں اپنی ساری اذیتوں اور ذلت۔۔ کا کرب واضح تھا۔۔۔
میں تمہیں کیسے یقین دلاٶں۔۔۔ بولو۔۔۔ وہ التجا کے انداز میں اسے کہہ رہا تھا۔۔۔ اس کے اتنا قریب بیٹھ کر بھی وہ اس سے کوسوں دور تھا۔۔
ٹھیک ہے تم مجھے موقع تو دو میں تمہیں دنیا کی ہر خوشی دوں گا۔۔۔وہ اب دانین کے آنسو صاف کر رہا تھا۔۔۔ اس کے گال پہ اپنا ہاتھ رکھ کے وہ اپنے انگوٹھے سے اسکے آنسو پونچھ رہا تھا۔۔۔
ہر دفعہ کی طرح دانین نے ہاتھ نہیں جھٹکا تھا۔۔۔ اور یہی بات شاٸید ۔۔ زرداد کو ہمت دے گٸ تھی۔۔۔ اس نے دانین کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لیا۔۔۔
اس نے تب بھی ہاتھ نہیں جھٹکا تھا۔۔۔
اب وہ اتنا قریب تھا کے سانسیں بھی سناٸی دے رہی تھی۔۔۔ اس کی قربت سے ترسا ہوا تھا وہ۔۔۔اتنی محبت تھی۔۔ جزبات کے لاوے کو بہنے سے روکنا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔ اور آج روکتا بھی کیونکر۔۔ یہ وہ پہلی سیڑھی تھی۔۔۔ جس کے زینے چڑھتا ہوا وہ اس کے اعتبار اور یقین کو واپس لا سکتا تھا۔۔
نہیں۔۔۔ دانین نے منہ پیچھے کرتے ہوۓ۔۔۔ اسکے اپنے اوپر پوری طرح جھکے وجود کو بے دردی سے پیچھے کیا تھا۔۔۔
وہ حیرانگی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ آنکھیں۔۔۔ دل کی بے تابی کا حال بیان کر رہی تھیں۔۔۔۔
کیوں۔۔۔ یہی تو وہ رشتہ ہے جو ہم دونوں کے رشتے کو مضبوط کرے گا۔۔۔ آواز ۔۔ جزبات ۔۔ کی گرمی۔۔۔ سے خمار آلودہ تھی۔۔۔
دانین کا بازو پکڑ کر پھر سے قریب کرنا چاہا۔۔۔
نہیں۔۔ میں یہ نہیں مانتی۔۔۔ دانین نے اپنا بازو آہستہ سے چھڑوا کر اپنی۔۔ گود میں رکھ لیا ۔۔۔
میں اس رشتے کو کیسے آگے بڑھا دوں۔۔۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسل رہی تھی۔۔۔ پلکیں جھکی ہوٸی تھیں۔۔۔ اور آواز آنسوٶں سے رندھی ہوٸی تھیں۔۔۔
کیوں کیا براٸی ہے۔۔۔ تم مجھ سے محبت کرتی۔۔ ہو۔۔۔ میں تم سے کرتا ہوں۔۔۔ زرداد نے بے چین سا ہو کر کہا۔۔۔
نہیں میرے دل میں یہ خلش ہے کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتے۔۔۔ یہ رشتہ صرف دو وجود کا ملن ہی نہیں ہوتا۔۔۔ اس میں روحوں کا ملاپ ضروری ہے۔۔ وہ آہستہ آہستہ۔۔۔ بول رہی تھی۔۔۔ لیکن نظر اٹھا کر ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا۔۔۔
اور جب تک میری روح میں تمھاری محبت پر اعتبار کی تاسیر نا گھل جاۓ۔۔۔ میں یہ ملن بھی نہیں چاہتی۔۔۔ اپنی گال پر آۓ آنسو کو صاف کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔زرداد ایک دم سے اپنے جزبات کے لاوے کو ٹھنڈا کرتا ہوا اٹھا تھا۔۔۔
میں تھک چکا ہوں۔۔۔ اب مجھ پر اعتبا تمہیں اللہ ہی دلواۓ گا۔۔۔ وہ دانین کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
اگر وہ میرے دل میں تمھارے لیے بے پناہ محبت ڈال سکتا ہے۔۔۔ تو وہی ہستی ہے صرف جو ۔۔۔ تمھارے دل کو میرے لیے صاف کر سکتی ہے۔۔۔ اب پر سوچ انداز میں ۔۔۔اپنے ہونٹوں پہ زبان پھیری۔۔۔
میں تو یونہی دیوانہ وار چاہت لٹاتا جاٶں گا۔۔۔ لیکن اعتبار کا کام اللہ کی ذات پر چھوڑا۔۔۔ ۔وہ یہ کہ کر ےتیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤
ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے گال پر جڑ کے۔۔۔ کندھوں سے پکڑ کر جھنجوڑ کے کہوں۔۔۔دنیا کی سب سے پاگل لڑکی۔۔۔ گھٹنوں تک تمھارے عشق میں ڈوبا ہوا ہوں ۔۔۔ کیا میری آنکھوں میں موجزن محبت کا سمندر نظر نہیں آتا تمہیں۔۔۔
زرداد کے دل نے بےتاب ہو کر سوچا۔۔۔
ہاتھ کی اور پورے جسم کی رگیں تنی ہوٸی تھیں۔۔۔ ہاتھ میں پکڑے سگریٹ کا ہلکے ہلکے سے کانپنا۔۔۔ اس کے ضبط کی نشانی تھی۔
آنکھوں میں ۔۔۔ جلن تھی۔۔۔ اور گلے میں ایسے جیسے کوٸی گولہ سا اٹک گیا ہوتا۔۔۔آنکھوں میں پانی کتنی دیر لہراتا رہا۔۔
پھر اچانک گال پہ کچھ محسوس ہونے پہ اس نے گال کو چھوا تو وہ گیلی تھی۔۔۔
وہ حیران سا انگلی کے پور پر لگے اپنے آنسو کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ زندگی میں اپنا ہوش سنبھالنے کے بعد آج پہلی دفعہ خود کو روتے دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ قہقہ لگا رہا تھا۔۔۔ زرداد ہارون ۔۔۔ ساری زندگی۔۔۔ دوسروں کو رولانے والا ۔۔۔ دنیا کے کامیاب انسانوں میں سے ایک۔۔۔ ایک اشارہ کرے تو۔۔۔ دنیا کی کتنی ہی دلکش دوشیزایں قدموں میں ڈھیر ہو جاٸیں۔۔۔ ایک معمولی شکل و صورت کی لڑکی کی محبت میں رو پڑا تھا۔۔۔
دانین کو تو بہت صبر سے سنا آیا تھا۔۔۔ کہ اس نے اپنا رشتہ خدا کے بھروسے پر چھوڑ دیا۔۔۔ لیکن اسکو پتا ہے سب ادھورا چھوڑ کر آنا۔۔۔ اور کسی کا اپنی محبت پر یقین نہ ہونے کا دکھ کا بوجھ اٹھانا کیا ہوتا ہے۔۔۔ یہ صرف زرداد ہی جانتا تھا۔۔۔
بال ٹیرس میں چلنے والی ہوا سے بے ترتیب ہو گۓ تھے۔۔۔
اسکو یہ بات کیوں نہیں سمجھ آتی۔۔۔ کہ وہ اور میں۔۔۔ اس وقت عمر کے جس دور میں تھے۔۔۔ ہماری عمر کی طرح ہمارے جزبات بھی کچے تھے۔۔۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔۔۔
لیکن وہ صیح ہی تو کہتی ہے۔۔۔ جس خاندان کا میں سپوت ہوں۔۔۔ اس کی رگوں میں بھی تو وہی خون ہے۔۔۔ میں نے اسے ہر حال میں اپنا بنا کے چھوڑا۔۔۔ اور وہ بھی ضد کی ایسی پکی نکلی۔۔۔ آج شادی کو۔۔۔ دو ماہ سے اوپر ہونے کو آۓ ۔۔۔ پر اس کے دل سے بے اعتباری کا پتھر ذرا سا نا کسھکا۔۔۔
ٹیرس پر ۔۔ وہ۔۔۔ اس کے ٹھنڈے ہوۓ جزبات۔۔۔ اور دانین کے لیے بے پناہ محبت۔۔۔مل کر ۔۔۔ساری رات ماتم مناتے رہے۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤
کیا ایسا ہے مجھ میں۔۔۔ کہ ۔۔ وہ یہ کہے کہ وہ مجھ سے شدید محبت کرتا ہے۔۔۔ اور میں مان لوں۔۔۔ ڈریسنگ کے آٸینے میں کھڑی وہ اپنے سراپے کو دیکھ کر سوچ رہی تھی۔۔
وہ خود اتنا خوبصورت ہے۔۔۔ ہر چیز جو اس سے منسوب ہے۔۔۔ اسی کی طرح بے مثال ہے۔۔۔۔۔ اور میں۔۔۔میں تو وہ کلو ہوں ۔۔۔ جس سے اسے جھوٹی محبت بھی بوجھ لگتی تھی۔۔۔۔۔ میں کتنی بیوقوف تھی تب۔۔۔ جب اس نے کہا تھا کہہ میں اسے اچھی لگتی ہوں۔۔۔ دل نے فوراََ اس کی بات پر سر تسلیمِ خم کر دیا تھا۔۔۔ اس نے اپنا گندمی سا چہرہ دیکھا۔۔ معامولی خدوخال۔۔ اس پر ہنس رہے تھے۔۔۔
اور پھر سچ جان کر ایسے اپنی ہی نظروں میں گری تھی کہ اس کی تکلیف وہی جانتی تھی۔۔ یا اس کا خدا جانتا تھا۔۔۔
زرداد ہارون یہ دل بھی وہی ہے۔۔۔میں بھی وہی۔۔ ہوں۔۔۔ اور تم بھی وہی ہے۔۔۔ پھر کیسے کہہ رہے ہو۔۔۔سب بھلا کر تمھارے ساتھ ہنسی خوشی جینے لگوں۔۔۔
جب بھی وہ یوں محبت لوٹانے کو اتنا پاس آتا ہے۔۔۔ دل کا ایک کونا تو مچل سا جاتا۔۔۔ کہہ اس کے سینے سے جا لگوں۔۔۔ اور اپنا آپ اس کو سونپ دوں۔۔۔ لیکن پھر دل کے دوسرے کونے سے آواز آتی ہے۔۔۔ وہ محبت کرتا ہے۔۔۔ صرف محبت۔۔۔ وہ محبت جس کے سچے ہونے پہ بھی شک ہو۔۔۔ نہ تو عزت کرتا۔۔۔ نا احترام۔۔۔ جب چھوڑنے پر آۓ گا تو۔۔۔ دانین کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا۔۔۔
اور جب چھوڑنے پر آۓ گا۔۔۔ تو۔۔۔۔ وہ بری طرح رو دی تھی۔۔۔ وہ آج بے آواز نہیں رو رہی تھی۔۔۔
میں منسا نہیں۔۔۔ جو آرام سے آگے بڑھ جاٶں گی۔۔۔ پچھلی دفعہ تو مرتے مرتے بچ گٸ تھی۔۔۔ اب کی بار۔۔۔ اب کی بار ۔۔۔تو سچ میں مر ہی جاٶں گی۔۔۔ پورا کمرہ اس کی سسکیوں سے گونج رہا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
ہم۔م۔م۔ ایسا کریں ۔۔۔ آپ ادھر ہی آ جاٸیں۔۔ میں گھر نہیں ہوں۔۔ ابھی ۔۔ یہیں بات کرتے ہیں۔۔ کال کاٹ کر مشہود کو فون پکڑا دیا۔۔
کسی فلم کے پرڈیوسر کی کال تھی۔زرداد لنچ کے لیے کسی ریسٹورانٹ میں بیٹھا تھا۔۔ اسکو بھی ادھر ہی بلا لیا تھا
مشہود۔۔۔ آرڈر تھوڑا لیٹ کروں گا میں۔۔۔ وہ منیر پہنچ رہا ہے اسی کے ساتھ۔ اپنے موباٸل کو دیکھتے ہوۓ لا پرواہی سے کہا۔
جی سر۔۔۔ مشہود نے فون ہاتھ سےپکڑتے ہوۓ کہا۔
موباٸل کو دیکھتے ہوۓ اچانک سامنے نظر پڑی تو پھر وہ دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔وہ کیسے بھول سکتا تھا اسکو۔۔۔
تھوڑی دیر اسےدیکھتے رہنے کے بعد وہ کچھ سوچتے ہوۓ اپنی جگہ سے اٹھا۔۔ اور اب اس کے سر ہر کھڑا تھا۔۔۔
زین نے چونک کر اسکو دیکھا
زرداد نے اپنے کوٹ کو اپنے مخصوص انداز میں جھٹکا دیا ۔۔۔ اور اس سے بنا پوچھ اسکے سامنے والی کرسی پر براجمان ہو گیا تھا
زین نے مینو کارڈ بند کیا اور بھنویں اچکا کر سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔ جیسے کہہ رہا ہو جی فرماٸیں۔۔۔
کیسے ہو۔۔۔ اپنے موباٸل کو سامنے میز پر رکھ کر ۔۔ انکھوں کو سکیڑ کر زین کی طرف دیکھا۔۔۔
ٹھیک ہوں۔۔۔ زین نے مختصر جواب دیا۔۔۔
تم ۔۔۔یہاں۔۔۔۔ کراچی۔۔۔ ہونٹوں پر زبان پھیر کر اردگرد دیکھتے ہوۓ زین سے سوال کیا۔۔۔
پورا پا کستان تمھارا تو نہیں۔۔۔ کہیں بھی ہو سکتا ہوں میں۔۔۔ زین نے روکھے سے انداز میں کہا۔۔
ہم۔م۔م۔ صیح کہہ رہے ہو۔۔۔ میں ہر چیز پر تو اپنا حق نہیں جما سکتا۔۔۔ مسکراہٹ۔۔۔ بہت روکھی اور ٹوٹی سی تھی۔۔
تم ۔۔۔ ملتان گۓ تھے۔۔۔ مجھ سے ملنے۔۔۔ زین نے سوالیہ نظروں سے زرداد کی طرف دیکھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ گیا تھا ۔۔ وہاں سے پتہ چلا تم وہاں سے چلے گۓ ہو۔۔۔ اپنے موباٸل کو اس کے بلکل سامنے میز پر گھوماتے ہوۓ کہا۔۔
پوچھ سکتا ہوں۔۔ کیا کام تھا اب تمہیں مجھ سے۔۔۔ زین نے چبھتی ہوٸی نظر اس پر ڈالی تھی۔۔۔ جو اس دن کی طرح اکڑ میں تو بلکل نہیں تھا۔۔۔ اسے تھوڑا سا مختلف ہی لگ رہا تھا۔۔۔
مجھے ۔۔۔ تم سے معافی ۔۔۔ مانگنی تھی۔۔۔۔ رک رک کر دھیمے سے لہجے میں کہا۔۔۔
زین حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس دن والے زرداد اور اس زرداد میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔۔
کس بات کی معافی۔۔۔ زین نے چشمہ درست کیا۔۔۔ اور پر سوچ سے انداز میں زرداد کو دیکھا۔۔۔
تمھارا دل توڑنے ۔۔۔ اور دھوکے سے دانین کو تم سے چھیننے کی معافی۔۔۔
16
ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوۓ زین کی طرف دیکھا۔۔
زین نے ہلکا سا قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔
زرداد نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
زرداد وہ تمھاری ہی تھی ہمیشہ سے۔۔۔ تم اس کو جیسے بھی لے گۓ۔۔۔ لے کر تو جانا ہی تھا۔۔۔ اور رہا میرے دل کا سوال۔۔ یک طرفہ محبت کرتا تھا۔۔۔ تمھاری دانین سے۔۔۔ اس نے کبھی مجھے ایسے خواب ہی نہیں دکھاۓ تھے۔۔ جن کو چھن جانے کا دکھ ہوتا مجھے۔۔۔ زین کے چہرے پر۔۔ پرسکون سی مسکراہٹ تھی۔۔۔
اور اس کے سامنے ۔۔۔زرداد ہارون۔۔۔آج لاجواب بیٹھا تھا۔۔۔
❤💌💌💌💌❤❤❤
پہلی دفعہ کر رہی ہو کیا جہاز میں سفر۔۔۔ نازش نے مسکراتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
ہم۔۔م۔۔۔م۔۔۔فرسٹ ٹاٸم ہی ہے۔۔ دانین واقعی تھوڑی نروس ہی تھی۔۔۔
کیوں زری۔۔۔ میں تو سمجھی تھی تم کہیں۔۔۔ باہر گۓ ہو گے ہنی مون کے لیے۔۔۔ نازش نے پاس کھڑے زرداد سے کہا۔۔۔ نازش کی آنکھوں میں معنی خیز سی مسکراہٹ تھی۔۔
ہنی مون۔۔۔۔زرداد نے اپنے انداز میں قہقہ لگایا تھا۔۔۔
پاس کھڑی ۔۔۔ دانین خجل سی ہو گٸ۔۔۔
ہاں تو۔۔۔ اس میں اتنا ہنسنے والی کون سی بات کر دی میں نے۔۔نازش کبھی زرداد کہ طرف دیکھ رہی تھی تو کبھی دانین کی طرف۔۔۔۔
دانین دوسری طرف دیکھنے لگی تھی۔۔۔
وہ لوگ بنکاک کے لیے نکل رہے تھے۔۔۔ دانین نے نازش کو بہت منع کیا لیکن وہ بضد تھی کہ اسے اس دفعہ ساتھ جانا ہی ہے ۔۔۔ دو ہفتے سے زرداد نے اس سے بات کرنا بھی بند کر دی تھی۔۔ وہ بھی یاسپٹل سے آتی اور کمرے بند۔۔۔۔ زراداد یا تو گھر آتا ہی نہیں تھا۔۔ کبھی کسی شہر میں ہوتا کبھی کسی شہر میں۔۔۔ کانسلٹ۔۔۔ شوٹنگز۔۔۔ شوز۔۔۔ اس نے اپنے آپ کو مزید مصروف کر لیا تھا۔۔۔ جس شو سے وہ جیت کر یہاں تک پہنچا تھا۔۔۔ اسی شو کے ججز میں وہ تھا اس سال۔۔۔
دونوں اس دن کے بعد آج ایک دوسرے کے ساتھ تھے۔۔۔
جہاز آڑان بھرنے کو تیار تھا۔۔ وہ زرداد کے پہلو میں بیٹھی تھی۔۔۔ اس نے پلکیں پورے زور سے بند کر رکھی تھیں۔۔۔
زرداد کو اس کی حالت پر ہنسی آ رہی تھی۔۔۔ جس کو بڑی مشکل سے دبا رکھا تھا۔۔۔
جیسے جہاز اوپر اٹھا اس نے زرداد کے بازو کو زور سے تھام لیا تھا۔۔۔
چڑیل ہو کیا تم۔۔۔ زرداد نے سرگوشی کے سے انداز میں اس کے کان کے قریب ہو کر کہا تھا۔۔۔ جب کے ہونٹ بری طرح مسکراہٹ کو دبا رہے تھے
اس نے دھیرے سے آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔۔ زرداد کے بازو پر وہ بری طرح اپنے بڑے بڑے ناخن پیوست کیے ہوۓ تھی۔۔۔
اوہ۔۔ فوراََ شرمندہ سی شکل بنا کر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔
زرداد کا بازو وہاں سے سرخ ہو چکا تھا۔۔۔ ۔وہ دھیرے سے اپنا بازو سہلا رہا تھا۔۔لیکن دانین کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔
یہ لگا لو۔۔۔ بیگ میں منہ دے کر تھوڑی دیر بعد وہ ایک کریم تلاش کرنے میں کامیاب ہو گٸ تھی۔۔
جب اندر لگے زخموں پر مرہم نا رکھا کبھی ۔۔۔ تو اس کی بھی ضرورت نہیں۔۔ بڑی معنی خیز نظروں سے دانین کی طرف دیکھا۔۔۔ بڑی گہری آنکھیں تھی۔۔۔
وہ جھینپ گٸ۔۔ تھی۔۔ پھر نظریں جھکا کر۔۔ اس کے بازو پر کریم لگانا شروع کر دی۔۔۔
زرداد نے بہت غور سے اس کے سر کی مانگ کو دیکھا۔۔۔
پیار اتنا کرتی ہو۔۔۔ اعتبار نہیں کرتی۔۔۔ وہ اسے کی نرم انگلیوں کی گرماٸش سے محزوز ہو رہا تھا۔۔۔
میگزین پڑھتے اسے ابھی تھوڑی دیر ہی ہوٸی تھی۔۔۔ کند ھے پر کچھ وزن محسوس ہوا۔۔۔
دانین سو رہی تھی اور سر ڈھلک کر زرداد کے کندھے پر تھا اب۔۔۔
ہوش میں ۔۔ ہم پر ۔۔ ایسی نوازشیں کہاں۔۔۔ زرداد نے میگزین بند کر کے ایک طرف رکھ دیا۔۔۔
اپنے موباٸل کاکیمرہ کھولا۔۔۔ اور اپنے اور اس کے سراپے کو ایک ساتھ کتنی ہی تصویروں میں قید کر لیا۔۔۔
اس کےکندھے پر سر رکھے۔۔۔ آنکھیں موندے۔۔۔ وہ دنیا جہان کی معصومیت کو سموۓ۔۔۔ سو رہی تھی۔۔۔ زرداد کے لب مسکرا دۓ تھے۔۔۔ دھیرے سے سیٹ کی پشت کے ساتھ سر ٹکا کر اس نے بھی آنکھیں موند لی تھیں۔۔۔
کسی کے بولنے پر دانین کی آنکھ کھلی تو ۔۔ جھینپ گٸی۔۔۔ بڑے مزے سے زرداد کے کندھے کو تکیہ سمجھ کر سر رکھے ہوۓ تھی۔۔۔
سورٕی۔ ۔۔دھیرے سے کہا ۔ جب کہ اس کے ہاتھ اسکے بالوں کو کانوں کے پیچھے کر رہے تھے۔۔۔
پہلی دفعہ دیکھا ہے ۔۔۔ کوٸی عناٸت کرنےپر بھی معافی مانگ رہا ہے۔۔۔۔ آنکھوں میں بہت سے شکوے لیے زرداد نے اس کی طرف دیکھا۔۔
اس نے خاموشی سے رخ موڑ لیا تھا۔۔
اب وہ غصہ نہیں کرتی تھی ۔۔ نہ ہی ناگواری دکھاتی۔ تھی۔۔ بس چپ ہو جاتی تھی۔۔۔ اب اسے اس پر غصہ آتا بھی نہیں تھا۔۔۔ جہاز لینڈ کر رہا تھا۔۔۔
زرداد نے مسکراتے ہوۓ شرارت سے اپنا بازو اس کے آگے کیا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤
وہ کبھی اس کروٹ بیٹھ رہی تھی ۔۔ تو کبھی اس کروٹ۔۔۔
نادیہ بخت۔۔۔ کےساتھ زرداد اپنے ہی ایک گانے پر پرفارم کر رہا تھا۔۔۔ کبھی اس کی کمر پر ہاتھ رکھ رہا تھا تو کبھی اس کو کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھا رہا تھا۔۔۔
دانین کے گال تپ رہے تھے۔۔۔ وہ اتنی مشہور اور خوبصورت ٹاپ ماڈل تھی۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ پرفکیٹ کپل لگ رہے تھے۔۔۔اور ایک وہ تھی۔۔ اس کا اور زرداد کا کوٸی مقابلہ ہی نہیں تھا۔۔۔
گھٹن سی ہو رہی تھی۔۔۔دل کر رہا تھا۔۔۔سٹیج پر جاۓ۔۔۔ اور ہاتھ پکڑ کر زرداد کو وہاں سے کہیں اور لے جاۓ۔۔۔ وہاں جہاں ایسی دنیا نہ ہو جیسی اس کی تھی۔۔۔
وہ خود اپنی ہی حالت پر پریشان ہو رہی تھی۔۔۔
اس کا رنگ زرد پڑتا جا رہا تھا۔۔ شاٸید۔۔۔ وہ پہلی دفعہ زرداد کو اس طرح لاٸیو کسی کے ساتھ پرفارم کرتا دیکھ رہی تھی۔۔۔
جب ۔۔ جب نادیہ اپنا چہرہ اس کے چہرہ کے پاس لے کر آتی دانین فوراََ جزبز سی ہو کر اردگرد دیکھنے لگتی۔۔۔
کبھی ہونٹوں پر زبان پھیرتی۔۔۔
اسے خبر بھی نہیں تھی۔۔۔ کتنے ہی کیمرے اس کی یہ حالت ریکارڈ کر رہے تھے۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤
وہ بیڈ پر لیٹا قہقے لگا رہا تھا۔۔ جاندار قہقے ۔۔۔آج کتنے عرصے بعد وہ ۔۔ یوں کھل کر ہنس رہا تھا۔۔۔
وہ ہاتھ صاف کرتے ہوۓ اسے حیران ہو کر دیکھ رہی تھی۔۔۔
زرداد کو مختلف کیمرہ مینز کی طرف سے دانین کی وہ وڈیو گفٹ مل رہی تھی۔۔۔ جو کل رات کے شو میں اس کی حالت پر بنی تھی۔۔۔
وہ زرداد کے دل کو ایسے کرتی ہوٸی ۔۔پوری دنیا سے زیادہ دلکش عورت لگ رہی تھی۔۔۔
نہ خود کو ہاتھ لگانے دیتی۔۔۔ نہ کسی اور کو چھونے دیتی ۔۔
ظالم کہیں کی۔۔۔۔ زرداد نے اس کو اپنی آنکھوں میں بساتے ہوۓ سوچا۔۔۔
زرداد نے اپنی ہنسی چھپاتے ہوۓ دانین کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔
جو ڈریسنگ کے آگے کھڑی تیار ہو رہی تھی۔۔۔ انہیں آج بنکاک گھومنا تھا۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤
زری تھوڑا سا تو اور قریب ہو۔۔۔ اس سے زیادہ قریب تو تم رات نادیہ کے ساتھ ۔۔۔ نازش قہقہ لگا رہی تھی
دانین کا دل ایک دم اے ڈوبا تھا۔۔۔ رات والے منظر نظروں کے سامنے سے گزر رہے تھے۔۔۔
نازش زرداد اور دانین کی تصویریں بنا رہی تھی۔۔۔
یہاں اتنا قریب ہونے پر سزا مل جاتی ہے۔۔۔ زرداد نے دانین کے کان میں سرگوشی کی۔۔
دانین کا دل ہلکے سے ڈوبا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤
نازش کہاں ہے۔۔۔ دانین نے مدھم سی آواز میں زرداد سے پوچھا۔۔۔ اور ارد گرد نازش کو تلاش کرنے لگی۔۔۔
وہ آج بنکاک سے واپس جا رہے تھے۔۔ اور دانین ایر پورٹ پر۔۔۔ نازش کو تلاش کر رہی تھی۔۔۔
وہ تو کل رات چلی گٸ ہے۔۔۔ زراد نے سن گلاسز چڑھاۓ۔۔
تو ہم کہاں جا رہے پھر۔۔ دانین نے حیران ہو کر زرداد کی طرف دیکھا۔۔
ہم انڈیا جا رہے ہیں۔۔۔ اس نے کیپ کو نیچے کر کے اپنا منہ چھپایا۔۔۔
وہ لگیج کے ساتھ چلتے ہوۓ جا رہے تھے۔۔۔
ہم۔۔۔۔ انڈیا جا رہے۔۔۔ تم نے بتایا ہی نہیں۔۔۔ وہ حیران سی ہو کر اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ تو ہاسپٹل سے اتنی لیو نہیں لے کر آٸی تھی۔۔۔
میرا تو پہلے سے پلین تھا۔۔۔ میری کچھ پے منٹ رہتی۔۔۔ اور ایک دو فلم کے گانوں کےکنٹریکٹ ساٸن کرنے پھر وہاں سے دو دن بعد ہماری واپسی ہو گی۔۔۔ پاکستان کے لیے۔۔۔
ہریشان نہ ہو زیادہ دیر نہیں رکنا پڑے گا ۔۔۔
وہ کچھ کہتے کہتے رک گٸ تھی۔۔۔ پھر خاموشی سے زرداد کے قدم سے قدم ملا کر چلنےلگی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: