Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 5

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 5

–**–**–

نکل میرے گھر سے۔۔۔ بدر زمین سے اٹھا تھا۔۔۔ اس نے اپنے ہونٹوں کے کنارے سے نکلتے خون کو اپنی انگلیوں کے پوروں پہ لگا کے دیکھا تھا۔۔۔
زرداد ناک پھلاۓ کھڑا تھا۔۔۔ اس کا سانس تیز رفتاری سے چل رہا تھا۔۔
زرداد کے فولادی جسم کے آگے بدر کی کیا چلنی تھی۔۔ ایک پنچ نے ہی اس کا دانت توڑ ڈالا تھا۔۔۔
چل نکل۔۔ چل دفعہ ہو جا۔۔ بدر اسے دھکے دے رہا تھا۔۔۔ اس نے بدر کو پھر سے دھکا دیا۔۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا پاس پڑی کرسی سے ٹکرایا۔۔۔
زرداد نے اپنی شرٹ کو جھٹکا دے کر درست کیا۔۔۔ گٹار اٹھایا اور بدر کو گھورتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔
💔💔💔💔
آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں اس کی حالت تو دیکھیں۔۔۔ اتنا تیز بخار ہے۔۔ وہ بستر سے نہیں اتر پا رہی آپ کہہ رہے اسکا پریکٹیکل ہے۔۔۔ ڈاکٹر نے تیز بخار میں بے سدھ پڑی دانین کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
لیکن ہماری بچی کا سال ضاٸع ہو جاۓ گا ڈاکٹر ۔۔ بہت ذہین ہے میری بچی۔۔ سکندر پاس کھڑا ڈاکٹر کو کہہ رہا تھا۔۔۔
دیکھیں ۔۔ آپ کو بچی کی پڑھاٸی سے زیادہ اس کی صحت پیاری ہونی چاہیے۔۔ ڈاکٹر نے سکندر کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا اور پھر اپنی چیزیں سمیٹتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔
شازر ڈاکٹر کے پیچھے پیچھے نکل گیا۔۔۔ ڈاکٹر کو مین گیٹ تک لے جانے کے لیے۔۔۔
سکندر ڈاکٹر ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔ کوٸی بات نہیں امتحان دوسری کوشش میں دے دی گی۔۔۔ہارون نے سکندر کو تسلی دی۔۔۔
سدرہ اس کے سر پر ٹھنڈی پٹیاں رکھ رہی تھی۔۔۔ اور ساتھ ساتھ اپنے آنسو اور ناک دوپٹے کے پلو سے پونچھ رہی تھی۔۔۔
اتنی محنت کی میری بچی نے۔۔سدرہ کی روہانسی آواز ابھری۔۔۔
سکندر پریشان سے کھڑے دانین کے چہرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
آنکھوں کے نیچے گہرے سیاہ حلقے پڑے تھے۔۔۔ہونٹوں کا رنگ زرد تھا اور ان پر پپڑی جمی تھی۔۔۔
چہرہ ایسے مرجھایا ہوا تھا۔۔۔ اور گال زرد ہوۓ پڑے تھے۔۔۔
سکندر کی آنکھوں میں پانی آ گیا تھا۔۔۔
دانین کبھی ایسے بیمار نہیں ہوٸی تھی۔۔۔ اب تو اتنے دن ہو گۓ تھے۔۔۔ اس کا بخار اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔
اب وہ مزید سدرہ اور دانین کو ایسی حالت میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔۔۔ تیزی سے کمرے سے باہر چلے گٸے تھے۔۔۔
💔💔💔💔
اماں سے تو بات کر لو کم از کم۔۔۔ اشعال زرداد کے پاس موباٸل لے کر کھڑی تھی۔۔۔ چہرے پہ بلا کی پریشانی لیے۔۔
ان سے کیا ناراضگی۔۔۔ اشعال بار بار اس کے سامنے فون کر رہی تھی جسے وہ دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔۔۔
ہونٹ بھینچ کے بیٹھا ہوا تھا جبکہ نظریں سامنے لگے ٹی وی پہ ٹکی تھیں۔۔۔۔
وہ اسی دن کراچی اشعال کے گھر آ گیا تھا۔۔۔ احمد اور اشعال یہاں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتے تھے۔۔۔
اماں۔۔۔ وہ نہیں کر رہا ہے بات۔۔ آپ پریشان نا ہوں۔۔۔ میں۔۔۔ میں کہہ رہی ہوں نا۔۔۔ اچھا ۔۔۔ اچھا۔۔۔ آپ بلکل پریشان نا ہوں۔۔ اشعال پوری کوشش کر رہی تھی کہ اپنی روتی ہوٸی ماں کو تسلی دے۔۔ آج ایک ہفتہ ہونے کو تھا اس کو یہاں آۓ ہوۓ وہ کسی سے بات تک نہیں کر رہا تھا کال کاٹ دیتا تھا۔۔۔
چاچو کو بھی کہیں بے فکر رہیں۔۔۔ احمد ہیں نا یہاں۔۔۔ اشعال پریشانی سے کبھی سامنے بیٹھے زرداد کو دیکھ رہی تھی تو کبھی کچھ دور بیٹھے احمد کو۔۔۔
اوہ۔۔۔ کیسے ۔۔ کب۔۔۔ اشعال کی آواز اور شکل ایک دم دانین کی بیماری کا سن کر پریشانی میں تبدیل ہو گٸی تھی۔۔۔
اچھا میں کرتی ہوں چچی کو فون۔۔۔ اچھا اللہ حافظ۔۔۔ اس نے کان سے فون ہٹایا تھا۔۔ اب وہ کچھ سوچنے کے سے انداز سے فون کو اپنے ہونٹوں پہ آہستہ آہستہ مار رہی تھی۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ زرداد نے اس کی پریشان سی شکل دیکھ کر پوچھا۔۔۔ بے شک وہ بیٹھا ایسےہی تھا کہ اس کا کوٸی دھیان نہیں۔۔۔ لیکن اس کا پورا دھیان تھا۔۔ اشعال کی باتوں کی طرف۔۔۔
دانین بہت زیادہ بیمار ہے۔۔۔ پریکٹیکل بھی نہیں دے سکی۔۔۔اشعال نے پرشان سی شکل بنا کر کہا۔۔۔
زرداد کے ماتھے پہ پسینے کی بوندیں نمودار ہو گٸی تھیں۔۔۔ وہ ایک دم خا موش ہو گیا تھا۔۔۔
دل ایک دم سے بوجھل سا لگا۔۔۔ یہ سب اس کی وجہ سے ہوا تھا۔۔۔ اس کے سامنے دانین کا اس دن والا آنسٶوں سے بھیگا چہرہ لہرا گیا۔۔۔
اچھا چاۓ پیو گے۔۔۔ تمھارے بھاٸی کی بنانے لگی تھی۔۔۔ اشعال کی کچن سے آتی آواز اسے خیالوں سے باہر لاٸی تھی۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔۔بہت مختصر سا جواب دیا تھا۔۔۔
💔💔💔💔💔
دانی۔۔ دانی۔۔۔ دوا کے لیے تھوڑا سا منہ کھولو۔۔۔ دانی۔۔۔ سدرہ ہلکے سے اس کے گال تھپ تھپا رہی تھی۔۔
وہ بے سدھ ہی پڑی تھی۔۔ پھر اچانک اس کے لب کچھ بڑ بڑا رہے تھے دھیرے سے۔۔۔ سدرہ نے کان قریب کیا تھا۔۔ تاکہ اس کی نیم بے ہوشی میں کی ہوٸی سرگوشی کو سن لے۔۔۔
جیسے ہی وہ کان اس کے کپکپاتے ہونٹوں کے پاس لے کر گٸی تو اس کی آنکھیں ایک دم سے زیادہ کھل گٸی تھیں۔۔ رنگ زرد سا ہو گیا تھا۔۔
اس کے لبوں سے نکلنے والی آواز۔۔۔۔۔۔۔ زری ۔۔۔ تھی۔۔۔۔
کیا ہوا کیا کہہ رہی۔۔۔کچھ فاصلے پہ کھڑے سکندر نے پوچھا۔۔۔
پہ۔۔پہ۔۔پانی۔۔۔ پانی ۔۔ مانگ رہی ہے۔۔۔ سدرہ گڑ بڑا گٸی تھی۔۔۔
تو دو نہ اسے پانی۔۔ سکندر جگ سے پانی گلاس میں انڈیل رہے تھے۔۔۔
اور سدرہ اپنی فق ہوتی رنگت کے ساتھ بہت کچھ حقیقت کے برعکس سوچ رہی تھی۔۔۔
💔💔💔💔💔
کیا ہوا۔۔ میں تمھیں اپنی نیل پالش دکھا رہی ہوں ۔۔۔ اور تم کچھ اور ہی سوچے جا رہے ہو دیکھ ہی نہیں رہے۔۔۔ منسا نے خفا سی شکل بناٸی۔۔۔
نہ۔۔نہ۔۔نہیں۔۔۔ ایسی بات نہیں۔۔ زرداد نے لیپ ٹاپ کا رخ تھوڑا اور اپنی طرف موڑا۔۔
اپنے پیچھے تکیہ سیٹ کیا۔۔۔ اور چہرے پہ زبردستی مسکراہٹ لانے کو کوشش کی۔۔
منسا کینیڈا واپس چلی گٸ تھی۔۔۔ لیکن زرداد کے ساتھ اسکا دن رات رابطہ تھا۔۔۔ سارا دن انٹرنیٹ کے ذریعے۔۔ پیغامات اور ویڈیو کالز۔۔۔
پھر بھی۔۔۔ آج تھوڑے اپ سیٹ لگ رہے ہو۔۔۔ نہ میری تعریف کی۔۔۔ اس نے بڑی ادا سے اپنے بال کندھے سے پیچھے کیے۔۔ وہ بے حد دلکش لگ رہی تھی۔۔ پر اس کا دل آج دانین کی طبعیت کا سن کر بجھا بجھا سا تھا۔۔۔
بہت بڑی غلطی کر بیٹھا تھا نادانی میں۔۔ وہ اس سے کتنی چھوٹی تھی۔۔۔ اس نے کس بری طرح اسے دھوکا دیا تھا۔۔۔ عمر کے جس دور سے وہ گزر رہی تھی اس کا یوں ٹوٹنا تو بنتا تھا۔۔
اب اگر اس سے معافی بھی مانگوں تو کس منہ سے۔۔۔
زرداد۔۔۔۔ زرداد۔۔۔ اوکے باۓ تم بات ہی نہیں کر رہے مجھ سے۔۔۔ منسا نے منہ پھلا لیا تھا۔۔۔
وہ پتہ نہیں اسے اپنے سکول کا کوٸی قصہ سنا رہی تھی۔۔۔ جس کا ایک لفظ بھی وہ سن نہیں پایا تھا۔۔
وہ دراصل ۔۔ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔۔۔زرداد نے ہونٹوں پہ زبان پھیری۔۔۔ اس کی آنکھیں بھی بوجھل سی ہو رہی تھیں۔۔
کل بات کریں گے۔۔ ہاں۔۔۔ اس نے بجھے انداز میں کہا۔۔۔
اوکے بے بی۔۔۔ ریسٹ کرو آپ۔۔۔ منسا نے بڑے لاڈ سے کہا تھا اسے۔۔۔ وہ ہاتھ ہلا رہی تھی اسے۔۔
ہم۔م۔م۔م۔ اوکے۔۔۔ اس نے بے دلی سے سکرین آف کر دی تھی۔۔۔
اور تکیے پہ ڈھے سا گیا تھا۔۔۔
💔💔💔💔💔
دانین تم کیوں اٹھ کے باہر آٸی ہو۔۔۔منال اسکی طرف بھاگی تھی۔۔۔ آج ہفتوں بعد تو وہ کمرے سے نکلی تھی۔۔۔
اور کمزور ہو گٸی تھی۔۔۔ آنکھیں اندر کو دھنس گٸی تھی۔۔۔ لاغر سا جسم لگ رہا تھا۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوٸی کچن کی طرف جا رہی تھی۔۔ جب منال کی نظر اس پر پڑی تھی۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔ منال ٹھیک ہوں اب میں۔۔۔ پانی لینے آٸی تھی۔
ہلکے ہلکے سے کمزوری کے چکر اسے ابھی بھی آ رہے تھے۔۔۔ لیکن اب ہروقت لیٹے رہنے سے وہ بیزار سی ہو گٸی تھی۔۔۔
اچھا پھر پانی پی کر میری بات سننا ذرا۔۔۔ منال کی آنکھیں کسی انوکھی سی خوشی سے چمک رہی تھیں۔۔۔
وہ سر ہلاتی کچن میں گھس گٸ تھی۔۔۔ سدرہ اور ثمرہ سبزی بنا رہی تھیں اور ساتھ پتہ نہیں کس کس عورت کے کون کونسے قصے چھیڑ کے بیٹھی ہوٸی تھیں۔
وہ پانی لے کر آہستہ سے چلتی منال کے پاس واپس آٸی تھی۔۔۔
منال نے اسکا بازو پکڑ کر اسے اپنے قریب کیا پھر اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔۔
زری سلیکٹ ہو گیا ہے۔۔۔ بیسٹ سنگر اف اٸیر شو میں۔۔۔ منال کی آواز میں خوشی تھی جوش تھا۔۔
ایک دم سے اس کا دل جیسے کسی نے دبوچ لیا تھا۔۔۔
اشعال کی کال آٸی تھی۔۔۔ شام سات بجے عکس چینل پہ چلے گا شو ۔۔۔ منال نے دانتوں میں ہونٹوں کو دبایا۔۔۔
اچھا۔۔۔۔ کسی کنویں سے آتی ہوٸی آواز تھی۔۔۔ اس نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پہ سجاٸی۔۔۔
میری زندگی میں کانٹے بھر کے خود اپنی زندگی کے پھول چننے نکل گیا تھا۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ واپس اپنے کمرے میں جا رہی تھی۔۔۔ لیکن اب قدم بھاری سے ہو گۓ تھے ایسے جیسے کسی نے پتھر باندھ دیے ہوں۔۔۔
کچھ لوگوں کے پاس سب کچھ ہوتا اور خدا پھر بھی انھیں اور نوازتا رہتا۔۔۔ اور کچھ مجھ جیسے ہوتے ہیں۔۔۔
جن کے پاس پہلے ہی کچھ نہیں ہوتا۔۔اور جو ملتا ہے وہ بھی دھوکا ہی ہوتا۔۔۔
سارا قصور میرا خود کا ہے۔۔۔ میرے جیسی بیوقوف لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔۔۔ کچھ تو اپنی عزت تک بھی لٹا آتی ہیں۔۔۔اسکا گلا کڑوا سا ہو گیا تھا۔۔۔
زرداد نے تو ۔۔۔۔ہاں زرداد نے بھی تو کتنی دفعہ اسکے ہاتھوں کو چھوا تھا نا۔۔۔ ہاں۔۔۔ چھوا تھا۔۔۔ وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ پتلے سے ہاتھ۔۔۔ سانولے سے۔۔۔ وہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی۔۔
اسکا تو سب کچھ ہی ختم کر گیا تھا نا۔۔۔ اسکا دل۔۔۔ توڑ گیا تھا۔۔۔ اس کی روح چھلنی کر گیا تھا۔۔۔ اس کے وجود کو کراہیت زدہ کر گیا تھا۔۔۔ اس کی آنکھوں کے خوابوں کو نوچ گیاتھا۔۔۔
وہ بار بار اپنے ہاتھ دھو رہی تھی۔۔۔ اسے گھن آ رہی تھی اپنے ہاتھوں سے۔۔۔ ان کو کتنی بار اس نے چھوا تھا۔۔۔
ہنستا ہوگا وہ مجھ پہ
۔۔ ٹپ ۔۔ٹپ۔۔۔ آنکھوں سے آنسو گرنے لگےتھے۔۔۔ وہ باتھ روم کی دیوار کے ساتھ لگ کے پھوٹ پھوٹ کے رو دی تھی۔۔۔
💔💔💔💔
آپ تیار ہیں۔۔۔ اس کے پاس آ کر۔۔۔ کمپیر نے کہا تھا۔۔۔۔
یس۔۔۔ اس نے اپنے منہ سے زور کا سانس نکالا تھا۔۔۔
ہو۔و۔و۔و۔۔۔ اٹھ کے کھڑا ہوا۔۔۔
ایک نظر سامنے پوری دیوار پہ نسب آینے میں اپنے آپ پر ڈالی۔۔۔ اور سٹیج کی طرف چل پڑا۔۔۔
سٹیج پر جا کر گانا اس کے لیے نیا نہیں تھا۔۔ لیکن ایسے بڑے لیول پہ گانا نیا ہی تھا۔
واٸٹ ٹی شرٹ ۔۔۔ گرے۔۔ چیک ولا کوٹ۔۔۔ سلیقے سے بال جِل سے سیٹ کیے ہوۓ۔۔۔ اور چہرے پر سجی اس کی وہی مخصوص قاتل مسکراہٹ۔۔۔
۔ ۔جیسے ہی وہ سٹیج پہ آیا تھا۔۔۔ ایک شور ہوا تھا۔۔۔ لڑکیوں کی زیادہ چیخیں شامل تھیں۔۔۔
پھر اس نے گانا شروع کیا تھا۔۔۔ ماٸک کو اپنے منہ کے قریب لے کر گیا۔۔ ایک دفعہ تھوڑا سی گھبراہٹ ہوٸی اسے۔۔۔ کہ پورا پاکستان اسے دیکھ رہا ہے۔۔۔ پر پھر۔۔۔ اس کا ازلی جنون اس پر تاری ہو گیا تھا۔۔۔
وہ گا رہا تھا ۔۔۔ اور ججز کے ساتھ ساتھ پورا ہال۔۔ جھوم رہا تھا۔۔۔ اسے مزہ آنے لگا تھا۔۔۔ زیادہ جوش۔ اور زیادہ۔۔ اور زیادہ۔۔۔۔ اس کی آواز بہت منفرد تھی۔۔۔ جکڑ لینے والی۔۔۔ سحر تاری کرنے والی۔۔۔ سرور سا۔۔۔ سکون دینے والی۔۔۔ دیوانہ کر دینے والی۔۔۔
اس نے گانا ختم کیا تھا۔۔۔ وہ مسکرا رہا تھا۔۔ ججز کو دیکھ رہا تھا۔۔ پورے شو کی ناظرین تالیاں پیٹ رہے تھے۔۔۔
واٶ۔۔۔ واٶ۔۔۔ واٶ۔۔۔ پہلا جج ماٸک کو اپنے قریب کر کے بولا تھا۔۔۔ اظہر حسان ۔۔ ایک نام تھااس کا سنگنگ کی انڈسٹری میں۔۔۔۔ جو آج اس کی آواز سن کر خوش ہو رہا تھا۔۔۔
کیا آواز ہے آپکی۔۔۔ اس نے اپنے سامنے لگے بورڈ پہ انگلیاں چلاٸی تھیں۔۔۔ اور اسکے سامنے بنے میز کے اوپر لگی سکرین پہ سرخ رنگ کا نمبر دس چمکنے لگا تھا۔۔۔
تالیاں گونج اٹھی تھیں۔۔۔
زرداد اب کھل کر ہنسا تھا۔۔۔ اس نے اپنے ہونٹوں پہ زبان پھیری۔۔ اور نظر اب اگلے جج کی طرف تھی۔۔۔
ہینڈسم بواۓ ۔۔ نسوانی۔۔۔ آواز ابھری۔۔۔ ریحا۔۔۔بول رہی تھی۔۔۔
اگلی جج لڑکی تھی۔۔ بڑی محبت سے اس کی طرف دیکھا۔۔
زرداد نے ہنستے ہوۓ اپنے داٸیں پاٶں کو سٹیج کی زمین پہ داٸیں باٸیں گھمایا۔۔ نظریں اپنی تعریف پہ ایک دم نیچے ہو گٸی تھیں۔۔۔ لب مسکرا اٹھے تھے۔۔
ود بیوٹیفل واٸز۔۔۔ لو یو۔۔۔ ریہا۔۔ نے ہواٸی بوسہ اچھالا۔۔۔ زرداد کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی۔۔۔ خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔۔۔ چار ججز نے باری باری اسے دس نمبر دے ڈالے تھے۔۔۔
وہ ہنستا ہوا واپس ویٹنگ روم میں جا رہا تھا۔۔۔ دل خوشی سے دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔
آج شو کا پہلا دن تھا۔۔ اور وہ دھاک بیٹھا چکا تھا۔۔۔۔
فون کی سکرین پہ منسا کا نمبر چمک رہا تھا۔۔۔ اس نے جوش میں نمبر اٹھایا تھا۔۔۔
ہے۔۔۔بےبی۔۔۔۔ آٸی ۔۔ لو یو۔۔۔۔ وہ چیخ رہی تھی خوشی سے۔۔۔
لاٸیو شو پوری دنیا دیکھ رہی تھی۔۔۔
زرداد قہقہ لگا رہا تھا۔۔۔ منسا۔۔۔ بار بار اسے محبت بھرے بوسے دے رہے تھی ۔۔
❤❤💔💔
نماز کے بعد اس نے کانپتے ہوۓ ہاتھ دعا کے لیے اٹھاۓ تھے۔۔۔
میں کیوں روتی رہوں اس کے لیے۔۔۔ وہ اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی سکون میں ہے۔۔۔ میں کیوں زندگی برباد کروں اس کے پیچھے۔۔۔۔ اللہ۔۔۔ مجھے ہمت دے۔۔۔ پلیز اللہ مجھے ہمت دے۔۔۔
گرم گرم آنسو گال بھگو رہے تھے۔۔۔
اللہ اسے ایسے ہی تڑپا کسی کے لیے۔۔۔ جیسے میں تڑپی ہوں۔۔ اس کے دل میں بھی ایسے ہی کسی کی سچی چاہت ہو اور وہ ٹھکراۓ اسے ۔۔وہ تڑپے۔۔۔ مجھے یہ دیکھنا ہے اللہ۔۔ مجھے اس کے خوبرو چہرے کے پیچھے چھپے اس مکروہ چہرے کو زلیل ہوتے دیکھنا ہے۔۔۔ اس کا دل نا جانے دکھ میں کتنی ہی بدعاٸیں دے گیا تھا زرداد کو۔۔۔ اور ایسا اب وہ روز کرنے لگی تھی۔۔۔۔
اس نے منہ پہ ہاتھ رکھ کے نیچے کیے ساتھ ہی آنسو اس کی ہتھیلیاں بھگو گۓ تھے۔۔۔
یک نیا عزم تھا۔۔ آنسو اب خشک ہو گۓ تھے۔۔ہر نماز کے بعد دل پرسکون ہونے کا سفر طٕے کرتا جاتا تھا۔۔۔
اس نے پاس پڑا فارم اٹھایا اور فِل کرنا شروع کر دیا۔۔۔
جیسے جیسے وہ فارم پر کر رہی تھی۔۔۔اسکا ارداہ اور پختہ ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
آج زرداد کو گھر سے گۓ سات ماہ ہونے کو آۓ تھے۔۔
وہ ان سات ماہ میں ایک دفعہ بھی گھر نہیں آیا تھا۔۔۔ اچھا ہی تھا وہ نہیں آیا تھا۔۔۔ دانین اب اس کی شکل تک نہیں دیکھنا
چاہتی تھی۔۔۔
❤❤❤❤❤
وہ پڑھتے پڑھتے پانی لینے کے لیے آٸی تھی۔۔۔ لاونچ میں سب بیٹھے شو دیکھ رہے تھے۔۔۔ مسواۓ۔۔ ہارون کے۔ اور اس کے۔۔ ہارون سے چوری چھپ کے سب زرداد کا شو دیکھتے تھے۔۔ جن میں سب سے زیادہ پر جوش اس کے بابا تھے۔۔۔سکندر۔۔۔
اس بات سے انجان جس بھتیجے کے لیے یہ تالیاں پیٹ رہے ہیں وہ ان کی بیٹی کی خوشیوں کا قاتل ہے۔۔۔
جان بھوج کے شازر اور سکندر رات کو ہارون کو دکان پہ بیٹھا آتے تھے۔۔۔ تا کے شو سب مل کر بیٹھ کر دیکھ سکیں۔۔۔
جب بھی شو لگتا وہ پڑھاٸی کا بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں آ جاتی تھی۔۔۔ اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتی تھی کہ اس کی آواز کانوں میں نا جاۓ۔۔۔
اس کی آواز گونج رہی تھی۔۔۔ اس نے واپس کمرے میں آ کر اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی تھیں۔۔۔ اسے نفرت ہوتی تھی اس کی آواز سے۔۔۔
زرداد فاٸنل میں پہنچ گیا تھا۔۔۔ آج فیصلے کا شو تھا۔۔۔ اس کے پیپرز ہو رہے تھے۔۔۔
دل عجیب سی ضد لگا کر بیٹھ گیا تھا اللہ سے۔۔۔
اللہ وہ ہارجاے۔۔۔۔ پلیز اللہ وہ ہار جاۓ ۔۔۔ اس نے کل رات سے دوسرے لڑکے کو پتا نہیں کتنے ووٹ دے چھوڑے تھے۔۔۔
اب وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھی اس کے ہار جانے کی دعا مانگ رہی تھی۔۔۔۔
اللہ اس کو ہارا دے۔۔۔۔ اللہ اسے کو ذلت دے۔۔۔ اللہ وہ ہار جاے۔۔۔ دل بار بار یہی کلمات دہرا رہا تھا۔۔۔
وہ گا رہاتھا۔۔۔ دانین کے کانوں میں اس کی آواز پڑ رہی تھی۔۔۔
افف۔ف۔ف۔ف۔ اس نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی تھی۔۔۔ انگلیاں اس زور سے اس نے کانوں میں ڈالی تھی کہ کان درد کرنے لگے تھے۔۔۔
کتاب سامنے کھلی پڑی تھی۔۔۔ کیمسٹری کا پیپر تھا صبح کو۔۔۔
اب اسکا گانا بند ہو چکا تھا ۔۔ دانین نے دھیرے سے انگلیاں باہر نکالی۔۔۔
اللہ دوسرا لڑکا جیت جاۓ۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ پلیز۔۔۔
دھم سے اس کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔ منال سامنے کھڑی تھی۔۔۔ اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
دانی ہو گٸی دعا قبول تمھاری۔۔۔ جیت ۔۔۔۔ گۓ۔۔۔۔ بھاٸی۔۔۔۔وہ چہک کر اس کے پاس آٸی۔۔۔ دانین کا چہرہ کرب سے زرد پڑ گیا۔۔۔
منال اسے گول گول گھما رہی تھی۔۔۔۔
اور اس کے وجود کے ساتھ ساتھ اس کا دل بھی گول گول ہی گھوم گیا تھا۔۔۔
آج پھر اللہ نے اسی کا ساتھ دیا۔۔۔۔ وہ جیت گیا تھا۔۔۔ وہ جیت گیا۔۔۔ اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔
آج پھر وہ ہنس رہا ہو گا۔۔۔ چہک رہا ہوگا۔۔۔ منال باہر جا چکی تھی۔۔۔ وہ ساکت۔۔ بیٹھی تھی۔۔۔
باہر سب لوگ خوش ہو رہےتھے۔۔۔۔ ساتھ ٹی وی کا شور تھا۔۔۔
وہ بھی ایسے ہی خوش ہوگا آج۔۔۔۔ اس نے سامنے پڑی کتاب کو اٹھایا تھا۔۔۔ اور پوری قوت سامنے دیوار میں دے مارا تھا۔۔۔۔
❤❤❤❤
میں جا رہا ہوں نا۔۔۔ تو کرتا ہوں۔۔ بات بے بی۔۔۔ اچھا اب باہر آپی انتظار کر رہی ہیں۔۔۔ٹریٹ دے رہا ۔ ہوں آج ان کو اپنی جیت کی خوشی میں۔۔۔
۔ احمد بھاٸی اور آپی کو۔۔
وہ چہک رہا تھا۔۔۔۔ گردن ٹیڑھی کر کے فون کو کان کے پاس جکڑے ہوۓ تھا۔۔ جب کے اس کے ہاتھ۔۔ شرٹ کے بٹن بند کر رہے تھے۔۔۔
تو ۔۔۔کم از کم ۔۔ اشعال آپی سے تو بات کر لو نا۔۔۔۔ منسا خفا لہجے میں بولی۔۔۔
اوکے بابا۔۔۔ کروں گا نا بات۔۔۔ اب جاٶں اجازت ہے۔۔۔ ساری رات بات کریں گے آج۔۔۔ اوکے۔۔۔ پرامس۔۔۔ اس نے بچوں کی طرح اسے لالچ دیا۔۔۔ کیونکہ اشعال بار بار اسے آوازیں دے رہی تھی۔۔۔ اس کی حالت بھی اب ایسی تھی اس سے بھوک برداشت بھی نہیں ہوتی تھی آجکل۔۔۔ دو ماہ بعد اس کی ڈیلوری تھی۔۔۔ اسی کو لے کر زرداد کو حیدر آباد جانا تھا۔۔۔
جب منسا کو یہ بتایا تو وہ پچھے پڑ گٸی تھی۔۔ کہ اس دفعہ وہ گھر بات کرے لازمی۔۔۔ تا کہ ثمرہ ۔۔ نیلم سے بات کرے اور ان لوگوں کی بات آگے بڑھے۔۔۔
نہیں کرتے تم بات۔۔۔ سو جاتے۔۔ ہو ہمیشہ میں ۔۔ ہیلو ہیلو کرتی رہ جاتی ہوں۔۔۔ وہ ابھی بھی خفا تھی اس سے۔۔۔
نہیں۔۔۔ بے ۔۔بی۔۔ نہیں سوتا آج۔۔۔ پلیز اب تو جانے دے میری ماں۔۔۔ زرداد نے رونے کے سے انداز میں کہا۔۔۔
منسا کی کھلکھلاتی ھنسی کی آواز فو ن سے ابھری تھی۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Yaqeen e Kamil Novel By Waheed Sultan – Episode 9

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: