Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Last Episode 19

0
دل غلطی کر بیٹھا ہے از ہما وقاص – آخری قسط نمبر 19

–**–**–

ابا بس کریں۔۔۔ اب۔۔ شازر نے ہارون کے پیچھے ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔۔ جو زرداد کے گلے لگے ہوۓ تھے۔۔۔ اور روۓ جا رہے تھے۔۔۔ زرداد کے بھی آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔
ہارون کبھی اس کا ماتھا چوم رہے تھے تو کبھی اس کے ہاتھ پکڑ کر چوم رہے تھے۔۔۔
ادھر آو تم بھی۔۔۔ انھوں نے دانین کو بلایا اور اس کا ماتھا چوما
سب لوگوں کی آنکھیں نم تھیں۔۔۔
اٸیرپورٹ پر صرف۔۔۔ گھر والے ہی نہیں آۓ تھے۔۔ بلکہ پورا پاکستان ہی جیسے امڈ آیا تھا۔۔۔ ۔
زرداد پر پھول برساۓ جا رہے تھے۔۔۔ لوگ قطار در قطار کھڑے تھے۔۔
وہ اپنے گھر والوں کے ہمراہ ہارون کا ہاتھ پکڑے لوگ کی بھیڑ اور محبت میں سے گزر رہا تھا۔۔۔
ہارون کا سینہ۔۔۔ فخر سے تنا ہوا تھا۔۔۔ انھیں۔۔ اپنے بیٹے پر ناز تھا۔۔۔
وہ کبھی مسکرا کر لوگوں کی بھیڑ کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ تو کبھی۔۔ اپنے بیٹے کے چہرے کی طرف۔۔۔
زرداد نے محبت بھری نظر ۔۔۔ اپنے باپ پر ڈالی اور ایک دفعہ پھر دونوں ایک دوسرے کے گلے لگے ہوۓ تھے۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤
زری۔۔۔ سوپ پینا ہے۔۔ بنا دوں ۔۔۔ بیٹے۔۔۔ ثمرہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ محبت سے کہا۔۔۔ وہ جو شرارت اور محبت سے دانین کو دیکھنے میں مصروف تھا۔۔ ثمرہ کی بات پر ایک دم چونکا۔۔۔
سب لوگ دیر تک بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔۔۔ گھر میں عید کا سا سما تھا۔۔۔۔ منال اشعال۔۔۔ اسما۔۔۔ شازر۔۔۔ احمد ۔۔ سب تھے وہاں۔
زرداد ثمرہ کی گود میں سر رکھے لیٹا ہوا تھا۔۔۔ لیکن نظریں۔۔۔ سامنے منال اور اشعال کے درمیان گھری بیٹھی دانین پر بار بار پڑ رہی تھیں۔۔۔
وہ شرماتی ہوٸی کتنی دلکش لگ رہی تھی۔۔ زرداد کی نظروں کی تپش سے گھبرا کر کبھی چوری چوری اسے دیکھ رہی تھٕی۔۔۔ تو کبھی نظریں جھکا رہی تھی۔۔
سب لوگ کراچی میں زرداد کے گھر پر ہی جما تھے۔۔۔ انھیں اٸیرپورٹ سے لانے کے بعد سب ادھر ہی رک گۓ تھے آج۔۔
باتوں کی آوازیں شورو غل۔۔۔
بنا دیں امی سوپ۔۔۔ زرداد نے چہرہ اوپر اٹھا کر ثمرہ سے کہا۔۔۔اور خود اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔
زرداد نے انگڑاٸی لینے کے سے انداز میں ہاتھ اوپر اٹھا کر دانین کی طرف دیکھا۔۔۔
پھر صوفے پر اپنے ساتھ والی جگہ پر اشارہ کیا جہاں سے ابھی ثمرہ اٹھ کر گٸ تھی۔۔۔ آنکھیں ۔۔۔ ہلکی ہلکی خماری ظاہر کر رہی تھیں۔۔۔ جیسے ابھی نشہ چڑھنا شروع ہی ہوا ہو بس۔۔۔۔
دانین نے اپنی ہنسی دباٸی۔۔۔ اور شرارت سے سر نہیں میں ہلا دیا۔۔۔ جب کے گال تپنے لگے تھے۔۔۔ اور دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔
زرداد سفید رنگ کے قمیض شلوار میں۔۔۔ اس کے دل کو دھڑکا رہا تھا۔۔۔
سامنے بیٹھا یہ خوبصورت شخص ۔۔۔ اس کے عشق میں پاگل تھا۔۔۔ وہ اس کے لیے سب کچھ تھی۔۔۔ دانین نے دل میں سوچتے ہوۓ۔۔۔ محبت سے اسے دیکھا۔۔۔ جو بچوں کی طرح اسے پاس آنے کی ضد کر رہا تھا۔۔۔ دنیا جہان کا پیار اس شخص پر وارنے کو دل کر رہا تھا۔۔۔
زرداد نے مصنوعی خفگی سے دیکھا۔۔۔ پھر ارد گرد سب کی طرف دیکھا۔۔۔ سب قہقے لگا رہے تھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔ اشعال اور منال تو اپنے بچوں میں مصروف تھیں۔۔۔
زرداد نے خفا سی شکل بنا کر دانین کی طرف دیکھا۔۔
زرداد کا خفا ہونا دل کیسے برداشت کر سکتا تھا۔۔۔ دانین کا دل ڈوب سا گیا۔۔۔ فوراََ خجل سی ہوتی وہاں سے اٹھی اور زرداد والے صوفے پر آ گٸ تھی۔۔۔
کیا ہے۔۔۔ سونا کب ہے ان سب نے۔۔۔ زرداد نے بےزار سے شکل بنا کر دانین کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔ جب وہ پاس آ کر بیٹھی۔۔۔
وہ جھینپ گٸی۔۔ گال ۔۔ گلابی ہو گۓ اور آنکھیں بھاری سی ہو کر بند ہونے لگیں۔۔۔ زرداد بے چینی سے اسے کہہ رہا تھا۔۔۔۔
چلو یہ لوگ باتیں کر رہے ۔۔ ہم چلتے ہیں کمرے میں۔۔۔ زرداد نے تھوڑی دیر بعد پھر بچوں کی طرح اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
دانین نے مصنوعی خفگی سے مسکراہٹ دباتے ہوۓ زرداد کو گھورا۔۔۔
یار ان لوگوں کا کوٸی پروگرام نہیں لگ رہا مجھے سونے کا۔۔۔ وہ سب کی طرف دیکھ کر کان کھجا رہا تھا۔۔۔
میں سوپ پی کر جا رہا۔۔۔جلدی آ جانا۔۔۔ زرداد ۔۔ کی گرم سانسوں کے ساتھ سرگوشی نے۔۔ دانین کی جان کو ڈبکیاں لگانے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔
دانین نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر شرارت سے زرداد کی طرف دیکھا اور نہیں میں دھیرے سے سر کو جنبش دی۔۔
افف۔۔ ایسے مت دیکھو۔ اٹھا کر لے جاٶں گا۔۔۔ زرداد نے پیار سے کھا جانے والے انداز سے کہا۔۔
زری ایسے اچھا نہیں لگے گا۔۔۔ سب ہمارے لیے بیٹھے یہاں۔۔۔ دانین نے گھور کر آہستہ سی آوازیں میں کہا۔۔۔ جبکہ اس کے گال بلش ہو رہے تھے۔۔۔
زرداد نے خفا سی شکل بنا کر دانین کی طرف دیکھا اور بچوں کی طرح منہ پھولا لیا۔۔۔
زری اب ناراض کیوں ہو رہے۔۔۔ وہ اس کی خفا سی شکل دیکھ کر پریشان سی ہو گٸ۔۔۔ دانت پیس کر پھر سے سرگوشی کی۔۔
کمرے میں آٶ۔۔۔ رعب سے سرگوشی۔۔۔ کی۔۔ منہ پھولا ہوا تھا۔۔۔ ڈھیٹ تو۔۔۔ شروع سے ہے۔۔ دانین نے ہنستے ہوۓ دل میں سوچا۔۔۔
نہیں۔۔ شرارت سے دیکھتے ہوۓ دانین نے کہا۔۔
سوچ لو۔۔۔ آنا کمرے میں ہی ہے۔۔۔ خبردار کرنے والے انداز میں کہا۔۔ جبکہ آنکھیں۔۔۔ شرارت سے چمک رہی تھیں۔۔۔
پر ابھی نہیں۔۔۔ دانین نے شرارت سے ناک سکیڑ کر کہا۔۔۔
بہت تنگ کر رہی ہو۔۔ گن گن کے بدلے لوں گا۔۔۔ پھر سے خمار آلود۔۔۔ آواز میں سرگوشی کی۔۔۔
پھر بھی نہیں۔۔۔ وہ ہنس رہی تھی۔۔۔ اسے تنگ کرنے میں مزہ آ رہا تھا۔۔۔وہ بھی تو بے تاب ہوا پڑا تھا۔۔۔
اچھا۔۔۔ پھر تمہیں پتہ ہے میرا۔۔۔ زرداد نے بدلہ لینے کے سے انداز میں منہ پر ہاتھ پھیرا۔۔۔
امی۔۔۔۔ امی۔۔۔ میں کمرے میں جا رہا ۔۔بہت تھک گیا ہوں۔۔۔ دانین کے ہاتھ بھجوا دیں سوپ۔۔۔ وہ صوفے سے اٹھا اور اسے آنکھ مارتا ہوا کمرے میں آگیا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤
سوپ کو رکھو اور ادھر آٶ۔۔۔ زرداد ڈریسنگ میز کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔۔
دانین نے دھیرے سے سوپ بیڈ ساٸڈ ٹیبل پر رکھا اور دھڑکتے دل اور بھاری ہوتی پلکوں کولرزاتے ہوٸے پاس آٸی۔۔۔
زرداد نے پیار سے ہاتھ پکڑ کر آٸینے کا سامنے دانین کو کھڑا کیا اور خود بلکل پیچھے کھڑا تھا۔۔۔ آنکھیں محبت سے بھری ہوٸی تھیں۔۔۔ لہجہ۔۔ چاہت کی چاشنی میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔
زرداد کی خوشی آج اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔۔۔
آہستہ سے اس کی کمر کے گرد اپنے بازو ڈال کے اس کے کندھے پر اپنا سر ٹکا دیا۔۔۔ دانین مسکرا دی تھی۔۔ لیکن گال شرم سے گلابی ہو گۓ تھے۔۔۔ پلکیں ۔۔ گالوں پر لرز رہی تھیں۔۔۔
زرداد کی خوشبو نہ صرف پورے کمرے میں پھیلی تھی۔۔ بلکہ اس کے وجود تک اتر رہی تھی۔۔۔
سامنے دیکھو۔۔۔ زرداد نے کان کے قریب سر گوشی کی۔۔۔ اس کی سانسوں کی آواز تک دانین کے کانوں میں پڑ رہی تھی۔۔۔
دانین نے دھیرے سے پلکوں کی جھالر اٹھا کر سامنے دونوں کے سراپے کو دیکھا۔۔۔۔۔ دل ایک لمحے کو دھڑکنا بھول گیا تھا۔۔۔
وہ ۔۔۔ وہ دانین نہیں۔۔ تھی۔۔۔ وہ تو زرداد کی دانین تھی۔۔۔
میری نظر سے دیکھو۔۔۔ تم کتنی۔۔ خوبصورت ہو۔۔۔ کان میں پھر سرگوشی ہوٸی۔۔۔
دانین نے اپنے پیچھے کھڑے زرداد کو اور خود کی دیکھا۔۔۔ وہ دونوں محبت کی ممکمل تصویر تھے۔۔۔
یہ جوڑی توخدا نے بناٸی تھی۔۔۔ وہ زرداد کے ساتھ پرفیکٹ لگ رہی تھی۔۔۔
اپنی یہ آنکھیں دیکھو۔۔۔ زرداد نے دھیرے سے اپنا گال اس کے گال کے ساتھ لگا دیا تھا۔۔ جان کہیں دل کے اندر دھڑکنے لگی۔۔
اور یہ بال زرداد نے اس کے بالوں کو سونگھا تھا۔۔۔ دانین کا دل گدگدانے لگا تھا
اور یہ۔۔۔ کمر۔۔۔ دھیرے سے اس کی کمر پر بازوں کی گرفت مظبوط ہو گٸ تھی۔۔۔ وہ بری طرح شرما گٸ تھی۔۔۔ ایسے جیسے ابھی اس کی باہوں میں ہی ڈھیر ہو جاۓ گی۔۔۔
آج تو۔۔۔ بیڈ کی اس ساٸیڈ پر آ سکتا ہوں نا۔۔۔ کان میں سرگوشی ہوٸی۔۔۔ بھیگا ہوا ۔۔۔ لہجہ۔۔
دانین نے شرارت سے سامنے دیکھا۔۔۔ زرداد کی آنکھیں۔۔ اس کے قربت کے خمار میں ڈوبی پڑی تھیں۔۔
نامنظور۔۔۔ دانین نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر مصنوعی رعب دار آواز میں کہا۔۔۔
زرداد کے جاندار قہقے سے پورا کمرہ گونج اٹھا تھا۔۔۔
❤💌💌💌💌❤❤❤❤❤
دانین کون زیادہ تنگ کرتا۔۔۔ بیٹا یا بیٹی۔۔۔ نازش نے مسکراتے چہرے سے سوال کیا۔
ہاۓ۔۔۔ نازش مت پوچھیں۔۔۔ بیٹا۔۔۔ بہت تنگ کرتا ہے۔۔۔ بہت شرارتی ہے۔۔۔ وہ اپنے دوپٹے کو درست کرتے ہوۓ بولی۔۔۔
ساتھ بیٹھے زرداد نے جاندار قہقہ لگایا۔۔
حبا کو بہت مارتا ہے۔۔۔ دانین نے محبت سے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا جو زرداد کی گود میں بیٹھی تھی۔۔ معصوم سی بڑی آنکھوں والی۔۔
نازش نے قہقہ لگایا اور پانچ سال کے علیدان کو دیکھا۔۔۔ جو ہوا میں ٹانگیں چلا رہا تھا۔۔
پھر تو زرداد پر گیا ہو گا۔۔۔ نازش نے مسکرا کر کہا۔۔۔
وہ عید کے شو میں۔۔۔ بیٹھے تھے۔۔
اور زرداد ۔۔۔ آپکو زیادہ تنگ کون کرتا۔۔۔ نازش نے اگلا سوال زرداد کی طرف دیکھتے ہوۓ کیا۔۔۔
زرداد نے اپنے مخصوص انداز میں ۔۔۔ کوٹ کو جھٹکا دیا۔۔۔ آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں۔۔۔
مجھے تو۔۔۔ سب ۔۔۔ سے ۔۔زیادہ۔۔۔ دانین تنگ کرتی ہے۔۔۔ وہ اب قہقہ لگا رہا تھا۔۔۔ دانین نے اس کے کندھے پر مسکراتے ہوۓ مکا لگایا۔۔
دیکھا ۔۔ دیکھا۔۔ ایسے مارتی رہتی مجھے۔۔۔ زرداد شرارت سے ہنستے ہوۓ۔۔۔ نازش سے کہہ رہا تھا۔۔۔
اچھا۔۔۔ تو اب تھوڑا ۔۔۔ پرسنل سوال ہو جاۓ۔۔۔ نازش شرارت سے مسکراٸی۔۔۔
علیدان زرداد۔۔۔۔ حِبا زرداد۔۔۔ بہت خوبصورت ماشاللہ۔۔
جو آنے والا۔۔۔ ہے اسکا بھی کوٸی نام سوچا ہو گا۔۔۔
زرداد نے قہقہ لگایا۔۔۔ ایک نہیں دو سوچنے پڑنے۔۔۔
پورا شو تالیوں میں گونج رہا تھا۔۔۔ اور زرداد محبت بھری نظروں سے دانین کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔
❤❤❤💌💌💌
ختم۔۔۔ تو ۔۔۔ ہو گیا۔۔۔۔ پر اپنے دلوں میں زندہ رکھیں۔۔۔ زرداد۔۔😉😉😉😉

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: