Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 7

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 7

–**–**–

تو لڑاٸی تو تم نے شروع کی ہوگی نہ۔۔۔ اشعال ۔۔نے اسے پانی کا گلاس پکڑایا۔۔۔
زرداد نے پانی پیتے پیتے آنکھیں اوپر کر کے اسے گھوری ڈالی۔۔۔ کیا مطلب تمھارا۔۔۔میں دو سال سے وہ پروگرام کر رہا ہوں ۔۔۔ ان کی ریٹنگ کو اتنا اوپر لے کر گیا۔۔۔ اور انھوں نے تبدیل کر دیا سنگر۔۔۔ تھکی ہوٸی آواز۔۔۔ شیو بڑھی ۔۔ ہوٸی ۔۔ شرٹ کے کف چڑھے ہوۓ۔۔۔ بوجھل سی آنکھیں۔۔۔
مجھے تو اب یہ فکر کھا رہی ہے کہ اب اپنی ایم ۔۔ اے کی فیس کیسے بھروں گا۔۔۔ اپنے منہ کو دونوں ہاتھوں میں جکڑ کر پسینا صاف کیا۔۔۔
اظہر سے بات کرو نا۔۔۔ اشعال۔۔ نے رانیہ کو گود میں لیا۔۔۔
یار وہ کب تک میری مدد کرتا رہے گا۔۔۔ ہر کام بگڑتا جا رہا ہے۔۔۔ تم سے میں نے کہا تھا۔۔۔ احمد سے کہو لون کا پوچھے۔۔۔ میں اپنی البم تو شروع کروں۔۔۔
کہا ہے میں نے اسے۔۔۔ اشعال نظریں چرا گٸی۔۔۔ اچھا پریشان نا ہو۔۔۔ میں۔۔ دعا کرتی ہوں نا۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔ کیا کہا بدعا۔۔۔ وہ جو اپنے سر کو نیچے گرا کے زمین پرنظریں جما کے بیٹھا تھا۔۔۔اچانک چونک کے اوپر دیکھا۔۔۔
ارے پا گل دعا کہا ہے۔۔۔ اللہ نہ کرے کوٸی بددعا کرے۔۔۔ اشعال نے اس کے سر پہ تھپڑ لگایا۔۔۔
نہیں کوٸی تو ایسا ہو سکتا ہے نہ۔۔۔ دانین کا چہرہ چھم سے زرداد کی نظروں کے سامنے تھا۔۔۔
اس نے تکیے پہ اپنا سر رکھ دیا۔۔۔ سر میں شدید درد تھا۔۔۔ ایسے جیسے پھٹا ہی چاہتا ہو۔۔۔
ہاں ۔۔۔ دانین ہے وہ۔۔۔ جسے اس نے بہت دکھ دیا۔۔۔ دو سال پہلے کا وہ دن اسے یاد آ گیا تھا جب وہ اس سے معافی مانگنے گیا تھا۔۔۔ اس نے معاف نہیں کیا تھا اسے۔۔۔ زرداد کو عجیب سی گھبراہٹ ہوٸی۔۔۔ اس نے بہت جتن کیے۔۔ پر ابھی تک وہ اپنی صیح جگہ نہیں بنا پایا تھا۔۔۔ اس نے اظہر کے کہنے پہ ایم اے انگلش سٹارٹ کیا تھا۔۔۔ اچھے سکولوں میں پڑھنے کی وجہ سے ایک انگلش ہی تو اچھی تھی اس کی۔۔۔
ہارون نے گھر میں اس کا داخلہ بلکل منع کر دیا تھا۔۔۔ ایک ٹاک شو میں۔۔۔ وہ ایک سنگر کے طور پر کام کر رہا تھا۔۔۔
اس کے ڈایرکٹر کے ساتھ پروگرام کی چینجز پر اس کی بحث ہو گٸی تو ڈاٸریکٹر نے سنگر چینج کر لیا۔۔
وہ دل برداشتہ ہو کر گھر واپس آگیا۔ ۔۔ لیکن اپنی عادت سے مجبور ۔۔ ان کے سٹوڈیو کے چار پانچ بندوں کے دانت توڑ آیا تھا۔۔۔ مطلب واپسی کا کوٸی چانس نہیں۔۔۔
منسا سے بات ہوٸی پھر۔۔۔ اشعال نے اپنی سوٸی ہوٸی بیٹی کو اس کے پاس بیڈ پہ لیٹایا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ وہ اپنے خیالوں میں گم تھا۔۔۔ نہیں۔۔۔ وہ ناراض ہے۔۔۔ بات ہی نہیں کر رہی کچھ دن سے۔۔۔ اس نے پاس پڑی رانیہ کے نرم نرم ھاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر ان پر اپنی انگلیاں پھیرنا شروع کردی۔۔۔
تو اماں نے کیا کہا۔۔۔ اشعال اب پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھی۔۔۔
وہی ۔۔۔ نیلم آنٹی کہہ رہی ہیں اس کے فادر نہیں مان رہے۔۔۔ اور ادھر ایک عدد میرے ابا جی ہیں وہ نہیں مان رہے۔۔۔ وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ ۔ ایک لمبا سانس لیا
اچھا میں کچھ دیر سونے جا رہا ہوں۔۔ اس نے پیار سے سوٸی پڑی رانیہ کے گال پر بوسہ دیا جھک کر۔۔
۔ بلکل دانین جیسی ہے۔۔ نہ ۔۔ اشعال نے اپنی بات کی تصدیق کے لیے مسکرا کے اس کی طرف دیکھا۔ وہ ایک دم چپ سا ہو گیا۔
اسی کی طرح معصوم سا فیس کٹ۔۔۔ بڑی بڑی آنکھیں۔ ہونٹوں کی شیپ۔ ہے نا۔ مجھے تو دانین ہی لگتی رہتی۔۔۔۔ اشعال ہنس رہی تھی اور محبت سے اپنی بیٹی کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
ہاں معصوم تو واقعی ہے اس کی شکل اس نے دل میں سوچا۔۔۔پھر عجیب سا بوجھ سا محسوس ہوا۔۔۔ اس کی معصومیت کا بہت غلط فاٸدہ اٹھایا تھا میں نے۔۔۔ آج اسے اپنی تین سال پہلے کی کی ہوٸی اس حماقت پر انتہاٸی افسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔
وہ تھکے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔۔۔۔
💔💔💔💔💔
نرمل تم تو پاگل ہو قسم سے۔۔۔ وہ پیٹ پہ ہاتھ رکھ کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔۔۔
ہاں تو اور کیا۔۔۔ میں نے بھی جتنے آم توڑے تھے۔۔۔ ایک دم سے نیچے گرا دیے۔۔۔ سارے جا کر ٹھک ٹھک کرتے ان کے سر پر۔۔۔ لگے۔۔۔ نرمل لہک لہک کر اسے اپنے بچپن کا کوٸی واقع سنا رہی تھی۔۔۔اور دانین کا ہنس ہنس کے برا حال تھا۔۔۔
نرمل ایسی ہی تھی۔۔۔ زندہ دل۔۔۔ ہنس مکھ۔۔۔ اس نے دانین کے اندر بہت سی مثبت تبدیلیاں پیدا کر دی تھی۔۔۔ ان دو سالوں میں۔۔۔ وہ بہت اچھی اور مخلص دوست ثابت ہوٸی تھی۔۔۔
اس نے دانین کی شخصیت ہی بدل ڈالی تھی۔۔۔
نرمل بہت اچھے گھرانے سے تعلق رکھتی۔۔۔ اور کافی لبرل فیملی سے تھی۔۔۔ اس نے دانین کا حلیہ ہی سنوار کے رکھ دیا تھا۔۔۔ اس کو اپنے ساتھ پارلر لے جا جا کر۔۔۔ اس نے دانین کو پر اعتماد ۔۔۔ اپنا خیال رکھنے والی۔۔۔ اور ایک وِیل ڈریسڈ لڑکی میں تبدیل کر دیا تھا۔۔۔
گردن سے نیچے آتے بال اب کمر تک آنے لگے تھے۔۔۔ بھنویں سیلقے سےکیا بنیں کہ اس کا ماتھا اور آنکھیں۔۔۔اور واضح ہو گٸ تھی۔۔۔
پہلے تو کبھی اچھی طرح سے منہ نہ دھوتی تھی۔۔۔اب نرمل اپنے ساتھ شاپنگ پر لے کر جاتی تو پتہ نہیں کیا کیا اسے بھی لے دیتی۔۔۔
وہ ارے نہیں۔۔۔ ارے نہیں ۔۔ ہی کرتی رہ جاتی۔۔۔ قد تو اس کا پہلے ہی لمبا تھا۔۔۔ اب جسم بھی تھوڑا بھرا بھرا ہو گیا تھا۔۔۔
وہ خوش رہتی تھی۔۔۔ نرمل کھانے کی بہت شوقین تھی۔۔۔ تو آۓ دن دونوں کہیں نا کہیں ہوتی۔۔۔
نرمل کو دانین سے جو فاٸدہ تھا وہ اس کی ذہانت تھی۔۔۔ وہ نرمل کی سٹڈی میں بہت مدد کرتی تھی۔۔۔
وہ دیکھ آ رہا ادھر۔۔۔ تیرا دیوانہ۔۔۔ نرمل نے شرارت سے آنکھ دبا کر دانین کی طرف دیکھا۔۔۔
زین مسکراتا ہوا ان دونوں کی طرف ہی آ رہا تھا۔۔۔۔
کیا مصیبت ہے۔۔۔ اٹھو چلو یہاں سے۔۔۔ دانین جلدی جلدی اپنی کتابیں اٹھا رہی تھی۔۔۔
کتنی ظالم ہو نا تم بے چارہ دو سال سے تمھارے پیچھے ہے مجال ہو جو کبھی لفٹ کراٸی ہو تم نے اسے۔۔۔
مجھے پتا ہے وہ کتنا دیوانہ ہے میرا۔۔۔ مجھے ان سب چیزوں میں بلکل انٹرسٹ نہیں تم جانتی ہو۔۔۔ اب اٹھو۔۔۔ نہیں تو آکے وہ صاحب دماغ چاٹنے لگیں گے۔۔۔
دانین کے ماتھے پہ بل آ گۓ تھے۔۔۔ زین ان کا کلاس فیلو تھا ۔۔ بہت ہی ذہین طالبعلم۔۔۔ وہ اور دانین پوری یونیورسٹی میں اپنی ذہانت کی وجہ سے مشہور تھے۔۔۔
اور وہ دو سال سے دانین کے ساتھ دوستی کے چکروں میں تھا۔۔ دانین نے ان دو سالوں میں۔۔۔ صرف نرمل کو اپنے اتنا قریب کیا تھا۔۔۔
جب تک زین وہاں پہنچا وہ دونوں تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے چلی گٸی تھیں۔۔۔
💔💔💔💔💔
میں کروں گی ابا سے بات تم پاگل ہو جو کہہ رہے ہو نہیں جاوں گا۔۔۔ ان کی شادی کوٸی روز روز آنی۔۔۔ شرافت سے چلو میرے ساتھ احمد انتظار کر ہے تمھارا۔۔۔ اشعال اس کے سر پر کھڑی تھی اور وہ مزے سے ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھا۔۔۔
ان ڈھاٸی سالوں میں ایک دفعہ بھی نہیں گیا میں تو اب جا کر کیا کروں گا میں۔۔۔ ماتھے پہ بل ڈال کے اشعال کی طرف دیکھا۔۔
اچھا تمھارے بہن بھاٸی کی شادی ہے اور تم نا جاو ۔۔ واہ۔۔۔اشعال نے ہاتھ ہوا میں لہرایا۔۔۔
اور یہ حالت دیکھو اپنی۔۔۔ کیا بن گۓ ہو۔۔۔ اشعال اسے زبردستی اٹھا رہی تھی۔۔۔
شیو بڑھی ہوٸی۔۔ تھی۔۔۔ رف سی ٹی شرٹ کے نیچے ٹرایوزر پہنے وہ صدیوں کا تھکا مسافر لگ رہا تھا۔۔۔
چلتا ہوں لیکن ایک شرطٕ٧٧ پہ۔۔۔ زرداد نے اپنے ہونٹوں پہ زبان پھیری۔۔۔
کیا شرط۔۔۔ اشعال نے دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے۔۔۔
ابا نے اگر کچھ بھی ایسا ویسا کہا مجھے۔۔۔ میں واپس آ جاٶں گا کراچی۔۔۔ وہ دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہوا اٹھا۔۔۔
اچھا بابا اٹھ بھی جا اب۔۔۔ منال اور امی کے بار بار فون آ رہے۔۔۔ آج تیل لگانا دونوں کو۔۔۔
شازر اور منال کی شادی ایک ہی دفعہ میں کرنے لگے تھے۔۔ ہارون۔۔۔ شازر کے ولیمے کے روز منال کی رخصتی تھی۔۔
میں منہ تو دھو لوں۔۔۔ وہ چپل پاٶں میں اڑا کے بولا۔۔۔۔
ارے چلو اب۔۔۔ اپنے گھر ہی تو جانا ہے۔۔۔ احمد کا پارہ چڑھ جاۓ گا۔۔۔ اشعال اسے کھینچتی ہوٸی سیڑھیاں اتر رہی تھی۔۔۔
ایک تو تمھارا شوہر بھی ابا جیسا ہی ہے۔۔۔ زرداد نے اشعال کو چھیڑا۔۔۔ اب دونوں ہنس رہے تھے۔۔۔
❤❤❤❤❤
پانی کا ایک گلاس دینا ذرا۔۔ کرتےکے بٹن لگاتا ہوا وہ سامنے سامنے کھڑی منال سے کہہ رہا تھا۔۔۔
تمہیں دکھاٸی نہیں دے رہا۔۔۔ میں تیار ہونے لگی۔۔۔ خود پی لو جا کر کچن سے۔۔۔ منال اپنے تیل کے جوڑے کو استری کر ری تھی۔۔۔ تھوڑا چڑ کر بولی۔۔۔
وہ کچن میں آیا تو کوٸی پشت کر کے کھڑی تھی۔۔۔ لمبے کمر تک آتے بال۔۔ وہ ٹھٹک کے روکا تھا۔۔۔ شاٸید کوٸی مہمان ہے۔۔
اس کے قدموں کی چاپ سن کر دانین پلٹی تھی۔۔۔
اسے دیکھ کر ایک دم سے اس کا رنگ پہلے زرد پڑا اور پھر اپنے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ وہ وہاں سے نکل گٸی تھی۔۔۔
ویسے تو یہ ڈھاٸی سال پر لگا کر اڑ گۓ تھے لیکن آج دانین کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وقت بہت کچھ بدل گیا تھا۔۔۔
وہ پانی کا گلاس منہ کو لگاتا باہر آیا تھا۔۔۔گھر کے ہی افراد تھے ایک دو۔۔۔۔ یا محلے کے دو تین عورتیں تھی۔۔۔ صحن میں لگی کرسیوں پہ براجمان ۔۔۔
وہ بے دلی سے کھڑا ۔۔ سب کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
گھر پہنچتے ہی وہ اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔ شام کو ثمرہ نے ہی آ کر اٹھایا تھا اور تیار ہونے کا کہا تھا۔۔۔
وہ بڑے اعتماد کے ساتھ سارے کام کرتی پھر رہی تھی۔۔۔ کبھی ادھر جاتی کبھی ادھر۔۔۔ سب کے ساتھ ٹھیک تھی۔۔۔ لیکن اس کی طرف ایک نظر ڈالنا بھی اسکو گوارا نہیں تھا۔۔۔
دل تو چاہ رہا تھا اس کے منہ کو اور آنکھوں کو جا کر نوچ لوں جن سے وہ اسے مسلسل دیکھے جا رہا تھا۔۔۔
شیو بڑھی ہوٸی بال بھی ؟لمبے کیے ہوۓ ۔۔۔ عجیب سے حلیے میں تھا وہ۔۔۔ تھوڑا اور مظبوط اور چوڑا ہو گیا تھا۔۔۔
سب کچھ بدلا تھا لیکن دانین کے دل کے اندر زرداد کے لیے نفرت آج بھی وہی تھی۔۔۔
💔💔💔💔💔
اسے پکڑو زرا دانی ۔۔۔ ابو بلا رہے مجھے۔۔ منال نے رانیہ دانین کو پکڑاٸی۔۔اور خود ہارون کے کمرے کی طرف چل دی تھی۔۔۔
اشعال ثمرہ اور سدرہ کے ساتھ بازار گٸی تھی۔۔ دل غلطی کر بیٹھا ہے۔۔۔
وہ رانیہ کو جھک کر پیار کر رہی تھی جب اسے اپنے سر پر کسی کے کھڑے ہونے کا احساس ہوا۔۔۔ ابھی وہ جھکی ہی ہوٸی تھی۔۔ جب دل نے بول دیا تھا ۔۔ ایسے کون سر پر آ کر کھڑا ہوتا ہے۔۔۔۔۔
دانین نے سپاٹ چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔۔۔
مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔ بھاری آواز میں کہا۔۔۔ جبکہ دانین اسے دیکھے بنا رانیہ کو اٹھا کے وہاں سے جانے کی تیاری میں تھی۔۔
دانین نے کوٸی جواب نہیں دیا۔۔ اور رانیہ کو لے کر مڑی۔۔۔
ایک منٹ ۔۔۔ دانین ۔۔۔ وہ ایک دم سے اسکے سامنے آیا تھا۔۔ دانین اس سے ٹکراتی۔۔ ٹکراتی۔۔۔ بچی تھی۔۔۔
تمہیں مجھے معاف کرنا ہو گا۔۔۔ رعب تو نا گیا جناب کا۔۔۔ دانین نے خونخوار نظر اس پہ ڈالی۔۔
چمکتی آنکھوں کے دٸیے بجھے پڑے تھے۔۔۔ ہونٹوں پر سے وہ قاتل مسکراہٹ بھی غاٸب تھی۔۔۔ وہ ٹھاٹھ باٹھ بھی نا تھے۔۔۔ کوٸی بہت ہی لمبے سفر کا تھکا ہوا بھٹکا ہوا مسافر لگ رہا تھا۔۔۔
نہیں ۔۔۔ نہیں۔۔۔ کروں گی تمہیں معاف۔۔۔ تمہیں تو میرا خدا بھی معاف نا کرے دعا ہے میری۔۔۔ تم نے میری تزلیل کی۔۔۔ جس خاندان کے سپوت تم ہو۔۔۔ اسی کا خون میری رگوں میں بھی ہے۔۔۔ تم کیا سمجھتے ہو ضدی ۔۔ ہٹ دھرم۔۔۔ بد تمیز ۔۔ صرف تم ہی ہو اس خاندان ۔۔ میں۔۔ وہ سخت لہجے میں کہتی ہوٸی تیز تیز قدم کمرے کی طرف اٹھا رہی تھی۔۔۔
وہ تیزی سے اسکے پیچھے آیا تھا۔۔۔
دیکھو میں جانتا ہوں تم میرے جیسی نہیں ہو۔۔۔ تم اچھی ہو۔۔۔ وہ دروازہ بند کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ لیکن زرداد نے بڑے آرام سے دروازے میں ہاتھ دےرکھا تھا۔۔۔
نہیں نہیں ہوں میں اچھی۔۔۔ سمجھے تم۔۔۔ اب جاٶ یہاں سے۔۔۔ تمھاری موجودگی مجھے اذیت دیتی ہے۔۔۔
دانین پلیز یار۔۔۔ تین سال سے ایک پل نہیں دل کو سکون ملا۔۔۔نادان تھا۔۔۔ شرمندہ ہوں۔۔۔ نہیں کرنا چاہیے تھا ایسا۔۔۔ پلیز چھوڑ دو اس بات کو ۔۔۔ پھر سے اچھے کزنز کی طرح رہتے ہیں۔۔۔ وہ منت سماجت پر اتر آیا تھا۔۔۔
دانین ویسے ہی سخت چہرہ لیے کھڑی تھی ۔۔۔ اس کی ایک بھی بات اس کے دل پہ کوٸی اثر نہیں کر رہی تھی۔۔۔
چلے جاو یہاں سے۔۔۔ دانین نے لب بھینچ کے کہا۔۔۔
نہیں جاتا۔۔۔ ڈھیٹ تو بچپن سے ہی تھا۔۔۔ سینے پہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
تمہیں پتہ ہے تب سے لے کر آج تک دوبارہ کبھی میں بدر سے نہیں ملا۔۔ لہجہ بہت اپناٸت بھرا تھا۔۔۔
تو احسان ہے کیا مجھ پہ۔۔۔ ہٹو مجھے دروازہ بند کرنا ہے۔۔۔ دانین نے لب بھینچ کے زبردستی دروازہ بند کرنے کی کوشش کی۔۔ لیکن وہ تو جیسے فولاد کا بنا تھا دروازہ ٹس سے مس نا ہوا۔۔۔
اچھا پھر مجھے کوٸی سزا دے دو ۔۔۔ دھیمی سی آواز میں کہا۔۔۔
میں کون ہوتی ہوں سزا دینے والی۔۔۔ اس نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔ دل تو کر رہا تھا ابھی اسی وقت یہاں سے چلی جاۓ پر وہ دروازے کے درمیان میں کھڑا تھا۔۔۔
صیح کہا تم نے۔۔۔ تم کون ہوتی ہو۔۔۔ اللہ دے تو رہا ہے مجھے سزا ۔۔ تمھاری معصومیت کے ساتھ کھیلنے کی۔۔۔ وہ ایک دم مایوس سا ہو گیا تھا۔۔۔
کھڑا کچھ دیر اسے دیکھتا رہا ۔۔ وہ ویسے ہی کھڑی تھی سپاٹ۔۔۔ ساکت۔۔۔
وہ خاموشی سے وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔
💔💔💔💔💔
یہ کون ہے۔۔۔ نرمل نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی۔۔۔ اس نے نظروں کی سیدھ پہ دیکھا سٹیج پہ زرداد بیٹھا منال اور شازر کو مہندی لگا رہا تھا۔۔
منال کا بھاٸی ہے چھوٹے والا۔۔۔ لہجہ خود با خود سخت ہو گیا تھا۔۔۔۔
ہیں۔۔۔ پہلے تو کبھی نہیں دیکھا اس کو گھر میں۔۔۔ یہ کہاں سے ٹپک پڑا۔۔۔ بڑا ڈیشنگ ۔۔۔۔ نرمل نے اس کو آنکھ ماری۔۔۔
وہ ایسی ہی تھی ہر لمحہ انجواۓ کرنے والی۔۔۔
تو ۔۔ تو نہ ایسی سے شادی کر لے ۔۔۔ نرمل تو رشتے بھی سیٹ کرنے پہ تل گٸی تھی۔۔۔
دانین نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔۔۔ پھر ارد گرد لوگوں پہ نظر دوڑاٸی۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔۔۔ اب سمجھ میں آیا محترمہ آپ زین کو کسی کھاتے میں کیوں نہیں لاتی ۔۔۔ جس کے گھر میں ہی ایسامال ہو۔۔۔ وہ قہقہ لگا رہی تھی اب اپنی ہی کی ہوٸی سرگوشی پہ۔۔۔
بکواس نا کرو ایسی کوٸی بات نہیں۔۔۔دانین نے سختی سے اسے ڈانٹا۔۔۔ زرداد اب سٹیج سے نیچے اتر رہا تھا۔۔۔
ہاۓ۔۔۔ کیا انداز یار اس کے۔۔۔ تم تو ایسی ہو کبھی ذکر نہ کیا اس کا دو سال ہو گۓ۔۔۔ نرمل اب مصنوعی خفگی دکھا رہی تھی۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔ اور چلو اب مہندی لگانی ہے تم نے یا نہیں۔۔۔ دانین نے تھوڑے سخت لہجے میں کہا۔۔ اور زور سے اسے بازو سے کھینچا۔۔۔
وہ صیح کہہ رہی تھی۔۔۔ وہ اس سےہر وقت ڈھیروں باتیں کرتی تھی۔۔۔ لیکن کبھی بھی اس نے زرداد کا ذکر تک نہیں کیا تھا اس سے۔۔۔ اس کا یوں حیران ہونا بنتا تھا۔۔۔
ارے غصہ کیوں کرتی۔۔۔ تمہیں پتہ ہے نا ہر خوبصورت چیز کی تعریف کیے بنا میں رہ نہیں سکتی۔۔۔ وہ اپنا بازو سہلا رہی تھی جسے دانین نے سختی سے پکڑا تھا تھوڑی دیر پہلے۔۔۔
دانین اسکو وہیں چھوڑ کے چل پڑی تھی مجبوراََ نرمل کو بھی اس کے پیچھے آنا ۔۔ پڑا۔۔۔
💔💔💔💔💔
روتے ہوۓ وہ بری طرح اپنے ناک کو رگڑ رہی تھی۔۔ ناک سرخ سا ہو گیاتھا۔۔
سرخ رنگ کے جوڑا اس کی گندمی رنگت پہ جچ رہا تھا۔۔۔ بڑے سلیقے سے ہلکا سا کیا ہوا میک اپ۔۔ کانوں میں جھمکی پہنے وہ بہت حد تک مختلف اور جازبِ نظر لگ رہی تھی۔۔۔
اتنی جو نرم دل کی ہو۔۔۔ تو مجھے معاف کیوں نہیں کرتی۔۔۔ اس کے کان کے بلکل پاس زرداد کی گرم سانسوں کے ہمراہ یہ الفاظ سناٸی دۓ۔۔
دانین نے چونک کے دیکھا۔۔ وہ کب اس کے اتنا قریب آ کر کھڑا ہوا تھا اسے خبر بھی نہ ہوٸی تھی۔۔۔
اس نے بے دردی سے اپنے آنسو صاف کیے۔۔ چبھتی ہوٸی نظر زرداد پہ ڈالی۔۔ اور کچھ کہے بنا وہاں سے چل دی۔۔۔
زرداد ہارون خود کے لیے تم نے اس نرم دل کو سخت بھی خود ہی کیا ہے۔۔۔ دل میں سوچتی ہوٸی وہ روتی ہوٸی سدرہ کے پاس آٸی جس نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔
سدرہ کے گلےلگے ہوۓ اس کی نظر سامنے اسی جگہ پڑی تھی۔۔۔ جہاں تھوڑی دیر پہلے۔۔۔ وہ کھڑی تھی۔۔۔
زرداد ابھی بھی وہیں کھڑا تھا۔۔۔ سینے پہ ہاتھ باندھے۔۔پریشان شکل بناۓ۔۔
ایسے ہی تو دیکھنا چاہتی تھی تمہیں ایسے ہی۔۔۔ دانین نے سکون سے آنکھیں موند لی تھیں۔۔۔ سدرہ کے جسم کی گرماٸش اسے سکون دے رہی تھی۔۔۔
💔💔💔💔💔
آنکھیں موندے۔۔۔ وہ اپنی دھن میں گا رہا تھا۔۔۔ سمندر کی ہوا اس کے بال اڑا رہی تھی۔۔۔ گٹار پہ چلتی انگلیاں۔۔۔ ایک مدھر ساز بکھیر رہی تھی۔۔۔
آخر کو دانین سکندر تم مجھے معاف نہیں کرو گی۔۔۔ اور میرے دل کے اس بوجھ کو یوں ہی رہنے دو گی۔۔۔
وہ خالی ہاتھ تھا۔۔ احمد اور اشعال کی بند کمرے کی گفتگو نے اس کا دل دکھا دیا تھا۔۔۔ احمد اس سے اب چڑ کھانے لگا تھا ۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا۔۔ اب مزید زرداد ان کے گھر میں رکے۔۔۔
ابا نے اسے پوری شادی میں منہ نہیں لگایا تھا۔۔۔
منسا۔۔۔ اس کے روکھے رویے۔۔ سے چڑ کے اس سے بات کرنا چھوڑ چکی تھی۔۔ اور زرداد نے اسے ایک دفعہ بھی راضی کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔
دل عجیب سا بجھا بجھا رہتا تھا۔۔۔ اظہر سے ملنا بھی اس نے کم کر دیا تھا۔۔۔
یونورسٹی جاتا اور گھر آجاتا۔۔۔ اشعال اور احمد کا قرض دار ہوا پڑا تھا۔۔۔
کسی نے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔۔ تو وہ اپنے خیالوں سے واپس آیا تھا۔۔۔ گردن موڑ کے دیکھا تو الطاف کھڑا تھا۔۔۔
زرداد ۔۔۔زراد ہارون۔۔۔ اس نے تصدیق کے لیے سوالیہ نظروں سے زرداد کی طرف دیکھا۔۔۔
جی۔۔۔ زرداد نے گٹار ایک طرف رکھا۔۔ وہ اس سے ہاتھ ملا رہا تھا۔۔
گانا گاٶ گے ایک۔۔۔ الطاف نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
💔💔💔💔
گانا تھا یا اس کی قسمت کا وہ سکہ جو کھوٹا نہیں نکلا تھا۔۔۔
ہر زبان پر اس کا گانا تھا۔۔۔ سوشل میڈیا۔۔ ٹی وی ۔۔ چینل ۔۔ ہر جگہ۔۔۔ زرداد ہارون چھا گیا تھا۔۔۔
آج چار سال بعد جا کر اسے اپنے خوابوں کی تعبیر ملی تھی۔۔۔
وہ آج کوک سٹوڈیو۔۔۔ کے لیے دوسرا گانا کمپوز کروا رہا تھا۔۔۔
ریحا کے ساتھ۔۔۔ اور یہ اس کا وہ دوسرا سکہ نکلا تھا۔۔۔ جس نے راتوں رات اسے آسمانوں پہ چڑھا دیا تھا۔۔۔
اسے ۔۔پاکستانی موی کے گانے کی پلے بیک رکارڈنگز کے فون آنے لگے تھے۔۔۔
💔💔💔💔
لگتا ہے یہ تمہاری جان نہیں چھوڑنے والا۔۔۔ نرمل نے سرگوشی کی تھی۔۔۔اس نے نظر اٹھا کر اوپر دیکھا تھا۔۔۔ زین ۔۔۔ انھی کی طرف آ رہا تھا۔۔۔
نا یہ میری جان چھوڑے گا اور نا وہ لوگ ۔۔ اس کی نظریں اب فری لوگوں کے گروپ کی طرف تھی۔۔۔ جو زین کو اس کی طرف آتا دیکھ کر۔۔۔ ہاتھوں پہ ہاتھ مار کر قہقے لگا رہی تھیں۔۔۔
یہ تو جلتی ہیں تم سے۔۔۔ نرمل نے منہ چڑھا کر کہا۔۔۔ دفعہ کرو ان کو۔۔۔
اور مجھے یہ بتاٶ زرا۔۔۔ وہ اپنے بیگ سے اپنا موباٸل تلاش کر رہی تھی۔۔۔ زین کو آتا دیکھ کر وہ ہر بار کی طرح بے دلی سے وہاں سے اٹھ آٸیں تھی۔۔۔
وہ نرمل کے ساتھ قدم سے قدم ملایے چل رہی تھی۔۔۔ اور وہ تیزی سے اپنے موباٸل کی سکرین پہ انگلیاں چلا رہی تھی۔۔۔
یہ دیکھو زرا ۔۔۔ نرمل نے موباٸل اس کے سامنے کیا۔۔۔
یہ زرداد ہے۔۔۔ نا ۔۔۔ تمھارا کزن۔۔۔۔ وہ تصدیق چاہ رہی تھی۔۔۔ کیونکہ اس دن جب اس نے شادی پہ زرداد کو دیکھا تھا۔۔ تو اس کی شیو بڑھی ہوٸی تھی۔۔۔
وہ گانا گا رہا تھا۔۔۔ ہم۔م۔م۔م۔۔۔ وہی ہے۔۔۔ دانین نے فوراََ گانا بند کیا۔۔۔
ہا۔۔ا۔۔ا۔۔ بند کیوں کیا۔۔۔ کیا آواز ہے اس کی۔۔ کیا ۔۔ پرسنلٹی ہے۔۔۔ کرش بن گیا ہے سب کا پتہ ہے تمہیں۔۔۔ نرمل جوش میں بول رہی تھی۔۔
دانین کو گھٹن محسوس ہونے لگی تھی۔
میں جا رہی ہوں گھر۔۔۔ اچانک اس نے اونچی آواز میں کہا۔ کیونکہ نرمل مسلسل زرداد کے متعلق بات کر رہی تھی۔۔۔ جو اسے سننا ناگوار گزر رہا تھا۔۔۔
ارے اتنی جلدی۔۔۔ ابھی تو وہ ہاوس جاب کے بارے میں بات کرنے جانا نہیں تھا ہم نے۔ ایڈمن آفس۔۔۔ نرمل اس کےاچانک بدلتے موڈ کو دیکھ کر پریشان سی ہوٸی۔
میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ کل کریں گے یہ سارا کام۔۔اس کا لحجہ آج سے پہلے کبھی نرمل کےساتھ ایسا نہیں تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: