Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 2

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 2

–**–**–

دانین سے کھانا نگلنا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔
وہ تھا کہ دیکھے ہی جا رہا تھا۔۔۔۔ کیا ہو گیا اسے۔۔۔ پاگل تو نہیں ہو گیا کہیں۔۔۔ پرسوچ انداز میں نوالہ منہ کے اندر رکھا۔۔۔۔
اس کی سمجھ سے تو یکسر باہر تھا وہ
وہ اسےبری طرح پریشان کرنے میں مصروف تھا۔۔۔ جب ہارون کی آواز نے اس کے حواس بحال کیے۔۔۔
زرداد کیسا ہوا تمھارا پیپر وہ اپنے مخصوص انداز میں۔۔۔ رعب دار آواز میں کہہ رہے تھے۔۔
اچھا ہوا ہے۔۔۔ چڑ کے جواب دیا۔۔۔ سب لوگ اب اپنی اپنی گفتگو چھوڑ کے اس طرف متوجہ ہو چکے تھے۔۔۔ اشعال زرداد کو بدتمیزی نا کرنے اور تحمل سے رہنے کے اشارے کر رہی تھی۔۔۔
زرداد کو سر چڑھانے والوں میں سے سکندر کے بعد دوسرا نام۔۔۔ اشعال کا تھا۔۔۔ زرادد کو وہ بہت لاڈ کرتی تھی۔۔۔
اچھا تو پہلے بھی دو دفعہ تم دے آۓ تھے۔۔۔ مجھے یہ بتاٶ کہ۔۔۔ بی۔ اۓ تمھاری جان چھوڑے گا اس دفعہ کے نہیں۔۔۔ ہارون نے سخت لہجے میں دوٹوک بات کی۔۔۔۔
منال اور دانین نے منہ پہ ہاتھ رکھ کے اپنی ہنسی کو روکا۔۔۔
اس نے غصے سے چمچ پٹخا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔۔۔۔
دیکھا تم نے سکندر دیکھا۔۔۔۔ ہارون نے انگلی کا اشارہ کیا۔۔۔
تم کرو اس کے اور لاڈ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ وہ۔۔۔۔ لا کر دو اسے گٹار۔۔۔ میراثیوں کی طرح بجاۓ اس کو۔۔۔۔۔ہارون کے غصے کا رخ اب سکندر کی طرف تھا۔۔۔
بھاٸی جان نا پریشان ہوں۔۔۔ سدھر جاۓ گا۔۔۔ سکندر نے مسکراتے ہوۓکہا ۔۔۔
منال اور اشعال برتن سمیٹنے لگی تھی ۔۔۔۔ اسے کوٸی کچھ کام نا کہتا تھا کیونکہ ایک تو وہ سب سے چھوٹی تھی دوسرا۔۔وہ سب سے زیادہ گھر میں ذہین تھی۔۔۔
جب کبھی کوٸی غلطی سے اسے کوٸی کام کہہ بھی دیتا تو ہارون اس کی کلاس لے ڈالتے۔۔۔ انھیں بڑا مان تھا اپنی بھتیجی پہ کہ وہ ڈاکٹر بنے گی۔۔۔
ہاں کبھی کبھار خود کےلیے چاۓ بنا لیتی تھی۔۔۔ رات گیے تک پڑھنا ہوتا تھا تو اکثر رات کو چاۓ بنا کے پیتی تھی وہ۔۔۔
آج بھی وہ خود کے لیے چاۓ ہی بنانے کھڑی تھی۔۔۔۔ جب زرداد کچن میں آیا۔۔۔
چہرے پہ تھوڑی دیر والی بحث کا کوٸی نام و نشان نہیں تھا۔۔۔۔
سنو میرے لیے بھی بنانا ایک کپ۔۔۔ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ بلکل اس کے پیچھے کھڑا تھا۔۔۔
کیوں۔۔۔ وجہ۔۔۔ میں صرف اپنے لیے ہی بناتی ہوں چاۓ۔۔۔ اور بات سنو۔۔۔ خیریت ہے نا۔۔۔ تم کب سے میرے ہاتھ کی بنی چاۓ پینے لگے۔۔۔۔ وہ چاۓ والے چمچ کو داٸیں ہاتھ میں گھوما رہی تھی۔۔۔۔
سوچ لو۔۔۔۔ زرداد نے گاڑی کی چابی اس کی آنکھوں کے آگے لہراٸی یہ ابھی ابھی چاچو دے کر گیے ہیں مجھے۔۔۔ انھیں صبح نکلنا کراچی کے لیے تو ۔۔۔ کہہ ۔۔۔رہے تھے کہ دانین کو لے آنا۔۔۔ ۔۔۔
حد سے زیادہ ۔۔۔ کمینے ہو تم ۔۔ قسم سے۔۔۔ دانین نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
اچھا بنا دیتی ہوں وہ دودھ اور ڈال رہی تھی۔۔۔ ساس پین میں۔۔۔
اوکے۔۔۔ تو ایسا کرنا میرے کمرے میں دے جانا ۔ آواز میں بے حد نرمی اور مٹھاس گھلی تھی۔۔۔۔ یہ کہ کر وہ تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔۔۔
اسے کیا ہو گیا۔۔۔ کچھ دن سے عجیب ہی انداز ہیں اس کے۔۔۔
وہ زرداد کے لیے کپ میں چاۓ انڈیل رہی تھی۔۔۔
داٸیں ہاتھ سے کپ کو پکڑ کر اس نے دوسرے ہاتھ سے دروازہ کھولا تھا۔۔۔
وہ فرش پہ نیچے بیٹھا اپنے گٹار پہ ہلکے سے انگلیاں چلا رہا تھا۔۔۔ شکل کے ساتھ ساتھ خدا نے بہت سریلی آواز سے بھی نوازاہ تھا اسے۔۔۔
یہ زرداد کا تیسرا گٹار تھا۔۔۔ جو ابھی تک ھارون کی نظر سے بچا ہوا تھا۔۔۔
وہ سکول سے لے کر کالج تک۔۔ گانے کے مقابلے کے ہر بڑے لیول پر جیتا تھا۔۔۔ لیکن ہارون اس کے گاناگانے کےبہت خلاف تھے۔۔
آہ۔۔۔ تھنکیو۔۔۔۔ اس نے دانین کے ھاتھ سے چاۓ کا کپ لیا ۔۔۔
تم بازنہیں آٶ گے نا۔۔۔ دانین نے اس کے گٹار کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
یہ تو جنون ہے میرا۔۔۔۔ وہ گٹار کو ایک ہاتھ سے اٹھا کر اپنے سینے سے لگا کر بولا۔۔۔
ویسے۔۔۔ ہم۔۔۔م۔۔م۔۔م۔ چاۓ بہت اچھی ہے۔۔۔ زرداد نےچاۓ کا کپ ہونٹوں سے ہٹاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اچھا۔۔۔ شکریہ۔۔۔ ۔۔دانین کو حیرت ہو رہی تھی۔۔۔ پہلی دفعہ وہ اسکی تعریف کر رہا تھا۔۔۔
وہ حیرت زدہ سی اس کے کمرے سے باہر آ گٸی تھی۔۔۔
****;;**********************************************
وہ کالج سے باہر نکلی تو بڑے وقت پہ آج وہ باہر کھڑا تھا۔۔۔ گاڑی سے پیٹھ لگا کے وہ دونوں ٹانگوں کو کراس کی شکل دے کر کھڑا تھا۔۔۔
سیاہ سن گلاسز اس کی خوبصورتی کو اور چاند چار لگا رہے تھے۔۔۔
دانین کو دیکھ کر اس نے اپنی ھتھیلی کو اوپر اٹھا کر ہوا میں لہرایا۔۔۔ ہونٹوں پہ بڑی جازبِ نظر مسکراہٹ سجاۓ وہ اس کے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول رہا تھا۔۔۔۔
تم ٹھیک ہو نا زری۔۔۔اس نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
وہ بنا کوٸی جواب دیے اب گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ رہا تھا۔۔۔۔
زرداد نے چور نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
سفید یونیفارم میں وہ اور زیادہ سانولی لگ رہی تھی ۔۔۔ واضح تھی تو چہرے پر بس اس کی کالی بڑی سی آنکھیں اور ان کے اوپر جھالر کی طرح گرتی۔۔۔ اس کی پلکیں ۔۔ وہ عام سی شکل کی لڑکی تھی۔۔ جس کے ساتھ یہ دیوانہ وار چاہت کا ناٹک بھی اسے مشکل لگ رہا تھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔۔م۔۔ آسکریم۔۔۔ کھاوگی۔۔۔سوالیہ نظروں سے دانین کی طرف دیکھا۔۔۔
ہیں۔۔۔ کیا کہا۔۔۔ وہ حیرت دیکھتے ہوۓ بولی۔
۔۔آسکریم کا پوچھ رہا ہوں۔۔۔۔ اس نے گلاسز اتارے۔۔۔ کھاٶگی کیا۔۔۔ بڑی معنی خیز نظروں سے دیکھا۔۔۔
مجھے ایک بات نہیں سمجھ آ رہی۔۔۔۔ دانین نے رخ زرداد کی طرف پوری طرح موڑ لیا تھا۔۔۔ اور خشک ہوتے ہونٹوں پہ زبان پھیری۔۔۔
تم ۔۔۔ یہ سب ۔۔۔ کس لیے ہاں۔۔۔ دانین نے انگلی کو داٸیں باٸیں لہراتے ہوۓ کہا۔۔۔
پتا نہیں ۔۔۔ خود بھی نہیں سمجھ پا رہا۔۔۔ زرداد نے بڑے معصوم انداز میں کان کھجایا۔۔۔
سمجھی نہیں میں۔۔۔ دانین کو واقعی اس کی بات بلکل سمجھ نہیں آٸی تھی۔۔۔
ابھی تو مجھے خود سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔ تو تمہیں کیا سمجھا پاٶں گا اس نے گلاسز دوبارہ سے پہنتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
پھر گاڑی آسکریم پارلر کے آگے روکی تھی۔۔۔۔ اور اس پر ایک مسکراہٹ ڈالتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔۔
وہ سارا راستہ اس کی نا سمجھ آنے والے انداز اور نا سمجھ آنے والی باتوں میں الجھی رہی۔۔۔۔
***************************************************
تم نہیں نیچے آو گی آج کے دن تو آجاٶ۔۔۔ منال اس کے سامنے کھڑی خفگی سے کہ رہی تھی۔۔۔
آج اشعال کی شادی کی تاریخ رکھی جا رہی تھی۔۔۔گھر میں بڑی ہلچل تھی۔۔۔ شازر اور زرداد صبح سے بازار کے چکر لگا رہے تھے۔۔۔اور ثمرہ اور سدرہ کچن میں گھسی ہوٸی تھیں۔۔۔ چند رشتہ دار بھی بلاۓ گۓتھے۔۔۔
منال نے اس کے بھی کپڑے استری کر دیے تھے ۔۔ اب وہ اسے بلانے آٸی تھی کہ وہ بھی آۓ اور تیار ہو جاۓ۔۔۔
دانین کتابوں میں گھسی پڑھنے میں مصروف تھی۔۔ جب منال اوپر آٸی۔۔۔۔
اچھا چلو میں آتی ہوں۔۔۔اپنےسامنے کھلی کتاب کو بند کرتے ہوۓ وہ اٹھی تھی۔۔۔ منال مسکراتی ہوٸی نیچے چلی گٸی تھی۔۔۔
ہلکے سے پیچ کلر کے سوٹ میں وہ دبلی پتلی سی بڑھی ہوٸی بھنوں کے ساتھ۔۔۔ اور گہری سانولی لگ رہی تھی۔۔۔چھت پر بیٹھ کر ہر وقت پڑھنے اور منہ کم دھونے سے چہرہ اور بھی مرجھایا سا لگ رہاتھا۔۔۔۔ سادگی کا پیکر بنے بس ایک دفعہ سرسری سا منہ دھو کر وہ پوری طرح تیار تھی۔۔۔
وہ سیڑھیاں اتر کے نیچے ہی آرہی تھی جب اچانک زرداد بلکل سامنے آ گیا تھا۔۔۔ وہ شاٸید چھت سے ہی کچھ لینے جا رہا تھا۔۔۔
ایک دم سے اس نے سیڑھیوں سے گزرتی دانین کا دیوار پہ ہاتھ رکھ کے راستہ روک دیا تھا۔۔۔
ہا۔۔۔۔ وہ ایک دم سے اس کی اس عجیب سی حرکت پہ رکی تھی۔۔۔ کیا ہو گیا تمہیں۔۔۔ پاگل تو نہیں ہو گیے۔۔دانین نے سینے پہ ہاتھ رکھ کے اپنی سانسیں بحال کیں۔۔۔۔
اچھی لگ رہی ہو۔۔۔۔۔ بڑے معنی خیز انداز میں کہا گیا۔۔۔۔وہ اس پر پوری طرح نظریں گاڑے کھڑا تھا۔۔۔
کہ۔۔کہ۔۔کیامطلب ۔۔۔ اس کی نظروں ۔۔ اس کے انداز اور اس کے منہ سے نکلے اپنی تعریف کے الفاظ نے اسے گڑبڑا سا دیا تھا۔۔۔
مطلب یہ کے تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔۔ وہ تھوڑا سا اوپر ہوا اور اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔۔
دانین کو عجیب سا احساس ہوا۔۔۔ ایسا احساس جس سے وہ انجان تھی۔۔۔
ہٹو ۔۔۔زری۔۔۔۔ اس نے الجھتے ہوۓ اسے کہا۔۔۔
مجھے پتہ ہے میں کتنی پیار ی ہوں۔۔۔اس نے ماتھے پہ بل ڈال کر کہا۔۔۔اور اس کے بازو پہ ہاتھ رکھ کے اس سے راستہ مانگا وہ ویسے بھی بہت دن سے اس کے عجیب طریقے سے دیکھنے سے الجھن کا شکار تھی۔۔۔ اب اس کی باتیں اور پریشان کر رہی تھی۔۔۔۔
میری نظر سے دیکھو تو پتا چلے تم کتنی خوبصورت ہو۔۔۔بہت سی فلموں میں بولے ہوے بول بھی زرداد کو اسے یوں بولنے مشکل ہو رہے تھے۔۔۔۔۔
زرداد کے اس انداز پہ وہ اچانک نظریں جھکا بیٹھی تھی۔۔
پھر اس کے بازو کے نیچے سے گزرتی ہوٸی وہ بھاگی تھی۔۔۔۔ ھاتھوں کو ماتھے کو پسینہ آرہا تھا۔۔۔ اس کے ساتھ زندگی میں پہلی دفعہ ایسا ہوا تھا۔۔۔
اسے اپنی کیفیت خود سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔
پھر پورا فنگشن زرداد اپنے ہونٹوں پہ قاتل مسکراہٹ سجاۓ ۔۔۔ آنکھوں میں بھر پور پیار سجاۓ۔۔۔ اسے گھورتا رہا۔۔۔۔ ۔
وہ زرداد کے اس انوکھۓ سے انداز پہ بری طرح خجل تھی۔۔
تھوڑی دیر سب کے ساتھ گزارنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں تھی۔۔۔۔
اس نے اپنے ماتھے پہ آیا ہوا پسینہ صاف کیا۔۔۔۔۔ دل بھی ہلکی سی ردھم سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔۔
وہ جلدی سے کپڑے بدل کے آٸی۔۔۔۔۔۔ اور لیٹ گٸی۔۔۔۔ وہ دیر تک پڑھتی تھی۔۔۔ لیکن آج تو پڑھنے کو بھی دل نہیں تھا۔۔۔ زرداد کی باتیں۔۔۔ اس کی انکھیں دماغ میں کہیں گڑ سی گٸ تھی۔۔۔۔ صبح اسکا کلاس ٹیسٹ تھا کیمسٹری کا پر اسے کچھ یاد نہیں رہا تھا۔۔۔۔
یاد تھا تو صرف یہ کہ اسے آج زرداد نے کہا تھا کہ تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔۔۔ اس زرداد نے یہ کہا تھا جس پر ہزاروں خوبصورت لڑکیاں مر مر جاٸیں۔۔۔ وہ زرداد جو گھر سے باہر نکلتا تھا تو محلے کی لڑکیاں ۔۔
بہانے سے اپنے گھر کی کھڑکیوں کے باہر کو کھلنے والے پٹ کھول دیتی تھی۔۔۔ وہ زرداد ۔۔۔ جس سے بچپن سے لے کر اب تک اس کی لڑاٸی ہی ہوتی آٸی تھی۔۔۔۔ وہ زرداد جو محلے بھر میں بد دماغ۔۔۔ بد تمیز ۔۔۔ لڑاکا ۔۔۔ نکما۔۔۔۔ بے کار مشہور تھا۔۔۔۔
آخری خصوصیات ذہن میں آتے ہی اس کا دل برا سا ہو گیا۔۔۔ دل کو سرزش کیا اور آنکھوں کو زور سے بند کر لیا۔۔۔۔ اور کتنی ہی سورتیں پڑھ ڈالی۔۔۔
***************************************************
دوپہر کے کھانے کے لیے بیٹھے سب خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے۔۔۔
ایک وہ تھی جس کو زرداد کی آنکھوں کی مسلسل تپش پگھلا رہی تھی۔۔۔۔ کھانا بھی نہیں کھایا جا رہا تھا۔۔۔
وہ تھوڑا سا کھاکر اٹھنے لگی۔۔۔
دانی۔۔۔ کھانا کیوں اتنا کم کھایا بیٹا۔۔۔۔ ہارون نے فوراََ اسے کہا۔۔۔
تایا ابا بس آج دل نہیں کر رہا۔۔اس نے اپنی گھبراہٹ کو چھپایا۔۔۔ جب کے زرداد کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ تھی۔۔۔
دانی یہ اچھی بات نہیں ہے۔۔۔ اتنا پڑھتی ہو بیٹے۔۔۔وہ خفگی سے کہ رہے تھے۔۔۔
وہ معضرت کرتی وہاں سے چلی گٸی۔۔۔۔
چل گیا نا میرا۔۔جادو۔۔۔۔۔ زرداد کو سکون سا ملا اس کی ایسی حالت دیکھ کے۔۔۔ وہ دل ہی دل میں ہنس رہا تھا۔۔۔
شازر ،سکندر، اور زرداد تم تینوں کھانے کے بعد کمرے میں میری بات سنو آکر۔۔۔ ہارون پریشان سی شکل بنا کر پاس پڑے ہوۓ رومال کے ساتھ ہاتھ صاف کر کے اٹھ گیے۔۔۔
پوچھو اس سے یہ باہر کیا کرتا پھرتا آج کل۔۔۔ ہارون نے زرداد کی طرف ناگواری سے ہا تھ کااشارہ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ چار لوگ۔۔ ہارون کے کمرے میں تھے۔۔۔ زرداد۔۔ شازر۔۔۔ اور سکندر۔۔۔
سکندر نے سوالیہ انداز میں پہلے زرداد کی طرف دیکھا پھر ہارون کی طرف۔۔۔
سگریٹ بھی پینا شروع کر دی ہے۔۔ تمھارے لاڈلے نے۔۔۔ ہارون نے دانت پیستے ہوۓ سکندر کو کہا۔۔۔
وہ بدر لفنگے کے ساتھ دوستی ہے اسکی۔۔۔ جو الٹےکام وہ کرتا ہے وہی یہ کرتا ہے۔۔۔زرداد نے سر تھوڑا سا اور نیچے کیا۔۔۔
پوچھو اس سے کتنا اور زلیل کرنا مجھے ۔۔۔ پڑھتا وہ نہیں یہ مار کٹاٸی کرتا رہتا۔۔۔ ہارون کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اس ناہنجار پر تپھڑوں کی بارش کر دیں۔۔۔
زری۔۔۔ بابا سچ کہ رہے ہیں کیا۔۔۔ سکندر لہجے میں نرمی لاتے ہوۓ بولے۔۔۔
چاچو سگریٹ کا مجھے بھی شک تھا اس پر۔۔۔ شازر نے اسے جھاڑ پلانے میں اپنا حصہ ڈالہ۔۔۔
وہ تو مجھے بھی ہے تمھارے۔۔۔۔۔ پہ تم بھی پیتے ہو۔۔۔ زرداد نے دانت پیستے ہوۓ شازر کو کہا۔۔۔ اس کو تو ویسے بھی وہ کسی کھاتے میں نہیں لاتا تھا۔۔۔
میں۔۔۔ میں کب پیتا ہوں۔۔۔ شازر جزبز سا ہو گیا تھا۔۔۔۔ پر اس کے بعد وہ بولا کچھ نہیں۔۔۔
تمہیں اتنے مہنگے سکولوں میں پڑھایا۔۔۔ اتنی محنت کی تم پر ۔۔ اتنی میں شازر پر کرتا تو وہ آج کچھ کا کچھ ہوتا۔۔۔۔ ہارون اس پر کھڑے چیخ رہے تھے۔۔۔
تو نا کرتے نا احسان مجھ پر۔۔۔ وہ اب بدتمیزی سے اٹھا تھا۔۔۔
دیکھا۔۔۔ دیکھا ۔۔ اس کو۔۔۔ ہارون نے سکندر کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
تم سے اچھی تو وہ دانین ہے۔۔۔ اس کی وجہ سے سر فخر سے اٹھا کے نکلتا میں گھر سے۔۔۔۔ کوٸی پوچھتا یہ آپ کی بچی ہے سینا چوڑا ہو جاتا میرا۔۔۔ ہارون کے لہجے میں تلخلی تھی۔۔۔
دانین ۔۔دانین۔۔۔ ۔۔ اس نے غصے سے دانت پیسے۔۔۔
ہاں پیتا ہوں میں سگریٹ۔۔۔ مار دیں پھر مجھے۔۔۔۔ وہ ہارون کی انکھوں میں انکھیں ڈال کے کھڑا تھا۔۔۔
ہارون کا زناٹے دار تھپڑ اس کا گال جلا گیا تھا۔۔۔۔
وہ تیزی سے ناک پھولا کے کمرے سے دروازہ مارتے ہوۓ نکل گیا تھا۔۔۔
***************************************************
دانین یہ۔۔۔ دانین وہ۔۔۔ میں دکھاتا ہوں سب کو دانین بھی کیا ہے ۔۔۔
وہ رات کو غصے کی حالت میں دانین کےکمرے کے دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔
تھوڑی سی دروازے پہ دستک دے کراب وہ کمرے میں داخل ہو گیا تھا۔۔
زری۔۔۔۔ کیسے چلےآۓ ایسے کمرے میں۔۔۔۔ دانین نے خفگی کے سےانداز میں جلدی سے ایک طرف پڑا اپنا دوپٹہ اٹھا کر گلے میں لیا۔۔۔
چاۓ بنا دو مجھے۔۔۔ خود پہ بہت کنٹرول کر کے کھڑا تھا وہ۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔ میں تمھاری ملازمہ ہوں کیا۔۔۔ اسے اس کی بے تکلفی۔۔ کھٹک رہی تھی۔۔۔
نہیں ملازمہ نہیں۔۔۔ کچھ اور تو ہو میرے لیے۔۔۔ اپنے جھوٹے جزبات دکھاتے ہوۓ وہ آگے آیا تھا۔۔۔۔
کہ۔۔۔کہ۔۔۔۔کیا مطلب سمجھی نہیں میں۔۔۔ اس نے زرداد کو اس سے پہلے کبھی ایسے نہیں دیکھا تھا۔۔۔
پتہ نہیں خود بھی سمجھ نہیں پاتا ہوں میں کہ کیا ہو تم میرے لیے۔۔۔۔ زرداد نے دھیرے سے اس کے ہاتھ کو تھا ما تھا۔۔۔
دانین بدک کے پیچھے ہوٸی تھی۔۔۔۔
زرداد پلیز۔۔۔۔ میرے کمرے سے نکل جاو اسی وقت۔۔۔ دانین کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو کر ایسے شور کرنے لگی تھیں۔۔ کہ وہ گھبرا گٸی تھی۔۔۔ کہ ایسے کیوں ہوا۔۔۔۔
پلیز زرداد چلے جاٶ ۔۔۔۔اس نے دھکے کے سے انداز میں زرداد کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے اسے باہر کو دھکیلا۔۔۔۔
وہ ناک اور منہ دونوں پھلا کے تیزی سے باہر نکل گیا۔۔۔
اور وہ اپنے دھڑکتے دل کو لے کر فرش پہ بیٹھتی ہی چلی گٸی۔۔۔۔
***************************************************
منال میری شرٹ پریس کر دو۔۔۔منال اور دانین ٹی وی دیکھ رہی تھیں جب وہ آیا۔۔۔
دانین کو دیکھتے ہی۔۔۔ اس نے پھر سے منہ پھلا لیا تھا۔۔۔ پچھلے تین دن سے وہ دانین سے بات تو دور کی بات۔۔۔۔ اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔۔۔۔ اگر وہ چوری سے اسے دیکھتی بھی تو وہ خفا سا انداز لے کر وہاں سے چلا جاتا۔۔۔جب سے وہ ایسے ناراض ہوا تھا دانین کا کسی چیز میں دل نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کونسی کشش تھی جو اسے زرداد کے لیے دیوانہ بنا رہی تھی۔۔۔۔۔
اس کے ٹیسٹ بھی گندے ہو رہے تھے۔۔۔ اس دن سے پڑھنے کودل ہی نہیں کرتاتھا۔۔۔
منال کو ثمرہ نے اسی وقت آواز دی جیسے ہی وہ زرداد کی شرٹ کو استری کے میز پہ پھیلا چکی تھی۔۔۔
اوہ ۔۔۔ دانین ۔۔ ذرا۔۔ زری کی شرٹ پریس کر دو۔۔۔ میں امی کے بات سن کر آتی ہوں۔۔۔۔ وہ عجلت میں دانین کو کہ کر چلی گٸی۔۔۔ ۔
ابھی دانین میز کے پاس ہی آٸی تھی۔۔کہ وہ ناک پھلا کر اس کے پاس آیا۔۔۔ اکیلی بنیان پہن رکھی تھی۔۔۔ اس کے مظبوط۔۔۔ بازو اور چوڑا سینا۔ اسے ایک پل میں ڈھیر کر دینے کی حد تک دلکش بنا رہے تھے۔۔۔۔
چھوڑو ۔۔۔ کوٸی ضرورت نہیں۔۔۔ میری شرٹ کو ہاتھ مت لگانا۔۔۔اس نے جھٹکے سے اپنی شرٹ وہاں سے اٹھاٸی تھی۔۔۔۔
ہٹو یہاں سے۔۔۔ وہ اسے استری کے پاس سے ہٹنے کا کہ رہا تھا۔۔۔
ایک دم سے آنسوٶں کا گولا سا تھاجو اس کے گلے میں اٹک گیا تھا۔۔۔۔
وہ تیزی سےوہاں سے بھاگی تھی۔۔۔ اس سے پہلے کےزرداد اس کے گالوں پہ بہتے اس کے آنسو دیکھ لیتا۔۔۔۔
***************************************************
چاۓ کا پانی کیتلی میں بار بار ابال کھا رہا تھا اور وہ۔۔۔پاس خاموش کھڑی تھی۔۔۔۔ ناخن بار بار دانتوں میں ڈالے وہ اپنے دل کو قابو کرنے کی ناکام کوشش میں لگی رہی۔۔۔
پھر چاۓ کپ میں انڈیلتے انڈیلتے۔۔۔ اس کے ہاتھ دھیرے سے کانپ رہے تھے۔۔۔۔
چاۓ کا کپ لے کر وہ زرداد کے کمرے کے آگے بند دروازے کو گھور رہی تھی۔۔۔۔
پھر اپنے من بھاری ہاتھ کو دل کی بے تابی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے اٹھایا تھا اور دروازے پہ دستک دے ڈالی۔۔۔
وہ گٹار پہ کسی دھن کو بجا رہا تھا۔۔۔۔ جو اسے باہر بھی سناٸی دے رہی تھی۔۔۔۔ اس کا کمرہ چھت پر بھی اس ہی لیے تھا کہ گٹار کی اور اس کے گانے کی آواز نیچے نا جاۓ۔۔۔
دستک کے بعد اس نے دروازہ کھولا تھا ۔
وہ سامنے اپنے پورے جلوے لیے بیٹھا تھا۔۔۔ اس کا چین تک چرا لینے والا۔۔۔
زرداد نے چہرہ اٹھا کے اوپر دیکھا۔۔۔۔۔ اور پھر ایسے بے نیازی دکھاٸی کہ جیسے وہ ہے ہی نہیں۔۔۔
وہ دھیرے سے چاۓلے کر اس ک پاس آٸی تھی۔۔۔
اور کپ زرداد کے پاس رکھ دیا۔۔۔
چاۓ۔۔۔ تمہارے لیے۔۔۔ مدھم سی آواز گونجی تھی۔۔۔
کوٸی ضرورت نہیں تھی۔۔۔ وہ ابھی تک خفا تھا۔۔۔۔
دانین کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔۔۔ مجھے ضرورت ہے۔۔۔ اس نے ہلکی سی آواز میں کہا۔۔۔
کیوں۔۔۔ اس دن تو ایسے اپنے کمرے سے نکالا تھا مجھے جیسے میں تمھیں کھانے لگا ہوں۔۔۔۔ بڑی خفگی کےانداز میں زرداد نے کہا۔۔۔
دانین اپنے دونوں ہاتھوں کو مسلنے لگی۔۔۔ مجھے معاف کردو پلیز۔۔۔ روہانسی سی آواز میں کہا۔۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔ وہ گٹار ایک طرف رکھ کے سیدھا ہوا۔۔۔ تو بس ہو ہی گٸی میرے آگے اس کی اکڑ کی۔۔۔ زرداد نے کیمنگی سے سوچا۔۔۔
زہر لگ رہی تھی اس وقت اسے وہ اپنے سامنے بیٹھی۔۔۔۔
چاۓ کا کپ ا ٹھا کر اپنے منہ کو لگایا اور پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔ وہ جو اسے پہلے ہی محبت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ایک دم سے سٹ پٹا سی گٸی۔۔۔
زرداد کو اس کی بے چینی پہ ہنسی آ گٸی۔۔۔ وہ تیزی سے اپنی بے ترتیب دھڑکنیں سنبھالتی نیچے کو بھاگی۔۔۔۔۔
پیچھے سے اسے زرداد کا ایک جان دار قہقہ سناٸی دے رہا تھا۔۔۔جسے وہ کسی اور انداز میں لے گٸی۔۔۔
جبکہ زرداد نے قہقہ کسی اور وجہ سے لگایا تھا۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
سب سے چھپ کے اب زرداد کو دیکھنا۔۔۔۔ اس کے لیے دل سے چاۓ بنانا۔۔۔۔جب وہ گٹار بجاتا اس کے پاس گھنٹوں بیٹھے رہنا۔۔۔یہ سب اب دانین کو بہت اچھا لگنے لگا تھا۔۔۔
پڑھنے کو کتاب کھولتی تو زرداد کی کچھ باتیں ذہن میں گھومنے لگتیں۔۔۔ وہ کھو سی جاتی۔۔۔۔لب مسکرانے لگتے ۔۔۔ انجانے احساسات دل پہ گدگدی کرنے لگتے۔۔۔۔گھنٹوں ۔۔۔ دم سادھے۔۔۔ بستر پر اس کی اپنے اوپر گڑی ان آنکھوں کے بارے سوچتی رہتی۔۔۔ پاس پڑی کتاب کے صحفے۔۔۔ پنکھے کی ہوا کے ساتھ اتھل پتھل ہو ہو کر پاگل ہوۓ جاتے۔۔۔۔۔پر وہ تو پگلی ہو چکی تھی۔۔۔ کچی عمر میں۔۔۔ محبت کے سمندر میں بنا تیراکی سیکھے ہی غوطہ لگا چکی تھی۔۔۔ اب ڈوبنا تو طے پایا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: