Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 17

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 17

–**–**–

سنا۔۔۔ ہے۔۔۔ محبت کرنے والوں کی جگہ ہے یہ۔۔۔زرداد نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر دانین کی طرف دیکھا۔۔
وہ جو تاج محل کی سفید رنگ کی خوبصورت عمارت کو دیکھنے میں محو تھی۔۔۔ اس کی بات پر پیچھے مڑ کر۔۔۔ اسے دیکھا۔۔۔
وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہی قاتل مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاۓ کھڑا تھا۔۔۔
سورج کی کرنیں ۔۔۔۔ تاج محل کے سامنے بنی ندی کے پانی پہ پڑ پر کر منظر کو اور خوبصورت بنا رہی تھی۔۔۔
پر کبھی کبھی بے اعتبار لوگ محبت کا اعتبار بھی پا جاتے ہیں۔۔۔ یہاں آ کر۔۔۔ وہ اب چلتا ہوا بکل اس کے سامنے آ گیا تھا۔۔۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ ڈیرہ ڈالے ہوٸی تھی۔۔۔
اعتبار ایسے نہیں آۓ کرتے۔ زرداد۔۔ وہ ہوا سے اڑتے ہوۓ دوپٹے کو سنبھال رہی تھی۔۔۔ اور ایک طنز بھری سی مسکراہٹ اس کے بھی لبوں پر تھی۔۔۔
تو کیا جان لے کر ہی اعتبار کرو گی۔۔۔۔ ٹوٹے ہوۓ لہجے میں کہا۔۔ آنکھیں۔۔۔ محبت کی گہراٸ کا واضح ثبوت دے رہی تھیں۔۔۔
دانین نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔ایسی بات نہیں ہے۔۔۔ اس کے چہرے پر ناگواری آ گٸ تھی۔۔۔
تمہیں پتا ہے۔۔۔ یہ شاہ جہان نے ممتاز کی محبت میں بنایا۔۔ تھا۔۔ اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے زرداد نے فوراََ بات کو بدل ڈالہ۔۔
ایک شوہر کی بیوی کے لیے محبت۔۔۔ اب دونوں کی نظروں کا رخ تاج محل کی عمارت کی طرف تھا۔۔۔
دانین کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی۔۔۔ وہ پرسوچ انداز میں سب دیکھ رہی تھی۔۔۔
ان کو ہندوستان آۓ آج دوسرا دن تھا۔۔۔ زرداد اپنے سارے کام ختم کر چکا تھا۔۔۔ اسی وجہ سے وہ آج گھومنے نکلے تھے۔۔
زرداد۔۔۔ ہارون۔۔۔۔ وہ دیکھو۔۔۔ ادھر ہے۔۔۔ ان کے عقب سے ایک لڑکی کی چیخ نما آواز آٸی تھی۔۔۔
اور ان کے پلٹنے تک بہت سے لوگ بھاگے ان کی طرف آ رہے تھے۔۔۔ پل بھر میں۔۔۔ وہ اور دانین لوگوں میں گِھر گۓ تھے۔۔۔
وہ ہنس کر سب کے ساتھ تصویریں بنا رہا تھا۔۔۔
اپنا ۔۔ نادانیاں والا گانا گا دیجے نا ۔۔۔ تھوڑا سا بس۔۔ ایک لڑکی نے فرماٸش کی۔۔۔ انڈین فلم میں اسکی آواز میں یہ سپر ہٹ گانا رہا تھا اس کا۔۔۔ جس کی فرماٸش وہ لڑکی کر رہی تھی۔۔۔
لوگوں کا اتنا رش دیکھ کر سیکورٹی۔۔ فوراََ الرٹ ہو گٸ تھی۔۔۔ وہ آ کر لوگوں کو زرداد سے دور رہنے کا کہہ رہے تھے۔۔۔
زرداد نے ہاتھ کے اشارے سے سکیورٹی کو کچھ بھی کرنے سے منع کیا۔۔۔
دانین یہاں۔۔۔ دوسرے ملک میں بھی لوگوں کی زرداد کے لیے محبت دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔
بس تھوڑا سا گنگناٶں گا۔۔۔ اس نے بچی کی طرف پیار سے دیکھا۔۔۔ اور پھر ایک نظر مسکراتی ہوٸی دانین پر۔۔۔ دانین کی مسکراہٹ پر تو سب قربان تھا۔۔۔
پھر اس نے گانے کے چند بول گنگناۓ تھے۔۔۔ لوگ اور اکٹھے ہو رہے تھے۔۔۔
ہے۔۔۔ ہینڈسم بواۓ۔۔۔ ونس فور می۔۔۔ ایک گوری میم ۔۔ بھیڑ میں سے آگے آٸی۔۔۔زرداد کو خوشگوار حیرت ہوٸی کہ وہ لوگ بھی اسکو سنتے تھے۔۔۔
وہ ۔۔ جو۔۔۔ ٹمھارا۔۔۔۔ وطن والا ۔۔ وہ سناٶ ۔۔ دو۔۔۔ آ ٸی لو۔۔ دس سونگ۔۔ وہ ٹوٹی پھوٹی اردو میں بولی۔۔۔ اور زرداد کے پاکستان کے لیے گاۓ گۓ نغمے کی فرماٸش کر دی۔۔۔
اوہ ۔۔ وہ گانا نہیں۔۔۔ ہے۔۔۔ میرا نغمہ ہے ۔۔۔ زرداد نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔
تھوڑا سا سناٶ دو۔۔۔ مجھے سننا ہے۔۔ پلیز۔۔۔ وہ التجا کرنے جیسے انداز میں کہہ رہی تھی۔۔
زرداد نے اس کے بہت اسرار پر نغمے کے چند مصرے گنگنا ڈالے اور سب لوگ تالیاں پیٹ رہے تھے۔۔۔
اور آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا ویڈیوز بنا رہے تھے۔۔۔ لوگ اس کی اور دانین کی تصویریں لے رہے تھے۔۔۔
بہت مشکل سے وہ اور دانین لوگوں کی بھیڑ میں سے سکیورٹی کی مدد سے نکل پاۓ تھے۔۔۔
تم بھی سوچتی ہو گی میرے ساتھ کہیں بھی جانے کا کیا فاٸدہ۔۔۔ لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور ہمیں نکلنا پڑ جاتا ہیں وہاں سے۔۔۔
گاڑی میں اس کے برابر بیٹھے وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤
مجھے یہ مندر بھی دیکھنا ہے۔۔۔ دانین نے ہوٹل کے قریب موجود مشہور مندر کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
اوہ یہ۔۔۔ یہ تو واکنگ ڈسٹنس پہ ہے۔۔۔ صبح دیکھ لیں گے۔۔۔ زرداد نے تھوڑا نیچے ہو کر گاڑی کے ششیوں سے اس کی نظروں کے تعاقب میں ایک مندر دیکھا۔۔۔
ہمم کل تو ہہمیں چلے جانا نا ۔۔ ابھی دیکھ لیتے ہیں ۔۔۔ دانین پرشوق نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
دانین ابھی ممکن نہیں۔۔ ہم کافی لیٹ ہو چکے ہیں پہلے ہی۔۔۔
زرداد نے بچوں کی طرح اسے سمجھاتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ سیدھی ہو کر بے دلی سے بیٹھ گٸ تھی۔۔۔ کال کا دن بھی وہ ہوٹل میں اکیلی بور ہوتی رہی۔۔۔ وہ کسی ڈاٸرکیٹر کے ساتھ ملنٕے گیا ہوا تھا۔۔۔
زرداد نے پیار سے اس کی طرف دیکھا۔۔ وہ کچھ خفا سی بیٹھی تھی۔۔۔
صرف آج ہی چند جگہوں پر وہ گھومے تھے۔۔ اور اب واپس ہوٹل جا رہے تھے۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
فون کی بار بار آواز پر ۔۔ زرداد نے منہ پر سے تکیہ اٹھایا تھا۔۔۔
ایک نظر فون پر اور دوسری گھڑی پر ڈالی صبح کے دس بج رہے تھے۔۔۔
مشہود کا نمبر فون پر چمک رہا تھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔۔ بولو۔۔ فون کان کو لگاتے زرداد نے کہا۔۔ جبکہ اس کے ہاتھ انگاڑاٸی کی صورت میں اوپر اٹھے تھے۔۔۔
سر کچھ مسٸلہ کھڑا ہو گیا ہے یہاں۔۔۔ مشہود کی آواز میں پریشانی تھی۔۔ اس کے عقب سے شور سناٸی دے رہا تھا۔۔۔۔
کیوں کیا ہوا۔۔۔ سر ونڈو کا پرد ہٹا کے نیچیں دیکھیں ذرا۔۔۔ ٹیرس میں مت نکلیے گا۔۔۔ پردہ ہٹا کے دیکھیں۔۔۔ مشہود کی پریشانی اس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔۔۔
زرداد کمبل کو ایک ہاتھ سے اپنے پر سےاٹھاتا ہوا ۔ نیچے اترا تھا۔۔۔ پردہ ہٹا کر دیکھا۔۔۔ تو نیچے لوگوں کی بھیڑ اکٹھا تھی۔۔۔ ہاتھوں میں ۔۔۔ بینرز پکڑ رکھے تھے۔۔۔ کچھ میں تو ہندی لکھی تھی۔۔۔ اور کچھ میں انگلش میں لکھا تھا۔۔۔ لوگ اس کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔۔۔ اسے انڈیا سے باہر نکالنے کے اور اس کے گانے یہاں بین کرنے کے لیے۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔
مشہودپریشان آواز میں اسے کچھ بتا رہا تھا۔۔۔ کل تاج محل کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے جو ملی نغمہ گایا تھا۔۔۔ وہ ویڈیو واٸرل ہو گٸ تھی نغمے کے بعد جو اس نے دو دفعہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا ڈالا تھا۔۔ اس پر زیادہ کانٹروریسز ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔۔ اور کچھ شر پسند لوگ متشعل ہو گۓ تھے۔۔۔
پاکستان اور ہندوستان کے آپس کےحالات پہلے ہی کچھ کشیدہ چل رہے تھے۔۔۔ اوپر سے لوگوں نے اس کی اتنی سی بات کو ہوا بنا کر ملک میں جگہ جگہ احتجاج شروع کیا ہوا تھا۔۔۔ ایک رات کے اندر اندر سوشل میڈیا کے زریعے اس کو بری طرح کانٹروریسز کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔۔۔
سر آپ پریشان نا ہوں۔۔۔ میں نے ڈبل سکیورٹی کی بات کی ہے۔۔۔ وہ لوگ بس آنے والے ہوں گے۔۔آپ اور میم کمرے سے باہر مت آۓ گا۔۔۔ پولیس پہنچ چکی ہے ویسے اتنی پریشانی کی بات نہیں ہے۔۔۔ پولیس لوگوں کو سنبھال رہی ہے۔۔۔ یہ چند شر پسند لوگوں کا کام ہے۔۔۔بس۔۔۔ زراد نے فون کو بند کیا۔۔۔
بالوں کو ھاتھ کے زریعے ماتھے سے پیچھے کیا۔۔۔ اور ایک دم سے کسی خیال کہ آنے پر وہ چونک گیا تھا۔۔۔
دانین ۔۔۔ دانین کمرے میں موجود نہیں تھی۔۔ وہ تیزی سے بھاگتا ہوا واش روم کی طرف گیا۔۔۔ اس کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔
دانین ۔۔۔ دانین ۔۔ اس نے ٹیرس پر دیکھا۔۔۔ وہ وہاں بھی نہیں تھی۔۔۔
ایک دم سے زرداد کے چہرے پر پریشانی کی لیکریں بن گٸ تھیں۔۔۔
وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔۔ دانین کو کوریڈور میں پاگلوں کی طرح آوازیں دی۔۔۔ لیکن نہیں۔۔۔ وہ وہاں بھی نہیں تھی۔۔۔جلدی سے مشہود کا نمبر ڈاٸل کیا۔۔
دانین ۔۔۔ دانین کمرے میں نہیں ہے نیچے لابی میں چیک کرو ذرا میں اوپر سارے فلور دیکھتا ہوں۔۔۔
وہ تیزی سےکمرے سے باہر نکلا تھا۔۔۔ دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔۔۔ اسے دانین سے اس طرح کی بیوقوفی کی توقع ہر گز نہیں تھی۔۔۔ اس کے پاس تو فون بھی نہیں تھا۔۔۔ وہ اور مشہود ۔۔۔ پورے ہوٹل میں اسے تلاش کر چکے تھے۔۔۔
زراد کو اب دانین پر غصہ آ رہا تھا آخر کو وہ کہا ں چلی گٸ تھی۔۔۔ دل تھا کہ ایک انجانے خوف سے دھڑکنےلگا تھا۔۔۔ ویڈیو میں وہ اس کے ساتھ کھڑی تھی بلکل۔۔۔ اور لوگوں نےالگ سے ان کی تصویریں بھی لی تھیں۔۔
زرداد نے ٹی وی آن کیا۔۔۔ ہر نیوز چینل نے اسی بات کو اچھلا ہوا تھا۔۔ کہہ اس نے پاکستان کا ملی نغمہ ۔۔۔ تاج محل کے سامنے کھڑے ہو کر گایا تھا۔۔۔ متشعل افراد اور کچھ پارٹیز بری طرح اس کے خلاف بول رہی تھیں۔۔۔
کیا پاگل ہیں یہ لوگ۔۔۔ زراد نے زور سے ریموٹ دیوار میں مارا۔۔۔مشہود نے اسے سختی سے منع کیا کہ وہ خود آس پاس ۔۔ دیکھ کر آتا ہے دانین کو وہ ہوٹل سے باہر نا آۓ۔۔۔۔
وہ سر کو ہاتھوں میں جکڑ کر بیٹھا تھا کہ اچانک اس کے زہن میں کل مندر والی بات آٸی۔۔۔
اوہ۔۔۔ تو کہیں وہ اکیلی ۔۔۔ پاگل لڑکی۔۔۔ زرداد نے دانت پیسے۔۔۔ جلدی سے مشہود کو کال ملاٸی پر اس کا نمبر مصروف میں جا رہا تھا۔۔۔
وہ تیزی سے اٹھا ۔۔ ہڈ ۔۔ پہن کر اچھی طرح منہ کو چھپایا۔۔۔ سن گلاسز لگاۓ اور کمرے سے باہر نکل آیا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
وہ تیزی سے لوگوں کی بھیڑ میں سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔ جب کسی آدمی نے اس کو پہچان کر جلدی سے فون پر نمبر ملایا تھا۔۔۔۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا بھیڑ کے ایک طرف سے نکلنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا۔۔۔ مندر کی طرف جا رہا تھا۔۔۔ دل تھا کے انجانے خوف سےپھٹنے کو تھا
مندر میں وہ کہیں نہیں تھی۔۔۔ اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گٸ تھی۔۔۔ لوگ پاس سے گزر رہے تھے۔۔۔ اسے ہر شخص کی نظروں سے عجیب سا احساس ہو رہا تھا۔۔۔
پریشانی میں وہ بار بار دانتوں سے اپنے ہونٹ کچل رہا تھا۔۔
وہ جلدی سے اس کے آس پاس کے لان میں دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس کی نظریں تیزی سے ارد گرد گھوم رہی تھیں۔۔
جب اچانک اس کی جان میں جان آٸی ۔۔۔ وہ ایک عورت کے ساتھ بیٹھی مزے سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔
دانین۔۔۔ دانین۔۔۔ وہ اسے دور سے پکارتا ہوا آگے آیا۔۔۔ دانین اسے دیکھ کر مسکرا کر اٹھی۔۔۔ ہر معاملے سے یکسر انجان تھی۔۔۔
زرداد نے پاس جا کر زور سے اس کا بازو دبوچا تھا۔۔۔
پاگل لڑکی۔۔۔ وہ بری طرح اس پر دھاڑا تھا۔۔۔ وہ ناسمجھی کے انداز میں گھبرا گٸ تھی۔۔۔
چلو یہاں سے جلدی۔۔۔ وہ تیزی سے اس کا بازو پکڑ کر ایک طرف لے آیا تھا۔۔۔ ۔ چہرہ پریشان حال تھا۔۔۔ ماتھے پر سو بل تھے۔۔۔
کہ۔۔۔کیا ہوا زری۔۔۔ اس کے جھنجوڑنے پر وہ تھوڑی سی لڑ کھڑا گٸی تھی۔۔۔
تم کیوں ایسے ۔۔۔ بنا بتاۓ۔۔۔ چلی آٸی۔۔۔ زرداد نے دانت پیستے ہوۓ اسے غصے سے دیکھا۔۔
بےوقوف کہیں کی۔۔۔ وہ بار بار اپنا منہ چھپاتا ہوا اسے ایک درخت کے نیچے لے آیا تھا۔۔۔
مہ۔۔۔مہ۔۔۔میں نے سوچا تمھارے اٹھنے سے پہلے مندر دیکھ آٶں گی میں۔۔۔ وہ ابھی بھی کچھ نہیں سمجھی تھی وہ کیوں اتنا پریشان تھا کیا مسٸلہ تھا ۔۔
وہ فون پر بار بار کال ملا رہا تھا ۔۔ اور کبھی ارد گرد دیکھ رہا تھا۔۔
ہیلو۔۔۔ مشہود۔۔۔ سنو۔۔۔ ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ مل گٸ ہے وہ۔۔ اس کی آواز اس کے اندر کی پریشانی کا حال بتا رہی تھی۔۔۔
اچھا سنو۔۔ ہوٹل کےداٸیں طرف کے مندر کے باغ میں ہیں ہم دونوں جلدی پہنچو۔۔۔
زرداد نے موباٸل جیب میں رکھا۔۔۔ اور پھر سے ارد گرد دیکھا۔۔ دوپٹے سے منہ ڈھک لو اپنا۔۔۔ دانین کو غرانے کے انداز میں کہا۔۔۔
زری ہوا کیا ہے۔۔ مجھے بتاو تو۔۔۔ کیوں اتنے پریشان ہو۔۔۔ وہ خود بھی اس انجانی پریشانی سے بےحال ہو گٸی تھی۔۔ اس نے آج سے پہلے کبھی زرداد کو یوں اتنا پریشان ہوتے نہیں دیکھا تھا
تم اپنی بکواس بند کرو کچھ دیر کے لیے۔۔ سمجھی تم ۔۔۔ اس نے خونخوار نظروں سے گھورا اور دھاڑنے کے انداز میں کہا۔۔۔ وہ سہم گٸ۔۔
وہ مشہود کا انتظار کر رہا تھا جب سر کے پیچھے کچھ زور کا لگا۔۔۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤
پاکستانی نامور گلوکار۔۔۔ زرداد ہارون۔۔۔ انڈیا میں لا پتہ۔۔۔ ان کی اہلیہ بھی ان کے ہمراہ ہیں۔۔۔
ٹی وی پر بار بار بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔۔۔ سدرہ اور ثمرہ کی حالت رو رو کر غیر ہوٸی پڑی تھی۔۔۔
جی ۔۔ جی۔۔۔ ہم مکلمل کونٹیکٹ میں ہیں۔۔۔ لیکن ۔۔ ان کا کہنا ہے۔۔ ہم نے سکیورٹی پرواٸیڈ کی تھی۔۔۔ وہ اس ہوٹل میں ہی موجود نہیں تھے۔۔۔ اینکر بیٹھی بات کر رہی تھی۔۔۔
آپکو نہیں لگتا کہ یہ سب مورہت سامیر کی رہاٸی کے لیے کیا جا رہا ہے۔۔۔ اینکر اپنے ساتھ بیٹھے تجزیہ کاروں سے راۓ لے رہی تھی۔۔۔
دیکھیں۔۔۔ اس وقت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔۔۔ کہ کیا چل رہا ان کے دماغ میں۔۔۔ انڈیا کا کہنا ہے اس میں بس چند شر پسند گروہ متحرک ہیں۔۔۔ اب زرداد ہارون کو غاٸب کرنے میں ان کی کیا چال ہے۔۔۔ یہ وقت سے پہلے ہم نہیں بتا سکتے۔۔
ان کی اہلیہ بھی ان کے ہمراہ ہیں۔۔۔ دونوں لا پتہ ہیں۔۔۔ ان کے اہل خانہ سے ہم آپ سب کی ملاقات کرواٸیں گے کچھ دیر میں۔۔۔ اینکر اپنی کرسی کو گھوماتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔۔
ہارون اور سکندر دم سادھے بیٹھے تھے۔۔۔ ان کے گھر کے باہر۔۔۔ میڈیا کا اور لوگوں کا رش لگ گیا تھا۔۔۔ ۔
پاکستان کے نامور گلوکار۔۔۔ زرداد ہارون ۔۔۔ انڈیا میں۔۔۔ لا پتہ۔۔۔ ان کی اہلیہ ان کے ہمراہ ہیں۔۔۔
ٹی وی پر ہر جگہ ۔۔ یہی آوازیں سناٸی دے رہی تھیں۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
سر میں شدید درد کے زیر اثر بہت مشکل سے زرداد نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔
اون۔و۔۔۔و۔۔۔و۔۔اون۔۔۔و۔ووو۔۔اس کے پاس سے آوازیں آ رہی تھی۔۔۔
زرداد کے بازو نہیں ہل رہے تھے۔۔۔ اس نے مکمل آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔ اس کے بازو ایک لکڑی کی کرسی کے بازوٶں کے ساتھ باندھ کر جکڑے ہوۓ تھے۔۔۔
اس کے بلکل ساتھ نیچے زمین پر دانین بیٹھی تھی ۔۔۔ اس کے ھاتھ پیچھے بندھے تھے۔۔۔ اور اس کے منہ پرکپڑا باندھا ہوا تھا۔۔۔
وہ مسلسل چیخنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ لیکن منہ پر کپڑا ہونے کی وجہ سے وہ چیخ بھی نہیں پا رہی تھی۔۔۔ انتہاٸی گندا مٹی اور ٹوٹی پھوٹی چیزوں سے اٹا ہوا کمرہ تھا۔۔۔ جس کرسی کے ساتھ اسے باندھا ہوا تھا۔۔۔ وہ بھی کو پرانی سی کرسی تھی۔۔۔
کچھ دیر زرداد کو اپنے حواس بحال کرنے میں لگے۔۔۔
دانین۔۔۔ دانین۔۔۔ پریشان مت ہو۔۔۔ میں ہوں۔۔۔ ادھر۔۔۔ دانین پاگلوں کی طرح۔۔۔ چیخنے کی کوشش میں عجیب سی آوازیں نکال رہی تھی۔۔۔ زرداد نے اپنی پوری قوت لگانا شروع کر دی۔۔۔ بازو رسی کے ساتھ اتنی مظبوطی سے بندھے تھے کہ ہل بھی نہیں پا رہے تھے۔۔۔
زرداد کا پورا جسم زور لگانے سے پسینے میں ڈوب گیا تھا۔۔۔
دانین مسلسل رو رہی تھی۔۔۔ اور آنکھیں پھاڑے زرداد کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
دانین چپ کرو ۔۔۔ پلیز۔۔۔ چپ کرو۔۔ میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔ دانین کا بلکنا اور تڑپنا اس سے دیکھا نہیں جا رہا تھا۔۔۔ پیچھے سر سے خون بہہ کر گردن تک آیا ہوا تھا۔۔۔
ام۔م۔م۔م۔م۔م۔۔۔۔ آہ۔۔۔ وہ اپنا پورا زور لگا رہا تھا۔۔۔ لکڑی کی کرسی کے بازو کے کیل۔۔ اوپر کو اٹھنے لگے تھے۔۔۔ زرداد نے اپنی ہتھیلیوں سے کرسی کے بازو کی اگلی جگہ کو جکڑا ہوا تھا۔۔
اسے پتہ تھا۔۔۔ رسی نہیں ٹوٹ سکتی وہ چاہیے جتنا بھی زور لگا لے لیکن وہ کرسی کے بازو اکھیڑنے کی جدوجہد میں لگا ہوا تھا۔۔۔
دھاڑ سے دروازہ کھلا تھا۔۔۔ دو مکرہ شکل کے شخص اندر داخل ہوۓ تھے۔۔۔ ایک نے آتے ہی زرداد کے بال نوچنا شروع کر دیے تھے۔۔اس نے بالوں سے پکڑ کر زرداد کی گرد ن کو اسطرح پیچھے کیا کہ زرداد کی گردن کی رگیں پھول کر باہر نظر آنے لگی تھیں۔۔۔
دانین نے پھر سے عجیب سی آوازیں نکالنا شروع کر دی تھیں۔۔۔
بڑا تو ہیرو بنا پھرتا ہے۔۔۔ ابے۔۔۔ یاں۔۔۔یاں۔۔۔ ہمارے سامنے بول۔۔۔ پاکستان زندہ باد۔۔۔
اس نے زور سے زرداد کے پیٹ میں گھما کر ٹانگ ماری تھی۔۔ پوری کرسی ہل گٸ تھی۔۔۔
پاکستان۔۔۔ زندہ۔۔۔ باد۔۔۔ زرداد نے پہلے ایک طرف منہ کر کے تھوک پھینکا۔۔۔ اور پھر دھاڑنے کے انداز میں کہا۔۔۔
ابے ۔۔۔ تیری تو۔۔۔ اب دونوں مکرو شکل ۔۔ آدمی زرداد کو مار رہے تھے۔۔۔ زرداد کا چہرہ ایک طرف ڈھے سا گیا تھا۔۔۔
دانین مسلسل روۓ جا رہی تھی۔۔۔ آنکھیں آنسوٶں سے تر تھیں۔۔۔ منہ سے کپڑا بندھے ہونے کی وجہ سے پانی نکل رہا تھا۔۔۔
اوۓ پوچھ ۔۔۔ کیتار سے ۔۔۔ پہنچا نہیں ابھی تک۔۔۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کو کہا وہ اپنی جیب سے موباٸل نکالتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔ دوسرا اب اپنے موباٸل سے زرداد کی ویڈیو بنا رہا تھا۔۔۔ ویڈیو بناتے ہوۓ بار بار وہ آ کر زرداد کے منہ پر تھپڑ اور مکے مار رہا تھا۔۔۔ بول پاکستان مردہ باد۔۔۔ اب وہ کیمرے سے ویڈیو بنا رہا تھا۔۔۔
بول۔۔۔ اس نے پھر سے بال پکڑ کر پیچھے کیے۔۔۔
پاکستان زندہ باد۔۔۔
پھر سے زور کی ٹانگ پڑی تھی۔۔۔ کرسی لڑکھڑاتی ہوٸی زرداد سمیت نیچے گری تھی۔۔۔
وہ آ رہا ہے۔۔۔ کہہ رہا ۔۔ آ کر ختم کرتا اسے ۔۔۔ باہر جانے والا آدمی اب آ کر اندر والے سے کہہ رہا تھا۔۔۔
دانین مسلسل روۓ جا رہی تھی۔۔ اس کی آواز بھی بیٹھ گٸ تھی۔۔۔
اسکو چپ کروا مار اسے ایک ۔۔۔ ان میں سے ایک نے دانین کی طرف اشارہ کر کے دوسرے کو کہا۔۔۔
خبردار اگر میری بیوی کو کسی نے ہاتھ لگایا تو۔۔۔ زرداد نے غرانے کے انداز میں کہا۔۔۔ منہ اور ناک سے خون نکل رہا تھا۔۔۔
دونوں اب ایک دوسرے کی مکرہ شکلیں دیکھ کر ہنسنے لگے۔۔۔
اچھا ۔۔۔ تیری بیوی کو ہاتھ نا لگاٸیں۔۔۔ ۔۔
ایک شرط پہ۔۔۔ بول ویڈیو میں۔۔۔ پاکستان مردہ باد۔۔۔ وہ زرداد کے اوپر جھک کر اس کے کان میں بولا۔۔۔
زرداد چپ رہا ۔۔۔ اس کے بازو ابھی بھی کرسی کے ہینڈل کو اکھیڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔
اب ان میں سے ایک دانین کو بالوں سے پکڑتا ہوا گھسیٹ کرزرداد کے سامنے لے آیا تھا۔۔۔
میری بیوی کو ہاتھ نا لگانا۔۔۔ زرداد دھاڑنے کے انداز میں بولا۔۔۔ سارا کمرہ اس کی دھاڑ پر گونج اٹھا تھا۔۔۔
ان میں سے ایک نے دانین کے گلے میں جھولتا دوپٹہ اتار کر ایک طرف پھینک دیا تھا۔۔۔ دانین کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔۔۔
اور پھٹی ہوٸی انکھیں۔۔۔ زرداد پر مرکوز تھی۔۔۔
جسے ہی ان میں سے ایک نے دوپٹہ پھینکا زرداد کی جاندار چیخ سے پورا کمرہ ہل گیا تھا۔۔۔ کرسی کے دونوں بازو اپنے کیل سمیت ۔۔ علیحدہ ہو گۓ تھے۔۔۔
زرداد کرسی کے بازو سمیت اس کی طرف بڑھا تھا جو بلکل دانین کے پیچھے اس کے بال پکڑے کھڑا تھا۔۔
ایک نے اسی وقت۔۔۔ پینٹ کی جیب سے ریوالور نکالا تھا۔۔۔ جب زرداد دانین کو ایک طرف کر کے ایک آدمی پر جھپٹا تو اتنی دیر میں دوسرا زرداد پر فاٸر کر چکا تھا۔۔۔

 

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 30

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: