Dil Lagi Novel By Yusra Shah – Episode 1

0
دل لگی از یسرا شاہ – قسط نمبر 1

–**–**–

” بھائی۔۔ آ۔۔آپ مجھے قتل کردیں۔۔۔ اتنا بڑا گناہ ہوگیا زنا کیا ہے میں نے۔۔۔۔ “ کمرے میں مدھم سسکیاں گونج رہیں تھیں عروج سر پر دوپٹا پہنے ہاتھ جوڑے اپنے بھائی سے معافی مانگ رہی تھی جو اس وقت ساکت بیٹھا پھٹی پھٹی نظروں سے سامنے دیوار کو دیکھتے نجانے کن سوچوں میں گم تھا۔۔۔۔۔
” ب۔۔۔۔بھائی “ مسلسل ایک ہی رٹ لگاے وہ خود کے لئے سزا بھی سوچ چکی تھی نجانے کتنی بار وہ بھائی سے خود کو مارنے کی التجا کر چکی تھی لیکن اسکا بھائی تھا کے اپنی خون خوار نظریں تک اس وجود پر ڈالنا گوارا نہیں کی۔۔۔
” زبان کاٹ دونگا “ کسی بھوکے شیر کی طرح یکدم ہی وہ دھاڑا، لہو رنگ آنکھیں عروج پر گاڑھتے وہ اسے ایک پل کے لئے مفلوج کر گیا۔۔۔
” اب اگر آواز آئی تو “ دھیمے مگر ساخت لہجے میں دی وارننگ نے عروج کے وجود میں کپکپی طاری کردی تھوڑی دیر پہلے جو ہمت جمع کرکے وہ اپنا گناہ قبول کرنے آئی تھی پل بھر میں ایک دھاڑ نے ساری ہمت ختم کردی۔۔
وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی ایک غلطی نے اسے آج بھائی ماں باپ سب کے سامنے رسوا کر دیا بھائی سے نظر ملانے تک کی ہمت نا تھی۔۔ اور اب ماں باپ ؟؟؟ کس طرح جائے گی انکے سامنے؟؟؟ صرف ایک انسان کی محبت میں اس حد تک اندھی ہوگئی کے سالوں کے محبت لٹاتے رشتوں کو پل بھر میں رسوا کردیا؟؟
” نام کیا ہے اُسکا؟؟ “ کچھ دیر بعد اچانک سے یہ غراہٹ سن کر وہ جی جان سے کانپ اٹھی۔۔۔
” ز۔۔۔۔۔ “ آواز ھلک سے نکلنے سے قاصر تھی۔۔
” ز۔۔۔۔۔۔۔ا “ وہ بولنا چاہتی تھی لیکن اس گناہ کے بعد اپنے ہی بھائی کے سامنے نام لینا تک اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی نے اسے موت کے منہ میں دھکیل دیا ہوا۔۔۔۔
لیکن اگلے ہی لمحے بھائی کی ایک نظر تھی کے اسکی بریک لگی زبان نے روانگی سے نام ادا کردیا۔۔۔۔
” زارون احمد “
اس نام سے اسکا بھائی بُری طرح چونکا یکایک چہرے پر سخت تاثرات لہرائے اور لمحے کے ہزارویں حصے میں اس نے ایک ہی دھاڑ میں عروج سے پوری بات پوچھی۔۔
اپنے بھائی کو سچائی بتاتے اسکی آنکھیں پل بھر کو بھی نا اٹھیں شرمندگی کے مارے وہ پل پل سچائی بتاتی زمین میں دھنستی جا رہی تھی اسکے بھائی اسے کوئی شاطر چالاک عورت سمجھ رہے ہونگے جو اپنی محبت میں اس قدر اندھی ہوگئی کے وہ معصومیت گنواں بیٹھی جس پر اسکے بھائی اپنی جان نچھاور کرتے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قدموں کی آواز سن کر عروج نے اپنا سر اٹھایا تو نظر سامنے خالی بیڈ پر پڑی اسکا بھائی جا چکا تھا ساتھ وہ اپنی عزت بھی آج بھائی کی نظر میں گنواں چکی تھی وہ جانتی ہے اب اسکا بھائی یہ ساری باتیںں اسکے تینوں چھوٹے بھائیوں سے کریگا۔۔۔۔
زارون احمد اسکی پہلی محبت ہے جس سے اسکی ملاقات یونیورسٹی میں ہوئی تھی اور پہل ہمیشہ زارون کی طرف سے ہوئی تھی۔ انکی دوستی کب محبت میں بدلی عروج کا احساس تک نا ہوا بس جس دن زارون یونی میں دیکھائی نا دے اسکا پورا دن بُرا گزرتا، اسکے بغیر بےچینی رگ و جان میں سراعیت کرتی ہے ایسا ہی ایک دن تھا جب وہ بنا بتائے چھٹی کر بیٹھا اور عروج جو آج اپنے اسپیشل ڈے پر اتنا تیار ہوکر آئ تھی سارے موڈ کا بیڑا غرک ہوگیا لیکن نہیں اوف ٹائمنگ سے پہلے ہی زارون اسے یونیورسٹی کی گیٹ پر ملا اور اس دن زارون نے اسکی برتھ ڈے کا حیرت انگیز خوبصورت ترین تحفہ دیا اسے پروپوز کر کے۔۔۔۔
زارون احمد کی دی رنگ اِسکی انگلی کی زینت بنی۔۔۔
اسکے پروپوزل کو عروج نے دل و جاں سے اپنی سر آنکھوں پر رکھا۔۔۔
اسکے بعد سے عروج ایک الگ ہی دنیا میں کھو گئی پڑھائی سے زیادہ اسکی توجہ کا مرکز اب زارون احمد تھا لیکن ایک دن زارون کی ایک حرکت نے اسے ٹھٹھکنے پر مجبور کردیا وہ جان بوچ کر بار بار اسکے قریب آتا اور عروج کو تب سب عجیب لگتا ایک دن اس نے زارون سے صاف کہ دیا کے اب آخری سال بچا ہے کچھ ہی مہینوں میں پپرز کے بعد سب الگ ہوجائیں گئے اسلئے وہ اپنا رشتہ اسکے گھر بھیجے ویسے بھی آج کل اسکے ایک کزن سے عروج کی بات چل رہی تھی اور عروج کی امی نے بھی صاف کہ دیا تھا پپرز کے بعد فوراً سے اب اسکی شادی کرنی ہے۔۔۔۔
دو تین دن وہ اسی طرح زارون کا دماغ کھاتی رہی اور آخر ایک دن وہ اپنے پیرنٹس کے ساتھ آنے پر راضی ہوگیا وہ ایک ہی رٹ لگائے بیٹھا تھا کے جاب کے بغیر بلا کیوں کوئی اپنی بیٹی دیگا؟؟ لیکن عروج نے یہاں اسے تسلی دی تھی کے اسکی ماں سب سمبھال لیگی اور یہی ہوتا اسکی ماں نے نجانے کس طرح اسکے باپ اور بھائیوں کو منایا تھا کے وہ خاندان سے باہر شادی کرنے پر راضی ہوگے تھے۔۔۔
گھر میں ہی ایک چھوٹی سے تقریب میں دونوں کی انگیجمنٹ ہوئی وہاں اسکے بھائی بھابی چچا گھر کے بڑے سب موجود تھے جبکے زارون کی طرف سے ماں باپ اور بھائی بہن ہی تھے۔۔۔
انگیجمنٹ کے بعد سے عروج کے پیر زمین پر نہیں پڑ رہے تھے اسے یقین نہیں آرہا تھا سب اتنی آسانی سے ہوگیا؟؟ کوئی رکاوٹ نہیں حالنکے اکثر جگہ فیملیز نہیں مانتیں لڑکا لڑکی جی توڑ محنت کریں لیکن لاحاصل رہتے۔۔۔۔
لیکن یہ عروج کی خام خیالی تھی کیونکے ایک دن زارون نے جو اس سے خوائش کی وہ آج اسے پاتال میں دھکیل گئی۔
شادی سے پہلے زنا۔۔۔ کیوں آخر ؟؟ وہ کیوں گئی اسکے ساتھ؟؟ کیا رشتہ تھا اسکے ساتھ؟؟ کونسا ایسا اعتبار دیا تھا زارون نے کے اندھی بن کر وہ اعتبار کرتے اپنے رشتوں کو سزا دے آئی؟؟
محبت؟؟ ایسی ہوتی ہے جو پامال کردے؟؟
اعتبار؟؟ نہیں اعتبار کیسا آج تک اسنے اعتبار دلانے کے لئے کیا کیا؟؟؟
خوف؟؟ اسے کھونے کا یا منگنی ٹوٹنے کے بعد ماں کے سامنے شرمندگی؟؟؟ لیکن کیا وہ شرمندگی رسوائی سے بہتر نا تھی؟؟ وہ سوچ سوچ کے پاگل ہو رہی تھی اور وہ منحوس دن آج بھی اسکے زہن میں حفظ تھا۔۔
زارون احمد اس سے محبت کے نام پر لوٹ کر چلا گیا اور اسی دن صاف کہ دیا۔۔
” منگنی ختم “
زارون نے انگھوٹی عروج کی گودھ میں اوچھالی
” کیا مطلب “ عروج کے گویا اوسان خطا ہوگے۔۔۔
” اب شادی کا کیا فائدہ “ مکرو ہنسی ہنستا وہ عروج کو اس وقت زہر لگا۔۔
تین دن تک وہ کوئی ذہنی مریض بن کر بستر پر پڑی صرف یہی سوچتی رہی ماں باپ، بھائی خاندان کو کیا جواب دیگی؟؟ جب سب اس سے منگنی ٹوٹنے کی وجہ پوچھیں گئے تو وہ کس طرح اپنے ماں باپ کا سامنا کریگی کس طرح انھیں رسوا ہوتا دیکھے گی؟؟
سوچ سوچ کر اسکا سر پھٹنے لگا تھا اور پھر آخر کار عروج نے ہمت مجتمع کرکے سب کچھ اپنے بھائی کو بتایا روز روز کی موت مرنے سے ایک بار مرنا بہتر ہے لیکن یہاں اس سے یہ غلطی ہوئی کے اس نے آتے ہی اپنے گناہ کا احتراف کیا اور یونی میں جسے پسند کرتی ہے اسکا بتایا اسکا بھائی یونی فیلو اور زارون کو دو الگ شخصیت سمجھ رہا تھا تب عروج نے شروع سے لیکر لفظ لفظ اپنے بھائی کو بتایا۔۔۔۔
وہ یہی سمجھا تھا اسکی بہن نے انکے پسند کردہ لڑکے سے مجبوری میں شادی کی لیکن اصل بات تو اب کھلی زارون اسکی بہن کی پسند محبت تھا۔۔۔۔
اسلئے انکے بابا اس رشتے پر اتنا زور دے رہے تھے۔۔۔
بھائی کے جاتے ہی عروج مرے مرے قدموں سے کمرے میں آگئی اسکا جسم اس قدر خوف کی شدت میں تھا کے جسم کے ہر حصے سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی لیکن اب کسی قسم کا نا ڈر تھا نا خوف بس انتظار تھا موت کا۔۔
اور یہ انتظار انتظار ہی رہا۔ چاروں بھائی اب اسے دیکھتے تک نہیں امی ابو کا رویہ ویسے ہی تھا محبت لوٹاتا جبکے بھائی نا اس سے کچھ کہتے، نا کسی کام کے لئے پکارتے ایک ہی گھر میں وہ اجنبی بن کر رہ رہے تھے عروج تو اس بات پر حیران تھی آخر اتنا سناٹا کیوں ہے؟؟ اور اسکا جواب پورے دو ماہ اور سات دن بعد ملا۔۔۔۔
” عروج یاسر کیا آپ کو دو لکھ حق مہر میں زارون احمد کے ساتھ نکاح قبول ہے؟؟؟ “
الفاظ تھے یا تیر جو اسے ناگ کی طرح ڈس رہے تھے ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟؟ وہ تو اسے منگنی توڑ کر رسوا کر کے جا چکا تھا پھر؟؟
” منگنی ختم “
زارون نے انگھوٹی عروج کی گودھ میں اوچھالی
” کیا مطلب “ عروج کے گویا اوسان خطا ہوگے۔۔۔
” اب شادی کا کیا فائدہ “ مکرو ہنسی ہنستا وہ عروج کو اس وقت زہر لگا۔
” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟ “ مولوی صاحب نے اپنا سوال پھر دھرایا لمحے میں اسکا سحر ٹوٹا اور وہ ہوش و حواس کی دنیا میں واپس لوٹی۔۔۔۔۔
” جواب دو عروج “ اپنے بھائی کا نرم لمس کندھے پر محسوس کر کے اسکی زبان پر لگا فقل ٹوٹا۔۔۔
” قبول ہے “
” شکر۔۔۔ “ اسکے زبان سے ادا ہوتے جملے پر بےاختیار پاس بیٹھے شخص نے شکر ادا کیا۔۔ عروج سمجھنے سے قاصر تھی آخر ہوا کیا ؟؟؟
ایک دن اچانک سے دونوں کا نکاح پھر پپرز کے بعد فوراً سے رخصتی اس بیچ نا زارون نے اس سے بات کی نا اسنے زارون سے بات کرنے کی کوشش کی بس خود کو تقدیر کے حال پر چھوڑ دیا۔۔
نکاح کے بعد سے اسکا بھائیوں کا رویہ بلکل پہلے کی طرح ہوگیا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہر کام کے لئے اسے بلاتے، آخری دنوں میں اسکا خوب خیال رکھتے شادی میں بڑھ چڑھ کا حصہ لینے کے لئے اسرار کرتے لیکن وہ بس ایک ہی جملہ دوڑاتی
” جو آپ کو پسند ہو وہی لیں “
اسی طرح شاپنگ بھاگ دوڑ میں رخصتی کا دن بھی آن پہنچا اور رخصت کرتے وقت اسکے بھائی نے شاید اس سے زندگی کی وہ پہلی اور آخری التجا کی تھی۔۔۔
” گڑیا زارون سے کبھی پرانے دنوں کا حصاب نا لینا سمجھنا آج تمہیں اپنے پسند کے لڑکے کے ساتھ رخصت کر رہا ہوں جو تمہارے لئے اجنبی ہے۔۔۔ رہی بات سزا کی دونوں حقدار تھے دونوں کو سزا مل چکی ہے “
بھائی کی پہلی التجا تھی آخر وہ کیسے رد کرتی؟؟ سب کچھ ویسے ہی شروع ہوا زارون اور عروج ہر ارینج میرج کپل کی طرح اجنبی بن کر ملے زارون جب آیا تو عروج نے دیکھا وہ خوفزدہ تھا لیکن جب عروج نے سلام کا جواب دیا تب زارون کی پھنسی سانس بحال ہوئی ہر شوہر کی طرح زارون نے بھی اس لال جوڑے میں دیکھ کر اسکی تعریف کی اور انگلی میں خوبصورت انگھوٹی پہنائی۔۔۔
عروج نے نا آج تک زارون سے کچھ کہاں تھا نا زارون نے عروج سے البتہ زارون میں کافی چیزیں حیرت انگیز تھیں جیسے وہ کہتا تھا پانی کا گلاس تک اسکی بہن اٹھا کر رکھتی ہے وہ گھر میں کسی کام کو ہاتھ نا لگاتا جبکے زارون اسے بچوں میں الجا دیکھ کافی کام خود کرتا کبھی اس نے عروج کو کام کی وجہ سے زچ نہیں کیا نا بلاتر کسی بات پر ڈانٹا بلکے اکثر اسکی بنائی نیو ڈیشز کی تعریف کرتا، انہیں باہر گھمانے لے جاتا، انکی ضرورت کا خیال رکھتا ایک شوہر اور باپ کے سارے فرض نبھاتا لیکن ایک بعد عروج نے نوٹس کی تھی وہ اسکے بھائیوں اور ماں باپ کی بہت عزت کرتا تھا انکے آنے پر خاص احتمام کرتا اور ایسا کیوں تھا وہ نہیں جانتی۔۔۔
لیکن آج وہ خوش ہے۔۔۔
کل تک موت کی دعا کرنے والی آج زندگی کا پل پل جی رہی لیکن وہ گناہ آج تک نہیں بھولی اور یہی وجہ ہے وہ اپنی بیٹی کی ابھی سے گہری دوست بن بیٹھی ہے کیوں کے وہ نہیں چاہتی جو گناہ اس سے ہوا وہ اسکی بیٹی سے ہو کیوں کے ہر کسی کی قسمت عروج یاسر جیسی نہیں ہوتی نا ہر مرد وقت کے ساتھ بدلتا ہے جیسے زارون احمد بےحس سے حساس ۔۔۔
جاری ہے
اپنے رائے ضرور دیں 😍😍😍

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: