Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 8

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 8

–**–**–

ٹھ۔ٹھیک ہے ۔۔ اتنا غصہ کیوں ہو رہی ہو۔۔۔ نرمل اس کے رویے پہ حیران ہوتے ہوۓ بولی۔۔۔
وہ خاموشی سے گیٹ کی طرف چل پڑی تھی۔۔۔
💔💔💔💔💔
فون بار ۔۔ بار۔۔۔ بج رہا تھا۔۔۔ اس نے سر پر سے تکیہ اٹھایا تھا۔۔۔
منسا۔۔ کا نمبر بلنک کر رہا تھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ نیند کے خمار میں گھل کے آواز اور بھاری ہو رہی تھی۔۔۔ آنکھوں کو مسلتے ہوۓ اس نے گھڑی کی طرف دیکھا۔۔۔ رات کے دو بج رہے تھے۔۔۔
بے بی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈیڈ مان گۓ ہیں۔۔۔۔ منسا کی چہکتی ہوٸی آواز تھی۔۔۔
وہ پاکستان آنا چاہتے ۔۔۔ تمھارے گھر ابا سے ملنے۔۔۔ میں کتنی خوش ہوں میں بتا نہیں سکتی۔۔۔ وہ جوش میں بول رہی تھی۔۔۔
جیسے ہی اسکا تھوڑا نام ہوا تھا۔۔۔ منسا نے اسے خود فون کیا تھا۔۔۔ وہ چیخ چیخ کے اسے بتا رہی تھی۔۔۔
وہ بلکل خاموش تھا۔۔۔
منسا ایک دم کچھ محسوس کر کے بولتے بولتے رکی تھی۔۔
زرداد تمہیں خوشی نہیں ہوٸی۔۔۔۔ بہت دھیمی ہو گٸی تھی ایک دم سے اس کی آواز۔۔۔ چہک ایک دم ختم ہوٸی تھی۔۔۔
ہم۔۔م۔۔م۔۔ ہاں۔۔۔ ہاں۔۔ نہیں۔۔ خوش ہوں میں۔۔۔ بہت خوش ہوں۔۔۔ وہ اپنی آنکھ کے اوپر بھنوٶں پہ انگلی پھیرتا ہوا بولا تھا۔۔
وہ خود بھی اپنے اندر اس خوشی کو تلاش کر رہا تھا۔۔۔ جو ہونی چاہیے تھی۔۔۔ وہ ۔۔ نہیں تھی۔۔۔ ہاں ۔۔ وہ خوشی۔۔۔ کہیں بھی نہیں تھی۔۔۔
لیکن ۔۔ لگ نہیں رہے۔۔ بے بی۔۔۔ بڑے خفگی کے سے انداز میں ۔۔ منسا نے کہا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ایسی بات نہیں ہے۔۔۔ وہ ۔۔ یہاں پاکستان میں ۔۔ دو بج رہے۔۔۔ میں سو رہاتھا۔۔۔ اس نے بوجھل ہوتی آواز میں کہا۔۔ جو بوجھل دل کا ساتھ دے رہی تھی۔۔۔
اوہ۔۔۔ اوکے۔۔۔ اوکے۔۔۔ پھر سو جاو آپ۔۔۔ لو ۔۔ یو۔۔۔۔ اس کی آواز کی کھنک پھر سے لوٹ آٸی تھی۔۔۔
لو۔۔ یو۔۔۔ ٹو۔۔۔اس نے فون بند کیا تھا اور سر کو زور سے تکیے پہ دے مارا تھا۔۔۔
وہ اب عام زرداد ہارون نہیں رہا تھا۔۔۔ دنوں میں اس نے شہرت کی چوٹی تک کا سفر طے کیا تھا۔۔۔ اس کے انٹرویوز ہو رہےتھے آۓ دن۔۔۔ ڈرامہ۔۔۔ فلم۔۔۔ کے گانوں کی کمپوزنگ۔۔۔ وہ باہر نکلتا تو لڑکیوں کی چیخ و پکار۔۔۔ لوگوں کی بھیڑ۔۔۔
سب کچھ تھا اس کے پاس آج ۔۔۔ منسا بھی لوٹ ۔۔ آٸی تھی۔۔۔ لیکن وہ اپنے اندر خوشی کی تلاش میں سر گرداں تھا۔۔۔
نیند اس کے آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔
💔💔💔💔💔
گاڑی ایک ساٸیڈ پہ لگانے کا اشارہ کیا تھا اس نے ڈراٸیور کو۔۔۔ گاڑی سے اتر کر اب وہ سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔۔۔
فلیٹ کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔ کند ھے اچکا کے اس نے دروازے کو ہاتھ سے اندر کہ طرف دھکیلا۔۔۔
سامنے لاونچ میں صوفے پہ دانین بیٹھی تھی۔۔۔ اس کو دیکھ کر وہ ایک دم فق ہوٸی تھی۔۔ فوراََ ٹانگیں صوفے سے نیچے اتاری۔۔ جو وہ اوپر سمیٹ کے بیٹھی تھی۔۔۔اور گھٹنوں پہ تھوڑی ٹکا رکھی تھی۔۔ جب کے نظریں سامنے لگے ٹی وی کی سکرین پر مرکوز تھی۔۔۔
وہ اشعال کو پیسے دینے آیا تھا۔۔۔
عجیب خوشگوار سی حیرت ہوٸی تھی۔اسے دانین کو یوں کراچی میں دیکھ کے۔۔۔ ۔۔
تم ۔۔۔ کیسے۔۔۔ یہاں۔۔۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں اس کے سر پر کھڑا تھا۔۔۔
دانین ۔۔ تھوڑا سے ہلی تھی۔۔ لیکن جواب دینا گوارا نہیں کیا۔۔۔
دانین نے ٹی وی پہ ایسے نظریں مرکوز کی ہوٸی تھیں۔۔۔ اور ایسے بے نیاز بیٹھی تھی جیسے اسے زرداد کی موجودگی سے اسے کوٸی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔
میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے۔۔ اس نے کوٸی جواب نہیں دیا تھا۔۔ تو زرداد نے صوفے پہ بیٹھتے ہوۓ اسے بغور دیکھا۔۔۔ ہلکے پھلکی قمیض شلوار میں بالوں کو فولڈ کر کے اوپر باندھا ہوا تھا۔۔۔
میں تمھارے کسی بھی سوال کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں۔۔۔ روکھے سے انداز میں کہا جبکہ۔۔ آنکھیں ہنوز۔۔ ٹی وی پر مرکوز تھیں۔
ہم۔م۔م۔م۔ یہ بھی صیح کہا ویسے۔۔۔ تو پھر اشعال کے بارے میں تم سے نہیں پوچھنا چاہیے۔۔۔ وہ اٹھ کے اشعال کو تلاش کرتے ہوۓ کمرے میں گیا۔۔۔
وہ رانیہ کو سلا رہی تھی۔۔۔
اس کو دیکھ کر مسکراٸی ۔۔۔ اور ہونٹوں پہ انگلی رکھ کے اسے چپ رہنے کا اشارا کیا پہلے پھر ۔۔ جھولے میں سوٸی رانیہ کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
دانی آٸی ہوٸی ۔۔۔ خیریت۔۔۔ اس نے دھیرے سے اشعال کے پاس جا کر کہا۔۔ جب کہ اس کے ھاتھ جیب سے چیک نکال رہے تھے۔۔۔
وہ اس کا کوٸی یونیورسٹی کا فنگشن ہے شاٸید۔۔۔ شام کو جانا اس نے۔۔۔ اشعال نے زرداد کے ھاتھ سے چیک پکڑا۔۔۔
۔۔ منال بتا رہی تھی اس کی ہاوس جاب چل رہی اب۔۔۔ پاس پڑی کرسی پہ بیٹھتے ہوۓ زرداد نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔
ہاں۔۔۔ یونیورسٹی نے پریویس سٹوڈنٹ کے لیے ہی ارینج کیا ہے شاٸید۔۔ کوٸی سیمینار ہے شاٸد۔۔۔ کوٸی فنگشن ۔۔ وہ اب چیک الماری میں رکھ رہی تھی۔۔۔
اور ہاں شکر ہے تم آ گۓ ہو۔۔۔ اس کو اور اسکی فرینڈ کو چھوڑتے ہوۓ جانا۔۔۔ کوٸی کام تو نہیں ہے نہ۔۔۔ اشعال نے سوالیہ نظروں سے ۔۔ زرداد کہ طرف دیکھا۔۔۔ الماری کا پٹ آہستہ سے بند کیا۔۔
نہ۔۔نہ۔۔نہیں تو۔۔ چھوڑ دوں گا میں۔۔۔ بشرطیکہ وہ محترمہ چلی جاٸیں میرے ساتھ۔۔ اس نے دل میں سوچا۔۔
۔۔ اشعال نے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا اپنے ساتھ وہ خود بھی اب باہر جا رہی تھی۔۔۔ رانیہ سو چکی تھی۔۔
دانی مسٸلہ ہی حل ہوگیا۔۔ زرداد آ گیا ہے نا اب احمد کو آفس سے بلوانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اشعال نے صوفے پہ بیٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔
زرداد بلکل سامنے آ کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔نہیں ۔۔ کوٸی مسٸلہ نہیں۔۔۔ میں اور نرمل ۔۔ٹیکسی کروا لیں گے۔۔۔ زرداد کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ دانین کا رنگ سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔
اوہ نہیں ۔۔ پاگل ہو کیا۔۔۔ اس کے پاس گاڑی ہے ڈراٸیور ہے۔۔۔ چھوڑ آۓ گا ڈراٸیور۔۔۔ چپ کرو بس۔۔۔اشعال نے تھوڑا ڈانٹنے کے سے انداز میں کہا۔۔۔
ڈراٸیور ہی جاۓ گا۔۔۔ دانین نے دل میں سوچا اور چپ رہنا ہی مناسب لگا۔۔۔
اور زری ۔۔۔ انڈیا کا کیسا رہا ٹور۔۔۔ اشعال زرداد سے پوچھ رہی تھی۔۔۔
بہت اچھا رہا۔۔۔ مختصر جواب۔۔ دیا
۔ نظریں بار بار ۔چوری چوری۔۔ سپاٹ چہرہ لیے بیٹھی دانین کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔
اچھا بیٹھو تم دونوں میں چاۓ بناتی ہوں۔۔۔ اشعال نے صوفے سے اٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔
اشعال آپی بیٹھیں آپ میں بنا کر لاتی ہوں۔۔۔ دانین فوراََ اٹھی تھی۔۔ اسے زرداد کا بار بار دیکھنا زہر لگ رہا تھا۔۔۔
ارے۔۔۔ یہ کیا بات ہوٸی۔۔۔ مہمان ہو تم ۔۔۔ پاگل مت بنو۔۔۔ اشعال نے خفگی سے دانین کی طرف دیکھا۔۔۔
ایسے تو مت کہیں ۔۔ آپی۔۔ بیٹھیں آپ۔۔ میں لے کر آتی ہوں ۔۔۔ وہ تیزی سےکچن کی طرف بڑھی۔۔۔اس سے پہلے کے اشعال اسے دوبارہ روک لے۔۔۔
زرداد انڈین فلم کےلیے گانے کمپوز کروانے گیا ہوا تھا۔۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی وہ پاکستان لوٹا تھا۔۔۔ اب وہ اشعال کو ہنس ہنس کے وہاں کے لوگوں کے بارے میں بتا رہا تھا۔۔۔
دانین کے کانوں میں اس کے قہقے پڑ رہے تھے۔۔۔دل کر رہا تھا یہاں سے بھاگ جاۓ۔۔۔
ان دونوں کے لیے چاۓ رکھ کے وہ تیار ہونے کے لیے کمرے میں چلی گٸی تھی۔۔۔
نرمل کا فون پر پیغام آ گیا تھا وہ بس پہنچنے ہی والی تھی۔۔۔
💔💔💔💋💔💋
تم چلو۔۔ یہ پیسے رکھو ٹیکسی کروا کے گھر میں آتا ہوں۔۔۔ زردد نے ڈراٸیور کو پیسے پکڑاتے ہوۓ کہا۔۔۔
گاڑی کے پاس کھڑی دانین کا چہرہ سرخ ہو گٕیا تھا۔۔ جب کے نرمل کے دانت باہر آ گیے تھے۔۔۔
نہ۔۔نہیں ۔۔ ہم ڈراٸیور کے ساتھ چلے جاٸیں گے۔۔۔ دانین نےدانت پیستے ہوۓ تھوڑے سخت لہجے میں کہا۔۔۔
نہیں کیوں۔۔۔ زرداد چھوڑ آٸیں گے ہمیں۔۔۔ نرمل تو چہک رہی تھی۔۔۔
اس نےنرمل کو گھور کے دیکھا ۔۔۔نرمل نے اسی کے انداز میں اسے گھوری ڈالی۔۔۔ اور گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ بیٹھو اب ٹاٸم نہیں بحث کا
نرمل نےگاڑی کی بیک سیٹ کا دروازہ کھولا۔ دانین بھی اس کے پیچھے ایسے کھڑی تھی کہ یہ بیٹھے تو وہ بیٹھے گی۔۔۔
کیا مطلب ۔۔ پاگل تم آگے بیٹھو۔۔ وہ کوٸی ڈراٸیور ہے ہمارا۔۔۔
نرمل نے دانت پیستے ہوۓ اسے کہا۔
پھر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔۔ اس نے اوور ری ایکٹ کرنے سے تھوڑا سا پرہیز کیا کیونکہ اس کے انداز سٕے اگر نرمل نے کچھ محسوس کر لیا تو جان کھا جاۓ گی وجہ پوچھ پوچھ کے۔
زرداد نے اپنے کوٹ کو تھوڑا سا جھٹکا دیا تھا۔۔ پھر گاڑی کو بیک کرتے ہوۓ کن اکھیوں سے دانین کی طرف دیکھا۔۔۔ اس کا چہرہ ضبط کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا۔۔
گاڑی میں بلکل خاموشی تھی۔۔
خاموشی۔۔نرمل نے ہی توڑی۔۔۔
دانین نے کبھی آ پکا ذکر ہی نہیں کیا اتنا۔۔ کیا آپ شروع سے کراچی رہتے تھے۔۔۔ بڑے ۔۔ مہزب انداز میں نرمل نے زرداد سے بات شروع کی۔۔۔
نہیں۔۔۔ میں ان کے ساتھ ہی رہتا تھا۔۔ چار سال پہلے ہی آیا تھا ۔۔ یہاں کراچی۔۔۔ مہزب انداز میں ہی جواب دیا گیا۔۔۔
یہ پڑھتی رہتی۔۔۔ تھی زیادہ کبھی بات ہی نہیں کرتی تھی۔۔۔ اس لیے ۔۔ ذکر نہیں کرتی ہو گی۔۔۔ زرداد نے مسکراتے ہوۓ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ بولا۔۔۔
دانین نے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں ایک دوسر ے میں مضبوطی سے پیوست کیں۔۔۔
گاڑی۔۔۔ پنڈال کے سامنےرکی تھی۔۔۔ واپسی کا وقت بتا دیں۔۔۔زرداد نے آہستہ سے کہا۔۔ انکھیں ساتھ بیٹھی۔۔۔ دانین پر مرکوز تھیں۔۔۔
نہیں ہم آ جاٸیں گے۔۔۔ بہت مشکل سے دانین اپنے لہجے کو نارمل رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
نہیں نہیں۔۔۔ ہم آپکو کال کر لیں گے۔۔۔ نرمل چہک رہی تھی۔۔۔ دانین نے گھور کے اسے دیکھا۔۔۔
میرا نمبر لے لیں آپ۔۔۔ زرداد نے نرمل سے کہا۔۔۔
کون میں۔۔۔ نرمل کے خوشی کی وجہ سے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔
دانین تیزی سے گاڑی سے اتری تھی اور دروازہ زور سے مارا۔۔۔
زرداد بھی گاڑی سے باہر آ گیا تھا۔۔۔ وہ اور نرمل ہنس کر کوٸی بات کر رہے تھے۔۔۔ جب لڑکیوں کا شور ابھرا تھا۔
وہ دیکھو زرداد ہارون۔۔۔ لوگ تیز تیز قدم اٹھاتے اب زرداد کی طرف آ رہے تھے۔۔۔ فری اور اس کا گروپ منہ کھولے دیکھ رہا تھا۔۔۔ زرداد نے دانین کو اس کا موباٸل پکڑایا تھا۔۔۔ جو وہ غصے میں گاڑی میں چھوڑ آٸی تھی۔۔۔۔
زرداد تیزی سے گاڑی میں بیٹھا
لوگ گاڑی کے شیشوں پہ ہاتھ مار رہے تھے۔۔۔ زرداد تیزی سے گاڑی بیک کر رہا تھا۔۔۔ اور پھر تیزی سے گاڑی وہاں سے نکل گٸ تھی۔۔۔ لوگ اپنے اپنے موباٸل اب واپس رکھ رہے تھے۔۔۔ کچھ لوگ ابھی بھی اس کی کار کی ویڈیو بنا رہے تھے۔۔۔
وہ فری کے پاس سے گزر رہی تھیں۔۔۔ وہ ابھی بھی حیران پریشان کھڑی تھی۔۔۔
دانین ۔۔۔ زرداد کو واپسی کا ٹاٸم بتا دیا نا۔۔۔ نرمل نے بڑی ادا سے فری کو سنانے کے لیے تھوڑا سا اونچا بول بولا۔۔۔
جبکہ دانین اسے گھور رہی تھی۔۔۔ چلو تم اندر۔۔۔
یار تھوڑا اور تو جلانے دیتی۔۔۔ تم نے شکلیں دیکھی تھی ان کی۔۔۔ نرمل کا ہنس ہنس کر برا حال تھا۔۔۔
💔💔💔💔💔
مجھے گھر جانا ہے یہاں کیوں لے کر آۓ تم۔۔۔ دانین سمندرکے کنارے پہ گاڑی رکتے دیکھ کر بولی تھی۔۔۔
وہ نرمل کو اس کے ماموں کے گھر اتارنے کے بعد واپس اشعال کے فلیٹ کے لیے روانہ ہوۓ تھے لیکن زرداد نے یہاں لا کر گاڑی روک دی تھی۔۔۔
تم سے بات کرنی ہے مجھے۔۔۔ اترو گی ۔۔۔ وہ اس کی طرف کا دروازہ کھول کر کھڑا تھا۔۔۔
سیاہ رنگ کی ٹی شرٹ پہنے ہوۓ۔۔۔ ماتھے پہ پریشانی کی لکیریں ڈالے۔۔ وہ ہزاروں دلوں کی دھڑکنوں کو تیز کر دینے والا ۔۔ اس کے سامنے مجرم کی طرح کھڑا تھا۔۔۔ زرداد ہارون۔۔۔ جس کا گلٹ اندر ہی اندر اسے توڑ رہا تھا۔۔۔ اسے لگتا تھا اس کے دل کو قرار تب تک نہیں ملے گا جب تک دانین اسے معاف نا کر دے۔۔۔
دنیا کی کوٸی خوشی بھی اس کے دل کا بوجھ نہ ہٹا پاٸی تھی ۔۔
نہیں تم مجھے اسی وقت واپس لے کر چلو۔۔ گھر۔۔۔
دانین پلیز۔۔۔۔ وہ تھوڑا سختی سے بولا تھا۔۔۔ اور بازو پکڑ کے گاڑی سے باہر نکال کر کھڑا کر دیا تھا اسے۔۔۔
دانین نے آگ بگولہ ہو کر ہاتھ سینے پہ باندھے اور دوسری طرف دیکھنا شروع کریا۔۔۔
دانین ۔۔۔ میرے دل پہ بہت بوجھ ہے۔۔ گلٹ ہے۔۔ بہت۔۔۔ پلیز۔۔ اپنا دل صاف کر لو میری طرف سے۔۔۔ وہ ہاتھ ہوا میں اوپر نیچے کر کے الفاظ پہ زور دیتا ہوا ٹھہر ٹھہر کے بول رہا تھا۔۔
وہ خاموش۔۔۔ ساکت۔کھڑی۔۔۔ تھی۔ ہوا اس کے بال اڑا کر کبھی اس کا چہرہ ڈھک دیتی تو وہ جھٹکے سے ان کو کانوں کے پیچھے کر لیتی تھی۔۔۔
دیکھو۔۔۔ میں ۔۔۔ خوش نہیں رہ پا رہا ہوں۔۔۔ مجھے سکون نہیں مل رہا۔۔۔ میں ہلکا محسوس کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ میں آج اپنی غلطی کی تم سے معافی مانگتا ہوں۔۔۔ اپنے دل سے نکال دو۔۔ سب۔۔۔
اب وہ بھی خاموش کھڑا تھا اس کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
میں نے تمہیں معاف کیا۔۔۔ کہیں دور سے آتی ہوٸی آواز تھی۔۔
زرداد کے لب دھیرے سے مسکراے تھے۔۔۔
پر تم اب میری جان چھوڑ دو۔۔۔ میں نے تمہیں معاف کیا لیکن میرے دل میں جو تمھارے لیے نفرت ہے وہ میں ختم نہیں کرسکتی ہوں ۔۔۔ وہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔۔۔ دانین کا چہرہ سخت تھا۔۔۔ وہی ۔۔۔ حقارت تھی اس کی نظر میں۔۔۔
زرداد کے چہرے پر آٸی مسکراہٹ پھر سے غاٸب ہو چکی تھی۔۔۔
وہ گاڑی کی سیٹ پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔
زرداد کچھ دیر یوں ہی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑا رہا۔۔۔ پھرآہستہ سے چلتا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔۔۔
وہ خاموشی سے گاڑی سے اتری تھی اور فلیٹ والی عمارت میں گم ہو گٸ تھی۔۔
وہ وہیں گاڑی میں بیٹھا تھا۔۔۔ دل کو قرار ابھی بھی نا آیا تھا۔۔۔
💞💞💞💞💞
کیسی ہے وہ لڑکی دانین تم نے تو دیکھی ہو گی نا۔۔۔ اسما نے پر تجسس انداز میں سوال کیا۔۔۔
سلاد کاٹتی دانین نے چونک کر دیکھا۔۔۔
بہت خوبصورت ہے۔۔۔ بہت سٹاٸلش ہے۔۔۔ اس سے پہلے کہ دانین کوٸی جواب دیتی۔۔۔ شازر لہک لہک کر ۔۔ منسا کی تعریفوں کے پل باندھنے لگا۔۔۔
مقصد اپنی بیوی کو تنگ کرنا بھی تھا۔۔۔ اسما نے تھوڑی خفگی سے شازر کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
آپ کو سواۓ میرے ہر لڑکی حسین لگتی ہے۔۔ اسما نے ناک چڑھا کر ایسے کہا کہ دانین اور شازر کو ہنسی آ گٸ تھی۔۔۔
میں دانین سے پوچھ رہی تھی۔۔ آپ سے نہیں۔۔۔ اسما نےپھر دانین کی طرف سوالیہ نظروں سے ایسے دیکھا جیسے تھوڑی دیر پہلے بولے گۓ شازر کےالفاظ پر بلکل یقین نہ ہو۔۔۔
شازر بھاٸی ٹھیک کہہ رہے بھابھی ایسی ہی ہے وہ۔۔۔ گھٹی سی آواز میں دانین نے کہا تھا۔۔۔
منسا کے ڈیڈ۔۔۔ نیلم اور اسکے شوہر کے ساتھ آۓ تھے۔۔ ہارون سکندر۔۔ ثمرہ سب اندر بیٹھے تھے۔۔۔
دانین اسما کے ساتھ ان کا کھانا تیار کروا رہی تھی۔۔۔
دیکھیں۔۔۔ ہارون زندگی تو بچا بچی نے گزارنی ہے۔۔۔ جب وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش ہیں تو پھر۔۔ ہمیں بھی ظالم سماج کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔۔۔
نیلم کے شوہر نے بہت آہستہ آہستہ بات کی۔۔
ہارون چپ سادھے بیٹھے تھے۔۔ سر تھوڑا سانیچے کیا ہوا تھا۔۔۔ پھر آہستہ سے سر اپر اٹھا کر سکندر کی طرف دیکھا۔۔۔
آ پ لوگ سکندر کی مرضی جان لیں۔۔۔ میرا بیٹا ہے۔۔۔ لیکن میں اس کی کوٸی ضمانت نہیں دے سکتا۔۔۔ وہ ٹھہرے ہوۓ لہجے میں بول رہے تھے۔۔
سکندر کا لاڈلا ہے۔۔۔ یوں سمجھے کہ زرداد کی سرپرستی میں نے سکندر کو سونپ رکھی ہے۔۔۔ اگر سکندر ہاں کہہ دیتا ہے تو۔۔۔ مجھے کوٸی اعتراض نہیں۔۔۔
ہارون نے لب بھینچے۔۔۔
سکندر نے اٹھ کے منسا کے والد کو گلے لگا لیا تھا سب لوگ مسکرا رہے تھے۔۔۔ اب ۔۔۔
زرداد کو فون کرو نا ابھی پہنچا نہیں وہ کہاں رہ گیا ہے۔۔۔ اور اسما سے کہو مٹھاٸی لے آۓ۔۔۔ سکندرنے جوش اور خوشی کے ملے جلے لہجے میں ۔۔ شازر سے کہا۔۔۔
جی چاچو ۔۔۔ ابھی کرتا ہوں۔۔۔ شازر نے خوش ہو کر جیب سے موباٸل نکالا۔۔۔
گھر میں ایک دم شور شرابا شروع ہو گیا تھا۔۔۔
💔💔💔💔💔💔💔
بات کو سمجھا کرو نا۔۔۔بہت مصروف ہوں آجکل۔۔۔ زرداد نے ایک ہاتھ سے جوگرز چڑھاتے ہوۓ کہا۔۔۔ جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ فون کان کو لگاۓ ہوۓ تھا۔۔۔
منسا اس سے ناراض ہو رہی تھی۔۔۔ ان کی بات پکی ہوۓ کوٸی دو مہینے ہو گۓ تھے۔۔۔ تب سے اب تک اس کی زرداد سے تفصیلی بات نہیں ہو پاٸی تھی۔۔۔ یا تو وہ بہت مصروف ہوتا۔۔۔ یا پھر تھکا ہوا۔۔۔
اسے زرداد بیزار سا لگنے لگا تھا۔۔ اب بھی وہ اسی بات پر اس سے لڑ رہی تھی۔۔
اور اسے ابھی جوگنگ کے لیے نکلنا تھا۔۔
اوکے بابا رو تو نا۔۔۔ منسا پلیز ۔۔۔ وہ تھوڑا چڑ سا گیا تھا۔۔۔ ایک گھنٹے سے وہ اسے منانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔۔۔
اور وہ تھی کہ بات کو طول ہی دیے جا رہی تھی۔۔۔
تم بہت زیادہ وقت مانگنے لگی ہو۔۔۔ جب سے ہماری بات پکی ہوٸی ہے۔۔۔ پہلےبھی تو پورا ایک سال تم مجھ سے بات کیے بنا رہ ہی رہی تھی نہ۔۔۔ زرداد کا پارہ چڑھ گیا تھا۔۔۔
تب اور بات تھی زرداد۔۔۔ وہ بھی ترکی بہ ترکی جواب دے رہی تھی۔۔۔
کیوں تب میں۔۔ سپر سٹار نہیں تھا۔۔۔ زرداد کے لہجے میں طنز تھا۔۔۔
منسا کی بولتی ایک دم بند ہوٸی تھی۔۔۔
تم سے بات کرنا ہی فضول ہے۔۔۔ اب جب تمھارا دل چاہے گا تبھی بات ہو گی میں اب تمہیں کال نہیں کروں گی۔۔۔
منسا غصے کی حالت میں بول رہی تھی۔۔۔ اور اس کے بعد اس نے کال کاٹ دی تھی۔۔۔
زرداد نے غصے میں فون بیڈ پر اچھالا تھا۔۔۔
💔💔💔💔💔💔💔
زین ۔۔ پلیز مجھے اس طرح کی کوٸی بھی بات پسند نہیں۔۔۔ اس نے دانت پیستے ہوۓ کہا تھا۔۔
زین آج اس کےہاسپٹل بھی پہنچ گیا تھا۔۔۔ وہ گھر جانے کے لیے باہر نکل رہی تھی جب لابی میں وہ اس کے بلکل سامنے آ گیا تھا۔۔۔
میں کوٸی بھی غلط بات نہیں کر رہا ہوں صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ میں اپنےگھر والوں کو آپ کے گھر بھیجنا چاہتا ہوں۔۔
وہ بہت اپناٸت سے کہہ رہا تھا اس بات سے بلکل بے نیاز ہو کر۔۔ کہ وہ ضبط سے لال ہو رہی تھی۔۔۔
مجھے شادی نہیں کرنی سنا آپ نے۔۔۔ آپ ایسی کوٸی بھی حرکت نہیں کریں گے۔۔۔
اب میرا راستہ چھوڑیں۔۔۔ انتہاٸی سخت لہجے میں کہا۔۔
زین مایوس شکل بنا کر پیچھے ہوا تھا۔۔۔
وہ تیزی سے وہاں سے نکل گی تھی۔۔
جبکہ وہ اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔ کتنی سخت دل کی مالک تھی وہ اس کے پیچھے اس نے پانچ سال لگا چھوڑے تھے۔۔۔
پر وہ ویسی کی ویسی تھی۔۔
💔💔💔💔💔💔💔
جی چاچو۔۔۔ کیا حال ہے آپکا۔۔۔ زرداد کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ تھی۔۔۔ کیسے یاد کیا مجھے آج۔۔۔ اس نے فون کان کو لگا کر خوش دلی سے کہا۔۔۔
سکندر کا فون تھا۔۔۔ وہ اپنی البم کی شوٹنگ سے ابھی واپس آیا تھا۔۔
جب ان کی کال آٸی۔۔۔ جی جی میں سن رہا ہوں آپ بات کریں۔۔۔ سکندر تھوڑے پریشان سے لگ رہے تھے۔۔
زرداد تمھارا وہ دوست تھا ایک بدر۔۔۔ بدر زبیر۔۔۔ سکندر نے دھیمے سے لہجے میں کہا۔۔
جی تھا۔۔ وہ تھوڑا تلخ ہوا تھا۔۔ دانت اچانک ہونٹ چبانے لگے تھے۔۔۔
بیٹا ۔۔اس۔۔۔۔ کا۔۔ رشتہ آیا ہے دانین کے لیے۔۔۔ سکندر۔۔ نے بوجھل سے دل سے کہا۔۔۔ وہ دانین سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور اس کے حوالے سے ہر معاملے میں بہت حساس ہو جاتے تھے۔۔۔
زرداد پر تو جیسے منوں کے حساب سے کسی نے مٹی ڈال دی تھی۔۔۔ اسے گھٹن محسوس ہوٸی سینے میں۔۔۔
میں نے تم سے یہ کہنا تھا۔۔۔ کیسا ہے وہ ۔۔ ویسے تو میں یہ سوچا رہا کہ ایک ہی محلے کے ہیں ۔۔۔لوگ بھی اچھے ہیں۔۔۔ اس کی والدہ کل آٸی تھیں تمھاری چچی سے ملنے۔۔۔۔ بدر کی بھی خواہش ہے۔۔۔ وہ یہ کہہ رہی تھی۔۔۔
دانین کا تو تمہیں پتا ہے کتنی سلجھی ہوٸی ہے۔۔۔ جہاں میں چاہوں گا میری بچی ۔۔ میرا مان رکھے گی۔۔۔ وہ بول رہے تھے۔۔ اور زرداد کی دماغ کی نسیں پھول رہی تھیں۔۔۔ بازوٶں کی رگیں واضح ہو گٸی تھیں۔۔۔
اس کے تن بدن میں جیسے کسی نے انگارے رکھ دیے ہوں کچھ ایسا احساس تھا۔۔۔
چاچومیں ابھی حیدر آباد آ رہا ہوں ۔۔۔ آکر بات کرتا ہوں آپ سے۔۔۔
زرداد نے کال کاٹ دی تھی۔۔۔ چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
وہ تیزی سے ۔۔گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔
💔💔💔💔💔💋💔
بدر نے دروازہ کھولا تو سامنے زرداد کھڑا تھا سر خ چہرہ ۔۔۔ رگیں تنی ہوٸی۔۔۔ آج سے پانچ سال پہلے بھی وہ ایسے ہی اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
تم نے کس حثیت سے دانین کے لیے رشتہ بھیجا۔۔۔ زرداد غرانے کے سے انداز میں بولا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: