Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 9

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – قسط نمبر 9

–**–**–

کیا مطلب کس حثیت سے۔۔۔ بدر پہلے تھوڑا سا گھبرایا پھر بھنویں اچکا کر زرداد کو گھورا۔۔
تم نے دانین کے لیے رشتہ کیوں بھیجا۔۔ زرداد اب دانت پیستا اس کے اور قریب آ گیا تھا۔۔
مجھے اچھی لگی وہ ۔۔ شازر کی شادی پہ دیکھا تھا میں نے۔۔۔
بدر کو اس کے غصے سے تھوڑا سا خوف آ رہا تھا پچھلی دفعہ تو ایک ہی دانت توڑ کر گیا تھا۔۔۔ اس کی آواز میں ہلکی سی لڑ کھڑاہٹ تھی۔۔۔ لیکن وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا یہ۔۔
امی کو رشتے کے لیے بھیج دیا کچھ غلط تو نہیں اس میں۔ بدر نے زرداد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی۔۔۔
کیا مطلب تجھے اچھی لگی۔۔۔ زرداد نے اس کا گریبان پکڑ کر جھٹکا دیا تھا۔۔۔ تیری ہمت کیسے ہوٸی اسے اس نظر سے دیکھنے کی۔۔۔ گریبان کی گرفت اتنی مظبوط ہو گٸ تھی۔۔کہ بدر کا سانس رکنے لگا تھا۔۔۔ اس نے ایک جھٹکا دے کر خود کو چھڑایا۔۔۔
تمہیں کیا مسلہ کوٸی بھی پسند کرے اسےرشتہ بھیجے۔۔۔بدر اپنے گلے کو سہلا رہا تھا۔۔۔
مجھے ہے مسلٕہ۔۔۔ دھکا پڑا تھا ۔۔ بدر کو۔۔۔
کیوں تو کرے گا اس سے شادی ۔۔۔ ہاں بتا نہ
اس نے اپنے آپکو گرنے سے بچایا۔۔۔۔۔ تکلیف کیا تجھے۔۔۔ تیری تو ہو گٸی ہے نہ بات پکی۔۔۔ پھر تجھے کیا کوٸی بھی کرے شادی اس سے۔۔۔ بدر کا غصہ بھی اب سوا نیزے پہ تھا۔۔۔
زرداد کی نسیں تن گٸی تھیں۔۔۔ بدر کو پکڑ کر ایک گھونسہ جڑا تھا۔۔۔ جبکہ زبان وہ الفاظ ادا کر رہی تھی جس سے شاٸید آج سے پہلے وہ خود بھی انجان تھا۔۔۔
ہاں کوٸی نہیں کر سکتا اس شادی۔۔ آنکھیں نوچ لوں گا اگر کسی نے اس نظر سے دیکھا بھی تو۔۔
بدر حیران ہو کر اسے دیکھ رہا تھا۔۔
اسے مارتے مارتے ایک دم وہ رکا تھا۔۔۔۔ وہ اب خجل سا ہو کر اٹھا تھا۔۔۔احساس اب ہوا تھا کہ وہ کیا کچھ بول گیا ہے۔۔
پریشان دل۔۔۔ اور پریشان شکل لے کر وہ وہاں سے بھاری بھاری قدم اٹھاتا گھر کی طرف جا رہا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
اچھا کیا تم نے بتا دیا۔۔۔ نہیں تو میں تو کافی غور کر رہا تھا۔۔۔ اس رشتے پہ۔۔۔
اس نے سکندر کو کہا تھا کہ اسے پانچ سال ہو گۓ ہیں بدر سے دوستی چھوڑے ہوۓ ۔۔ دوستی اس کی بری صحبت کی وجہ سے ہی چھوڑی تھی اس نے۔۔ اب بھی باقی دوستوں سے پوچھ کر آ رہا ہوں ۔۔۔ کوٸی خاص اچھی رپیوٹ نہیں ہے اس کی۔۔۔
تمہیں بھی سارا اپنا کام چھوڑ کے آنا پڑا۔۔۔ سکندر اس کی طرف پیار سے دیکھ رہے تھے۔تمھارے سسر چلے گۓ کہ ابھی پاکستان ہی ہیں۔۔۔ سکندر نے مسکراتے ہوۓ اسے دیکھا۔۔۔
ہم۔مم۔مم جی پہ۔۔پہ۔۔ پتا نہیں چا چو۔۔۔ بات نہیں ہوٸی کبھی ان سے میری۔۔۔ پر سوچ انداز میں وہ اپنے دل کی حالت سمجھنے میں مصروف تھا۔۔۔
جو عجیب ہی خواہش کے لیے ہمک رہا تھا۔۔۔ کہ دانین اسے نظر آ جاۓ ۔۔۔
اسکا دماغ اور دل ایک سرد جنگ لڑ رہے تھے۔۔۔دماغ دل کو روک رہا تھا۔۔۔ اور دل تھا کہ کچھ بھی سننے سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔
وہ انھی سوچوں میں الجھا ہوا تھا۔۔۔ جب وہ اسما کے ساتھ ہنستی ہوٸی اپنے کمرے سے نکلی تھی۔۔۔ ہلکے۔۔۔ فیروزی رنگ کا لمبا پلین فراک پہنا ہوا تھا۔۔۔ جس کے بازو آگے سے چوڑی دار تھے۔۔۔ بالوں کو بڑی بے نیازی سے جوڑے کی شکل دے رکھی تھی کہ وہ ارد گرد سے نکل کر گردن پر بکھرے ہوۓ تھے۔۔۔ گندمی رنگت کا شفاف چہرہ جس پر وہ بڑی پلکوں والی چمکتی۔۔۔ کچھ بولتی ہوٸی آنکھیں۔۔۔ لیے کھڑی تھی۔۔۔
وہ عام سی شکل کی لڑکی آج اس کے دل کو دنیا کی سب سے دلکش لڑکی لگ رہی تھی۔۔۔
دانین کی ہنستے ہنستے اچانک اس پر نظر پڑی تو چہرہ سپاٹ ہو گیا تھا۔۔۔
دانی ۔۔۔ آٶ بیٹا آٶ۔۔۔ میرے لیے اور زری کے لیے چاۓ بنا دینا۔۔۔ سکندر نے ٹی وی کا ریموٹ پکڑتے ہوۓ کہا۔۔۔ دانین کچن کی طرف پلٹی تھی۔۔
زرداد کی نظریں اب اس کی کمر پر تھی۔۔۔ اس کا لمبا قد اور پتلی سی کمر تھی۔۔۔ چہرہ اور جسم تھوڑا بھرنے سے اس کا سراپا بہت حد تک پرکشش ہو گیا تھا۔۔۔ لڑکپن میں تو۔۔۔ بہت ہی پتلی سی تھی وہ۔۔۔
یا شاٸید اس نظر سے وہ دیکھ ہی آج رہا تھا۔۔۔ دل کے تار۔۔ہلکے ہلکے بجنے سے لگے تھے۔۔۔ جیسے کوٸی ہلکے سے گدگدا رہا ہوں۔۔۔ ایک انوکھا سا کرنٹ۔۔۔ جس میں سکون ہو۔۔۔
چاچو دانین کو کہیں میری چاۓ میرے کمرے میں دے جاۓ۔۔۔ اس نے دھیرے سے سکندر کو کہا۔۔۔ اور نا سمجھی کی حالت میں اوپر آ کر بے تابی سے اس کا انتظار کرنے لگا تھا۔۔۔
مجھے ہو کیا گیا ہے۔۔۔ وہ عجیب کشمکش کا شکار تھا۔۔۔
ذہن کہہ رہا تھا وہ نہیں آۓ گی۔۔ دل کہہ رہا تھا وہ آۓ گی۔۔۔ انھی سوچوں میں گم تھا جب دروازے پہ دستک ہوٸ۔۔۔اس کا منہ دوسری طرف تھا۔۔ دل نے زور زور سے دھڑکنا شروع کر دیا تھا۔۔۔ وہ چل کے پاس آ رہی تھی۔۔۔
اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی پلٹ کر اسے دیکھ پاتا ۔۔۔ اب وہ اس کے پاس آ گٸی تھی۔۔۔
دیور ۔۔۔ جی۔۔۔۔ چاۓ ۔۔ آپکی۔۔۔ اسما کی آواز ۔۔ پہ وہ بری طرح چونکا تھا۔۔۔
اسما ہاتھ میں چاۓ پکڑ کر کھڑی تھی۔۔۔
اوہ۔۔۔ بھابھی۔۔۔ زرداد نے اپنے ہونٹوں پہ زبان پھیری۔۔۔
جی میں ۔۔۔ ہم بھی تو اپنے سپر سٹار کے ساتھ تھوڑا وقت گزار لیں۔۔۔ اسما بڑی خوش مزاج اور ہنس مکھ لڑکی تھی۔۔۔
جی ۔۔۔جی۔۔ کیوں نہیں بھابھی۔۔۔ بیٹھیں۔۔۔ اس نے سامنے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
بھابھی۔۔۔ شادی کی البم کہاں ہے۔۔۔ باتیں کرتے کرتے ۔۔۔ اس نے اسما سےپوچھا تھا۔۔۔
ہاں وہ۔۔۔ میرے کمرے میں ہے۔۔۔ اسما نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔۔
اچھا اچھا میں لے آتا ہوں مجھے دیکھنی ہے اور ویڈیو۔۔۔ وہ بھی تو آ گٸی ہوگی۔۔۔ کان کے پیچھے خارش کرتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
جی جی بلکل۔۔ اور آپکے تقریباََ گانے ریکارڈ کرواۓ ہیں شازر نے ویڈ یو پر ۔۔اسما ہنستے ہوۓ کہہ رہی تھی۔۔۔
اچھا پھر تو آج ہی دیکھنی پڑے گی۔۔۔ چاۓ کا کپ پاس پڑے ٹیبل پہ رکھتے ہوۓ اس نے کہا۔۔۔
تم بھی کچھ دکھاٶ پہلے۔۔۔ اسما نے شرارت آنکھوں میں بھر کر کہا۔۔۔
کیا۔۔۔ وہ ۔۔ اسما کے انداز پہ ہنسا تھا۔۔۔ شازر تو سنجیدہ سا تھا۔۔۔ لیکن اسما کافی چلبلی سی تھی۔۔۔
جناب۔۔۔ منسا کی فوٹو دیکھنی ہے ۔۔ مجھے۔۔۔ وہ بھی ہنس رہی تھی۔۔۔
زرداد کے چہرے سے ایک دم ہنسی غاٸب ہوٸی تھی۔۔۔
منسا ۔۔۔ منسا۔ کو تو وہ بھول ہی گیا تھا۔۔۔ ایک دم دماغ نے دل کو حقیقت کا آٸینہ دکھایا تھا۔۔۔
زرداد ہارون ۔۔۔ کیا ہو گیا ہے تمھیں۔۔۔۔تم تو منسا سے محبت کا دعوی کرتے تھے۔۔۔ وہ تو مل بھی گٸ ہے تمہیں۔۔ تمھارے دل کو تو قرار آنا چاہیے اب ۔۔۔
بھابھی میں آپکو ۔۔۔ بھیجتا ہوں اس کی فوٹو۔۔۔ موباٸل پہ۔۔۔ اسے اپنی ہی آواز بہت دور سے آتی ہوٸی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
اوکے اب میں جاتی ہوں ۔۔۔ میں نکال کر رکھتی ہوں ۔۔البم اور ویڈیو۔۔۔ وہ خوش دلی سے کہتی ہوٸی نیچے چلی گٸ تھی۔۔۔
اور وہ دم سادھے بیٹھا تھا۔۔۔
اچھا تو۔۔۔ یہ تھی وہ بے چینی۔۔۔ بے سکونی۔۔۔ جو مجھے اندر ہی اندر ڈس رہی تھی۔۔۔ اور مجھے خبر بھی نہیں تھی۔۔۔ منسا۔۔۔کے لیے دل تو کبھی یوں دھڑکا نہیں تھا۔۔۔ بس محسوسات ہی تھیں۔۔۔ اب وہ بھی ختم ہو گٸ تھیں ان کی اس دن والی لڑاٸی کو ۔۔۔ پورا ہفتہ ہونے کو آیا تھا۔۔۔ اور اس نے اسے کال نہیں کی تھی۔۔۔ وہ بھی ضد کی ایسی تھی ایک دفعہ بھی اس نے اسے کال نہیں کی تھی۔۔۔ دل نے اکسایا ہی نہیں۔۔۔وہ آج یہ سب سوچ کے حیران ہوا تھا۔۔۔
آہستہ آہستہ ۔۔۔ اس اپنے اندر کی بے چینی کا سبب مل ہی گیا تھا۔۔۔
وہ زرداد ہارون۔۔۔ جو خود کو شہزادہ تصور کرتا تھا۔۔۔ آج بری طرح ۔۔۔ ایک عام سی رنگ روپ کی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا بیٹھا تھا۔۔۔ اس کا دماغ ۔۔۔ اس کے دل سے جنگ ہار گیا تھا۔۔۔
وہ گھٹنے ٹیک چکا تھا۔۔۔ اس کا دل پر اب کوٸی بس نہیں تھا۔۔۔ منسا سے محبت اس نے کی تھی۔۔۔ وہ اس کی خود ساختہ محبت تھی۔۔۔ لیکن دانین سے محبت ہو گٸ تھی۔۔۔ اور جو محبت بس ہو جاتی ہے۔۔۔ وہ انسان کے دل میں خدا کی ڈالی ہوٸی محبت ہوتی ہے۔۔۔
ہاں ۔۔۔اللہ نے آج اسے اسی لڑکی کی محبت میں مبتلہ کر دیا تھا۔۔۔ جس کی معصوم اور مخلص محبت کو اس نے پانچ سال پہلے بری طرح پیروں میں روند ڈالا تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
صبح۔۔۔ مشہود کے فون پر اس کی آنکھ کھلی تھی ساری رات جاگنے کی وجہ سے سر بھاری ہو رہا تھا۔۔
سر آپ نے جانا تھا آج۔۔۔ ساز فلم کے گانے کی کمپوزنگ ہے ۔۔ مشہود کی آواز اسکے سر پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی۔۔۔۔
یار۔۔۔ ہم۔م۔م۔
وہ ہاتھ کا سہارا لے کر اٹھا تھا۔۔۔ ایک نظر گھڑی پہ ڈالی۔۔۔
تم ایسا کرو ۔۔ ان کو نیکسٹ ویک کا ٹاٸم دے دو۔۔۔ اب وہ زور زور سے گردن کو داٸیں باٸیں گھما رہا تھا۔۔۔ ہلکی ہلکی چٹخنے کی آواز پیدا ہوٸی تھی۔۔۔ ساری رات دانین کے بارے میں سوچتے سوچتے وہ ویسے ہی سو گیا تھا۔۔۔ اب گردن میں بھی شدید درد تھا۔۔۔
اوکے سر۔۔۔ اور ۔۔۔ وہ اظہر حسان کےساتھ تھی آپکی میٹنگ شام کو۔۔۔ مشہود نے اگلی بات کی۔۔۔۔
ان سے میں خود پرسنلی بات کر لوں گا۔۔۔ اور ہاں سنو ۔۔۔ مجھے اب پورا ویک کوٸی کال فارورڈ نہیں ہونی چاہیے۔۔۔۔۔ اور کوٸی ڈسٹربنس نہیں چاہیے۔۔۔ سارے کنٹریکٹ سب کچھ ۔۔۔ ایک ویک پینڈنگ کر دو۔۔۔ وہ مشہود کو تھوڑا سخت لہجے میں سمجھا رہا تھا۔۔۔
سر میم منسا اگر۔۔۔ کال ۔۔ کریں۔۔۔ مشہود نے ڈرتے ڈرتے اگلا سوال کیا۔۔۔ کیونکہ پہلے بھی جب وہ اپنا پرسنل نمبر نہیں اٹھاتا تھا تو۔۔ منسا مشہود کے ذریعے ہی اس کی رپوٹ لیتی تھی۔۔۔
نہیں ۔۔اسکی کال بھی نہیں۔۔۔ بلکہ ایک کام کرنا۔۔۔ زرداد نےنچلا ہونٹوں دانتوں میں لے کر سوچا۔۔۔
منسا کی کال آۓ تو اٹھانا مت۔۔۔ اوکے ۔۔ اللہ حافظ۔۔۔
ایسے عجیب سا ہلکا ہلکا محسوس کر رہا تھا وہ خود کو کیونکہ دل نے رات فیصلہ کر لیا تھا۔۔۔
کہ وہ دانین سکندر ۔۔۔ کو نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔ چاہیے کچھ بی ہو جاۓ۔۔۔ اس کے ہونٹوں پہ برسوں بعد زندگی سے بھرپور مسکراہٹ آٸی تھی۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
وہ فریش ہونے کے بعد نیچے اتر رہا تھا جب دس بج رہے تھے۔۔۔دل میں خیال آیا کہ وہ تو ہاسپٹل جا چکی ہو گی۔۔۔ اسی خیال میں وہ برآمدے سے
ہوتا ہوا لاونچ میں آیا تھا۔۔۔اور ڈاٸنگ ٹیبل پر۔۔ وہ ہاتھ میں اخبار پکڑے۔۔۔ اور سامنے چاۓ کا کپ رکھے بیٹھی ہوٸی تھی۔۔۔
ایک دم سے خشگوار۔۔۔ حیرت اور خوشی نے زرداد کو اپنے حصار میں لیا تھا۔۔۔
دانین نے منہ کو اوپر کیے بنا صرف پلکوں کی جھالر اٹھا کر ایک نظر اس پہ ڈالی تھی جو ساکت کھڑا تھا اس کے سامنے۔۔۔
اس کو کیا ہو گیا ہے۔۔۔ دانین نے اس کی نظروں کی الجھن سے پورا اخبار کھول کر منہ کےآگے کر لیا تھا۔۔۔
زرداد کے لب مسکرا دیے تھے۔۔۔
آج ۔۔گٸ ۔۔ نہیں۔۔ ہاسپٹل ۔۔۔ اب دانین کے سر پر کھڑا تھا وہ۔۔۔
دانین نے کوٸی جواب نہیں دیا۔۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔ ناٸٹ شفٹ ہو گی۔۔۔وہ ساتھ رکھی کرسی پہ بیٹھ چکا تھا۔۔۔اور خود ہی اپنے کیےہوۓ سوال کا جواب دے رہا تھا۔
پھر بھی دوسری طرف وہی خاموشی تھی۔۔۔وہ بے نیازی سے اخبار پڑھ رہی تھی۔۔۔ منہ پورا اخبار کے پیچھے چھپا دیا تھا۔۔۔
زرداد اب دھیرے دھیرے سے کھانے کے میز کو بجا رہا تھا۔۔۔
وہ ایک دم سرخ چہرہ لے کر وہاں سے اٹھی تھی۔۔۔
اور تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے چلی گٸی تھی ۔۔۔ جبکہ اس کی پشت پر کمر تک لہراتے اس کے بال زرداد کے دل پر بجلیاں گرا رہے تھے۔۔۔
وہ اب ہلکے ہلکے سے ۔۔۔ مکے دل پہ لگا رہا تھا جیسے کہ دل کودھڑکنے سے باز رکھ رہا ہو۔۔۔
زرداد ہارون ۔۔۔وہ تو دیکھنا تک گوارا نہیں کرتی۔۔۔ اس کا دل چاہا وقت واپس گھوم جاۓ اور کاش اس نےجو غلطی کی تھی وہ اس کو سدھار لے۔۔
سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔ اس نے پہلے غلطی کی تھی۔۔۔ یا دل اب غلطی کر بیٹھا تھا۔۔۔
❤💌💌💌💌❤
بار بار وہ اس کی منال کی رخصتی پر لی گٸ وہ ویڈیو دیکھ رہا تھا۔۔۔ جب وہ کھڑی رو رہی تھی۔۔۔ سرخ جوڑا کیا جچ رہا تھا اسے۔۔۔ پتہ نہیں ۔۔۔ دل بھر نہیں رہا تھا ۔۔۔ آنکھیں۔۔۔ اور دل بضد تھے۔۔۔ اور دماغ کو کسی صندوق میں بند کر ڈالا تھا ۔۔۔ دونوں نے مل کر۔۔
پھر وہ کتنی دیر اس کی فوٹو کو دیکھتارہا تھا۔۔۔پھر اپنے موباٸل میں ویڈیو اور البم سے اس کی تصاویر بنا ڈالی تھی اس نے۔۔۔
رات کو ٹی وی دیکھنے کے بہانے سے وہ لاونچ میں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ لیکن دل صرف اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ ٹی وی تو بہانا تھا۔۔ دیکھ تو وہ موباٸل پر تصاویر رہا تھا۔۔۔
کبھی زوم کر کے تو کبھی اپنی آنکھوں کے قریب کر کے۔۔۔
اسے خبر ہی نا ہوٸی کس وقت اس کی وہیں صوفے پر آنکھ لگ گٸ تھی۔۔۔
جس کا وہ انتظار کر رہا تھا۔۔۔ وہ پتہ نہیں کس لمحے آٸی ۔۔۔ اور بے نیازی سے اس کےپاس سے گزر کر اپنے کمرے میں چلی گٸی تھی۔۔۔
💞💞💞💞💞
دو دن سے وہ مسلسل یہ بات نوٹ کر رہی تھی۔۔۔ اسے محسوس ہوتا تھا زرداد اسے دیکھ رہا ہے۔۔ جب وہ تنگ آ کر اسے گھورنے کے غرض سے دیکھتی تو وہ۔۔۔ موبا ٸل پر کچھ دیکھ رہا ہوتا تھا۔۔۔
آج بھی وہ سب ہارون کے کمرے میں بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔ جب بار بار دانین کو یہ محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
آخر کو وہ الجھ کر وہاں سے اٹھ آٸی تھی۔۔۔
ابھی وہ اپنےکمرے میں آ کر بیٹھی ہی تھی۔۔۔ جب جناب وہاں آ دھمکے تھے۔۔۔
دانین نے خونخوار نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا اب اندر آ چکا تھا۔۔۔
میرے کمرے سے باہر نکلو۔۔۔ دانین کو اس کی نظروں۔۔۔ اس کے انداز سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
تم سے کچھ کہنا ہے۔۔۔ بہت ۔۔۔ رک رک کر یہ الفاظ ادا کیۓ تھے۔۔۔زرداد نے۔۔۔
تمہیں معاف کر تو دیا اب کیا تکلیف ہے پھر۔۔۔ وہ دانت پیستے ہوۓ کہہ رہی تھی۔۔۔
وہ ۔۔ لفظوں کو ترتیب دے رہا تھا۔۔۔ کہ کیسے کہے۔۔۔کیا کہے۔۔۔کیا مصیبت تھی۔۔۔ اسے خود پر ہی غصہ آ گیا تھا۔۔۔
ہاں۔۔۔ کہ۔۔ کچھ نہیں۔۔۔ زرداد نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے۔۔۔ جب کہ انکھیں۔۔ ابھی بھی اس پر ہی مرکوز تھیں۔۔۔
تو کچھ نہیں تو پھر۔۔۔یہاں کیوں کھڑے ہو۔۔۔ زبان کی سختی اس کے اندر کی نفرت کو بیان کر رہی تھی۔۔۔
کچھ دیر اپنے ہونٹ کو دانتوں کے نیچے دبا کر پر سوچ انداز میں وہ کھڑا رہا۔۔۔ پھر باہر نکل گیا۔۔۔
جب اس سے جھوٹ بولا تھا کہ اس سے محبت ہے تب زبان کس طرح آرام سے فقرے بنا لیتی تھی۔۔۔ اب جب اس سے سچ میں محبت ہو گٸ ہے تو۔۔۔ زبان لفظوں کو ترتیب ہی دیتی رہ گٸ بولا کچھ بھی نہیں گیا۔۔۔
❤❤❤❤❤
تو دانین نے آنا ہے کچھ دیر میں ۔۔ میں گھر رہ جاتی ہوں ۔۔۔ سدرہ نے اپنے کپڑے واپس اٹھاتے ہوۓ کہا۔۔۔
منال کے سسرال میں آج دعوت تھی سب کی۔۔ دانین کو ہاسپٹل میں کام پڑ گیا تھا وہ وہاں رک گٸ تھی۔۔۔ اب سدرہ کو دانین کی وجہ سے رکنا پڑ رہا تھا۔۔۔
چچی۔۔۔ آپ جاٸیں ۔۔ میں ہوں گھر۔۔۔ ویسے بھی کل مجھے کراچی جانا ہے تو۔۔۔ میں اپنی تیاری کر لیتا ہوں۔۔۔ زرداد نے اپنے دل کی چوری کو چھپاتے ہوۓ کہا۔۔۔
اس سے بات کرنے کی ہمت جما کرتے کرتے آج ہفتے کا آخری دن آ گیا تھا۔۔۔ وہ اپنا بہت سا کام چھوڑ کر یہاں دل کے ھاتھوں مجبور ہو کر بیٹھا تھا۔۔۔
آج ۔۔۔ آخری کوشش کرنی تھی۔۔۔ اسے۔۔۔ دل کو ایک آس تھی۔۔ کہ دانین اس بہت محبت کرتی تھی اس کی بات کو سمجھے گی۔۔۔
وہ سب لوگ جا چکے تھے۔۔۔ اور وہ ٹی وی کے سامنے بیٹھا۔۔ بس یہ سوچے جا رہا تھا اس سے بات کیسے کرے گا۔۔۔
گھر کی گھنٹی کی آواز نے اس کے خیالات میں خلل پیدا کیا تیزی سے دھڑکتے دل کے ساتھ وہ داخلی دروازے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
دروازہ کھولا تو وہ بلکل سامنے کھڑی تھی۔۔۔ اس کو دیکھتے ہی دانین کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرے تھے۔۔۔
یہ جا۔۔۔ کیوں نہیں رہا۔۔۔ وہ تیزی سے اندر داخل ہوٸی تھی۔۔۔
امی۔۔۔۔ امی۔۔۔۔ اماں۔۔۔ وہ سدرہ کو آوازیں دے رہی تھی۔۔۔
سب چلے گۓ ہیں کوٸی نہیں ہے گھر۔۔۔ دانین کو اپنے عقب سے زرداد کی آواز سناٸی دی۔۔۔
وہ خاموشی سے آگے بڑھنے لگی تھی۔۔۔ جب وہ ایک دم سے اس کے آگے آیا تھا۔۔۔
یہ۔۔یہ۔۔ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔ وہ اب بہت پر اعتماد ۔۔ لڑکی تھی۔۔کوٸی پرانی دانین نہیں تھی۔۔۔
مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔ زرداد کے لہجے میں۔۔۔ التجا تھی۔۔۔ محبت تھی۔۔۔ راتوں کو جاگ جاگ کر اسے سوچنے کی خماری تھی۔۔۔
دانین کو اس کا انداز عجیب سا لگا۔۔۔ اس نے ایک نظر اس پر ڈالی تھی۔۔۔
وہ تھکا ہوا سا۔۔ بکھرا سا۔۔۔ شیو بڑھی ہوٸی۔۔۔ بکھرے سےبال ۔۔آنکھوں میں کتنے دن پوری نیند نہ لینے کا اثر تھا۔۔
اسے کیا ہو گیا۔۔۔ہے ۔۔ اس کے دل کے اندر اٹھنے والے محبت کے طوفان سے بلکل انجان دانین نے سوچا۔۔۔
مجھے سکون چاہیے۔۔۔ درد بھری آواز میں زرداد کے منہ سے یہ الفاظ نکلے تھے۔۔۔
تو اس سلسلے میں ۔۔ میں کیا کر سکتی ہوں۔۔۔ راستہ چھوڑو میرا۔۔۔ وہ اس کی اس حالت کو سمجھنے سے بلکل قاصر تھی۔۔۔
میرا سکون ۔۔ صرف ۔۔ تمھارے پاس ہے۔۔۔ مجھے پتہ چل گیا ہے۔۔۔ ایک تڑپ تھی زرداد کی آواز میں۔۔۔
دانین کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔۔
میں نے تمہیں کر تو دیا ہے معاف۔۔۔ اب اور کیا کروں ۔۔۔ میں نے تمھیں اس دن بھی کہا تھا۔۔۔ اس کے بعد تم مجھے بار بار تنگ نہیں کرو گے۔۔۔ دانین نے اپنی طرف سے تو نظریں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے لیے اٹھاٸی تھیں۔۔۔
ایک لمحے کے لیے وہ ساکت ھو گٸ تھی۔۔۔ زرداد کی آنکھوں میں نمی تھی۔۔۔
میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے زرداد۔۔۔ اس کی آواز میں اس دفعہ سختی کا عنصر تھوڑا کم تھا۔۔۔
میں تم سے معافی نہیں ۔۔۔ سکون ۔۔۔ مانگ رہا ہوں۔۔۔ وہی ٹوٹا ہوا لہجا۔۔۔
دانین نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ کیوں اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گیا تھا۔۔۔ سب کچھ تو پرفیکٹ تھا اس کی زندگی میں ۔۔ جو ۔۔۔ جو۔۔ وہ چاہتا تھا۔۔۔۔
اس کی تو کوٸی۔۔۔ آہ۔۔ کوٸی ۔۔ بد دعا تک نہ لگی تھی اسے۔۔۔
پھر اب وہ اس سے کون سے سکون کا طلبگار تھا۔۔۔
دانین ۔۔ مجھے۔۔۔ مجھے۔۔۔ تم سے ۔۔۔ محبت ۔ ہو گٸ ۔ہے۔۔ وہ سر جھکاۓ اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
بہت زور کا دھکا تھا ۔۔۔ جو اسے پڑا تھا۔۔۔ وہ جو اس کے جواب کا منتظر کھڑا تھا ایک دم سے لڑ کھڑا کر سامنے پڑے شیشے کے میز پر گرا تھا۔۔۔
ایک دھماکے سے میزے کے اندر پیوست شیشہ ٹوٹا تھا اور زرداد کا بازو چیرتا ہوا ایک ٹکڑا اپنا کام دکھا گیا تھا۔۔۔
دانین تیزی سے اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔۔۔
وہ اپنے بازو سے نکلتے خون کی پرواہ کیے بنا اس کی طرف بھاگا تھا۔۔۔
دانین پلیز ۔۔۔ پلیز میرا یقین کرو۔۔۔ میں سچ بول رہا ھوں۔۔۔
دانین کے کمرے کے سامنے کھڑا وہ دروازہ پیٹ رہا تھا۔۔ خون کے قطرے۔۔۔ اسکے جوتوں اور فرش پر گر رہے تھے۔۔۔
دانین کوٸی جواب نہیں دے رہی تھی۔۔۔
پلیز دانین۔۔۔ درد سے بھری آواز تھی۔۔۔
گھنٹی کا شور گھر کے سناٹے کو چیر گیا تھا۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا دروازے تک پہنچا تھا۔۔۔جہاں جہاں سے وہ گزر رہا تھا۔۔۔خون کے قطرے فرش پہ نشان چھوڑ رہے تھے۔۔۔
دروازہ کھولا تو سب لوگ سامنے کھڑے تھے۔۔۔
❤❤❤❤❤
پاگل ہو تم۔۔۔ دانین کہاں ہے ۔۔۔ اسے بلاٶ۔۔۔ سکندر اسکا بازو پکڑ کر کھڑا تھا۔۔ اچھا گہرا کٹ تھا۔۔۔
چاچو۔۔۔ وہ پتہ نہیں سو رہی شاٸید۔۔۔ اسکا دروازہ بجایا تھا میں نے۔۔۔
سدرہ جاٶاٹھاٶ ۔۔۔ دانی کو کہو آ کر دیکھے پٹی کرے یا پھر ہاسپٹل لے کر چلیں اگر زیادہ ہے کٹ تو۔۔
زرداد نے سب کو کہا تھا کہ وہ گر گیا تھا چلتے چلتے شیشے کے میز پہ۔۔ نیچے پڑے رگ میں پھنس کے۔۔۔۔
دانین اس کے بلکل سا منے فرسٹ ایڈ باکس لے کر کھڑی تھی۔۔۔
دانین پٹی کرو اس کی ۔۔ زرداد بیٹھو ادھر۔۔۔ انھوں نے زرداد کو بیڈ پہ بیٹھایا تھا۔۔
دانین پاس بیٹھ کر اسکے ہاتھ کو روٸی سے صاف کر رہی تھی۔۔۔ وہ محبت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
خود ہی پہلے زخم دیتی ہو۔۔۔ پھر خود ہی مرہم رکھتی ہو۔۔ بھاری آواز میں سرگوشی کی۔۔۔
دانین کا چہرہ کرب سے پہلے زرد ہوا پھر اذیت اور غصے سےلال۔۔۔
اس نے روٸی کو زور سے۔۔ اس کے زخم پر رکھا۔۔۔
آہ۔۔ ایک دم زرداد تھوڑا سا اوپر ہوا۔۔۔ پھر اپنی مسکراہٹ دباٸی۔۔۔
وہ اب نظریں جھکاۓ۔۔۔ پٹی اسکے بازو کر گرد گھما رہی تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: