Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 3

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 3

–**–**–

میں نا تمہیں کہتا تھا۔۔۔کہ بس یہ چلا تمھارا جادو۔۔۔ اور وہ گٸی اس کی اکڑ۔۔۔ بدر نے ھاتھ کا اشارہ آسمان کی طرف کیا۔۔۔
یار لیکن کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا اب مجھے۔۔۔ زرداد نے سگریٹ کا کش لگایا اور پھر منہ کو تھوڑا سا اوپر کر کے دھواں منہ سی نکالا۔۔۔دھواں اب ہوا میں گھلنے لگا۔۔۔
کیا مطلب کیا ٹھیک نہیں لگ رہا پاگل سارا دن تیرے ناک میں دم کر رکھتی تھی۔۔۔۔ اور اب دیکھنا تو اس دفعہ وہ بھی فیل نہ ہوٸی میڈیکل میں تو نام بدل دینا اپنے اس جگر کا۔۔۔ اپنے سینے پہ ہاتھ رکھ کے بڑے فخر سے کہہ رہا تھا وہ۔۔۔
یار وہ بہت ہی زیادہ سنجیدہ ہے۔۔۔ مجھے اب کوفت ہوتی ۔۔۔ اور ایکٹنگ کر کر کے۔۔۔۔ زرداد نے بے زاری سے سگریٹ کو ہوا میں اچھال دیا۔۔۔
تو نا کر اب بس وہ تو ساری ڈوب چکی نا اب چھوڑ دے اس کا ہاتھ اور نکل آ اس سمندر سے باہر اکیلا۔۔۔۔ بدر نے آنکھ دباتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
ہمم۔م۔م۔م۔ کہ تو ٹھیک رہا ہے۔۔۔ اس نے تھوڑی پریشانی میں سوچا۔۔۔
❤❤❤❤❤
اشعال کی مہندی تھی آج۔۔۔ گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا ۔۔ آج توسب رشتہ دار گھر پہنچ چکے تھے۔۔۔
زرداد اور شازر کی تو پھرکی گھومی پڑی تھی آج کام کر کر کے۔۔۔ اب جا کہ وہ فارغ ہواتھا تو سوچا کہ اپنے بھی کپڑے تبدیل کر آتا ہوں ۔۔۔ یہ سوچ ذہن میں آتے ہی وہ اوپرلمبے لمبے ڈگ سے سیڑھیاں پھلانگتا اپنے کمرے میں آیا تھا۔۔۔۔
جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو ایک دم سے رکنے پہ مجبور ہوگیا۔۔۔۔
کوٸی۔۔۔ لڑکی۔۔۔ اپنے پورے جلوے لیے۔۔۔ اس کے ڈریسنگ میز کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔
دمکتی رنگت۔۔۔ چمکتی آنکھیں۔۔ گلابی ہونٹ۔۔سرو قد
۔ ایک تو وہ خوبصورت بہت تھی۔۔۔ اوپر سٕے اس کے بناٶ سنگھار نے اسے اور دلکش بنا دیا تھا۔۔۔
جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ اک دم سے مڑی تھی۔۔۔
پہلے کچھ حیران سی ہوٸی۔۔۔ پھر کچھ پریشان سی ہوٸی۔۔۔ پھر کچھ گھبرا سی گٸی تھی۔۔۔ وہ دروازے کو بازو کھول کے بند کرنے کے سے انداز میں کھڑا۔۔اسے مسلسل تاڑے جا رہا تھا۔۔۔۔
م۔م۔مجھے۔۔۔ آنٹی نے بھیجاتھا اوپرکہ فری ہے ڈریسنگ ۔۔۔ وہ زرداد کو یوں اپنے سامنے دیکھ کر گھبرا سی گٸی تھی۔۔۔
اٹس اوکے۔۔۔ زرداد نے بڑی خوش دلی سے کہا۔۔۔۔
وہ زرداد کے دیکھنے سے پریشان سی ہو کر تیزی سے وہاں سے نکلنے کے لیے بلکل اس کے سامنے آ گٸی تھی۔۔۔
اف۔۔۔ آج گٹار کی طرح اس کے دل کے تار بجنے لگے تھے۔۔
راستہ دے دیں پلیز۔۔۔ لڑکی نے بڑے انداز سے کہا تھا۔۔۔
اداٸیں ۔۔۔ بھی۔۔۔ ہیں۔۔۔۔ میرے۔۔۔ محبوب ۔۔۔ میں۔۔۔
گانے کے بول زرداد کے ذہن میں گونجنے لگے تھے۔۔۔
پاگل۔۔۔۔ لڑکی ایک اندازِ دلرباٸی سےکہتے ہوۓ اس کے بازو کے نیچےسے نکل کر چلی گٸی۔۔۔
❤❤❤❤❤
زرد رنگ کا غرارا۔۔۔ گہری۔۔۔ گلابی قمیض۔۔ اور ملے جلے دونوں رنگ کا دوپٹہ۔۔۔ منال سے ہلکا سا میک اپ کروا کر وہ بہت حد تک جازبِ نظر لگ رہی تھی۔۔۔
لب تھے کہ بار بار مسکرا رہے تھے۔۔۔ دل چاہ رہا تھا اب زرداد اسے دیکھ لے ایک نظر۔۔۔ اسی خیال کے دل میں آتے ہی وہ سیڑھیاں پھلانگتی اس کے کمرےمیں۔آ گٸی تھی۔۔
آٸی تو خود اسکے ہوش اڑانے تھی۔۔۔ پر اسے دیکھ کر خود ہی ہوش اڑا بیٹھی تھی۔۔۔ وہ لگ بھی ایسا ہی رہا تھا۔۔۔ ہوش اڑا دینے والا ۔۔ دل دھڑکا دینے والا۔۔۔
اسے دیکھ کر بس ایک نظر ڈال کے وہ پھر سے ڈریسنگ کے آٸینے کے سامنے سیدھا ہو گیا تھا۔۔۔
کیا ہوا زرداد نے دیکھا تک نہیں۔۔۔۔۔دل ایک دم سے بجھ ہی گیا تھا۔۔۔
بہت اچھے لگ رہے ہو۔۔۔ مدھم سی آواز تھی۔۔۔ ۔ دانین نے پیار بھری نظروں سے زرداد کو دیکھا۔۔۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔ وہ خود پہ سینٹ کا چھڑکاٶ کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ تھوڑا اکھڑا اکھڑا سا لگا تھا۔۔۔
۔چلیں نیچے۔۔ وہ یہ کہہ کر تیزی سے نیچے کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔
اور اسکا ہاتھ ہوا میں تھوڑا سا اوپر اٹھا تھا۔۔۔ کانچ کی چوڑیاں کھنک سی گٸی تھیں۔۔۔ اس کے زبان کے الفاظ کے ساتھ۔۔ جو یہ کہنے جا رہے تھے۔۔۔ کہ ”کیا ہوا زرداد تم ناراض ہو مجھ سے۔ “ ہا تھ اسکا ہوا میں ہی رہ گیا تھا اور بات اس کی دل میں ہی رہ گٸی تھی۔۔۔
اب وہ اسے سیڑھیاں پھلانگتے ہوۓ نیچے جاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
پھر ایک پھیکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پہ آٸی تھی۔۔۔ وہ آج اتنے دل سے تیار ہوٸی تھی۔۔
بوجھل قدم اٹھاتی۔۔۔۔ وہ واپس جا کر خود کو زرداد کے کمرے کے آٸینے میں دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ اچھی لگ رہی تھی۔۔۔ ویسے تو جب سے زرداد کے لیے دل نے دھڑکنا شروع کیا تھا اس کو خود اپنا آپ اچھا ہی لگتا تھا۔۔۔۔
لیکن آج وہ کچھ الگ ہی لگ رہی تھی۔۔۔ اپنے ٹوٹے دل کو لے کر وہ ہلکے سے مسکراتی ہوٸی نیچے اتری تھی۔۔۔
زرداد کی نظریں مسلسل اس لڑکی کو تلاش رہی تھیں۔۔ ڈھول اور گانوں کی آوازیں۔۔۔ مسلسل گونج رہی تھیں۔۔۔
گھر کے صحن میں ہی ۔۔ چھوٹا سا سٹیج بنا کر انتظام کیا گیا تھا۔۔۔ مہندی کا۔۔۔ وہیں نیچے کارپٹ پر بہت ساری لڑکیاں زور زور سے ڈھول پیٹ کر کو ٸی پنجابی شادی کا گانا گا رہی تھیں۔۔۔
ان ساری لڑکیوں میں وہ اپسرا موجود نہیں تھی۔۔
کہاں۔۔ ہے۔۔۔ کہاں ہے۔۔۔ وہ بے چین سا تھا۔۔۔
پھر اچانک وہ منال کے ساتھ۔۔ برامدے سے باہر آ رہی تھی۔۔۔
ہنستے ہوۓ۔۔۔۔ اپنے دوپٹے کو کندھے پہ ٹکاتے ہوۓ۔۔۔
اف۔ف۔ف۔ف زرداد کے دل پہ بجلیاں گراتے ہوۓ۔۔۔
پتہ ہی نا چلا کب وہ چلتا ہوا منال کے بلکل پاس کھڑا تھا۔۔۔ نظریں۔۔۔ اس اپسرا کے دلکش چہرے پہ ٹکی تھی۔۔۔
کیا ہوا زری۔۔۔ منال نے اس کویوں پاس کھڑادیکھ کر پوچھا۔۔۔
بات سننا ذرا میری۔۔۔ منال کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
منال اس کے ساتھ چلتی۔۔۔ برآمدے کے دروازے کے پاس آ گٸی تھی۔۔۔
کون ہے یہ۔۔۔ کان کھجاتے ہوۓ اپنے دل کے تاثرات چھپاتے ہوۓ۔۔ وہ منال سے سرگوشی کے انداز میں پوچھ رہا تھا۔۔۔
نیلم آنٹی کی بھتیجی لگتی سسرال کی طرف سے۔باہر سے آٸی ہے۔ منال نے کن اکھیوں سے اس کے انداز کو جانچا اور اپنی ہنسی چھپاتے ہوۓ کہا۔۔۔
نیلم ثمرہ کی خالہ زاد تھی۔۔ ویسے توآنا جانا کم ہی تھا۔۔۔ یہ لوگ حیدر آباد کے رہنے والے تھے اور وہ۔۔ لاہور رہتی تھیں ۔
نیلم کی شادی اچھے کھاتے پیتے گھرانے میں ہوٸی تھی۔۔۔ اس لیے جب کبھی شادیوں میں آتی تو اچھی آٶ بھگت کی جاتی تھی اسکی۔۔۔
کیوں تم کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔ منال نے شرارت سے اپنا کندھا زرداد کے کندھے کو مارا۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔ ویسے ہی پوچھ رہا تھا۔۔۔ زرداد نے خجل سا ہو کر اپنے ہونٹوں پہ زبان پھیری۔۔۔
اوہ ۔۔ اچھا۔۔ یہی بات ہے نا۔۔۔ میرے ہیرو۔۔ منال نے شوخی کے سے انداز میں پوچھا۔۔۔
بلکل زیادہ شوخی مت ہو۔۔ زرداد نے اپنی قمیض کو جھٹکا دیا۔۔۔
اچھا بات سن نام کیا ہے اس کا۔۔ منال اس کے روکھےرویے کو دیکھ کے کندھےاچکا کےجانے لگی تو پیچھے سے زرداد نے آواز دی تھی ۔۔۔
منسا۔۔۔ منسا نام ہے ۔۔۔ منال کی شوخی پھر سے لوٹ آٸی تھی۔۔۔
پر وہ تو اس کے نام کو زیرِلب دھرا رہا تھا۔۔ واہ کیا نام ہے۔۔۔ منسا۔۔۔ منسا۔۔۔
کیا ہوا ہے تجھےکیا بڑابڑا رہا۔۔۔ بدرنے ایک دم سے پیچھے زور کی تھپکی دی تھی۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔ زرداد کی نظر بار بار منسا پہ پھسل پھسل جا رہی تھی۔۔ اب وہ اشعال کے ساتھ سٹیج پہ بیٹھی اسے مہندی لگا رہی تھی۔۔۔ کھنکتی ہنسی ۔۔ ایسی تھی کہ زرداد کے کانوں میں رس ہی تو گھل رہا تھا۔۔
واہ کیا خوبصورت۔۔ چہرہ ہے استاد۔۔ آپکی نظروں کا یوں فکس ہو جانا سمجھ میں آتا ہے۔۔۔ بدر نے کمینگی کے سے انداز میں زرداد کی نظروں کا تعاقب کر کے منسا کو دیکھا ۔۔۔۔جبکہ اس کے دونوں ہاتھ کیمرے کے سے انداز میں اس کی نظروں سے ہوتے ہوۓ۔۔۔ منسا پر جا رہے تھے۔۔
زبان کو قابو میں رکھ سمجھا تو۔۔۔ نہیں تو زبان سے ہی پکڑ کر پٹخ ڈالوں گا۔۔ پتا ہے نا میرا۔۔۔ تمیز سے۔۔۔
خونخوار نظر ڈالی۔۔۔ بدر پہ
اور نظریں اب پھر سے۔ اسی کے دیدار کے مزے لے رہی تھیں۔۔۔
مسلسل کسی کی نظروں کا حصار اسے پریشان ہی کر رہا تھا۔۔
آخر دیکھنا ہی پڑا۔۔۔ وہی لڑکا تھا جو چھت پہ اسے ملا تھا۔۔۔
تو جناب ہو ہی گۓ شکار۔۔۔ دل ہی دل میں وہ مسکراٸی تھی۔۔
وہ ایسے ہی بجلی گرا دینے والی تھی۔۔۔ اسے اچھا لگتا تھا ۔۔ خود پہ یوں۔۔ لڑکوں کا لٹو ہو جانا۔۔۔ یہ سب اسکے غرور میں اضافہ کرنے کی وجہ بنتا تھا۔۔۔
وہ کبھی کبھی چور سی نظروں سے اسے دیکھ لیتی تھی۔۔ جو بھی ہو زرداد کے خوبرو چہرے نے چھکے تو اس کے بھی چھڑوا دیے تھے۔۔۔
دانین کی اور منال کی بھاگ دوڑ لگی ہوٸی تھی مہمانوں کو سنبھالنے میں۔۔۔ پھر بھی وہ آتے جاتے۔۔۔ زرداد کو دیکھ کر اپنی بے چین روح کو سکون دے رہی تھی۔۔۔ ان دو مہینوں کے اندر اندر وہ بری طرح۔۔۔ زرداد کی محبت میں جکڑی جا چکی تھی۔۔۔۔
زردادکیوں ناراض ہے۔۔۔ دانتوں سے ہونٹوں کو کچلتے ہوۓ اس نے سوچا۔۔۔ غلطی تو نہیں ہوگٸی کوٸی مجھ سے۔۔۔بار بار ذہن اپنی کسی ایسی کوتاہی کو تلاش رہا تھا جو اس سے انجانے میں ہو گی ہو۔۔۔ اور زرداد ناراض ہو گیا ہو۔۔۔
❤❤❤❤❤
چاۓ کے کپ کو دھیرے سے تھامے وہ زرداد کے کمرے میں آٸی تھی۔۔۔ رات کے تین بج رہے تھے۔۔۔ کچھ لوگ سو چکے تھے تو کچھ ابھی بھی جاگ رہے تھے۔۔۔ ہلکی ہلکی باتوں کی آواز۔۔۔ لڑکیوں کی کھنکتی ہنسی۔۔۔ اور تایا ابا کی بار بار سونے کی تاکید کی آوازیں۔۔۔ آ رہی تھیں۔۔
ہلکی سی دستک کے بعد وہ بلاتکلف کمرے میں داخل ہوٸی تھی۔۔۔ وہ ہونٹوں پہ گہری مسکراہٹ سجاۓ چھت کو گھور رہا تھا۔۔۔ قمیض اتار کرسی کی پشت پہ ڈال رکھی تھی۔۔۔ شلوار کے اوپر بنیان زیب تن تھی۔۔۔
دانین کو دیکھ کے اس نے عجیب سے طریقے سے بھنویں اچکاٸی تھیں۔۔۔
چاۓ۔۔۔ دانین نے چاۓ کے کپ والا ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔
مجھے نہیں پینی لے جاٶ۔۔۔ روکھا سا انداز۔۔ تھا۔۔۔ وہ اب الماری سے ٹی شرٹ نکال کے پہن رہا تھا۔۔۔۔ چہرے پر عجیب سی بے زاری اور ناگواری کے تاثرات تھے۔۔۔
زری۔۔۔ ناراض ہو مجھ سے گھٹی سی آنسوٶں میں ڈوبی آواز تھی۔۔۔
نہیں تو۔۔۔
وہ ہی بے رخی۔۔۔۔ کے انداز میں جواب دیا۔۔۔
دانین تھوڑا سا مسکرا کرآگے آٸی تھی۔۔۔ زرداد کے بازو پہ ہاتھ رکھا۔۔
چوڑیوں کی کھنک ایک دم سے کمرے کی خاموشی میں مدھر ساز بجا گٸی تھی
۔ زری۔۔۔ اتنی چاشنی میں گھلی آواز میں اس نے کہا تھا۔
لیکن اس سنگدل پہ کیا اثر۔۔۔جوں کا توں بس خاموش ہی رہا۔۔۔
بولو کیا کوتاہی کر بیٹھی میں اب۔۔۔ پیار بھری آواز۔۔۔
زرداد ان دو ماہ میں اس سے اتنی بار ناراض ہو گیا تھا کہ اسے اب عادت سی ہو گٸی تھی اس کی ناراضگی۔۔۔ کی۔۔۔
دانین کیوں دماغ کھا رہی ہو یار۔۔۔زرداد کو چڑ سی ہورہی تھی۔۔۔
بازو کو ایک جھٹکا دے کر چھڑوا ڈالا۔۔۔ چوڑیوں کی کھنک پھر سے گونجی۔۔۔ ایسے جیسے چیخ اٹھی ہوں۔۔۔
اب کیسے جان چھڑواٶں اس سے۔۔۔ خود ہی پھنس کے رہ گیا ہوں۔۔۔ زرداد نے بیزار سی شکل بنا کر سوچا۔۔۔
رخ موڑ کر دانین کی طرف پیٹھ کر ڈالی۔۔۔ پر وہ کچی عمر میں۔۔۔ اس سفر پہ نکلی ہوٸی مسافر کیا جانے کہ وہ موا۔۔۔ اس کے جزبات نہیں سمجھتا بس اس کو زیر ہی کرنا چاہتا تھا۔۔
بتاو تو اچھا ۔۔۔۔ سوری۔۔۔ وہ کانوں کو ہاتھ لگاۓ کھڑی تھی۔۔۔
ددونوں ہاتھوں کی چوڑیوں نے بہت شور کیا پر وہ نا سمجھی۔۔۔
دانین یار جاٶ نا پلیز میں بہت تھکا ہوا ہوں۔۔۔ زرداد نے تھوڑی سختی سے کہا۔۔۔
وہ ایک دم گھبرا سی گٸی۔۔۔ پر وہیں کھڑی تھی ابھی۔۔۔
جاٶ نا یار بہت رات ہو گٸی ہے۔۔۔ اور بیزاری دکھاٸی۔۔
اور بازو لمبا کرکے دروازے کی طرف اشارہ کر ڈالا۔۔۔
ایک دم آنکھیں اور دل دونوں بھر آۓ تھے۔۔۔ بوجھل قدم اٹھاتی وہ وہاں سے بھاگ آٸی تھی۔۔۔
ساری رات۔۔ وہ تکیہ بھگوتی رہی تھی۔۔۔ منال اور کچھ اور لڑکیاں اس کے کمرے میں تھی آج۔۔۔ منال کے کمرے میں نیلم اور منسا کو ٹہرایا گیا تھا۔۔۔۔
روتے روتے جب اسکی آنکھ لگ رہی تھی۔۔۔ تو ہلکی ہلکی اذان کی آواز اس کے کان میں پڑ رہی تھی۔۔۔
❤❤❤❤
یہ نٸی والی گاڑی میں ۔۔ میں کچھ مہمان لے جاتا ہوں میرج ھال تک۔۔
سب لوگ گھر سے باہر تیار ہو کر نکل رہے تھے۔۔۔ زرداد نے آج تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا۔۔۔ سرخ رنگ کی ٹاٸی۔۔۔ لگاٸی ہوٸی تھی۔۔۔
وہ گاڑی کے پاس آتی ہوٸی ثمرہ سے کہہ رہا تھا۔۔
آپ اور آنٹی نیلم بیٹھ جاٸیں نا ۔۔ وہ کان کھجاتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔۔ اسے ثمرہ سے تھوڑی دیر پہلے بات کرتی ہوٸی نیلم اور اسکے پاس منسا کھڑی نظر آگٸی تھی۔۔۔ ۔۔ سر خ رنگ کا لمبا سا فراک تھا۔۔۔ اور وہ اس میں دمک رہی تھی۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے ۔۔ میں نیلم کو بلا کر لاتی ہوں۔۔
تھوڑی دیر بعد ثمرہ۔۔ نیلم اور منسا کے ساتھ چلتی ہوٸی گاڑی کی طرف آ رہی تھی۔۔ وہ نیلم اور ثمرہ سے تھوڑا سا پیچھے چل رہی تھی۔۔۔ زمین پہ بڑے ناز سے قدم رکھتی ہوٸی وہ آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔
چہرے پہ مسکراہٹ تھی۔۔۔ چہرے پہ سلیقے سے کیا ہوا میک اپ تھا۔۔۔ جو اس کے دلکش چہرے کو چار چاند لگا رہا تھا۔۔۔
بڑے انداز میں زرداد نے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا۔۔۔ منسا کے لیے ۔۔۔۔وہ اپنے بڑے سے فراک کو سنبھالتی۔۔ بڑی نازکت سے گاڑی میں بیٹھی تھی۔۔۔
زراد نے اپنی انگلیوں سےٹاٸی کی ناٹ کو پکڑ کر بڑی ادا سے داٸیں باٸیں گھمایا تھا۔۔۔ اور فرنٹ سیٹ پہ بڑی شان سے بیٹھا تھا۔۔۔
وہ درحقیقت۔۔۔ دل کو دھڑکا دھڑکا دینے والی شخصیت رکھتا تھا۔۔۔
ثمرہ زرداد کے ساتھ آگے بیٹھی تھی۔۔۔ اور نیلم اور منسا پیچھے۔۔۔
سب لوگ مختلف گاڑیوں میں بیٹھ کے میرج ھال کی طرف رواں تھے۔۔۔
زرداد نے مرر کو گھما کر پیچھے بیٹھی ۔۔ منسا پر سیٹ کر لیا تھا۔۔۔ اس کو ساری خبر تھی اور وہ اپنی ھنسی دبانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔۔ کبھی کبھی نظر چرا کہ زرداد کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
منسا کو کراچی بھی دیکھنا اس کے بعد۔۔۔ بہت اسرار کر رہی مجھ سے۔۔۔ نیلم کہ آواز نے گاڑی کی خاموشی کو توڑا تھا۔۔۔
اوہ بڑی اچھی بات ہے ۔۔۔ بیٹا سارا پاکستان گھوم کے جانا۔۔۔ ثمرہ نے خوش دلی سے کہا۔۔۔
مجھے بتا دیں ۔۔۔ میں لے جاوں گا آپکو۔۔ کراچی گھمانے۔۔۔ زرداد نے خوش دلی سے کہا۔۔۔ اور ایک بھر پور نظر منسا پہ ڈالی۔۔۔ جو اداِ بے نیازی سے گردن گھما کہ گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔۔
ہاں زرداد کے ساتھ چلی جانا ۔۔۔ ثمرہ نے بھی تاٸید کر کے زرداد کی خوشی میں اضافہ کر دیا۔۔۔
زرداد نے مسکرا کے مرر میں منسا پرپھر سے نظر ڈالی تھی۔ جو دھیرے سے مسکرا رہی تھی۔۔۔
❤❤❤
ہلکے سے نارنگی کلر کا موتیوں کے کام والا کپری۔۔ ااور شارٹ شرٹ پہنے۔۔۔ سلیقے سے بالوں کو کرل ڈال کے آگے شانوں پہ ڈالے۔
ہلکا سا اپنی جلد کے ہی ہم رنگ میک اپ میں وہ بہت حد تک اچھی لگ رہی تھی۔۔۔ پر اس کی بڑھی ہوٸی بھنویں۔۔ جو کافی گھنی تھیں۔۔۔ اس کے رنگ کو اور دبا رہی تھیں۔۔۔
وہ اشعال کے ساتھ پارلر میں تھی۔۔
وہ لوگ اب ھال میں پہنچے تھے۔۔۔
۔ اب وہ اشعال کو لے کر ھال کی طرف جا رہی تھی۔۔۔ لیکن نظریں بار بار کہیں زرداد کی ایک جھلک کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھیں۔۔۔
دانی۔۔۔ زری کو بلا کر لانا۔۔۔ اشعال نٕے دھیرے سے اس کے کان میں کہا تھا۔۔ جب وہ اسے براٸیڈل روم میں بیٹھا رہی تھی۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔ بلا کر لاتی ہوں۔۔۔ اس کی تو دل کی بات کر دی تھی اشعال نے۔۔
وہ زرداد کو پورے ھال میں تلاش کر رہی تھی۔۔۔ پھر سٹیج کے پاس کھڑا وہ کسی کو کوٸی ہداٸت دے رہا تھا۔۔۔
بجلی گراتی شخصیت لیے۔۔۔
زری۔۔۔ زری۔۔۔ وہ تو سن ہی نہیں رہا تھا۔۔۔ کسی سے بات کرنے میں اتنا مصروف تھا۔۔۔
زری۔۔۔ اس نے زور سے آواز دی تھی۔۔ تا کہ موسیقی کی۔ اونچی آواز میں اس کی آواز زرداد کے کانوں تک پہنچ جاۓ۔۔۔
کیا ہے۔۔۔ ماتھے پہ سو بل ڈالے وہ مڑا تھا۔۔۔
اشعال آپی بلا رہی تمہیں۔۔۔ اس نے اپنے منہ کے گرد ھاتھ کا داٸرہ بنا کر کہا۔۔۔
اچھا ۔۔۔ اچھا۔۔۔ ابھی بہت کام یہاں آ جاتا ہوں۔۔۔ اتنی بے رخی سے کہا گیا۔۔۔
ایک دم اس کے رویے نے دل بجھا سا دیا تھا۔۔۔ وہ کل سے ایسا ہی سلوک کر رہا تھا اس سے۔۔۔
زرداد کیوں ایسے کر رہا ہے۔۔۔۔ مسٸلہ کیا ہے۔۔۔ اپنی سوچوں میں گم وہ واپس اشعال کے پاس براٸیڈل روم میں آ گٸی تھی۔۔۔
جہاں تھوڑی دیر بعد زرداد بھی موجود تھا۔۔۔
بتاو مجھے۔۔۔ اگر ابا کو پتا لگا تو تمہیں پتا ہے وہ کیا حشر کریں گے تمہارا۔ اشعال زرداد کو سمجھا رہی تھی۔۔۔
لیکن اسے تو جیسے کوٸی ڈر ہی نہیں تھا۔۔
۔ تو کیا ہے۔۔۔ پورے پاکستان کا سنگنگ کمپیٹیشن ہے۔۔۔ میں کونسا جیت ہی جانے والا ۔۔۔ ایک دفعہ قسمت تو آزمانے دیں۔۔۔ وہ جھنجلا کے بول رہا تھا۔۔۔
لیکن تمہیں پتا ہے یہ بات ابا سے چھپی کہاں رہ سکے گی۔۔۔ کراچی آنا پڑے گا تمہیں۔۔۔ اور پھر ٹی وی پہ پوری دنیا دیکھے گی۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ابا کو کوٸی کچھ نا بتاۓ گا۔۔۔ اشعال کو اب اس پہ غصہ آ رہا تھا۔۔۔
احمد نے اسے سب بتا دیا تھا۔۔ کہ زرداد کراچی آنا چاہتا ہے گانے کے مقابلے میں حصہ لینے۔۔۔ کسی چینل نے ایک شو شروع کرنا تھا جس میں وہ پورے پاکستان میں سے کسی ایک اچھے گلوکار کو سامنے لانے والے تھے۔۔۔
اشعال کی احمد سے شادی ہونے جا رہی تھی۔۔۔
ویسے احمد ان کا دور کا رشتہ دار بھی تھا۔۔۔احمد کراچی میں ایک پراٸیویٹ کمپنی میں ملازمت کر رہا تھا ۔
تم بس اپنی پڑھاٸی کی طرف دھیان دو چھوڑ دو یہ جنون۔۔۔ تمہیں پتا ہے نا ابا بلکل پسند نہیں کرتے۔ ۔۔۔ اب کی بار تو اشعال روہانسی ہو گٸی تھی۔۔۔
زرداد بنا کچھ کہے وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔ ناک اور منہ پھولا ہوا۔۔۔
اشعال آپی پلیز رونا مت ۔۔۔ دانین نے جلدی سے اشعال کو روکا تھا۔۔۔۔ اسے پتا تھا اشعال زرداد کو لے کر بہت حساس ہے۔۔۔
دانی دیکھو نا کتنا ضدی ہے ۔۔۔ کوٸی بات نہیں مانتا میری۔۔۔ اشعال کی آنکھیں ڈبڈبا ہی گٸی تھیں۔۔۔
اف آپی۔۔۔۔ نا کریں نا۔۔۔ دانین گھٹنوں کے بل بیٹھی۔۔۔ اشعال کے آنسو صاف کر رہی تھی۔۔
جبکہ خود اسکا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔۔ کہ زرداد کراچی چلا جاۓ گا۔۔۔
❤❤❤❤❤
اشعال کی شادی ہو چکی تھی۔۔۔ سب لوگ ولیمے کے لیے جا رہے تھے مسواۓ دانین کے جس کے سالانہ پیپر میں دو دن پڑے تھے۔۔۔ ہارون نے اسے ساتھ جانے سے سختی سے منع کیا تھا۔۔۔ اور گھر رہ کر پڑھنے کی تاکید کی تھی۔۔
اس کا دل اچھل اچھل جانے کو کر رہا تھا ۔۔۔اسے پتہ وہ کس دل سے رکی تھی۔۔۔
اور پھر وہ سارا دن زرداد کے لیے ڈاٸری لکھتی رہی۔۔۔ ایک چھوٹی سی خوبصورت ڈاٸری جو اسے کچھ سال پہلے اس کی دوست نے تحفے کے طور پر دٕی تھی۔۔ اس پر آج وہ اپنی ساری محبت ۔۔۔ اپنی بے چینی ۔۔ کو لفظوں کی شکل دے کر لکھ رہی تھی۔۔۔ شاٸید اس کی اتنی محبت دیکھ کر۔۔۔ وہ اپنی ساری ناراضگی بھول جاۓ۔۔۔
وہ اسے کتنا پیارا ہے۔۔۔ وہ اسے کتنا سوچتی ہے۔۔۔ اس کا دل کیا کیاکیا چاہتا ہے سب کچھ اس نے اس ڈاٸری میں لکھ ڈالا تھا۔۔۔۔
پتہ ہی نا چلا وہ گھنٹوں اس ڈاٸری کو لکھتی ہی چلی گٸی۔
پڑھنے کو دل نہیں کرتا تھا اب ویسے جیسے پہلے کرتا تھا۔۔۔
پھر کچھ دیر بعد وہ زرداد کے کمرے میں تھی۔۔۔
پہلے تو اس کی ٹی شرٹ کو اٹھا کے اپنے سینے سے لگا کہ بھینچ ڈالا۔۔۔ پھر اپنے منہ پہ ڈال کے لیٹ گٸی۔۔۔
اس میں سے زرداد کی خوشبو آ رہی تھی۔۔۔ ۔ جو اب اس کے ناک سے گھس کے اس کے دل پہ گدگدی کر رہی تھی۔۔۔
پھر اس کے گٹار پر وہ کتنی ہی دیر یونہی پیار سےہاتھ پھیرتی رہی ۔۔۔۔
ایک انوکھا سا احساس تھا۔۔۔ اس کی ہر چیز سے اپنا پن محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
لب خود بہ خود مسکرا رہے تھے۔۔۔
دانین زرداد۔۔۔۔۔ وہ زیرِلب اس نام کو کتنی دفعہ دہرا چکی تھی۔۔۔ پھر اپنی ڈاٸیری کو زرداد کے گٹار کے نیچے رکھ کے وہ ۔۔۔ باہر آ گٸی تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: