Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 18

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 18

–**–**–

دیکھیں جی بات یہ ہے کہہ یہ سراسر دونوں ممالک کے شر پسند لوگ اور عوام کیا قصور ہے۔۔۔ تجزیہ کار سامنے لگے کاونٹر پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولا۔۔
زرداد کی ویڈیو۔۔ شام کو بنی اور اسی وقت سے واٸرل ہونا شروع ہوٸی ۔۔۔ وہ بڑے ٹھہر ٹھہر کے اپنے نکتہ نظر کو بیان کر رہا تھا۔
ہمارے پاکستان کےاور ہندوستان کے لوگوں نے اس ویڈیو۔۔۔ کے اتنے پارٹ کو واٸرل کیا۔۔۔ ان الفاظ کے ساتھ۔۔۔ کہ دیکھ بھارت۔۔۔ ہمارے ہیرو نے تیرے ملک میں کھڑے ہو کر تیری عوام میں کھڑے ہو کر۔۔۔ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا ڈالا۔۔۔ اور پتہ نہہیں کیا کیا۔۔۔ وہ ہوا میں ہاتھ ہلاتے ہوۓ بول رہا تھا۔۔۔
اینکر اور باقی تجزیہ کار سر کو ہلا کر اس کے ساتھ متفق ہو رہے تھے۔۔۔۔
اور وہاں کے جو اب متشعل افراد ہیں ۔۔۔ان کا تو پارہ چڑھانے والی بات ہوٸ نہ۔۔ ایک اور تجزیہ کار نے پہلے والے کا ساتھ دیتے ہوۓ کہا۔۔۔
۔اس سارے معاملے میں اصل قصور وار دونوں ممالک کی عام عوام ہے۔۔۔ جنھوں نے راتوں رات اس ویڈیو کو کیا سے کیا بنا دیا۔۔۔ تجزیہ کار میز پر بازو ٹکاۓ کہہ رہا تھا۔۔۔
اور نتیجہ آج وہاں زرداد اوران کی اہلیہ بھگت رہے ہوں گے۔۔۔۔ اب بھارت کی حکومت نے تو ویسے ہی آجکل پاکستان کے خلاف محاز کھولا ہوا ہے۔۔۔
دیکھیں جی وہاں کی مخالف پارٹیز ہمارے ساتھ مکلمل تعاون کر رہی ہیں۔۔۔ آپ سب دعا گو رہیں۔۔۔ ہم زرداد کو پاکستان واپس لے کر آٸیں گے۔۔۔
ٹی وی کے ہر چینل پر ایسے پروگرام چل رہے تھے۔۔۔
💔❤❤❤❤❤❤❤
گولی زرداد کے کندھے کو چھوتے ہوۓ گزی ۔۔
دانین کی آنکھ پھٹنے کی حد تک کھل گٸ تھی۔۔۔ وہ ایک دم سے ساکت ہوٸی تھی۔۔۔ ایسے جیسے کاٹو تو خون نہ ہو۔۔
زرداد کے جسم کو جھٹکا لگا تھا۔۔۔ وہ تھوڑا سا لڑکھڑیا تھا۔۔۔ چہرہ تکلیف سے ایک دم زرد پڑا۔۔۔ لیکن حواس کو قابو میں رکھتے ہوۓ اس نے بنا کسی تاخیر کے ایک ہی لمحے کے اندر اندر دوسرے آدمی کے ریوالور تانے ہوٸی بازو کو اپنی ٹانگ کچھ اس طرح سے گھما کر ماری کہ ریوالور۔۔ اچھالتا ہوا ایک طرف گرا تھا۔
دونوں ایک جست میں زراد پر جھپٹ پڑے تھے۔۔ دانین کا دل خوف سے پھٹنے کی حد تک آ گیا تھا۔۔۔ لیکن وہ دونوں زرداد کے آگے زیادہ دیر ٹک نہیں سکے تھے۔۔۔ پل بھر میں ہی اس کو باندھ کر مارنے والے دونوں۔۔ اس کے ہاتھ کھل جانے پر اس کے فولادی جسم کے آگے اپنے مریل سے کالے جسموں کو ٹکا نہیں سکے تھے۔۔ وہ جو بچپن سے ہی اپنے سے بڑے لڑکوں کو ڈھیر کر دیتا تھا اس کے لیے یہ دونوں کچھ بھی نہیں تھے بس اس کے ہاتھ کھلنےکی دیر تھی۔۔۔ وہ بار بار ان کے منہ پر مکے جڑ رہا تھا۔۔۔ مکے کے ساتھ بازو کے ساتھ بندھی ہوٸی لکڑی ان کا منہ چھیلتی ہوٸی جا رہی تھی۔۔۔
دونوں ڈھیر تھے۔ سناٸی نہیں دیا تھا کہ۔۔۔ میری بیوی کو ہاتھ نہ لگانا۔۔۔ زرداد چیخ رہا تھا۔۔۔
پھر ایک دم سے اٹھا تھا۔۔۔ جلدی سے اپنے بازو۔۔ کھولے۔۔۔ کرسی کے بازو ایک طرف پھینکے۔۔۔
ایک طرف پڑے ریوالر اور اس کے پاس پڑے دانین کے دوپٹے کو اٹھایا۔۔ریوالور کو۔۔۔ اپنی پینٹ کی جیب میں رکھا۔۔ منہ سے ناک سے اور کندھے سے خون میں بری طرح لتھ پتھ تھا وہ۔۔۔
دانین کےپاس آ کر اس کے بازو پیچھے کھولے منہ کی پٹی جیسے ہی کھلی دانین کوایک دم سے کھانسی آ گٸ تھی۔۔۔ مٹی سے سارے کپڑے اٹے ہوۓ تھے۔۔۔ بال بری طرح بکھرے ہوۓ تھے۔۔۔ آنکھیں سرخ تھی ۔۔۔ جسم خوف سے کانپ رہا تھا۔۔۔ آواز چیخ چیخ کر بند سی ہو گٸ تھی۔۔۔
وہ تڑپ کٕر زرداد کے سینے سے جا لگی تھی۔۔۔ اور پورا جسم کانپ رہا تھا۔۔۔ کچھ بھی بولا نہیں جا رہا تھا۔۔۔
دانین دانین چلو یہاں سے۔۔۔ سن رہی ہو مجھے چلو یہاں سے۔۔۔ زرداد نے پیار سے اسے خود سے الگ کیا۔۔۔ اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اوپر اٹھایا۔۔۔ وہ بری طرح خوف زدہ تھی۔۔۔
کچھ نہیں ہوا۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔۔۔ ہوش میں آو اب۔۔۔ چلو۔۔ یہاں سے نکلنا ہے ہمیں۔۔۔ وہ اس کے ساکت جسم کو ہلا رہا تھا۔۔۔
پھر ایک دم سے مڑا۔۔ اور ان دونوں لڑکوں کی جیبوں میں ہاتھ ڈال ڈال کر موباٸل۔۔۔ گاڑی کی چابی نکال چکا تھا۔۔۔
ہاتھ سے گھسیٹتا ہوا دانین کو باہر لے کر آیا۔۔۔ عجیب ہی کوٸی ویران سی جگہ تھی۔ جیسے کوٸی جنگل سا ہوتا۔۔۔ ۔۔زرداد نے وہاں کھڑی گاڑی کا دروازہ کھول کر اس کی فرنٹ سیٹ پر دانین کو بیٹھایا۔۔۔جلدی سے چابی لگاٸی اور گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔۔۔ اور تیزی سے بنا کچھ جانے وہ ایک طرف گاڑی کو بڑھا چکا تھا۔۔۔ فلحال یہاں ںسے نکلنا ۔۔۔زیادہ ضروری تھا۔۔۔ ۔۔
💌💌❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
یہ ۔۔۔ لوگ بس باتیں کرنے کو ہیں اور کچھ نہیں۔۔۔ شازر نے اٹھا کر ریموٹ ایک طرف مارا۔۔۔ آنکھیں۔۔۔ کرب اور انجانے خوف سے بھری پڑی تھیں۔۔۔ صرف اسکا حال ہی یہ نا تھا بلکہ گھر کے ہر فرد کی یہی حالت تھی۔۔
ہارون ۔۔۔ تو اپنا سر ۔۔نیچے گرا کر ایسے بیٹھے تھے۔ کہ۔ ماتھے پہ پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔۔۔ بیٹے اور دانین کی محبت سے دل پھٹا جا رہا تھا۔۔۔
سکندر ۔۔۔ کی آنکھیں آنسوٶں سے تر تھی۔۔۔ سدرہ ۔۔ اور ثمرہ کو اشعال ۔۔۔ منال ۔۔ اور اسما ۔۔ سنبھال رہی تھیں۔۔۔
ایک ماتم کرنے جیسا عالم تھا گھر کا۔۔۔
❤💌❤❤💌💌❤❤❤
زرداد کی رنگت ۔۔۔ کندھے میں ہونے والی تکلیف سے زرد پڑتی جا رہی تھی۔۔۔ لیکن وہ تیزی سے گاڑی کو ایک سمت میں دوڑا رہا تھا۔۔۔ سپیڈ اتنی زیادہ تھی کہہ دانین نےلڑھک رہی تھی۔۔۔
دانین اس کی طرف دیکھے جا رہی تھی اور روۓ جا رہی تھی۔۔۔ لیکن اب آنسو بے آواز تھے۔۔۔ زرداد نے تکلیف کو برداشت کرنے سی لب زور سے ایک دوسرے سے پیوست کر رکھے تھے۔۔۔ جبڑے اتنے زور سے جکڑے ہوۓ تھے۔۔۔ کہ رگیں باہر کی ابھری ہوٸی تھیں۔۔۔
زرداد کے جسم کے مختلف حصوں سے ۔ نکلتا خون دانین کو تکلیف دے رہا تھا۔۔۔ اسے ایک کھروچ تک نہیں لگنے دی تھی زرداد نے۔۔۔ یہ ساری مشکل میں پڑنے کی زمہ دار بھی وہ خود کو ہی سمجھ رہی تھی۔۔۔
کہا۔۔ نہ۔میری بیوی کو ہاتھ مت لگانا۔۔۔ زرداد کی دھاڑ اس کی ذہن میں گونجی تھی۔۔۔
اب ہوش میں آنے کے بعد اس کے ذہن میں بار بار زرداد کے کہے ہوۓ الفاظ گونج رہے تھے۔۔۔
نہ میں۔۔۔ یوں ۔۔ اکیلی۔۔۔ باہر آتی۔۔۔ نہ ایسا ہوتا۔۔۔ وہ ہچکی کے ساتھ رو رہی تھی۔۔۔زرداد اب صرف گاڑی کو دوڑانے میں مصروف تھا۔۔۔
زرداد تکلیف کو برداشت کرتا ہوا مسلسل گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔ عجیب ہی جگہ تھی ارد گرد درخت ہی درخت تھے درمیان میں وہ سنسان سڑک تھی۔۔۔ جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔ زرداد کی برداشت اب ختم ہو رہی تھی۔۔۔
اس نے گاڑی سڑک سےنیچے اتار کر ایک طرف درختوں کے درمیان میں دوڑا دی تھی۔
تھوڑی دور جا کر اس نے گاڑی روک دی تھی۔۔۔
اور سیٹ کی پشت ے سر ٹکا دیا تھا۔۔۔ تکلیف سے ۔۔ آنکھیں بند ہوتی جا رہی تھی۔۔ لیکن منہ سے آہ تک نہیں نکلی تھی۔۔۔ بس زرد پڑتی رنگت۔۔۔ اور بھینچے ہوۓ ہونٹ اسکی تکلیفکی گواہ تھیں۔۔۔
دانین کو جیسے ایک دم سے ہوش آیا تھا۔۔۔ فوراََ سیدھی ہو کر۔۔ اب اس کی ہڈ اتار رہی تھی۔۔۔ ہڈ اتار کر ایک طرف پھینکی۔۔۔ ساری شرٹ خون سے لتھ پتھ تھی۔۔۔ وہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔۔۔ اب اس کی شرٹ اتار رہی تھی۔۔۔ زرداد کی آنکھیں بند ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ اسے اب کوٸی ہوش نہیں تھا وہ اس کے ساتھ کیا کیا کر رہی ہے۔۔۔ دانین نے جلدی سی شرٹ اتار کر کندھے کے زخم کو دیکھا۔۔۔ زخم گہرا تھا۔۔۔۔ لیکن دانین کو یہ ڈر تھا۔۔ کہ گولی کہیں اندر نا ہو۔۔۔ درختوں کے اردگرد ہونے کی وجہ سے۔۔۔ اندھیرا سا تھا۔۔۔ اس نے گاڑی کی لاٸٹ کو جلایا۔۔۔
اب ادھر ادھر دیکھا۔۔ گاڑی کی ہیچھے سیٹ پر پانی کی بوتل پڑی تھی۔۔۔جلدی سے ۔۔ پانی اٹھایا ۔۔۔ اور زرداد کی شرٹ کو گیلا کر کے۔۔ اس کے کندھے کو ہلکے سےصاف کیا۔۔ گولی بس چھو کر گزری تھی۔۔۔ اندر نہیں تھی۔۔۔ دانین اب پھر سے ڈیش بورڈ میں لگے ڈرا کو چھان رہی تھی۔۔۔ وہاں چاقو۔۔ ایک ریوالور پڑا تھا۔۔۔
اب چاقو ہاتھ میں پکڑے وہ سوچ رہی تھی۔۔ کہ اچانک کچھ خیال آنے پہ۔۔۔ زرداد کی پینٹ کی جیبیں دیکھی۔۔۔ ایک طرف سے لاٸٹر کو نکالا اور چاقو کو گرم کیا۔۔۔
پھر گرم چاقو۔۔۔ زرداد کےزخم پر رکھ دیا۔۔۔ زرداد بے ہوشی کے عالم بھی تڑپ کے اچھلا تھا۔۔۔دانین نے جلدی سے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔ گرم چاقو ابھی بھی اس کی زخم والی جگہ پر تھا۔۔ وہ اسکو زور سے اپنے سینے کے ساتھ بھینچے ہوٸی تھی۔۔۔ آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔۔۔ اور جسم ہچکیوں سے آہستہ آہستہ ہل رہا تھا۔۔۔
پھر دھیرے سے پیچھے ہوٸی تو۔۔۔ اسکے اپنے سارے کپڑے بھی۔۔ خون میں لتھ پتھ تھے۔۔۔
اپنے دوپٹے سے اسکے بازو کو زور سے باندھا تھا۔۔۔
زرداد بے ہوش ہو چکا تھا۔۔۔
زری زری۔۔۔ وہ آہستہ سے اس کے گال تھپ تھپا رہی تھی۔۔۔
زری۔۔۔
پھر اس کی طرف کی سیٹ کو ہینڈل کھینچ کے نیچے کر دیا تھا۔۔۔
وہ بےسدھ پڑا تھا۔۔۔
دانین کبھی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی۔۔۔ اور کبھی اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹوں کا مرہم رکھ رہی تھی۔۔۔ آنسو۔۔ زرداد کے ماتھے کو گیلا کر رہے تھے۔۔۔
دانین نے جلدی سے زرداد کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔۔۔
دھیرے سے اسکے ہاتھ کو مسل رہی تھی۔۔۔ اور کبھی اسکے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے ہونٹوں اور گالوں کو لگا رہی تھی۔۔۔
مر جاٶں گا تو کرو گی کیا اعتبار۔۔۔ زرداد کی آواز ذہن میں گونجی تھی۔۔۔
اس کے آنسو اور تیزی سے بہنے لگے تھے۔۔۔ زری ۔۔۔ پلیز۔۔ زری ۔۔ اٹھو نا۔۔۔ زری۔۔۔ وہ اب بری طرح رو رہی تھی۔۔۔
پھر جلدی سے پانی کی بوتل اٹھا کر اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔۔۔
زرداد نےدھیرے سے آنکھیں کھولی تھیں۔۔
دانین کا دھندلہ سا چہرہ اس کی آنکھوں کے آگے لہرا گیا تھا۔۔۔
کندھے کی تکلیف اب پہلے سے کچھ کم تھی۔۔۔
زرداد نے اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔۔ دانین تڑپ کے اس کٕےسینے پر ڈھیر تھی۔۔۔ بری طرح رو رہی تھی پورا جسم ہل رہاتھا۔۔۔

 

ابا۔۔۔ شازر کی گھٹی سی آواز پر ہارون نے جھکا ہوا سر اوپراٹھایا۔۔۔
سارا چہرہ آنسو سے تر تھا۔۔۔ انکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔
ابا آپ کچھ دیر لیٹ جاٸی رات بہت ہو گٸ ہے ۔۔۔ صبح سے بیٹھے ہیں۔۔۔ تھک جاٸیں گے ۔۔ شازر ان کے قریب آ کر بولا۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔ میرا بچہ۔۔۔ کس حال میں ہو گا۔۔۔ وہ شازر کے گلے لگ کر بری طرح رو دۓ تھے۔۔۔
سکندر بھی پاس بیٹھے ۔۔۔ رونے لگے تھے۔۔۔۔
شازر میرا بچہ لا دو مجھے۔۔۔ میں اسے سینے سے لگا لوں۔۔۔ وہ تڑپ تڑپ کر کہہ رہے تھے۔۔۔
سب گھر والے ان کے ساتھ مل کر رو رہے تھے۔۔۔
گھر میں اتنے افراد تھے۔۔۔ پر سب لوگ خاموش تھے۔۔۔ قبرستان جیسی خاموشی۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤
زرداد کے سینے سے لگی وہ بری طرح رو رہی تھی۔۔۔ چہرے کو بلکل زرداد کے سینے میں چھپا رکھا تھا۔۔۔۔
زرداد کےلب۔۔۔ اس حالت میں بھی مسکرا دۓ تھے۔۔۔ وہ حیرانی سے دانین کےیہ مہربانی دیکھ رہا تھا۔۔۔ ایسے ساتھ چمٹی ہوٸی تھی۔۔۔
زندہ ہوں دانین۔۔اس کے بالوں میں دھیرے سے ہاتھ سر سے لے کرکمر تک پھیرتے ہوۓ زرداد نےسرگوشی ۔۔ کی۔۔۔
وہ اور اونچا رونے لگے تھی اس بات پر۔۔۔ جسم اور تیزی سےہلنے لگا تھا۔۔۔ زرداد کے خشک ہوتے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ آ گٸ تھی۔۔
اس نے دانین کے کانپتے وجود کو دونوں بازوٶں میں زور سے بند کر کے۔۔ جکڑ لیا تھا۔۔۔ جبکے ہونٹ بار بار اس کے سر کی مانگ پر مرہم رکھ رہے تھے۔۔۔
ایسا کرنے سے اس کی کندھے کی تکلیف اور بڑھ گٸی تھی۔۔۔ لیکن اس تکلیف کی زرداد کو کوٸی پرواہ نہیں تھی۔۔۔ دانین کے کانپتے جسم کو جیسے سکون مل گیا تھا۔۔۔
زری مجھے معاف کر دیں ۔۔۔ اس کی آواز گھٹی سی آ رہی تھی آنسٶں سے تر بھاری آواز۔۔۔ چیخ چیخ کر گلا بھی بیٹھ چکا تھا۔۔۔ اس نےاپنا پورا چہرہ زرداد کے سینے میں چھپا رکھا تھا۔۔۔
مجھے معاف کر دیں۔۔۔ ۔۔ وہ بار بار کہہ رہی تھی۔۔۔
ایسے روتی رہو گی۔۔۔ تو کیسے معاف کر سکوں گا۔۔۔ گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔ آواز میں درد بھی شامل تھا۔۔۔
زری کیا ہوا۔۔۔ فوراََ پیچھے ہوٸی تھی۔۔۔ چہرہ پریشان حال تھا۔۔
وہ تکلیف کو روکنے کے لیے لب بھینچے ہوۓ تھا۔۔۔ زری درد ہو رہا آپکو۔۔۔ دانین پریشانی سے لب بھینچ رہی تھی۔۔۔ جلدی سے پانی کی بوتل اٹھا کر زرداد کے منہ کو پانی لگایا۔۔۔
گاڑی ڈراٸیو کر سکتی ہو۔۔۔ کراہتی ہوٸی آواز میں پوچھا۔۔۔
نہیں ۔۔ وہ بری طرح شرمندہ ہوٸی ۔۔۔ تھی۔۔۔ اسے گاڑی ڈراٸیو نہیں کرنی آتی تھی۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔۔۔۔ زرداد نے لب بھٕنچے اور کار کی سیٹ کی پشت کے ساتھ سر ٹکا دیا۔۔۔
ہمم۔م۔م۔م۔ اس کا مطب ہے۔۔۔ رات یہں پر رکتے ہیں۔۔۔ صبح درد کچھ کم ہو گا تو نکلیں۔۔۔ گے۔۔ آہ۔۔۔ وہ تھوڑا سا سیدھا ہوا۔۔۔
بس کو ٸی آبادی نظر آ جاۓ۔۔۔ پھر وہاں سے رابطہ کریں گے۔۔ مشہود کے ساتھ۔۔۔
دانین نے دھیرے سے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔۔۔ دل زرداد کی تکلیف سے گھبرایا ہوا تھا۔۔۔
میں پیچھے لیٹتا ہوں کچھ دیر۔۔۔ زرداد پچھلی سیٹ پر چلا گیا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤
زرداد شاٸید پھر غنودگی میں چلا گیا تھا۔۔۔ اور دانین کا دل خوف سے کانپ رہا تھا۔۔۔ گاڑی کی لاٸٹ بھی بند تھی۔۔۔ رات ہونے سے گھپ اندھیرا ہو گیا تھا۔۔۔
دل کانپنے لگا تھا۔۔ اس نے خوف سے اپنے پپڑی جمے ہونٹوں پر زبان پھیری تھی۔۔۔
زری۔۔۔ زری۔۔۔ گھٹی سی آواز میں اس نے پیچھے مڑ کے زرداد کو آواز دی تھی۔۔۔
ہم۔۔ کچھ دیر آوازوں کے بعد۔۔ زرداد نے کہا۔۔۔ وہ واقعی شاٸید غنودگی میں تھا۔۔۔
زری ۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ دانین نے گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔
میرے پاس آو۔۔۔ زرداد نے دھیرے سے کہا۔۔۔ اپناٸت بھرا۔۔۔ محبت کی چاشنی میں ڈوبا ہوا لہجہ۔۔۔
وہ دھڑکتے دل اور خوف سے کانپتے وجود کے ساتھ پیچھے آٸی۔۔
یہاں آو۔۔۔ اندھیرے میں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔۔۔ بس زرداد کے ہاتھوں نے پکڑ کر اسے اپنے ساتھ بٹھایا تھا۔۔۔ وہ زرداد سے لپٹ لپٹ گٸ تھی۔۔۔ سکون مل گیا تھا۔۔۔ خوف سے کانپتے دل کو تسکین کا احساس ہوا تھا۔۔۔
کتنا پیار احساس تھا یہ۔۔ وہ اس کا شوہر اس کا محافظ تھا۔۔ اس کے پہلو میں آتے ہی سارے خوف ہوا ہو گۓ تھے۔۔۔ اب تو دل محبت سے دھڑک رہا تھا۔۔۔زرداد کی خوشبو۔ ۔۔ اس کے وجود میں سراٸیت کر رہی تھی۔۔۔
زرداد کے اس کے بازو اور کمر پر تپھکی کے انداز میں ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔ خود اتنی تکلیف میں تھا۔۔ پھر بھی اسے بچوں کی طرح ۔۔ پیار کر رہا تھا۔۔۔ اتنا سکون تھا کہ پتہ ہی نا چلا کب وہ یوں اس کے ساتھ چمٹ کر سو گٸ تھی۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤
صبح گال کسی گرم چیز سے لگنے کا احساس ہو۔۔۔ وہ زرداد کی گود میں سر رکھے سو رہی تھی۔۔۔ اور وہ بخار میں تپ رہا تھا۔۔۔
چہرہ زرد ہو رہا تھا۔۔۔
جھٹکے سے وہ اٹھی تھی۔۔۔ زری۔۔۔ زری۔۔۔ آپکو بخار ہو رہا ہے۔ آپکو میڈیسن کی ضرورت ہے ۔۔ وہ زرداد کےچہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر بول رہی تھی۔۔
چلیں۔۔۔ چلتے ہیں اب ۔۔۔ وہ زرداد کو سہارا دے کر اٹھا رہی تھی۔۔۔
وہ پھر سے اسی سڑک پر رواں تھے۔۔۔ زرداد کا جسم تپ رہا تھا۔۔۔ لیکن وہ تیزی سے گاڑی سڑک پر دوڑا رہا تھا۔۔۔
کچھ فاصلے پر ۔۔۔ آبادی کے آثار نظر آنے لگے تھے۔۔ شاٸید کوٸی گاٶں تھا۔۔۔
زارداد نے گاٶں کی سڑک پر گاڑی دوڑا دی تھی۔۔۔ بخار سے آنکھیں۔۔۔ سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔
بھاٸی صاحب۔۔۔ کوٸی ہاسپٹل ہے یہاں۔۔۔ دانین نے گاڑی کے شیشے کو نیچے کر کے ایک آدمی سے پوچھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ ایک کلینک ہے چھوٹا سا۔۔۔ ہاسپٹل نہیں ہے یاں۔۔۔ مارے۔۔ گاٶں میں۔۔ آدمی نے حیران ہو کر دونوں کو دیکھا۔۔۔
وہ آدمی ان کو اس کلینک تک لے آیا تھا۔۔۔
کوٸی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔۔۔ لیکن دانین کو ساری میڈیسن۔۔ بینڈیج۔۔ مل گۓ تھے۔۔۔
میرا موباٸل دیکھنا ان لوگوں نے۔۔ کہیں گاڑی میں ہی رکھا ہو گا۔۔۔ دانین اس کو پٹی کر رہی تھی۔۔۔ جب زرداد نے اسے کہا۔۔۔
اور واقعی ہی موباٸل گاڑی کی بیک سے ہی ملا تھا۔۔۔
کوٸی۔۔ سنگرام پور گاٶں ہے۔۔۔ لوکیشن میں بھیجتا ہوں تمہیں۔۔ زراداد مشہود سے بات کر رہا تھا۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: